بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ
Alif, Lam, Ra. These are the verses of the clear Book.
الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
الر، آن آیات کتاب آشکار است!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ - إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ - نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ
(1. Alif-Lam-Ra. These are the verses of the Book that is clear.)(2. Verily, We have sent it down as an Arabic Qur'an in order that you may understand.)(3. We relate unto you the best of stories through Our revelations unto you, of this Qur'an. And before this, you were among those who knew nothing about it.)
Qualities of the Qur'an
In the beginning of Surat Al-Baqarah we talked about the separate letters, Allah said,
تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ
(These are the verses of the Book) in reference to the Clear Qur'an that is plain and apparent, and explains, clarifies and makes known the unclear matters. Allah said next,
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(Verily, We have sent it down as an Arabic Qur'an in order that you may understand.) The Arabic language is the most eloquent, plain, deep and expressive of the meanings that might arise in one's mind. Therefore, the most honorable Book, was revealed in the most honorable language, to the most honorable Prophet and Messenger ﷺ, delivered by the most honorable angel, in the most honorable land on earth, and its revelation started during the most honorable month of the year, Ramadan. Therefore, the Qur'an is perfect in every respect. So Allah said,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْآنَ
(We relate unto you the best of stories through Our revelations unto you, of this Qur'an.)
Reason behind revealing Ayah (12:3)
On the reason behind revealing Ayah (12:3), Ibn Jarir At-Tabari recorded that 'Abdullah bin 'Abbas said, "They said, 'O, Allah's Messenger! Why not narrate to us stories?' Later on, this Ayah was revealed,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ
(We relate unto you the best of stories...)" There is a Hadith that is relevant upon mentioning this honorable Ayah, which praises the Qur'an and demonstrates that it is sufficient from needing all books besides it. Imam Ahmad recorded a narration from Jabir bin 'Abdullah that 'Umar bin Al-Khattab came to the Prophet ﷺ with a book that he took from some of the People of the Book. 'Umar began reading it to the Prophet ﷺ who became angry. He said,
أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُونَهُ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي
(Are you uncertain about it Ibn Al-Khattab? By the One in Whose Hand is my soul! I have come to you with it white and pure. Do not ask them about anything, for they might tell you something true and you reject it, or they might tell you something false and you believe it. By the One in Whose Hand is my soul! If Musa were living, he would have no choice but to follow me.)
Imam Ahmad also recorded a narration from 'Abdullah bin Thabit who said, "'Umar came to Allah's Messenger and said; 'O Messenger of Allah! I passed by a brother of mine from [the tribe of] Qurayzah, so he wrote some comprehensive statements from the Tawrah for me, should I read them to you' The face of Allah's Messenger changed [with anger]. So I said to him, 'Don't you see the face of Allah's Messenger?" 'Umar said, 'We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad as our Messenger.' So the anger of the Prophet ﷺ subsided, and he said,
وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ
(By the One in Whose Hand is Muhammad's soul, if Musa appeared among you and you were to follow him, abandoning me, then you would have strayed. Indeed you are my share of the nations, and I am your share of the Prophets.)"
Tafsir Ibn Kathir
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کردینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اس لے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول ﷺ ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے ؟ اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا حضور ﷺ کوئی واقعہ بھی بیان ہوجاتا تو ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 23) 39۔ الزمر :23) اتری۔ اور بات بیان ہوئی۔ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ، اس پر یہ آیتیں اتریں، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر (آیت اللہ نزل الخ،) اتری۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی۔ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے۔ اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بےنیاز کردینے والا ہے۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کردیں جس میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر حضور ﷺ ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ سخت غضب ناک ہوگئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اسکی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو۔ اور ہوسکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود حضرت موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے آپ ﷺ سے کہا کہ بنو قریضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ ؟ آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن ثابت نے کہا کہ اے عمر کیا تم حضور ﷺ کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے ؟ اب حضرت عمر کی نگاہ پڑی تو آپ کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے رضامند ہیں۔ اب آپ کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اگر تم میں خود حضرت موسیٰ ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہوجاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں۔ ابو یعلی میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم ؓ کے پاس آیا آپ نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے ؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا۔ اس نے کہا امیر المومنین میرا کیا قصور ہے ؟ آپ نے فرمایا بیٹھ جا۔ میں بتاتا ہوں پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسی سورت کی (آیتیں لمن الغافلین) تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیرالمومنین میرا قصور کیا ہے آپ نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں۔ میں کرنے کو تیار ہوں، آپ نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے۔ پھر فرمایا بیٹھ جا، ایک بات سنتا جا۔ میں نے جاکر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لئے ہوئےحضور ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہوگئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے حضور ﷺ کو ناراض کردیا ہے اور منبر نبوی ﷺ کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے۔ اب آپ نے فرمایا لوگو میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں۔ خبردار تم بہک نہ جانا۔ گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں۔ یہ سن کر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے میں تو یارسول اللہ ﷺ اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر آپ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے راضی ہوں۔ اب جو ﷺ منبر سے اترے اس کے ایک روای عبدالرحمن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ حضرت سے دریافت کرلیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آکر انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں ؟ آپ نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں ؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔ میں حضور ﷺ کے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھ بہت پسند آئیں۔ میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آکر حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید حضور ﷺ کو میرا یہ کام پسند آگیا۔ لاکر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حضور ﷺ تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رواں رواں کھڑا ہوگیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چناچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہوجائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جاکر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کردیں۔ مراسیل ابی داؤد میں بھی حضرت عمر ؓ سے ایسی ہی روایت ہے واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ
[وَهِيَ مَكِّيَّةٌ] [[زيادة من ت، أ.]]
رَوَى الثَّعْلَبِيُّ وَغَيْرُهُ، مِنْ طَرِيقِ سَلام بْنِ سُلَيْمٍ -وَيُقَالُ: سَلِيمٍ -الْمَدَائِنِيِّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ كَثِيرٍ -وَقَدْ نَصَّ عَلَى جَهَالَتِهِ أَبُو حَاتِمٍ -عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: " عَلِّمُوا أَرِقَّاءَكُمْ سُورَةَ يُوسُفَ، فَإِنَّهُ أَيُّمَا مُسْلِمٍ تَلَاهَا، أَوْ عَلَّمَهَا أَهْلَهُ، أَوْ مَا [[في ت: "وما".]] مَلَكَتْ يَمِينُهُ، هَوَّن اللَّهُ عَلَيْهِ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ، وَأَعْطَاهُ مِنَ الْقُوَّةِ أَلَّا يَحْسِدَ مُسْلِمًا " [[تفسير الثعلبي (٧/ل ٦١ "المحمودية") وأورده الزيلعي في تخريج الكشاف (٢/١٧٩) من رواية الثعلبي في تفسيره، ورواه الواحدي في الوسيط (٢/٥٩٩) من طريق إبراهيم بن شريف عن أحمد بن يونس عن سلام بن سليم به.]] .
وَهَذَا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا يَصِحُّ، لِضَعْفِ إِسْنَادِهِ بِالْكُلِّيَّةِ. وَقَدْ سَاقَهُ لَهُ [[في جميع النسخ: "وقد ساقه" وهذا التعبير غير صحيح".]] الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ مُتَابِعًا مِنْ طَرِيقِ الْقَاسِمِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ كَثِيرٍ، بِهِ -وَمِنْ طَرِيقِ شَبَابة، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبَصَرِيِّ [[جميع النسخ: "محمد بن عبد الواحد النضري"، وفي أ، ت: "مخلد بن عبد الواحد النضري" والصواب ما أثبتناه.]] عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ -وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيش، عَنْ أُبي بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ -فَذَكَرَ نَحْوَهَ [[نقله الزيلعي في تخريج الكشاف (٢/١٨٠) عن المؤلف.]] وَهُوَ مُنْكَرٌ مِنْ سَائِرِ طُرُقِهِ.
وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي " الدَّلَائِلِ " أَنَّ طَائِفَةً مِنَ الْيَهُودِ حِينَ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَتْلُو هَذِهِ السُّورَةَ أَسْلَمُوا لِمُوَافَقَتِهَا مَا عِنْدَهُمْ. وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ".
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ﴾ أَيْ: هَذِهِ آيَاتُ الْكِتَابِ، وَهُوَ الْقُرْآنُ، ﴿الْمُبِينِ﴾ أَيِ: الْوَاضِحُ الْجَلِيُّ، الَّذِي يُفْصِحُ عَنِ الْأَشْيَاءِ الْمُبْهَمَةِ وَيُفَسِّرُهَا وَيُبَيِّنُهَا [[في ت: "وتفسيرها وتبينها".]] .
﴿إِنَّا أَنزلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴾ وَذَلِكَ لِأَنَّ لُغَةَ الْعَرَبِ أَفْصَحُ اللُّغَاتِ وَأَبْيَنُهَا وَأَوْسَعُهَا، وَأَكْثَرُهَا تَأْدِيَةً لِلْمَعَانِي الَّتِي تَقُومُ بِالنُّفُوسِ؛ فَلِهَذَا أنزلَ أَشْرَفُ الْكُتُبِ بِأَشْرَفِ اللُّغَاتِ، عَلَى أَشْرَفِ الرُّسُلِ، بِسِفَارَةِ [[في ت: "كسفارة".]] أَشْرَفِ الْمَلَائِكَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَشْرَفِ بِقَاعِ الْأَرْضِ، وَابْتَدَئَ إِنْزَالُهُ فِي أَشْرَفِ شُهُورِ السَّنَةِ وَهُوَ رَمَضَانُ، فَكَمُلَ مِنْ كُلِّ الْوُجُوهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ﴾ بِسَبَبِ إِيحَائِنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ.
وَقَدْ وَرَدَ فِي سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ مَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ:
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأوْدِيّ [[في ت: "الأوذي".]] . حَدَّثَنَا حَكَّامٌ الرَّازِّيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرٍو -هُوَ ابْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ -عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا؟ فَنَزَلَتْ: ﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ﴾ [[تفسير الطبري (١٥/٥٥٢) .]] .
وَرَوَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ مُرْسَلًا.
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ [[في أ: "سعد".]] الْعَطَّارُ [[في ت، أ: "القطان".]] ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَنَا خَلاد الصَّفَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّة [[في ت، أ: "قرة".]] ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سعد عن عَنْ سَعْدٍ قَالَ: أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ الْقُرْآنُ، قَالَ: فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قصصتَ عَلَيْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴾ [[في ت: " (لعلكم تعقلون) الآية".]] . ثُمَّ تَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ حَدَّثْتَنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿اللَّهُ نزلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ﴾ الْآيَةَ [الزُّمَرِ: ٢٣] ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ مِنْ حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَويه، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ القرَشي العَنْقزي، بِهِ [[تفسير الطبري (١٥/٥٥٣) والمستدرك (٢/٣٤٥) وقال: "حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه" ووافقه الذهبي، وحسنه الحافظ ابن حجر في المطالب العالية برقم (٣٦٥٢) .]] .
وَرَوَى ابْنُ جَرِيرٍ بِسَنَدِهِ [[في ت: "بسند".]] ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَوْن بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: مَلّ أصحابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم مَلّةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدثنا. [فأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿اللَّهُ نزلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ﴾ ثُمَّ مَلّوا مَلَّةً أُخْرَى فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا] [[زيادة من ت، أ، والطبري.]] فَوْقَ الْحَدِيثِ وَدُونَ الْقُرْآنِ -يَعْنُوِنُ الْقَصَصَ -فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ﴾ فَأَرَادُوا الْحَدِيثَ، فدلَّهم عَلَى أَحْسَنِ الْحَدِيثِ، وَأَرَادُوا الْقَصَصَ فَدَلَّهُمْ عَلَى أَحْسَنِ الْقَصَصِ [[تفسير الطبري (١٥/٥٥٢) .]] .
وَمِمَّا يُنَاسِبُ ذِكْرَهُ عِنْدَ هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ، الْمُشْتَمِلَةِ عَلَى مَدْحِ الْقُرْآنِ، وَأَنَّهُ كَافٍ عَنْ كُلِّ مَا سِوَاهُ مِنَ الْكُتُبِ مَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا سُرَيْج بْنُ النُّعْمَانِ، أَخْبَرَنَا هُشَيْم، أَنْبَأَنَا مَجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ أن عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم فغضب وقال: "أمُتَهوكون فيها يا ابن الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُونَهُ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا، لَمَا [[في ت: "ما".]] وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي" [[المسند (٣/٣٧٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِأَخٍ لِي مِنْ قُرَيْظَةَ، فَكَتَبَ لِي جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ، أَلَا أَعْرِضُهَا عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ: فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَرَى مَا بِوَجْهِ [[في ت: "ما توجه".]] رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رِبَّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا. قَالَ: فسُرِّي عَنِ النَّبِيِّ [[في أ: "رسول الله".]] ﷺ وَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ" [[المسند (٣/٣٦٥) .]] .
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِر، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفَطة قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ، إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ مَنْ عَبَدَ الْقَيْسِ مَسْكَنُهُ بِالسُّوسِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَنْتَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ الْعَبْدِيُّ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وَأَنْتَ النَّازِلُ بِالسُّوسِ، قَالَ: نَعَمْ. فَضَرَبَهُ بِقَنَاةٍ مَعَهُ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اجْلِسْ. فَجَلَسَ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ: ﴿بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ [أَحْسَنَ الْقَصَصِ] ﴾ [[زيادة من ت.]] إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمِنَ الْغَافِلِينَ﴾ فَقَرَأَهَا [[في ت، أ: "فقرأها عليه".]] ثَلَاثًا، وَضَرَبَهُ ثَلَاثًا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: مَا لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَسَخْتَ كِتَابَ دَانْيَالَ! قَالَ: مُرْنِي بِأَمْرِكَ أَتَّبِعْهُ. قَالَ: انْطَلَقَ فَامْحُهُ بِالْحَمِيمِ وَالصُّوفِ الْأَبْيَضِ، ثُمَّ لَا تقْرأه [[في ت: "لا يقرأه".]] وَلَا تُقرئه أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، فَلَئِنْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قَرَأْتَهُ أَوْ أَقَرَأْتَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَأَنْهَكَنَّكَ عُقُوبَةً، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا هَذَا فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ؟ ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِتَابٌ نَسَخْتُهُ لِنَزْدَادَ [[في ت: "ليزداد".]] بِهِ عِلْمًا إِلَى عِلْمِنَا. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَغَضِبَ نَبِيُّكُمْ ﷺ؟ السِّلَاحَ السِّلَاحَ. فَجَاءُوا حَتَّى أَحْدَقُوا بِمِنْبَرِ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِيمَهُ، واختُصِر لِيَ اخْتِصَارًا، وَلَقَدْ أَتَيْتُكُمْ بها بَيْضَاءَ نَقِيَّةً فَلَا تَتهوَّكوا، وَلَا يَغُرَّنَّكُمُ المتهوِّكون". قَالَ عُمَرُ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رِبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِكَ رَسُولَا. ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [[لم أعثر عليه في المطبوع من مسند أبي يعلى، وأورده الهيثمي في المجمع (١/١٨٢) وقال: "رواه أبو يعلى، وفيه عبد الرحمن بن إسحاق الواسطي، ضعفه أحمد وجماعة". ورواه المقدسي في المختارة برقم (١١٥) من طريق أبي يعلى وقال: "عبد الرحمن بن إسحاق أخرج له مسلم وابن حبان". يقصد عبد الرحمن بن إسحاق المدني وهو أثبت من الواسطي وفترتهما متقاربة، لكن المزني ذكر علي بن مسهر من الرواة عن الواسطي الضعيف، وقد رجح المؤلف هنا أنه الواسطي. وكذا في مسند عمر بن الخطاب (٢/٥٩١) وقال: "وزعم الحافظ الضياء المقدسي في كتابه "المختارة" أنه الذي روى له مسلم كما (أظن صوابه كذا) قال: وأما شيخه خليفة بن قيس فقال فيه أبو حاتم الرازي: شيخ ليس بالمعروف. وقال البخاري: لم يصح حديثه".]] .
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي تَفْسِيرِهِ مُخْتَصَرًا، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ. وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ أَبُو شَيبَة [[في ت: "ابن شيبة".]] الْوَاسِطِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفُوهُ وَشَيْخَهُ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ.
قُلْتُ: وَقَدْ رُوِيَ لَهُ شَاهِدٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، فَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْأَشْعَرِيُّ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: أَنَّ جُبَير بْنَ نُفَير حَدّثهم: أَنَّ رَجُلَيْنِ كَانَا بِحِمْصَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فِيمَنْ أَرْسَلَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، وَكَانَا قَدِ اكْتَتَبَا مِنَ الْيَهُودِ صلاصفة [[في هـ: "ملاصق" بدون نقط، والمثبت من ت، أ.]] فَأَخَذَاهَا مَعَهُمَا يَسْتَفْتِيَانِ فِيهَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَيَقُولُونَ: إِنْ رَضِيَهَا لَنَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ازْدَدْنَا فِيهَا رَغْبَةً. وَإِنْ نَهَانَا عَنْهَا رَفَضْنَاهَا، فَلَمَّا قَدِمَا عَلَيْهِ قَالَا إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَإِنَّا نَسْمَعُ مِنْهُمْ كَلَامًا تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُنَا، أَفَنَأْخَذُ مِنْهُ أَوْ نَتْرُكُ؟ فَقَالَ: لَعَلَّكُمَا كَتَبْتُمَا مِنْهُ شَيْئًا. قَالَا [[في ت، أ: "فقالا".]] لَا. قَالَ: سَأُحَدِّثُكُمَا، انْطَلَقْتُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ [[في ت: "النبي".]] ﷺ حَتَّى أَتَيْتُ خَيْبَرَ، فَوَجَدْتُ يَهُودِيًّا يَقُولُ قَوْلًا أَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ: هَلْ أَنْتَ مُكْتِبِي مَا تَقُولُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَأَتَيْتُ بِأَدِيمٍ، فَأَخَذَ يُمْلِي عَلَيَّ، حَتَّى كَتَبْتُ فِي الأكرُع. فَلَمَّا رَجَعْتُ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: "ائْتِنِي بِهِ". فَانْطَلَقْتُ أَرْغَبُ عَنِ الْمَشْيِ رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ أَتَيْتُ [[في ت: "جئت".]] رَسُولَ اللَّهِ بِبَعْضِ مَا يُحِبُّ، فَلَمَّا أَتَيْتُ بِهِ قَالَ: "اجْلِسِ اقْرَأْ عَلَيَّ". فَقَرَأْتُ سَاعَةً، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ يَتَلَوَّنُ، فَتَحَيَّرْتُ مِنَ الفَرق، فَمَا اسْتَطَعْتُ أُجِيزُ [[في ت: "أحبر".]] مِنْهُ حَرْفًا، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِي دَفَعه [[في ت: "دفعته".]] ثُمَّ جَعَلَ يُتْبِعُهُ رَسْمًا رَسْمًا فَيَمْحُوهُ بِرِيقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: "لَا تَتَبِعُوا هَؤُلَاءِ، فَإِنَّهُمْ قَدْ هَوكوا وتَهَوَّكوا"، حَتَّى مَحَا آخِرَهُ حَرْفًا حَرْفًا. قَالَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمَا كَتَبْتُمَا مِنْهُ شَيْئًا جَعَلْتُكُمَا نَكَالًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ! قَالَا وَاللَّهِ مَا نَكْتُبُ مِنْهُ شَيْئًا أَبَدًا. فَخَرَجَا بِصلَاصفَتِهِمَا [[في هـ، ت: "بصفيهما" والمثبت من أ.]] فَحَفَرَا لَهَا [[في ت: "فحفراها".]] فَلَمْ يألُوا أَنْ يعمِّقَا، ودفناها فَكَانَ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْهَا [[ورواه أبو نعيم في الحلية (٥/١٣٦) عن الطبراني، عن عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الحمصي، عن أبيه، عن عمرو بن الحارث به.]] .
وَكَذَا رَوَى الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ الجُعْفي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، بِنَحْوِهِ [[سبق تخريجه في المسند.]] وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي قِلابة، عَنْ عُمَرَ نَحْوَهُ [[المراسيل برقم (٤٥٥) .]] . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّۭا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
Indeed, We have sent it down as an Arabic Qur'an that you might understand.
ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو
ما آن را قرآنی عربی نازل کردیم، شاید شما درک کنید (و بیندیشید)!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ - إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ - نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ
(1. Alif-Lam-Ra. These are the verses of the Book that is clear.)(2. Verily, We have sent it down as an Arabic Qur'an in order that you may understand.)(3. We relate unto you the best of stories through Our revelations unto you, of this Qur'an. And before this, you were among those who knew nothing about it.)
Qualities of the Qur'an
In the beginning of Surat Al-Baqarah we talked about the separate letters, Allah said,
تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ
(These are the verses of the Book) in reference to the Clear Qur'an that is plain and apparent, and explains, clarifies and makes known the unclear matters. Allah said next,
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(Verily, We have sent it down as an Arabic Qur'an in order that you may understand.) The Arabic language is the most eloquent, plain, deep and expressive of the meanings that might arise in one's mind. Therefore, the most honorable Book, was revealed in the most honorable language, to the most honorable Prophet and Messenger ﷺ, delivered by the most honorable angel, in the most honorable land on earth, and its revelation started during the most honorable month of the year, Ramadan. Therefore, the Qur'an is perfect in every respect. So Allah said,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْآنَ
(We relate unto you the best of stories through Our revelations unto you, of this Qur'an.)
Reason behind revealing Ayah (12:3)
On the reason behind revealing Ayah (12:3), Ibn Jarir At-Tabari recorded that 'Abdullah bin 'Abbas said, "They said, 'O, Allah's Messenger! Why not narrate to us stories?' Later on, this Ayah was revealed,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ
(We relate unto you the best of stories...)" There is a Hadith that is relevant upon mentioning this honorable Ayah, which praises the Qur'an and demonstrates that it is sufficient from needing all books besides it. Imam Ahmad recorded a narration from Jabir bin 'Abdullah that 'Umar bin Al-Khattab came to the Prophet ﷺ with a book that he took from some of the People of the Book. 'Umar began reading it to the Prophet ﷺ who became angry. He said,
أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُونَهُ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي
(Are you uncertain about it Ibn Al-Khattab? By the One in Whose Hand is my soul! I have come to you with it white and pure. Do not ask them about anything, for they might tell you something true and you reject it, or they might tell you something false and you believe it. By the One in Whose Hand is my soul! If Musa were living, he would have no choice but to follow me.)
Imam Ahmad also recorded a narration from 'Abdullah bin Thabit who said, "'Umar came to Allah's Messenger and said; 'O Messenger of Allah! I passed by a brother of mine from [the tribe of] Qurayzah, so he wrote some comprehensive statements from the Tawrah for me, should I read them to you' The face of Allah's Messenger changed [with anger]. So I said to him, 'Don't you see the face of Allah's Messenger?" 'Umar said, 'We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad as our Messenger.' So the anger of the Prophet ﷺ subsided, and he said,
وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ
(By the One in Whose Hand is Muhammad's soul, if Musa appeared among you and you were to follow him, abandoning me, then you would have strayed. Indeed you are my share of the nations, and I am your share of the Prophets.)"
Tafsir Ibn Kathir
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کردینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اس لے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول ﷺ ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے ؟ اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا حضور ﷺ کوئی واقعہ بھی بیان ہوجاتا تو ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 23) 39۔ الزمر :23) اتری۔ اور بات بیان ہوئی۔ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ، اس پر یہ آیتیں اتریں، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر (آیت اللہ نزل الخ،) اتری۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی۔ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے۔ اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بےنیاز کردینے والا ہے۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کردیں جس میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر حضور ﷺ ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ سخت غضب ناک ہوگئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اسکی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو۔ اور ہوسکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود حضرت موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے آپ ﷺ سے کہا کہ بنو قریضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ ؟ آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن ثابت نے کہا کہ اے عمر کیا تم حضور ﷺ کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے ؟ اب حضرت عمر کی نگاہ پڑی تو آپ کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے رضامند ہیں۔ اب آپ کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اگر تم میں خود حضرت موسیٰ ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہوجاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں۔ ابو یعلی میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم ؓ کے پاس آیا آپ نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے ؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا۔ اس نے کہا امیر المومنین میرا کیا قصور ہے ؟ آپ نے فرمایا بیٹھ جا۔ میں بتاتا ہوں پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسی سورت کی (آیتیں لمن الغافلین) تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیرالمومنین میرا قصور کیا ہے آپ نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں۔ میں کرنے کو تیار ہوں، آپ نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے۔ پھر فرمایا بیٹھ جا، ایک بات سنتا جا۔ میں نے جاکر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لئے ہوئےحضور ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہوگئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے حضور ﷺ کو ناراض کردیا ہے اور منبر نبوی ﷺ کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے۔ اب آپ نے فرمایا لوگو میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں۔ خبردار تم بہک نہ جانا۔ گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں۔ یہ سن کر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے میں تو یارسول اللہ ﷺ اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر آپ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے راضی ہوں۔ اب جو ﷺ منبر سے اترے اس کے ایک روای عبدالرحمن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ حضرت سے دریافت کرلیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آکر انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں ؟ آپ نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں ؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔ میں حضور ﷺ کے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھ بہت پسند آئیں۔ میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آکر حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید حضور ﷺ کو میرا یہ کام پسند آگیا۔ لاکر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حضور ﷺ تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رواں رواں کھڑا ہوگیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چناچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہوجائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جاکر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کردیں۔ مراسیل ابی داؤد میں بھی حضرت عمر ؓ سے ایسی ہی روایت ہے واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ
[وَهِيَ مَكِّيَّةٌ] [[زيادة من ت، أ.]]
رَوَى الثَّعْلَبِيُّ وَغَيْرُهُ، مِنْ طَرِيقِ سَلام بْنِ سُلَيْمٍ -وَيُقَالُ: سَلِيمٍ -الْمَدَائِنِيِّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ كَثِيرٍ -وَقَدْ نَصَّ عَلَى جَهَالَتِهِ أَبُو حَاتِمٍ -عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: " عَلِّمُوا أَرِقَّاءَكُمْ سُورَةَ يُوسُفَ، فَإِنَّهُ أَيُّمَا مُسْلِمٍ تَلَاهَا، أَوْ عَلَّمَهَا أَهْلَهُ، أَوْ مَا [[في ت: "وما".]] مَلَكَتْ يَمِينُهُ، هَوَّن اللَّهُ عَلَيْهِ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ، وَأَعْطَاهُ مِنَ الْقُوَّةِ أَلَّا يَحْسِدَ مُسْلِمًا " [[تفسير الثعلبي (٧/ل ٦١ "المحمودية") وأورده الزيلعي في تخريج الكشاف (٢/١٧٩) من رواية الثعلبي في تفسيره، ورواه الواحدي في الوسيط (٢/٥٩٩) من طريق إبراهيم بن شريف عن أحمد بن يونس عن سلام بن سليم به.]] .
وَهَذَا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا يَصِحُّ، لِضَعْفِ إِسْنَادِهِ بِالْكُلِّيَّةِ. وَقَدْ سَاقَهُ لَهُ [[في جميع النسخ: "وقد ساقه" وهذا التعبير غير صحيح".]] الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ مُتَابِعًا مِنْ طَرِيقِ الْقَاسِمِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ كَثِيرٍ، بِهِ -وَمِنْ طَرِيقِ شَبَابة، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبَصَرِيِّ [[جميع النسخ: "محمد بن عبد الواحد النضري"، وفي أ، ت: "مخلد بن عبد الواحد النضري" والصواب ما أثبتناه.]] عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ -وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيش، عَنْ أُبي بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ -فَذَكَرَ نَحْوَهَ [[نقله الزيلعي في تخريج الكشاف (٢/١٨٠) عن المؤلف.]] وَهُوَ مُنْكَرٌ مِنْ سَائِرِ طُرُقِهِ.
وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي " الدَّلَائِلِ " أَنَّ طَائِفَةً مِنَ الْيَهُودِ حِينَ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَتْلُو هَذِهِ السُّورَةَ أَسْلَمُوا لِمُوَافَقَتِهَا مَا عِنْدَهُمْ. وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ".
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ﴾ أَيْ: هَذِهِ آيَاتُ الْكِتَابِ، وَهُوَ الْقُرْآنُ، ﴿الْمُبِينِ﴾ أَيِ: الْوَاضِحُ الْجَلِيُّ، الَّذِي يُفْصِحُ عَنِ الْأَشْيَاءِ الْمُبْهَمَةِ وَيُفَسِّرُهَا وَيُبَيِّنُهَا [[في ت: "وتفسيرها وتبينها".]] .
﴿إِنَّا أَنزلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴾ وَذَلِكَ لِأَنَّ لُغَةَ الْعَرَبِ أَفْصَحُ اللُّغَاتِ وَأَبْيَنُهَا وَأَوْسَعُهَا، وَأَكْثَرُهَا تَأْدِيَةً لِلْمَعَانِي الَّتِي تَقُومُ بِالنُّفُوسِ؛ فَلِهَذَا أنزلَ أَشْرَفُ الْكُتُبِ بِأَشْرَفِ اللُّغَاتِ، عَلَى أَشْرَفِ الرُّسُلِ، بِسِفَارَةِ [[في ت: "كسفارة".]] أَشْرَفِ الْمَلَائِكَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَشْرَفِ بِقَاعِ الْأَرْضِ، وَابْتَدَئَ إِنْزَالُهُ فِي أَشْرَفِ شُهُورِ السَّنَةِ وَهُوَ رَمَضَانُ، فَكَمُلَ مِنْ كُلِّ الْوُجُوهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ﴾ بِسَبَبِ إِيحَائِنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ.
وَقَدْ وَرَدَ فِي سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ مَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ:
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأوْدِيّ [[في ت: "الأوذي".]] . حَدَّثَنَا حَكَّامٌ الرَّازِّيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرٍو -هُوَ ابْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ -عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا؟ فَنَزَلَتْ: ﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ﴾ [[تفسير الطبري (١٥/٥٥٢) .]] .
وَرَوَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ مُرْسَلًا.
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ [[في أ: "سعد".]] الْعَطَّارُ [[في ت، أ: "القطان".]] ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَنَا خَلاد الصَّفَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّة [[في ت، أ: "قرة".]] ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سعد عن عَنْ سَعْدٍ قَالَ: أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ الْقُرْآنُ، قَالَ: فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قصصتَ عَلَيْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴾ [[في ت: " (لعلكم تعقلون) الآية".]] . ثُمَّ تَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ حَدَّثْتَنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿اللَّهُ نزلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ﴾ الْآيَةَ [الزُّمَرِ: ٢٣] ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ مِنْ حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَويه، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ القرَشي العَنْقزي، بِهِ [[تفسير الطبري (١٥/٥٥٣) والمستدرك (٢/٣٤٥) وقال: "حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه" ووافقه الذهبي، وحسنه الحافظ ابن حجر في المطالب العالية برقم (٣٦٥٢) .]] .
وَرَوَى ابْنُ جَرِيرٍ بِسَنَدِهِ [[في ت: "بسند".]] ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَوْن بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: مَلّ أصحابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم مَلّةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدثنا. [فأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿اللَّهُ نزلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ﴾ ثُمَّ مَلّوا مَلَّةً أُخْرَى فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا] [[زيادة من ت، أ، والطبري.]] فَوْقَ الْحَدِيثِ وَدُونَ الْقُرْآنِ -يَعْنُوِنُ الْقَصَصَ -فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ﴾ فَأَرَادُوا الْحَدِيثَ، فدلَّهم عَلَى أَحْسَنِ الْحَدِيثِ، وَأَرَادُوا الْقَصَصَ فَدَلَّهُمْ عَلَى أَحْسَنِ الْقَصَصِ [[تفسير الطبري (١٥/٥٥٢) .]] .
وَمِمَّا يُنَاسِبُ ذِكْرَهُ عِنْدَ هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ، الْمُشْتَمِلَةِ عَلَى مَدْحِ الْقُرْآنِ، وَأَنَّهُ كَافٍ عَنْ كُلِّ مَا سِوَاهُ مِنَ الْكُتُبِ مَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا سُرَيْج بْنُ النُّعْمَانِ، أَخْبَرَنَا هُشَيْم، أَنْبَأَنَا مَجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ أن عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم فغضب وقال: "أمُتَهوكون فيها يا ابن الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُونَهُ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا، لَمَا [[في ت: "ما".]] وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي" [[المسند (٣/٣٧٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِأَخٍ لِي مِنْ قُرَيْظَةَ، فَكَتَبَ لِي جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ، أَلَا أَعْرِضُهَا عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ: فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَرَى مَا بِوَجْهِ [[في ت: "ما توجه".]] رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رِبَّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا. قَالَ: فسُرِّي عَنِ النَّبِيِّ [[في أ: "رسول الله".]] ﷺ وَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ" [[المسند (٣/٣٦٥) .]] .
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِر، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفَطة قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ، إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ مَنْ عَبَدَ الْقَيْسِ مَسْكَنُهُ بِالسُّوسِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَنْتَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ الْعَبْدِيُّ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وَأَنْتَ النَّازِلُ بِالسُّوسِ، قَالَ: نَعَمْ. فَضَرَبَهُ بِقَنَاةٍ مَعَهُ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اجْلِسْ. فَجَلَسَ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ: ﴿بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ [أَحْسَنَ الْقَصَصِ] ﴾ [[زيادة من ت.]] إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمِنَ الْغَافِلِينَ﴾ فَقَرَأَهَا [[في ت، أ: "فقرأها عليه".]] ثَلَاثًا، وَضَرَبَهُ ثَلَاثًا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: مَا لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَسَخْتَ كِتَابَ دَانْيَالَ! قَالَ: مُرْنِي بِأَمْرِكَ أَتَّبِعْهُ. قَالَ: انْطَلَقَ فَامْحُهُ بِالْحَمِيمِ وَالصُّوفِ الْأَبْيَضِ، ثُمَّ لَا تقْرأه [[في ت: "لا يقرأه".]] وَلَا تُقرئه أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، فَلَئِنْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قَرَأْتَهُ أَوْ أَقَرَأْتَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَأَنْهَكَنَّكَ عُقُوبَةً، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا هَذَا فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ؟ ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِتَابٌ نَسَخْتُهُ لِنَزْدَادَ [[في ت: "ليزداد".]] بِهِ عِلْمًا إِلَى عِلْمِنَا. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَغَضِبَ نَبِيُّكُمْ ﷺ؟ السِّلَاحَ السِّلَاحَ. فَجَاءُوا حَتَّى أَحْدَقُوا بِمِنْبَرِ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِيمَهُ، واختُصِر لِيَ اخْتِصَارًا، وَلَقَدْ أَتَيْتُكُمْ بها بَيْضَاءَ نَقِيَّةً فَلَا تَتهوَّكوا، وَلَا يَغُرَّنَّكُمُ المتهوِّكون". قَالَ عُمَرُ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رِبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِكَ رَسُولَا. ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [[لم أعثر عليه في المطبوع من مسند أبي يعلى، وأورده الهيثمي في المجمع (١/١٨٢) وقال: "رواه أبو يعلى، وفيه عبد الرحمن بن إسحاق الواسطي، ضعفه أحمد وجماعة". ورواه المقدسي في المختارة برقم (١١٥) من طريق أبي يعلى وقال: "عبد الرحمن بن إسحاق أخرج له مسلم وابن حبان". يقصد عبد الرحمن بن إسحاق المدني وهو أثبت من الواسطي وفترتهما متقاربة، لكن المزني ذكر علي بن مسهر من الرواة عن الواسطي الضعيف، وقد رجح المؤلف هنا أنه الواسطي. وكذا في مسند عمر بن الخطاب (٢/٥٩١) وقال: "وزعم الحافظ الضياء المقدسي في كتابه "المختارة" أنه الذي روى له مسلم كما (أظن صوابه كذا) قال: وأما شيخه خليفة بن قيس فقال فيه أبو حاتم الرازي: شيخ ليس بالمعروف. وقال البخاري: لم يصح حديثه".]] .
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي تَفْسِيرِهِ مُخْتَصَرًا، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ. وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ أَبُو شَيبَة [[في ت: "ابن شيبة".]] الْوَاسِطِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفُوهُ وَشَيْخَهُ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ.
قُلْتُ: وَقَدْ رُوِيَ لَهُ شَاهِدٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، فَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْأَشْعَرِيُّ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: أَنَّ جُبَير بْنَ نُفَير حَدّثهم: أَنَّ رَجُلَيْنِ كَانَا بِحِمْصَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فِيمَنْ أَرْسَلَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، وَكَانَا قَدِ اكْتَتَبَا مِنَ الْيَهُودِ صلاصفة [[في هـ: "ملاصق" بدون نقط، والمثبت من ت، أ.]] فَأَخَذَاهَا مَعَهُمَا يَسْتَفْتِيَانِ فِيهَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَيَقُولُونَ: إِنْ رَضِيَهَا لَنَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ازْدَدْنَا فِيهَا رَغْبَةً. وَإِنْ نَهَانَا عَنْهَا رَفَضْنَاهَا، فَلَمَّا قَدِمَا عَلَيْهِ قَالَا إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَإِنَّا نَسْمَعُ مِنْهُمْ كَلَامًا تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُنَا، أَفَنَأْخَذُ مِنْهُ أَوْ نَتْرُكُ؟ فَقَالَ: لَعَلَّكُمَا كَتَبْتُمَا مِنْهُ شَيْئًا. قَالَا [[في ت، أ: "فقالا".]] لَا. قَالَ: سَأُحَدِّثُكُمَا، انْطَلَقْتُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ [[في ت: "النبي".]] ﷺ حَتَّى أَتَيْتُ خَيْبَرَ، فَوَجَدْتُ يَهُودِيًّا يَقُولُ قَوْلًا أَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ: هَلْ أَنْتَ مُكْتِبِي مَا تَقُولُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَأَتَيْتُ بِأَدِيمٍ، فَأَخَذَ يُمْلِي عَلَيَّ، حَتَّى كَتَبْتُ فِي الأكرُع. فَلَمَّا رَجَعْتُ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: "ائْتِنِي بِهِ". فَانْطَلَقْتُ أَرْغَبُ عَنِ الْمَشْيِ رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ أَتَيْتُ [[في ت: "جئت".]] رَسُولَ اللَّهِ بِبَعْضِ مَا يُحِبُّ، فَلَمَّا أَتَيْتُ بِهِ قَالَ: "اجْلِسِ اقْرَأْ عَلَيَّ". فَقَرَأْتُ سَاعَةً، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ يَتَلَوَّنُ، فَتَحَيَّرْتُ مِنَ الفَرق، فَمَا اسْتَطَعْتُ أُجِيزُ [[في ت: "أحبر".]] مِنْهُ حَرْفًا، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِي دَفَعه [[في ت: "دفعته".]] ثُمَّ جَعَلَ يُتْبِعُهُ رَسْمًا رَسْمًا فَيَمْحُوهُ بِرِيقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: "لَا تَتَبِعُوا هَؤُلَاءِ، فَإِنَّهُمْ قَدْ هَوكوا وتَهَوَّكوا"، حَتَّى مَحَا آخِرَهُ حَرْفًا حَرْفًا. قَالَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمَا كَتَبْتُمَا مِنْهُ شَيْئًا جَعَلْتُكُمَا نَكَالًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ! قَالَا وَاللَّهِ مَا نَكْتُبُ مِنْهُ شَيْئًا أَبَدًا. فَخَرَجَا بِصلَاصفَتِهِمَا [[في هـ، ت: "بصفيهما" والمثبت من أ.]] فَحَفَرَا لَهَا [[في ت: "فحفراها".]] فَلَمْ يألُوا أَنْ يعمِّقَا، ودفناها فَكَانَ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْهَا [[ورواه أبو نعيم في الحلية (٥/١٣٦) عن الطبراني، عن عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الحمصي، عن أبيه، عن عمرو بن الحارث به.]] .
وَكَذَا رَوَى الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ الجُعْفي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، بِنَحْوِهِ [[سبق تخريجه في المسند.]] وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي قِلابة، عَنْ عُمَرَ نَحْوَهُ [[المراسيل برقم (٤٥٥) .]] . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَٰفِلِينَ
We relate to you, [O Muhammad], the best of stories in what We have revealed to you of this Qur'an although you were, before it, among the unaware.
(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے
ما بهترین سرگذشتها را از طریق این قرآن -که به تو وحی کردیم- بر تو بازگو میکنیم؛ و مسلّماً پیش از این، از آن خبر نداشتی!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ - إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ - نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ
(1. Alif-Lam-Ra. These are the verses of the Book that is clear.)(2. Verily, We have sent it down as an Arabic Qur'an in order that you may understand.)(3. We relate unto you the best of stories through Our revelations unto you, of this Qur'an. And before this, you were among those who knew nothing about it.)
Qualities of the Qur'an
In the beginning of Surat Al-Baqarah we talked about the separate letters, Allah said,
تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ
(These are the verses of the Book) in reference to the Clear Qur'an that is plain and apparent, and explains, clarifies and makes known the unclear matters. Allah said next,
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(Verily, We have sent it down as an Arabic Qur'an in order that you may understand.) The Arabic language is the most eloquent, plain, deep and expressive of the meanings that might arise in one's mind. Therefore, the most honorable Book, was revealed in the most honorable language, to the most honorable Prophet and Messenger ﷺ, delivered by the most honorable angel, in the most honorable land on earth, and its revelation started during the most honorable month of the year, Ramadan. Therefore, the Qur'an is perfect in every respect. So Allah said,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْآنَ
(We relate unto you the best of stories through Our revelations unto you, of this Qur'an.)
Reason behind revealing Ayah (12:3)
On the reason behind revealing Ayah (12:3), Ibn Jarir At-Tabari recorded that 'Abdullah bin 'Abbas said, "They said, 'O, Allah's Messenger! Why not narrate to us stories?' Later on, this Ayah was revealed,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ
(We relate unto you the best of stories...)" There is a Hadith that is relevant upon mentioning this honorable Ayah, which praises the Qur'an and demonstrates that it is sufficient from needing all books besides it. Imam Ahmad recorded a narration from Jabir bin 'Abdullah that 'Umar bin Al-Khattab came to the Prophet ﷺ with a book that he took from some of the People of the Book. 'Umar began reading it to the Prophet ﷺ who became angry. He said,
أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُونَهُ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي
(Are you uncertain about it Ibn Al-Khattab? By the One in Whose Hand is my soul! I have come to you with it white and pure. Do not ask them about anything, for they might tell you something true and you reject it, or they might tell you something false and you believe it. By the One in Whose Hand is my soul! If Musa were living, he would have no choice but to follow me.)
Imam Ahmad also recorded a narration from 'Abdullah bin Thabit who said, "'Umar came to Allah's Messenger and said; 'O Messenger of Allah! I passed by a brother of mine from [the tribe of] Qurayzah, so he wrote some comprehensive statements from the Tawrah for me, should I read them to you' The face of Allah's Messenger changed [with anger]. So I said to him, 'Don't you see the face of Allah's Messenger?" 'Umar said, 'We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad as our Messenger.' So the anger of the Prophet ﷺ subsided, and he said,
وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ
(By the One in Whose Hand is Muhammad's soul, if Musa appeared among you and you were to follow him, abandoning me, then you would have strayed. Indeed you are my share of the nations, and I am your share of the Prophets.)"
Tafsir Ibn Kathir
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کردینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اس لے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول ﷺ ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے ؟ اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا حضور ﷺ کوئی واقعہ بھی بیان ہوجاتا تو ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 23) 39۔ الزمر :23) اتری۔ اور بات بیان ہوئی۔ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ، اس پر یہ آیتیں اتریں، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر (آیت اللہ نزل الخ،) اتری۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی۔ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے۔ اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بےنیاز کردینے والا ہے۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کردیں جس میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر حضور ﷺ ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ سخت غضب ناک ہوگئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اسکی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو۔ اور ہوسکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود حضرت موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے آپ ﷺ سے کہا کہ بنو قریضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ ؟ آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن ثابت نے کہا کہ اے عمر کیا تم حضور ﷺ کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے ؟ اب حضرت عمر کی نگاہ پڑی تو آپ کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے رضامند ہیں۔ اب آپ کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اگر تم میں خود حضرت موسیٰ ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہوجاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں۔ ابو یعلی میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم ؓ کے پاس آیا آپ نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے ؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا۔ اس نے کہا امیر المومنین میرا کیا قصور ہے ؟ آپ نے فرمایا بیٹھ جا۔ میں بتاتا ہوں پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسی سورت کی (آیتیں لمن الغافلین) تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیرالمومنین میرا قصور کیا ہے آپ نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں۔ میں کرنے کو تیار ہوں، آپ نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے۔ پھر فرمایا بیٹھ جا، ایک بات سنتا جا۔ میں نے جاکر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لئے ہوئےحضور ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہوگئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے حضور ﷺ کو ناراض کردیا ہے اور منبر نبوی ﷺ کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے۔ اب آپ نے فرمایا لوگو میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں۔ خبردار تم بہک نہ جانا۔ گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں۔ یہ سن کر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے میں تو یارسول اللہ ﷺ اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر آپ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے راضی ہوں۔ اب جو ﷺ منبر سے اترے اس کے ایک روای عبدالرحمن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ حضرت سے دریافت کرلیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آکر انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں ؟ آپ نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں ؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔ میں حضور ﷺ کے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھ بہت پسند آئیں۔ میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آکر حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید حضور ﷺ کو میرا یہ کام پسند آگیا۔ لاکر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حضور ﷺ تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رواں رواں کھڑا ہوگیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چناچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہوجائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جاکر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کردیں۔ مراسیل ابی داؤد میں بھی حضرت عمر ؓ سے ایسی ہی روایت ہے واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ
[وَهِيَ مَكِّيَّةٌ] [[زيادة من ت، أ.]]
رَوَى الثَّعْلَبِيُّ وَغَيْرُهُ، مِنْ طَرِيقِ سَلام بْنِ سُلَيْمٍ -وَيُقَالُ: سَلِيمٍ -الْمَدَائِنِيِّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ كَثِيرٍ -وَقَدْ نَصَّ عَلَى جَهَالَتِهِ أَبُو حَاتِمٍ -عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: " عَلِّمُوا أَرِقَّاءَكُمْ سُورَةَ يُوسُفَ، فَإِنَّهُ أَيُّمَا مُسْلِمٍ تَلَاهَا، أَوْ عَلَّمَهَا أَهْلَهُ، أَوْ مَا [[في ت: "وما".]] مَلَكَتْ يَمِينُهُ، هَوَّن اللَّهُ عَلَيْهِ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ، وَأَعْطَاهُ مِنَ الْقُوَّةِ أَلَّا يَحْسِدَ مُسْلِمًا " [[تفسير الثعلبي (٧/ل ٦١ "المحمودية") وأورده الزيلعي في تخريج الكشاف (٢/١٧٩) من رواية الثعلبي في تفسيره، ورواه الواحدي في الوسيط (٢/٥٩٩) من طريق إبراهيم بن شريف عن أحمد بن يونس عن سلام بن سليم به.]] .
وَهَذَا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا يَصِحُّ، لِضَعْفِ إِسْنَادِهِ بِالْكُلِّيَّةِ. وَقَدْ سَاقَهُ لَهُ [[في جميع النسخ: "وقد ساقه" وهذا التعبير غير صحيح".]] الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ مُتَابِعًا مِنْ طَرِيقِ الْقَاسِمِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ كَثِيرٍ، بِهِ -وَمِنْ طَرِيقِ شَبَابة، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبَصَرِيِّ [[جميع النسخ: "محمد بن عبد الواحد النضري"، وفي أ، ت: "مخلد بن عبد الواحد النضري" والصواب ما أثبتناه.]] عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ -وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيش، عَنْ أُبي بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ -فَذَكَرَ نَحْوَهَ [[نقله الزيلعي في تخريج الكشاف (٢/١٨٠) عن المؤلف.]] وَهُوَ مُنْكَرٌ مِنْ سَائِرِ طُرُقِهِ.
وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي " الدَّلَائِلِ " أَنَّ طَائِفَةً مِنَ الْيَهُودِ حِينَ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَتْلُو هَذِهِ السُّورَةَ أَسْلَمُوا لِمُوَافَقَتِهَا مَا عِنْدَهُمْ. وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
أَمَّا الْكَلَامُ عَلَى الْحُرُوفِ الْمُقَطَّعَةِ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ سُورَةِ "الْبَقَرَةِ".
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ﴾ أَيْ: هَذِهِ آيَاتُ الْكِتَابِ، وَهُوَ الْقُرْآنُ، ﴿الْمُبِينِ﴾ أَيِ: الْوَاضِحُ الْجَلِيُّ، الَّذِي يُفْصِحُ عَنِ الْأَشْيَاءِ الْمُبْهَمَةِ وَيُفَسِّرُهَا وَيُبَيِّنُهَا [[في ت: "وتفسيرها وتبينها".]] .
﴿إِنَّا أَنزلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴾ وَذَلِكَ لِأَنَّ لُغَةَ الْعَرَبِ أَفْصَحُ اللُّغَاتِ وَأَبْيَنُهَا وَأَوْسَعُهَا، وَأَكْثَرُهَا تَأْدِيَةً لِلْمَعَانِي الَّتِي تَقُومُ بِالنُّفُوسِ؛ فَلِهَذَا أنزلَ أَشْرَفُ الْكُتُبِ بِأَشْرَفِ اللُّغَاتِ، عَلَى أَشْرَفِ الرُّسُلِ، بِسِفَارَةِ [[في ت: "كسفارة".]] أَشْرَفِ الْمَلَائِكَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَشْرَفِ بِقَاعِ الْأَرْضِ، وَابْتَدَئَ إِنْزَالُهُ فِي أَشْرَفِ شُهُورِ السَّنَةِ وَهُوَ رَمَضَانُ، فَكَمُلَ مِنْ كُلِّ الْوُجُوهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ﴾ بِسَبَبِ إِيحَائِنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ.
وَقَدْ وَرَدَ فِي سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَاتِ مَا رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ:
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأوْدِيّ [[في ت: "الأوذي".]] . حَدَّثَنَا حَكَّامٌ الرَّازِّيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرٍو -هُوَ ابْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ -عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا؟ فَنَزَلَتْ: ﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ﴾ [[تفسير الطبري (١٥/٥٥٢) .]] .
وَرَوَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ مُرْسَلًا.
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ [[في أ: "سعد".]] الْعَطَّارُ [[في ت، أ: "القطان".]] ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَنَا خَلاد الصَّفَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّة [[في ت، أ: "قرة".]] ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سعد عن عَنْ سَعْدٍ قَالَ: أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ الْقُرْآنُ، قَالَ: فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قصصتَ عَلَيْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴾ [[في ت: " (لعلكم تعقلون) الآية".]] . ثُمَّ تَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ حَدَّثْتَنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿اللَّهُ نزلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ﴾ الْآيَةَ [الزُّمَرِ: ٢٣] ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ مِنْ حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَويه، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ القرَشي العَنْقزي، بِهِ [[تفسير الطبري (١٥/٥٥٣) والمستدرك (٢/٣٤٥) وقال: "حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه" ووافقه الذهبي، وحسنه الحافظ ابن حجر في المطالب العالية برقم (٣٦٥٢) .]] .
وَرَوَى ابْنُ جَرِيرٍ بِسَنَدِهِ [[في ت: "بسند".]] ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَوْن بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: مَلّ أصحابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم مَلّةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدثنا. [فأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿اللَّهُ نزلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ﴾ ثُمَّ مَلّوا مَلَّةً أُخْرَى فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا] [[زيادة من ت، أ، والطبري.]] فَوْقَ الْحَدِيثِ وَدُونَ الْقُرْآنِ -يَعْنُوِنُ الْقَصَصَ -فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ﴾ فَأَرَادُوا الْحَدِيثَ، فدلَّهم عَلَى أَحْسَنِ الْحَدِيثِ، وَأَرَادُوا الْقَصَصَ فَدَلَّهُمْ عَلَى أَحْسَنِ الْقَصَصِ [[تفسير الطبري (١٥/٥٥٢) .]] .
وَمِمَّا يُنَاسِبُ ذِكْرَهُ عِنْدَ هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ، الْمُشْتَمِلَةِ عَلَى مَدْحِ الْقُرْآنِ، وَأَنَّهُ كَافٍ عَنْ كُلِّ مَا سِوَاهُ مِنَ الْكُتُبِ مَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا سُرَيْج بْنُ النُّعْمَانِ، أَخْبَرَنَا هُشَيْم، أَنْبَأَنَا مَجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ أن عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم فغضب وقال: "أمُتَهوكون فيها يا ابن الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُونَهُ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا، لَمَا [[في ت: "ما".]] وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي" [[المسند (٣/٣٧٨) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِأَخٍ لِي مِنْ قُرَيْظَةَ، فَكَتَبَ لِي جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ، أَلَا أَعْرِضُهَا عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ: فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَرَى مَا بِوَجْهِ [[في ت: "ما توجه".]] رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رِبَّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا. قَالَ: فسُرِّي عَنِ النَّبِيِّ [[في أ: "رسول الله".]] ﷺ وَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ" [[المسند (٣/٣٦٥) .]] .
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِر، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفَطة قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ، إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ مَنْ عَبَدَ الْقَيْسِ مَسْكَنُهُ بِالسُّوسِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَنْتَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ الْعَبْدِيُّ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وَأَنْتَ النَّازِلُ بِالسُّوسِ، قَالَ: نَعَمْ. فَضَرَبَهُ بِقَنَاةٍ مَعَهُ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اجْلِسْ. فَجَلَسَ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ: ﴿بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ [أَحْسَنَ الْقَصَصِ] ﴾ [[زيادة من ت.]] إِلَى قَوْلِهِ: ﴿لَمِنَ الْغَافِلِينَ﴾ فَقَرَأَهَا [[في ت، أ: "فقرأها عليه".]] ثَلَاثًا، وَضَرَبَهُ ثَلَاثًا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: مَا لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَسَخْتَ كِتَابَ دَانْيَالَ! قَالَ: مُرْنِي بِأَمْرِكَ أَتَّبِعْهُ. قَالَ: انْطَلَقَ فَامْحُهُ بِالْحَمِيمِ وَالصُّوفِ الْأَبْيَضِ، ثُمَّ لَا تقْرأه [[في ت: "لا يقرأه".]] وَلَا تُقرئه أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، فَلَئِنْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قَرَأْتَهُ أَوْ أَقَرَأْتَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَأَنْهَكَنَّكَ عُقُوبَةً، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا هَذَا فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ؟ ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِتَابٌ نَسَخْتُهُ لِنَزْدَادَ [[في ت: "ليزداد".]] بِهِ عِلْمًا إِلَى عِلْمِنَا. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَغَضِبَ نَبِيُّكُمْ ﷺ؟ السِّلَاحَ السِّلَاحَ. فَجَاءُوا حَتَّى أَحْدَقُوا بِمِنْبَرِ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِيمَهُ، واختُصِر لِيَ اخْتِصَارًا، وَلَقَدْ أَتَيْتُكُمْ بها بَيْضَاءَ نَقِيَّةً فَلَا تَتهوَّكوا، وَلَا يَغُرَّنَّكُمُ المتهوِّكون". قَالَ عُمَرُ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رِبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِكَ رَسُولَا. ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ [[لم أعثر عليه في المطبوع من مسند أبي يعلى، وأورده الهيثمي في المجمع (١/١٨٢) وقال: "رواه أبو يعلى، وفيه عبد الرحمن بن إسحاق الواسطي، ضعفه أحمد وجماعة". ورواه المقدسي في المختارة برقم (١١٥) من طريق أبي يعلى وقال: "عبد الرحمن بن إسحاق أخرج له مسلم وابن حبان". يقصد عبد الرحمن بن إسحاق المدني وهو أثبت من الواسطي وفترتهما متقاربة، لكن المزني ذكر علي بن مسهر من الرواة عن الواسطي الضعيف، وقد رجح المؤلف هنا أنه الواسطي. وكذا في مسند عمر بن الخطاب (٢/٥٩١) وقال: "وزعم الحافظ الضياء المقدسي في كتابه "المختارة" أنه الذي روى له مسلم كما (أظن صوابه كذا) قال: وأما شيخه خليفة بن قيس فقال فيه أبو حاتم الرازي: شيخ ليس بالمعروف. وقال البخاري: لم يصح حديثه".]] .
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي تَفْسِيرِهِ مُخْتَصَرًا، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، بِهِ. وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ أَبُو شَيبَة [[في ت: "ابن شيبة".]] الْوَاسِطِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفُوهُ وَشَيْخَهُ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ.
قُلْتُ: وَقَدْ رُوِيَ لَهُ شَاهِدٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، فَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْأَشْعَرِيُّ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: أَنَّ جُبَير بْنَ نُفَير حَدّثهم: أَنَّ رَجُلَيْنِ كَانَا بِحِمْصَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فِيمَنْ أَرْسَلَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، وَكَانَا قَدِ اكْتَتَبَا مِنَ الْيَهُودِ صلاصفة [[في هـ: "ملاصق" بدون نقط، والمثبت من ت، أ.]] فَأَخَذَاهَا مَعَهُمَا يَسْتَفْتِيَانِ فِيهَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَيَقُولُونَ: إِنْ رَضِيَهَا لَنَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ازْدَدْنَا فِيهَا رَغْبَةً. وَإِنْ نَهَانَا عَنْهَا رَفَضْنَاهَا، فَلَمَّا قَدِمَا عَلَيْهِ قَالَا إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَإِنَّا نَسْمَعُ مِنْهُمْ كَلَامًا تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُنَا، أَفَنَأْخَذُ مِنْهُ أَوْ نَتْرُكُ؟ فَقَالَ: لَعَلَّكُمَا كَتَبْتُمَا مِنْهُ شَيْئًا. قَالَا [[في ت، أ: "فقالا".]] لَا. قَالَ: سَأُحَدِّثُكُمَا، انْطَلَقْتُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ [[في ت: "النبي".]] ﷺ حَتَّى أَتَيْتُ خَيْبَرَ، فَوَجَدْتُ يَهُودِيًّا يَقُولُ قَوْلًا أَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ: هَلْ أَنْتَ مُكْتِبِي مَا تَقُولُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَأَتَيْتُ بِأَدِيمٍ، فَأَخَذَ يُمْلِي عَلَيَّ، حَتَّى كَتَبْتُ فِي الأكرُع. فَلَمَّا رَجَعْتُ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: "ائْتِنِي بِهِ". فَانْطَلَقْتُ أَرْغَبُ عَنِ الْمَشْيِ رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ أَتَيْتُ [[في ت: "جئت".]] رَسُولَ اللَّهِ بِبَعْضِ مَا يُحِبُّ، فَلَمَّا أَتَيْتُ بِهِ قَالَ: "اجْلِسِ اقْرَأْ عَلَيَّ". فَقَرَأْتُ سَاعَةً، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ يَتَلَوَّنُ، فَتَحَيَّرْتُ مِنَ الفَرق، فَمَا اسْتَطَعْتُ أُجِيزُ [[في ت: "أحبر".]] مِنْهُ حَرْفًا، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِي دَفَعه [[في ت: "دفعته".]] ثُمَّ جَعَلَ يُتْبِعُهُ رَسْمًا رَسْمًا فَيَمْحُوهُ بِرِيقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: "لَا تَتَبِعُوا هَؤُلَاءِ، فَإِنَّهُمْ قَدْ هَوكوا وتَهَوَّكوا"، حَتَّى مَحَا آخِرَهُ حَرْفًا حَرْفًا. قَالَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمَا كَتَبْتُمَا مِنْهُ شَيْئًا جَعَلْتُكُمَا نَكَالًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ! قَالَا وَاللَّهِ مَا نَكْتُبُ مِنْهُ شَيْئًا أَبَدًا. فَخَرَجَا بِصلَاصفَتِهِمَا [[في هـ، ت: "بصفيهما" والمثبت من أ.]] فَحَفَرَا لَهَا [[في ت: "فحفراها".]] فَلَمْ يألُوا أَنْ يعمِّقَا، ودفناها فَكَانَ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْهَا [[ورواه أبو نعيم في الحلية (٥/١٣٦) عن الطبراني، عن عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الحمصي، عن أبيه، عن عمرو بن الحارث به.]] .
وَكَذَا رَوَى الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ الجُعْفي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، بِنَحْوِهِ [[سبق تخريجه في المسند.]] وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي قِلابة، عَنْ عُمَرَ نَحْوَهُ [[المراسيل برقم (٤٥٥) .]] . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَٰجِدِينَ
[Of these stories mention] when Joseph said to his father, "O my father, indeed I have seen [in a dream] eleven stars and the sun and the moon; I saw them prostrating to me."
جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں
(به خاطر بیاور) هنگامی را که یوسف به پدرش گفت: «پدرم! من در خواب دیدم که یازده ستاره، و خورشید و ماه در برابرم سجده میکنند!»
Tafsir Ibn Kathir
(Remember) when Yusuf said to his father: "O my father! Verily, I saw (in a dream) eleven stars and the sun and the moon - I saw them prostrating themselves to me. (4)
Yusuf's Dream
Allah says, 'Mention to your people, O Muhammad, among the stories that you narrate to them, the story of Yusuf.' Prophet Yusuf (Joseph) mentioned his dream to his father, Prophet Ya'qub (Jacob), son of Prophet Ishaq (Isaac), son of Prophet Ibrahim (Abraham), peace be upon them all. 'Abdullah bin 'Abbas stated that the dreams of Prophets are revelations from Allah. Scholars of Tafsir explained that in Yusuf's dream the eleven stars represent his brothers, who were eleven, and the sun and the moon represent his father and mother. This explanation was collected from Ibn 'Abbas, Ad-Dahhak, Qatadah, Sufyan Ath-Thawri and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. Yusuf's vision became a reality forty years later, or as some say, eighty years, when Yusuf raised his parents to the throne while his brothers were before him,
وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا ۖ وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا
(and they fell down before him prostrate. And he said: "O my father! This is the interpretation of my dream aforetime! My Lord has made it come true!")
Tafsir Ibn Kathir
بہترین قصہ حضرت یوسف ؑ حضرت یوسف ؑ کے والد حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ ہم السلام ہیں۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ " کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ؑ ہیں۔ (بخاری) آنحضرت ﷺ سے سوال ہوا کہ سب لوگوں میں زیادہ بزرگ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کے دل میں اللہ کا ڈر سب سے زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا ہمارا مقصود ایسا عام جواب نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا پھر سب لوگوں میں زیادہ بزرگ حضرت یوسف ہیں جو خود نبی تھے، جن کے والد نبی تھے جن کے دادا نبی تھے، جن کے پردادا نبی اور خلیل تھے۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ آپ نے فرمایا پھر کیا تم عرب کے قبیلوں کی نسبت یہ سوال کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا سنو جاہلیت کے زمانے میں جو ممتاز اور شریف تھے۔ وہ اسلام لانے کے بعد بھی ویسے ہی شریف ہیں، جب کہ انہوں نے دینی سمجھ حاصل کرلی ہو000بخاری) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں نبیوں کے خواب اللہ کی وحی ہوتے ہیں۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں گیارہ ستاروں سے مراد حضرت یوسف ؑ کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج چاند سے مراد آپ کے والد اور والدہ ہیں۔ اس خواب کی تعبیر خواب دیکھنے کے چالیس سال بعد ظاہر ہوئی۔ بعض کہتے ہیں اسی برس کے بعد ظاہر ہوئی۔ جب کہ آپ نے اپنے ماں باپ کو تخت شاہی پر بٹھایا۔ اور گیارہ بھائی آپ کے سامنے سجدے میں گرپڑے۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ میرے مہربان باپ یہ دیکھئے آج اللہ تعالیٰ نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ایک روایت میں ہے کہ بستانہ نامی یہودیوں کا ایک زبردست عالم تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے ان گیارہ ستاروں کے نام دریافت کئے۔ آپ خاموش رہے۔ جبرائیل ؑ نے آسمان سے نازل ہو کر آپ کو نام بتائے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا اگر میں تجھے ان کے نام بتادوں تو تو مسلمان ہوجائے گا اس نے اقرار کیا تو آپ نے فرمایا سن ان کے نام یہ ہیں۔ جریان، طارق۔ ذیال، ذوالکتفین۔ قابل۔ وثاب۔ عمودان۔ فلیق۔ مصبح۔ فروح۔ فرغ۔ یہودی نے کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم ان ستاروں کے یہی نام ہیں (ابن جریر) یہ روایت دلائل بیہقی میں اور ابو یعلی بزار اور ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ ابو یعلی میں یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے جب یہ خواب اپنے والد صاحب سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا " یہ سچا خواب ہے یہ پورا ہو کر رہے گا "۔ آپ فرماتے ہیں سورج سے مراد باپ ہیں اور چاند سے مراد ماں ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں حکم بن ظہیر فزاری منفرد ہیں جنہیں بعض اماموں نے ضعیف کہا ہے اور اکثر نے انہیں متروک کر رکھا ہے یہی حسن یوسف کی روایت کے راوی ہیں۔ انہیں چاروں ہی ضعیف کہتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: اذْكُرْ لِقَوْمِكَ يَا مُحَمَّدُ فِي قَصَصك عَلَيْهِمْ مِنْ قِصَّةِ يُوسُفَ إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ، وَأَبُوهُ هُوَ: يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَمَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "الْكَرِيمُ، ابْنُ الْكَرِيمِ، ابْنِ الْكَرِيمِ، ابْنِ الْكَرِيمِ، يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ".
انْفَرَدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ، فَرَوَاهُ [[في أ: "ورواه".]] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بِهِ [[المسند (٢/٩٦) وصحيح البخاري برقم (٤٦٨٨) .]] وَقَالَ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْد اللَّهِ، عَنْ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِل رسولُ اللَّهِ ﷺ: أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ؟ قَالَ: "أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاهُمْ". قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ: "فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ، ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ". قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ: "فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي؟ " قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارِكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهوا". ثُمَّ قَالَ: تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٨٩) .]] .
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحَيٌّ.
وَقَدْ تَكَلَّمَ الْمُفَسِّرُونَ عَلَى تَعْبِيرِ هَذَا الْمَنَامِ: أَنَّ الْأَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا عِبَارَةٌ عَنْ إِخْوَتِهِ، وَكَانُوا أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا [سِوَاهُ] [[زيادة من ت.]] وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ عِبَارَةٌ عَنْ أَبِيهِ وَأُمِّهِ. رُوي هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، والضحاك، وَقَتَادَةَ وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَقَدْ وَقَعَ تَفْسِيرُهَا بَعْدَ أَرْبَعِينَ سَنَةً، وَقِيلَ: ثَمَانِينَ سَنَةً، وَذَلِكَ حِينَ رَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ، وَهُوَ سَرِيرُهُ، وَإِخْوَتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ: ﴿وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا﴾ [يُوسُفَ: ١٠٠] .
وَقَدْ جَاءَ فِي حَدِيثِ تَسْمِيَةِ هَذِهِ الْأَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا -فَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ.
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، [عَنْ جَابِرٍ] [[زيادة من ت، أ، والطبري.]] قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ مَنْ يَهُودَ يُقَالُ لَهُ: "بُسْتَانَةُ الْيَهُودِيُّ"، فَقَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْكَوَاكِبِ الَّتِي رَآهَا يُوسُفُ أَنَّهَا سَاجِدَةٌ لَهُ، مَا أَسْمَاؤُهَا؟ قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ ﷺ سَاعَةً فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ، وَنَزَلَ [عَلَيْهِ] [[زيادة من ت، أ:، والطبري.]] جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَأَخْبَرَهُ بِأَسْمَائِهَا. قَالَ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَيْهِ فَقَالَ: "هَلْ أَنْتَ مُؤْمِنٌ إِنْ أَخْبَرْتُكَ بِأَسْمَائِهَا؟ " فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "خَرْتَانِ [[في هـ: "حرثان" وفي ت، أ: "جريان" والمثبت من ميزان الاعتدال ١/٥٧٢. مستفاد من ط. الشعب.]] والطارِقُ، والذَّيَّال [[في ت: "والدثال".]] وَذُو الكَنَفَات، وَقَابِسٌ، ووَثَّاب، وعَمُودَان، والْفَيلَقُ، والمُصَبِّحُ، والضَّرُوحُ، وَذُو الْفَرْغِ، والضِّيَاُء، والنُّور"، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إيْ وَاللَّهِ، إِنَّهَا لَأَسْمَاؤُهَا [[تفسير الطبري (١٥/٥٥٥) .]] .
وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "الدَّلَائِلِ"، مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ [[في ت: "سعد".]] بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ ظُهَيْرٍ. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْحَافِظَانِ أَبُو يَعْلَى الْمُوصِلِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ الْبَزَّارُ فِي مَسْنَدَيْهِمَا، وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي تَفْسِيرِهِ [[دلائل النبوة للبيهقي (٦/٢٧٧) ومسند البزار برقم (٢٢٢٠) "كشف الأستار". وقد وقع اختلاف في أسماء الكواكب في هذه المصادر وليست بالمهمة، والحديث حكم عليه ابن الجوزي بالوضع.]] أَمَّا أَبُو يَعْلَى فَرَوَاهُ عَنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ شُيُوخِهِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ ظُهَيْرٍ، بِهِ وَزَادَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَمَّا رَآهَا يُوسُفُ قَصّها عَلَى أَبِيهِ يَعْقُوبَ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: هَذَا أَمْرٌ مُتَشَتَّتٌ يَجْمَعُهُ اللَّهُ مِنْ بَعْدُ؛ قَالَ: وَالشَّمْسُ أَبُوهُ، وَالْقَمَرُ أُمُّهُ".
تَفَرَّدَ بِهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ الْفَزَارِيُّ [[لم يتفرد به بل توبع، فرواه الحاكم في المستدرك (٤/٣٩٦) من طريق طلحة عن أسباط بن نصر، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ جَابِرِ به نحوه، وَقَالَ: "هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ ولم يخرجاه" قال الزيلعي: "وسند الحاكم وارد على البزار في قوله: لا نعلم له طريقا غيره، وعلى البيهقي في قوله: تفرد به الحكم بن ظهير ولهما عذرهما" تخريج الكشاف (٢/١٦١) .]] وَقَدْ ضَعَّفه الْأَئِمَّةُ، وَتَرَكَهُ الْأَكْثَرُونَ، وَقَالَ الْجَوْزَجَانِيٌ: ساقط، وهو صاحب حديث حُسْن يوسف.
قَالَ يَٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ
He said, "O my son, do not relate your vision to your brothers or they will contrive against you a plan. Indeed Satan, to man, is a manifest enemy.
انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
گفت: «فرزندم! خواب خود را برای برادرانت بازگو مکن، که برای تو نقشه (خطرناکی) میکشند؛ چرا که شیطان، دشمن آشکار انسان است!
Tafsir Ibn Kathir
He (the father) said: "O my son! Relate not your vision to your brothers, lest they should arrange a plot against you. Verily, Shaytan is to man an open enemy! (5)
Ya'qub orders Yusuf to hide His Vision to avoid Shaytan's Plots
Allah narrates the reply Ya'qub gave his son Yusuf when he narrated to him the vision that he saw, which indicated that his brothers would be under his authority. They would be subjugated to Yusuf's authority to such an extent that they would prostrate before him in respect, honor and appreciation. Ya'qub feared that if Yusuf narrated his vision to any of his brothers, they would envy him and conspire evil plots against him. This is why Ya'qub said to Yusuf,
لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا
(Relate not your vision to your brothers, lest they should arrange a plot against you.) This Ayah means, "They might arrange a plot against you that causes your demise." In the Sunnah, there is a confirmed Hadith that states,
إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلْيُحَدِّثْ بِهِ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتَحَوَّلْ إِلَى جَنْبِهِ الْآخَرِ، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّهَا، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ
(If any of you saw a vision that he likes, let him narrate it. If he saw a dream that he dislikes, let him turn on his other side, blow to his left thrice, seek refuge with Allah from its evil and not tell it to anyone. Verily, it will not harm him in this case.) In another Hadith that Imam Ahmad and collectors of the Sunan collected, Mu'awiyah bin Haydah Al-Qushayri said that the Messenger of Allah ﷺ said,
الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ، فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَت
(The dream is tied to a bird's leg, as long as it is not interpreted. If it is interpreted, it comes true.) Therefore, one should hide the prospects or the coming of a bounty until it comes into existence and becomes known. The Prophet ﷺ said,
اسْتَعِينُوا عَلَى قَضَاءِ الْحَوَائِجِ بِكِتْمَانِهَا، فَإِنَّ كُلَّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُودٌ
(Earn help for fulfilling needs by being discrete, for every owner of a blessing is envied.)
Tafsir Ibn Kathir
یعقوب ؑ کی تعبیر اور ہدایات حضرت یوسف کا یہ خواب سن کر اس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر حضرت یعقوب ؑ نے تاکید کردی کہ اسے بھائیوں کے سامنے نہ دہرانا کیونکہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اور بھائی آپ کے سامنے پس ہونگے یہاں تک کہ وہ آپ کی عزت و تعظیم کے لیے آپ کے سامنے اپنی بہت ہی لاچاری اور عاجزی ظاہر کریں اس لیے بہت ہی ممکن ہے کہ اس خواب کو سن کر اس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر شیطان کے بہکاوے میں آکر ابھی سے وہ تمہاری دشمنی میں لگ جائیں۔ اور حسد کی وجہ سے کوئی نامعقول طریق کار کرنے لگ جائیں اور کسی حیلے سے تجھے پست کرنے کی فکر میں لگ جائیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم بھی یہی ہے۔ فرماتے ہیں تم لوگ کوئی اچھا خواب دیکھو تو خیر اسے بیان کردو اور جو شخص کوئی برا خواب دیکھے تو جس کروٹ پر ہو وہ کروٹ بدل دے اور بائیں طرف تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کی برائی سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے۔ اس صورت میں اسے وہ خواب کوئی نقصان نہ دے گا۔ مسند احمد وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں خواب کی تعبیر جب تک نہ لی جائے وہ گویا پرند کے پاؤں پر ہے۔ ہاں جب اس کی تعبیر بیان ہوگئی پھر وہ ہوجاتا ہے۔ اسی سے یہ حکم بھی لیا جاسکتا ہے۔ کہ نعمت کو چھپانا چاہئے۔ جب تک کہ وہ ازخود اچھی طرح حاصل نہ ہوجائے اور ظاہر نہ ہوجائے، جیسے کہ ایک حدیث میں ہے۔ ضرورتوں کے پورا کرنے پر ان کی چھپانے سے بھی مدد لیا کرو کیونکہ ہر وہ شخص جسے کوئی نعمت ملے لوگ اس کے حسد کے درپے ہوجاتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبَرًا عَنْ قَوْلِ يَعْقُوبَ لِابْنِهِ يُوسُفَ حِينَ قَصّ عَلَيْهِ مَا رَأَى مِنْ هَذِهِ الرُّؤْيَا، الَّتِي تَعْبِيرُهَا خُضُوعُ إِخْوَتِهِ لَهُ وَتَعْظِيمُهُمْ إِيَّاهُ تَعْظِيمًا زَائِدًا، بِحَيْثُ يَخِرُّونَ لَهُ سَاجِدِينَ إِجْلَالًا وَإِكْرَامًا وَاحْتِرَامًا [[في ت، أ: "واحتراما وإكراما".]] فَخَشِيَ يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنْ يُحَدِّثَ بِهَذَا الْمَنَامِ أَحَدًا مِنْ إِخْوَتِهِ فَيَحْسُدُوهُ [[في ت: "فيحسدونه".]] عَلَى ذَلِكَ، فَيَبْغُوا لَهُ الْغَوَائِلَ، حَسَدًا مِنْهُمْ لَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ لَهُ: ﴿لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا﴾ أَيْ: يَحْتَالُوا لَكَ حِيلَةً يُرْدُونَك فِيهَا. وَلِهَذَا ثَبَتَتِ السُّنَّةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلْيُحَدِّثْ بِهِ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فليتحوَّل إِلَى جَنْبِهِ الْآخَرِ وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ" [[جاء من حديث جابر، وأم سلمة، وأبي قتادة: أما حديث جابر، فرواه مسلم في صحيحه برقم (٢٢٦٢) ، وأما حديث أم سلمة، فرواه النسائي في السنن الكبرى برقم (١٠٧٤١) ، وأما حديث أبي قتادة، فرواه أحمد في المسند (٥/٢٩٦) وهذا لفظه.]] . وَفِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ الَّذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَبَعْضُ أَهْلِ السُّنَنِ، مِنْ رِوَايَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبر، فَإِذَا عُبرت وَقَعَتْ" [[لم أعثر عليه من حديث معاوية، وإنما من حديث لقيط بن عامر رضي الله عنه، رواه أحمد في المسند (٤/١٠) وأبو داود في السنن برقم (٥٠٢٠) والترمذي في السنن برقم (٢٢٧٨) وابن ماجه في السنن برقم (٣٩١٤) .]] وَمِنْ هَذَا يُؤْخَذُ الْأَمْرُ بِكِتْمَانِ النِّعْمَةِ حَتَّى تُوجَدَ وَتَظْهَرَ، كَمَا وَرَدَ فِي حَدِيثِ: "اسْتَعِينُوا عَلَى قَضَاءِ الْحَوَائِجِ بِكِتْمَانِهَا، فَإِنَّ كُلَّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُودٌ" [[رواه العقيلي في الضعفاء (٢/١٠٩) وابن عدي في الكامل (٣/٤٠٤) وأبو نعيم في الحلية (٦/٩٦) من طريق سعيد بن سالم العطار عن ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عن معاذ به مرفوعا، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (٢/١٦٥) وقال أبو حاتم في العلل (٢/٢٥٨) : "حديث منكر". وآفته سعيد بن سلام العطار فهو كذاب.]]
وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ
And thus will your Lord choose you and teach you the interpretation of narratives and complete His favor upon you and upon the family of Jacob, as He completed it upon your fathers before, Abraham and Isaac. Indeed, your Lord is Knowing and Wise."
اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
و این گونه پروردگارت تو را برمیگزیند؛ و از تعبیر خوابها به تو میآموزد؛ و نعمتش را بر تو و بر خاندان یعقوب تمام و کامل میکند، همانگونه که پیش از این، بر پدرانت ابراهیم و اسحاق تمام کرد؛ به یقین، پروردگار تو دانا و حکیم است!»
Tafsir Ibn Kathir
"Thus will your Lord choose you and teach you the interpretation of dreams (and other things) and perfect His favor on you and on the offspring of Ya'qub, as He perfected it on your fathers, Ibrahim and Ishaq aforetime! Verily, your Lord is All-Knowing, All-Wise. (6)
Interpretation of Yusuf's Vision
Allah says that Ya'qub said to his son Yusuf, 'Just as Allah chose you to see the eleven stars, the sun and the moon prostrate before you in a vision,
وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ
(Thus will your Lord choose you) designate and assign you to be a Prophet from Him,
وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ
(and teach you the interpretation of Ahadith).' Mujahid and several other scholars said that this part of the Ayah is in reference to the interpreting of dreams. He said next,
وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ
(and perfect His favor on you), 'by His Message and revelation to you.' This is why Ya'qub said afterwards,
كَمَا أَتَمَّهَا عَلَىٰ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ
(as He perfected it aforetime on your fathers, Ibrahim...), Allah's intimate friend,
وَإِسْحَاقَ
(and Ishaq), Ibrahim's son,
إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(Verily, your Lord is All-Knowing, All-Wise.) Allah knows best whom to chose for His Messages.
Tafsir Ibn Kathir
بشارت اور نصیحت حضرت یعقوب ؑ اپنے لخت جگر حضرت یوسف ؑ کو انہیں ملنے والے مرتبوں کی خبر دیتے ہیں کہ جس طرح خواب میں اس نے تمہیں یہ فضیلت دکھائی اسی طرح وہ تمہیں نبوت کا بلند مرتبہ عطا فرمائے گا۔ اور تمہیں خواب کی تعبیر سکھا دے گا۔ اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دے گا یعنی نبوت۔ جیسے کہ اس سے پہلے وہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کو اور حضرت اسحاق ؑ کو بھی عطا فرما چکا ہے جو تمہارے دادا اور پردادا تھے۔ اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے کہ نبوت کے لائق کون ہے ؟
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ قَوْلِ يَعْقُوبَ لِوَلَدِهِ يُوسُفَ: إِنَّهُ كَمَا اخْتَارَكَ [[في ت: "اختار".]] رَبُّكَ، وَأَرَاكَ هَذِهِ الْكَوَاكِبَ مَعَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ سَاجِدَةً لَكَ، ﴿وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ﴾ أَيْ: يَخْتَارُكَ وَيَصْطَفِيكَ لِنُبُوَّتِهِ، ﴿وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَأْوِيلِ الأحَادِيثِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: يَعْنِي تَعْبِيرَ الرُّؤْيَا.
﴿وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ﴾ أَيْ: بِإِرْسَالِكَ وَالْإِيحَاءِ إِلَيْكَ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿كَمَا أَتَمَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ﴾ وَهُوَ الْخَلِيلُ، ﴿وَإِسْحَاقَ﴾ وَلَدِهِ، وَهُوَ الذَّبِيحُ فِي قَوْلٍ، وَلَيْسَ بِالرَّجِيحِ، ﴿إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ أَيْ: [هُوَ] [[زيادة من ت.]] أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَاتِهِ، كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى.
۞ لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَٰتٌۭ لِّلسَّآئِلِينَ
Certainly were there in Joseph and his brothers signs for those who ask,
ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں
در (داستان) یوسف و برادرانش، نشانهها (ی هدایت) برای سؤالکنندگان بود!
Tafsir Ibn Kathir
Verily, in Yusuf and his brethren there were Ayat for those who ask (7)When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we, while we are 'Usbah (a group). Really, our father is in a plain error. (8)"Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone, and after that you will be righteous folk. (9)One from among them said: "Kill not Yusuf, but if you must do something, throw him down to the bottom of a well; he will be picked up by some caravan of travelers. (10)
There are Lessons to draw from the Story of Yusuf
Allah says that there are Ayat, lessons and wisdom to learn from the story of Yusuf and his brothers, for those who ask about their story and seek its knowledge. Surely, their story is unique and is worthy of being narrated.
إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا
(When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we...") They swore, according to their false thoughts, that Yusuf and his brother Binyamin (Benjamin), Yusuf's full brother,
أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ
(dearer to our father than we, while we are 'Usbah.) meaning, a group. Therefore, they thought, how can he love these two more than the group,
إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(Really, our father is in a plain error.) because he preferred them and loved them more than us.
اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ
(Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone,) They said, 'Remove Yusuf, who competes with you for your father's love, from in front of your father's face so that his favor is yours alone. Either kill Yusuf or banish him to a distant land so that you are rid of his trouble and you alone enjoy the love of your father. '
وَتَكُونُوا مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ
(and after that you will be righteous folk.), thus intending repentance before committing the sin,
قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ
(One from among them said...) Qatadah and Muhammad bin Ishaq said that he was the oldest among them and his name was Rubil (Reuben). As-Suddi said that his name was Yahudha (Judah). Mujahid said that it was Sham'un (Simeon) who said,
لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ
(Kill not Yusuf,), do not let your enmity and hatred towards him reach this level, of murder.
However, their plot to kill Yusuf would not have succeeded, because Allah the Exalted willed that Yusuf fulfill a mission that must be fulfilled and complete; he would receive Allah's revelation and become His Prophet. Allah willed Yusuf to be a powerful man in Egypt and govern it. Consequently, Allah did not allow them to persist in their intent against Yusuf, through Rubil's words and his advice to them that if they must do something, they should throw him down to the bottom of a well,
يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ
(he will be picked up by some caravan) of travelers passing by. This way, he said, you will rid yourselves of this bother without having to kill him,
إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ
(if you must do something,) meaning, if you still insist on getting rid of him. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "They agreed to a particularly vicious crime that involved cutting the relation of the womb, undutiful treatment of parents, and harshness towards the young, helpless and sinless. It was also harsh towards the old and weak who have the rights of being respected, honored and appreciated, as well as, being honored with Allah and having parental rights on their offspring. They sought to separate the beloved father, who had reached old age and his bones became weak, yet had a high status with Allah, from his beloved young son, in spite of his weakness, tender age and his need of his father's compassion and kindness. May Allah forgive them, and indeed, He is the Most Merciful among those who have mercy, for they intended to carry out a "grave error." Ibn Abi Hatim collected this statement, from the route of Salamah bin Al-Fadl from Muhammad bin Ishaq.
Tafsir Ibn Kathir
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی (قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ01306) 2۔ البقرة :136) میں سے لفظ اسباط پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا جا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہوگئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا واللہ اعلم۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔ یا کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بےوجہ، بےقصور صرف عداوت میں آکر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ قتادہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم ؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو ؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضلیت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بےزبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: لَقَدْ كَانَ فِي قِصَّةِ يُوسُفَ وَخَبَرِهِ مَعَ إِخْوَتِهِ آيَاتٌ، أَيْ عبرةٌ ومواعظُ لِلسَّائِلِينَ عَنْ ذَلِكَ، الْمُسْتَخْبِرِينَ عَنْهُ، فَإِنَّهُ خَبَرٌ عَجِيبٌ، يَسْتَحِقُّ أَنْ يُسْتَخْبَرَ عَنْهُ، ﴿إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا﴾ أَيْ: حَلَفُوا فِيمَا يَظُنُّونَ: وَاللَّهِ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ -يَعْنُونُ بِنْيَامِينَ، وَكَانَ شَقِيقَهُ لِأُمِّهِ - ﴿أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ﴾ أَيْ: جَمَاعَةٌ، فَكَيْفَ أَحَبَّ ذَيْنِكَ الِاثْنَيْنِ أَكْثَرَ مِنَ الْجَمَاعَةِ؛ ﴿إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ يَعْنُونَ فِي تَقْدِيمِهِمَا عَلَيْنَا، وَمَحَبَّتِهِ إِيَّاهُمَا أَكْثَرَ مِنَّا.
وَاعْلَمْ أَنَّهُ لَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى نُبُوَّةِ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَظَاهِرُ هَذَا السِّيَاقِ يَدُلُّ عَلَى خِلَافِ ذَلِكَ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَزْعُمُ أَنَّهُمْ أُوحِيَ إِلَيْهِمْ بَعْدَ ذَلِكَ، وَفِي هَذَا نَظَرٌ. وَيَحْتَاجُ مُدّعي ذَلِكَ إِلَى دَلِيلٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا سوَى قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٣٦] ، وَهَذَا فِيهِ احْتِمَالٌ؛ لِأَنَّ بُطُونَ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالُ لَهُمُ: الْأَسْبَاطُ، كَمَا يُقَالُ لِلْعَرَبِ: قَبَائِلُ، وَلِلْعَجَمِ: شُعُوبٌ؛ يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْحَى إِلَى الْأَنْبِيَاءِ مِنْ أَسْبَاطِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَذَكَرَهُمْ إِجْمَالًا لِأَنَّهُمْ كَثِيرُونَ، وَلَكِنَّ كُلَّ سِبْطٍ مِنْ نَسْلِ رَجُلٍ مِنْ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَلَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى أَعْيَانِ هَؤُلَاءِ أَنَّهُمْ أُوحِيَ إِلَيْهِمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
﴿اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ﴾ يَقُولُونَ: هَذَا الَّذِي يُزَاحِمُكُمْ فِي مَحَبَّةِ أَبِيكُمْ لَكُمْ، أَعْدِمُوهُ مِنْ وَجْهِ أَبِيكُمْ، لِيَخْلُوَ لَكُمْ وَحْدَكُمْ، إِمَّا بِأَنْ تَقْتُلُوهُ، أَوْ تُلْقُوهُ فِي أَرْضٍ مِنَ الْأَرَاضِي -تَسْتَرِيحُوا مِنْهُ، وَتَخْتَلُوا أَنْتُمْ بِأَبِيكُمْ، وَتَكُونُوا مِنْ [[في أ: "وتكونوا من بعده، أي من بعد".]] بَعْدِ إِعْدَامِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ. فَأَضْمَرُوا التَّوْبَةَ قَبْلَ الذَّنْبِ.
﴿قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ﴾ قَالَ قَتَادَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: كَانَ أَكْبَرَهُمْ وَاسْمُهُ رُوبِيلُ. وَقَالَ السُّدِّيُّ: الَّذِي قَالَ ذَلِكَ يَهُوذَا. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: هُوَ شَمْعُونُ ﴿لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ﴾ أَيْ: لَا تَصِلوا [[في أ: "لا تغلوا".]] فِي عَدَاوَتِهِ وَبُغْضِهِ إِلَى قَتْلِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ [[في ت: "له".]] سبيلٌ إِلَى قَتْلِهِ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَانَ يُرِيدُ مِنْهُ أَمْرًا لَا بُدَّ مِنْ إِمْضَائِهِ وَإِتْمَامِهِ، مِنَ الْإِيحَاءِ إِلَيْهِ بِالنُّبُوَّةِ، وَمِنَ التَّمْكِينِ لَهُ بِبِلَادِ مِصْرَ وَالْحُكْمِ بِهَا، فَصَرَفَهُمُ اللَّهُ عَنْهُ بِمَقَالَةِ رُوبِيلَ فِيهِ وَإِشَارَتِهِ عَلَيْهِمْ بِأَنْ يُلْقُوهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ، وَهُوَ أَسْفَلَهُ.
قَالَ قَتَادَةُ: وَهِيَ بِئْرُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ.
﴿يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ﴾ أَيْ: الْمَارَّةُ مِنَ الْمُسَافِرِينَ، فَتَسْتَرِيحُوا بِهَذَا، وَلَا حَاجَةَ إِلَى قَتْلِهِ.
﴿إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ﴾ أَيْ: إِنْ كُنْتُمْ عَازِمِينَ عَلَى مَا تَقُولُونَ.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ: لَقَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى أمر عظيم، من قطيعة الرحم، وعقوق الْوَالِدِ، وَقِلَّةِ الرَّأْفَةِ بِالصَّغِيرِ الضَّرَع الَّذِي لَا ذَنْبَ لَهُ، وَبِالْكَبِيرِ الْفَانِي ذِي الْحَقِّ وَالْحُرْمَةِ وَالْفَضْلِ، وَخَطَرُهُ عِنْدَ اللَّهِ، مَعَ حَقِّ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ، لِيُفَرِّقُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِهِ [[في ت: "أبيه".]] وَحَبِيبِهِ، عَلَى كِبَرِ سِنِّهِ، ورِقَّة عَظْمِهِ، مَعَ مَكَانِهِ مِنَ اللَّهِ فِيمَنْ أَحَبَّهُ طِفْلًا صَغِيرًا، وَبَيْنَ أَبِيهِ عَلَى ضَعْفِ قُوَّتِهِ وَصِغَرِ سَنِّهِ، وَحَاجَتِهِ إِلَى لُطْفِ وَالِدِهِ وَسُكُونِهِ إِلَيْهِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَقَدِ احْتَمَلُوا أَمْرًا عَظِيمًا.
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طَرِيقِ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْهُ.
إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ
When they said, "Joseph and his brother are more beloved to our father than we, while we are a clan. Indeed, our father is in clear error.
جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں
هنگامی که (برادران) گفتند: «یوسف و برادرش [= بنیامین] نزد پدر، از ما محبوبترند؛ در حالی که ما گروه نیرومندی هستیم! مسلّماً پدر ما، در گمراهی آشکاری است!
Tafsir Ibn Kathir
Verily, in Yusuf and his brethren there were Ayat for those who ask (7)When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we, while we are 'Usbah (a group). Really, our father is in a plain error. (8)"Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone, and after that you will be righteous folk. (9)One from among them said: "Kill not Yusuf, but if you must do something, throw him down to the bottom of a well; he will be picked up by some caravan of travelers. (10)
There are Lessons to draw from the Story of Yusuf
Allah says that there are Ayat, lessons and wisdom to learn from the story of Yusuf and his brothers, for those who ask about their story and seek its knowledge. Surely, their story is unique and is worthy of being narrated.
إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا
(When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we...") They swore, according to their false thoughts, that Yusuf and his brother Binyamin (Benjamin), Yusuf's full brother,
أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ
(dearer to our father than we, while we are 'Usbah.) meaning, a group. Therefore, they thought, how can he love these two more than the group,
إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(Really, our father is in a plain error.) because he preferred them and loved them more than us.
اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ
(Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone,) They said, 'Remove Yusuf, who competes with you for your father's love, from in front of your father's face so that his favor is yours alone. Either kill Yusuf or banish him to a distant land so that you are rid of his trouble and you alone enjoy the love of your father. '
وَتَكُونُوا مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ
(and after that you will be righteous folk.), thus intending repentance before committing the sin,
قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ
(One from among them said...) Qatadah and Muhammad bin Ishaq said that he was the oldest among them and his name was Rubil (Reuben). As-Suddi said that his name was Yahudha (Judah). Mujahid said that it was Sham'un (Simeon) who said,
لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ
(Kill not Yusuf,), do not let your enmity and hatred towards him reach this level, of murder.
However, their plot to kill Yusuf would not have succeeded, because Allah the Exalted willed that Yusuf fulfill a mission that must be fulfilled and complete; he would receive Allah's revelation and become His Prophet. Allah willed Yusuf to be a powerful man in Egypt and govern it. Consequently, Allah did not allow them to persist in their intent against Yusuf, through Rubil's words and his advice to them that if they must do something, they should throw him down to the bottom of a well,
يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ
(he will be picked up by some caravan) of travelers passing by. This way, he said, you will rid yourselves of this bother without having to kill him,
إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ
(if you must do something,) meaning, if you still insist on getting rid of him. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "They agreed to a particularly vicious crime that involved cutting the relation of the womb, undutiful treatment of parents, and harshness towards the young, helpless and sinless. It was also harsh towards the old and weak who have the rights of being respected, honored and appreciated, as well as, being honored with Allah and having parental rights on their offspring. They sought to separate the beloved father, who had reached old age and his bones became weak, yet had a high status with Allah, from his beloved young son, in spite of his weakness, tender age and his need of his father's compassion and kindness. May Allah forgive them, and indeed, He is the Most Merciful among those who have mercy, for they intended to carry out a "grave error." Ibn Abi Hatim collected this statement, from the route of Salamah bin Al-Fadl from Muhammad bin Ishaq.
Tafsir Ibn Kathir
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی (قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ01306) 2۔ البقرة :136) میں سے لفظ اسباط پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا جا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہوگئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا واللہ اعلم۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔ یا کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بےوجہ، بےقصور صرف عداوت میں آکر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ قتادہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم ؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو ؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضلیت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بےزبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: لَقَدْ كَانَ فِي قِصَّةِ يُوسُفَ وَخَبَرِهِ مَعَ إِخْوَتِهِ آيَاتٌ، أَيْ عبرةٌ ومواعظُ لِلسَّائِلِينَ عَنْ ذَلِكَ، الْمُسْتَخْبِرِينَ عَنْهُ، فَإِنَّهُ خَبَرٌ عَجِيبٌ، يَسْتَحِقُّ أَنْ يُسْتَخْبَرَ عَنْهُ، ﴿إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا﴾ أَيْ: حَلَفُوا فِيمَا يَظُنُّونَ: وَاللَّهِ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ -يَعْنُونُ بِنْيَامِينَ، وَكَانَ شَقِيقَهُ لِأُمِّهِ - ﴿أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ﴾ أَيْ: جَمَاعَةٌ، فَكَيْفَ أَحَبَّ ذَيْنِكَ الِاثْنَيْنِ أَكْثَرَ مِنَ الْجَمَاعَةِ؛ ﴿إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ يَعْنُونَ فِي تَقْدِيمِهِمَا عَلَيْنَا، وَمَحَبَّتِهِ إِيَّاهُمَا أَكْثَرَ مِنَّا.
وَاعْلَمْ أَنَّهُ لَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى نُبُوَّةِ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَظَاهِرُ هَذَا السِّيَاقِ يَدُلُّ عَلَى خِلَافِ ذَلِكَ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَزْعُمُ أَنَّهُمْ أُوحِيَ إِلَيْهِمْ بَعْدَ ذَلِكَ، وَفِي هَذَا نَظَرٌ. وَيَحْتَاجُ مُدّعي ذَلِكَ إِلَى دَلِيلٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا سوَى قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٣٦] ، وَهَذَا فِيهِ احْتِمَالٌ؛ لِأَنَّ بُطُونَ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالُ لَهُمُ: الْأَسْبَاطُ، كَمَا يُقَالُ لِلْعَرَبِ: قَبَائِلُ، وَلِلْعَجَمِ: شُعُوبٌ؛ يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْحَى إِلَى الْأَنْبِيَاءِ مِنْ أَسْبَاطِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَذَكَرَهُمْ إِجْمَالًا لِأَنَّهُمْ كَثِيرُونَ، وَلَكِنَّ كُلَّ سِبْطٍ مِنْ نَسْلِ رَجُلٍ مِنْ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَلَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى أَعْيَانِ هَؤُلَاءِ أَنَّهُمْ أُوحِيَ إِلَيْهِمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
﴿اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ﴾ يَقُولُونَ: هَذَا الَّذِي يُزَاحِمُكُمْ فِي مَحَبَّةِ أَبِيكُمْ لَكُمْ، أَعْدِمُوهُ مِنْ وَجْهِ أَبِيكُمْ، لِيَخْلُوَ لَكُمْ وَحْدَكُمْ، إِمَّا بِأَنْ تَقْتُلُوهُ، أَوْ تُلْقُوهُ فِي أَرْضٍ مِنَ الْأَرَاضِي -تَسْتَرِيحُوا مِنْهُ، وَتَخْتَلُوا أَنْتُمْ بِأَبِيكُمْ، وَتَكُونُوا مِنْ [[في أ: "وتكونوا من بعده، أي من بعد".]] بَعْدِ إِعْدَامِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ. فَأَضْمَرُوا التَّوْبَةَ قَبْلَ الذَّنْبِ.
﴿قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ﴾ قَالَ قَتَادَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: كَانَ أَكْبَرَهُمْ وَاسْمُهُ رُوبِيلُ. وَقَالَ السُّدِّيُّ: الَّذِي قَالَ ذَلِكَ يَهُوذَا. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: هُوَ شَمْعُونُ ﴿لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ﴾ أَيْ: لَا تَصِلوا [[في أ: "لا تغلوا".]] فِي عَدَاوَتِهِ وَبُغْضِهِ إِلَى قَتْلِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ [[في ت: "له".]] سبيلٌ إِلَى قَتْلِهِ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَانَ يُرِيدُ مِنْهُ أَمْرًا لَا بُدَّ مِنْ إِمْضَائِهِ وَإِتْمَامِهِ، مِنَ الْإِيحَاءِ إِلَيْهِ بِالنُّبُوَّةِ، وَمِنَ التَّمْكِينِ لَهُ بِبِلَادِ مِصْرَ وَالْحُكْمِ بِهَا، فَصَرَفَهُمُ اللَّهُ عَنْهُ بِمَقَالَةِ رُوبِيلَ فِيهِ وَإِشَارَتِهِ عَلَيْهِمْ بِأَنْ يُلْقُوهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ، وَهُوَ أَسْفَلَهُ.
قَالَ قَتَادَةُ: وَهِيَ بِئْرُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ.
﴿يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ﴾ أَيْ: الْمَارَّةُ مِنَ الْمُسَافِرِينَ، فَتَسْتَرِيحُوا بِهَذَا، وَلَا حَاجَةَ إِلَى قَتْلِهِ.
﴿إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ﴾ أَيْ: إِنْ كُنْتُمْ عَازِمِينَ عَلَى مَا تَقُولُونَ.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ: لَقَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى أمر عظيم، من قطيعة الرحم، وعقوق الْوَالِدِ، وَقِلَّةِ الرَّأْفَةِ بِالصَّغِيرِ الضَّرَع الَّذِي لَا ذَنْبَ لَهُ، وَبِالْكَبِيرِ الْفَانِي ذِي الْحَقِّ وَالْحُرْمَةِ وَالْفَضْلِ، وَخَطَرُهُ عِنْدَ اللَّهِ، مَعَ حَقِّ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ، لِيُفَرِّقُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِهِ [[في ت: "أبيه".]] وَحَبِيبِهِ، عَلَى كِبَرِ سِنِّهِ، ورِقَّة عَظْمِهِ، مَعَ مَكَانِهِ مِنَ اللَّهِ فِيمَنْ أَحَبَّهُ طِفْلًا صَغِيرًا، وَبَيْنَ أَبِيهِ عَلَى ضَعْفِ قُوَّتِهِ وَصِغَرِ سَنِّهِ، وَحَاجَتِهِ إِلَى لُطْفِ وَالِدِهِ وَسُكُونِهِ إِلَيْهِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَقَدِ احْتَمَلُوا أَمْرًا عَظِيمًا.
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طَرِيقِ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْهُ.
ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًۭا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًۭا صَٰلِحِينَ
Kill Joseph or cast him out to [another] land; the countenance of your father will [then] be only for you, and you will be after that a righteous people."
تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے
یوسف را بکشید؛ یا او را به سرزمین دوردستی بیفکنید؛ تا توجه پدر، فقط به شما باشد؛ و بعد از آن، (از گناه خود توبه میکنید؛ و) افراد صالحی خواهید بود!
Tafsir Ibn Kathir
Verily, in Yusuf and his brethren there were Ayat for those who ask (7)When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we, while we are 'Usbah (a group). Really, our father is in a plain error. (8)"Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone, and after that you will be righteous folk. (9)One from among them said: "Kill not Yusuf, but if you must do something, throw him down to the bottom of a well; he will be picked up by some caravan of travelers. (10)
There are Lessons to draw from the Story of Yusuf
Allah says that there are Ayat, lessons and wisdom to learn from the story of Yusuf and his brothers, for those who ask about their story and seek its knowledge. Surely, their story is unique and is worthy of being narrated.
إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا
(When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we...") They swore, according to their false thoughts, that Yusuf and his brother Binyamin (Benjamin), Yusuf's full brother,
أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ
(dearer to our father than we, while we are 'Usbah.) meaning, a group. Therefore, they thought, how can he love these two more than the group,
إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(Really, our father is in a plain error.) because he preferred them and loved them more than us.
اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ
(Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone,) They said, 'Remove Yusuf, who competes with you for your father's love, from in front of your father's face so that his favor is yours alone. Either kill Yusuf or banish him to a distant land so that you are rid of his trouble and you alone enjoy the love of your father. '
وَتَكُونُوا مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ
(and after that you will be righteous folk.), thus intending repentance before committing the sin,
قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ
(One from among them said...) Qatadah and Muhammad bin Ishaq said that he was the oldest among them and his name was Rubil (Reuben). As-Suddi said that his name was Yahudha (Judah). Mujahid said that it was Sham'un (Simeon) who said,
لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ
(Kill not Yusuf,), do not let your enmity and hatred towards him reach this level, of murder.
However, their plot to kill Yusuf would not have succeeded, because Allah the Exalted willed that Yusuf fulfill a mission that must be fulfilled and complete; he would receive Allah's revelation and become His Prophet. Allah willed Yusuf to be a powerful man in Egypt and govern it. Consequently, Allah did not allow them to persist in their intent against Yusuf, through Rubil's words and his advice to them that if they must do something, they should throw him down to the bottom of a well,
يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ
(he will be picked up by some caravan) of travelers passing by. This way, he said, you will rid yourselves of this bother without having to kill him,
إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ
(if you must do something,) meaning, if you still insist on getting rid of him. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "They agreed to a particularly vicious crime that involved cutting the relation of the womb, undutiful treatment of parents, and harshness towards the young, helpless and sinless. It was also harsh towards the old and weak who have the rights of being respected, honored and appreciated, as well as, being honored with Allah and having parental rights on their offspring. They sought to separate the beloved father, who had reached old age and his bones became weak, yet had a high status with Allah, from his beloved young son, in spite of his weakness, tender age and his need of his father's compassion and kindness. May Allah forgive them, and indeed, He is the Most Merciful among those who have mercy, for they intended to carry out a "grave error." Ibn Abi Hatim collected this statement, from the route of Salamah bin Al-Fadl from Muhammad bin Ishaq.
Tafsir Ibn Kathir
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی (قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ01306) 2۔ البقرة :136) میں سے لفظ اسباط پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا جا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہوگئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا واللہ اعلم۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔ یا کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بےوجہ، بےقصور صرف عداوت میں آکر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ قتادہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم ؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو ؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضلیت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بےزبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: لَقَدْ كَانَ فِي قِصَّةِ يُوسُفَ وَخَبَرِهِ مَعَ إِخْوَتِهِ آيَاتٌ، أَيْ عبرةٌ ومواعظُ لِلسَّائِلِينَ عَنْ ذَلِكَ، الْمُسْتَخْبِرِينَ عَنْهُ، فَإِنَّهُ خَبَرٌ عَجِيبٌ، يَسْتَحِقُّ أَنْ يُسْتَخْبَرَ عَنْهُ، ﴿إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا﴾ أَيْ: حَلَفُوا فِيمَا يَظُنُّونَ: وَاللَّهِ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ -يَعْنُونُ بِنْيَامِينَ، وَكَانَ شَقِيقَهُ لِأُمِّهِ - ﴿أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ﴾ أَيْ: جَمَاعَةٌ، فَكَيْفَ أَحَبَّ ذَيْنِكَ الِاثْنَيْنِ أَكْثَرَ مِنَ الْجَمَاعَةِ؛ ﴿إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ يَعْنُونَ فِي تَقْدِيمِهِمَا عَلَيْنَا، وَمَحَبَّتِهِ إِيَّاهُمَا أَكْثَرَ مِنَّا.
وَاعْلَمْ أَنَّهُ لَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى نُبُوَّةِ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَظَاهِرُ هَذَا السِّيَاقِ يَدُلُّ عَلَى خِلَافِ ذَلِكَ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَزْعُمُ أَنَّهُمْ أُوحِيَ إِلَيْهِمْ بَعْدَ ذَلِكَ، وَفِي هَذَا نَظَرٌ. وَيَحْتَاجُ مُدّعي ذَلِكَ إِلَى دَلِيلٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا سوَى قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٣٦] ، وَهَذَا فِيهِ احْتِمَالٌ؛ لِأَنَّ بُطُونَ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالُ لَهُمُ: الْأَسْبَاطُ، كَمَا يُقَالُ لِلْعَرَبِ: قَبَائِلُ، وَلِلْعَجَمِ: شُعُوبٌ؛ يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْحَى إِلَى الْأَنْبِيَاءِ مِنْ أَسْبَاطِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَذَكَرَهُمْ إِجْمَالًا لِأَنَّهُمْ كَثِيرُونَ، وَلَكِنَّ كُلَّ سِبْطٍ مِنْ نَسْلِ رَجُلٍ مِنْ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَلَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى أَعْيَانِ هَؤُلَاءِ أَنَّهُمْ أُوحِيَ إِلَيْهِمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
﴿اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ﴾ يَقُولُونَ: هَذَا الَّذِي يُزَاحِمُكُمْ فِي مَحَبَّةِ أَبِيكُمْ لَكُمْ، أَعْدِمُوهُ مِنْ وَجْهِ أَبِيكُمْ، لِيَخْلُوَ لَكُمْ وَحْدَكُمْ، إِمَّا بِأَنْ تَقْتُلُوهُ، أَوْ تُلْقُوهُ فِي أَرْضٍ مِنَ الْأَرَاضِي -تَسْتَرِيحُوا مِنْهُ، وَتَخْتَلُوا أَنْتُمْ بِأَبِيكُمْ، وَتَكُونُوا مِنْ [[في أ: "وتكونوا من بعده، أي من بعد".]] بَعْدِ إِعْدَامِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ. فَأَضْمَرُوا التَّوْبَةَ قَبْلَ الذَّنْبِ.
﴿قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ﴾ قَالَ قَتَادَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: كَانَ أَكْبَرَهُمْ وَاسْمُهُ رُوبِيلُ. وَقَالَ السُّدِّيُّ: الَّذِي قَالَ ذَلِكَ يَهُوذَا. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: هُوَ شَمْعُونُ ﴿لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ﴾ أَيْ: لَا تَصِلوا [[في أ: "لا تغلوا".]] فِي عَدَاوَتِهِ وَبُغْضِهِ إِلَى قَتْلِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ [[في ت: "له".]] سبيلٌ إِلَى قَتْلِهِ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَانَ يُرِيدُ مِنْهُ أَمْرًا لَا بُدَّ مِنْ إِمْضَائِهِ وَإِتْمَامِهِ، مِنَ الْإِيحَاءِ إِلَيْهِ بِالنُّبُوَّةِ، وَمِنَ التَّمْكِينِ لَهُ بِبِلَادِ مِصْرَ وَالْحُكْمِ بِهَا، فَصَرَفَهُمُ اللَّهُ عَنْهُ بِمَقَالَةِ رُوبِيلَ فِيهِ وَإِشَارَتِهِ عَلَيْهِمْ بِأَنْ يُلْقُوهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ، وَهُوَ أَسْفَلَهُ.
قَالَ قَتَادَةُ: وَهِيَ بِئْرُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ.
﴿يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ﴾ أَيْ: الْمَارَّةُ مِنَ الْمُسَافِرِينَ، فَتَسْتَرِيحُوا بِهَذَا، وَلَا حَاجَةَ إِلَى قَتْلِهِ.
﴿إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ﴾ أَيْ: إِنْ كُنْتُمْ عَازِمِينَ عَلَى مَا تَقُولُونَ.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ: لَقَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى أمر عظيم، من قطيعة الرحم، وعقوق الْوَالِدِ، وَقِلَّةِ الرَّأْفَةِ بِالصَّغِيرِ الضَّرَع الَّذِي لَا ذَنْبَ لَهُ، وَبِالْكَبِيرِ الْفَانِي ذِي الْحَقِّ وَالْحُرْمَةِ وَالْفَضْلِ، وَخَطَرُهُ عِنْدَ اللَّهِ، مَعَ حَقِّ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ، لِيُفَرِّقُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِهِ [[في ت: "أبيه".]] وَحَبِيبِهِ، عَلَى كِبَرِ سِنِّهِ، ورِقَّة عَظْمِهِ، مَعَ مَكَانِهِ مِنَ اللَّهِ فِيمَنْ أَحَبَّهُ طِفْلًا صَغِيرًا، وَبَيْنَ أَبِيهِ عَلَى ضَعْفِ قُوَّتِهِ وَصِغَرِ سَنِّهِ، وَحَاجَتِهِ إِلَى لُطْفِ وَالِدِهِ وَسُكُونِهِ إِلَيْهِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَقَدِ احْتَمَلُوا أَمْرًا عَظِيمًا.
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طَرِيقِ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْهُ.
قَالَ قَآئِلٌۭ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ
Said a speaker among them, "Do not kill Joseph but throw him into the bottom of the well; some travelers will pick him up - if you would do [something]."
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)
یکی از آنها گفت: «یوسف را نکشید! و اگر میخواهید کاری انجام دهید، او را در نهانگاه چاه بیفکنید؛ تا بعضی از قافلهها او را برگیرند (و با خود به مکان دوری ببرند)!»
Tafsir Ibn Kathir
Verily, in Yusuf and his brethren there were Ayat for those who ask (7)When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we, while we are 'Usbah (a group). Really, our father is in a plain error. (8)"Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone, and after that you will be righteous folk. (9)One from among them said: "Kill not Yusuf, but if you must do something, throw him down to the bottom of a well; he will be picked up by some caravan of travelers. (10)
There are Lessons to draw from the Story of Yusuf
Allah says that there are Ayat, lessons and wisdom to learn from the story of Yusuf and his brothers, for those who ask about their story and seek its knowledge. Surely, their story is unique and is worthy of being narrated.
إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا
(When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we...") They swore, according to their false thoughts, that Yusuf and his brother Binyamin (Benjamin), Yusuf's full brother,
أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ
(dearer to our father than we, while we are 'Usbah.) meaning, a group. Therefore, they thought, how can he love these two more than the group,
إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(Really, our father is in a plain error.) because he preferred them and loved them more than us.
اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ
(Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone,) They said, 'Remove Yusuf, who competes with you for your father's love, from in front of your father's face so that his favor is yours alone. Either kill Yusuf or banish him to a distant land so that you are rid of his trouble and you alone enjoy the love of your father. '
وَتَكُونُوا مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ
(and after that you will be righteous folk.), thus intending repentance before committing the sin,
قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ
(One from among them said...) Qatadah and Muhammad bin Ishaq said that he was the oldest among them and his name was Rubil (Reuben). As-Suddi said that his name was Yahudha (Judah). Mujahid said that it was Sham'un (Simeon) who said,
لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ
(Kill not Yusuf,), do not let your enmity and hatred towards him reach this level, of murder.
However, their plot to kill Yusuf would not have succeeded, because Allah the Exalted willed that Yusuf fulfill a mission that must be fulfilled and complete; he would receive Allah's revelation and become His Prophet. Allah willed Yusuf to be a powerful man in Egypt and govern it. Consequently, Allah did not allow them to persist in their intent against Yusuf, through Rubil's words and his advice to them that if they must do something, they should throw him down to the bottom of a well,
يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ
(he will be picked up by some caravan) of travelers passing by. This way, he said, you will rid yourselves of this bother without having to kill him,
إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ
(if you must do something,) meaning, if you still insist on getting rid of him. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "They agreed to a particularly vicious crime that involved cutting the relation of the womb, undutiful treatment of parents, and harshness towards the young, helpless and sinless. It was also harsh towards the old and weak who have the rights of being respected, honored and appreciated, as well as, being honored with Allah and having parental rights on their offspring. They sought to separate the beloved father, who had reached old age and his bones became weak, yet had a high status with Allah, from his beloved young son, in spite of his weakness, tender age and his need of his father's compassion and kindness. May Allah forgive them, and indeed, He is the Most Merciful among those who have mercy, for they intended to carry out a "grave error." Ibn Abi Hatim collected this statement, from the route of Salamah bin Al-Fadl from Muhammad bin Ishaq.
Tafsir Ibn Kathir
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی (قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ01306) 2۔ البقرة :136) میں سے لفظ اسباط پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا جا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہوگئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا واللہ اعلم۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔ یا کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بےوجہ، بےقصور صرف عداوت میں آکر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ قتادہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم ؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو ؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضلیت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بےزبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: لَقَدْ كَانَ فِي قِصَّةِ يُوسُفَ وَخَبَرِهِ مَعَ إِخْوَتِهِ آيَاتٌ، أَيْ عبرةٌ ومواعظُ لِلسَّائِلِينَ عَنْ ذَلِكَ، الْمُسْتَخْبِرِينَ عَنْهُ، فَإِنَّهُ خَبَرٌ عَجِيبٌ، يَسْتَحِقُّ أَنْ يُسْتَخْبَرَ عَنْهُ، ﴿إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا﴾ أَيْ: حَلَفُوا فِيمَا يَظُنُّونَ: وَاللَّهِ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ -يَعْنُونُ بِنْيَامِينَ، وَكَانَ شَقِيقَهُ لِأُمِّهِ - ﴿أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ﴾ أَيْ: جَمَاعَةٌ، فَكَيْفَ أَحَبَّ ذَيْنِكَ الِاثْنَيْنِ أَكْثَرَ مِنَ الْجَمَاعَةِ؛ ﴿إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ يَعْنُونَ فِي تَقْدِيمِهِمَا عَلَيْنَا، وَمَحَبَّتِهِ إِيَّاهُمَا أَكْثَرَ مِنَّا.
وَاعْلَمْ أَنَّهُ لَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى نُبُوَّةِ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَظَاهِرُ هَذَا السِّيَاقِ يَدُلُّ عَلَى خِلَافِ ذَلِكَ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَزْعُمُ أَنَّهُمْ أُوحِيَ إِلَيْهِمْ بَعْدَ ذَلِكَ، وَفِي هَذَا نَظَرٌ. وَيَحْتَاجُ مُدّعي ذَلِكَ إِلَى دَلِيلٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا سوَى قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ﴾ [الْبَقَرَةِ: ١٣٦] ، وَهَذَا فِيهِ احْتِمَالٌ؛ لِأَنَّ بُطُونَ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالُ لَهُمُ: الْأَسْبَاطُ، كَمَا يُقَالُ لِلْعَرَبِ: قَبَائِلُ، وَلِلْعَجَمِ: شُعُوبٌ؛ يَذْكُرُ تَعَالَى أَنَّهُ أَوْحَى إِلَى الْأَنْبِيَاءِ مِنْ أَسْبَاطِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَذَكَرَهُمْ إِجْمَالًا لِأَنَّهُمْ كَثِيرُونَ، وَلَكِنَّ كُلَّ سِبْطٍ مِنْ نَسْلِ رَجُلٍ مِنْ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَلَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى أَعْيَانِ هَؤُلَاءِ أَنَّهُمْ أُوحِيَ إِلَيْهِمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
﴿اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ﴾ يَقُولُونَ: هَذَا الَّذِي يُزَاحِمُكُمْ فِي مَحَبَّةِ أَبِيكُمْ لَكُمْ، أَعْدِمُوهُ مِنْ وَجْهِ أَبِيكُمْ، لِيَخْلُوَ لَكُمْ وَحْدَكُمْ، إِمَّا بِأَنْ تَقْتُلُوهُ، أَوْ تُلْقُوهُ فِي أَرْضٍ مِنَ الْأَرَاضِي -تَسْتَرِيحُوا مِنْهُ، وَتَخْتَلُوا أَنْتُمْ بِأَبِيكُمْ، وَتَكُونُوا مِنْ [[في أ: "وتكونوا من بعده، أي من بعد".]] بَعْدِ إِعْدَامِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ. فَأَضْمَرُوا التَّوْبَةَ قَبْلَ الذَّنْبِ.
﴿قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ﴾ قَالَ قَتَادَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: كَانَ أَكْبَرَهُمْ وَاسْمُهُ رُوبِيلُ. وَقَالَ السُّدِّيُّ: الَّذِي قَالَ ذَلِكَ يَهُوذَا. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: هُوَ شَمْعُونُ ﴿لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ﴾ أَيْ: لَا تَصِلوا [[في أ: "لا تغلوا".]] فِي عَدَاوَتِهِ وَبُغْضِهِ إِلَى قَتْلِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ [[في ت: "له".]] سبيلٌ إِلَى قَتْلِهِ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَانَ يُرِيدُ مِنْهُ أَمْرًا لَا بُدَّ مِنْ إِمْضَائِهِ وَإِتْمَامِهِ، مِنَ الْإِيحَاءِ إِلَيْهِ بِالنُّبُوَّةِ، وَمِنَ التَّمْكِينِ لَهُ بِبِلَادِ مِصْرَ وَالْحُكْمِ بِهَا، فَصَرَفَهُمُ اللَّهُ عَنْهُ بِمَقَالَةِ رُوبِيلَ فِيهِ وَإِشَارَتِهِ عَلَيْهِمْ بِأَنْ يُلْقُوهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ، وَهُوَ أَسْفَلَهُ.
قَالَ قَتَادَةُ: وَهِيَ بِئْرُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ.
﴿يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ﴾ أَيْ: الْمَارَّةُ مِنَ الْمُسَافِرِينَ، فَتَسْتَرِيحُوا بِهَذَا، وَلَا حَاجَةَ إِلَى قَتْلِهِ.
﴿إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ﴾ أَيْ: إِنْ كُنْتُمْ عَازِمِينَ عَلَى مَا تَقُولُونَ.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ: لَقَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى أمر عظيم، من قطيعة الرحم، وعقوق الْوَالِدِ، وَقِلَّةِ الرَّأْفَةِ بِالصَّغِيرِ الضَّرَع الَّذِي لَا ذَنْبَ لَهُ، وَبِالْكَبِيرِ الْفَانِي ذِي الْحَقِّ وَالْحُرْمَةِ وَالْفَضْلِ، وَخَطَرُهُ عِنْدَ اللَّهِ، مَعَ حَقِّ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ، لِيُفَرِّقُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِهِ [[في ت: "أبيه".]] وَحَبِيبِهِ، عَلَى كِبَرِ سِنِّهِ، ورِقَّة عَظْمِهِ، مَعَ مَكَانِهِ مِنَ اللَّهِ فِيمَنْ أَحَبَّهُ طِفْلًا صَغِيرًا، وَبَيْنَ أَبِيهِ عَلَى ضَعْفِ قُوَّتِهِ وَصِغَرِ سَنِّهِ، وَحَاجَتِهِ إِلَى لُطْفِ وَالِدِهِ وَسُكُونِهِ إِلَيْهِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَقَدِ احْتَمَلُوا أَمْرًا عَظِيمًا.
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ مِنْ طَرِيقِ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْهُ.
قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٰصِحُونَ
They said, "O our father, why do you not entrust us with Joseph while indeed, we are to him sincere counselors?
(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں
(و برای انجام این کار، برادران نزد پدر آمدند و) گفتند: «پدرجان! چرا تو درباره (برادرمان) یوسف، به ما اطمینان نمیکنی؟! در حالی که ما خیرخواه او هستیم!
Tafsir Ibn Kathir
They said: "O our father! Why do you not trust us with Yusuf though we are indeed his well-wishers? (11)"Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and verily, we will take care of him. (12)
Yusuf's Brothers ask for Their Father's Permission to take Yusuf with Them
When Yusuf's brothers agreed to take him and throw him down the well, taking the advice of their elder brother Rubil, they went to their father Ya'qub, peace be upon him. They said to him, "Why is it that you,
لَا تَأْمَنَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَاصِحُونَ
(do not trust us with Yusuf though we are indeed his well-wishers?)." They started executing their plan by this introductory statement, even though they really intended its opposite, out of envy towards Yusuf for being loved by his father. They said,
أَرْسِلْهُ مَعَنَا
"(Send him with us) tomorrow so that we all enjoy ourselves and play." Qatadah, Ad-Dahhak and As-Suddi said similarly. Yusuf's brothers said next,
وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
(and verily, we will take care of him.), we will protect him and ensure his safety for you.
Tafsir Ibn Kathir
بڑے بھائی کی رائے پر اتفاق بڑے بھائی روبیل کے سمجھانے پر سب بھائیوں نے اس رائے پر اتفاق کرلیا کہ یوسف کو لے جائیں اور کسی غیر آباد کنویں میں ڈال آئیں۔ یہ طے کرنے کے بعد باپ کو دھوکہ دینے اور بھائی کو پھسلا کرلے جانے اور اس پر آفت ڈھانے کے لیے سب مل کر باپ کے پاس آئے۔ باوجود یکہ تھے بد اندیش بد خواہ برا چاہنے والے لیکن باپ کو اپنی باتوں میں پھنسانے کے لیے اور اپنی گہری سازش میں انہیں الجھانے کے لیے پہلے ہی جال بچھاتے ہیں کہ ابا جی آخر کیا بات ہے جو آپ ہمیں یوسف کے بارے میں امین نہیں جانتے ؟ ہم تو اس کے بھائی ہیں اس کی خیر خواہیاں ہم سے زیادہ کون کرسکتا ہے۔ ؟ (يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ 12 ) 12۔ یوسف :12) کی دوسری قرآت (آیت ترتع و نلعب) بھی ہے۔ باپ سے کہتے ہیں کہ بھائی یوسف کو کل ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے۔ ان کا جی خوش ہوگا، دو گھڑی کھیل کود لیں گے، ہنس بول لیں گے، آزادی سے چل پھر لیں گے۔ آپ بےفکر رہیے ہم سب اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ ہر وقت دیکھ بھال رکھیں گے۔ آپ ہم پر اعتماد کیجئے ہم اس کے نگہبان ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا تُوَاطَئُوا عَلَى أَخْذِهِ وطَرْحه فِي الْبِئْرِ، كَمَا أَشَارَ عَلَيْهِمْ أَخُوهُمُ الْكَبِيرُ رُوبيل، جَاءُوا أَبَاهُمْ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالُوا: ﴿يَا أَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَنَّا عَلَى يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَاصِحُونَ﴾ وَهَذِهِ تَوْطِئَةٌ وَسَلَفٌ وَدَعْوَى، وَهُمْ يُرِيدُونَ خِلَافَ ذَلِكَ؛ لِمَا لَهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْحَسَدِ لِحُبِّ أَبِيهِ لَهُ، ﴿أَرْسِلْهُ مَعَنَا﴾ أَيِ: ابْعَثْهُ مَعَنَا، ﴿غَدًا نَرْتَعْ وَنَلْعَبْ﴾ وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ بِالْيَاءِ ﴿يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَسْعَى وَيَنْشَطُ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ والُّسدِّي، وَغَيْرُهُمْ.
﴿وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ يَقُولُونَ: وَنَحْنُ نَحْفَظُهُ وَنَحُوطُهُ مِنْ أَجْلِكَ.
أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًۭا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ
Send him with us tomorrow that he may eat well and play. And indeed, we will be his guardians.
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں
فردا او را با ما (به خارج شهر) بفرست، تا غذای کافی بخورد و تفریح کند؛ و ما نگهبان او هستیم!»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "O our father! Why do you not trust us with Yusuf though we are indeed his well-wishers? (11)"Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and verily, we will take care of him. (12)
Yusuf's Brothers ask for Their Father's Permission to take Yusuf with Them
When Yusuf's brothers agreed to take him and throw him down the well, taking the advice of their elder brother Rubil, they went to their father Ya'qub, peace be upon him. They said to him, "Why is it that you,
لَا تَأْمَنَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَاصِحُونَ
(do not trust us with Yusuf though we are indeed his well-wishers?)." They started executing their plan by this introductory statement, even though they really intended its opposite, out of envy towards Yusuf for being loved by his father. They said,
أَرْسِلْهُ مَعَنَا
"(Send him with us) tomorrow so that we all enjoy ourselves and play." Qatadah, Ad-Dahhak and As-Suddi said similarly. Yusuf's brothers said next,
وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
(and verily, we will take care of him.), we will protect him and ensure his safety for you.
Tafsir Ibn Kathir
بڑے بھائی کی رائے پر اتفاق بڑے بھائی روبیل کے سمجھانے پر سب بھائیوں نے اس رائے پر اتفاق کرلیا کہ یوسف کو لے جائیں اور کسی غیر آباد کنویں میں ڈال آئیں۔ یہ طے کرنے کے بعد باپ کو دھوکہ دینے اور بھائی کو پھسلا کرلے جانے اور اس پر آفت ڈھانے کے لیے سب مل کر باپ کے پاس آئے۔ باوجود یکہ تھے بد اندیش بد خواہ برا چاہنے والے لیکن باپ کو اپنی باتوں میں پھنسانے کے لیے اور اپنی گہری سازش میں انہیں الجھانے کے لیے پہلے ہی جال بچھاتے ہیں کہ ابا جی آخر کیا بات ہے جو آپ ہمیں یوسف کے بارے میں امین نہیں جانتے ؟ ہم تو اس کے بھائی ہیں اس کی خیر خواہیاں ہم سے زیادہ کون کرسکتا ہے۔ ؟ (يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ 12 ) 12۔ یوسف :12) کی دوسری قرآت (آیت ترتع و نلعب) بھی ہے۔ باپ سے کہتے ہیں کہ بھائی یوسف کو کل ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے۔ ان کا جی خوش ہوگا، دو گھڑی کھیل کود لیں گے، ہنس بول لیں گے، آزادی سے چل پھر لیں گے۔ آپ بےفکر رہیے ہم سب اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ ہر وقت دیکھ بھال رکھیں گے۔ آپ ہم پر اعتماد کیجئے ہم اس کے نگہبان ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا تُوَاطَئُوا عَلَى أَخْذِهِ وطَرْحه فِي الْبِئْرِ، كَمَا أَشَارَ عَلَيْهِمْ أَخُوهُمُ الْكَبِيرُ رُوبيل، جَاءُوا أَبَاهُمْ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالُوا: ﴿يَا أَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَنَّا عَلَى يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَاصِحُونَ﴾ وَهَذِهِ تَوْطِئَةٌ وَسَلَفٌ وَدَعْوَى، وَهُمْ يُرِيدُونَ خِلَافَ ذَلِكَ؛ لِمَا لَهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْحَسَدِ لِحُبِّ أَبِيهِ لَهُ، ﴿أَرْسِلْهُ مَعَنَا﴾ أَيِ: ابْعَثْهُ مَعَنَا، ﴿غَدًا نَرْتَعْ وَنَلْعَبْ﴾ وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ بِالْيَاءِ ﴿يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَسْعَى وَيَنْشَطُ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ والُّسدِّي، وَغَيْرُهُمْ.
﴿وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ يَقُولُونَ: وَنَحْنُ نَحْفَظُهُ وَنَحُوطُهُ مِنْ أَجْلِكَ.
قَالَ إِنِّى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَٰفِلُونَ
[Jacob] said, "Indeed, it saddens me that you should take him, and I fear that a wolf would eat him while you are of him unaware."
انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے
(پدر) گفت: «من از بردن او غمگین میشوم؛ و از این میترسم که گرگ او را بخورد، و شما از او غافل باشید!»
Tafsir Ibn Kathir
He (Ya'qub) said: "Truly, it saddens me that you should take him away. I fear lest a wolf should devour him, while you are careless of him. (13)They said: "If a wolf devours him, while we are 'Usbah (a group), then surely, we are the losers. (14)
Ya'qub's Answer to Their Request
Allah narrates to us that His Prophet Ya'qub said to his children, in response to their request that he send Yusuf with them to the desert to tend their cattle,
إِنِّي لَيَحْزُنُنِي أَن تَذْهَبُوا بِهِ
(Truly, it saddens me that you should take him away.) He said that it was hard on him that he be separated from Yusuf for the duration of their trip, until they came back. This demonstrates the deep love that Ya'qub had for his son, because he saw in Yusuf great goodness and exalted qualities with regards to conduct and physical attractiveness associated with the rank of prophethood. May Allah's peace and blessings be on him. Prophet Ya'qub's statement next,
وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ
(I fear lest a wolf should devour him, while you are careless of him.) He said to them, 'I fear that you might be careless with him while you are tending the cattle and shooting, then a wolf might come and eat him while you are unaware.' They heard these words from his mouth and used them in their response for what they did afterwards. They also gave a spontaneous reply for their father's statement, saying,
لَئِنْ أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَّخَاسِرُونَ
(If a wolf devours him, while we are an 'Usbah, then surely, we are the losers.) They said, 'If a wolf should attack and devour him while we are all around him in a strong group, then indeed we are the losers and weak.'
Tafsir Ibn Kathir
انجانے خطرے کا اظہار نبی اللہ حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف کو ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاؤ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔ حضرت یعقوب کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ حضرت یوسف کے چہرے پر خیر کے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی، سیرت کی اچھائی کا بیان تھی، اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوۃ وسلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے تم اپنی بکریوں کے چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہو اور اللہ نہ کرے کوئی بھیڑیا آکر اس کا کام تمام کر جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ آہ حضرت یعقوب ؑ کی اسی بات کو انہوں نے لے لیا اور دماغ میں بسا لیا کہ یہی ٹھیک عذر ہے، یوسف کو الگ کر کے ابا کے سامنے یہی من گھڑت گھڑ دیں گے۔ اسی وقت بات بنائی اور جواب دیا کہ ابا آپ نے کیا خوب سوچا۔ ہماری جماعت کی جماعت قوی اور طاقتور موجود ہو اور ہمارے بھائی کو بھیڑیا کھاجائے ؟ بالکل ناممکن ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر تو ہم سب بیکار نکمے عاجز نقصان والے ہی ہوئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ نَبِيِّهِ [[في ت، أ: "عن نبي الله".]] يَعْقُوبَ أَنَّهُ قَالَ لِبَنِيهِ فِي جَوَابِ مَا سَأَلُوا مِنْ إِرْسَالِ يُوسُفَ مَعَهُمْ إِلَى الرَّعْيِ فِي الصَّحْرَاءِ: ﴿إِنِّي لَيَحْزُنُنِي أَنْ تَذْهَبُوا بِهِ﴾ أَيْ: يَشُقُّ عَلَيَّ مفارقتُهُ مُدَّةَ ذَهَابِكُمْ بِهِ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ، وَذَلِكَ لفَرْط مَحَبَّتِهِ لَهُ، لِمَا يَتَوَسَّمُ فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ الْعَظِيمِ، وَشَمَائِلِ النُّبُوَّةِ وَالْكَمَالِ فِي الخُلُق وَالْخَلْقِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنْتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ﴾ يَقُولُ: وَأَخْشَى أَنْ تَشْتَغِلُوا عَنْهُ بِرَمْيِكُمْ ورَعْيتكم [[في ت: "ورعيكم".]] فَيَأْتِيهِ ذِئْبٌ فَيَأْكُلُهُ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ، فَأَخَذُوا مِنْ فَمِهِ هَذِهِ الْكَلِمَةَ، وَجَعَلُوهَا عُذْرَهُمْ فِيمَا فَعَلُوهُ، وَقَالُوا مُجِيبِينَ عَنْهَا فِي السَّاعَةِ الرَّاهِنَةِ: ﴿لَئِنْ أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَخَاسِرُونَ﴾ يَقُولُونَ: لَئِنْ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَكَلَهُ مِنْ بَيْنِنَا، وَنَحْنُ جَمَاعَةٌ، إِنَّا إذًا لهالكون عاجزون.
قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًۭا لَّخَٰسِرُونَ
They said, "If a wolf should eat him while we are a [strong] clan, indeed, we would then be losers."
وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے
گفتند: «با اینکه ما گروه نیرومندی هستیم، اگر گرگ او را بخورد، ما از زیانکاران خواهیم بود (و هرگز چنین چیزی) ممکن نیست!)»
Tafsir Ibn Kathir
He (Ya'qub) said: "Truly, it saddens me that you should take him away. I fear lest a wolf should devour him, while you are careless of him. (13)They said: "If a wolf devours him, while we are 'Usbah (a group), then surely, we are the losers. (14)
Ya'qub's Answer to Their Request
Allah narrates to us that His Prophet Ya'qub said to his children, in response to their request that he send Yusuf with them to the desert to tend their cattle,
إِنِّي لَيَحْزُنُنِي أَن تَذْهَبُوا بِهِ
(Truly, it saddens me that you should take him away.) He said that it was hard on him that he be separated from Yusuf for the duration of their trip, until they came back. This demonstrates the deep love that Ya'qub had for his son, because he saw in Yusuf great goodness and exalted qualities with regards to conduct and physical attractiveness associated with the rank of prophethood. May Allah's peace and blessings be on him. Prophet Ya'qub's statement next,
وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ
(I fear lest a wolf should devour him, while you are careless of him.) He said to them, 'I fear that you might be careless with him while you are tending the cattle and shooting, then a wolf might come and eat him while you are unaware.' They heard these words from his mouth and used them in their response for what they did afterwards. They also gave a spontaneous reply for their father's statement, saying,
لَئِنْ أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَّخَاسِرُونَ
(If a wolf devours him, while we are an 'Usbah, then surely, we are the losers.) They said, 'If a wolf should attack and devour him while we are all around him in a strong group, then indeed we are the losers and weak.'
Tafsir Ibn Kathir
انجانے خطرے کا اظہار نبی اللہ حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف کو ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاؤ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔ حضرت یعقوب کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ حضرت یوسف کے چہرے پر خیر کے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی، سیرت کی اچھائی کا بیان تھی، اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوۃ وسلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے تم اپنی بکریوں کے چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہو اور اللہ نہ کرے کوئی بھیڑیا آکر اس کا کام تمام کر جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ آہ حضرت یعقوب ؑ کی اسی بات کو انہوں نے لے لیا اور دماغ میں بسا لیا کہ یہی ٹھیک عذر ہے، یوسف کو الگ کر کے ابا کے سامنے یہی من گھڑت گھڑ دیں گے۔ اسی وقت بات بنائی اور جواب دیا کہ ابا آپ نے کیا خوب سوچا۔ ہماری جماعت کی جماعت قوی اور طاقتور موجود ہو اور ہمارے بھائی کو بھیڑیا کھاجائے ؟ بالکل ناممکن ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر تو ہم سب بیکار نکمے عاجز نقصان والے ہی ہوئے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ نَبِيِّهِ [[في ت، أ: "عن نبي الله".]] يَعْقُوبَ أَنَّهُ قَالَ لِبَنِيهِ فِي جَوَابِ مَا سَأَلُوا مِنْ إِرْسَالِ يُوسُفَ مَعَهُمْ إِلَى الرَّعْيِ فِي الصَّحْرَاءِ: ﴿إِنِّي لَيَحْزُنُنِي أَنْ تَذْهَبُوا بِهِ﴾ أَيْ: يَشُقُّ عَلَيَّ مفارقتُهُ مُدَّةَ ذَهَابِكُمْ بِهِ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ، وَذَلِكَ لفَرْط مَحَبَّتِهِ لَهُ، لِمَا يَتَوَسَّمُ فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ الْعَظِيمِ، وَشَمَائِلِ النُّبُوَّةِ وَالْكَمَالِ فِي الخُلُق وَالْخَلْقِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنْتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ﴾ يَقُولُ: وَأَخْشَى أَنْ تَشْتَغِلُوا عَنْهُ بِرَمْيِكُمْ ورَعْيتكم [[في ت: "ورعيكم".]] فَيَأْتِيهِ ذِئْبٌ فَيَأْكُلُهُ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ، فَأَخَذُوا مِنْ فَمِهِ هَذِهِ الْكَلِمَةَ، وَجَعَلُوهَا عُذْرَهُمْ فِيمَا فَعَلُوهُ، وَقَالُوا مُجِيبِينَ عَنْهَا فِي السَّاعَةِ الرَّاهِنَةِ: ﴿لَئِنْ أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَخَاسِرُونَ﴾ يَقُولُونَ: لَئِنْ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَكَلَهُ مِنْ بَيْنِنَا، وَنَحْنُ جَمَاعَةٌ، إِنَّا إذًا لهالكون عاجزون.
فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
So when they took him [out] and agreed to put him into the bottom of the well... But We inspired to him, "You will surely inform them [someday] about this affair of theirs while they do not perceive [your identity]."
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی
هنگامی که او را با خود بردند، و تصمیم گرفتند وی را در مخفیگاه چاه قرار دهند، (سرانجام مقصد خود را عملی ساختند؛) و به او وحی فرستادیم که آنها را در آینده از این کارشان با خبر خواهی ساخت؛ در حالی که آنها نمیدانند!
Tafsir Ibn Kathir
So, when they took him away, they all agreed to throw him down to the bottom of the well, and We revealed to him: "Indeed, you shall (one day) inform them of this their affair, when they know (you) not. (15)
Yusuf is thrown in a Well
Allah says that when Yusuf's brothers took him from his father, after they requested him to permit that,
وَأَجْمَعُوا أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ
(they all agreed to throw him down to the bottom of the well,) This part of the Ayah magnifies their crime, in that it mentions that they all agreed to throw him to the bottom of the well. This was their intent, yet when they took him from his father, they pretended otherwise, so that his father sends him with a good heart and feeling at ease and comfortable with his decision. It was reported that Ya'qub, peace be upon him, embraced Yusuf, kissed him and supplicated to Allah for him when he sent him with his brothers. As-Suddi said that the time spent between pretending to be well-wishers and harming Yusuf was no longer than their straying far from their father's eyes. They then started abusing Yusuf verbally, by cursing, and harming him by beating. When they reached the well that they agreed to throw him in, they tied him with rope and lowered him down. When Yusuf would beg one of them, he would smack and curse him. When he tried to hold to the sides of the well, they struck his hand and then cut the rope when he was only half the distance from the bottom of the well. He fell into the water and was submerged. However, he was able to ascend a stone that was in the well and stood on it. Allah said next,
وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(and We revealed to him: "Indeed, you shall (one day) inform them of this their affair, when they know (you) not.") In this Ayah, Allah mentions His mercy and compassion and His compensation and relief that He sends in times of distress. Allah revealed to Yusuf, during that distressful time, in order to comfort his heart and strengthen his resolve, 'Do not be saddened by what you have suffered. Surely, you will have a way out of this distress and a good end, for Allah will aid you against them, elevate your rank and raise your grade. Later on, you will remind them of what they did to you,'
وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
(when they know not.) "Ibn 'Abbas commented on this Ayah, "You will remind them of this evil action against you, while they are unaware of your identity and unable to recognize you."
Tafsir Ibn Kathir
بھائی اپنے منصوبہ میں کامیاب ہوگئے۔ سمجھا بجھا کر بھائیوں نے باپ کو راضی کر ہی لیا۔ اور حضرت یوسف کو لے کر چلے جنگل میں جا کر سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوسف کو کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں ڈال دیں۔ حالانکہ باپ سے یہ کہہ کرلے گئے تھے کہ اس کا جی بہلے گا، ہم اسے عزت کے ساتھ لے جائیں گے۔ ہر طرح خوش رکھیں گے۔ اس کا جی بہل جائے گا اور یہ راضی خوشی رہے گا۔ یہاں آتے ہی غداری شروع کردی اور لطف یہ ہے کہ سب نے ایک ساتھ دل سخت کرلیا۔ باپ نے ان کی باتوں میں آکر اپنے لخت جگر کو ان کے سپرد کردیا۔ جاتے ہوئے سینے سے لگا کر پیار پچکار کر دعائیں دے کر رخصت کیا۔ باپ کی آنکھوں سے ہٹتے ہی ان سب نے بھائی کو ایذائیں دینی شروع کردیں برا بھلا کہنے لگے اور چانٹا چٹول سے بھی باز نہ رہے۔ مارتے پیٹتے برا بھلا کہتے، اس کنویں کے پاس پہنچے اور ہاتھ پاؤں رسی سے جکڑ کر کنویں میں گرانا چاہا۔ آپ ایک ایک کے دامن سے چمٹتے ہیں اور ایک ایک سے رحم کی درخواست کرتے ہیں لیکن ہر ایک جھڑک دیتا ہے اور دھکا دے کر مار پیٹ کر ہٹا دیتا ہے مایوس ہوگئے سب نے مل کر مضبوط باندھا اور کنویں میں لٹکا دیا آپ نے کنویں کا کنارا ہاتھ سے تھام لیا لیکن بھائیوں نے انگلویوں پر مار مار کر اسے بھی ہاتھ سے چھڑا لیا۔ آدھی دور آپ پہنچے ہوں گے کہ انہوں نے رسی کاٹ دی۔ آپ تہ میں جا گرے، کنویں کے درمیان ایک پتھر تھا جس پر آکر کھڑے ہوگئے۔ عین اس مصیبت کے وقت عین اس سختی اور تنگی کے وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کی جانب وحی کی کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے آپ صبر و برداشت سے کام لیں اور انجام کا آپ کو علم ہوجائے۔ وحی میں فرمایا گا کہ غمگین نہ ہو یہ نہ سمجھ کہ یہ مصیبت دور نہ ہوگی۔ سن اللہ تعالیٰ تجھے اس سختی کے بعد آسانی دے گا۔ اس تکلیف کے بعد راحت ملے گی۔ ان بھائیوں پر اللہ تجھے غلبہ دے گا۔ یہ گو تجھے پست کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ کی چاہت ہے کہ وہ تجھے بلند کرے۔ یہ جو کچھ آج تیرے ساتھ کر رہے ہیں وقت آئے گا کہ تو انہیں ان کے اس کرتوت کو یاد دلائے گا اور یہ ندامت سے سر جھکائے ہوئے ہوں گے اپنے قصور سن رہے ہوں گے۔ اور انہیں یہ بھی معلوم نہ ہوگا کہ تو وہ ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب برادران یوسف حضرت یوسف ؑ کے پاس پہنچے تو آپ نے تو انہیں پہچان لیا لیکن یہ نہ پہچان سکے۔ اس وقت آپ نے ایک پیالہ منگوایا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر اسے انگلی سے ٹھونکا۔ آواز نکلی ہی تھی اس وقت آپ نے فرمایا لو یہ جام تو کچھ کہہ رہا ہے اور تمہارے متعلق ہی کچھ خبر دے رہا ہے۔ یہ کہہ رہا ہے تہارا ایک یوسف نامی سوتیلا بھائی تھا۔ تم اسے باپ کے پاس سے لے گئے اور اسے کنویں میں پھینک دیا۔ پھر اسے انگلی ماری اور ذرا سی دیر کان لگا کر فرمایا لو یہ کہہ رہا ہے کہ پھر تم اس کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر باپ کے پاس گئے اور وہاں جاکر ان سے کہہ دیا کہ تیرے لڑکے کو بھیڑیئے نے کھالیا۔ اب تو یہ حیران ہوگئے آپس میں کہنے لگے ہائے برا ہوا بھانڈا پھوٹ گیا اس جام نے تو تمام سچی سچی باتیں بادشاہ سے کہہ دیں۔ پس یہی ہے جو آپ کو کنویں میں وحی ہوئی کہ ان کے اس کے کرتوت کو تو انہیں ان کے بےشعوری میں جتائے گا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: فَلَمَّا ذَهَبَ [[في ت، أ: "ذهب".]] بِهِ إِخْوَتُهُ مِنْ عِنْدِ أَبِيهِ بَعْدَ مُرَاجَعَتِهِمْ لَهُ فِي ذَلِكَ، ﴿وَأَجْمَعُوا أَنْ يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ﴾ هَذَا فِيهِ تَعْظِيمٌ لِمَا فَعَلُوهُ أَنَّهُمُ اتَّفَقُوا كُلُّهُمْ عَلَى إِلْقَائِهِ فِي أَسْفَلِ ذَلِكَ الْجُبِّ، وَقَدْ أَخَذُوهُ مِنْ عِنْدِ أَبِيهِ فِيمَا يُظهرونه لَهُ إِكْرَامًا لَهُ، وَبَسْطًا وَشَرْحًا لِصَدْرِهِ، وَإِدْخَالًا لِلسُّرُورِ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ: إِنَّ يَعْقُوبَ [[في ت، أ: "يوسف".]] عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا بَعَثَهُ مَعَهُمْ ضَمَّهُ إِلَيْهِ، وقَبَّله وَدَعَا لَهُ.
وَقَالَ [[في ت: "فذكر".]] السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ إِكْرَامِهِمْ لَهُ وَبَيْنَ إِظْهَارِ الْأَذَى لَهُ، إِلَّا أَنْ غَابُوا عَنْ عَيْنِ أَبِيهِ وَتَوَارَوْا عَنْهُ، ثُمَّ شَرَعُوا يُؤْذُونَهُ بِالْقَوْلِ، مِنْ شَتْمٍ وَنَحْوِهُ، وَالْفِعْلِ مِنْ ضَرْب وَنَحْوِهُ، ثُمَّ جَاءُوا بِهِ إِلَى ذَلِكَ الْجُبِّ الَّذِي اتَّفَقُوا عَلَى رَمْيِهِ فِيهِ فَرَبَطُوهُ بِحَبْلٍ وَدَلُّوهُ فِيهِ، فَجَعَلَ إِذَا لَجَأَ إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ لَطَمَهُ وشَتمه، وَإِذَا تَشَبَّثَ بِحَافَاتِ الْبِئْرِ ضَرَبُوا عَلَى يَدَيْهِ، ثُمَّ قَطَعُوا بِهِ الْحَبْلَ مِنْ نِصْفِ الْمَسَافَةِ، فَسَقَطَ فِي الْمَاءِ فَغَمَرَهُ، فَصَعِدَ إِلَى صَخْرَةٍ تَكُونُ فِي وَسَطِهِ، يُقَالُ لَهَا: "الرَّاغُوفَةُ" [[في أ: "الراغوف".]] فَقَامَ فَوْقَهَا.
قال الله تعال: ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِأَمْرِهِمْ هَذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ يَقُولُ تَعَالَى ذَاكِرًا لُطْفَهُ وَرَحْمَتَهُ وَعَائِدَتَهُ [[في ت: "وعائد به".]] وَإِنْزَالَهُ الْيُسْرَ فِي حَالِ الْعُسْرِ: إِنَّهُ أَوْحَى إِلَى يُوسُفَ فِي ذَلِكَ الْحَالِ الضَّيِّقِ، تَطْيِيبًا لِقَلْبِهِ، وَتَثْبِيتًا لَهُ: إِنَّكَ لَا تَحْزَنْ مِمَّا [[في ت، أ: "فيما".]] أَنْتَ فِيهِ، فَإِنَّ لَكَ مِنْ ذَلِكَ فَرَجًا وَمُخْرَجًا حَسَنًا، وَسَيَنْصُرُكَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، وَيُعْلِيكَ وَيَرْفَعُ دَرَجَتَكَ، وَسَتُخْبِرُهُمْ [[في ت، أ: "وسيجزيهم".]] بِمَا فَعَلُوا مَعَكَ مِنْ هَذَا الصَّنِيعِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ -قَالَ [مُجَاهِدٌ و] [[زيادة من ت.]] قَتَادَةُ: ﴿وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ بِإِيحَاءِ اللَّهِ إِلَيْهِ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَتُنْبِئُهُمْ بِصَنِيعِهِمْ هَذَا فِي حَقِّكَ، وَهُمْ لَا يَعْرِفُونَكَ، وَلَا يَسْتَشْعِرُونَ بِكَ، كَمَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ:
حَدَّثَنِي الْحَارِثُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ عُبادة الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَمَّا دَخَلَ إِخْوَةُ يُوسُفَ عَلَى يُوسُفَ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ، قَالَ: جِيءَ بِالصُّوَاعِ، فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، ثُمَّ نَقَرَهُ فَطَنَّ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيُخْبِرُنِي هَذَا الْجَامُ: أَنَّهُ كَانَ لَكُمْ أَخٌ مِنْ أَبِيكُمْ يُقَالُ لَهُ "يُوسُفُ"، يُدْنِيهِ دُونَكُمْ، وَأَنَّكُمُ انْطَلَقْتُمْ بِهِ فَأَلْقَيْتُمُوهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ -قَالَ: ثُمَّ نَقَرَهُ فَطَنَّ -فَأَتَيْتُمْ أَبَاكُمْ فَقُلْتُمْ: إِنَّ الذِّئْبَ أَكَلَهُ، وَجِئْتُمْ عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذب -قَالَ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّ هَذَا الْجَامَ لَيُخْبِرُهُ بِخَبَرِكُمْ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَا نَرَى [[في ت: "فلا يرى"، وفي أ: "فلا نرى".]] هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ إِلَّا فِيهِمْ: ﴿لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِأَمْرِهِمْ هَذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ [[تفسير الطبري (١٥/٥٧٦) .]] .
وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءًۭ يَبْكُونَ
And they came to their father at night, weeping.
(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
(برادران یوسف) شب هنگام، گریان به سراغ پدر آمدند.
Tafsir Ibn Kathir
And they came to their father in the early part of the night weeping (16)They said: "O our father! We went racing with one another, and left Yusuf by our belongings and a wolf devoured him; but you will never believe us even when we speak the truth. (17)And they brought his shirt stained with false blood. He said: "Nay, but your own selves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. And it is Allah (Alone) Whose help can be sought against that (lie) which you describe. (18)
Yusuf's Brothers try to deceive Their Father
Allah narrates to us the deceit that Yusuf's brothers resorted to, after they threw him to the bottom of the well. They went back to their father, during the darkness of the night, crying and showing sorrow and grief for losing Yusuf. They started giving excuses to their father for what happened to Yusuf, falsely claiming that,
إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ
(We went racing with one another), or had a shooting competition,
وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَاعِنَا
(and left Yusuf by our belongings), guarding our clothes and luggage,
فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ
(and a wolf devoured him), which is exactly what their father told them he feared for Yusuf and warned against. They said next,
وَمَا أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ
(but you will never believe us even when we speak the truth.) They tried to lessen the impact of the grave news they were delivering. They said, 'We know that you will not believe this news, even if you consider us truthful. So what about when you suspect that we are not truthful, especially since you feared that the wolf might devour Yusuf and that is what happened?' Therefore, they said, 'You have reason not to believe us because of the strange coincidence and the amazing occurrence that happened to us.'
وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ
(And they brought his shirt stained with false blood.) on it, to help prove plot that they all agreed on. They slaughtered a sheep, according to Mujahid, As-Suddi and several other scholars, and stained Yusuf's shirt with its blood. They claimed that this was the shirt Yusuf was wearing when the wolf devoured him, being stained with his blood. But, they forgot to tear the shirt, and this is why Allah's Prophet Ya'qub did not believe them. Rather, he told them what he felt about what they said to him, thus refusing their false claim,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your ownselves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting.) Ya'qub said, 'I will firmly observe patience for this plot on which you agreed, until Allah relieves the distress with His aid and compassion,
وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
(And it is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you describe.), against the lies and unbelievable incident that you said had occurred.'
Tafsir Ibn Kathir
بھائیوں کی واپسی اور معذرت چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آگیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقا ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے حضرت یوسف کا پیراہن داغدار کردیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔ لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں ؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہوگیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری ؒ اس موقعہ پر حضرت عائشہ ؓ کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال حضرت یوسف کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الَّذِي اعْتَمَدَهُ إِخْوَةُ يوسف بعدما أَلْقَوْهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ: أَنَّهُمْ [[في ت، أ: "ثم".]] رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ يَبْكُونَ، وَيُظْهِرُونَ الْأَسَفَ وَالْجَزَعَ عَلَى يُوسُفَ وَيَتَغَمَّمُونَ لِأَبِيهِمْ، وَقَالُوا مُعْتَذِرِينَ عَمَّا وَقَعَ فِيمَا زَعَمُوا: ﴿إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ﴾ أَيْ: نَتَرَامَى، ﴿وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا﴾ أَيْ: ثِيَابِنَا وَأَمْتِعَتِنَا، ﴿فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ﴾ وَهُوَ الَّذِي كَانَ [قَدْ] [[زيادة من أ.]] جَزِعَ مِنْهُ، وَحَذِرَ عَلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ﴾ تلّطفٌ عَظِيمٌ فِي تَقْرِيرِ مَا يُحَاوِلُونَهُ، يَقُولُونَ: وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّكَ لَا تُصَدِّقُنَا -وَالْحَالَةُ هَذِهِ -لَوْ كُنَّا عِنْدَكَ صَادِقِينَ، فَكَيْفَ وَأَنْتَ تَتَّهِمُنَا فِي ذَلِكَ، لِأَنَّكَ خَشِيتَ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ، فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ، فَأَنْتَ مَعْذُورٌ فِي تَكْذِيبِكَ لَنَا؛ لِغَرَابَةِ مَا وَقَعَ، وَعَجِيبِ مَا اتَّفَقَ لَنَا فِي أَمْرِنَا هَذَا.
﴿وَجَاءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ أَيْ: مَكْذُوبٍ مُفْتَرَى. وَهَذَا مِنَ الْأَفْعَالِ الَّتِي يُؤَكِّدُونَ بِهَا مَا تَمَالَئُوا عَلَيْهِ مِنَ الْمَكِيدَةِ، وَهُوَ أَنَّهُمْ عَمَدُوا إِلَى سَخْلة -فِيمَا ذَكَرَهُ مُجَاهِدٌ، وَالسُّدِّيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ -فَذَبَحُوهَا، وَلَطَّخُوا ثَوْبَ يُوسُفَ بِدَمِهَا، مُوهِمِينَ أَنَّ هَذَا قَمِيصُهُ الَّذِي أَكَلَهُ فِيهِ الذِّئْبُ، وَقَدْ أَصَابَهُ مِنْ دَمِهِ، وَلَكِنَّهُمْ نَسُوا أَنَّ يَخْرِقُوهُ، فَلِهَذَا لَمْ يَرُج هَذَا الصَّنِيعُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ يَعْقُوبَ، بَلْ قَالَ لَهُمْ مُعْرِضًا عَنْ كَلَامِهِمْ إِلَى مَا وَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ تَمَالُئِهمْ عَلَيْهِ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾ أَيْ: فَسَأَصْبِرُ صَبْرًا جَمِيلًا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي قَدِ اتَّفَقْتُمْ عَلَيْهِ، حَتَّى يُفَرِّجَهُ اللَّهُ بِعَوْنِهِ وَلُطْفِهِ، ﴿وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَلَى مَا تَذْكُرُونَ مِنَ الْكَذِبِ وَالْمُحَالِ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاك، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَجَاءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ قَالَ: لَوْ أَكَلَهُ السَّبْعُ لَخَرَقَ الْقَمِيصَ. وَكَذَا قَالَ الشَّعْبِيُّ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الصَّبْرُ الْجَمِيلُ: الَّذِي لَا جَزَعَ فِيهِ.
وَرَوَى هُشَيْم، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ حبَّان بْنِ أَبِي جَبَلة قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ قَوْلِهِ: ﴿فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾ فَقَالَ: "صَبْرٌ لَا شَكْوَى [[في ت: "لا قوى".]] فِيهِ" وَهَذَا مُرْسَلٌ [[تفسير الطبري (١٥/٥٨٥) .]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ الثَّوْرِيُّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثٌ مِنَ الصَّبْرِ: أَلَّا تُحَدِّثَ بِوَجَعِكَ، وَلَا بِمُصِيبَتِكَ، وَلَا تُزَكِّيَ نَفْسَكَ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٧٧) .]] .
وَذَكَرَ الْبُخَارِيُّ هَاهُنَا حَدِيثَ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فِي الْإِفْكِ حَتَّى ذَكَرَ قَوْلَهَا: وَاللَّهِ لَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ [[في ت: "إلا يعقوب" وفي أ: "إلا أبا يوسف إذ قال".]] ، ﴿فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٩٠) .]] .
قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍۢ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَٰدِقِينَ
They said, "O our father, indeed we went racing each other and left Joseph with our possessions, and a wolf ate him. But you would not believe us, even if we were truthful."
(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے
گفتند: «ای پدر! ما رفتیم و مشغول مسابقه شدیم، و یوسف را نزد اثاث خود گذاردیم؛ و گرگ او را خورد! تو هرگز سخن ما را باور نخواهی کرد، هر چند راستگو باشیم!»
Tafsir Ibn Kathir
And they came to their father in the early part of the night weeping (16)They said: "O our father! We went racing with one another, and left Yusuf by our belongings and a wolf devoured him; but you will never believe us even when we speak the truth. (17)And they brought his shirt stained with false blood. He said: "Nay, but your own selves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. And it is Allah (Alone) Whose help can be sought against that (lie) which you describe. (18)
Yusuf's Brothers try to deceive Their Father
Allah narrates to us the deceit that Yusuf's brothers resorted to, after they threw him to the bottom of the well. They went back to their father, during the darkness of the night, crying and showing sorrow and grief for losing Yusuf. They started giving excuses to their father for what happened to Yusuf, falsely claiming that,
إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ
(We went racing with one another), or had a shooting competition,
وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَاعِنَا
(and left Yusuf by our belongings), guarding our clothes and luggage,
فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ
(and a wolf devoured him), which is exactly what their father told them he feared for Yusuf and warned against. They said next,
وَمَا أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ
(but you will never believe us even when we speak the truth.) They tried to lessen the impact of the grave news they were delivering. They said, 'We know that you will not believe this news, even if you consider us truthful. So what about when you suspect that we are not truthful, especially since you feared that the wolf might devour Yusuf and that is what happened?' Therefore, they said, 'You have reason not to believe us because of the strange coincidence and the amazing occurrence that happened to us.'
وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ
(And they brought his shirt stained with false blood.) on it, to help prove plot that they all agreed on. They slaughtered a sheep, according to Mujahid, As-Suddi and several other scholars, and stained Yusuf's shirt with its blood. They claimed that this was the shirt Yusuf was wearing when the wolf devoured him, being stained with his blood. But, they forgot to tear the shirt, and this is why Allah's Prophet Ya'qub did not believe them. Rather, he told them what he felt about what they said to him, thus refusing their false claim,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your ownselves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting.) Ya'qub said, 'I will firmly observe patience for this plot on which you agreed, until Allah relieves the distress with His aid and compassion,
وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
(And it is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you describe.), against the lies and unbelievable incident that you said had occurred.'
Tafsir Ibn Kathir
بھائیوں کی واپسی اور معذرت چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آگیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقا ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے حضرت یوسف کا پیراہن داغدار کردیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔ لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں ؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہوگیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری ؒ اس موقعہ پر حضرت عائشہ ؓ کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال حضرت یوسف کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الَّذِي اعْتَمَدَهُ إِخْوَةُ يوسف بعدما أَلْقَوْهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ: أَنَّهُمْ [[في ت، أ: "ثم".]] رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ يَبْكُونَ، وَيُظْهِرُونَ الْأَسَفَ وَالْجَزَعَ عَلَى يُوسُفَ وَيَتَغَمَّمُونَ لِأَبِيهِمْ، وَقَالُوا مُعْتَذِرِينَ عَمَّا وَقَعَ فِيمَا زَعَمُوا: ﴿إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ﴾ أَيْ: نَتَرَامَى، ﴿وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا﴾ أَيْ: ثِيَابِنَا وَأَمْتِعَتِنَا، ﴿فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ﴾ وَهُوَ الَّذِي كَانَ [قَدْ] [[زيادة من أ.]] جَزِعَ مِنْهُ، وَحَذِرَ عَلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ﴾ تلّطفٌ عَظِيمٌ فِي تَقْرِيرِ مَا يُحَاوِلُونَهُ، يَقُولُونَ: وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّكَ لَا تُصَدِّقُنَا -وَالْحَالَةُ هَذِهِ -لَوْ كُنَّا عِنْدَكَ صَادِقِينَ، فَكَيْفَ وَأَنْتَ تَتَّهِمُنَا فِي ذَلِكَ، لِأَنَّكَ خَشِيتَ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ، فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ، فَأَنْتَ مَعْذُورٌ فِي تَكْذِيبِكَ لَنَا؛ لِغَرَابَةِ مَا وَقَعَ، وَعَجِيبِ مَا اتَّفَقَ لَنَا فِي أَمْرِنَا هَذَا.
﴿وَجَاءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ أَيْ: مَكْذُوبٍ مُفْتَرَى. وَهَذَا مِنَ الْأَفْعَالِ الَّتِي يُؤَكِّدُونَ بِهَا مَا تَمَالَئُوا عَلَيْهِ مِنَ الْمَكِيدَةِ، وَهُوَ أَنَّهُمْ عَمَدُوا إِلَى سَخْلة -فِيمَا ذَكَرَهُ مُجَاهِدٌ، وَالسُّدِّيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ -فَذَبَحُوهَا، وَلَطَّخُوا ثَوْبَ يُوسُفَ بِدَمِهَا، مُوهِمِينَ أَنَّ هَذَا قَمِيصُهُ الَّذِي أَكَلَهُ فِيهِ الذِّئْبُ، وَقَدْ أَصَابَهُ مِنْ دَمِهِ، وَلَكِنَّهُمْ نَسُوا أَنَّ يَخْرِقُوهُ، فَلِهَذَا لَمْ يَرُج هَذَا الصَّنِيعُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ يَعْقُوبَ، بَلْ قَالَ لَهُمْ مُعْرِضًا عَنْ كَلَامِهِمْ إِلَى مَا وَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ تَمَالُئِهمْ عَلَيْهِ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾ أَيْ: فَسَأَصْبِرُ صَبْرًا جَمِيلًا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي قَدِ اتَّفَقْتُمْ عَلَيْهِ، حَتَّى يُفَرِّجَهُ اللَّهُ بِعَوْنِهِ وَلُطْفِهِ، ﴿وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَلَى مَا تَذْكُرُونَ مِنَ الْكَذِبِ وَالْمُحَالِ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاك، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَجَاءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ قَالَ: لَوْ أَكَلَهُ السَّبْعُ لَخَرَقَ الْقَمِيصَ. وَكَذَا قَالَ الشَّعْبِيُّ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الصَّبْرُ الْجَمِيلُ: الَّذِي لَا جَزَعَ فِيهِ.
وَرَوَى هُشَيْم، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ حبَّان بْنِ أَبِي جَبَلة قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ قَوْلِهِ: ﴿فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾ فَقَالَ: "صَبْرٌ لَا شَكْوَى [[في ت: "لا قوى".]] فِيهِ" وَهَذَا مُرْسَلٌ [[تفسير الطبري (١٥/٥٨٥) .]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ الثَّوْرِيُّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثٌ مِنَ الصَّبْرِ: أَلَّا تُحَدِّثَ بِوَجَعِكَ، وَلَا بِمُصِيبَتِكَ، وَلَا تُزَكِّيَ نَفْسَكَ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٧٧) .]] .
وَذَكَرَ الْبُخَارِيُّ هَاهُنَا حَدِيثَ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فِي الْإِفْكِ حَتَّى ذَكَرَ قَوْلَهَا: وَاللَّهِ لَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ [[في ت: "إلا يعقوب" وفي أ: "إلا أبا يوسف إذ قال".]] ، ﴿فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٩٠) .]] .
وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍۢ كَذِبٍۢ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌۭ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
And they brought upon his shirt false blood. [Jacob] said, "Rather, your souls have enticed you to something, so patience is most fitting. And Allah is the one sought for help against that which you describe."
اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے
و پیراهن او را با خونی دروغین (آغشته ساخته، نزد پدر) آوردند؛ گفت: «هوسهای نفسانی شما این کار را برایتان آراسته! من صبر جمیل (و شکیبائی خالی از ناسپاسی) خواهم داشت؛ و در برابر آنچه میگویید، از خداوند یاری میطلبم!»
Tafsir Ibn Kathir
And they came to their father in the early part of the night weeping (16)They said: "O our father! We went racing with one another, and left Yusuf by our belongings and a wolf devoured him; but you will never believe us even when we speak the truth. (17)And they brought his shirt stained with false blood. He said: "Nay, but your own selves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. And it is Allah (Alone) Whose help can be sought against that (lie) which you describe. (18)
Yusuf's Brothers try to deceive Their Father
Allah narrates to us the deceit that Yusuf's brothers resorted to, after they threw him to the bottom of the well. They went back to their father, during the darkness of the night, crying and showing sorrow and grief for losing Yusuf. They started giving excuses to their father for what happened to Yusuf, falsely claiming that,
إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ
(We went racing with one another), or had a shooting competition,
وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَاعِنَا
(and left Yusuf by our belongings), guarding our clothes and luggage,
فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ
(and a wolf devoured him), which is exactly what their father told them he feared for Yusuf and warned against. They said next,
وَمَا أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ
(but you will never believe us even when we speak the truth.) They tried to lessen the impact of the grave news they were delivering. They said, 'We know that you will not believe this news, even if you consider us truthful. So what about when you suspect that we are not truthful, especially since you feared that the wolf might devour Yusuf and that is what happened?' Therefore, they said, 'You have reason not to believe us because of the strange coincidence and the amazing occurrence that happened to us.'
وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ
(And they brought his shirt stained with false blood.) on it, to help prove plot that they all agreed on. They slaughtered a sheep, according to Mujahid, As-Suddi and several other scholars, and stained Yusuf's shirt with its blood. They claimed that this was the shirt Yusuf was wearing when the wolf devoured him, being stained with his blood. But, they forgot to tear the shirt, and this is why Allah's Prophet Ya'qub did not believe them. Rather, he told them what he felt about what they said to him, thus refusing their false claim,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your ownselves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting.) Ya'qub said, 'I will firmly observe patience for this plot on which you agreed, until Allah relieves the distress with His aid and compassion,
وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
(And it is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you describe.), against the lies and unbelievable incident that you said had occurred.'
Tafsir Ibn Kathir
بھائیوں کی واپسی اور معذرت چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آگیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقا ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے حضرت یوسف کا پیراہن داغدار کردیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔ لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں ؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہوگیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری ؒ اس موقعہ پر حضرت عائشہ ؓ کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال حضرت یوسف کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنِ الَّذِي اعْتَمَدَهُ إِخْوَةُ يوسف بعدما أَلْقَوْهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ: أَنَّهُمْ [[في ت، أ: "ثم".]] رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ يَبْكُونَ، وَيُظْهِرُونَ الْأَسَفَ وَالْجَزَعَ عَلَى يُوسُفَ وَيَتَغَمَّمُونَ لِأَبِيهِمْ، وَقَالُوا مُعْتَذِرِينَ عَمَّا وَقَعَ فِيمَا زَعَمُوا: ﴿إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ﴾ أَيْ: نَتَرَامَى، ﴿وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا﴾ أَيْ: ثِيَابِنَا وَأَمْتِعَتِنَا، ﴿فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ﴾ وَهُوَ الَّذِي كَانَ [قَدْ] [[زيادة من أ.]] جَزِعَ مِنْهُ، وَحَذِرَ عَلَيْهِ.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ﴾ تلّطفٌ عَظِيمٌ فِي تَقْرِيرِ مَا يُحَاوِلُونَهُ، يَقُولُونَ: وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّكَ لَا تُصَدِّقُنَا -وَالْحَالَةُ هَذِهِ -لَوْ كُنَّا عِنْدَكَ صَادِقِينَ، فَكَيْفَ وَأَنْتَ تَتَّهِمُنَا فِي ذَلِكَ، لِأَنَّكَ خَشِيتَ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ، فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ، فَأَنْتَ مَعْذُورٌ فِي تَكْذِيبِكَ لَنَا؛ لِغَرَابَةِ مَا وَقَعَ، وَعَجِيبِ مَا اتَّفَقَ لَنَا فِي أَمْرِنَا هَذَا.
﴿وَجَاءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ أَيْ: مَكْذُوبٍ مُفْتَرَى. وَهَذَا مِنَ الْأَفْعَالِ الَّتِي يُؤَكِّدُونَ بِهَا مَا تَمَالَئُوا عَلَيْهِ مِنَ الْمَكِيدَةِ، وَهُوَ أَنَّهُمْ عَمَدُوا إِلَى سَخْلة -فِيمَا ذَكَرَهُ مُجَاهِدٌ، وَالسُّدِّيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ -فَذَبَحُوهَا، وَلَطَّخُوا ثَوْبَ يُوسُفَ بِدَمِهَا، مُوهِمِينَ أَنَّ هَذَا قَمِيصُهُ الَّذِي أَكَلَهُ فِيهِ الذِّئْبُ، وَقَدْ أَصَابَهُ مِنْ دَمِهِ، وَلَكِنَّهُمْ نَسُوا أَنَّ يَخْرِقُوهُ، فَلِهَذَا لَمْ يَرُج هَذَا الصَّنِيعُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ يَعْقُوبَ، بَلْ قَالَ لَهُمْ مُعْرِضًا عَنْ كَلَامِهِمْ إِلَى مَا وَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ تَمَالُئِهمْ عَلَيْهِ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾ أَيْ: فَسَأَصْبِرُ صَبْرًا جَمِيلًا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي قَدِ اتَّفَقْتُمْ عَلَيْهِ، حَتَّى يُفَرِّجَهُ اللَّهُ بِعَوْنِهِ وَلُطْفِهِ، ﴿وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ أَيْ: عَلَى مَا تَذْكُرُونَ مِنَ الْكَذِبِ وَالْمُحَالِ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاك، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَير، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَجَاءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ قَالَ: لَوْ أَكَلَهُ السَّبْعُ لَخَرَقَ الْقَمِيصَ. وَكَذَا قَالَ الشَّعْبِيُّ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الصَّبْرُ الْجَمِيلُ: الَّذِي لَا جَزَعَ فِيهِ.
وَرَوَى هُشَيْم، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ حبَّان بْنِ أَبِي جَبَلة قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ قَوْلِهِ: ﴿فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾ فَقَالَ: "صَبْرٌ لَا شَكْوَى [[في ت: "لا قوى".]] فِيهِ" وَهَذَا مُرْسَلٌ [[تفسير الطبري (١٥/٥٨٥) .]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: قَالَ الثَّوْرِيُّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثٌ مِنَ الصَّبْرِ: أَلَّا تُحَدِّثَ بِوَجَعِكَ، وَلَا بِمُصِيبَتِكَ، وَلَا تُزَكِّيَ نَفْسَكَ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٧٧) .]] .
وَذَكَرَ الْبُخَارِيُّ هَاهُنَا حَدِيثَ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فِي الْإِفْكِ حَتَّى ذَكَرَ قَوْلَهَا: وَاللَّهِ لَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ [[في ت: "إلا يعقوب" وفي أ: "إلا أبا يوسف إذ قال".]] ، ﴿فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ﴾ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٩٠) .]] .
وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌۭ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَٰبُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٌۭ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ
And there came a company of travelers; then they sent their water drawer, and he let down his bucket. He said, "Good news! Here is a boy." And they concealed him, [taking him] as merchandise; and Allah was knowing of what they did.
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
و (در همین حال) کاروانی فرا رسید؛ و مأمور آب را (به سراغ آب) فرستادند؛ او دلو خود را در چاه افکند؛ (ناگهان) صدا زد: «مژده باد! این کودکی است (زیبا و دوست داشتنی!)» و این امر را بعنوان یک سرمایه از دیگران مخفی داشتند. و خداوند به آنچه آنها انجام میدادند، آگاه بود.
Tafsir Ibn Kathir
And there came a caravan of travelers and they sent their water-drawer, and he let down his bucket (into the well). He said: "What good news! Here is a boy." So they hid him as merchandise (a slave). And Allah was the All-Knower of what they did (19)And they sold him for a Bakhs price, - for a few Dirhams. And they were of those who regarded him insignificant (20)
Yusuf is Rescued from the Well and sold as a Slave
Allah narrates what happened to Yusuf, peace be upon him, after his brothers threw him down the well and left him in it, alone, where he remained for three days, according to Abu Bakr bin 'Ayyash. Muhammad bin Ishaq said, "After Yusuf's brothers threw him down the well, they remained around the well for the rest of the day to see what he might do and what would happen to him. Allah sent a caravan of travelers that camped near that well, and they sent to it the man responsible for drawing water for them. When he approached the well, he lowered his bucket down into it, Yusuf held on to it and the man rescued him and felt happy,
يَا بُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَامٌ
("What good news! Here is a boy.") Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas commented, "Allah's statement,
وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً
(So they hid him as merchandise), is in reference to Yusuf's brothers, who hid the news that he was their brother. Yusuf hid this news for fear that his brothers might kill him and preferred to be sold instead. Consequently, Yusuf's brothers told the water drawer about him and that man said to his companions,
يَا بُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَامٌ
("What good news! Here is a boy."), a slave whom we can sell. Therefore, Yusuf's own brothers sold him." Allah's statement,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(And Allah was the All-Knower of what they did.) states that Allah knew what Yusuf's brothers, and those who bought him, did. He was able to stop them and prevent them from committing their actions, but out of His perfect wisdom He decreed otherwise. He let them do what they did, so that His decision prevails and His appointed destiny rules,
أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ
(Surely, His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of the all that exists!)[7:54] This reminds Allah's Messenger Muhammad ﷺ, that Allah has perfect knowledge in the persecution that his people committed against him and that He is able to stop them. However, He decided to give them respite, then give Muhammad ﷺ the victory and make him prevail over them, just as He gave Yusuf victory and made him prevail over his brothers. Allah said next,
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ
(And they sold him for a Bakhs price, - for a few Dirhams) in reference to Yusuf's brothers selling him for a little price, according to Mujahid and 'Ikrimah. 'Bakhs' means decreased, just as Allah the Exalted said in another Ayah,
فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا
(shall have no fear, either of a Bakhs (a decrease in the reward of his good deeds) or a Rahaq (an increase in the punishment for his sins).)[72:13] meaning that Yusuf's brothers exchanged him for a miserably low price. Yet, he was so insignificant to them that had the caravan people wanted him for free, they would have given him for free to them! Ibn 'Abbas, Mujahid and Ad-Dahhak said that,
وَشَرَوْهُ
(And they sold him), is in reference to Yusuf's brothers. They sold Yusuf for the lowest price, as indicated by Allah's statement next,
دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ
(for a few Dirhams), twenty Dirhams, according to 'Abdullah bin Mas'ud. Similar was said by Ibn 'Abbas, Nawf Al-Bikali, As-Suddi, Qatadah and 'Atiyah Al-'Awfi, who added that they divided the Dirhams among themselves, each getting two Dirhams. Ad-Dahhak commented on Allah's statement,
وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ
(And they were of those who regarded him insignificant.) "Because they had no knowledge of his prophethood and glorious rank with Allah, the Exalted and Most Honored."
Tafsir Ibn Kathir
کنویں سے بازار مصر تک بھائی تو حضرت یوسف کو کنویں میں ڈال کر چل دیئے۔ یہاں تین دن آپ کو اسی اندھیرے کنویں میں اکیلے گذر گئے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کنویں میں گرا کر بھائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے آس پاس ہی دن بھر پھرتے رہے کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ؟ قدرت اللہ کی کہ ایک قافلہ وہیں سے گزرا۔ انہوں نے اپنے سقے کو پانی کے لے بھیجا۔ اس نے اسی کونے میں ڈول ڈالا، حضرت یوسف ؑ نے اس کی رسی کو مضبوط تھام لیا اور بجائے پانی کے آپ باہر نکلے۔ وہ آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیارہ نہ سکا با آواز بلند کہہ اٹھا کہ لو سبحان اللہ یہ تو نوجوان بچہ آگیا۔ دوسری قرأت اس کی یا بشرای بھی ہے۔ سدی کہتے ہیں بشریٰ سقے کے بھیجنے والے کا نام بھی تھا اس نے اس کا نام لے کر پکار کر خبر دی کہ میرے ڈول میں تو ایک بچہ آیا ہے۔ لیکن سدی کا یہ قول غریب ہے۔ اس طرح کی قرآت پر بھی وہی معنی ہوسکتے ہیں اس کی اضافت اپنے نفس کی طرف ہے اور یائے اضافت ساقط ہے۔ اسی کی تائید قرآت یا بشرای سے ہوتی ہے جیسے عرب کہتے یا نفس اصبری اور یا غلام اقبل اضافت کے حرف کو ساقط کر کے۔ اس وقت کسرہ دینا بھی جائز ہے اور رفع دینا بھی۔ پس وہ اسی قبیل سے ہے اور دوسری قرآت اس کی تفسیر ہے۔ واللہ اعلم۔ ان لوگوں نے آپ کو بحیثیت پونجی کے چھپالیا قافلے کے اور لوگوں پر اس راز کا ظاہر نہ کیا بلکہ کہہ دیا کہ ہم نے کنویں کے پاس کے لوگوں سے اسے خریدا ہے، انہوں نے ہمیں اسے دے دیا ہے تاکہ وہ بھی اپنا حصہ نہ ملائیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ برادران یوسف نے شناخت چھپائی اور حضرت یوسف نے بھی اپنے آپ کو ظاہر نہ کیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ کہیں مجھے قتل ہی نہ کردیں۔ اس لیے چپ چاپ بھائیوں کے ہاتھوں آپ بک گئے۔ سقے سے انہوں نے کہا اس نے آواز دے کر بلا لیا انہوں نے اونے پونے یوسف ؑ کو ان کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اللہ کچھ ان کی اس حرکت سے بیخبر نہ تھا وہ خوب دیکھ بھال رہا تھا وہ قادر تھا کہ اس وقت اس بھید کو ظاہر کر دے لیکن اس کی حکمتیں اسی کے ساتھ ہیں اس کی تقدیر یونہی یعنی جاری ہوئی تھی۔ خلق و امرا اسی کا ہے وہ رب العالمین برکتوں والا ہے اس میں آنحضرت ﷺ کو بھی ایک طرح تسکین دی گئی ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ قوم آپ کو دکھ دے رہی ہے میں قادر ہوں کہ آپ کو ان سے چھڑا دوں انہیں غارت کردوں لیکن میرے کام حکمت کے ساتھ ہیں دیر ہے اندھیر نہیں بےفکر رہو، عنقریب غالب کروں گا اور رفتہ رفتہ ان کو پست کردوں گا۔ جیسے کہ یوسف اور ان کے بھائیوں کے درمیان میری حکمت کا ہاتھ کام کرتا رہا۔ یہاں تک کا آخر انجام حضرت یوسف کے سامنے انہیں جھکنا پڑا اور ان کے مرتبے کا اقرار کرنا پڑا۔ بہت تھوڑے مول پر بھائیوں نے انہیں بیچ دیا۔ ناقص چیز کے بدلے بھائی جیسا بھائی دے دیا۔ اور اس کی بھی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی بلکہ اگر ان سے بالکل بلا قیمت مانگا جاتا تو بھی دے دیتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ قافلے والوں نے اسے بہت کم قیمت پر خریدا۔ لیکن یہ کچھ زیادہ درست نہیں اس لیے کہ انہوں نے تو اسے دیکھ کر خوشیاں منائی تھی اور بطور پونجی اسے پوشیدہ کردیا تھا۔ پس اگر انہیں اس کی بےرغبتی ہوتی تو وہ ایسا کیوں کرتے ؟ پس ترجیح اسی بات کو ہے کہ یہاں مراد بھائیوں کا حضرت یوسف کو گرے ہوئے نرخ پر بیچ ڈالنا ہے۔ نجس سے مراد حرام اور ظلم بھی ہے۔ لیکن یہاں وہ مراد نہیں لی گئی۔ کیونکہ اس قیمت کی حرمت کا علم تو ہر ایک کو ہے۔ حضرت یوسف ؑ نبی بن نبی بن نبی خلیل الرحمن ؑ تھا۔ پس آپ تو کریم بن کریم بن کریم بن کریم تھے۔ پس یہاں مراد نقص کم تھوڑی اور کھوٹی بلکہ برائے نام قیمت پر بیچ ڈالنا ہے باوجود اس کے وہ ظلم و حرام بھی تھا۔ بھائی کو بیچ رہے ہیں اور وہ بھی کوڑیوں کے مول۔ چند درہموں کے بدلے بیس یا بائیس یا چالیس درہم کے بدلے۔ یہ دام لے کر آپس میں بانٹ لیے۔ اور اس کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی انہیں نہیں معلوم تھا کہ اللہ کے ہاں ان کی کیا قدر ہے ؟ وہ کیا جانتے تھے کہ یہ اللہ کے نبی بننے والے ہں۔ حضرت مجاہد ؒ کہتے ہیں کہ اتنا سب کچھ کرنے پر بھی صبر نہ ہوا قافلے کے پیچھے ہو لئے اور ان سے کہنے لگے دیکھو اس غلام میں بھاگ نکلنے کی عادت ہے، اسے مضبوط باندھ دو ، کہیں تمہارے ہاتھوں سے بھی بھاگ نہ جائے۔ اسی طرح باندھے باندھے مصر تک پہنچے اور وہاں آپ کو بازار میں لیجا کر بیچنے لگے۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا مجھے جو لے گا وہ خوش ہوجائے گا۔ پس شاہ مصر نے آپ کو خرید لیا وہ تھا بھی مسلمان۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَمَّا جَرَى لِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حِينَ أَلْقَاهُ إِخْوَتُهُ، وَتَرَكُوهُ فِي ذَلِكَ الْجُبِّ فَرِيدًا وَحِيدًا، فَمَكَثَ فِي الْبِئْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فِيمَا قَالَهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ [[في ت، "ابن عباس".]]
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: لَمَّا أَلْقَاهُ إِخْوَتُهُ جَلَسُوا حَوْلَ الْبِئْرِ يَوْمَهُمْ ذَلِكَ، يَنْظُرُونَ مَا يَصْنَعُ وَمَا يُصنع بِهِ، فَسَاقَ اللَّهُ لَهُ سَيَّارة، فَنَزَلُوا قَرِيبًا مِنْ تِلْكَ [[في ت: "ذلك".]] الْبِئْرِ، وَأَرْسَلُوا وَارِدَهُمْ -وَهُوَ الَّذِي يَتَطَلَّبُ لَهُمُ الْمَاءَ -فَلَمَّا جَاءَ تِلْكَ [[في ت: "ذلك".]] الْبِئْرَ، وَأَدْلَى دَلْوَهُ فِيهَا، تَشَبَّثَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِيهَا، فَأَخْرَجَهُ وَاسْتَبْشَرَ بِهِ، وَقَالَ: ﴿يَا بُشْرَى هَذَا غُلامٌ﴾
وَقَرَأَ بَعْضُ الْقُرَّاءِ: "يَا بُشْرَى"، زَعَمَ السُّدِّيُّ أَنَّهُ اسْمُ رَجُلٍ نَادَاهُ ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْلَى دَلْوَهُ، مُعْلِمًا لَهُ أَنَّهُ أَصَابَ غُلَامًا. وَهَذَا الْقَوْلُ مِنَ السُّدِّيِّ غَرِيبٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُسبَق إِلَى تَفْسِيرِ هَذِهِ الْقِرَاءَةِ بِهَذَا إِلَّا فِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَإِنَّمَا مَعْنَى الْقِرَاءَةِ عَلَى هَذَا النَّحْوِ يَرْجِعُ إِلَى الْقِرَاءَةِ الْأُخْرَى، وَيَكُونُ قَدْ أَضَافَ الْبُشْرَى إِلَى نَفْسِهِ، وَحَذَفَ يَاءَ الْإِضَافَةِ وَهُوَ يُرِيدُهَا، كَمَا تَقُولُ الْعَرَبُ: "يَا نفسُ اصْبِرِي"، وَ"يَا غُلَامُ أَقْبِلْ"، بِحَذْفِ حَرْفِ الْإِضَافَةِ، وَيَجُوزُ الْكَسْرُ حِينَئِذٍ وَالرَّفْعُ، وَهَذَا مِنْهُ، وتفسرها القراءة الأخرى ﴿يَا بُشْرَى"﴾ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً﴾ أَيْ: وَأَسَرَّهُ الْوَارِدُونَ مِنْ بَقِيَّةِ السَّيَّارَةِ وَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ وَتَبَضَّعْنَاهُ مِنْ أَصْحَابِ الْمَاءِ مَخَافَةَ أَنْ يُشَارِكُوهُمْ فِيهِ إِذَا عَلِمُوا خَبَرَهُ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَالسُّدِّيُّ، وَابْنُ جَرِيرٍ. هَذَا قَوْلٌ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: ﴿وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً﴾ يَعْنِي: إِخْوَةَ يُوسُفَ، أَسَرُّوا شَأْنَهُ، وَكَتَمُوا أَنْ يَكُونَ أَخَاهُمْ وَكَتَمَ يُوسُفُ شَأْنَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَقْتُلَهُ إِخْوَتُهُ، وَاخْتَارَ الْبَيْعَ. فَذَكَرَهُ إِخْوَتُهُ لِوَارِدِ الْقَوْمِ، فَنَادَى أَصْحَابَهُ: ﴿يَا بُشْرَى هَذَا غُلامٌ﴾ يُبَاعُ، فَبَاعَهُ إِخْوَتُهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ﴾ أَيْ: يَعْلَمُ مَا يَفْعَلُهُ إِخْوَةُ يُوسُفَ وَمُشْتَرُوهُ، وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى تَغْيِيرِ ذَلِكَ وَدَفْعِهِ، وَلَكِنْ لَهُ حِكْمَةٌ وقَدرَ سَابِقٌ، فَتَرَكَ ذَلِكَ لِيُمْضَى مَا قَدَّرَهُ وَقَضَاهُ، أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ، تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ.
وَفِي هَذَا تَعْرِيضٌ لِرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ ﷺ [[في ت: "صلوات الله عليه" وفي أ: "صلوات الله عليه وسلامه".]] ، وَإِعْلَامُهُ لَهُ بِأَنَّنِي عَالِمٌ بِأَذَى قَوْمِكَ، وَأَنَا قَادِرٌ عَلَى الْإِنْكَارِ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنِّي سَأُمْلِي لَهُمْ، ثُمَّ أَجْعَلُ لَكَ الْعَاقِبَةَ وَالْحُكْمَ عَلَيْهِمْ، كَمَا جَعَلْتُ لِيُوسُفَ الْحُكْمَ والعاقبة على إخوته.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ﴾ يَقُولُ تَعَالَى: وَبَاعَهُ إِخْوَتُهُ بِثَمَنٍ قَلِيلٍ، قَالَهُ مُجَاهِدٌ وعِكْرِمة.
وَالْبَخْسُ: هُوَ النَّقْصُ، كَمَا [[في ت: "وكما".]] قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلا يَخَافُ بَخْسًا وَلا رَهَقًا﴾ [الْجِنِّ: ١٣] أَيْ: اعْتَاضَ عَنْهُ إِخْوَتُهُ بِثَمَنٍ دُونٍ قَلِيلٍ، وَكَانُوا مَعَ ذَلِكَ فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ، أَيْ: لَيْسَ لهم رغبة فيه، بل لو سألوه [[في أ: "لو سئلوا".]] بِلَا شَيْءٍ لَأَجَابُوا.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَالضَّحَّاكُ: إِنَّ الضَّمِيرَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَشَرَوْهُ﴾ عَائِدٌ عَلَى إِخْوَةِ يُوسُفَ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: بَلْ هُوَ عَائِدٌ عَلَى السَّيَّارَةِ.
وَالْأَوَّلُ أَقْوَى؛ لِأَنَّ قَوْلَهُ: ﴿وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ﴾ إِنَّمَا أَرَادَ إِخْوَتَهُ، لَا أُولَئِكَ السَّيَّارَةَ؛ لِأَنَّ السَّيَّارَةَ اسْتَبْشَرُوا بِهِ وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً، وَلَوْ كَانُوا فِيهِ زَاهِدِينَ لَمَّا اشْتَرَوْهُ، فَيُرَجَّحُ مِنْ هَذَا أَنَّ الضَّمِيرَ فِي ﴿وَشَرَوْهُ﴾ إِنَّمَا هُوَ لِإِخْوَتِهِ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ: ﴿بَخْسٍ﴾ الْحَرَامُ. وَقِيلَ: الظُّلْمُ. وَهَذَا وَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ، لَكِنْ لَيْسَ هُوَ الْمُرَادُ هُنَا؛ لِأَنَّ هَذَا مَعْلُومٌ يَعَرِفُهُ كُلُّ أَحَدٍ أَنَّ ثَمَنَهُ حَرَامٌ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَعَلَى كُلِّ أَحَدٍ، لِأَنَّهُ نَبِيٌّ ابْنُ نَبِيٍّ، ابْنِ نَبِيٍّ، ابْنِ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ، فَهُوَ الْكَرِيمُ، ابْنُ الْكَرِيمِ، ابْنِ الْكَرِيمِ، ابْنِ الْكَرِيمِ، وَإِنَّمَا الْمُرَادُ هُنَا بِالْبَخْسِ النَّاقِصِ أَوِ الزُّيُوفِ أَوْ كِلَاهُمَا، أَيْ: إِنَّهُمْ إِخْوَتُهُ، وَقَدْ بَاعُوهُ وَمَعَ هَذَا بِأَنْقَصِ الْأَثْمَانِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ﴾ فَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بَاعُوهُ بِعِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَكَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ونَوْف البَكَالي، والسُّدِّي، وَقَتَادَةُ، وَعَطِيَّةُ العَوْفي وَزَادَ: اقْتَسَمُوهَا دِرْهَمَيْنِ دِرْهَمَيْنِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: اثْنَانِ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وعِكْرِمة: أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهُمْ لَمْ يَعْلَمُوا نُبُوَّتَهُ
وَمَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: لَمَّا بَاعُوهُ جَعَلُوا يَتْبَعُونَهُمْ وَيَقُولُونَ لَهُمْ: اسْتَوْثِقُوا مِنْهُ لَا يَأْبَقْ حَتَّى وَقَفُوهُ بِمِصْرَ، فَقَالَ: مَنْ يَبْتَاعُنِي وَلْيُبْشِرْ؟ فَاشْتَرَاهُ الْمَلِكُ، وَكَانَ مُسْلِمًا.
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍۢ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍۢ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ
And they sold him for a reduced price - a few dirhams - and they were, concerning him, of those content with little.
اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا
و (سرانجام،) او را به بهای کمی -چند درهم- فروختند؛ و نسبت به (فروختن) او، بی رغبت بودند (؛ چرا که میترسیدند رازشان فاش شود).
Tafsir Ibn Kathir
And there came a caravan of travelers and they sent their water-drawer, and he let down his bucket (into the well). He said: "What good news! Here is a boy." So they hid him as merchandise (a slave). And Allah was the All-Knower of what they did (19)And they sold him for a Bakhs price, - for a few Dirhams. And they were of those who regarded him insignificant (20)
Yusuf is Rescued from the Well and sold as a Slave
Allah narrates what happened to Yusuf, peace be upon him, after his brothers threw him down the well and left him in it, alone, where he remained for three days, according to Abu Bakr bin 'Ayyash. Muhammad bin Ishaq said, "After Yusuf's brothers threw him down the well, they remained around the well for the rest of the day to see what he might do and what would happen to him. Allah sent a caravan of travelers that camped near that well, and they sent to it the man responsible for drawing water for them. When he approached the well, he lowered his bucket down into it, Yusuf held on to it and the man rescued him and felt happy,
يَا بُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَامٌ
("What good news! Here is a boy.") Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas commented, "Allah's statement,
وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً
(So they hid him as merchandise), is in reference to Yusuf's brothers, who hid the news that he was their brother. Yusuf hid this news for fear that his brothers might kill him and preferred to be sold instead. Consequently, Yusuf's brothers told the water drawer about him and that man said to his companions,
يَا بُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَامٌ
("What good news! Here is a boy."), a slave whom we can sell. Therefore, Yusuf's own brothers sold him." Allah's statement,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(And Allah was the All-Knower of what they did.) states that Allah knew what Yusuf's brothers, and those who bought him, did. He was able to stop them and prevent them from committing their actions, but out of His perfect wisdom He decreed otherwise. He let them do what they did, so that His decision prevails and His appointed destiny rules,
أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ
(Surely, His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of the all that exists!)[7:54] This reminds Allah's Messenger Muhammad ﷺ, that Allah has perfect knowledge in the persecution that his people committed against him and that He is able to stop them. However, He decided to give them respite, then give Muhammad ﷺ the victory and make him prevail over them, just as He gave Yusuf victory and made him prevail over his brothers. Allah said next,
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ
(And they sold him for a Bakhs price, - for a few Dirhams) in reference to Yusuf's brothers selling him for a little price, according to Mujahid and 'Ikrimah. 'Bakhs' means decreased, just as Allah the Exalted said in another Ayah,
فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا
(shall have no fear, either of a Bakhs (a decrease in the reward of his good deeds) or a Rahaq (an increase in the punishment for his sins).)[72:13] meaning that Yusuf's brothers exchanged him for a miserably low price. Yet, he was so insignificant to them that had the caravan people wanted him for free, they would have given him for free to them! Ibn 'Abbas, Mujahid and Ad-Dahhak said that,
وَشَرَوْهُ
(And they sold him), is in reference to Yusuf's brothers. They sold Yusuf for the lowest price, as indicated by Allah's statement next,
دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ
(for a few Dirhams), twenty Dirhams, according to 'Abdullah bin Mas'ud. Similar was said by Ibn 'Abbas, Nawf Al-Bikali, As-Suddi, Qatadah and 'Atiyah Al-'Awfi, who added that they divided the Dirhams among themselves, each getting two Dirhams. Ad-Dahhak commented on Allah's statement,
وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ
(And they were of those who regarded him insignificant.) "Because they had no knowledge of his prophethood and glorious rank with Allah, the Exalted and Most Honored."
Tafsir Ibn Kathir
کنویں سے بازار مصر تک بھائی تو حضرت یوسف کو کنویں میں ڈال کر چل دیئے۔ یہاں تین دن آپ کو اسی اندھیرے کنویں میں اکیلے گذر گئے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کنویں میں گرا کر بھائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے آس پاس ہی دن بھر پھرتے رہے کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ؟ قدرت اللہ کی کہ ایک قافلہ وہیں سے گزرا۔ انہوں نے اپنے سقے کو پانی کے لے بھیجا۔ اس نے اسی کونے میں ڈول ڈالا، حضرت یوسف ؑ نے اس کی رسی کو مضبوط تھام لیا اور بجائے پانی کے آپ باہر نکلے۔ وہ آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیارہ نہ سکا با آواز بلند کہہ اٹھا کہ لو سبحان اللہ یہ تو نوجوان بچہ آگیا۔ دوسری قرأت اس کی یا بشرای بھی ہے۔ سدی کہتے ہیں بشریٰ سقے کے بھیجنے والے کا نام بھی تھا اس نے اس کا نام لے کر پکار کر خبر دی کہ میرے ڈول میں تو ایک بچہ آیا ہے۔ لیکن سدی کا یہ قول غریب ہے۔ اس طرح کی قرآت پر بھی وہی معنی ہوسکتے ہیں اس کی اضافت اپنے نفس کی طرف ہے اور یائے اضافت ساقط ہے۔ اسی کی تائید قرآت یا بشرای سے ہوتی ہے جیسے عرب کہتے یا نفس اصبری اور یا غلام اقبل اضافت کے حرف کو ساقط کر کے۔ اس وقت کسرہ دینا بھی جائز ہے اور رفع دینا بھی۔ پس وہ اسی قبیل سے ہے اور دوسری قرآت اس کی تفسیر ہے۔ واللہ اعلم۔ ان لوگوں نے آپ کو بحیثیت پونجی کے چھپالیا قافلے کے اور لوگوں پر اس راز کا ظاہر نہ کیا بلکہ کہہ دیا کہ ہم نے کنویں کے پاس کے لوگوں سے اسے خریدا ہے، انہوں نے ہمیں اسے دے دیا ہے تاکہ وہ بھی اپنا حصہ نہ ملائیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ برادران یوسف نے شناخت چھپائی اور حضرت یوسف نے بھی اپنے آپ کو ظاہر نہ کیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ کہیں مجھے قتل ہی نہ کردیں۔ اس لیے چپ چاپ بھائیوں کے ہاتھوں آپ بک گئے۔ سقے سے انہوں نے کہا اس نے آواز دے کر بلا لیا انہوں نے اونے پونے یوسف ؑ کو ان کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اللہ کچھ ان کی اس حرکت سے بیخبر نہ تھا وہ خوب دیکھ بھال رہا تھا وہ قادر تھا کہ اس وقت اس بھید کو ظاہر کر دے لیکن اس کی حکمتیں اسی کے ساتھ ہیں اس کی تقدیر یونہی یعنی جاری ہوئی تھی۔ خلق و امرا اسی کا ہے وہ رب العالمین برکتوں والا ہے اس میں آنحضرت ﷺ کو بھی ایک طرح تسکین دی گئی ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ قوم آپ کو دکھ دے رہی ہے میں قادر ہوں کہ آپ کو ان سے چھڑا دوں انہیں غارت کردوں لیکن میرے کام حکمت کے ساتھ ہیں دیر ہے اندھیر نہیں بےفکر رہو، عنقریب غالب کروں گا اور رفتہ رفتہ ان کو پست کردوں گا۔ جیسے کہ یوسف اور ان کے بھائیوں کے درمیان میری حکمت کا ہاتھ کام کرتا رہا۔ یہاں تک کا آخر انجام حضرت یوسف کے سامنے انہیں جھکنا پڑا اور ان کے مرتبے کا اقرار کرنا پڑا۔ بہت تھوڑے مول پر بھائیوں نے انہیں بیچ دیا۔ ناقص چیز کے بدلے بھائی جیسا بھائی دے دیا۔ اور اس کی بھی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی بلکہ اگر ان سے بالکل بلا قیمت مانگا جاتا تو بھی دے دیتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ قافلے والوں نے اسے بہت کم قیمت پر خریدا۔ لیکن یہ کچھ زیادہ درست نہیں اس لیے کہ انہوں نے تو اسے دیکھ کر خوشیاں منائی تھی اور بطور پونجی اسے پوشیدہ کردیا تھا۔ پس اگر انہیں اس کی بےرغبتی ہوتی تو وہ ایسا کیوں کرتے ؟ پس ترجیح اسی بات کو ہے کہ یہاں مراد بھائیوں کا حضرت یوسف کو گرے ہوئے نرخ پر بیچ ڈالنا ہے۔ نجس سے مراد حرام اور ظلم بھی ہے۔ لیکن یہاں وہ مراد نہیں لی گئی۔ کیونکہ اس قیمت کی حرمت کا علم تو ہر ایک کو ہے۔ حضرت یوسف ؑ نبی بن نبی بن نبی خلیل الرحمن ؑ تھا۔ پس آپ تو کریم بن کریم بن کریم بن کریم تھے۔ پس یہاں مراد نقص کم تھوڑی اور کھوٹی بلکہ برائے نام قیمت پر بیچ ڈالنا ہے باوجود اس کے وہ ظلم و حرام بھی تھا۔ بھائی کو بیچ رہے ہیں اور وہ بھی کوڑیوں کے مول۔ چند درہموں کے بدلے بیس یا بائیس یا چالیس درہم کے بدلے۔ یہ دام لے کر آپس میں بانٹ لیے۔ اور اس کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی انہیں نہیں معلوم تھا کہ اللہ کے ہاں ان کی کیا قدر ہے ؟ وہ کیا جانتے تھے کہ یہ اللہ کے نبی بننے والے ہں۔ حضرت مجاہد ؒ کہتے ہیں کہ اتنا سب کچھ کرنے پر بھی صبر نہ ہوا قافلے کے پیچھے ہو لئے اور ان سے کہنے لگے دیکھو اس غلام میں بھاگ نکلنے کی عادت ہے، اسے مضبوط باندھ دو ، کہیں تمہارے ہاتھوں سے بھی بھاگ نہ جائے۔ اسی طرح باندھے باندھے مصر تک پہنچے اور وہاں آپ کو بازار میں لیجا کر بیچنے لگے۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا مجھے جو لے گا وہ خوش ہوجائے گا۔ پس شاہ مصر نے آپ کو خرید لیا وہ تھا بھی مسلمان۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَمَّا جَرَى لِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حِينَ أَلْقَاهُ إِخْوَتُهُ، وَتَرَكُوهُ فِي ذَلِكَ الْجُبِّ فَرِيدًا وَحِيدًا، فَمَكَثَ فِي الْبِئْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فِيمَا قَالَهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ [[في ت، "ابن عباس".]]
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: لَمَّا أَلْقَاهُ إِخْوَتُهُ جَلَسُوا حَوْلَ الْبِئْرِ يَوْمَهُمْ ذَلِكَ، يَنْظُرُونَ مَا يَصْنَعُ وَمَا يُصنع بِهِ، فَسَاقَ اللَّهُ لَهُ سَيَّارة، فَنَزَلُوا قَرِيبًا مِنْ تِلْكَ [[في ت: "ذلك".]] الْبِئْرِ، وَأَرْسَلُوا وَارِدَهُمْ -وَهُوَ الَّذِي يَتَطَلَّبُ لَهُمُ الْمَاءَ -فَلَمَّا جَاءَ تِلْكَ [[في ت: "ذلك".]] الْبِئْرَ، وَأَدْلَى دَلْوَهُ فِيهَا، تَشَبَّثَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِيهَا، فَأَخْرَجَهُ وَاسْتَبْشَرَ بِهِ، وَقَالَ: ﴿يَا بُشْرَى هَذَا غُلامٌ﴾
وَقَرَأَ بَعْضُ الْقُرَّاءِ: "يَا بُشْرَى"، زَعَمَ السُّدِّيُّ أَنَّهُ اسْمُ رَجُلٍ نَادَاهُ ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْلَى دَلْوَهُ، مُعْلِمًا لَهُ أَنَّهُ أَصَابَ غُلَامًا. وَهَذَا الْقَوْلُ مِنَ السُّدِّيِّ غَرِيبٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُسبَق إِلَى تَفْسِيرِ هَذِهِ الْقِرَاءَةِ بِهَذَا إِلَّا فِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَإِنَّمَا مَعْنَى الْقِرَاءَةِ عَلَى هَذَا النَّحْوِ يَرْجِعُ إِلَى الْقِرَاءَةِ الْأُخْرَى، وَيَكُونُ قَدْ أَضَافَ الْبُشْرَى إِلَى نَفْسِهِ، وَحَذَفَ يَاءَ الْإِضَافَةِ وَهُوَ يُرِيدُهَا، كَمَا تَقُولُ الْعَرَبُ: "يَا نفسُ اصْبِرِي"، وَ"يَا غُلَامُ أَقْبِلْ"، بِحَذْفِ حَرْفِ الْإِضَافَةِ، وَيَجُوزُ الْكَسْرُ حِينَئِذٍ وَالرَّفْعُ، وَهَذَا مِنْهُ، وتفسرها القراءة الأخرى ﴿يَا بُشْرَى"﴾ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً﴾ أَيْ: وَأَسَرَّهُ الْوَارِدُونَ مِنْ بَقِيَّةِ السَّيَّارَةِ وَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ وَتَبَضَّعْنَاهُ مِنْ أَصْحَابِ الْمَاءِ مَخَافَةَ أَنْ يُشَارِكُوهُمْ فِيهِ إِذَا عَلِمُوا خَبَرَهُ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَالسُّدِّيُّ، وَابْنُ جَرِيرٍ. هَذَا قَوْلٌ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: ﴿وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً﴾ يَعْنِي: إِخْوَةَ يُوسُفَ، أَسَرُّوا شَأْنَهُ، وَكَتَمُوا أَنْ يَكُونَ أَخَاهُمْ وَكَتَمَ يُوسُفُ شَأْنَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَقْتُلَهُ إِخْوَتُهُ، وَاخْتَارَ الْبَيْعَ. فَذَكَرَهُ إِخْوَتُهُ لِوَارِدِ الْقَوْمِ، فَنَادَى أَصْحَابَهُ: ﴿يَا بُشْرَى هَذَا غُلامٌ﴾ يُبَاعُ، فَبَاعَهُ إِخْوَتُهُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ﴾ أَيْ: يَعْلَمُ مَا يَفْعَلُهُ إِخْوَةُ يُوسُفَ وَمُشْتَرُوهُ، وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى تَغْيِيرِ ذَلِكَ وَدَفْعِهِ، وَلَكِنْ لَهُ حِكْمَةٌ وقَدرَ سَابِقٌ، فَتَرَكَ ذَلِكَ لِيُمْضَى مَا قَدَّرَهُ وَقَضَاهُ، أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ، تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ.
وَفِي هَذَا تَعْرِيضٌ لِرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ ﷺ [[في ت: "صلوات الله عليه" وفي أ: "صلوات الله عليه وسلامه".]] ، وَإِعْلَامُهُ لَهُ بِأَنَّنِي عَالِمٌ بِأَذَى قَوْمِكَ، وَأَنَا قَادِرٌ عَلَى الْإِنْكَارِ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنِّي سَأُمْلِي لَهُمْ، ثُمَّ أَجْعَلُ لَكَ الْعَاقِبَةَ وَالْحُكْمَ عَلَيْهِمْ، كَمَا جَعَلْتُ لِيُوسُفَ الْحُكْمَ والعاقبة على إخوته.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ﴾ يَقُولُ تَعَالَى: وَبَاعَهُ إِخْوَتُهُ بِثَمَنٍ قَلِيلٍ، قَالَهُ مُجَاهِدٌ وعِكْرِمة.
وَالْبَخْسُ: هُوَ النَّقْصُ، كَمَا [[في ت: "وكما".]] قَالَ تَعَالَى: ﴿فَلا يَخَافُ بَخْسًا وَلا رَهَقًا﴾ [الْجِنِّ: ١٣] أَيْ: اعْتَاضَ عَنْهُ إِخْوَتُهُ بِثَمَنٍ دُونٍ قَلِيلٍ، وَكَانُوا مَعَ ذَلِكَ فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ، أَيْ: لَيْسَ لهم رغبة فيه، بل لو سألوه [[في أ: "لو سئلوا".]] بِلَا شَيْءٍ لَأَجَابُوا.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَالضَّحَّاكُ: إِنَّ الضَّمِيرَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَشَرَوْهُ﴾ عَائِدٌ عَلَى إِخْوَةِ يُوسُفَ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: بَلْ هُوَ عَائِدٌ عَلَى السَّيَّارَةِ.
وَالْأَوَّلُ أَقْوَى؛ لِأَنَّ قَوْلَهُ: ﴿وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ﴾ إِنَّمَا أَرَادَ إِخْوَتَهُ، لَا أُولَئِكَ السَّيَّارَةَ؛ لِأَنَّ السَّيَّارَةَ اسْتَبْشَرُوا بِهِ وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً، وَلَوْ كَانُوا فِيهِ زَاهِدِينَ لَمَّا اشْتَرَوْهُ، فَيُرَجَّحُ مِنْ هَذَا أَنَّ الضَّمِيرَ فِي ﴿وَشَرَوْهُ﴾ إِنَّمَا هُوَ لِإِخْوَتِهِ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ: ﴿بَخْسٍ﴾ الْحَرَامُ. وَقِيلَ: الظُّلْمُ. وَهَذَا وَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ، لَكِنْ لَيْسَ هُوَ الْمُرَادُ هُنَا؛ لِأَنَّ هَذَا مَعْلُومٌ يَعَرِفُهُ كُلُّ أَحَدٍ أَنَّ ثَمَنَهُ حَرَامٌ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَعَلَى كُلِّ أَحَدٍ، لِأَنَّهُ نَبِيٌّ ابْنُ نَبِيٍّ، ابْنِ نَبِيٍّ، ابْنِ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ، فَهُوَ الْكَرِيمُ، ابْنُ الْكَرِيمِ، ابْنِ الْكَرِيمِ، ابْنِ الْكَرِيمِ، وَإِنَّمَا الْمُرَادُ هُنَا بِالْبَخْسِ النَّاقِصِ أَوِ الزُّيُوفِ أَوْ كِلَاهُمَا، أَيْ: إِنَّهُمْ إِخْوَتُهُ، وَقَدْ بَاعُوهُ وَمَعَ هَذَا بِأَنْقَصِ الْأَثْمَانِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ﴾ فَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بَاعُوهُ بِعِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَكَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ونَوْف البَكَالي، والسُّدِّي، وَقَتَادَةُ، وَعَطِيَّةُ العَوْفي وَزَادَ: اقْتَسَمُوهَا دِرْهَمَيْنِ دِرْهَمَيْنِ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: اثْنَانِ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وعِكْرِمة: أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهُمْ لَمْ يَعْلَمُوا نُبُوَّتَهُ
وَمَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: لَمَّا بَاعُوهُ جَعَلُوا يَتْبَعُونَهُمْ وَيَقُولُونَ لَهُمْ: اسْتَوْثِقُوا مِنْهُ لَا يَأْبَقْ حَتَّى وَقَفُوهُ بِمِصْرَ، فَقَالَ: مَنْ يَبْتَاعُنِي وَلْيُبْشِرْ؟ فَاشْتَرَاهُ الْمَلِكُ، وَكَانَ مُسْلِمًا.
وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
And the one from Egypt who bought him said to his wife, "Make his residence comfortable. Perhaps he will benefit us, or we will adopt him as a son." And thus, We established Joseph in the land that We might teach him the interpretation of events. And Allah is predominant over His affair, but most of the people do not know.
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
و آن کس که او را از سرزمین مصر خرید [= عزیز مصر]، به همسرش گفت: «مقام وی را گرامی دار، شاید برای ما سودمند باشد؛ و یا او را بعنوان فرزند انتخاب کنیم!» و اینچنین یوسف را در آن سرزمین متمکّن ساختیم! (ما این کار را کردیم، تا او را بزرگ داریم؛ و) از علم تعبیر خواب به او بیاموزیم؛ خداوند بر کار خود پیروز است، ولی بیشتر مردم نمیدانند!
Tafsir Ibn Kathir
And he (the man) from Egypt who bought him, said to his wife: "Make his stay comfortable, maybe he will profit us or we shall adopt him as a son." Thus did We establish Yusuf in the land, that We might teach him the interpretation of events. And Allah has full power and control over His affairs, but most of men know not (21)And when he [Yusuf] attained his full manhood, We gave him wisdom and knowledge (the prophethood), thus We reward the doers of good (22)
Yusuf in Egypt
Allah mentions the favors that He granted Yusuf, peace be on him, by which He made the man from Egypt who bought him, take care of him and provide him with a comfortable life. He also ordered his wife to be kind to Yusuf and had good hopes for his future, because of his firm righteous behavior. He said to his wife,
أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَىٰ أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا
(Make his stay comfortable, maybe he will profit us or we shall adopt him as a son.) The man who bought Yusuf was the minister of Egypt at the time, and his title was 'Aziz'. Abu Ishaq narrated that Abu 'Ubaydah said that 'Abdullah bin Mas'ud said, "Three had the most insight: the 'Aziz of Egypt, who said to his wife,
أَكْرِمِي مَثْوَاهُ
(Make his stay comfortable...), the woman who said to her father,
يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ
(O my father! Hire him...), [28:26] and Abu Bakr As-Siddiq when he appointed 'Umar bin Al-Khattab to be the Khalifah after him, may Allah be pleased with them both." Allah said next that just as He saved Yusuf from his brothers,
كَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ
(Thus did We establish Yusuf in the land), in reference to Egypt,
وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ
(that We might teach him the interpretation of events.) the interpretation of dreams, according to Mujahid and As-Suddi. Allah said next,
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ
(And Allah has full power and control over His affairs,) if He wills something, then there is no averting His decision, nor can it ever be stopped or contradicted. Rather, Allah has full power over everything and everyone else. Sa'id bin Jubayr said while commenting on Allah's statement,
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ
(And Allah has full power and control over His affairs,) "He does what ever He wills." Allah said,
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(but most of men know not.) meaning, have no knowledge of Allah's wisdom with regards to His creation, compassion and doing what He wills. Allah said next,
وَلَمَّا بَلَغَ
(And when he attained), in reference to Prophet Yusuf, peace be upon him,
أَشُدَّهُ
(his full manhood), sound in mind and perfect in body,
آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا
(We gave him wisdom and knowledge), which is the prophethood that Allah sent him with for the people he lived among,
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
(thus We reward the doers of good.) because Yusuf used to do good in the obedience of Allah the Exalted.
Tafsir Ibn Kathir
بازار مصر سے شاہی محل تک رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔ اس کے باپ کا نام دوحیب تھا۔ یہ مصر کے خزانوں کا داروغہ تھا۔ مصر کی سلطنت اس وقت ریان بن ولید کے ہاتھ تھی۔ یہ عمالیق میں سے ایک شخص تھا۔۔ عزیز مصر کی بیوی صاحبہ کا نام راعیل تھا۔ کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ مصر میں جس نے آپ کو خریدا اس کا نام مالک بن ذعربن قریب بن عنق بن مدیان بن ابراہیم تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں سب سے زیادہ دوربین اور دور رس اور انجام پر نظریں رکھنے والے اور عقلمندی سے تاڑنے والے تین شخص گزرے ہیں۔ ایک تو یہی عزیز مصر کہ بیک نگاہ حضرت یوسف کو تاڑ لیا گیا اور جاتے ہی بیوی سے کہا کہ اسے اچھی طرح آرام سے رکھو۔ دوسری وہ بچی جس نے حضرت موسیٰ ؑ کو بیک نگاہ جان لیا اور جا کر باپ سے کا کہ اگر آپ کو آدمی کی ضرورت ہے تو ان سے معاملہ کرلیجئے یہ قوی اور باامانت شخص ہے۔ تیسرے حضرت صدیق اکبر ؓ کہ آپ نے دنیا سے رخت ہوتے ہوئے خلافت حضرت عمر ؓ جیسے شخص کو سونپی۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنا ایک اور احسان بیان فرما رہا ہے کہ بھائیوں کے پھندے سے ہم نے چھڑایا پھر ہم نے مصر میں لا کر یہاں کی سرزمین پر ان کا قدم جما دیا۔ کیونکہ اب ہمارا یہ ارادہ پورا ہونا تھا کہ ہم اسے تعبیر خواب کا کچھ علم عطا فرمائیں۔ اللہ کے ارادہ کو کون ٹال سکتا ہے۔ کون روک سکتا ہے ؟ کون خلاف کرسکتا ہے ؟ وہ سب پر غالب ہے۔ سب اس کے سامنے عاجز ہیں جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے جو ارادہ کرتا ہے کر چکتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ علم سے خالی ہوتے ہیں۔ اس کی حکمت کو مانتے ہیں نہ اس کی حکمت کو جانتے ہیں نہ اس کی باریکیوں پر ان کی نگاہ ہوتی ہے۔ نہ وہ اس کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ جب آپ کی عقل کامل ہوئی جب جسم اپنی نشو و نما تمام کرچکا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور اس سے آپ کو مخصوص کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نیک کاروں کو اسی طرح بھلا بدلہ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد تینتیس برس کی عمر ہے۔ یا تیس سے کچھ اوپر کی یا بیس کی یا چالیس کی یا پچیس کی یا تیس کی یا اٹھارہ کی۔ یا مراد جوانی کو پہنچنا ہے اور اس کے سوا اوراقوال بھی ہیں واللہ اعلم
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى بِأَلْطَافِهِ بِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ قَيَّضَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ، حَتَّى اعْتَنَى بِهِ وَأَكْرَمَهُ، وَأَوْصَى أَهْلَهُ بِهِ، وَتَوَسَّمَ فِيهِ الْخَيْرَ وَالْفَلَاحَ، فَقَالَ لِاِمْرَأَتِهِ: ﴿أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا﴾ وَكَانَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ عَزِيزُهَا، وَهُوَ الْوَزِيرُ بِهَا. [قَالَ] [[زيادة من ت، أ.]] الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَكَانَ اسْمُهُ قِطفِيرَ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: اسْمُهُ إِطْفِيرُ [[في ت: "إظفير".]] بْنُ رُوحَيْبٍ، وَهُوَ الْعَزِيزُ، وَكَانَ عَلَى خَزَائِنِ مِصْرَ، وَكَانَ الْمَلِكُ يَوْمَئِذٍ الريَّان بْنَ الْوَلِيدِ، رَجُلٌ مِنَ الْعَمَالِيقِ قَالَ: وَاسْمُ امْرَأَتِهِ رَاعِيلُ بِنْتُ رعَائِيلَ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: اسْمُهَا زُلَيْخَا.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَيْضًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ الَّذِي بَاعَهُ بِمِصْرَ مَالِكُ بْنُ دَعْرِ بْنِ بُويب [[في ت: "نويب".]] بْنِ عُنُقَا بْنِ مَدْيَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: أَفَرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: عَزِيزُ مِصْرَ حِينَ قَالَ لِاِمْرَأَتِهِ: ﴿أَكْرِمِي مَثْوَاهُ﴾ وَالْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَتْ لِأَبِيهَا [عَنْ مُوسَى] [[زيادة من أ.]] : ﴿يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الأمِينُ﴾ [الْقَصَصِ: ٢٦] وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/١٩) .]] .
يَقُولُ تَعَالَى: وَكَمَا أَنْقَذْنَا يُوسُفَ مِنْ إِخْوَتِهِ، ﴿وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الأرْضِ﴾ يَعْنِي: بِلَادَ مِصْرَ، ﴿وَلِنُعَلِّمَهُ مِنْ تَأْوِيلِ الأحَادِيثِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ: هُوَ تَعْبِيرُ الرُّؤْيَا، ﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ﴾ أَيْ [[في أ: "فهو".]] إِذَا أَرَادَ شَيْئًا فَلَا يُرَدُّ وَلَا يُمَانَعُ وَلَا يُخَالَفُ، بَلْ هُوَ الْغَالِبُ لِمَا سِوَاهُ.
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ﴾ أَيْ: فَعَّالٌ لِمَا يَشَاءُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾ يَقُولُ: لَا يَدْرُونَ حِكْمَتَهُ فِي خَلْقِهِ، وَتَلَطُّفَهُ لِمَا يُرِيدُ [[في ت، أ: "يريده".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَمَّا بَلَغَ﴾ أَيْ: يُوسُفُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ﴿أَشُدَّهُ﴾ أَيِ: اسْتُكْمِلَ عَقْلُهُ [[في أ: "خلقه".]] وَتَمَّ خَلْقُهُ. ﴿آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ يَعْنِي: النُّبُوَّةَ، إِنَّهُ حَبَاهُ بِهَا بَيْنَ أُولَئِكَ الْأَقْوَامِ، ﴿وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ﴾ أَيْ: إِنَّهُ كَانَ مُحْسِنًا فِي عَمَلِهِ، عَامِلًا بِطَاعَةِ رَبِّهِ تَعَالَى.
وَقَدِ اختُلِف فِي مِقْدَارِ الْمُدَّةِ الَّتِي بَلَغَ فِيهَا أَشُدَّهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ: ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ. وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: بِضْعٌ وَثَلَاثُونَ. وَقَالَ الضَّحَّاكُ: عِشْرُونَ. وَقَالَ الْحَسَنُ: أَرْبَعُونَ سَنَةً. وَقَالَ عِكْرِمَةُ: خَمْسٌ وَعِشْرُونَ سَنَةً. وَقَالَ السُّدِّيُّ: ثَلَاثُونَ سَنَةً. وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: ثَمَانِيَةَ عَشْرَةَ سَنَةً. وَقَالَ الْإِمَامُ مَالِكٌ، وَرَبِيعَةُ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، وَالشَّعْبِيُّ: الْأَشُدُّ الحلم. وقيل غير ذلك، والله [[في ت: "فالله".]] أعلم.
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
And when Joseph reached maturity, We gave him judgment and knowledge. And thus We reward the doers of good.
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
و هنگامی که به بلوغ و قوّت رسید، ما «حکم» [= نبوّت] و «علم» به او دادیم؛ و اینچنین نیکوکاران را پاداش میدهیم!
Tafsir Ibn Kathir
And he (the man) from Egypt who bought him, said to his wife: "Make his stay comfortable, maybe he will profit us or we shall adopt him as a son." Thus did We establish Yusuf in the land, that We might teach him the interpretation of events. And Allah has full power and control over His affairs, but most of men know not (21)And when he [Yusuf] attained his full manhood, We gave him wisdom and knowledge (the prophethood), thus We reward the doers of good (22)
Yusuf in Egypt
Allah mentions the favors that He granted Yusuf, peace be on him, by which He made the man from Egypt who bought him, take care of him and provide him with a comfortable life. He also ordered his wife to be kind to Yusuf and had good hopes for his future, because of his firm righteous behavior. He said to his wife,
أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَىٰ أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا
(Make his stay comfortable, maybe he will profit us or we shall adopt him as a son.) The man who bought Yusuf was the minister of Egypt at the time, and his title was 'Aziz'. Abu Ishaq narrated that Abu 'Ubaydah said that 'Abdullah bin Mas'ud said, "Three had the most insight: the 'Aziz of Egypt, who said to his wife,
أَكْرِمِي مَثْوَاهُ
(Make his stay comfortable...), the woman who said to her father,
يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ
(O my father! Hire him...), [28:26] and Abu Bakr As-Siddiq when he appointed 'Umar bin Al-Khattab to be the Khalifah after him, may Allah be pleased with them both." Allah said next that just as He saved Yusuf from his brothers,
كَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ
(Thus did We establish Yusuf in the land), in reference to Egypt,
وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ
(that We might teach him the interpretation of events.) the interpretation of dreams, according to Mujahid and As-Suddi. Allah said next,
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ
(And Allah has full power and control over His affairs,) if He wills something, then there is no averting His decision, nor can it ever be stopped or contradicted. Rather, Allah has full power over everything and everyone else. Sa'id bin Jubayr said while commenting on Allah's statement,
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ
(And Allah has full power and control over His affairs,) "He does what ever He wills." Allah said,
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(but most of men know not.) meaning, have no knowledge of Allah's wisdom with regards to His creation, compassion and doing what He wills. Allah said next,
وَلَمَّا بَلَغَ
(And when he attained), in reference to Prophet Yusuf, peace be upon him,
أَشُدَّهُ
(his full manhood), sound in mind and perfect in body,
آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا
(We gave him wisdom and knowledge), which is the prophethood that Allah sent him with for the people he lived among,
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
(thus We reward the doers of good.) because Yusuf used to do good in the obedience of Allah the Exalted.
Tafsir Ibn Kathir
بازار مصر سے شاہی محل تک رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔ اس کے باپ کا نام دوحیب تھا۔ یہ مصر کے خزانوں کا داروغہ تھا۔ مصر کی سلطنت اس وقت ریان بن ولید کے ہاتھ تھی۔ یہ عمالیق میں سے ایک شخص تھا۔۔ عزیز مصر کی بیوی صاحبہ کا نام راعیل تھا۔ کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ مصر میں جس نے آپ کو خریدا اس کا نام مالک بن ذعربن قریب بن عنق بن مدیان بن ابراہیم تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں سب سے زیادہ دوربین اور دور رس اور انجام پر نظریں رکھنے والے اور عقلمندی سے تاڑنے والے تین شخص گزرے ہیں۔ ایک تو یہی عزیز مصر کہ بیک نگاہ حضرت یوسف کو تاڑ لیا گیا اور جاتے ہی بیوی سے کہا کہ اسے اچھی طرح آرام سے رکھو۔ دوسری وہ بچی جس نے حضرت موسیٰ ؑ کو بیک نگاہ جان لیا اور جا کر باپ سے کا کہ اگر آپ کو آدمی کی ضرورت ہے تو ان سے معاملہ کرلیجئے یہ قوی اور باامانت شخص ہے۔ تیسرے حضرت صدیق اکبر ؓ کہ آپ نے دنیا سے رخت ہوتے ہوئے خلافت حضرت عمر ؓ جیسے شخص کو سونپی۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنا ایک اور احسان بیان فرما رہا ہے کہ بھائیوں کے پھندے سے ہم نے چھڑایا پھر ہم نے مصر میں لا کر یہاں کی سرزمین پر ان کا قدم جما دیا۔ کیونکہ اب ہمارا یہ ارادہ پورا ہونا تھا کہ ہم اسے تعبیر خواب کا کچھ علم عطا فرمائیں۔ اللہ کے ارادہ کو کون ٹال سکتا ہے۔ کون روک سکتا ہے ؟ کون خلاف کرسکتا ہے ؟ وہ سب پر غالب ہے۔ سب اس کے سامنے عاجز ہیں جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے جو ارادہ کرتا ہے کر چکتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ علم سے خالی ہوتے ہیں۔ اس کی حکمت کو مانتے ہیں نہ اس کی حکمت کو جانتے ہیں نہ اس کی باریکیوں پر ان کی نگاہ ہوتی ہے۔ نہ وہ اس کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ جب آپ کی عقل کامل ہوئی جب جسم اپنی نشو و نما تمام کرچکا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور اس سے آپ کو مخصوص کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نیک کاروں کو اسی طرح بھلا بدلہ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد تینتیس برس کی عمر ہے۔ یا تیس سے کچھ اوپر کی یا بیس کی یا چالیس کی یا پچیس کی یا تیس کی یا اٹھارہ کی۔ یا مراد جوانی کو پہنچنا ہے اور اس کے سوا اوراقوال بھی ہیں واللہ اعلم
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى بِأَلْطَافِهِ بِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُ قَيَّضَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ، حَتَّى اعْتَنَى بِهِ وَأَكْرَمَهُ، وَأَوْصَى أَهْلَهُ بِهِ، وَتَوَسَّمَ فِيهِ الْخَيْرَ وَالْفَلَاحَ، فَقَالَ لِاِمْرَأَتِهِ: ﴿أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا﴾ وَكَانَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ عَزِيزُهَا، وَهُوَ الْوَزِيرُ بِهَا. [قَالَ] [[زيادة من ت، أ.]] الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَكَانَ اسْمُهُ قِطفِيرَ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: اسْمُهُ إِطْفِيرُ [[في ت: "إظفير".]] بْنُ رُوحَيْبٍ، وَهُوَ الْعَزِيزُ، وَكَانَ عَلَى خَزَائِنِ مِصْرَ، وَكَانَ الْمَلِكُ يَوْمَئِذٍ الريَّان بْنَ الْوَلِيدِ، رَجُلٌ مِنَ الْعَمَالِيقِ قَالَ: وَاسْمُ امْرَأَتِهِ رَاعِيلُ بِنْتُ رعَائِيلَ.
وَقَالَ غَيْرُهُ: اسْمُهَا زُلَيْخَا.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَيْضًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ الَّذِي بَاعَهُ بِمِصْرَ مَالِكُ بْنُ دَعْرِ بْنِ بُويب [[في ت: "نويب".]] بْنِ عُنُقَا بْنِ مَدْيَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: أَفَرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: عَزِيزُ مِصْرَ حِينَ قَالَ لِاِمْرَأَتِهِ: ﴿أَكْرِمِي مَثْوَاهُ﴾ وَالْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَتْ لِأَبِيهَا [عَنْ مُوسَى] [[زيادة من أ.]] : ﴿يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الأمِينُ﴾ [الْقَصَصِ: ٢٦] وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/١٩) .]] .
يَقُولُ تَعَالَى: وَكَمَا أَنْقَذْنَا يُوسُفَ مِنْ إِخْوَتِهِ، ﴿وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الأرْضِ﴾ يَعْنِي: بِلَادَ مِصْرَ، ﴿وَلِنُعَلِّمَهُ مِنْ تَأْوِيلِ الأحَادِيثِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ: هُوَ تَعْبِيرُ الرُّؤْيَا، ﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ﴾ أَيْ [[في أ: "فهو".]] إِذَا أَرَادَ شَيْئًا فَلَا يُرَدُّ وَلَا يُمَانَعُ وَلَا يُخَالَفُ، بَلْ هُوَ الْغَالِبُ لِمَا سِوَاهُ.
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ﴾ أَيْ: فَعَّالٌ لِمَا يَشَاءُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾ يَقُولُ: لَا يَدْرُونَ حِكْمَتَهُ فِي خَلْقِهِ، وَتَلَطُّفَهُ لِمَا يُرِيدُ [[في ت، أ: "يريده".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَلَمَّا بَلَغَ﴾ أَيْ: يُوسُفُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ﴿أَشُدَّهُ﴾ أَيِ: اسْتُكْمِلَ عَقْلُهُ [[في أ: "خلقه".]] وَتَمَّ خَلْقُهُ. ﴿آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ يَعْنِي: النُّبُوَّةَ، إِنَّهُ حَبَاهُ بِهَا بَيْنَ أُولَئِكَ الْأَقْوَامِ، ﴿وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ﴾ أَيْ: إِنَّهُ كَانَ مُحْسِنًا فِي عَمَلِهِ، عَامِلًا بِطَاعَةِ رَبِّهِ تَعَالَى.
وَقَدِ اختُلِف فِي مِقْدَارِ الْمُدَّةِ الَّتِي بَلَغَ فِيهَا أَشُدَّهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ: ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ. وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: بِضْعٌ وَثَلَاثُونَ. وَقَالَ الضَّحَّاكُ: عِشْرُونَ. وَقَالَ الْحَسَنُ: أَرْبَعُونَ سَنَةً. وَقَالَ عِكْرِمَةُ: خَمْسٌ وَعِشْرُونَ سَنَةً. وَقَالَ السُّدِّيُّ: ثَلَاثُونَ سَنَةً. وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: ثَمَانِيَةَ عَشْرَةَ سَنَةً. وَقَالَ الْإِمَامُ مَالِكٌ، وَرَبِيعَةُ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، وَالشَّعْبِيُّ: الْأَشُدُّ الحلم. وقيل غير ذلك، والله [[في ت: "فالله".]] أعلم.
وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ
And she, in whose house he was, sought to seduce him. She closed the doors and said, "Come, you." He said, "[I seek] the refuge of Allah. Indeed, he is my master, who has made good my residence. Indeed, wrongdoers will not succeed."
تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
و آن زن که یوسف در خانه او بود، از او تمنّای کامجویی کرد؛ درها را بست و گفت: «بیا (بسوی آنچه برای تو مهیاست!)» (یوسف) گفت: «پناه میبرم به خدا! او [= عزیز مصر] صاحب نعمت من است؛ مقام مرا گرامی داشته؛ (آیا ممکن است به او ظلم و خیانت کنم؟!) مسلّماً ظالمان رستگار نمیشوند!»
Tafsir Ibn Kathir
And she, in whose house he was, sought to seduce him (to do an evil act), and she closed the doors and said: "Come on, O you." He said: "I seek refuge in Allah! Truly, he is my Rabb! He made my living in a great comfort! Verily, the wrongdoers will never be successful. (23)
Wife of the 'Aziz loves Yusuf and plots against Him
Allah states that the wife of the 'Aziz of Egypt, in whose house Yusuf resided and whose husband recommended that she takes care of him and be generous to him, tried to seduce Yusuf! She called him to do an evil act with her, because she loved him very much. Yusuf was very handsome, filled with manhood and beauty. She beautified herself for him, closed the doors and called him,
وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ
(and (she) said: "Come on, O you.") But he categorically refused her call,
قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ
(He said: "I seek refuge in Allah! Truly, he is my Rabb! He made my living in a great comfort!") as they used to call the chief and master a 'Rabb', Yusuf said to her, 'your husband is my master who provided me with comfortable living and was kind to me, so I will never betray him by committing immoral sins with his wife,'
إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
(Verily, the wrongdoers will never be successful.) This was said by Mujahid, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others. The scholars differ in their recitation of,
هَيْتَ لَكَ
(Hayta Laka), whereby Ibn 'Abbas, Mujahid and several other scholars said that it means that she was calling him to herself. Al-Bukhari said; "Ikrimah said that,
هَيْتَ لَكَ
(Hayta Laka') means, 'come on, O you', in the Aramaic language." Al-Bukhari collected this statement from 'Ikrimah without a chain of narration. Other scholars read it with the meaning, 'I am ready for you'. Ibn 'Abbas, Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami, Abu Wa'il, 'Ikrimah and Qatadah were reported to have read this part of the Ayah this way and explained it in the manner we mentioned, as 'I am ready for you'.
Tafsir Ibn Kathir
زلیخا کی بدنیتی سے الزام تک عزیز مصر جس نے آپ کو خریدا تھا اور بہت اچھی طرح اولاد کے مثل رکھا تھا اپنی گھر والی سے بھی تاکیداً کہا تھا کہ انہیں کسی طرح تکلیف نہ ہو عزت و اکرام سے انہیں رکھو۔ اس عورت کی نیت میں کھوٹ آجاتی ہے۔ جمال یوسف پر فریفتہ ہوجاتی ہے۔ دروازے بھیڑ کر بن سنور کر برے کام کی طرف یوسف کو بلاتی ہے لیکن حضرت یوسف بڑی سختی سے انکار کر کے اسے مایوس کردیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ تیرا خاوند میرا سردار ہے۔ اس وقت اہل مصر کے محاورے میں بڑوں کے لیے یہی لفظ بولا جاتا تھا۔ آپ فرماتے ہیں تمہارے خاوند کی مجھ پر مہربانی ہے وہ میرے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں ان کی خیانت کروں۔ یاد رکھو چیز کو غیر جگہ رکھنے والے بھلائی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ (آیت ھیت لک) کو بعض لوگ سریانی زبان کا لفظ کہتے ہیں بعض قطبی زبان کا بعض اسے غریب لفظ بتلاتے ہیں۔ کسائی اسی قرأت کو پسند کرتے تھے اور کہتے تھے اہل حوران کا یہ لغت ہے جو حجاز میں آگیا ہے۔ اہل حوران کے ایک عالم نے کہا ہے کہ یہ ہمارا لغت ہے۔ امام ابن جریر نے اس کی شہادت میں شعر بھی پیش کیا ہے۔ اس کے دوسری قرأت ھئت بھی ہے پہلی قرأت کے معنی تو آؤ کے تھے، اس کے معنی میں تیرے لیے تیار ہوں بعض لوگ اس قرأت کا انکار ہی کرتے ہیں۔ ایک قرأت ھئت بھی ہے۔ یہ قرأت غریب ہے۔ عام مدنی لوگوں کی یہی قرأت ہے۔ اس پر بھی شہادت میں شعر پیش کیا جاتا ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں قاریوں کی قرأتیں قریب قریب ہیں پس جس طرح تم سکھائے گئے ہو پڑھتے رہو۔ گہرائی سے اور اختلاف سے اور لعن طعن سے اور اعتراض سے بچو اس لفظ کے یہی معنی ہیں کہ آ اور سامنے ہو وغیرہ۔ پھر آپ نے اس لفظ کو پڑھا کسی نے کہا اسے دوسری طرح بھی پڑھتے ہیں آپ نے فرمایا درست ہے مگر میں نے تو جس طرح سیکھا ہے اسی طرح پڑھوں گا۔ یعنی ھیت نہ کہ ھیت یہ لفظ تذکیر تانیث واحد تثنیہ جمع سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ جیسے (آیت ھیت لک ھیت لکم ھیت لکماا ھیتا لکن ھیت لھن)۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ الَّتِي كَانَ يُوسُفُ فِي بَيْتِهَا بِمِصْرَ، وَقَدْ أَوْصَاهَا زَوْجُهَا بِهِ وَبِإِكْرَامِهِ [ ﴿وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا] عَنْ نَفْسِهِ﴾ أَيْ: حَاوَلَتْهُ عَلَى [[زيادة من ت، أ.]] نَفْسِهِ، [[في ت، أ: "عن".]] وَدَعَتْهُ إِلَيْهَا، وَذَلِكَ أَنَّهَا أَحَبَّتْهُ حُبًّا شَدِيدًا لِجَمَالِهِ وَحُسْنِهِ وَبَهَائِهِ، فَحَمَلَهَا ذَلِكَ عَلَى أَنْ تَجَمَّلَتْ لَهُ، وَغَلَّقَتْ عَلَيْهِ الْأَبْوَابَ، وَدَعَتْهُ إِلَى نَفْسِهَا، ﴿وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ﴾ فَامْتَنَعَ مِنْ ذلك أشد الامتناع، و ﴿قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي [أَحْسَنَ مَثْوَايَ] ﴾ [[زيادة من أ.]] وَكَانُوا يُطْلِقُونَ "اَلرَّبَّ" [[في ت، أ: "ذلك".]] عَلَى السَّيِّدِ وَالْكَبِيرِ، أَيْ: إِنَّ بَعْلَكِ رَبِّي أَحْسَنَ [[في ت، أ: "أكرم".]] مَثْوَايَ أَيْ: مَنْزِلِي وَأَحْسَنَ إِلَيَّ، فَلَا أُقَابِلُهُ بِالْفَاحِشَةِ فِي أَهْلِهِ، ﴿إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ﴾ قَالَ ذَلِكَ مُجَاهِدٌ، وَالسُّدِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمْ.
وَقَدِ اخْتَلَفَ الْقُرَّاءُ فِي قِرَاءَةِ: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ فَقَرَأَهُ كَثِيرُونَ بِفَتْحِ الْهَاءِ، وَإِسْكَانِ الْيَاءِ، وَفَتْحِ التَّاءِ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ: مَعْنَاهُ: أَنَّهَا تَدْعُوهُ إِلَى نَفْسِهَا. وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، وَالْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ تَقُولُ: هَلُمَّ لَكَ. وَكَذَا قَالَ زِرّ بْنُ حُبَيْشٍ، وعِكْرِمة، وَالْحَسَنُ وَقَتَادَةُ.
قَالَ عَمْرُو بْنُ عبُيَد، عَنِ الْحَسَنِ: وَهِيَ كَلِمَةٌ بِالسُّرْيَانِيَّةِ، أَيْ: عَلَيْكَ.
وَقَالَ السُّدِّيُّ: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ أَيْ: هَلُمَّ لَكَ، وَهِيَ بِالْقِبْطِيَّةِ.
قَالَ مُجَاهِدٌ: هِيَ لُغَةٌ عَرَبِيَّةٌ [[في ت: "غريبة".]] تَدْعُوهُ بِهَا.
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ عِكْرِمَةُ: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ هَلُم لَكَ بالحَوْرَانية.
وَهَكَذَا ذَكَرَهُ مُعَلَّقًا، وَقَدْ أَسْنَدَهُ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سُهَيْل الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّة بْنُ قيسى، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ الجَزَري [[في ت: "+غربي +الحوري".]] ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ قَالَ: هَلُمَّ لَكَ. قَالَ: هِيَ بالْحَوْرَانِيَّةِ.
وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ: وَكَانَ الْكِسَائِيُّ يَحْكِي [[في ت، أ: "يحب".]] هَذِهِ الْقِرَاءَةَ -يَعْنِي: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ -وَيَقُولُ: هِيَ لُغَةٌ، لِأَهْلِ حَوْران، وَقَعَتْ إِلَى أَهْلِ الْحِجَازِ، مَعْنَاهَا: تَعَالَ. وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: سَأْلَتُ شَيْخًا عَالِمًا مِنْ أَهْلِ حَوْرَانَ، فَذَكَرَ أَنَّهَا لغتهم يعرفها.
وَاسْتَشْهَدَ الْإِمَامُ ابْنُ جَرِيرٍ عَلَى هَذِهِ الْقِرَاءَةِ بِقَوْلِ [[في ت: "قول".]] الشَّاعِرِ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
أَبْلْغ أَمِيَر المؤمِنين ... أَخا العِراَقِ إذَا أَتَينَا ...
إنَّ العِراقَ وَأَهْلَهُ ... عُنُقٌ إليكَ فَهَيتَ هَيْتا ...
يَقُولُ: فَتَعَالَ وَاقْتَرِبْ [[تفسير الطبري (١٦/٢٥) .]]
وَقَرَأَ ذَلِكَ آخَرُونَ: "هِئتُ لَكَ" بِكَسْرِ الْهَاءِ وَالْهَمْزَةِ، وَضَمِّ التَّاءِ، بِمَعْنَى: تَهَيَّأْتُ لَكَ، مِنْ قَوْلِ الْقَائِلِ: هِئْتُ لِلْأَمْرِ أهىِ هيْئَة وَمِمَّنْ رُوِيَ عَنْهُ هَذِهِ الْقِرَاءَةُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو وَائِلٍ، وَعِكْرِمَةُ، وَقَتَادَةُ، وَكُلُّهُمْ يُفَسِّرُهَا بِمَعْنَى: تَهَيَّأْتُ لَكَ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَكَانَ أَبُو عَمْرٍو وَالْكِسَائِيُّ يُنْكِرَانِ هَذِهِ الْقِرَاءَةَ. وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ [[في ت: "عبد الله بن أبي إسحاق".]] هَيْتِ"،" بِفَتْحِ الْهَاءِ وَكَسْرِ التَّاءِ: وَهِيَ غَرِيبَةٌ.
وَقَرَأَ آخَرُونَ، مِنْهُمْ عَامَّةُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ "هَيْتُ" بِفَتْحِ الْهَاءِ، وَضَمِّ التَّاءِ، وَأَنْشَدَ [[في ت، أ: "وأنشدوا".]] قَوْلَ الشَّاعِرِ: [[هو طرفة بن العبد، والبيت في تفسير الطبري (١٦/٣٠) .]]
لَيسَ قَومِي بالأبْعَدِين إِذَا مَا ... قَالَ دَاعٍ منَ العَشِيرِةَ: هَيتُ ...
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: قَدْ سَمِعْتُ القَرَأة فَسَمِعْتُهُمْ مُتَقَارِبِينَ، فَاقْرَءُوا كَمَا عُلِّمتم، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَالِاخْتِلَافَ، فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ: "هَلُمَّ" وَ"تَعَالَ" ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ نَاسًا يَقْرَءُونَهَا: "هَيْتُ [لَك] " [[زيادة من أ.]] ؟ فَقَالَ عبد الله: إني أقرأها كَمَا عُلِّمت، أَحَبُّ إِلَيَّ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٧٩) .]]
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنة، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: إِنَّ نَاسًا يَقْرَءُونَهَا: "هَيْتُ لَك"؟ فَقَالَ: دَعُونِي، فَإِنِّي أَقْرَأُ كَمَا أقْرِئتُ، أَحَبُّ إِلَيَّ [[تفسير الطبري (١٦/٣١) .]]
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قال: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ بنصب الهاء والتاء ولا بهمز.
وَقَالَ [[في ت: "وقرأ".]] آخَرُونَ: "هِيْتُ لَك"، بِكَسْرِ الْهَاءِ، وَإِسْكَانِ الْيَاءِ، وَضَمِّ التَّاءِ.
قَالَ أَبُو عُبَيدة مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى: "هَيْتَ" لَا تُثَنَّى وَلَا تُجْمَعُ وَلَا تُؤَنَّثُ، بَلْ يُخَاطَبُ الْجَمِيعُ بِلَفْظٍ وَاحِدٍ، فيقال: هيتَ لَك، وهيتَ لك، ِ وهيتَ لَكُمَا، وهيتَ لَكُمْ، وهيتَ لَهُنَّ [[في أ: "لهم".]]
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَٰنَ رَبِّهِۦ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ
And she certainly determined [to seduce] him, and he would have inclined to her had he not seen the proof of his Lord. And thus [it was] that We should avert from him evil and immorality. Indeed, he was of Our chosen servants.
اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے
آن زن قصد او کرد؛ و او نیز -اگر برهان پروردگار را نمیدید- قصد وی مینمود! اینچنین کردیم تا بدی و فحشا را از او دور سازیم؛ چرا که او از بندگان مخلص ما بود!
Tafsir Ibn Kathir
And indeed she did desire him, and he would have inclined to her desire, had he not seen the evidence of his Lord. Thus it was, that We might turn away from him evil and immoval sins. Surely, he was one of Our Mukhlasin servants.) This is about the thoughts that cross the mind, according to Al-Baghawi who mentioned this opinion from some of the analysts. Al-Baghawi next mentioned here a Hadith that he narrated from 'Abdur Razzaq, from Ma'mar, from Hammam, from Abu Hurayrah, from the Messenger of Allah (pbuh (24)
يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً، فَإِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرّائِي، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا
(Allah the Exalted said, 'If my slave intends to perform a good deed, then record it for him as one good deed; if he performs it, then record it for him multiplied ten folds. If he intends to commit an evil act but did not commit it, then record it for him as one good deed, if he left it for My sake. But if he commits it, then write it as one evil deed.')
This Hadith was also collected in the Two Sahihs using various wording, this is one of them. It was also reported that the Ayah means that Yusuf was about to beat her. As for the evidence that Yusuf saw at that moment, there are conflicting opinions to what it was. Ibn Jarir At-Tabari said, "The correct opinion is that we should say that he saw an Ayah from among Allah's Ayat that repelled the thought that crossed his mind. This evidence might have been the image of Ya'qub, or the image of an angel, or a divine statement that forbade him from doing that evil sin, etc. There are no clear proofs to support any of these statements in specific, so it should be left vague, as Allah left it. Allah's statement next,
كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ
(Thus it was, that We might turn away from him evil and immoral sins.) means, 'Just as We showed him the evidence that turned him away from that sin, We save him from all types of evil and illegal sexual activity in all his affairs,' because,
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ
(Surely, he was one of Our Mukhlasin servants.) meaning, chosen, purified, designated, appointed and righteous. May Allah's peace and blessings be on him."
Tafsir Ibn Kathir
یوسف ؑ کے تقدس کا سبب سلف کی ایک جماعت سے تو اس آیت کے بارے میں وہ مروی ہے جو ابن جریر وغیرہ لائے ہیں اور کہا گیا ہے کہ یوسف ؑ کا قصد اس عورت کے ساتھ صرف نفس کا کھٹکا تھا۔ بغوی کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کا فرمان ہے کہ جب میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو تم اس کی نیکی لکھ لو۔ اور جب اس نیکی کو کر گزرے تو اس جیسی دس گنی نیکی لکھ لو۔ اور اگر کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اسے نہ کرے تو اس کے لیے نیکی لکھ لو۔ کیونکہ اس نے میری وجہ سے اس برائی کو چھوڑا ہے۔ اور اگر اس برائی کو ہی کر گزرے تو اس کے برابر اسے لکھ لو۔ اس حدیث کے الفاظ اور بھی کئی ایک ہیں اصل بخاری، مسلم میں بھی ہے۔ ایک قول ہے کہ حضرت یوسف نے اسے مارنے کا قصد کیا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے بیوی بنانے کی تمنا کی تھی۔ ایک قول ہے کہ آپ قصد کرتے اگر اگر دلیل نہ دیکھتے لیکن چونکہ دلیل دیکھ لی قصد نہیں فرمایا۔ لیکن اس قول میں عربی زبان کی حیثیت سے کلام ہے جسے امام ابن جریر وغیرہ نے بیان فرمایا ہے۔ یہ تو تھے اقوال قصد یوسف کے متعلق۔ وہ دلیل جو آپ نے دیکھی اس کے متعلق بھی اقوال ملاحظہ فرمائیے۔ کہتے ہیں اپنے والد حضرت یعقوب کو دیکھا کہ گویا وہ اپنی انگلی منہ میں ڈالے کھڑے ہیں۔ اور حضرت یوسف کے سینے پر آپ نے ہاتھ مارا۔ کہتے ہیں اپنے سردار کی خیالی تصویر سامنے آگئی۔ کہتے ہیں آپ کی نظر چھت کی طرف اٹھ گئی دیکھتے ہیں کہ اس پر یہ آیت لکھی ہوئی ہے (آیت لا تقربو الزنی انہ کان فاحشتہ و مقتا و ساء سبیلا) خبردار زنا کے قریب بھی نہ بھٹکنا وہ بڑی بےحیائی کا اور اللہ کے غضب کا کام ہے اور وہ بڑا ہی برا راستہ ہے۔ کہتے ہیں تین آیتیں لکھی ہوئی تھیں ایک تو (وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ 10 ۙ) 82۔ الإنفطار :10) تم پر نگہبان مقرر ہیں۔ دوسری (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْه 61) 10۔ یونس :61) تم جس حال میں ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ تیسری (اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ 33۔) 13۔ الرعد :33) اللہ ہر شخص کے ہر عمل پر حاضر ناظر ہے کہتے ہیں کہ چار آیتیں لکھی پائی تین وہی جو اوپر ہیں اور ایک حرمت زنا کی جو اس سے پہلے ہے۔ کہتے ہیں کہ کوئی آیت دیوار پر ممانعت زنا کے بارے میں لکھی ہوئی پائی۔ کہتے ہیں ایک نشان تھا جو آپ کے ارادے سے آپ کو روک رہا تھا۔ ممکن ہے وہ صورت یعقوب ہو۔ اور ممکن ہے اپنے خریدنے والے کی صورت ہو۔ اور ممکن ہے آیت قرآنی ہو کوئی ایسی صاف دلیل نہیں کہ کسی خاص ایک چیز کے فیصلے پر ہم پہنچ سکیں۔ پس بہت ٹھیک راہ ہمارے لیے یہی ہے کہ اسے یونہی مطلق چھوڑ دیا جائے جیسے کہ اللہ کے فرمان میں بھی اطلاق ہے (اسی طرح قصد کو بھی) پھر فرماتا ہے ہم نے جس طرح اس وقت اسے ایک دلیل دکھا کر برائی سے بچا لیا، اسی طرح اس کے اور کاموں میں بھی ہم اس کی مدد کرتے رہے اور اسے برائیوں اور بےحیائیوں سے محفوظ رکھتے رہے۔ وہ تھا بھی ہمارا برگزیدہ پسندیدہ بہترین اور مخلص بندہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر درود وسلام نازل ہوں۔
Tafsir Ibn Kathir
اخْتَلَفَتْ أَقْوَالُ النَّاسِ وَعِبَارَاتُهُمْ فِي هَذَا الْمَقَامِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَطَائِفَةٍ مِنَ السَّلَفِ فِي ذَلِكَ مَا ذَكَرَهُ ابْنُ جَرِيرٍ وَغَيْرُهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: الْمُرَادُ بِهَمِّهِ بِهَا هَمّ خَطَرات حَدِيثِ [[في ت، أ: "وحديث".]] النَّفْسِ. حَكَاهُ الْبَغَوِيُّ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ التَّحْقِيقِ، ثُمَّ أَوْرَدَ [[في أ: "وأورد".]] الْبَغَوِيُّ هَاهُنَا حَدِيثَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِذَا هَمّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، فَإِنَّ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً، فَإِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرّائي، فَإِنْ عَمَلِهَا فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا" [[معالم التنزيل (٤/٢٣١) .]] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ [[صحيح البخاري برقم (٧٥٠١) وصحيح مسلم برقم (٢٠٥) .]] وَلَهُ أَلْفَاظٌ كَثِيرَةٌ، هَذَا مِنْهَا.
وَقِيلَ: هَمَّ بِضَرْبِهَا. وَقِيلَ: تَمَنَّاهَا زَوْجَةً. وَقِيلَ: ﴿وَهَمَّ بِهَا لَوْلا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ﴾ أَيْ: فَلَمْ يَهِمَّ بِهَا.
وَفِي هَذَا الْقَوْلِ نَظَرٌ مِنْ حَيْثُ الْعَرَبِيَّةِ، ذَكَرَهُ ابْنُ جَرِيرٍ وَغَيْرُهُ [[تفسير الطبري (١٦/٣٨، ٣٩) وما ذكره الحافظ هنا في معنى الهم غير مسلم به، والراجح هو ما اختاره أبو حيان في تفسيره ونقله عنه العلامة الشنقيطي في "أضواء البيان" (٣/٦٠) وقال: "والجواب الثاني - وهو الذي اختاره أبو حيان - أن يوسف لم يقع منه هم أصلا، بل هو +منفى عنه لوجود البرهان. . ." وانظر بقية كلامه هناك.]] .
وَأَمَّا الْبُرْهَانُ الَّذِي رَآهُ فَفِيهِ أَقْوَالٌ أَيْضًا: فَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، وَالْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، وَأَبِي صَالِحٍ، وَالضَّحَّاكِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَغَيْرِهِمْ: رَأَى صُورَةَ أَبِيهِ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَاضًّا عَلَى أُصْبُعِهِ بِفَمِهِ [[في ت، أ: "يعظه".]] .
وَقِيلَ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِ يُوسُفَ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: رَأَى خَيَالَ [[في ت، أ: "تمثال".]] الْمَلِكِ، يَعْنِي: سَيِّدَهُ، وكذا قال محمد بن إسحاق، فِيمَا حَكَاهُ عَنْ بَعْضِهِمْ: إِنَّمَا هُوَ خَيَالُ إِطْفِيرَ سَيِّدِهِ، حِينَ دَنَا مِنَ الْبَابِ [[قال شيخ الإسلام ابن تيمية - رحمه الله - في الفتاوى (١٠/٢٩٧) : "وما ينقل من أنه حل سراويله وجلس مجلس الرجل من المرأة وأنه رأى صورة يعقوب عاضا على يده وأمثال ذلك، فهو مما لم يخبر الله به ولا رسوله، وما لم يكن كذلك، فإنما هو مأخوذ عن اليهود الذين هم من أعظم الناس كذبا على الأنبياء، وقدحا فيهم، وكل من نقله من المسلمين فعنهم نقله، لم ينقل من ذلك أحد عن نبينا صلى الله عليه وسلم حرفا واحدا". وانظر: الإسرائيليات في كتب التفسير لمحمد أبو شهبة (ص ٢٢٠ - ٢٢٥) .]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ [[في ت: "مردود".]] سَمِعْتُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ القُرَظي قَالَ: رَفَعَ يُوسُفُ رَأْسَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ، فَإِذَا كِتَابٌ فِي حَائِطِ الْبَيْتِ: ﴿وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٣٢]
وَكَذَا رَوَاهُ أَبُو مَعْشَر الْمَدَنِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ.
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقُرَظِيَّ يَقُولُ فِي: "الْبُرْهَانِ" الَّذِي رَأَى يُوسُفُ: ثَلَاثُ آيَاتٍ مِنْ كتاب الله ﴿وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ﴾ الْآيَةَ [الِانْفِطَارِ: ١٠] ، وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ﴾ الْآيَةَ: [يُونُسَ: ٦١] ، وَقَوْلُهُ: ﴿أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ﴾ [الرَّعْدِ: ٣٣] قَالَ نَافِعٌ: سَمِعْتُ أَبَا هِلَالٍ يَقُولُ مِثْلَ قَوْلِ الْقُرَظِيِّ، وَزَادَ آيَةً رَابِعَةً ﴿وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٣٢]
وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: رَأَى آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فِي الْجِدَارِ تَنْهَاهُ [[في ت، أ: "والجدار نهاه".]] عَنْ ذَلِكَ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَالصَّوَابُ أَنْ يُقَالَ: إِنَّهُ رَأَى مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَا زَجَرَهُ عَمَّا كَانَ هَمَّ بِهِ، وَجَائِزٌ أَنْ يَكُونَ صُورَةَ يَعْقُوبَ، وَجَائِزٌ أَنْ يَكُونَ [صُورَةَ] [[زيادة من ت، أ.]] الْمَلِكِ، وَجَائِزٌ أَنْ يَكُونَ مَا رَآهُ مَكْتُوبًا مِنَ الزَّجْرِ عَنْ ذَلِكَ. وَلَا حُجَّةَ قَاطِعَةٌ عَلَى تَعْيِينِ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ، فَالصَّوَابُ أَنْ يُطْلَقَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى.
قَالَ: وَقَوْلُهُ: ﴿كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ﴾ أَيْ: كَمَا أَرَيْنَاهُ بُرْهَانًا صَرَفَهُ عَمَّا كَانَ فِيهِ، كَذَلِكَ نَقِيهِ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ.
﴿إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ﴾ أَيْ: مِنَ الْمُجْتَبِينَ الْمُطَهَّرِينَ الْمُخْتَارِينَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ.
وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍۢ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ ۚ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
And they both raced to the door, and she tore his shirt from the back, and they found her husband at the door. She said, "What is the recompense of one who intended evil for your wife but that he be imprisoned or a painful punishment?"
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے
و هر دو به سوی در، دویدند (در حالی که همسر عزیز، یوسف را تعقیب میکرد)؛ و پیراهن او را از پشت (کشید و) پاره کرد. و در این هنگام، آقای آن زن را دم در یافتند! آن زن گفت: «کیفر کسی که بخواهد نسبت به اهل تو خیانت کند، جز زندان و یا عذاب دردناک، چه خواهد بود؟!»
Tafsir Ibn Kathir
So they raced with one another to the door, and she tore his shirt from the back. They both found her master (i.e. her husband) at the door. She said: "What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife, except that he be put in prison or a painful torment? (25)He [Yusuf] said: "It was she that sought to seduce me;" and a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front, then her tale is true and he is a liar! (26)"But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth! (27)So when he (her husband) saw his [Yusuf's] shirt torn at the back, he (her husband) said: "Surely, it is a plot of you women! Certainly mighty is your plot! (28)"O Yusuf ! Turn away from this! (O woman!) Ask forgiveness for your sin, verily, you were of the sinful. (29)
Allah says that Yusuf and the wife of the 'Aziz raced to the door, Yusuf running away from her and her running after him to bring him back to the room. She caught up with him and held on to his shirt from the back, tearing it so terribly that it fell off Yusuf's back. Yusuf continued running from her, with her in pursuit. However, they found her master, her husband, at the front door. This is when she responded by deceit and evil plots, trying to exonerate herself and implicate him, saying,
مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا
(What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife…?), in reference to illegal sexual intercourse,
إِلَّا أَن يُسْجَنَ
(except that he be put in prison)
أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(or a painful torment?) tormented severely with painful beating. Yusuf did not stand idle, but he declared the truth and exonerated himself from the betrayal she accused him of,
قَالَ
(He [Yusuf] said), in truth and honesty,
هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي
(It was she that sought to seduce me), and mentioned that she pursued him and pulled him towards her until she tore his shirt.
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
(And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front..."), not from the back,
فَصَدَقَتْ
(then her tale is true) that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have sex with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front,
وَإِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!)
Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back.
There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. 'Abdur-Razzaq recorded that Ibn 'Abbas said that,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا
(and a witness of her household bore witness) "was a bearded man," meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn 'Abbas said, "He was from the king's entourage." Mujahid, 'Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا
(and a witness of her household bore witness) "He was a babe in the cradle. " Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa'id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the 'Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view. Allah's statement,
فَلَمَّا رَأَىٰ قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ
(So when he saw his [Yusuf's] shirt torn at the back,) indicates that when her husband became certain that Yusuf was telling the truth and that his wife was lying when she heralded the accusation of betrayal at Yusuf,
قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ
(he said: "Surely, it is a plot of you women!...") He said, 'This false accusation and staining the young man's reputation is but a plot of many that you, women, have,'
إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
(Certainly mighty is your plot!) The 'Aziz ordered Yusuf, peace be upon him, to be discrete about what happened,
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا
(O Yusuf! Turn away from this!), do not mention to anyone what has happened,
وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ
(And ask forgiveness for your sin,) addressing his wife. The 'Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, 'Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,'
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ
(verily, you were of the sinful.)
Tafsir Ibn Kathir
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہوسکتی۔ اب جب کہ حضرت یوسف نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کردینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں چھٹپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے حضرت یوسف صدیق کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواہ نے۔ جریج کے صاحب نے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے۔ مجاہد نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو حضرت یوسف کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہوگیا کہ یوسف سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر حضرت یوسف سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کردی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ حَالِهِمَا حِينَ خَرَجَا يَسْتَبِقَانِ إِلَى الْبَابِ، يُوسُفُ هَارِبٌ، وَالْمَرْأَةُ تَطْلُبُهُ لِيَرْجِعَ إِلَى الْبَيْتِ، فَلَحِقَتْهُ فِي أَثْنَاءِ ذَلِكَ، فَأَمْسَكَتْ بِقَمِيصِهِ [مِنْ وَرَائِهِ] [[زيادة من ت، أ.]] فَقَدَّته [[في ت، أ: "فقدت".]] قَدًّا فَظِيعًا، يُقَالُ: إِنَّهُ سَقَطَ عَنْهُ، وَاسْتَمَرَّ يُوسُفُ هَارِبًا ذَاهِبًا، وَهِيَ فِي إِثْرِهِ، فَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا -وَهُوَ زَوْجُهَا -عِنْدَ الْبَابِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ خَرَجَتْ مِمَّا هِيَ فِيهِ بِمَكْرِهَا وَكَيْدِهَا، وَقَالَتْ لِزَوْجِهَا مُتَنَصِّلَةً وَقَاذِفَةً يُوسُفَ بَدَائَهَا: ﴿مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا﴾ أَيْ: [[في ت، أ: "تعني".]] فَاحِشَةً، ﴿إِلا أَنْ يُسْجَنَ﴾ أَيْ: يُحْبَسَ، ﴿أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: يُضْرَبَ ضَرْبًا شَدِيدًا مُوجِعًا. فَعِنْدَ ذَلِكَ انْتَصَرَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِالْحَقِّ، وَتَبْرَّأَ مِمَّا رَمَتْهُ بِهِ مِنَ الْخِيَانَةِ، وَقَالَ بَارًّا صَادِقًا [[في ت: "صادقا بارا".]] ﴿هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي﴾ وَذَكَرَ أَنَّهَا اتَّبَعَتْهُ تَجْذِبُهُ إِلَيْهَا حَتَّى قَدَّتْ قَمِيصَهُ، ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ﴾ أَيْ: مِنْ قُدَّامِهِ، ﴿فَصَدَقَتْ﴾ أَيْ: فِي قَوْلِهَا إِنَّهُ أَرَادَهَا عَلَى نَفْسِهَا، لِأَنَّهُ يَكُونُ لَمَّا دَعَاهَا وَأَبَتْ عَلَيْهِ دَفَعَتْهُ فِي صَدْرِهِ، فَقَدَّتْ قَمِيصَهُ، فَيَصِحُّ مَا قَالَتْ: ﴿وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ وَذَلِكَ يَكُونُ كَمَا وَقَعَ لَمَّا هَرَبَ مِنْهَا، وَتَطَلَّبَتْهُ أَمْسَكَتْ بِقَمِيصِهِ مِنْ وَرَائِهِ لِتَرُدَّهُ إِلَيْهَا، فَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِنْ وَرَائِهِ.
وَقَدِ اخْتَلَفُوا فِي هَذَا الشَّاهِدِ: هَلْ هُوَ صَغِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ، عَلَى قَوْلَيْنِ لِعُلَمَاءِ السَّلَفِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ:
أَخْبَرْنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا﴾ قَالَ: ذُو لِحْيَةٍ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ مِنْ خَاصَّةِ الْمَلِكِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدِّي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: إِنَّهُ كَانَ رَجُلًا.
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، وَالسُّدِّيُّ: كَانَ ابْنَ عَمِّهَا.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ مِنْ خَاصَّةِ الْمَلِكِ.
وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ أَنَّ زُلَيْخَا كَانَتْ بِنْتَ أُخْتِ الْمَلِكِ الرَّيَّانِ بْنِ الْوَلِيدِ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا﴾ قَالَ: كَانَ صَبِيًّا فِي الْمَهْدِ. وَكَذَا رُوي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِلَالِ بْنِ يَسَاف، وَالْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَالضَّحَّاكِ بْنِ مُزاحم: أَنَّهُ كَانَ صَبِيًّا فِي الدَّارِ. وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَدْ وَرَدَ فِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ فَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ -أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قَالَ: "تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ"، فَذَكَرَ فِيهِمْ شَاهِدَ يُوسُفَ [[تفسير الطبري (١٦/٥٥) ورواه أحمد في المسند (١/٣١٠) والحاكم في المستدرك (٢/٤٩٦) من طريق حماد بن سلمة به، وصححه الحاكم ووافقه الذهبي.]] .
وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ: ابْنُ مَاشِطَةِ بِنْتِ فِرْعَوْنَ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَصَاحِبُ جُرَيْج، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ [[رواه العلاء بن عبد الجبار عن حماد موقوفا أخرجه الطبري في تفسيره (١٦/٥٤) .]] .
وَقَالَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: كَانَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ، وَلَمْ يَكُنْ إِنْسِيًّا. وَهَذَا قَوْلٌ غَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ﴾ أَيْ: فَلَمَّا تَحَقَّقَ زَوْجُهَا صدقَ يُوسُفَ وَكَذِبَهَا فِيمَا قَذَفَتْهُ وَرَمَتْهُ بِهِ، ﴿قَالَ إِنَّهُ مِنْ كَيْدِكُنَّ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الْبُهْتَ واللَّطخ الَّذِي لَطَّخْتِ عِرْضَ هَذَا الشَّابِّ بِهِ مِنْ جُمْلَةِ كَيْدِكُنَّ، ﴿إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ﴾
ثُمَّ قَالَ آمِرًا لِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِكِتْمَانِ مَا وَقَعَ: يَا ﴿يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا﴾ أَيِ: اضْرِبْ عَنْ هَذَا [الْأَمْرِ] [[زيادة من ت.]] صَفْحًا، فَلَا تَذْكُرْهُ لِأَحَدٍ، ﴿وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ يَقُولُ لِاِمْرَأَتِهِ وَقَدْ كَانَ لَيِّنَ الْعَرِيكَةِ سَهْلًا أَوْ أَنَّهُ عَذَرَهَا؛ لِأَنَّهَا رَأَتْ مَا لَا صَبْرَ لَهَا عَنْهُ، فَقَالَ لَهَا: ﴿وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ أَيِ: الَّذِي [[في ت، أ: "للذي".]] وَقَعَ مِنْكِ مِنْ إِرَادَةِ السُّوءِ بِهَذَا الشَّابِّ، ثُمَّ قَذْفه بِمَا هُوَ بَرِيءٌ مِنْهُ، اسْتَغْفِرِي مِنْ هَذَا الَّذِي وَقَعَ مِنْكِ، ﴿إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ﴾
قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى ۚ وَشَهِدَ شَاهِدٌۭ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍۢ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ
[Joseph] said, "It was she who sought to seduce me." And a witness from her family testified. "If his shirt is torn from the front, then she has told the truth, and he is of the liars.
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
(یوسف) گفت: «او مرا با اصرار به سوی خود دعوت کرد!» و در این هنگام، شاهدی از خانواده آن زن شهادت داد که: «اگر پیراهن او از پیش رو پاره شده، آن آن راست میگوید، و او از دروغگویان است.
Tafsir Ibn Kathir
So they raced with one another to the door, and she tore his shirt from the back. They both found her master (i.e. her husband) at the door. She said: "What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife, except that he be put in prison or a painful torment? (25)He [Yusuf] said: "It was she that sought to seduce me;" and a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front, then her tale is true and he is a liar! (26)"But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth! (27)So when he (her husband) saw his [Yusuf's] shirt torn at the back, he (her husband) said: "Surely, it is a plot of you women! Certainly mighty is your plot! (28)"O Yusuf ! Turn away from this! (O woman!) Ask forgiveness for your sin, verily, you were of the sinful. (29)
Allah says that Yusuf and the wife of the 'Aziz raced to the door, Yusuf running away from her and her running after him to bring him back to the room. She caught up with him and held on to his shirt from the back, tearing it so terribly that it fell off Yusuf's back. Yusuf continued running from her, with her in pursuit. However, they found her master, her husband, at the front door. This is when she responded by deceit and evil plots, trying to exonerate herself and implicate him, saying,
مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا
(What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife…?), in reference to illegal sexual intercourse,
إِلَّا أَن يُسْجَنَ
(except that he be put in prison)
أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(or a painful torment?) tormented severely with painful beating. Yusuf did not stand idle, but he declared the truth and exonerated himself from the betrayal she accused him of,
قَالَ
(He [Yusuf] said), in truth and honesty,
هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي
(It was she that sought to seduce me), and mentioned that she pursued him and pulled him towards her until she tore his shirt.
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
(And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front..."), not from the back,
فَصَدَقَتْ
(then her tale is true) that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have sex with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front,
وَإِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!)
Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back.
There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. 'Abdur-Razzaq recorded that Ibn 'Abbas said that,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا
(and a witness of her household bore witness) "was a bearded man," meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn 'Abbas said, "He was from the king's entourage." Mujahid, 'Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا
(and a witness of her household bore witness) "He was a babe in the cradle. " Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa'id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the 'Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view. Allah's statement,
فَلَمَّا رَأَىٰ قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ
(So when he saw his [Yusuf's] shirt torn at the back,) indicates that when her husband became certain that Yusuf was telling the truth and that his wife was lying when she heralded the accusation of betrayal at Yusuf,
قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ
(he said: "Surely, it is a plot of you women!...") He said, 'This false accusation and staining the young man's reputation is but a plot of many that you, women, have,'
إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
(Certainly mighty is your plot!) The 'Aziz ordered Yusuf, peace be upon him, to be discrete about what happened,
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا
(O Yusuf! Turn away from this!), do not mention to anyone what has happened,
وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ
(And ask forgiveness for your sin,) addressing his wife. The 'Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, 'Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,'
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ
(verily, you were of the sinful.)
Tafsir Ibn Kathir
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہوسکتی۔ اب جب کہ حضرت یوسف نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کردینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں چھٹپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے حضرت یوسف صدیق کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواہ نے۔ جریج کے صاحب نے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے۔ مجاہد نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو حضرت یوسف کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہوگیا کہ یوسف سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر حضرت یوسف سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کردی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ حَالِهِمَا حِينَ خَرَجَا يَسْتَبِقَانِ إِلَى الْبَابِ، يُوسُفُ هَارِبٌ، وَالْمَرْأَةُ تَطْلُبُهُ لِيَرْجِعَ إِلَى الْبَيْتِ، فَلَحِقَتْهُ فِي أَثْنَاءِ ذَلِكَ، فَأَمْسَكَتْ بِقَمِيصِهِ [مِنْ وَرَائِهِ] [[زيادة من ت، أ.]] فَقَدَّته [[في ت، أ: "فقدت".]] قَدًّا فَظِيعًا، يُقَالُ: إِنَّهُ سَقَطَ عَنْهُ، وَاسْتَمَرَّ يُوسُفُ هَارِبًا ذَاهِبًا، وَهِيَ فِي إِثْرِهِ، فَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا -وَهُوَ زَوْجُهَا -عِنْدَ الْبَابِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ خَرَجَتْ مِمَّا هِيَ فِيهِ بِمَكْرِهَا وَكَيْدِهَا، وَقَالَتْ لِزَوْجِهَا مُتَنَصِّلَةً وَقَاذِفَةً يُوسُفَ بَدَائَهَا: ﴿مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا﴾ أَيْ: [[في ت، أ: "تعني".]] فَاحِشَةً، ﴿إِلا أَنْ يُسْجَنَ﴾ أَيْ: يُحْبَسَ، ﴿أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: يُضْرَبَ ضَرْبًا شَدِيدًا مُوجِعًا. فَعِنْدَ ذَلِكَ انْتَصَرَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِالْحَقِّ، وَتَبْرَّأَ مِمَّا رَمَتْهُ بِهِ مِنَ الْخِيَانَةِ، وَقَالَ بَارًّا صَادِقًا [[في ت: "صادقا بارا".]] ﴿هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي﴾ وَذَكَرَ أَنَّهَا اتَّبَعَتْهُ تَجْذِبُهُ إِلَيْهَا حَتَّى قَدَّتْ قَمِيصَهُ، ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ﴾ أَيْ: مِنْ قُدَّامِهِ، ﴿فَصَدَقَتْ﴾ أَيْ: فِي قَوْلِهَا إِنَّهُ أَرَادَهَا عَلَى نَفْسِهَا، لِأَنَّهُ يَكُونُ لَمَّا دَعَاهَا وَأَبَتْ عَلَيْهِ دَفَعَتْهُ فِي صَدْرِهِ، فَقَدَّتْ قَمِيصَهُ، فَيَصِحُّ مَا قَالَتْ: ﴿وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ وَذَلِكَ يَكُونُ كَمَا وَقَعَ لَمَّا هَرَبَ مِنْهَا، وَتَطَلَّبَتْهُ أَمْسَكَتْ بِقَمِيصِهِ مِنْ وَرَائِهِ لِتَرُدَّهُ إِلَيْهَا، فَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِنْ وَرَائِهِ.
وَقَدِ اخْتَلَفُوا فِي هَذَا الشَّاهِدِ: هَلْ هُوَ صَغِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ، عَلَى قَوْلَيْنِ لِعُلَمَاءِ السَّلَفِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ:
أَخْبَرْنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا﴾ قَالَ: ذُو لِحْيَةٍ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ مِنْ خَاصَّةِ الْمَلِكِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدِّي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: إِنَّهُ كَانَ رَجُلًا.
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، وَالسُّدِّيُّ: كَانَ ابْنَ عَمِّهَا.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ مِنْ خَاصَّةِ الْمَلِكِ.
وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ أَنَّ زُلَيْخَا كَانَتْ بِنْتَ أُخْتِ الْمَلِكِ الرَّيَّانِ بْنِ الْوَلِيدِ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا﴾ قَالَ: كَانَ صَبِيًّا فِي الْمَهْدِ. وَكَذَا رُوي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِلَالِ بْنِ يَسَاف، وَالْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَالضَّحَّاكِ بْنِ مُزاحم: أَنَّهُ كَانَ صَبِيًّا فِي الدَّارِ. وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَدْ وَرَدَ فِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ فَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ -أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قَالَ: "تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ"، فَذَكَرَ فِيهِمْ شَاهِدَ يُوسُفَ [[تفسير الطبري (١٦/٥٥) ورواه أحمد في المسند (١/٣١٠) والحاكم في المستدرك (٢/٤٩٦) من طريق حماد بن سلمة به، وصححه الحاكم ووافقه الذهبي.]] .
وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ: ابْنُ مَاشِطَةِ بِنْتِ فِرْعَوْنَ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَصَاحِبُ جُرَيْج، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ [[رواه العلاء بن عبد الجبار عن حماد موقوفا أخرجه الطبري في تفسيره (١٦/٥٤) .]] .
وَقَالَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: كَانَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ، وَلَمْ يَكُنْ إِنْسِيًّا. وَهَذَا قَوْلٌ غَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ﴾ أَيْ: فَلَمَّا تَحَقَّقَ زَوْجُهَا صدقَ يُوسُفَ وَكَذِبَهَا فِيمَا قَذَفَتْهُ وَرَمَتْهُ بِهِ، ﴿قَالَ إِنَّهُ مِنْ كَيْدِكُنَّ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الْبُهْتَ واللَّطخ الَّذِي لَطَّخْتِ عِرْضَ هَذَا الشَّابِّ بِهِ مِنْ جُمْلَةِ كَيْدِكُنَّ، ﴿إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ﴾
ثُمَّ قَالَ آمِرًا لِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِكِتْمَانِ مَا وَقَعَ: يَا ﴿يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا﴾ أَيِ: اضْرِبْ عَنْ هَذَا [الْأَمْرِ] [[زيادة من ت.]] صَفْحًا، فَلَا تَذْكُرْهُ لِأَحَدٍ، ﴿وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ يَقُولُ لِاِمْرَأَتِهِ وَقَدْ كَانَ لَيِّنَ الْعَرِيكَةِ سَهْلًا أَوْ أَنَّهُ عَذَرَهَا؛ لِأَنَّهَا رَأَتْ مَا لَا صَبْرَ لَهَا عَنْهُ، فَقَالَ لَهَا: ﴿وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ أَيِ: الَّذِي [[في ت، أ: "للذي".]] وَقَعَ مِنْكِ مِنْ إِرَادَةِ السُّوءِ بِهَذَا الشَّابِّ، ثُمَّ قَذْفه بِمَا هُوَ بَرِيءٌ مِنْهُ، اسْتَغْفِرِي مِنْ هَذَا الَّذِي وَقَعَ مِنْكِ، ﴿إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ﴾
وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍۢ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
But if his shirt is torn from the back, then she has lied, and he is of the truthful."
اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے
و اگر پیراهنش از پشت پاره شده، آن زن دروغ میگوید، و او از راستگویان است.»
Tafsir Ibn Kathir
So they raced with one another to the door, and she tore his shirt from the back. They both found her master (i.e. her husband) at the door. She said: "What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife, except that he be put in prison or a painful torment? (25)He [Yusuf] said: "It was she that sought to seduce me;" and a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front, then her tale is true and he is a liar! (26)"But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth! (27)So when he (her husband) saw his [Yusuf's] shirt torn at the back, he (her husband) said: "Surely, it is a plot of you women! Certainly mighty is your plot! (28)"O Yusuf ! Turn away from this! (O woman!) Ask forgiveness for your sin, verily, you were of the sinful. (29)
Allah says that Yusuf and the wife of the 'Aziz raced to the door, Yusuf running away from her and her running after him to bring him back to the room. She caught up with him and held on to his shirt from the back, tearing it so terribly that it fell off Yusuf's back. Yusuf continued running from her, with her in pursuit. However, they found her master, her husband, at the front door. This is when she responded by deceit and evil plots, trying to exonerate herself and implicate him, saying,
مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا
(What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife…?), in reference to illegal sexual intercourse,
إِلَّا أَن يُسْجَنَ
(except that he be put in prison)
أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(or a painful torment?) tormented severely with painful beating. Yusuf did not stand idle, but he declared the truth and exonerated himself from the betrayal she accused him of,
قَالَ
(He [Yusuf] said), in truth and honesty,
هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي
(It was she that sought to seduce me), and mentioned that she pursued him and pulled him towards her until she tore his shirt.
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
(And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front..."), not from the back,
فَصَدَقَتْ
(then her tale is true) that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have sex with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front,
وَإِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!)
Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back.
There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. 'Abdur-Razzaq recorded that Ibn 'Abbas said that,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا
(and a witness of her household bore witness) "was a bearded man," meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn 'Abbas said, "He was from the king's entourage." Mujahid, 'Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا
(and a witness of her household bore witness) "He was a babe in the cradle. " Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa'id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the 'Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view. Allah's statement,
فَلَمَّا رَأَىٰ قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ
(So when he saw his [Yusuf's] shirt torn at the back,) indicates that when her husband became certain that Yusuf was telling the truth and that his wife was lying when she heralded the accusation of betrayal at Yusuf,
قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ
(he said: "Surely, it is a plot of you women!...") He said, 'This false accusation and staining the young man's reputation is but a plot of many that you, women, have,'
إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
(Certainly mighty is your plot!) The 'Aziz ordered Yusuf, peace be upon him, to be discrete about what happened,
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا
(O Yusuf! Turn away from this!), do not mention to anyone what has happened,
وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ
(And ask forgiveness for your sin,) addressing his wife. The 'Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, 'Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,'
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ
(verily, you were of the sinful.)
Tafsir Ibn Kathir
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہوسکتی۔ اب جب کہ حضرت یوسف نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کردینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں چھٹپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے حضرت یوسف صدیق کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواہ نے۔ جریج کے صاحب نے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے۔ مجاہد نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو حضرت یوسف کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہوگیا کہ یوسف سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر حضرت یوسف سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کردی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ حَالِهِمَا حِينَ خَرَجَا يَسْتَبِقَانِ إِلَى الْبَابِ، يُوسُفُ هَارِبٌ، وَالْمَرْأَةُ تَطْلُبُهُ لِيَرْجِعَ إِلَى الْبَيْتِ، فَلَحِقَتْهُ فِي أَثْنَاءِ ذَلِكَ، فَأَمْسَكَتْ بِقَمِيصِهِ [مِنْ وَرَائِهِ] [[زيادة من ت، أ.]] فَقَدَّته [[في ت، أ: "فقدت".]] قَدًّا فَظِيعًا، يُقَالُ: إِنَّهُ سَقَطَ عَنْهُ، وَاسْتَمَرَّ يُوسُفُ هَارِبًا ذَاهِبًا، وَهِيَ فِي إِثْرِهِ، فَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا -وَهُوَ زَوْجُهَا -عِنْدَ الْبَابِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ خَرَجَتْ مِمَّا هِيَ فِيهِ بِمَكْرِهَا وَكَيْدِهَا، وَقَالَتْ لِزَوْجِهَا مُتَنَصِّلَةً وَقَاذِفَةً يُوسُفَ بَدَائَهَا: ﴿مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا﴾ أَيْ: [[في ت، أ: "تعني".]] فَاحِشَةً، ﴿إِلا أَنْ يُسْجَنَ﴾ أَيْ: يُحْبَسَ، ﴿أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: يُضْرَبَ ضَرْبًا شَدِيدًا مُوجِعًا. فَعِنْدَ ذَلِكَ انْتَصَرَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِالْحَقِّ، وَتَبْرَّأَ مِمَّا رَمَتْهُ بِهِ مِنَ الْخِيَانَةِ، وَقَالَ بَارًّا صَادِقًا [[في ت: "صادقا بارا".]] ﴿هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي﴾ وَذَكَرَ أَنَّهَا اتَّبَعَتْهُ تَجْذِبُهُ إِلَيْهَا حَتَّى قَدَّتْ قَمِيصَهُ، ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ﴾ أَيْ: مِنْ قُدَّامِهِ، ﴿فَصَدَقَتْ﴾ أَيْ: فِي قَوْلِهَا إِنَّهُ أَرَادَهَا عَلَى نَفْسِهَا، لِأَنَّهُ يَكُونُ لَمَّا دَعَاهَا وَأَبَتْ عَلَيْهِ دَفَعَتْهُ فِي صَدْرِهِ، فَقَدَّتْ قَمِيصَهُ، فَيَصِحُّ مَا قَالَتْ: ﴿وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ وَذَلِكَ يَكُونُ كَمَا وَقَعَ لَمَّا هَرَبَ مِنْهَا، وَتَطَلَّبَتْهُ أَمْسَكَتْ بِقَمِيصِهِ مِنْ وَرَائِهِ لِتَرُدَّهُ إِلَيْهَا، فَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِنْ وَرَائِهِ.
وَقَدِ اخْتَلَفُوا فِي هَذَا الشَّاهِدِ: هَلْ هُوَ صَغِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ، عَلَى قَوْلَيْنِ لِعُلَمَاءِ السَّلَفِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ:
أَخْبَرْنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا﴾ قَالَ: ذُو لِحْيَةٍ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ مِنْ خَاصَّةِ الْمَلِكِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدِّي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: إِنَّهُ كَانَ رَجُلًا.
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، وَالسُّدِّيُّ: كَانَ ابْنَ عَمِّهَا.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ مِنْ خَاصَّةِ الْمَلِكِ.
وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ أَنَّ زُلَيْخَا كَانَتْ بِنْتَ أُخْتِ الْمَلِكِ الرَّيَّانِ بْنِ الْوَلِيدِ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا﴾ قَالَ: كَانَ صَبِيًّا فِي الْمَهْدِ. وَكَذَا رُوي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِلَالِ بْنِ يَسَاف، وَالْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَالضَّحَّاكِ بْنِ مُزاحم: أَنَّهُ كَانَ صَبِيًّا فِي الدَّارِ. وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَدْ وَرَدَ فِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ فَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ -أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قَالَ: "تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ"، فَذَكَرَ فِيهِمْ شَاهِدَ يُوسُفَ [[تفسير الطبري (١٦/٥٥) ورواه أحمد في المسند (١/٣١٠) والحاكم في المستدرك (٢/٤٩٦) من طريق حماد بن سلمة به، وصححه الحاكم ووافقه الذهبي.]] .
وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ: ابْنُ مَاشِطَةِ بِنْتِ فِرْعَوْنَ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَصَاحِبُ جُرَيْج، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ [[رواه العلاء بن عبد الجبار عن حماد موقوفا أخرجه الطبري في تفسيره (١٦/٥٤) .]] .
وَقَالَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: كَانَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ، وَلَمْ يَكُنْ إِنْسِيًّا. وَهَذَا قَوْلٌ غَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ﴾ أَيْ: فَلَمَّا تَحَقَّقَ زَوْجُهَا صدقَ يُوسُفَ وَكَذِبَهَا فِيمَا قَذَفَتْهُ وَرَمَتْهُ بِهِ، ﴿قَالَ إِنَّهُ مِنْ كَيْدِكُنَّ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الْبُهْتَ واللَّطخ الَّذِي لَطَّخْتِ عِرْضَ هَذَا الشَّابِّ بِهِ مِنْ جُمْلَةِ كَيْدِكُنَّ، ﴿إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ﴾
ثُمَّ قَالَ آمِرًا لِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِكِتْمَانِ مَا وَقَعَ: يَا ﴿يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا﴾ أَيِ: اضْرِبْ عَنْ هَذَا [الْأَمْرِ] [[زيادة من ت.]] صَفْحًا، فَلَا تَذْكُرْهُ لِأَحَدٍ، ﴿وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ يَقُولُ لِاِمْرَأَتِهِ وَقَدْ كَانَ لَيِّنَ الْعَرِيكَةِ سَهْلًا أَوْ أَنَّهُ عَذَرَهَا؛ لِأَنَّهَا رَأَتْ مَا لَا صَبْرَ لَهَا عَنْهُ، فَقَالَ لَهَا: ﴿وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ أَيِ: الَّذِي [[في ت، أ: "للذي".]] وَقَعَ مِنْكِ مِنْ إِرَادَةِ السُّوءِ بِهَذَا الشَّابِّ، ثُمَّ قَذْفه بِمَا هُوَ بَرِيءٌ مِنْهُ، اسْتَغْفِرِي مِنْ هَذَا الَّذِي وَقَعَ مِنْكِ، ﴿إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ﴾
فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍۢ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ ۖ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌۭ
So when her husband saw his shirt torn from the back, he said, "Indeed, it is of the women's plan. Indeed, your plan is great.
اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں
هنگامی که (عزیز مصر) دید پیراهن او [= یوسف] از پشت پاره شده، گفت: «این از مکر و حیله شما زنان است؛ که مکر و حیله شما زنان، عظیم است!
Tafsir Ibn Kathir
So they raced with one another to the door, and she tore his shirt from the back. They both found her master (i.e. her husband) at the door. She said: "What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife, except that he be put in prison or a painful torment? (25)He [Yusuf] said: "It was she that sought to seduce me;" and a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front, then her tale is true and he is a liar! (26)"But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth! (27)So when he (her husband) saw his [Yusuf's] shirt torn at the back, he (her husband) said: "Surely, it is a plot of you women! Certainly mighty is your plot! (28)"O Yusuf ! Turn away from this! (O woman!) Ask forgiveness for your sin, verily, you were of the sinful. (29)
Allah says that Yusuf and the wife of the 'Aziz raced to the door, Yusuf running away from her and her running after him to bring him back to the room. She caught up with him and held on to his shirt from the back, tearing it so terribly that it fell off Yusuf's back. Yusuf continued running from her, with her in pursuit. However, they found her master, her husband, at the front door. This is when she responded by deceit and evil plots, trying to exonerate herself and implicate him, saying,
مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا
(What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife…?), in reference to illegal sexual intercourse,
إِلَّا أَن يُسْجَنَ
(except that he be put in prison)
أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(or a painful torment?) tormented severely with painful beating. Yusuf did not stand idle, but he declared the truth and exonerated himself from the betrayal she accused him of,
قَالَ
(He [Yusuf] said), in truth and honesty,
هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي
(It was she that sought to seduce me), and mentioned that she pursued him and pulled him towards her until she tore his shirt.
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
(And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front..."), not from the back,
فَصَدَقَتْ
(then her tale is true) that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have sex with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front,
وَإِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!)
Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back.
There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. 'Abdur-Razzaq recorded that Ibn 'Abbas said that,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا
(and a witness of her household bore witness) "was a bearded man," meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn 'Abbas said, "He was from the king's entourage." Mujahid, 'Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا
(and a witness of her household bore witness) "He was a babe in the cradle. " Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa'id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the 'Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view. Allah's statement,
فَلَمَّا رَأَىٰ قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ
(So when he saw his [Yusuf's] shirt torn at the back,) indicates that when her husband became certain that Yusuf was telling the truth and that his wife was lying when she heralded the accusation of betrayal at Yusuf,
قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ
(he said: "Surely, it is a plot of you women!...") He said, 'This false accusation and staining the young man's reputation is but a plot of many that you, women, have,'
إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
(Certainly mighty is your plot!) The 'Aziz ordered Yusuf, peace be upon him, to be discrete about what happened,
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا
(O Yusuf! Turn away from this!), do not mention to anyone what has happened,
وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ
(And ask forgiveness for your sin,) addressing his wife. The 'Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, 'Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,'
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ
(verily, you were of the sinful.)
Tafsir Ibn Kathir
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہوسکتی۔ اب جب کہ حضرت یوسف نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کردینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں چھٹپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے حضرت یوسف صدیق کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواہ نے۔ جریج کے صاحب نے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے۔ مجاہد نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو حضرت یوسف کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہوگیا کہ یوسف سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر حضرت یوسف سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کردی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ حَالِهِمَا حِينَ خَرَجَا يَسْتَبِقَانِ إِلَى الْبَابِ، يُوسُفُ هَارِبٌ، وَالْمَرْأَةُ تَطْلُبُهُ لِيَرْجِعَ إِلَى الْبَيْتِ، فَلَحِقَتْهُ فِي أَثْنَاءِ ذَلِكَ، فَأَمْسَكَتْ بِقَمِيصِهِ [مِنْ وَرَائِهِ] [[زيادة من ت، أ.]] فَقَدَّته [[في ت، أ: "فقدت".]] قَدًّا فَظِيعًا، يُقَالُ: إِنَّهُ سَقَطَ عَنْهُ، وَاسْتَمَرَّ يُوسُفُ هَارِبًا ذَاهِبًا، وَهِيَ فِي إِثْرِهِ، فَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا -وَهُوَ زَوْجُهَا -عِنْدَ الْبَابِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ خَرَجَتْ مِمَّا هِيَ فِيهِ بِمَكْرِهَا وَكَيْدِهَا، وَقَالَتْ لِزَوْجِهَا مُتَنَصِّلَةً وَقَاذِفَةً يُوسُفَ بَدَائَهَا: ﴿مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا﴾ أَيْ: [[في ت، أ: "تعني".]] فَاحِشَةً، ﴿إِلا أَنْ يُسْجَنَ﴾ أَيْ: يُحْبَسَ، ﴿أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: يُضْرَبَ ضَرْبًا شَدِيدًا مُوجِعًا. فَعِنْدَ ذَلِكَ انْتَصَرَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِالْحَقِّ، وَتَبْرَّأَ مِمَّا رَمَتْهُ بِهِ مِنَ الْخِيَانَةِ، وَقَالَ بَارًّا صَادِقًا [[في ت: "صادقا بارا".]] ﴿هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي﴾ وَذَكَرَ أَنَّهَا اتَّبَعَتْهُ تَجْذِبُهُ إِلَيْهَا حَتَّى قَدَّتْ قَمِيصَهُ، ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ﴾ أَيْ: مِنْ قُدَّامِهِ، ﴿فَصَدَقَتْ﴾ أَيْ: فِي قَوْلِهَا إِنَّهُ أَرَادَهَا عَلَى نَفْسِهَا، لِأَنَّهُ يَكُونُ لَمَّا دَعَاهَا وَأَبَتْ عَلَيْهِ دَفَعَتْهُ فِي صَدْرِهِ، فَقَدَّتْ قَمِيصَهُ، فَيَصِحُّ مَا قَالَتْ: ﴿وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ وَذَلِكَ يَكُونُ كَمَا وَقَعَ لَمَّا هَرَبَ مِنْهَا، وَتَطَلَّبَتْهُ أَمْسَكَتْ بِقَمِيصِهِ مِنْ وَرَائِهِ لِتَرُدَّهُ إِلَيْهَا، فَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِنْ وَرَائِهِ.
وَقَدِ اخْتَلَفُوا فِي هَذَا الشَّاهِدِ: هَلْ هُوَ صَغِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ، عَلَى قَوْلَيْنِ لِعُلَمَاءِ السَّلَفِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ:
أَخْبَرْنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا﴾ قَالَ: ذُو لِحْيَةٍ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ مِنْ خَاصَّةِ الْمَلِكِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدِّي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: إِنَّهُ كَانَ رَجُلًا.
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، وَالسُّدِّيُّ: كَانَ ابْنَ عَمِّهَا.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ مِنْ خَاصَّةِ الْمَلِكِ.
وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ أَنَّ زُلَيْخَا كَانَتْ بِنْتَ أُخْتِ الْمَلِكِ الرَّيَّانِ بْنِ الْوَلِيدِ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا﴾ قَالَ: كَانَ صَبِيًّا فِي الْمَهْدِ. وَكَذَا رُوي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِلَالِ بْنِ يَسَاف، وَالْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَالضَّحَّاكِ بْنِ مُزاحم: أَنَّهُ كَانَ صَبِيًّا فِي الدَّارِ. وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَدْ وَرَدَ فِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ فَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ -أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قَالَ: "تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ"، فَذَكَرَ فِيهِمْ شَاهِدَ يُوسُفَ [[تفسير الطبري (١٦/٥٥) ورواه أحمد في المسند (١/٣١٠) والحاكم في المستدرك (٢/٤٩٦) من طريق حماد بن سلمة به، وصححه الحاكم ووافقه الذهبي.]] .
وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ: ابْنُ مَاشِطَةِ بِنْتِ فِرْعَوْنَ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَصَاحِبُ جُرَيْج، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ [[رواه العلاء بن عبد الجبار عن حماد موقوفا أخرجه الطبري في تفسيره (١٦/٥٤) .]] .
وَقَالَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: كَانَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ، وَلَمْ يَكُنْ إِنْسِيًّا. وَهَذَا قَوْلٌ غَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ﴾ أَيْ: فَلَمَّا تَحَقَّقَ زَوْجُهَا صدقَ يُوسُفَ وَكَذِبَهَا فِيمَا قَذَفَتْهُ وَرَمَتْهُ بِهِ، ﴿قَالَ إِنَّهُ مِنْ كَيْدِكُنَّ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الْبُهْتَ واللَّطخ الَّذِي لَطَّخْتِ عِرْضَ هَذَا الشَّابِّ بِهِ مِنْ جُمْلَةِ كَيْدِكُنَّ، ﴿إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ﴾
ثُمَّ قَالَ آمِرًا لِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِكِتْمَانِ مَا وَقَعَ: يَا ﴿يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا﴾ أَيِ: اضْرِبْ عَنْ هَذَا [الْأَمْرِ] [[زيادة من ت.]] صَفْحًا، فَلَا تَذْكُرْهُ لِأَحَدٍ، ﴿وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ يَقُولُ لِاِمْرَأَتِهِ وَقَدْ كَانَ لَيِّنَ الْعَرِيكَةِ سَهْلًا أَوْ أَنَّهُ عَذَرَهَا؛ لِأَنَّهَا رَأَتْ مَا لَا صَبْرَ لَهَا عَنْهُ، فَقَالَ لَهَا: ﴿وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ أَيِ: الَّذِي [[في ت، أ: "للذي".]] وَقَعَ مِنْكِ مِنْ إِرَادَةِ السُّوءِ بِهَذَا الشَّابِّ، ثُمَّ قَذْفه بِمَا هُوَ بَرِيءٌ مِنْهُ، اسْتَغْفِرِي مِنْ هَذَا الَّذِي وَقَعَ مِنْكِ، ﴿إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ﴾
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا ۚ وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔينَ
Joseph, ignore this. And, [my wife], ask forgiveness for your sin. Indeed, you were of the sinful."
یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے
یوسف از این موضوع، صرفنظر کن! و تو ای زن نیز از گناهت استغفار کن، که از خطاکاران بودی!»
Tafsir Ibn Kathir
So they raced with one another to the door, and she tore his shirt from the back. They both found her master (i.e. her husband) at the door. She said: "What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife, except that he be put in prison or a painful torment? (25)He [Yusuf] said: "It was she that sought to seduce me;" and a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front, then her tale is true and he is a liar! (26)"But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth! (27)So when he (her husband) saw his [Yusuf's] shirt torn at the back, he (her husband) said: "Surely, it is a plot of you women! Certainly mighty is your plot! (28)"O Yusuf ! Turn away from this! (O woman!) Ask forgiveness for your sin, verily, you were of the sinful. (29)
Allah says that Yusuf and the wife of the 'Aziz raced to the door, Yusuf running away from her and her running after him to bring him back to the room. She caught up with him and held on to his shirt from the back, tearing it so terribly that it fell off Yusuf's back. Yusuf continued running from her, with her in pursuit. However, they found her master, her husband, at the front door. This is when she responded by deceit and evil plots, trying to exonerate herself and implicate him, saying,
مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا
(What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife…?), in reference to illegal sexual intercourse,
إِلَّا أَن يُسْجَنَ
(except that he be put in prison)
أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(or a painful torment?) tormented severely with painful beating. Yusuf did not stand idle, but he declared the truth and exonerated himself from the betrayal she accused him of,
قَالَ
(He [Yusuf] said), in truth and honesty,
هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي
(It was she that sought to seduce me), and mentioned that she pursued him and pulled him towards her until she tore his shirt.
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
(And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front..."), not from the back,
فَصَدَقَتْ
(then her tale is true) that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have sex with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front,
وَإِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!)
Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back.
There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. 'Abdur-Razzaq recorded that Ibn 'Abbas said that,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا
(and a witness of her household bore witness) "was a bearded man," meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn 'Abbas said, "He was from the king's entourage." Mujahid, 'Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا
(and a witness of her household bore witness) "He was a babe in the cradle. " Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa'id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the 'Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view. Allah's statement,
فَلَمَّا رَأَىٰ قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ
(So when he saw his [Yusuf's] shirt torn at the back,) indicates that when her husband became certain that Yusuf was telling the truth and that his wife was lying when she heralded the accusation of betrayal at Yusuf,
قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ
(he said: "Surely, it is a plot of you women!...") He said, 'This false accusation and staining the young man's reputation is but a plot of many that you, women, have,'
إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
(Certainly mighty is your plot!) The 'Aziz ordered Yusuf, peace be upon him, to be discrete about what happened,
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا
(O Yusuf! Turn away from this!), do not mention to anyone what has happened,
وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ
(And ask forgiveness for your sin,) addressing his wife. The 'Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, 'Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,'
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ
(verily, you were of the sinful.)
Tafsir Ibn Kathir
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہوسکتی۔ اب جب کہ حضرت یوسف نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کردینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں چھٹپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے حضرت یوسف صدیق کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواہ نے۔ جریج کے صاحب نے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے۔ مجاہد نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو حضرت یوسف کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہوگیا کہ یوسف سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر حضرت یوسف سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کردی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ حَالِهِمَا حِينَ خَرَجَا يَسْتَبِقَانِ إِلَى الْبَابِ، يُوسُفُ هَارِبٌ، وَالْمَرْأَةُ تَطْلُبُهُ لِيَرْجِعَ إِلَى الْبَيْتِ، فَلَحِقَتْهُ فِي أَثْنَاءِ ذَلِكَ، فَأَمْسَكَتْ بِقَمِيصِهِ [مِنْ وَرَائِهِ] [[زيادة من ت، أ.]] فَقَدَّته [[في ت، أ: "فقدت".]] قَدًّا فَظِيعًا، يُقَالُ: إِنَّهُ سَقَطَ عَنْهُ، وَاسْتَمَرَّ يُوسُفُ هَارِبًا ذَاهِبًا، وَهِيَ فِي إِثْرِهِ، فَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا -وَهُوَ زَوْجُهَا -عِنْدَ الْبَابِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ خَرَجَتْ مِمَّا هِيَ فِيهِ بِمَكْرِهَا وَكَيْدِهَا، وَقَالَتْ لِزَوْجِهَا مُتَنَصِّلَةً وَقَاذِفَةً يُوسُفَ بَدَائَهَا: ﴿مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا﴾ أَيْ: [[في ت، أ: "تعني".]] فَاحِشَةً، ﴿إِلا أَنْ يُسْجَنَ﴾ أَيْ: يُحْبَسَ، ﴿أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ أَيْ: يُضْرَبَ ضَرْبًا شَدِيدًا مُوجِعًا. فَعِنْدَ ذَلِكَ انْتَصَرَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِالْحَقِّ، وَتَبْرَّأَ مِمَّا رَمَتْهُ بِهِ مِنَ الْخِيَانَةِ، وَقَالَ بَارًّا صَادِقًا [[في ت: "صادقا بارا".]] ﴿هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي﴾ وَذَكَرَ أَنَّهَا اتَّبَعَتْهُ تَجْذِبُهُ إِلَيْهَا حَتَّى قَدَّتْ قَمِيصَهُ، ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ﴾ أَيْ: مِنْ قُدَّامِهِ، ﴿فَصَدَقَتْ﴾ أَيْ: فِي قَوْلِهَا إِنَّهُ أَرَادَهَا عَلَى نَفْسِهَا، لِأَنَّهُ يَكُونُ لَمَّا دَعَاهَا وَأَبَتْ عَلَيْهِ دَفَعَتْهُ فِي صَدْرِهِ، فَقَدَّتْ قَمِيصَهُ، فَيَصِحُّ مَا قَالَتْ: ﴿وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ وَذَلِكَ يَكُونُ كَمَا وَقَعَ لَمَّا هَرَبَ مِنْهَا، وَتَطَلَّبَتْهُ أَمْسَكَتْ بِقَمِيصِهِ مِنْ وَرَائِهِ لِتَرُدَّهُ إِلَيْهَا، فَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِنْ وَرَائِهِ.
وَقَدِ اخْتَلَفُوا فِي هَذَا الشَّاهِدِ: هَلْ هُوَ صَغِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ، عَلَى قَوْلَيْنِ لِعُلَمَاءِ السَّلَفِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ:
أَخْبَرْنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا﴾ قَالَ: ذُو لِحْيَةٍ.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ مِنْ خَاصَّةِ الْمَلِكِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدِّي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: إِنَّهُ كَانَ رَجُلًا.
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، وَالسُّدِّيُّ: كَانَ ابْنَ عَمِّهَا.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ مِنْ خَاصَّةِ الْمَلِكِ.
وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ أَنَّ زُلَيْخَا كَانَتْ بِنْتَ أُخْتِ الْمَلِكِ الرَّيَّانِ بْنِ الْوَلِيدِ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا﴾ قَالَ: كَانَ صَبِيًّا فِي الْمَهْدِ. وَكَذَا رُوي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِلَالِ بْنِ يَسَاف، وَالْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَالضَّحَّاكِ بْنِ مُزاحم: أَنَّهُ كَانَ صَبِيًّا فِي الدَّارِ. وَاخْتَارَهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَدْ وَرَدَ فِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ فَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ -أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قَالَ: "تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ"، فَذَكَرَ فِيهِمْ شَاهِدَ يُوسُفَ [[تفسير الطبري (١٦/٥٥) ورواه أحمد في المسند (١/٣١٠) والحاكم في المستدرك (٢/٤٩٦) من طريق حماد بن سلمة به، وصححه الحاكم ووافقه الذهبي.]] .
وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ وَهُمْ صِغَارٌ: ابْنُ مَاشِطَةِ بِنْتِ فِرْعَوْنَ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَصَاحِبُ جُرَيْج، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ [[رواه العلاء بن عبد الجبار عن حماد موقوفا أخرجه الطبري في تفسيره (١٦/٥٤) .]] .
وَقَالَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: كَانَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ، وَلَمْ يَكُنْ إِنْسِيًّا. وَهَذَا قَوْلٌ غَرِيبٌ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ﴾ أَيْ: فَلَمَّا تَحَقَّقَ زَوْجُهَا صدقَ يُوسُفَ وَكَذِبَهَا فِيمَا قَذَفَتْهُ وَرَمَتْهُ بِهِ، ﴿قَالَ إِنَّهُ مِنْ كَيْدِكُنَّ﴾ أَيْ: إِنَّ هَذَا الْبُهْتَ واللَّطخ الَّذِي لَطَّخْتِ عِرْضَ هَذَا الشَّابِّ بِهِ مِنْ جُمْلَةِ كَيْدِكُنَّ، ﴿إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ﴾
ثُمَّ قَالَ آمِرًا لِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِكِتْمَانِ مَا وَقَعَ: يَا ﴿يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا﴾ أَيِ: اضْرِبْ عَنْ هَذَا [الْأَمْرِ] [[زيادة من ت.]] صَفْحًا، فَلَا تَذْكُرْهُ لِأَحَدٍ، ﴿وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ يَقُولُ لِاِمْرَأَتِهِ وَقَدْ كَانَ لَيِّنَ الْعَرِيكَةِ سَهْلًا أَوْ أَنَّهُ عَذَرَهَا؛ لِأَنَّهَا رَأَتْ مَا لَا صَبْرَ لَهَا عَنْهُ، فَقَالَ لَهَا: ﴿وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ أَيِ: الَّذِي [[في ت، أ: "للذي".]] وَقَعَ مِنْكِ مِنْ إِرَادَةِ السُّوءِ بِهَذَا الشَّابِّ، ثُمَّ قَذْفه بِمَا هُوَ بَرِيءٌ مِنْهُ، اسْتَغْفِرِي مِنْ هَذَا الَّذِي وَقَعَ مِنْكِ، ﴿إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ﴾
۞ وَقَالَ نِسْوَةٌۭ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ
And women in the city said, "The wife of al-'Azeez is seeking to seduce her slave boy; he has impassioned her with love. Indeed, we see her [to be] in clear error."
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے
(این جریان در شهر منعکس شد؛) گروهی از زنان شهر گفتند: «همسر عزیز، جوانش [= غلامش] را بسوی خود دعوت میکند! عشق این جوان، در اعماق قلبش نفوذ کرده، ما او را در گمراهی آشکاری میبینیم!»
Tafsir Ibn Kathir
And women in the city said: "The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her (slave) young man, indeed she loves him violently; verily, we see her in plain error. (30)So when she heard of their accusation, she sent for them and prepared a banquet for them; she gave each one of them a knife, and she said [to Yusuf]: "Come out before them." Then, when they saw him, they exalted him (at his beauty) and (in their astonishment) cut their hands. They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel! (31)She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me, and I did seek to seduce him, but he refused. And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced. (32)He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me. Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them and be one of the ignorant. (33)So his Lord answered his invocation and turned away from him their plot. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower (34)
The News reaches Women in the City, Who also plot against Yusuf
Allah states that the news of what happened between the wife of the 'Aziz and Yusuf spread in the city, that is, Egypt, and people talked about it,
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ
(And women in the city said...), such as women of chiefs and princes said, while admonishing and criticizing the wife of the 'Aziz,
امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ
(The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her (slave) young man,), she is luring her servant to have sex with her,
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
(indeed she loves him violently;), her love for him filled her heart and engulfed it,
إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(verily, we see her in plain error.), by loving him and trying to seduce him.
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
(So when she heard of their accusation,) especially their statement, "indeed she loves him violently." Muhammad bin Ishaq commented, "They heard of Yusuf's beauty and wanted to see him, so they said these words in order to get a look at him. " This is when,
أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
(she sent for them), invited them to her house,
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً
(and prepared a banquet for them.) Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and several others commented that she prepared a sitting room which had couches, pillows [to recline on] and food that requires knives to cut, such as citron. This is why Allah said next,
وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا
(and she gave each one of them a knife), as a part of her plan of revenge for their plot to see Yusuf,
وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ
(and she said [to Yusuf]: "Come out before them."), for she had asked him to stay somewhere else in the house,
فَلَمَّا
(Then, when) he went out and,
رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
(they saw him, they exalted him)
they thought highly of him and were astonished at what they saw. They started cutting their hands in amazement at his beauty, while thinking that they were cutting the citron with their knives. Therefore, they injured their hands with the knives they were holding, according to several reports of Tafsir.
Others said that after they ate and felt comfortable, and after having placed citron in front of them, giving each one of them a knife, the wife of the 'Aziz asked them, "Would you like to see Yusuf" They said, "Yes." So she sent for him to come in front of them and when they saw him, they started cutting their hands. She ordered him to keep coming and going, so that they saw him from all sides, and he went back in while they were still cutting their hands. When they felt the pain, they started screaming and she said to them, "You did all this from one look at him, so how can I be blamed?
وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ
(They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel!") They said to her, "We do not blame you anymore after the sight that we saw." They never saw anyone like Yusuf before, for he, peace be upon him, was given half of all beauty. An authentic Hadith stated that the Messenger of Allah passed ﷺ by Prophet Yusuf, during the Night of Isra' in the third heaven and commented,
فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ
(He was given a half of all beauty.) Mujahid and others said [they said]: "We seek refuge from Allah,"
مَا هَٰذَا بَشَرًا
(No man is this!) They said next,
إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ - قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ
("This is none other than a noble angel!" She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me...") She said these words to them so that they excuse her behavior, for a man who looks this beautiful and perfect, is worthy of being loved, she thought. She said,
وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ
(and I did seek to seduce him, but he refused) to obey me. Some scholars said that when the women saw Yusuf's beauty, she told them about his inner beauty that they did not know of, being chaste and beautiful from the inside and outside. She then threatened him,
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ
(And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced.) This is when Prophet Yusuf sought refuge with Allah from their evil and wicked plots,
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ
(He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me...") illegal sexual acts,
وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
(Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them) Yusuf invoked Allah: If You abandon me and I am reliant on myself, then I have no power over myself, nor can I bring harm or benefit to myself, except with Your power and will. Verily, You are sought for each and everything, and our total reliance is on You Alone for each and everything. Please, do not abandon me and leave me to rely on myself, for then,
أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ - فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ
("I will feel inclined towards them and be one of the ignorant." So his Lord answered his invocation) Yusuf, peace be upon him, was immune from error by Allah's will, and He saved him from accepting the advances of the wife of the 'Aziz'. He preferred prison, rather than accept her illicit call. This indicates the best and most perfect grade in this case, for Yusuf was youthful, beautiful and full of manhood. His master's wife was calling him to herself, and she was the wife of the 'Aziz of Egypt. She was also very beautiful and wealthy, as well as having a great social rank. He refused all this and preferred prison, for he feared Allah and hoped to earn His reward.
It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
(Allah will give shade to seven, on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, a man whose heart is attached to the Masjid, from the time he goes out of the Masjid until he gets back to it, two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: "I am afraid of Allah, and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.")
Tafsir Ibn Kathir
داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ 001 مسلمان عادل بادشاہ 002 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 003 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے 004 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں 005 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی 006 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں 007 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ خَبَرَ يُوسُفَ وَاِمْرَأَةِ الْعَزِيزِ شَاعَ فِي الْمَدِينَةِ، وَهِيَ مِصْرُ، حَتَّى تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهِ، ﴿وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ﴾ مِثْلُ نِسَاءِ الْأُمَرَاءِ [و] [[زيادة من ت، أ.]] الْكُبَرَاءِ، يُنْكِرْنَ عَلَى امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ الْوَزِيرُ، وَيَعِبْنَ ذَلِكَ عَلَيْهَا: ﴿امْرَأَةُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَفْسِهِ﴾ أَيْ: تحاول غلامها عن نفسه، وتدعوه إلى نَفْسِهَا، ﴿قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا﴾ أَيْ قَدْ: وَصَلَ حُبُّهُ إِلَى شَغَافِ قَلْبِهَا. وَهُوَ غِلَافُهُ.
قَالَ الضَّحَّاكُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الشَّغَف: الْحُبُّ الْقَاتِلُ، والشَّغَف دُونَ ذَلِكَ، وَالشَّغَافُ: حِجَابُ الْقَلْبِ.
﴿إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهَا هَذَا مِنْ حُبِّهَا فَتَاهَا، وَمُرَاوَدَتِهَا إِيَّاهُ عَنْ نَفْسِهِ.
﴿فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: بِقَوْلِهِنَّ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: بَلْ [[في ت، أ: "قيل".]] بَلَغهُنَّ حُسْنُ يُوسُفَ، فَأَحْبَبْنَ أَنْ يَرَيْنَهُ، فَقُلْنَ ذَلِكَ لِيَتَوَصَّلْنَ إِلَى رُؤْيَتِهِ وَمُشَاهَدَتِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ﴿أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ﴾ أَيْ: دَعَتْهُنَّ إِلَى مَنْزِلِهَا لِتُضَيِّفَهُنَّ ﴿وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَالسُّدِّيُّ، وَغَيْرُهُمْ: هُوَ الْمَجْلِسُ الْمُعَدُّ، فِيهِ مَفَارِشُ وَمَخَادُّ وَطَعَامٌ، فِيهِ مَا يُقْطَعُ بِالسَّكَاكِينِ مَنْ أُتْرُجٍّ [[في ت، أ: "أترنج".]] وَنَحْوِهِ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا﴾ وَكَانَ هَذَا مَكِيدَةً مِنْهَا، وَمُقَابَلَةً لَهُنَّ فِي احْتِيَالِهِنَّ عَلَى رُؤْيَتِهِ، ﴿وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهَا كَانَتْ قَدْ خَبَّأَتْهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ، ﴿فَلَمَّا﴾ خَرَجَ وَ ﴿رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ﴾ أَيْ: أَعَظَمْنَ شَأْنَهُ، وَأَجْلَلْنَ قَدْرَهُ؛ وَجَعَلْنَ يُقَطِّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ دَهَشا بِرُؤْيَتِهِ، وَهُنَّ يَظْنُنَّ أَنَّهُنَّ يُقَطِّعْنَ الْأُتْرُجَّ [[في: "الأترج".]] بِالسَّكَاكِينِ، وَالْمُرَادُ: أَنَّهُنَّ حَزَّزْنَ أَيْدِيَهُنَّ بِهَا، قَالَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.
وَعَنْ مُجَاهِدٍ، وَقَتَادَةَ: قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ حَتَّى أَلْقَيْنَهَا، فَاللَّهُ [[في أ: "والله".]] أَعْلَمُ.
وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أنها قالت لهن بعدما أَكَلْنَ وَطَابَتْ أَنْفُسُهُنَّ، ثُمَّ وَضَعَتْ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ أُتْرُجًّا [[في أ: "أترنجا".]] وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا: هَلْ لَكُنَّ فِي النَّظَرِ إِلَى يُوسُفَ؟ قُلْنَ: نَعَمْ. فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ تَأْمُرُهُ أَنِ اخْرُجْ إِلَيْهِنَّ [[في أ: "عليهن".]] فَلَمَّا رَأَيْنَهُ جَعَلْنَ يَقْطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يَرْجِعَ فَرَجَعَ لِيَرَيْنَهُ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، وَهُنَّ يُحَزُّزْنَ فِي أَيْدِيهِنَّ، فَلَمَّا أَحْسَسْنَ بِالْأَلَمِ جَعَلْنَ يُوَلْوِلْنَ، فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ مِنْ نَظْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَعَلْتُنَّ هَكَذَا، فَكَيْفَ أُلَامُ أَنَا؟ فَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ، ثُمَّ قُلْنَ لَهَا: وَمَا نَرَى عَلَيْكِ مِنْ لَوْمٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْنَا، لِأَنَّهُنَّ لَمْ يَرَيْنَ فِي الْبَشَرِ شَبَهَهُ وَلَا قَرِيبًا مِنْهُ، فَإِنَّهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [[في ت، أ: "وسلامه".]] كَانَ قَدْ أُعْطِي شَطْرَ الْحُسْنِ، كَمَا ثَبَتَ ذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَرَّ بِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، قَالَ: "فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (١٦٢) من حديث أنس رضي الله عنه.]]
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أُعْطِيَ يوسف وأمه شطر الْحُسْنِ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/٨٠) والحاكم في المستدرك (٢/٥٧٠) وابن عدي في الكامل (٥/٣٨٥) من طريق عفان عن حماد بن سلمة به، وقال الحاكم: "هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يخرجاه". قال ابن عدي: "وهذا الحديث ما أعلم رفعه أحد غير عفان، وغيره أوقفه عن حماد بن سلمة، وعفان أشهر وأوثق وأصدق من أن يقال فيه شيء مما ينسب إلى الضعف".]] وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ الْحُسْنِ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَيْضًا، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ وَجْهُ يُوسُفَ مَثَلَ الْبَرْقِ، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا أَتَتْهُ لِحَاجَةٍ غَطَّى وَجْهَهُ مَخَافَةَ أَنْ تَفْتَتِنَ بِهِ.
وَرَوَاهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ مُرْسَلًا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ حُسْنِ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَأُعْطِيَ النَّاسُ الثُّلُثَيْنِ -أَوْ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ الثُّلُثَيْنِ وَالنَّاسُ الثُّلُثَ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/٨٠) .]]
وَقَالَ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَبِيعَةَ الجُرَشي قَالَ: قُسِمَ الْحُسْنُ نِصْفَيْنِ، فَأُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ سَارَّةُ نِصْفَ الْحُسْنِ. وَالنِّصْفُ الْآخَرُ بَيْنَ سَائِرِ الْخَلْقِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو الْقَاسِمِ السُّهَيْلِيُّ: مَعْنَاهُ: أَنَّ يُوسُفَ كَانَ عَلَى النِّصْفِ مِنْ حُسْنِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ بِيَدِهِ عَلَى أَكْمَلِ صُورَةٍ وَأَحْسَنِهَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذُرِّيَّتِهِ مَنْ يُوَازِيهِ فِي جَمَالِهِ، وَكَانَ يُوسُفُ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ حُسْنِهِ.
فَلِهَذَا قَالَ هَؤُلَاءِ النِّسْوَةُ عِنْدَ رُؤْيَتِهِ: ﴿حَاشَ لِلَّهِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: مَعَاذَ اللَّهِ، ﴿مَا هَذَا بَشَرًا﴾ وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "مَا هَذَا بِشِرىً" أَيْ: بِمُشْتَرًى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا مَلَكٌ كَرِيمٌ قَالَتْ فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ﴾ تَقُولُ هَذَا مُعْتَذِرَةً إِلَيْهِنَّ بِأَنَّ هَذَا حَقِيقٌ بِأَنْ يُحَبَّ لِجَمَالِهِ وَكَمَالِهِ.
﴿وَلَقَدْ رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ﴾ أَيْ: فَامْتَنَعَ. قَالَ بَعْضُهُمْ: لَمَّا رَأَيْنَ جَمَالَهُ الظَّاهِرَ، أَخْبَرَتْهُنَّ بِصِفَاتِهِ الْحَسَنَةِ الَّتِي تَخْفَى عَنْهُنَّ، وَهِيَ [[في ت: "عليهن وهو".]] الْعِفَّةُ مَعَ هَذَا الْجَمَالِ، ثُمَّ قَالَتْ تَتَوَعَّدُ [[في ت، أ: "تتوعده".]] ﴿وَلَئِنْ لَمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونَنْ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾ فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَعَاذَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ شَرِّهِنَّ وَكَيْدِهِنَّ، وَقَالَ: ﴿رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ﴾ أَيْ: مِنَ الْفَاحِشَةِ، ﴿وَإِلا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ﴾ أَيْ: إِنْ وَكَّلْتَنِي إِلَى نَفْسِي، فَلَيْسَ لِي مِنْ نَفْسِي قُدْرَةٌ، وَلَا أَمَلِكُ لَهَا ضُرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي.
﴿أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجَاهِلِينَ فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَصَمه اللَّهُ عِصْمَةً عَظِيمَةً، وَحَمَاهُ فَامْتَنَعَ منها أشد الامتناع، واختار السجن عَلَى ذَلِكَ، وَهَذَا فِي غَايَةِ مَقَامَاتِ الْكَمَالِ: أَنَّهُ مَعَ شَبَابِهِ وَجَمَالِهِ وَكَمَالِهِ تَدْعُوهُ سَيِّدَتُهُ، وَهِيَ امْرَأَةُ عَزِيزِ مِصْرَ، وَهِيَ مَعَ هَذَا فِي [[في ت: "إلى".]] غَايَةِ الْجَمَالِ وَالْمَالِ، وَالرِّيَاسَةِ وَيَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، وَيَخْتَارُ السِّجْنَ عَلَى ذَلِكَ، خَوْفًا مِنَ اللَّهِ وَرَجَاءَ ثَوَابِهِ.
وَلِهَذَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قَالَ: "سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ [[في ت: "في طاعة الله عز وجل".]] وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ [[في ت، أ: "في المسجد".]] إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَافْتَرَقَا [[في ت، أ: "وتفرقا".]] عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ جَمَالٍ وَمَنْصِبٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ" [[صحيح البخاري برقم (١٤٢٣) وصحيح مسلم برقم (١٠٣١) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.]]
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍۢ مِّنْهُنَّ سِكِّينًۭا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٌۭ كَرِيمٌۭ
So when she heard of their scheming, she sent for them and prepared for them a banquet and gave each one of them a knife and said [to Joseph], "Come out before them." And when they saw him, they greatly admired him and cut their hands and said, "Perfect is Allah! This is not a man; this is none but a noble angel."
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
هنگامی که (همسر عزیز) از فکر آنها باخبر شد، به سراغشان فرستاد (و از آنها دعوت کرد)؛ و برای آنها پشتی (گرانبها، و مجلس باشکوهی) فراهم ساخت؛ و به دست هر کدام، چاقویی (برای بریدن میوه) داد؛ و در این موقع (به یوسف) گفت: «وارد مجلس آنان شو!» هنگامی که چشمشان به او افتاد، او را بسیار بزرگ (و زیبا) شمردند؛ و (بیتوجه) دستهای خود را بریدند؛ و گفتند: «منزّه است خدا! این بشر نیست؛ این یک فرشته بزرگوار است!»
Tafsir Ibn Kathir
And women in the city said: "The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her (slave) young man, indeed she loves him violently; verily, we see her in plain error. (30)So when she heard of their accusation, she sent for them and prepared a banquet for them; she gave each one of them a knife, and she said [to Yusuf]: "Come out before them." Then, when they saw him, they exalted him (at his beauty) and (in their astonishment) cut their hands. They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel! (31)She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me, and I did seek to seduce him, but he refused. And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced. (32)He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me. Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them and be one of the ignorant. (33)So his Lord answered his invocation and turned away from him their plot. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower (34)
The News reaches Women in the City, Who also plot against Yusuf
Allah states that the news of what happened between the wife of the 'Aziz and Yusuf spread in the city, that is, Egypt, and people talked about it,
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ
(And women in the city said...), such as women of chiefs and princes said, while admonishing and criticizing the wife of the 'Aziz,
امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ
(The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her (slave) young man,), she is luring her servant to have sex with her,
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
(indeed she loves him violently;), her love for him filled her heart and engulfed it,
إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(verily, we see her in plain error.), by loving him and trying to seduce him.
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
(So when she heard of their accusation,) especially their statement, "indeed she loves him violently." Muhammad bin Ishaq commented, "They heard of Yusuf's beauty and wanted to see him, so they said these words in order to get a look at him. " This is when,
أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
(she sent for them), invited them to her house,
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً
(and prepared a banquet for them.) Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and several others commented that she prepared a sitting room which had couches, pillows [to recline on] and food that requires knives to cut, such as citron. This is why Allah said next,
وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا
(and she gave each one of them a knife), as a part of her plan of revenge for their plot to see Yusuf,
وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ
(and she said [to Yusuf]: "Come out before them."), for she had asked him to stay somewhere else in the house,
فَلَمَّا
(Then, when) he went out and,
رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
(they saw him, they exalted him)
they thought highly of him and were astonished at what they saw. They started cutting their hands in amazement at his beauty, while thinking that they were cutting the citron with their knives. Therefore, they injured their hands with the knives they were holding, according to several reports of Tafsir.
Others said that after they ate and felt comfortable, and after having placed citron in front of them, giving each one of them a knife, the wife of the 'Aziz asked them, "Would you like to see Yusuf" They said, "Yes." So she sent for him to come in front of them and when they saw him, they started cutting their hands. She ordered him to keep coming and going, so that they saw him from all sides, and he went back in while they were still cutting their hands. When they felt the pain, they started screaming and she said to them, "You did all this from one look at him, so how can I be blamed?
وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ
(They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel!") They said to her, "We do not blame you anymore after the sight that we saw." They never saw anyone like Yusuf before, for he, peace be upon him, was given half of all beauty. An authentic Hadith stated that the Messenger of Allah passed ﷺ by Prophet Yusuf, during the Night of Isra' in the third heaven and commented,
فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ
(He was given a half of all beauty.) Mujahid and others said [they said]: "We seek refuge from Allah,"
مَا هَٰذَا بَشَرًا
(No man is this!) They said next,
إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ - قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ
("This is none other than a noble angel!" She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me...") She said these words to them so that they excuse her behavior, for a man who looks this beautiful and perfect, is worthy of being loved, she thought. She said,
وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ
(and I did seek to seduce him, but he refused) to obey me. Some scholars said that when the women saw Yusuf's beauty, she told them about his inner beauty that they did not know of, being chaste and beautiful from the inside and outside. She then threatened him,
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ
(And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced.) This is when Prophet Yusuf sought refuge with Allah from their evil and wicked plots,
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ
(He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me...") illegal sexual acts,
وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
(Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them) Yusuf invoked Allah: If You abandon me and I am reliant on myself, then I have no power over myself, nor can I bring harm or benefit to myself, except with Your power and will. Verily, You are sought for each and everything, and our total reliance is on You Alone for each and everything. Please, do not abandon me and leave me to rely on myself, for then,
أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ - فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ
("I will feel inclined towards them and be one of the ignorant." So his Lord answered his invocation) Yusuf, peace be upon him, was immune from error by Allah's will, and He saved him from accepting the advances of the wife of the 'Aziz'. He preferred prison, rather than accept her illicit call. This indicates the best and most perfect grade in this case, for Yusuf was youthful, beautiful and full of manhood. His master's wife was calling him to herself, and she was the wife of the 'Aziz of Egypt. She was also very beautiful and wealthy, as well as having a great social rank. He refused all this and preferred prison, for he feared Allah and hoped to earn His reward.
It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
(Allah will give shade to seven, on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, a man whose heart is attached to the Masjid, from the time he goes out of the Masjid until he gets back to it, two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: "I am afraid of Allah, and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.")
Tafsir Ibn Kathir
داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ 001 مسلمان عادل بادشاہ 002 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 003 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے 004 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں 005 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی 006 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں 007 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ خَبَرَ يُوسُفَ وَاِمْرَأَةِ الْعَزِيزِ شَاعَ فِي الْمَدِينَةِ، وَهِيَ مِصْرُ، حَتَّى تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهِ، ﴿وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ﴾ مِثْلُ نِسَاءِ الْأُمَرَاءِ [و] [[زيادة من ت، أ.]] الْكُبَرَاءِ، يُنْكِرْنَ عَلَى امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ الْوَزِيرُ، وَيَعِبْنَ ذَلِكَ عَلَيْهَا: ﴿امْرَأَةُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَفْسِهِ﴾ أَيْ: تحاول غلامها عن نفسه، وتدعوه إلى نَفْسِهَا، ﴿قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا﴾ أَيْ قَدْ: وَصَلَ حُبُّهُ إِلَى شَغَافِ قَلْبِهَا. وَهُوَ غِلَافُهُ.
قَالَ الضَّحَّاكُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الشَّغَف: الْحُبُّ الْقَاتِلُ، والشَّغَف دُونَ ذَلِكَ، وَالشَّغَافُ: حِجَابُ الْقَلْبِ.
﴿إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهَا هَذَا مِنْ حُبِّهَا فَتَاهَا، وَمُرَاوَدَتِهَا إِيَّاهُ عَنْ نَفْسِهِ.
﴿فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: بِقَوْلِهِنَّ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: بَلْ [[في ت، أ: "قيل".]] بَلَغهُنَّ حُسْنُ يُوسُفَ، فَأَحْبَبْنَ أَنْ يَرَيْنَهُ، فَقُلْنَ ذَلِكَ لِيَتَوَصَّلْنَ إِلَى رُؤْيَتِهِ وَمُشَاهَدَتِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ﴿أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ﴾ أَيْ: دَعَتْهُنَّ إِلَى مَنْزِلِهَا لِتُضَيِّفَهُنَّ ﴿وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَالسُّدِّيُّ، وَغَيْرُهُمْ: هُوَ الْمَجْلِسُ الْمُعَدُّ، فِيهِ مَفَارِشُ وَمَخَادُّ وَطَعَامٌ، فِيهِ مَا يُقْطَعُ بِالسَّكَاكِينِ مَنْ أُتْرُجٍّ [[في ت، أ: "أترنج".]] وَنَحْوِهِ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا﴾ وَكَانَ هَذَا مَكِيدَةً مِنْهَا، وَمُقَابَلَةً لَهُنَّ فِي احْتِيَالِهِنَّ عَلَى رُؤْيَتِهِ، ﴿وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهَا كَانَتْ قَدْ خَبَّأَتْهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ، ﴿فَلَمَّا﴾ خَرَجَ وَ ﴿رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ﴾ أَيْ: أَعَظَمْنَ شَأْنَهُ، وَأَجْلَلْنَ قَدْرَهُ؛ وَجَعَلْنَ يُقَطِّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ دَهَشا بِرُؤْيَتِهِ، وَهُنَّ يَظْنُنَّ أَنَّهُنَّ يُقَطِّعْنَ الْأُتْرُجَّ [[في: "الأترج".]] بِالسَّكَاكِينِ، وَالْمُرَادُ: أَنَّهُنَّ حَزَّزْنَ أَيْدِيَهُنَّ بِهَا، قَالَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.
وَعَنْ مُجَاهِدٍ، وَقَتَادَةَ: قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ حَتَّى أَلْقَيْنَهَا، فَاللَّهُ [[في أ: "والله".]] أَعْلَمُ.
وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أنها قالت لهن بعدما أَكَلْنَ وَطَابَتْ أَنْفُسُهُنَّ، ثُمَّ وَضَعَتْ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ أُتْرُجًّا [[في أ: "أترنجا".]] وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا: هَلْ لَكُنَّ فِي النَّظَرِ إِلَى يُوسُفَ؟ قُلْنَ: نَعَمْ. فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ تَأْمُرُهُ أَنِ اخْرُجْ إِلَيْهِنَّ [[في أ: "عليهن".]] فَلَمَّا رَأَيْنَهُ جَعَلْنَ يَقْطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يَرْجِعَ فَرَجَعَ لِيَرَيْنَهُ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، وَهُنَّ يُحَزُّزْنَ فِي أَيْدِيهِنَّ، فَلَمَّا أَحْسَسْنَ بِالْأَلَمِ جَعَلْنَ يُوَلْوِلْنَ، فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ مِنْ نَظْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَعَلْتُنَّ هَكَذَا، فَكَيْفَ أُلَامُ أَنَا؟ فَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ، ثُمَّ قُلْنَ لَهَا: وَمَا نَرَى عَلَيْكِ مِنْ لَوْمٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْنَا، لِأَنَّهُنَّ لَمْ يَرَيْنَ فِي الْبَشَرِ شَبَهَهُ وَلَا قَرِيبًا مِنْهُ، فَإِنَّهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [[في ت، أ: "وسلامه".]] كَانَ قَدْ أُعْطِي شَطْرَ الْحُسْنِ، كَمَا ثَبَتَ ذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَرَّ بِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، قَالَ: "فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (١٦٢) من حديث أنس رضي الله عنه.]]
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أُعْطِيَ يوسف وأمه شطر الْحُسْنِ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/٨٠) والحاكم في المستدرك (٢/٥٧٠) وابن عدي في الكامل (٥/٣٨٥) من طريق عفان عن حماد بن سلمة به، وقال الحاكم: "هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يخرجاه". قال ابن عدي: "وهذا الحديث ما أعلم رفعه أحد غير عفان، وغيره أوقفه عن حماد بن سلمة، وعفان أشهر وأوثق وأصدق من أن يقال فيه شيء مما ينسب إلى الضعف".]] وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ الْحُسْنِ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَيْضًا، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ وَجْهُ يُوسُفَ مَثَلَ الْبَرْقِ، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا أَتَتْهُ لِحَاجَةٍ غَطَّى وَجْهَهُ مَخَافَةَ أَنْ تَفْتَتِنَ بِهِ.
وَرَوَاهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ مُرْسَلًا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ حُسْنِ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَأُعْطِيَ النَّاسُ الثُّلُثَيْنِ -أَوْ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ الثُّلُثَيْنِ وَالنَّاسُ الثُّلُثَ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/٨٠) .]]
وَقَالَ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَبِيعَةَ الجُرَشي قَالَ: قُسِمَ الْحُسْنُ نِصْفَيْنِ، فَأُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ سَارَّةُ نِصْفَ الْحُسْنِ. وَالنِّصْفُ الْآخَرُ بَيْنَ سَائِرِ الْخَلْقِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو الْقَاسِمِ السُّهَيْلِيُّ: مَعْنَاهُ: أَنَّ يُوسُفَ كَانَ عَلَى النِّصْفِ مِنْ حُسْنِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ بِيَدِهِ عَلَى أَكْمَلِ صُورَةٍ وَأَحْسَنِهَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذُرِّيَّتِهِ مَنْ يُوَازِيهِ فِي جَمَالِهِ، وَكَانَ يُوسُفُ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ حُسْنِهِ.
فَلِهَذَا قَالَ هَؤُلَاءِ النِّسْوَةُ عِنْدَ رُؤْيَتِهِ: ﴿حَاشَ لِلَّهِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: مَعَاذَ اللَّهِ، ﴿مَا هَذَا بَشَرًا﴾ وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "مَا هَذَا بِشِرىً" أَيْ: بِمُشْتَرًى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا مَلَكٌ كَرِيمٌ قَالَتْ فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ﴾ تَقُولُ هَذَا مُعْتَذِرَةً إِلَيْهِنَّ بِأَنَّ هَذَا حَقِيقٌ بِأَنْ يُحَبَّ لِجَمَالِهِ وَكَمَالِهِ.
﴿وَلَقَدْ رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ﴾ أَيْ: فَامْتَنَعَ. قَالَ بَعْضُهُمْ: لَمَّا رَأَيْنَ جَمَالَهُ الظَّاهِرَ، أَخْبَرَتْهُنَّ بِصِفَاتِهِ الْحَسَنَةِ الَّتِي تَخْفَى عَنْهُنَّ، وَهِيَ [[في ت: "عليهن وهو".]] الْعِفَّةُ مَعَ هَذَا الْجَمَالِ، ثُمَّ قَالَتْ تَتَوَعَّدُ [[في ت، أ: "تتوعده".]] ﴿وَلَئِنْ لَمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونَنْ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾ فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَعَاذَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ شَرِّهِنَّ وَكَيْدِهِنَّ، وَقَالَ: ﴿رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ﴾ أَيْ: مِنَ الْفَاحِشَةِ، ﴿وَإِلا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ﴾ أَيْ: إِنْ وَكَّلْتَنِي إِلَى نَفْسِي، فَلَيْسَ لِي مِنْ نَفْسِي قُدْرَةٌ، وَلَا أَمَلِكُ لَهَا ضُرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي.
﴿أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجَاهِلِينَ فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَصَمه اللَّهُ عِصْمَةً عَظِيمَةً، وَحَمَاهُ فَامْتَنَعَ منها أشد الامتناع، واختار السجن عَلَى ذَلِكَ، وَهَذَا فِي غَايَةِ مَقَامَاتِ الْكَمَالِ: أَنَّهُ مَعَ شَبَابِهِ وَجَمَالِهِ وَكَمَالِهِ تَدْعُوهُ سَيِّدَتُهُ، وَهِيَ امْرَأَةُ عَزِيزِ مِصْرَ، وَهِيَ مَعَ هَذَا فِي [[في ت: "إلى".]] غَايَةِ الْجَمَالِ وَالْمَالِ، وَالرِّيَاسَةِ وَيَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، وَيَخْتَارُ السِّجْنَ عَلَى ذَلِكَ، خَوْفًا مِنَ اللَّهِ وَرَجَاءَ ثَوَابِهِ.
وَلِهَذَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قَالَ: "سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ [[في ت: "في طاعة الله عز وجل".]] وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ [[في ت، أ: "في المسجد".]] إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَافْتَرَقَا [[في ت، أ: "وتفرقا".]] عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ جَمَالٍ وَمَنْصِبٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ" [[صحيح البخاري برقم (١٤٢٣) وصحيح مسلم برقم (١٠٣١) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.]]
قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًۭا مِّنَ ٱلصَّٰغِرِينَ
She said, "That is the one about whom you blamed me. And I certainly sought to seduce him, but he firmly refused; and if he will not do what I order him, he will surely be imprisoned and will be of those debased."
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
(همسر عزیز) گفت: «این همان کسی است که بخاطر (عشق) او مرا سرزنش کردید! (آری،) من او را به خویشتن دعوت کردم؛ و او خودداری کرد! و اگر آنچه را دستور میدهم انجام ندهد، به زندان خواهد افتاد؛ و مسلّماً خوار و ذلیل خواهد شد!»
Tafsir Ibn Kathir
And women in the city said: "The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her (slave) young man, indeed she loves him violently; verily, we see her in plain error. (30)So when she heard of their accusation, she sent for them and prepared a banquet for them; she gave each one of them a knife, and she said [to Yusuf]: "Come out before them." Then, when they saw him, they exalted him (at his beauty) and (in their astonishment) cut their hands. They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel! (31)She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me, and I did seek to seduce him, but he refused. And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced. (32)He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me. Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them and be one of the ignorant. (33)So his Lord answered his invocation and turned away from him their plot. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower (34)
The News reaches Women in the City, Who also plot against Yusuf
Allah states that the news of what happened between the wife of the 'Aziz and Yusuf spread in the city, that is, Egypt, and people talked about it,
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ
(And women in the city said...), such as women of chiefs and princes said, while admonishing and criticizing the wife of the 'Aziz,
امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ
(The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her (slave) young man,), she is luring her servant to have sex with her,
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
(indeed she loves him violently;), her love for him filled her heart and engulfed it,
إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(verily, we see her in plain error.), by loving him and trying to seduce him.
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
(So when she heard of their accusation,) especially their statement, "indeed she loves him violently." Muhammad bin Ishaq commented, "They heard of Yusuf's beauty and wanted to see him, so they said these words in order to get a look at him. " This is when,
أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
(she sent for them), invited them to her house,
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً
(and prepared a banquet for them.) Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and several others commented that she prepared a sitting room which had couches, pillows [to recline on] and food that requires knives to cut, such as citron. This is why Allah said next,
وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا
(and she gave each one of them a knife), as a part of her plan of revenge for their plot to see Yusuf,
وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ
(and she said [to Yusuf]: "Come out before them."), for she had asked him to stay somewhere else in the house,
فَلَمَّا
(Then, when) he went out and,
رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
(they saw him, they exalted him)
they thought highly of him and were astonished at what they saw. They started cutting their hands in amazement at his beauty, while thinking that they were cutting the citron with their knives. Therefore, they injured their hands with the knives they were holding, according to several reports of Tafsir.
Others said that after they ate and felt comfortable, and after having placed citron in front of them, giving each one of them a knife, the wife of the 'Aziz asked them, "Would you like to see Yusuf" They said, "Yes." So she sent for him to come in front of them and when they saw him, they started cutting their hands. She ordered him to keep coming and going, so that they saw him from all sides, and he went back in while they were still cutting their hands. When they felt the pain, they started screaming and she said to them, "You did all this from one look at him, so how can I be blamed?
وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ
(They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel!") They said to her, "We do not blame you anymore after the sight that we saw." They never saw anyone like Yusuf before, for he, peace be upon him, was given half of all beauty. An authentic Hadith stated that the Messenger of Allah passed ﷺ by Prophet Yusuf, during the Night of Isra' in the third heaven and commented,
فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ
(He was given a half of all beauty.) Mujahid and others said [they said]: "We seek refuge from Allah,"
مَا هَٰذَا بَشَرًا
(No man is this!) They said next,
إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ - قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ
("This is none other than a noble angel!" She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me...") She said these words to them so that they excuse her behavior, for a man who looks this beautiful and perfect, is worthy of being loved, she thought. She said,
وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ
(and I did seek to seduce him, but he refused) to obey me. Some scholars said that when the women saw Yusuf's beauty, she told them about his inner beauty that they did not know of, being chaste and beautiful from the inside and outside. She then threatened him,
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ
(And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced.) This is when Prophet Yusuf sought refuge with Allah from their evil and wicked plots,
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ
(He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me...") illegal sexual acts,
وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
(Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them) Yusuf invoked Allah: If You abandon me and I am reliant on myself, then I have no power over myself, nor can I bring harm or benefit to myself, except with Your power and will. Verily, You are sought for each and everything, and our total reliance is on You Alone for each and everything. Please, do not abandon me and leave me to rely on myself, for then,
أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ - فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ
("I will feel inclined towards them and be one of the ignorant." So his Lord answered his invocation) Yusuf, peace be upon him, was immune from error by Allah's will, and He saved him from accepting the advances of the wife of the 'Aziz'. He preferred prison, rather than accept her illicit call. This indicates the best and most perfect grade in this case, for Yusuf was youthful, beautiful and full of manhood. His master's wife was calling him to herself, and she was the wife of the 'Aziz of Egypt. She was also very beautiful and wealthy, as well as having a great social rank. He refused all this and preferred prison, for he feared Allah and hoped to earn His reward.
It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
(Allah will give shade to seven, on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, a man whose heart is attached to the Masjid, from the time he goes out of the Masjid until he gets back to it, two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: "I am afraid of Allah, and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.")
Tafsir Ibn Kathir
داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ 001 مسلمان عادل بادشاہ 002 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 003 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے 004 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں 005 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی 006 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں 007 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ خَبَرَ يُوسُفَ وَاِمْرَأَةِ الْعَزِيزِ شَاعَ فِي الْمَدِينَةِ، وَهِيَ مِصْرُ، حَتَّى تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهِ، ﴿وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ﴾ مِثْلُ نِسَاءِ الْأُمَرَاءِ [و] [[زيادة من ت، أ.]] الْكُبَرَاءِ، يُنْكِرْنَ عَلَى امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ الْوَزِيرُ، وَيَعِبْنَ ذَلِكَ عَلَيْهَا: ﴿امْرَأَةُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَفْسِهِ﴾ أَيْ: تحاول غلامها عن نفسه، وتدعوه إلى نَفْسِهَا، ﴿قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا﴾ أَيْ قَدْ: وَصَلَ حُبُّهُ إِلَى شَغَافِ قَلْبِهَا. وَهُوَ غِلَافُهُ.
قَالَ الضَّحَّاكُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الشَّغَف: الْحُبُّ الْقَاتِلُ، والشَّغَف دُونَ ذَلِكَ، وَالشَّغَافُ: حِجَابُ الْقَلْبِ.
﴿إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهَا هَذَا مِنْ حُبِّهَا فَتَاهَا، وَمُرَاوَدَتِهَا إِيَّاهُ عَنْ نَفْسِهِ.
﴿فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: بِقَوْلِهِنَّ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: بَلْ [[في ت، أ: "قيل".]] بَلَغهُنَّ حُسْنُ يُوسُفَ، فَأَحْبَبْنَ أَنْ يَرَيْنَهُ، فَقُلْنَ ذَلِكَ لِيَتَوَصَّلْنَ إِلَى رُؤْيَتِهِ وَمُشَاهَدَتِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ﴿أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ﴾ أَيْ: دَعَتْهُنَّ إِلَى مَنْزِلِهَا لِتُضَيِّفَهُنَّ ﴿وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَالسُّدِّيُّ، وَغَيْرُهُمْ: هُوَ الْمَجْلِسُ الْمُعَدُّ، فِيهِ مَفَارِشُ وَمَخَادُّ وَطَعَامٌ، فِيهِ مَا يُقْطَعُ بِالسَّكَاكِينِ مَنْ أُتْرُجٍّ [[في ت، أ: "أترنج".]] وَنَحْوِهِ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا﴾ وَكَانَ هَذَا مَكِيدَةً مِنْهَا، وَمُقَابَلَةً لَهُنَّ فِي احْتِيَالِهِنَّ عَلَى رُؤْيَتِهِ، ﴿وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهَا كَانَتْ قَدْ خَبَّأَتْهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ، ﴿فَلَمَّا﴾ خَرَجَ وَ ﴿رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ﴾ أَيْ: أَعَظَمْنَ شَأْنَهُ، وَأَجْلَلْنَ قَدْرَهُ؛ وَجَعَلْنَ يُقَطِّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ دَهَشا بِرُؤْيَتِهِ، وَهُنَّ يَظْنُنَّ أَنَّهُنَّ يُقَطِّعْنَ الْأُتْرُجَّ [[في: "الأترج".]] بِالسَّكَاكِينِ، وَالْمُرَادُ: أَنَّهُنَّ حَزَّزْنَ أَيْدِيَهُنَّ بِهَا، قَالَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.
وَعَنْ مُجَاهِدٍ، وَقَتَادَةَ: قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ حَتَّى أَلْقَيْنَهَا، فَاللَّهُ [[في أ: "والله".]] أَعْلَمُ.
وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أنها قالت لهن بعدما أَكَلْنَ وَطَابَتْ أَنْفُسُهُنَّ، ثُمَّ وَضَعَتْ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ أُتْرُجًّا [[في أ: "أترنجا".]] وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا: هَلْ لَكُنَّ فِي النَّظَرِ إِلَى يُوسُفَ؟ قُلْنَ: نَعَمْ. فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ تَأْمُرُهُ أَنِ اخْرُجْ إِلَيْهِنَّ [[في أ: "عليهن".]] فَلَمَّا رَأَيْنَهُ جَعَلْنَ يَقْطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يَرْجِعَ فَرَجَعَ لِيَرَيْنَهُ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، وَهُنَّ يُحَزُّزْنَ فِي أَيْدِيهِنَّ، فَلَمَّا أَحْسَسْنَ بِالْأَلَمِ جَعَلْنَ يُوَلْوِلْنَ، فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ مِنْ نَظْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَعَلْتُنَّ هَكَذَا، فَكَيْفَ أُلَامُ أَنَا؟ فَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ، ثُمَّ قُلْنَ لَهَا: وَمَا نَرَى عَلَيْكِ مِنْ لَوْمٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْنَا، لِأَنَّهُنَّ لَمْ يَرَيْنَ فِي الْبَشَرِ شَبَهَهُ وَلَا قَرِيبًا مِنْهُ، فَإِنَّهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [[في ت، أ: "وسلامه".]] كَانَ قَدْ أُعْطِي شَطْرَ الْحُسْنِ، كَمَا ثَبَتَ ذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَرَّ بِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، قَالَ: "فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (١٦٢) من حديث أنس رضي الله عنه.]]
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أُعْطِيَ يوسف وأمه شطر الْحُسْنِ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/٨٠) والحاكم في المستدرك (٢/٥٧٠) وابن عدي في الكامل (٥/٣٨٥) من طريق عفان عن حماد بن سلمة به، وقال الحاكم: "هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يخرجاه". قال ابن عدي: "وهذا الحديث ما أعلم رفعه أحد غير عفان، وغيره أوقفه عن حماد بن سلمة، وعفان أشهر وأوثق وأصدق من أن يقال فيه شيء مما ينسب إلى الضعف".]] وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ الْحُسْنِ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَيْضًا، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ وَجْهُ يُوسُفَ مَثَلَ الْبَرْقِ، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا أَتَتْهُ لِحَاجَةٍ غَطَّى وَجْهَهُ مَخَافَةَ أَنْ تَفْتَتِنَ بِهِ.
وَرَوَاهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ مُرْسَلًا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ حُسْنِ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَأُعْطِيَ النَّاسُ الثُّلُثَيْنِ -أَوْ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ الثُّلُثَيْنِ وَالنَّاسُ الثُّلُثَ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/٨٠) .]]
وَقَالَ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَبِيعَةَ الجُرَشي قَالَ: قُسِمَ الْحُسْنُ نِصْفَيْنِ، فَأُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ سَارَّةُ نِصْفَ الْحُسْنِ. وَالنِّصْفُ الْآخَرُ بَيْنَ سَائِرِ الْخَلْقِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو الْقَاسِمِ السُّهَيْلِيُّ: مَعْنَاهُ: أَنَّ يُوسُفَ كَانَ عَلَى النِّصْفِ مِنْ حُسْنِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ بِيَدِهِ عَلَى أَكْمَلِ صُورَةٍ وَأَحْسَنِهَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذُرِّيَّتِهِ مَنْ يُوَازِيهِ فِي جَمَالِهِ، وَكَانَ يُوسُفُ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ حُسْنِهِ.
فَلِهَذَا قَالَ هَؤُلَاءِ النِّسْوَةُ عِنْدَ رُؤْيَتِهِ: ﴿حَاشَ لِلَّهِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: مَعَاذَ اللَّهِ، ﴿مَا هَذَا بَشَرًا﴾ وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "مَا هَذَا بِشِرىً" أَيْ: بِمُشْتَرًى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا مَلَكٌ كَرِيمٌ قَالَتْ فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ﴾ تَقُولُ هَذَا مُعْتَذِرَةً إِلَيْهِنَّ بِأَنَّ هَذَا حَقِيقٌ بِأَنْ يُحَبَّ لِجَمَالِهِ وَكَمَالِهِ.
﴿وَلَقَدْ رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ﴾ أَيْ: فَامْتَنَعَ. قَالَ بَعْضُهُمْ: لَمَّا رَأَيْنَ جَمَالَهُ الظَّاهِرَ، أَخْبَرَتْهُنَّ بِصِفَاتِهِ الْحَسَنَةِ الَّتِي تَخْفَى عَنْهُنَّ، وَهِيَ [[في ت: "عليهن وهو".]] الْعِفَّةُ مَعَ هَذَا الْجَمَالِ، ثُمَّ قَالَتْ تَتَوَعَّدُ [[في ت، أ: "تتوعده".]] ﴿وَلَئِنْ لَمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونَنْ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾ فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَعَاذَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ شَرِّهِنَّ وَكَيْدِهِنَّ، وَقَالَ: ﴿رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ﴾ أَيْ: مِنَ الْفَاحِشَةِ، ﴿وَإِلا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ﴾ أَيْ: إِنْ وَكَّلْتَنِي إِلَى نَفْسِي، فَلَيْسَ لِي مِنْ نَفْسِي قُدْرَةٌ، وَلَا أَمَلِكُ لَهَا ضُرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي.
﴿أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجَاهِلِينَ فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَصَمه اللَّهُ عِصْمَةً عَظِيمَةً، وَحَمَاهُ فَامْتَنَعَ منها أشد الامتناع، واختار السجن عَلَى ذَلِكَ، وَهَذَا فِي غَايَةِ مَقَامَاتِ الْكَمَالِ: أَنَّهُ مَعَ شَبَابِهِ وَجَمَالِهِ وَكَمَالِهِ تَدْعُوهُ سَيِّدَتُهُ، وَهِيَ امْرَأَةُ عَزِيزِ مِصْرَ، وَهِيَ مَعَ هَذَا فِي [[في ت: "إلى".]] غَايَةِ الْجَمَالِ وَالْمَالِ، وَالرِّيَاسَةِ وَيَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، وَيَخْتَارُ السِّجْنَ عَلَى ذَلِكَ، خَوْفًا مِنَ اللَّهِ وَرَجَاءَ ثَوَابِهِ.
وَلِهَذَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قَالَ: "سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ [[في ت: "في طاعة الله عز وجل".]] وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ [[في ت، أ: "في المسجد".]] إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَافْتَرَقَا [[في ت، أ: "وتفرقا".]] عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ جَمَالٍ وَمَنْصِبٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ" [[صحيح البخاري برقم (١٤٢٣) وصحيح مسلم برقم (١٠٣١) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.]]
قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَٰهِلِينَ
He said, "My Lord, prison is more to my liking than that to which they invite me. And if You do not avert from me their plan, I might incline toward them and [thus] be of the ignorant."
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا
(یوسف) گفت: «پروردگارا! زندان نزد من محبوبتر است از آنچه اینها مرا بسوی آن میخوانند! و اگر مکر و نیرنگ آنها را از من باز نگردانی، بسوی آنان متمایل خواهم شد و از جاهلان خواهم بود!»
Tafsir Ibn Kathir
And women in the city said: "The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her (slave) young man, indeed she loves him violently; verily, we see her in plain error. (30)So when she heard of their accusation, she sent for them and prepared a banquet for them; she gave each one of them a knife, and she said [to Yusuf]: "Come out before them." Then, when they saw him, they exalted him (at his beauty) and (in their astonishment) cut their hands. They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel! (31)She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me, and I did seek to seduce him, but he refused. And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced. (32)He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me. Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them and be one of the ignorant. (33)So his Lord answered his invocation and turned away from him their plot. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower (34)
The News reaches Women in the City, Who also plot against Yusuf
Allah states that the news of what happened between the wife of the 'Aziz and Yusuf spread in the city, that is, Egypt, and people talked about it,
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ
(And women in the city said...), such as women of chiefs and princes said, while admonishing and criticizing the wife of the 'Aziz,
امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ
(The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her (slave) young man,), she is luring her servant to have sex with her,
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
(indeed she loves him violently;), her love for him filled her heart and engulfed it,
إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(verily, we see her in plain error.), by loving him and trying to seduce him.
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
(So when she heard of their accusation,) especially their statement, "indeed she loves him violently." Muhammad bin Ishaq commented, "They heard of Yusuf's beauty and wanted to see him, so they said these words in order to get a look at him. " This is when,
أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
(she sent for them), invited them to her house,
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً
(and prepared a banquet for them.) Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and several others commented that she prepared a sitting room which had couches, pillows [to recline on] and food that requires knives to cut, such as citron. This is why Allah said next,
وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا
(and she gave each one of them a knife), as a part of her plan of revenge for their plot to see Yusuf,
وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ
(and she said [to Yusuf]: "Come out before them."), for she had asked him to stay somewhere else in the house,
فَلَمَّا
(Then, when) he went out and,
رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
(they saw him, they exalted him)
they thought highly of him and were astonished at what they saw. They started cutting their hands in amazement at his beauty, while thinking that they were cutting the citron with their knives. Therefore, they injured their hands with the knives they were holding, according to several reports of Tafsir.
Others said that after they ate and felt comfortable, and after having placed citron in front of them, giving each one of them a knife, the wife of the 'Aziz asked them, "Would you like to see Yusuf" They said, "Yes." So she sent for him to come in front of them and when they saw him, they started cutting their hands. She ordered him to keep coming and going, so that they saw him from all sides, and he went back in while they were still cutting their hands. When they felt the pain, they started screaming and she said to them, "You did all this from one look at him, so how can I be blamed?
وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ
(They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel!") They said to her, "We do not blame you anymore after the sight that we saw." They never saw anyone like Yusuf before, for he, peace be upon him, was given half of all beauty. An authentic Hadith stated that the Messenger of Allah passed ﷺ by Prophet Yusuf, during the Night of Isra' in the third heaven and commented,
فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ
(He was given a half of all beauty.) Mujahid and others said [they said]: "We seek refuge from Allah,"
مَا هَٰذَا بَشَرًا
(No man is this!) They said next,
إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ - قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ
("This is none other than a noble angel!" She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me...") She said these words to them so that they excuse her behavior, for a man who looks this beautiful and perfect, is worthy of being loved, she thought. She said,
وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ
(and I did seek to seduce him, but he refused) to obey me. Some scholars said that when the women saw Yusuf's beauty, she told them about his inner beauty that they did not know of, being chaste and beautiful from the inside and outside. She then threatened him,
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ
(And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced.) This is when Prophet Yusuf sought refuge with Allah from their evil and wicked plots,
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ
(He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me...") illegal sexual acts,
وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
(Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them) Yusuf invoked Allah: If You abandon me and I am reliant on myself, then I have no power over myself, nor can I bring harm or benefit to myself, except with Your power and will. Verily, You are sought for each and everything, and our total reliance is on You Alone for each and everything. Please, do not abandon me and leave me to rely on myself, for then,
أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ - فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ
("I will feel inclined towards them and be one of the ignorant." So his Lord answered his invocation) Yusuf, peace be upon him, was immune from error by Allah's will, and He saved him from accepting the advances of the wife of the 'Aziz'. He preferred prison, rather than accept her illicit call. This indicates the best and most perfect grade in this case, for Yusuf was youthful, beautiful and full of manhood. His master's wife was calling him to herself, and she was the wife of the 'Aziz of Egypt. She was also very beautiful and wealthy, as well as having a great social rank. He refused all this and preferred prison, for he feared Allah and hoped to earn His reward.
It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
(Allah will give shade to seven, on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, a man whose heart is attached to the Masjid, from the time he goes out of the Masjid until he gets back to it, two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: "I am afraid of Allah, and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.")
Tafsir Ibn Kathir
داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ 001 مسلمان عادل بادشاہ 002 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 003 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے 004 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں 005 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی 006 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں 007 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ خَبَرَ يُوسُفَ وَاِمْرَأَةِ الْعَزِيزِ شَاعَ فِي الْمَدِينَةِ، وَهِيَ مِصْرُ، حَتَّى تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهِ، ﴿وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ﴾ مِثْلُ نِسَاءِ الْأُمَرَاءِ [و] [[زيادة من ت، أ.]] الْكُبَرَاءِ، يُنْكِرْنَ عَلَى امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ الْوَزِيرُ، وَيَعِبْنَ ذَلِكَ عَلَيْهَا: ﴿امْرَأَةُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَفْسِهِ﴾ أَيْ: تحاول غلامها عن نفسه، وتدعوه إلى نَفْسِهَا، ﴿قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا﴾ أَيْ قَدْ: وَصَلَ حُبُّهُ إِلَى شَغَافِ قَلْبِهَا. وَهُوَ غِلَافُهُ.
قَالَ الضَّحَّاكُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الشَّغَف: الْحُبُّ الْقَاتِلُ، والشَّغَف دُونَ ذَلِكَ، وَالشَّغَافُ: حِجَابُ الْقَلْبِ.
﴿إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهَا هَذَا مِنْ حُبِّهَا فَتَاهَا، وَمُرَاوَدَتِهَا إِيَّاهُ عَنْ نَفْسِهِ.
﴿فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: بِقَوْلِهِنَّ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: بَلْ [[في ت، أ: "قيل".]] بَلَغهُنَّ حُسْنُ يُوسُفَ، فَأَحْبَبْنَ أَنْ يَرَيْنَهُ، فَقُلْنَ ذَلِكَ لِيَتَوَصَّلْنَ إِلَى رُؤْيَتِهِ وَمُشَاهَدَتِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ﴿أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ﴾ أَيْ: دَعَتْهُنَّ إِلَى مَنْزِلِهَا لِتُضَيِّفَهُنَّ ﴿وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَالسُّدِّيُّ، وَغَيْرُهُمْ: هُوَ الْمَجْلِسُ الْمُعَدُّ، فِيهِ مَفَارِشُ وَمَخَادُّ وَطَعَامٌ، فِيهِ مَا يُقْطَعُ بِالسَّكَاكِينِ مَنْ أُتْرُجٍّ [[في ت، أ: "أترنج".]] وَنَحْوِهِ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا﴾ وَكَانَ هَذَا مَكِيدَةً مِنْهَا، وَمُقَابَلَةً لَهُنَّ فِي احْتِيَالِهِنَّ عَلَى رُؤْيَتِهِ، ﴿وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهَا كَانَتْ قَدْ خَبَّأَتْهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ، ﴿فَلَمَّا﴾ خَرَجَ وَ ﴿رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ﴾ أَيْ: أَعَظَمْنَ شَأْنَهُ، وَأَجْلَلْنَ قَدْرَهُ؛ وَجَعَلْنَ يُقَطِّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ دَهَشا بِرُؤْيَتِهِ، وَهُنَّ يَظْنُنَّ أَنَّهُنَّ يُقَطِّعْنَ الْأُتْرُجَّ [[في: "الأترج".]] بِالسَّكَاكِينِ، وَالْمُرَادُ: أَنَّهُنَّ حَزَّزْنَ أَيْدِيَهُنَّ بِهَا، قَالَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.
وَعَنْ مُجَاهِدٍ، وَقَتَادَةَ: قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ حَتَّى أَلْقَيْنَهَا، فَاللَّهُ [[في أ: "والله".]] أَعْلَمُ.
وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أنها قالت لهن بعدما أَكَلْنَ وَطَابَتْ أَنْفُسُهُنَّ، ثُمَّ وَضَعَتْ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ أُتْرُجًّا [[في أ: "أترنجا".]] وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا: هَلْ لَكُنَّ فِي النَّظَرِ إِلَى يُوسُفَ؟ قُلْنَ: نَعَمْ. فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ تَأْمُرُهُ أَنِ اخْرُجْ إِلَيْهِنَّ [[في أ: "عليهن".]] فَلَمَّا رَأَيْنَهُ جَعَلْنَ يَقْطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يَرْجِعَ فَرَجَعَ لِيَرَيْنَهُ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، وَهُنَّ يُحَزُّزْنَ فِي أَيْدِيهِنَّ، فَلَمَّا أَحْسَسْنَ بِالْأَلَمِ جَعَلْنَ يُوَلْوِلْنَ، فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ مِنْ نَظْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَعَلْتُنَّ هَكَذَا، فَكَيْفَ أُلَامُ أَنَا؟ فَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ، ثُمَّ قُلْنَ لَهَا: وَمَا نَرَى عَلَيْكِ مِنْ لَوْمٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْنَا، لِأَنَّهُنَّ لَمْ يَرَيْنَ فِي الْبَشَرِ شَبَهَهُ وَلَا قَرِيبًا مِنْهُ، فَإِنَّهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [[في ت، أ: "وسلامه".]] كَانَ قَدْ أُعْطِي شَطْرَ الْحُسْنِ، كَمَا ثَبَتَ ذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَرَّ بِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، قَالَ: "فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (١٦٢) من حديث أنس رضي الله عنه.]]
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أُعْطِيَ يوسف وأمه شطر الْحُسْنِ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/٨٠) والحاكم في المستدرك (٢/٥٧٠) وابن عدي في الكامل (٥/٣٨٥) من طريق عفان عن حماد بن سلمة به، وقال الحاكم: "هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يخرجاه". قال ابن عدي: "وهذا الحديث ما أعلم رفعه أحد غير عفان، وغيره أوقفه عن حماد بن سلمة، وعفان أشهر وأوثق وأصدق من أن يقال فيه شيء مما ينسب إلى الضعف".]] وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ الْحُسْنِ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَيْضًا، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ وَجْهُ يُوسُفَ مَثَلَ الْبَرْقِ، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا أَتَتْهُ لِحَاجَةٍ غَطَّى وَجْهَهُ مَخَافَةَ أَنْ تَفْتَتِنَ بِهِ.
وَرَوَاهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ مُرْسَلًا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ حُسْنِ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَأُعْطِيَ النَّاسُ الثُّلُثَيْنِ -أَوْ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ الثُّلُثَيْنِ وَالنَّاسُ الثُّلُثَ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/٨٠) .]]
وَقَالَ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَبِيعَةَ الجُرَشي قَالَ: قُسِمَ الْحُسْنُ نِصْفَيْنِ، فَأُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ سَارَّةُ نِصْفَ الْحُسْنِ. وَالنِّصْفُ الْآخَرُ بَيْنَ سَائِرِ الْخَلْقِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو الْقَاسِمِ السُّهَيْلِيُّ: مَعْنَاهُ: أَنَّ يُوسُفَ كَانَ عَلَى النِّصْفِ مِنْ حُسْنِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ بِيَدِهِ عَلَى أَكْمَلِ صُورَةٍ وَأَحْسَنِهَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذُرِّيَّتِهِ مَنْ يُوَازِيهِ فِي جَمَالِهِ، وَكَانَ يُوسُفُ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ حُسْنِهِ.
فَلِهَذَا قَالَ هَؤُلَاءِ النِّسْوَةُ عِنْدَ رُؤْيَتِهِ: ﴿حَاشَ لِلَّهِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: مَعَاذَ اللَّهِ، ﴿مَا هَذَا بَشَرًا﴾ وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "مَا هَذَا بِشِرىً" أَيْ: بِمُشْتَرًى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا مَلَكٌ كَرِيمٌ قَالَتْ فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ﴾ تَقُولُ هَذَا مُعْتَذِرَةً إِلَيْهِنَّ بِأَنَّ هَذَا حَقِيقٌ بِأَنْ يُحَبَّ لِجَمَالِهِ وَكَمَالِهِ.
﴿وَلَقَدْ رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ﴾ أَيْ: فَامْتَنَعَ. قَالَ بَعْضُهُمْ: لَمَّا رَأَيْنَ جَمَالَهُ الظَّاهِرَ، أَخْبَرَتْهُنَّ بِصِفَاتِهِ الْحَسَنَةِ الَّتِي تَخْفَى عَنْهُنَّ، وَهِيَ [[في ت: "عليهن وهو".]] الْعِفَّةُ مَعَ هَذَا الْجَمَالِ، ثُمَّ قَالَتْ تَتَوَعَّدُ [[في ت، أ: "تتوعده".]] ﴿وَلَئِنْ لَمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونَنْ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾ فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَعَاذَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ شَرِّهِنَّ وَكَيْدِهِنَّ، وَقَالَ: ﴿رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ﴾ أَيْ: مِنَ الْفَاحِشَةِ، ﴿وَإِلا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ﴾ أَيْ: إِنْ وَكَّلْتَنِي إِلَى نَفْسِي، فَلَيْسَ لِي مِنْ نَفْسِي قُدْرَةٌ، وَلَا أَمَلِكُ لَهَا ضُرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي.
﴿أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجَاهِلِينَ فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَصَمه اللَّهُ عِصْمَةً عَظِيمَةً، وَحَمَاهُ فَامْتَنَعَ منها أشد الامتناع، واختار السجن عَلَى ذَلِكَ، وَهَذَا فِي غَايَةِ مَقَامَاتِ الْكَمَالِ: أَنَّهُ مَعَ شَبَابِهِ وَجَمَالِهِ وَكَمَالِهِ تَدْعُوهُ سَيِّدَتُهُ، وَهِيَ امْرَأَةُ عَزِيزِ مِصْرَ، وَهِيَ مَعَ هَذَا فِي [[في ت: "إلى".]] غَايَةِ الْجَمَالِ وَالْمَالِ، وَالرِّيَاسَةِ وَيَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، وَيَخْتَارُ السِّجْنَ عَلَى ذَلِكَ، خَوْفًا مِنَ اللَّهِ وَرَجَاءَ ثَوَابِهِ.
وَلِهَذَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قَالَ: "سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ [[في ت: "في طاعة الله عز وجل".]] وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ [[في ت، أ: "في المسجد".]] إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَافْتَرَقَا [[في ت، أ: "وتفرقا".]] عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ جَمَالٍ وَمَنْصِبٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ" [[صحيح البخاري برقم (١٤٢٣) وصحيح مسلم برقم (١٠٣١) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.]]
فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
So his Lord responded to him and averted from him their plan. Indeed, He is the Hearing, the Knowing.
تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے
پروردگارش دعای او را اجابت کرد؛ و مکر آنان را از او بگردانید؛ چرا که او شنوا و داناست!
Tafsir Ibn Kathir
And women in the city said: "The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her (slave) young man, indeed she loves him violently; verily, we see her in plain error. (30)So when she heard of their accusation, she sent for them and prepared a banquet for them; she gave each one of them a knife, and she said [to Yusuf]: "Come out before them." Then, when they saw him, they exalted him (at his beauty) and (in their astonishment) cut their hands. They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel! (31)She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me, and I did seek to seduce him, but he refused. And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced. (32)He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me. Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them and be one of the ignorant. (33)So his Lord answered his invocation and turned away from him their plot. Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower (34)
The News reaches Women in the City, Who also plot against Yusuf
Allah states that the news of what happened between the wife of the 'Aziz and Yusuf spread in the city, that is, Egypt, and people talked about it,
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ
(And women in the city said...), such as women of chiefs and princes said, while admonishing and criticizing the wife of the 'Aziz,
امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ
(The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her (slave) young man,), she is luring her servant to have sex with her,
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
(indeed she loves him violently;), her love for him filled her heart and engulfed it,
إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(verily, we see her in plain error.), by loving him and trying to seduce him.
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
(So when she heard of their accusation,) especially their statement, "indeed she loves him violently." Muhammad bin Ishaq commented, "They heard of Yusuf's beauty and wanted to see him, so they said these words in order to get a look at him. " This is when,
أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
(she sent for them), invited them to her house,
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً
(and prepared a banquet for them.) Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and several others commented that she prepared a sitting room which had couches, pillows [to recline on] and food that requires knives to cut, such as citron. This is why Allah said next,
وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا
(and she gave each one of them a knife), as a part of her plan of revenge for their plot to see Yusuf,
وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ
(and she said [to Yusuf]: "Come out before them."), for she had asked him to stay somewhere else in the house,
فَلَمَّا
(Then, when) he went out and,
رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
(they saw him, they exalted him)
they thought highly of him and were astonished at what they saw. They started cutting their hands in amazement at his beauty, while thinking that they were cutting the citron with their knives. Therefore, they injured their hands with the knives they were holding, according to several reports of Tafsir.
Others said that after they ate and felt comfortable, and after having placed citron in front of them, giving each one of them a knife, the wife of the 'Aziz asked them, "Would you like to see Yusuf" They said, "Yes." So she sent for him to come in front of them and when they saw him, they started cutting their hands. She ordered him to keep coming and going, so that they saw him from all sides, and he went back in while they were still cutting their hands. When they felt the pain, they started screaming and she said to them, "You did all this from one look at him, so how can I be blamed?
وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ
(They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel!") They said to her, "We do not blame you anymore after the sight that we saw." They never saw anyone like Yusuf before, for he, peace be upon him, was given half of all beauty. An authentic Hadith stated that the Messenger of Allah passed ﷺ by Prophet Yusuf, during the Night of Isra' in the third heaven and commented,
فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ
(He was given a half of all beauty.) Mujahid and others said [they said]: "We seek refuge from Allah,"
مَا هَٰذَا بَشَرًا
(No man is this!) They said next,
إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ - قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ
("This is none other than a noble angel!" She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me...") She said these words to them so that they excuse her behavior, for a man who looks this beautiful and perfect, is worthy of being loved, she thought. She said,
وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ
(and I did seek to seduce him, but he refused) to obey me. Some scholars said that when the women saw Yusuf's beauty, she told them about his inner beauty that they did not know of, being chaste and beautiful from the inside and outside. She then threatened him,
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ
(And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced.) This is when Prophet Yusuf sought refuge with Allah from their evil and wicked plots,
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ
(He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me...") illegal sexual acts,
وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
(Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them) Yusuf invoked Allah: If You abandon me and I am reliant on myself, then I have no power over myself, nor can I bring harm or benefit to myself, except with Your power and will. Verily, You are sought for each and everything, and our total reliance is on You Alone for each and everything. Please, do not abandon me and leave me to rely on myself, for then,
أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ - فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ
("I will feel inclined towards them and be one of the ignorant." So his Lord answered his invocation) Yusuf, peace be upon him, was immune from error by Allah's will, and He saved him from accepting the advances of the wife of the 'Aziz'. He preferred prison, rather than accept her illicit call. This indicates the best and most perfect grade in this case, for Yusuf was youthful, beautiful and full of manhood. His master's wife was calling him to herself, and she was the wife of the 'Aziz of Egypt. She was also very beautiful and wealthy, as well as having a great social rank. He refused all this and preferred prison, for he feared Allah and hoped to earn His reward.
It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
(Allah will give shade to seven, on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, a man whose heart is attached to the Masjid, from the time he goes out of the Masjid until he gets back to it, two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: "I am afraid of Allah, and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.")
Tafsir Ibn Kathir
داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ 001 مسلمان عادل بادشاہ 002 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 003 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے 004 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں 005 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی 006 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں 007 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ خَبَرَ يُوسُفَ وَاِمْرَأَةِ الْعَزِيزِ شَاعَ فِي الْمَدِينَةِ، وَهِيَ مِصْرُ، حَتَّى تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهِ، ﴿وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ﴾ مِثْلُ نِسَاءِ الْأُمَرَاءِ [و] [[زيادة من ت، أ.]] الْكُبَرَاءِ، يُنْكِرْنَ عَلَى امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ الْوَزِيرُ، وَيَعِبْنَ ذَلِكَ عَلَيْهَا: ﴿امْرَأَةُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَفْسِهِ﴾ أَيْ: تحاول غلامها عن نفسه، وتدعوه إلى نَفْسِهَا، ﴿قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا﴾ أَيْ قَدْ: وَصَلَ حُبُّهُ إِلَى شَغَافِ قَلْبِهَا. وَهُوَ غِلَافُهُ.
قَالَ الضَّحَّاكُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الشَّغَف: الْحُبُّ الْقَاتِلُ، والشَّغَف دُونَ ذَلِكَ، وَالشَّغَافُ: حِجَابُ الْقَلْبِ.
﴿إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلالٍ مُبِينٍ﴾ أَيْ: فِي صَنِيعِهَا هَذَا مِنْ حُبِّهَا فَتَاهَا، وَمُرَاوَدَتِهَا إِيَّاهُ عَنْ نَفْسِهِ.
﴿فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ﴾ قَالَ بَعْضُهُمْ: بِقَوْلِهِنَّ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: بَلْ [[في ت، أ: "قيل".]] بَلَغهُنَّ حُسْنُ يُوسُفَ، فَأَحْبَبْنَ أَنْ يَرَيْنَهُ، فَقُلْنَ ذَلِكَ لِيَتَوَصَّلْنَ إِلَى رُؤْيَتِهِ وَمُشَاهَدَتِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ﴿أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ﴾ أَيْ: دَعَتْهُنَّ إِلَى مَنْزِلِهَا لِتُضَيِّفَهُنَّ ﴿وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَالسُّدِّيُّ، وَغَيْرُهُمْ: هُوَ الْمَجْلِسُ الْمُعَدُّ، فِيهِ مَفَارِشُ وَمَخَادُّ وَطَعَامٌ، فِيهِ مَا يُقْطَعُ بِالسَّكَاكِينِ مَنْ أُتْرُجٍّ [[في ت، أ: "أترنج".]] وَنَحْوِهِ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا﴾ وَكَانَ هَذَا مَكِيدَةً مِنْهَا، وَمُقَابَلَةً لَهُنَّ فِي احْتِيَالِهِنَّ عَلَى رُؤْيَتِهِ، ﴿وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ﴾ وَذَلِكَ أَنَّهَا كَانَتْ قَدْ خَبَّأَتْهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ، ﴿فَلَمَّا﴾ خَرَجَ وَ ﴿رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ﴾ أَيْ: أَعَظَمْنَ شَأْنَهُ، وَأَجْلَلْنَ قَدْرَهُ؛ وَجَعَلْنَ يُقَطِّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ دَهَشا بِرُؤْيَتِهِ، وَهُنَّ يَظْنُنَّ أَنَّهُنَّ يُقَطِّعْنَ الْأُتْرُجَّ [[في: "الأترج".]] بِالسَّكَاكِينِ، وَالْمُرَادُ: أَنَّهُنَّ حَزَّزْنَ أَيْدِيَهُنَّ بِهَا، قَالَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.
وَعَنْ مُجَاهِدٍ، وَقَتَادَةَ: قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ حَتَّى أَلْقَيْنَهَا، فَاللَّهُ [[في أ: "والله".]] أَعْلَمُ.
وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أنها قالت لهن بعدما أَكَلْنَ وَطَابَتْ أَنْفُسُهُنَّ، ثُمَّ وَضَعَتْ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ أُتْرُجًّا [[في أ: "أترنجا".]] وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا: هَلْ لَكُنَّ فِي النَّظَرِ إِلَى يُوسُفَ؟ قُلْنَ: نَعَمْ. فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ تَأْمُرُهُ أَنِ اخْرُجْ إِلَيْهِنَّ [[في أ: "عليهن".]] فَلَمَّا رَأَيْنَهُ جَعَلْنَ يَقْطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يَرْجِعَ فَرَجَعَ لِيَرَيْنَهُ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، وَهُنَّ يُحَزُّزْنَ فِي أَيْدِيهِنَّ، فَلَمَّا أَحْسَسْنَ بِالْأَلَمِ جَعَلْنَ يُوَلْوِلْنَ، فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ مِنْ نَظْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَعَلْتُنَّ هَكَذَا، فَكَيْفَ أُلَامُ أَنَا؟ فَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ، ثُمَّ قُلْنَ لَهَا: وَمَا نَرَى عَلَيْكِ مِنْ لَوْمٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْنَا، لِأَنَّهُنَّ لَمْ يَرَيْنَ فِي الْبَشَرِ شَبَهَهُ وَلَا قَرِيبًا مِنْهُ، فَإِنَّهُ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [[في ت، أ: "وسلامه".]] كَانَ قَدْ أُعْطِي شَطْرَ الْحُسْنِ، كَمَا ثَبَتَ ذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَرَّ بِيُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، قَالَ: "فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (١٦٢) من حديث أنس رضي الله عنه.]]
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أُعْطِيَ يوسف وأمه شطر الْحُسْنِ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/٨٠) والحاكم في المستدرك (٢/٥٧٠) وابن عدي في الكامل (٥/٣٨٥) من طريق عفان عن حماد بن سلمة به، وقال الحاكم: "هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يخرجاه". قال ابن عدي: "وهذا الحديث ما أعلم رفعه أحد غير عفان، وغيره أوقفه عن حماد بن سلمة، وعفان أشهر وأوثق وأصدق من أن يقال فيه شيء مما ينسب إلى الضعف".]] وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ الْحُسْنِ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَيْضًا، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ وَجْهُ يُوسُفَ مَثَلَ الْبَرْقِ، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا أَتَتْهُ لِحَاجَةٍ غَطَّى وَجْهَهُ مَخَافَةَ أَنْ تَفْتَتِنَ بِهِ.
وَرَوَاهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ مُرْسَلًا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ حُسْنِ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَأُعْطِيَ النَّاسُ الثُّلُثَيْنِ -أَوْ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ الثُّلُثَيْنِ وَالنَّاسُ الثُّلُثَ" [[رواه الطبري في تفسيره (١٦/٨٠) .]]
وَقَالَ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَبِيعَةَ الجُرَشي قَالَ: قُسِمَ الْحُسْنُ نِصْفَيْنِ، فَأُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ سَارَّةُ نِصْفَ الْحُسْنِ. وَالنِّصْفُ الْآخَرُ بَيْنَ سَائِرِ الْخَلْقِ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو الْقَاسِمِ السُّهَيْلِيُّ: مَعْنَاهُ: أَنَّ يُوسُفَ كَانَ عَلَى النِّصْفِ مِنْ حُسْنِ آدَمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ بِيَدِهِ عَلَى أَكْمَلِ صُورَةٍ وَأَحْسَنِهَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذُرِّيَّتِهِ مَنْ يُوَازِيهِ فِي جَمَالِهِ، وَكَانَ يُوسُفُ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ حُسْنِهِ.
فَلِهَذَا قَالَ هَؤُلَاءِ النِّسْوَةُ عِنْدَ رُؤْيَتِهِ: ﴿حَاشَ لِلَّهِ﴾ قَالَ مُجَاهِدٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ: مَعَاذَ اللَّهِ، ﴿مَا هَذَا بَشَرًا﴾ وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "مَا هَذَا بِشِرىً" أَيْ: بِمُشْتَرًى.
﴿إِنْ هَذَا إِلا مَلَكٌ كَرِيمٌ قَالَتْ فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ﴾ تَقُولُ هَذَا مُعْتَذِرَةً إِلَيْهِنَّ بِأَنَّ هَذَا حَقِيقٌ بِأَنْ يُحَبَّ لِجَمَالِهِ وَكَمَالِهِ.
﴿وَلَقَدْ رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ﴾ أَيْ: فَامْتَنَعَ. قَالَ بَعْضُهُمْ: لَمَّا رَأَيْنَ جَمَالَهُ الظَّاهِرَ، أَخْبَرَتْهُنَّ بِصِفَاتِهِ الْحَسَنَةِ الَّتِي تَخْفَى عَنْهُنَّ، وَهِيَ [[في ت: "عليهن وهو".]] الْعِفَّةُ مَعَ هَذَا الْجَمَالِ، ثُمَّ قَالَتْ تَتَوَعَّدُ [[في ت، أ: "تتوعده".]] ﴿وَلَئِنْ لَمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونَنْ مِنَ الصَّاغِرِينَ﴾ فَعِنْدَ ذَلِكَ اسْتَعَاذَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ شَرِّهِنَّ وَكَيْدِهِنَّ، وَقَالَ: ﴿رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ﴾ أَيْ: مِنَ الْفَاحِشَةِ، ﴿وَإِلا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ﴾ أَيْ: إِنْ وَكَّلْتَنِي إِلَى نَفْسِي، فَلَيْسَ لِي مِنْ نَفْسِي قُدْرَةٌ، وَلَا أَمَلِكُ لَهَا ضُرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي.
﴿أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجَاهِلِينَ فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَصَمه اللَّهُ عِصْمَةً عَظِيمَةً، وَحَمَاهُ فَامْتَنَعَ منها أشد الامتناع، واختار السجن عَلَى ذَلِكَ، وَهَذَا فِي غَايَةِ مَقَامَاتِ الْكَمَالِ: أَنَّهُ مَعَ شَبَابِهِ وَجَمَالِهِ وَكَمَالِهِ تَدْعُوهُ سَيِّدَتُهُ، وَهِيَ امْرَأَةُ عَزِيزِ مِصْرَ، وَهِيَ مَعَ هَذَا فِي [[في ت: "إلى".]] غَايَةِ الْجَمَالِ وَالْمَالِ، وَالرِّيَاسَةِ وَيَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، وَيَخْتَارُ السِّجْنَ عَلَى ذَلِكَ، خَوْفًا مِنَ اللَّهِ وَرَجَاءَ ثَوَابِهِ.
وَلِهَذَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قَالَ: "سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ [[في ت: "في طاعة الله عز وجل".]] وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ [[في ت، أ: "في المسجد".]] إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَافْتَرَقَا [[في ت، أ: "وتفرقا".]] عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ جَمَالٍ وَمَنْصِبٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ" [[صحيح البخاري برقم (١٤٢٣) وصحيح مسلم برقم (١٠٣١) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.]]
ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْءَايَٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍۢ
Then it appeared to them after they had seen the signs that al-'Azeez should surely imprison him for a time.
پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں
و بعد از آنکه نشانههای (پاکی یوسف) را دیدند، تصمیم گرفتند او را تا مدّتی زندانی کنند!
Tafsir Ibn Kathir
Then it occurred to them, after they had seen the proofs (of his innocence), to imprison him for a time (35)
Yusuf is imprisoned without Justification
Allah says, 'Then it occurred to them that it would be in their interest to imprison Yusuf for a time, even after they were convinced of his innocence and saw the proofs of his truth, honesty and chastity.' It appears, and Allah knows best, that they imprisoned him after the news of what happened spread. They wanted to pretend that Yusuf was the one who tried to seduce the 'Aziz's wife and that they punished him with imprisonment. This is why when the Pharaoh asked Yusuf to leave jail a long time afterwards, he refused to leave until his innocence was acertained and the allegation of his betrayal was refuted. When this was successfully achieved, Yusuf left the prison with his honor intact, peace be upon him.
Tafsir Ibn Kathir
جیل خانہ اور یوسف ؑ حضرت یوسف ؑ کی پاک دامنی کا راز سب پر کھل گیا۔ لیکن تاہم ان لوگوں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ کچھ مدت تک حضرت یوسف ؑ کو جیل خانہ مییں رکھیں۔ بہت ممکن ہے کہ اس میں ان سب نے یہ مصلحت سوچی ہو کہ لوگوں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ عزیز کی بیوی اس کی چاہت میں مبتلا ہے۔ جب ہم یوسف کو قید کردیں گے وہ لوگ سمجھ لیں گے کہ قصور اسی کا تھا اسی نے کوئی ایسی نگاہ کی ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ جب شاہ مصر نے آپ کو قید خانے سے آزاد کرنے کے لیے اپنے پاس بلوایا تو آپ نے وہیں سے فرمایا کہ میں نہ نکلوں گا جب تک میری برات اور میری پاکدامنی صاف طور پر ظاہر نہ ہوجائے اور آپ حضرات اس کی پوری تحقیق نہ کرلیں جب تک بادشاہ نے ہر طرح کے گواہ سے بلکہ خود عزیز کی بیوی سے پوری تحقیق نہ کرلی اور آپ کا بےقصور ہونا، ساری دنیا پر کھل نہ گیا آپ جیل خانے سے باہر نہ نکلے۔ پھر آپ باہر آئے جب کہ ایک دل بھی ایسا نہ تھا جس میں صدیق اکبر، نبی اللہ پاکدامن اور معصوم رسول اللہ حضرت یوسف علیہ الصلواۃ والسلام کی طرف سے ذرا بھی بدگمانی ہو۔ قید کرنے کی بڑی وجہ یہی تھی کہ عزیز کی بیوی کی رسوائی نہ ہو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ثُمَّ ظَهَرَ لَهُمْ مِنَ الْمَصْلَحَةِ فِيمَا رَأَوْهُ أَنَّهُمْ يَسْجُنُونَهُ إِلَى حِينٍ، أَيْ: إِلَى مُدَّةٍ، وَذَلِكَ بعدما عَرَفُوا بَرَاءَتَهُ، وَظَهَرَتِ الْآيَاتُ -وَهِيَ الْأَدِلَّةُ -عَلَى صِدْقِهِ فِي عِفَّتِهِ وَنَزَاهَتِهِ. فَكَأَنَّهُمْ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -إِنَّمَا سَجَنُوهُ لَمَّا شَاعَ الْحَدِيثُ إِيهَامًا [[في ت: "اتهاما".]] أَنَّ هَذَا رَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا، وَأَنَّهُمْ سَجَنُوهُ عَلَى ذَلِكَ. وَلِهَذَا لَمَّا طَلَبَهُ الْمَلِكُ الْكَبِيرُ فِي آخِرِ الْمُدَّةِ، امْتَنَعَ مِنَ الْخُرُوجِ حَتَّى تَتَبَيَّنَ بَرَاءَتُهُ مِمَّا نُسِبَ إِلَيْهِ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَلَمَّا تَقَرَّرَ ذَلِكَ خَرَجَ وَهُوَ نَقِيّ الْعِرْضِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَامُهُ.
وَذَكَرَ السُّدِّي: أَنَّهُمْ إِنَّمَا سَجَنُوهُ لِئَلَّا يَشِيعَ مَا كَانَ مِنْهَا [[في أ: "منهما".]] فِي حَقِّهِ، وَيَبْرَأَ عِرْضُهُ فَيَفْضَحَهَا.
وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ ۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًۭا ۖ وَقَالَ ٱلْءَاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًۭا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ ۖ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ
And there entered the prison with him two young men. One of them said, "Indeed, I have seen myself [in a dream] pressing wine." The other said, "Indeed, I have seen myself carrying upon my head [some] bread, from which the birds were eating. Inform us of its interpretation; indeed, we see you to be of those who do good."
اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں
و دو جوان، همراه او وارد زندان شدند؛ یکی از آن دو گفت: «من در خواب دیدم که (انگور برای) شراب میفشارم!» و دیگری گفت: «من در خواب دیدم که نان بر سرم حمل میکنم؛ و پرندگان از آن میخورند؛ ما را از تعبیر این خواب آگاه کن که تو را از نیکوکاران میبینیم.»
Tafsir Ibn Kathir
And there entered with him two young men in the prison. One of them said: "Verily, I saw myself (in a dream) pressing wine." The other said: "Verily, I saw myself (in a dream) carrying bread on my head and birds were eating thereof." (They said): "Inform us of the interpretation of this. Verily, we think you are one of the doers of good. (36)
Two Jail Mates ask Yusuf to interpret their Dreams
Qatadah said, "One of them was the king's distiller and the other was his baker." Each of these two men had a dream and asked Yusuf to interpret it for them.
Tafsir Ibn Kathir
جیل خانہ میں بادشاہ کے باورچی اور ساقی سے ملاقات اتفاق سے جس روز حضرت یوسف ؑ کو جیل خانہ جانا پڑا اسی دن باشاہ کا ساقی اور نان بائی بھی کسی جرم میں جیل خانے بھیج دیئے گئے۔ ساقی کا نام بندار تھا اور باورچی کا نام بحلث تھا۔ ان پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے کھانے پینے میں بادشاہ کو زہر دینے کی سازش کی تھی۔ قید خانے میں بھی نبی اللہ حضرت یوسف ؑ کی نیکیوں کی کافی شہرت تھی۔ سچائی، امانت داری، سخاوت، خوش خلقی، کثرت عبادت، اللہ ترسی، علم و عمل، تعبیر خواب، احسان و سلوک وغیرہ میں آپ مشہور ہوگئے تھے۔ جیل خانے کے قیدیوں کی بھلائی ان کی خیر خواہی ان سے مروت و سلوک ان کے ساتھ بھلائی اور احسان ان کی دلجوئی اور دلداری ان کے بیماروں کی تیمارداری خدمت اور دوا دارو بھی آپ کا تشخص تھا۔ یہ دونوں ہی ملازم حضرت یوسف ؑ سے بہت ہی محبت کرنے لگے۔ ایک دن کہنے لگے کہ حضرت ہمیں آپ سے بہت ہی محبت ہوگئی ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تمہیں برکت دے۔ بات یہ ہے کہ مجھے تو جس نے چاہا کوئی نہ کوئی آفت ہی مجھ پر لایا۔ پھوپھی کی محبت، باپ کا پیار، عزیز کی بیوی کی چاہت، سب مجھے یاد ہے۔ اور اس کا نتیجہ میری ہی نہیں بلکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اب دونوں نے ایک مرتبہ خواب دیکھا ساقی نے دیکھا کہ وہ انگور کا شیرہ نچوڑ رہا ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں خمرا کے بدلے لفظ عنبا ہے، اہل عمان انگور کو خمر کہتے ہیں۔ اس نے دیکھا تھا کہ گویا اس نے انگور کی بیل بوئی ہے اس میں خوشے لگے ہیں، اس نے توڑے ہیں۔ پھر ان کا شیرہ نچوڑ رہا ہے کہ بادشاہ کو پلائے۔ یہ خواب بیان کر کے آرزو کی کہ آپ ہمیں اس کی تعبیر بتلائیے۔ اللہ کے پیغمبر نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ تمہیں تین دن کے بعد جیل خانے سے آزاد کردیا جائے گا اور تم اپنے کام پر یعنی بادشاہ کی ساقی گری میں لگ جاؤ گے۔ دوسرے نے کہا جناب میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے آ آکر اس میں سے کھا رہے ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات تو یہی ہے کہ واقعہ ان دونوں نے یہی خواب دیکھے تھے اور ان کی صحیح تعبیر حضرت یوسف ؑ سے دریافت کی تھی۔ لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ درحقیقت انہوں نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا تھا۔ لیکن حضرت یوسف ؑ کی آزمائش کے لیے جھوٹے خواب بیان کر کے تعبیر طلب کی تھی۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ قَتَادَةُ: كَانَ أَحَدُهُمَا سَاقِيَ الْمَلِكِ، وَالْآخَرُ خَبَّازَهُ.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: كَانَ اسْمُ الَّذِي عَلَى الشَّرَابِ "نَبَوَا"، وَالْآخَرِ "مجلثَ".
قَالَ السُّدِّيُّ: وَكَانَ سَبَبُ حَبْسِ الْمَلِكِ إِيَّاهُمَا أَنَّهُ تَوَهَّمَ أَنَّهُمَا تَمَالَآ عَلَى سَمِّهِ فِي طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ.
وَكَانَ [[في ت: "فكان".]] يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَدِ اشْتُهِرَ فِي السِّجْنِ بِالْجُودِ [[في أ: "بالجودة".]] وَالْأَمَانَةِ وَصِدْقِ الْحَدِيثِ، وَحُسْنِ السَّمْتِ وَكَثْرَةِ الْعِبَادَةِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَامُهُ، وَمَعْرِفَةِ التَّعْبِيرِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى أهل السجن وعيادة مَرْضَاهُمْ وَالْقِيَامِ بِحُقُوقِهِمْ. وَلَمَّا دَخَلَ هَذَانِ [[في ت: "هذا".]] الْفَتَيَانِ إِلَى السِّجْنِ، تَآلَفَا بِهِ وَأَحَبَّاهُ حُبًّا شَدِيدًا، وَقَالَا لَهُ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَحْبَبْنَاكَ حُبًّا زَائِدًا. قَالَ [[في ت، أ: "فقال".]] بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا، إِنَّهُ مَا أَحَبَّنِي أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ عَلَيَّ مِنْ مَحَبَّتِهِ ضَرَرٌ، أَحَبَّتْنِي عَمَّتِي فَدَخَلَ عَلَيَّ الضَّرَرُ بِسَبَبِهَا، وَأَحَبَّنِي أَبِي فَأُوذِيتُ بِسَبَبِهِ، وَأَحَبَّتْنِي امْرَأَةُ الْعَزِيزِ فَكَذَلِكَ، فَقَالَا وَاللَّهِ مَا نَسْتَطِيعُ إِلَّا ذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّهُمَا رَأَيَا مَنَامًا، فَرَأَى السَّاقِي أَنَّهُ يَعْصِرُ خَمْرًا -يَعْنِي عِنَبًا -وَكَذَلِكَ هِيَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: "إِنِّي أَرَانِي أَعْصِرُ عِنَبًا". وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سِنَان، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ شَرِيك، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهُ قَرَأَهَا: "أَعْصِرُ عِنَبًا".
وَقَالَ الضَّحَّاكُ فِي قَوْلِهِ: ﴿إِنِّي أَرَانِي أَعْصِرُ خَمْرًا﴾ يَعْنِي: عِنَبًا. قَالَ: وَأَهْلُ عَمَّانَ يسمُّون الْعِنَبَ خَمْرًا.
وَقَالَ عِكْرِمَةُ: رَأَيْتُ [[في ت: "وقال عكرمة: قال له رأيت".]] فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنِّي غَرَسْتُ حَبَلة مِنْ عِنَبٍ، فَنَبَتَتْ. فَخَرَجَ فِيهِ عَنَاقِيدُ، فَعَصَرْتُهُنَّ ثُمَّ سَقَيْتُهُنَّ الْمَلِكَ. قَالَ [[في ت، أ: "فقال".]] تَمْكُثُ فِي السِّجْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتَسْقِيَهُ خَمْرًا.
وَقَالَ الْآخَرُ -وَهُوَ الْخَبَّازُ -: ﴿إِنِّي أَرَانِي أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِي خُبْزًا تَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾
وَالْمَشْهُورُ عِنْدَ الْأَكْثَرِينَ مَا ذَكَرْنَاهُ، وَأَنَّهُمَا رَأَيَا مَنَامًا وَطَلَبَا تَعْبِيرَهُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَكِيع وَابْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: مَا رَأَى صَاحِبَا يُوسُفَ شَيْئًا، إِنَّمَا كَانَا تَحَالَمَا لِيُجَرِّبَا عَلَيْهِ.
قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌۭ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ ۚ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍۢ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْءَاخِرَةِ هُمْ كَٰفِرُونَ
He said, "You will not receive food that is provided to you except that I will inform you of its interpretation before it comes to you. That is from what my Lord has taught me. Indeed, I have left the religion of a people who do not believe in Allah, and they, in the Hereafter, are disbelievers.
یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں
(یوسف) گفت: «پیش از آنکه جیره غذایی شما فرا رسد، شما را از تعبیر خوابتان آگاه خواهم ساخت. این، از دانشی است که پروردگارم به من آموخته است. من آیین قومی را که به خدا ایمان ندارند، و به سرای دیگر کافرند، ترک گفتم (و شایسته چنین موهبتی شدم)!
Tafsir Ibn Kathir
He said: "No food will come to you as your provision, but I will inform its interpretation before it comes. This is of that which my Lord has taught me. Verily, I have abandoned the religion of a people that believe not in Allah and are disbelievers in the Hereafter. (37)"And I have followed the religion of my fathers, - Ibrahim, Ishaq and Ya'qub and never could we attribute any partners whatsoever to Allah. This is from the grace of Allah to us and to mankind, but most men thank not (38)
Yusuf calls His Jail Mates to Tawhid even before He interprets Their Dreams
Yusuf, peace be upon him, told the two men that he has knowledge in the interpretation of whatever they saw in their dream, and that he will tell them about the interpretation of the dreams before they become a reality. This is why he said,
لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ
(No food will come to you as your provision, but I will inform you of its interpretation) Mujahid commented,
لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ
(No food will come to you as your provision,) this day,
إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا
(but I will inform you of its interpretation before it comes.) As-Suddi said similarly. Yusuf said that, this knowledge is from Allah Who taught it to me, because I shunned the religion of those who disbelieve in Him and the Last Day, who neither hope for Allah's reward nor fear His punishment on the Day of Return,
وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ
(And I have followed the religion of my fathers, - Ibrahim, Ishaq and Ya'qub) Yusuf said, 'I have avoided the way of disbelief and polytheism, and followed the way of these honorable Messengers,' may Allah's peace and blessings be on them. This, indeed, is the way of he who seeks the path of guidance and follows the way of the Messengers, all the while shunning the path of deviation. It is he whose heart Allah will guide, teaching him what he did not know beforehand. It is he whom Allah will make an Imam who is imitated in the way of righteousness, and a caller to the path of goodness. Yusuf said next,
مَا كَانَ لَنَا أَن نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِن شَيْءٍ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ
(and never could we attribute any partners whatsoever to Allah. This is from the grace of Allah to us and to mankind,) this Tawhid -Monotheism-, affirming that there is no deity worthy of worship except Allah alone without partners,
مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا
(is from the grace of Allah to us), He has revealed it to us and ordained it on us,
وَعَلَى النَّاسِ
(and to mankind,), to whom He has sent us as callers to Tawhid,
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ
(but most men thank not.) they do not admit Allah's favor and blessing of sending the Messengers to them, but rather,
بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
(Have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction.)[14:28]
Tafsir Ibn Kathir
جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید حضرت یوسف ؑ اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہونے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتادوں گا۔ حضرت یوسف کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو۔ ابن عباس سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے۔ پھر فرماتے ہیں مجھے یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں نے ان کافروں کا مذہب چھوڑ رکھا ہے جو نہ اللہ کو مانیں نہ آخرت کو برحق جانیں میں نے اللہ کے پیغمبروں کے سچے دین کو مان رکھا ہے اور اسی کی تابعداری کرتا ہوں۔ خود میرے باپ دادا اللہ کے رسول تھے۔ ابراہیم، اسحاق، یعقوب علیہ الصلواۃ والسلام۔ فی الواقع جو بھی راہ راست پر استقامت سے چلے ہدایت کا پیرو رہے۔ اللہ کے رسولوں کی اتباع کو لازم پکڑ لے، گمراہوں کی راہ سے منہ پھیر لے۔ اللہ تبارک تعالیٰ اس کے دل کو پرنور اور اس کے سینے کو معمور کردیتا ہے۔ اسے علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے۔ اسے بھلائی میں لوگوں کا پیشوا کردیتا ہے کہ اور دنیا کو وہ نیکی کی طرف بلاتا رہتا ہے۔ ہم جب کہ راہ راست دکھا دئیے گئے توحید کی سمجھ دے دئیے گئے شرک کی برائی بتا دئیے گئے۔ پھر ہمیں کیسے یہ بات زیب دیتی ہے ؟ کہ ہم اللہ کے ساتھ اور کسی کو بھی شریک کرلیں۔ یہ توحید اور سچا دین اور یہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی یہ خاص اللہ کا فضل ہے جس میں ہم تنہا نہیں بلکہ اللہ کی اور مخلوق بھی شامل ہے۔ ہاں ہمیں یہ برتری ہے کہ ہماری جانب یہ براہ راست اللہ کی وحی آئی ہے۔ اور لوگوں کو ہم نے یہ وحی پہنچائی۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی اس زبردست نعمت کی جو اللہ نے ان پر رسول بھیج کر انعام فرمائی ہے ناقدری کرتے ہیں اور اسے مان کر نہیں رہتے بلکہ رب کی نعمت کے بدلے کفر کرتے ہیں۔ اور خود مع اپنے ساتھیوں کے ہلاکت کے گھر میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس دادا کو بھی باپ کے مساوی میں رکھتے ہیں اور فرماتے جو چاہے حطیم میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے دادا دادی کا ذکر نہیں کیا دیکھو حضرت یوسف کے بارے میں فرمایا میں نے اپنے باپ ابراہیم اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُهُمَا يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُمَا [[في ت: "أنه".]] مَهْمَا رَأَيَا فِي نَوْمِهِمَا مِنْ حُلْمٍ، فَإِنَّهُ عَارِفٌ [[في أ: "عالم".]] بِتَفْسِيرِهِ وَيُخْبِرُهُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ وُقُوعِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكُمَا﴾
قَالَ مُجَاهِدٌ: يَقُولُ: ﴿لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ﴾ [فِي نَوْمِكُمَا] [[زيادة من ت، أ.]] ﴿إِلا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكُمَا﴾ وَكَذَا قَالَ السُّدِّيُّ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ -شَيْخٌ لَهُ -حَدَّثَنَا رِشْدِينُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا أَدْرِي لَعَلَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يَعْتَافُ وَهُوَ كَذَلِكَ، لِأَنِّي أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حِينَ قَالَ لِلرَّجُلَيْنِ: ﴿لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ﴾ قَالَ: إِذَا جَاءَ الطَّعَامُ حُلْوًا أَوْ مُرًّا اعْتَافَ عِنْدَ ذَلِكَ. ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا عُلِّمَ فَعَلَّمَ. وَهَذَا أَثَرٌ [[في ت: "أمر".]] غَرِيبٌ.
ثُمَّ قَالَ: وَهَذَا إِنَّمَا هُوَ مِنْ تَعْلِيمِ اللَّهِ إِيَّايَ؛ لِأَنِّي اجْتَنَبْتُ مِلَّةَ الْكَافِرِينَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَرْجُونَ ثَوَابًا وَلَا عِقَابًا فِي الْمَعَادِ. ﴿وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾ يَقُولُ: هَجَرْتُ طَرِيقَ الْكُفْرِ وَالشِّرْكِ، وَسَلَكْتُ طَرِيقَ هَؤُلَاءِ الْمُرْسَلِينَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، وَهَكَذَا يَكُونُ حَالُ مِنْ سَلَكَ طَرِيقَ الْهُدَى، وَاتَّبَعَ الْمُرْسَلِينَ، وَأَعْرَضَ عَنْ طَرِيقِ الظَّالِمِينَ [[في ت، أ: "الضالين".]] فَإِنَّهُ يَهْدِي قَلْبَهُ وَيُعَلِّمُهُ مَا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ، وَيَجْعَلُهُ إِمَامًا يُقْتَدَى [[في ت: "يهتدي".]] بِهِ فِي الْخَيْرِ، وَدَاعِيًا إِلَى سَبِيلِ الرَّشَادِ.
﴿مَا كَانَ لَنَا أَنْ نُشْرِكَ بِاللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ﴾ هَذَا التَّوْحِيدُ -وَهُوَ الْإِقْرَارُ بِأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ﴿مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا﴾ أَيْ: أَوْحَاهُ إِلَيْنَا، وَأَمَرَنَا بِهِ ﴿وَعَلَى النَّاسِ﴾ إِذْ جَعَلَنَا دُعَاةً لَهُمْ إِلَى ذَلِكَ ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ﴾ [[في أ: "لا يعلمون".]] أَيْ: لَا يَعْرِفُونَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِمْ بِإِرْسَالِ الرُّسُلِ إِلَيْهِمْ، بَلْ ﴿بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إِبْرَاهِيمَ: ٢٨] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَان، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُ الْجَدَّ أَبًا، وَيَقُولُ: وَاللَّهِ فَمَنْ [[في ت، أ: "لمن".]] شَاءَ لَاعَنَّاهُ عِنْدَ الحجْر، مَا ذَكَرَ اللَّهُ جَدًّا وَلَا جَدَّةً، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى -يَعْنِي إِخْبَارًا عَنْ يُوسُفَ: ﴿وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾
وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ
And I have followed the religion of my fathers, Abraham, Isaac and Jacob. And it was not for us to associate anything with Allah. That is from the favor of Allah upon us and upon the people, but most of the people are not grateful.
اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
من از آیین پدرانم ابراهیم و اسحاق و یعقوب پیروی کردم! برای ما شایسته نبود چیزی را همتای خدا قرار دهیم؛ این از فضل خدا بر ما و بر مردم است؛ ولی بیشتر مردم شکرگزاری نمیکنند!
Tafsir Ibn Kathir
He said: "No food will come to you as your provision, but I will inform its interpretation before it comes. This is of that which my Lord has taught me. Verily, I have abandoned the religion of a people that believe not in Allah and are disbelievers in the Hereafter. (37)"And I have followed the religion of my fathers, - Ibrahim, Ishaq and Ya'qub and never could we attribute any partners whatsoever to Allah. This is from the grace of Allah to us and to mankind, but most men thank not (38)
Yusuf calls His Jail Mates to Tawhid even before He interprets Their Dreams
Yusuf, peace be upon him, told the two men that he has knowledge in the interpretation of whatever they saw in their dream, and that he will tell them about the interpretation of the dreams before they become a reality. This is why he said,
لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ
(No food will come to you as your provision, but I will inform you of its interpretation) Mujahid commented,
لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ
(No food will come to you as your provision,) this day,
إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا
(but I will inform you of its interpretation before it comes.) As-Suddi said similarly. Yusuf said that, this knowledge is from Allah Who taught it to me, because I shunned the religion of those who disbelieve in Him and the Last Day, who neither hope for Allah's reward nor fear His punishment on the Day of Return,
وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ
(And I have followed the religion of my fathers, - Ibrahim, Ishaq and Ya'qub) Yusuf said, 'I have avoided the way of disbelief and polytheism, and followed the way of these honorable Messengers,' may Allah's peace and blessings be on them. This, indeed, is the way of he who seeks the path of guidance and follows the way of the Messengers, all the while shunning the path of deviation. It is he whose heart Allah will guide, teaching him what he did not know beforehand. It is he whom Allah will make an Imam who is imitated in the way of righteousness, and a caller to the path of goodness. Yusuf said next,
مَا كَانَ لَنَا أَن نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِن شَيْءٍ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ
(and never could we attribute any partners whatsoever to Allah. This is from the grace of Allah to us and to mankind,) this Tawhid -Monotheism-, affirming that there is no deity worthy of worship except Allah alone without partners,
مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا
(is from the grace of Allah to us), He has revealed it to us and ordained it on us,
وَعَلَى النَّاسِ
(and to mankind,), to whom He has sent us as callers to Tawhid,
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ
(but most men thank not.) they do not admit Allah's favor and blessing of sending the Messengers to them, but rather,
بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
(Have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction.)[14:28]
Tafsir Ibn Kathir
جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید حضرت یوسف ؑ اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہونے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتادوں گا۔ حضرت یوسف کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو۔ ابن عباس سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے۔ پھر فرماتے ہیں مجھے یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں نے ان کافروں کا مذہب چھوڑ رکھا ہے جو نہ اللہ کو مانیں نہ آخرت کو برحق جانیں میں نے اللہ کے پیغمبروں کے سچے دین کو مان رکھا ہے اور اسی کی تابعداری کرتا ہوں۔ خود میرے باپ دادا اللہ کے رسول تھے۔ ابراہیم، اسحاق، یعقوب علیہ الصلواۃ والسلام۔ فی الواقع جو بھی راہ راست پر استقامت سے چلے ہدایت کا پیرو رہے۔ اللہ کے رسولوں کی اتباع کو لازم پکڑ لے، گمراہوں کی راہ سے منہ پھیر لے۔ اللہ تبارک تعالیٰ اس کے دل کو پرنور اور اس کے سینے کو معمور کردیتا ہے۔ اسے علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے۔ اسے بھلائی میں لوگوں کا پیشوا کردیتا ہے کہ اور دنیا کو وہ نیکی کی طرف بلاتا رہتا ہے۔ ہم جب کہ راہ راست دکھا دئیے گئے توحید کی سمجھ دے دئیے گئے شرک کی برائی بتا دئیے گئے۔ پھر ہمیں کیسے یہ بات زیب دیتی ہے ؟ کہ ہم اللہ کے ساتھ اور کسی کو بھی شریک کرلیں۔ یہ توحید اور سچا دین اور یہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی یہ خاص اللہ کا فضل ہے جس میں ہم تنہا نہیں بلکہ اللہ کی اور مخلوق بھی شامل ہے۔ ہاں ہمیں یہ برتری ہے کہ ہماری جانب یہ براہ راست اللہ کی وحی آئی ہے۔ اور لوگوں کو ہم نے یہ وحی پہنچائی۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی اس زبردست نعمت کی جو اللہ نے ان پر رسول بھیج کر انعام فرمائی ہے ناقدری کرتے ہیں اور اسے مان کر نہیں رہتے بلکہ رب کی نعمت کے بدلے کفر کرتے ہیں۔ اور خود مع اپنے ساتھیوں کے ہلاکت کے گھر میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس دادا کو بھی باپ کے مساوی میں رکھتے ہیں اور فرماتے جو چاہے حطیم میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے دادا دادی کا ذکر نہیں کیا دیکھو حضرت یوسف کے بارے میں فرمایا میں نے اپنے باپ ابراہیم اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُهُمَا يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَنَّهُمَا [[في ت: "أنه".]] مَهْمَا رَأَيَا فِي نَوْمِهِمَا مِنْ حُلْمٍ، فَإِنَّهُ عَارِفٌ [[في أ: "عالم".]] بِتَفْسِيرِهِ وَيُخْبِرُهُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ وُقُوعِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكُمَا﴾
قَالَ مُجَاهِدٌ: يَقُولُ: ﴿لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ﴾ [فِي نَوْمِكُمَا] [[زيادة من ت، أ.]] ﴿إِلا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكُمَا﴾ وَكَذَا قَالَ السُّدِّيُّ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ -شَيْخٌ لَهُ -حَدَّثَنَا رِشْدِينُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا أَدْرِي لَعَلَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يَعْتَافُ وَهُوَ كَذَلِكَ، لِأَنِّي أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حِينَ قَالَ لِلرَّجُلَيْنِ: ﴿لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ﴾ قَالَ: إِذَا جَاءَ الطَّعَامُ حُلْوًا أَوْ مُرًّا اعْتَافَ عِنْدَ ذَلِكَ. ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا عُلِّمَ فَعَلَّمَ. وَهَذَا أَثَرٌ [[في ت: "أمر".]] غَرِيبٌ.
ثُمَّ قَالَ: وَهَذَا إِنَّمَا هُوَ مِنْ تَعْلِيمِ اللَّهِ إِيَّايَ؛ لِأَنِّي اجْتَنَبْتُ مِلَّةَ الْكَافِرِينَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَرْجُونَ ثَوَابًا وَلَا عِقَابًا فِي الْمَعَادِ. ﴿وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾ يَقُولُ: هَجَرْتُ طَرِيقَ الْكُفْرِ وَالشِّرْكِ، وَسَلَكْتُ طَرِيقَ هَؤُلَاءِ الْمُرْسَلِينَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، وَهَكَذَا يَكُونُ حَالُ مِنْ سَلَكَ طَرِيقَ الْهُدَى، وَاتَّبَعَ الْمُرْسَلِينَ، وَأَعْرَضَ عَنْ طَرِيقِ الظَّالِمِينَ [[في ت، أ: "الضالين".]] فَإِنَّهُ يَهْدِي قَلْبَهُ وَيُعَلِّمُهُ مَا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ، وَيَجْعَلُهُ إِمَامًا يُقْتَدَى [[في ت: "يهتدي".]] بِهِ فِي الْخَيْرِ، وَدَاعِيًا إِلَى سَبِيلِ الرَّشَادِ.
﴿مَا كَانَ لَنَا أَنْ نُشْرِكَ بِاللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ﴾ هَذَا التَّوْحِيدُ -وَهُوَ الْإِقْرَارُ بِأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ﴿مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا﴾ أَيْ: أَوْحَاهُ إِلَيْنَا، وَأَمَرَنَا بِهِ ﴿وَعَلَى النَّاسِ﴾ إِذْ جَعَلَنَا دُعَاةً لَهُمْ إِلَى ذَلِكَ ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ﴾ [[في أ: "لا يعلمون".]] أَيْ: لَا يَعْرِفُونَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِمْ بِإِرْسَالِ الرُّسُلِ إِلَيْهِمْ، بَلْ ﴿بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إِبْرَاهِيمَ: ٢٨] .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَان، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُ الْجَدَّ أَبًا، وَيَقُولُ: وَاللَّهِ فَمَنْ [[في ت، أ: "لمن".]] شَاءَ لَاعَنَّاهُ عِنْدَ الحجْر، مَا ذَكَرَ اللَّهُ جَدًّا وَلَا جَدَّةً، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى -يَعْنِي إِخْبَارًا عَنْ يُوسُفَ: ﴿وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾
يَٰصَىٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌۭ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ
O [my] two companions of prison, are separate lords better or Allah, the One, the Prevailing?
میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟
ای دوستان زندانی من! آیا خدایان پراکنده بهترند، یا خداوند یکتای پیروز؟!
Tafsir Ibn Kathir
"O two companions of the prison! Are many different lords (gods) better or Allah, the One, the Irresistible? (39)"You do not worship besides Him but only names which you have named (forged) - you and your fathers - for which Allah has sent down no authority. The command is for none but Allah. He has commanded that you worship none but Him; that is the straight religion, but most men know not. (40)
Prophet Yusuf went on calling his two prison companions to worship Allah alone, without partners, and to reject whatever is being worshipped instead of Him like the idols, which were worshipped by the people of the two men, Yusuf said,
أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(Are many different lords (gods) better or Allah, the One, the Irresistible?) to Whose grace and infinite kingdom everything and everyone has submitted in humiliation. Prophet Yusuf explained to them next that it is because of their ignorance that they worship false deities and give them names, for these names were forged and are being transferred from one generation to the next generation. They have no proof or authority that supports this practice, hence his statement to them,
مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ
(for which Allah has sent down no authority) or proof and evidence. He then affirmed that the judgement, decision, will and kingdom are all for Allah alone, and He has commanded all of His servants to worship none but Him. He said,
ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ
(that is the straight religion,) 'this, Tawhid of Allah and directing all acts of worship at Him alone in sincerity, that I am calling you to is the right, straight religion that Allah has ordained and for which He has revealed what He wills of proofs and evidences,'
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(but most men know not.), and this is why most of them are idolators,
وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you eagerly desire it.)[12:103] When Yusuf finished calling them, he started interpreting their dreams for them,
Tafsir Ibn Kathir
شاہی باورچی اور ساقی کے خواب کی تعبیر اور پیغام توحید یوسف ؑ سے وہ اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے آئے ہیں۔ آپ نے انہیں تعبیر خواب بتادینے کا اقرار کرلیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے انہیں توحید کا وعظ سنا رہے ہیں اور شرک سے اور مخلوق پرستی سے نفرت دلا رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ واحد جس نے ہر چیز پر قبضہ کر رکھا ہے جس کے سامنے تمام مخلوق پست و عاجز لاچار بےبس ہے۔ جس کا ثانی شریک اور ساجھی کوئی نہیں۔ جس کی عظمت و سلطنت چپے چپے اور ذرے ذرے پر ہے وہی ایک بہتر ؟ یا تمہارے یہ خیالی کمزور اور ناکارے بہت سے معبود بہتر ؟ پھر فرمایا کہ تم جن جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو بےسند ہیں۔ یہ نام اور ان کے لیے عبادت یہ تمہاری اپنی گھڑت ہے۔ زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تمہارے باپ دادے بھی اس مرض کے مریض تھے۔ لیکن کوئی دلیل اس کی تم لا نہیں سکتے بلکہ اس کی کوئی عقلی دلیل دنیا میں اللہ نے بنائی نہیں۔ حکم تصرف قبضہ، قدرت، کل کی کل اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ اس نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت کا اور اپنے سوا کسی اور کی عبادت کرنے سے باز آنے کا قطعی اور حتمی حکم دے رکھا ہے۔ دین مستقیم یہی ہے کہ اللہ کی توحید ہو اس کے لئے ہی عمل و عبادت ہو۔ اسی اللہ کا حکم اس پر بیشمار دلیلیں موجود۔ لیکن اکثر لوگ ان باتوں سے ناواقف ہیں۔ نادان ہیں توحید و شرک کا فرق نہیں جانتے۔ اس لیے اکثر شک کے دلدل میں دھنسے رہتے ہیں۔ باوجود نبیوں کی چاہت کے انہیں یہ منصیب نہیں ہوتا۔ خواب کی تعبیر سے پہلے اس بحث کے چھیڑنے کی ایک خاص مصلحت یہ بھی کہ ان میں سے ایک کے لیے تعبیر نہایت بری تھی تو آپ نے چاہا کہ یہ اسے نہ پوچھیں تو بہتر ہے۔ لیکن اس تکلف کی کیا ضرورت ہے ؟ خصوصا ایسے موقعہ پر جب کہ اللہ کے پیغمبر ان سے تعبیر دینے کا وعدہ کرچکے ہیں۔ یہاں تو صرف یہ بات ہے کہ انہوں نے آپ کی بزرگی و عزت دیکھ کر آپ سے ایک بات پوچھی۔ آپ نے اس کے جواب سے پہلے انہیں اس سے زیادہ بہتر کی طرف توجہ دلائی۔ اور دین اسلام ان کے سامنے مع دلائل پیش فرمایا۔ کیونکہ آپ نے دیکھا تھا کہ ان میں بھلائی کے قبول کرنے کا مادہ ہے۔ بات کو سوچیں گے۔ جب آپ اپنا فرض ادا کرچکے۔ احکام اللہ کی تبلیغ کرچکے۔ تو اب بغیر اس کے کہ وہ دوبارہ پوچھیں آپ نے ان کا جواب شروع کیا۔
Tafsir Ibn Kathir
ثُمَّ إِنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَقْبَلَ عَلَى الْفَتَيَيْنِ بِالْمُخَاطَبَةِ، وَالدُّعَاءِ لَهُمَا إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَخَلْع مَا سِوَاهُ مِنَ الْأَوْثَانِ الَّتِي يَعْبُدُهَا قَوْمُهُمَا، فَقَالَ: ﴿أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾
[أَيْ] [[زيادة من ت، أ.]] الَّذِي وَلِى [[في ت، أ: "دل".]] كُلَّ شَيْءٍ بِعزّ جَلَالِهِ، وَعَظَمَةِ [[في ت، أ: "وعظيم".]] سُلْطَانِهِ.
ثُمَّ بَيَّنَ لَهُمَا أنَّ الَّتِي يَعْبُدُونَهَا وَيُسَمُّونَهَا آلِهَةً، إِنَّمَا هُوَ جَهْلُ [[في ت، أ: "جعل".]] مِنْهُمْ، وَتَسْمِيَةٌ مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، تَلَقَّاهَا خَلَفهم عَنْ سَلَفهم، وَلَيْسَ لِذَلِكَ مُسْتَنَدٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿مَا أَنزلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ﴾ أَيْ: حُجَّةٍ وَلَا بُرْهَانٍ.
ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْحُكْمَ وَالتَّصَرُّفَ وَالْمَشِيئَةَ وَالْمُلْكَ كلَّه لِلَّهِ، وَقَدْ أَمَرَ عِبَادَهُ قَاطِبَةً أَلَّا يَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ أَيْ: هَذَا الَّذِي أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ مِنْ تَوحيد اللَّهِ، وَإِخْلَاصِ الْعَمَلِ لَهُ، هُوَ الدِّينُ الْمُسْتَقِيمُ، الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِهِ وأَنْزَلَ بِهِ الْحُجَّةَ وَالْبُرْهَانَ الَّذِي يُحِبُّهُ وَيَرْضَاهُ، ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: فَلِهَذَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ. ﴿وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ [يُوسُفَ: ١٠٣] .
وَقَدْ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: إِنَّمَا عَدَلَ بِهِمْ يُوسُفُ عَنْ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا إِلَى هَذَا، لِأَنَّهُ عَرَف أَنَّهَا ضَارَّةٌ لِأَحَدِهِمَا، فَأَحَبَّ أَنْ يَشْغَلَهُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، لِئَلَّا يُعَاوِدُوهُ فِيهَا، فَعَاوَدُوهُ، فَأَعَادَ عَلَيْهِمُ الْمَوْعِظَةَ. [[تفسير الطبري (١٦/١٠٢) .]]
وَفِي هَذَا الَّذِي قَالَهُ نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ قَدْ وَعَدَهما أَوَّلًا بِتَعْبِيرِهَا [[في أ: "بتعبيرهما".]] وَلَكِنْ جَعَلَ سُؤَالَهُمَا لَهُ عَلَى وَجْهِ التَّعْظِيمِ وَالِاحْتِرَامِ وُصْلة وَسَبَبًا إِلَى دُعَائِهِمَا إِلَى التَّوْحِيدِ وَالْإِسْلَامِ، لِمَا رَأَى فِي سَجِيَّتِهِمَا مِنْ قَبُولِ الْخَيْرِ وَالْإِقْبَالِ عَلَيْهِ، وَالْإِنْصَاتِ إِلَيْهِ، وَلِهَذَا لَمَّا فَرَغَ مِنْ دَعْوَتِهِمَا، شَرَعَ فِي تَعْبِيرِ رُؤْيَاهُمَا، مِنْ غَيْرِ تَكْرَارِ سؤال فقال:
مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
You worship not besides Him except [mere] names you have named them, you and your fathers, for which Allah has sent down no authority. Legislation is not but for Allah. He has commanded that you worship not except Him. That is the correct religion, but most of the people do not know.
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
این معبودهایی که غیر از خدا میپرستید، چیزی جز اسمهائی (بیمسمّا) که شما و پدرانتان آنها را خدا نامیدهاید، نیست؛ خداوند هیچ دلیلی بر آن نازل نکرده؛ حکم تنها از آن خداست؛ فرمان داده که غیر از او را نپرستید! این است آیین پابرجا؛ ولی بیشتر مردم نمیدانند!
Tafsir Ibn Kathir
"O two companions of the prison! Are many different lords (gods) better or Allah, the One, the Irresistible? (39)"You do not worship besides Him but only names which you have named (forged) - you and your fathers - for which Allah has sent down no authority. The command is for none but Allah. He has commanded that you worship none but Him; that is the straight religion, but most men know not. (40)
Prophet Yusuf went on calling his two prison companions to worship Allah alone, without partners, and to reject whatever is being worshipped instead of Him like the idols, which were worshipped by the people of the two men, Yusuf said,
أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(Are many different lords (gods) better or Allah, the One, the Irresistible?) to Whose grace and infinite kingdom everything and everyone has submitted in humiliation. Prophet Yusuf explained to them next that it is because of their ignorance that they worship false deities and give them names, for these names were forged and are being transferred from one generation to the next generation. They have no proof or authority that supports this practice, hence his statement to them,
مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ
(for which Allah has sent down no authority) or proof and evidence. He then affirmed that the judgement, decision, will and kingdom are all for Allah alone, and He has commanded all of His servants to worship none but Him. He said,
ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ
(that is the straight religion,) 'this, Tawhid of Allah and directing all acts of worship at Him alone in sincerity, that I am calling you to is the right, straight religion that Allah has ordained and for which He has revealed what He wills of proofs and evidences,'
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(but most men know not.), and this is why most of them are idolators,
وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you eagerly desire it.)[12:103] When Yusuf finished calling them, he started interpreting their dreams for them,
Tafsir Ibn Kathir
شاہی باورچی اور ساقی کے خواب کی تعبیر اور پیغام توحید یوسف ؑ سے وہ اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے آئے ہیں۔ آپ نے انہیں تعبیر خواب بتادینے کا اقرار کرلیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے انہیں توحید کا وعظ سنا رہے ہیں اور شرک سے اور مخلوق پرستی سے نفرت دلا رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ واحد جس نے ہر چیز پر قبضہ کر رکھا ہے جس کے سامنے تمام مخلوق پست و عاجز لاچار بےبس ہے۔ جس کا ثانی شریک اور ساجھی کوئی نہیں۔ جس کی عظمت و سلطنت چپے چپے اور ذرے ذرے پر ہے وہی ایک بہتر ؟ یا تمہارے یہ خیالی کمزور اور ناکارے بہت سے معبود بہتر ؟ پھر فرمایا کہ تم جن جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو بےسند ہیں۔ یہ نام اور ان کے لیے عبادت یہ تمہاری اپنی گھڑت ہے۔ زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تمہارے باپ دادے بھی اس مرض کے مریض تھے۔ لیکن کوئی دلیل اس کی تم لا نہیں سکتے بلکہ اس کی کوئی عقلی دلیل دنیا میں اللہ نے بنائی نہیں۔ حکم تصرف قبضہ، قدرت، کل کی کل اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ اس نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت کا اور اپنے سوا کسی اور کی عبادت کرنے سے باز آنے کا قطعی اور حتمی حکم دے رکھا ہے۔ دین مستقیم یہی ہے کہ اللہ کی توحید ہو اس کے لئے ہی عمل و عبادت ہو۔ اسی اللہ کا حکم اس پر بیشمار دلیلیں موجود۔ لیکن اکثر لوگ ان باتوں سے ناواقف ہیں۔ نادان ہیں توحید و شرک کا فرق نہیں جانتے۔ اس لیے اکثر شک کے دلدل میں دھنسے رہتے ہیں۔ باوجود نبیوں کی چاہت کے انہیں یہ منصیب نہیں ہوتا۔ خواب کی تعبیر سے پہلے اس بحث کے چھیڑنے کی ایک خاص مصلحت یہ بھی کہ ان میں سے ایک کے لیے تعبیر نہایت بری تھی تو آپ نے چاہا کہ یہ اسے نہ پوچھیں تو بہتر ہے۔ لیکن اس تکلف کی کیا ضرورت ہے ؟ خصوصا ایسے موقعہ پر جب کہ اللہ کے پیغمبر ان سے تعبیر دینے کا وعدہ کرچکے ہیں۔ یہاں تو صرف یہ بات ہے کہ انہوں نے آپ کی بزرگی و عزت دیکھ کر آپ سے ایک بات پوچھی۔ آپ نے اس کے جواب سے پہلے انہیں اس سے زیادہ بہتر کی طرف توجہ دلائی۔ اور دین اسلام ان کے سامنے مع دلائل پیش فرمایا۔ کیونکہ آپ نے دیکھا تھا کہ ان میں بھلائی کے قبول کرنے کا مادہ ہے۔ بات کو سوچیں گے۔ جب آپ اپنا فرض ادا کرچکے۔ احکام اللہ کی تبلیغ کرچکے۔ تو اب بغیر اس کے کہ وہ دوبارہ پوچھیں آپ نے ان کا جواب شروع کیا۔
Tafsir Ibn Kathir
ثُمَّ إِنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَقْبَلَ عَلَى الْفَتَيَيْنِ بِالْمُخَاطَبَةِ، وَالدُّعَاءِ لَهُمَا إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَخَلْع مَا سِوَاهُ مِنَ الْأَوْثَانِ الَّتِي يَعْبُدُهَا قَوْمُهُمَا، فَقَالَ: ﴿أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾
[أَيْ] [[زيادة من ت، أ.]] الَّذِي وَلِى [[في ت، أ: "دل".]] كُلَّ شَيْءٍ بِعزّ جَلَالِهِ، وَعَظَمَةِ [[في ت، أ: "وعظيم".]] سُلْطَانِهِ.
ثُمَّ بَيَّنَ لَهُمَا أنَّ الَّتِي يَعْبُدُونَهَا وَيُسَمُّونَهَا آلِهَةً، إِنَّمَا هُوَ جَهْلُ [[في ت، أ: "جعل".]] مِنْهُمْ، وَتَسْمِيَةٌ مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِهِمْ، تَلَقَّاهَا خَلَفهم عَنْ سَلَفهم، وَلَيْسَ لِذَلِكَ مُسْتَنَدٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿مَا أَنزلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ﴾ أَيْ: حُجَّةٍ وَلَا بُرْهَانٍ.
ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْحُكْمَ وَالتَّصَرُّفَ وَالْمَشِيئَةَ وَالْمُلْكَ كلَّه لِلَّهِ، وَقَدْ أَمَرَ عِبَادَهُ قَاطِبَةً أَلَّا يَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ أَيْ: هَذَا الَّذِي أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ مِنْ تَوحيد اللَّهِ، وَإِخْلَاصِ الْعَمَلِ لَهُ، هُوَ الدِّينُ الْمُسْتَقِيمُ، الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِهِ وأَنْزَلَ بِهِ الْحُجَّةَ وَالْبُرْهَانَ الَّذِي يُحِبُّهُ وَيَرْضَاهُ، ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: فَلِهَذَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ. ﴿وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ [يُوسُفَ: ١٠٣] .
وَقَدْ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: إِنَّمَا عَدَلَ بِهِمْ يُوسُفُ عَنْ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا إِلَى هَذَا، لِأَنَّهُ عَرَف أَنَّهَا ضَارَّةٌ لِأَحَدِهِمَا، فَأَحَبَّ أَنْ يَشْغَلَهُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، لِئَلَّا يُعَاوِدُوهُ فِيهَا، فَعَاوَدُوهُ، فَأَعَادَ عَلَيْهِمُ الْمَوْعِظَةَ. [[تفسير الطبري (١٦/١٠٢) .]]
وَفِي هَذَا الَّذِي قَالَهُ نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ قَدْ وَعَدَهما أَوَّلًا بِتَعْبِيرِهَا [[في أ: "بتعبيرهما".]] وَلَكِنْ جَعَلَ سُؤَالَهُمَا لَهُ عَلَى وَجْهِ التَّعْظِيمِ وَالِاحْتِرَامِ وُصْلة وَسَبَبًا إِلَى دُعَائِهِمَا إِلَى التَّوْحِيدِ وَالْإِسْلَامِ، لِمَا رَأَى فِي سَجِيَّتِهِمَا مِنْ قَبُولِ الْخَيْرِ وَالْإِقْبَالِ عَلَيْهِ، وَالْإِنْصَاتِ إِلَيْهِ، وَلِهَذَا لَمَّا فَرَغَ مِنْ دَعْوَتِهِمَا، شَرَعَ فِي تَعْبِيرِ رُؤْيَاهُمَا، مِنْ غَيْرِ تَكْرَارِ سؤال فقال:
يَٰصَىٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًۭا ۖ وَأَمَّا ٱلْءَاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ ۚ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ
O two companions of prison, as for one of you, he will give drink to his master of wine; but as for the other, he will be crucified, and the birds will eat from his head. The matter has been decreed about which you both inquire."
میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے
ای دوستان زندانی من! امّا یکی از شما (دو نفر، آزاد میشود؛ و) ساقی شراب برای صاحب خود خواهد شد؛ و امّا دیگری به دار آویخته میشود؛ و پرندگان از سر او میخورند! و مطلبی که درباره آن (از من) نظر خواستید، قطعی و حتمی است!»
Tafsir Ibn Kathir
"O two companions of the prison! As for one of you, he will pour out wine for his master to drink; and as for the other, he will be crucified and birds will eat from his head. Thus is the case judged concerning which you both did inquire. (41)
The Interpretation of the Dreams
Yusuf said,
يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا
(O two companions of the prison! As for one of you, he will pour out wine for his master to drink;) to the man who saw in a dream that he was pressing wine. He did not direct this speech at him, however, so that to lessen the grief of the other person. This is why he made his statement indirect,
وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِ
(and as for the other, he will be crucified and birds will eat from his head.) which is the interpretation of the other man's dream in which he saw himself carrying bread above his head. Yusuf told them that the decision about their matter has already been taken and it shall come to pass. This is because the dream is tied to a bird's leg, as long as it is not truthfully interpreted. If it is interpreted, then it becomes a reality. Ath-Thawri said that 'Imarah bin Al-Qa'qa' narrated that Ibrahim said that 'Abdullah bin Mas'ud said, "When they said what they said to him, and he explained their dreams to them, they replied, 'We did not see anything at all.' This is when he said,
قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ
(Thus is the case judged concerning which you both did inquire.)" The understanding in this is that he who claims that he saw a dream and was given its interpretation, then he will be tied to its interpretation, and Allah has the best knowledge. There is an honorable Hadith that Imam Ahmad collected from Mu'awiyah bin Haydah that the Prophet ﷺ said,
الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ، فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَت
(The dream is tied to a bird's leg, as long as it is not interpreted. If it is interpreted, it becomes a reality.)
Tafsir Ibn Kathir
خواب اور اس کی تعبیر اب اللہ کے برگزیدہ پیغمبر ان کے خواب کی تعبیر بتلا رہے ہیں لیکن یہ نہیں فرماتے کہ تیری خواب کی یہ تعبیر ہے اور تیرے خواب کی یہ تعبیر ہے تاکہ ایک رنجیدہ نہ ہوجائے اور موت سے پہلے اس پر موت کا بوجھ نہ پڑجائے۔ بلکہ مبہم کر کے فرماتے ہیں تم دو میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کا ساقی بن جائے گا یہ دراصل یہ اس کے خواب کی تعبیر ہے جس نے شیرہ انگور تیار کرتے اپنے تئیں دیکھا تھا۔ اور دوسرے جس نے اپنے سر پر روٹیاں دیکھی تھیں۔ اس کے خواب کی تعبیر یہ دی کہ اسے سولی دی جائے گی اور پرندے اس کا مغز کھائیں گے۔ پھر ساتھ ہی فرمایا کہ یہ اب ہو کر ہی رہے گا۔ اس لیے کہ جب تک خواب کی تعبیر بیان نہ کی جائے وہ معلق رہتا ہے اور جب تعبیر ہوچکی وہ ظاہر ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ تعبیر سننے کے بعد ان دونوں نے کہا کہ ہم نے تو دراصل کوئی خواب دیکھا ہی نہیں۔ آپ نے فرمایا اب تو تمہارے سوال کے مطابق ظاہر ہو کر ہی رہے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو شخص خواہ مخواہ کا خواب گھڑ لے اور پھر اس کی تعبیر بھی دی دے دی جائے تو وہ لازم ہوجاتی ہے۔ واللہ اعلم۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں خواب گویا پرندے کے پاؤں پر ہے جب تک اس کی تعبیر نہ دے دی جائے جب تعبیر دے دی گئی پھر وہ واقع ہوجاتا ہے مسند ابو یعلی میں مرفوعا مروی ہے کہ خواب کی تعبیر سب سے پہلے جس نے دی اس کے لیے ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يقول لهما: ﴿يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا﴾ وَهُوَ الَّذِي رَأَى أَنَّهُ يَعْصِرُ خَمْرًا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يعينِّه لِئَلَّا يَحْزَنَ ذَاكَ، وَلِهَذَا أَبْهَمَهُ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَأَمَّا الآخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْ رَأْسِهِ﴾ وَهُوَ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ الَّذِي رَأَى أَنَّهُ يَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِهِ خُبْزًا.
ثُمَّ أَعْلَمَهُمَا أَنَّ هَذَا قَدْ فُرغ مِنْهُ، وَهُوَ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ؛ لِأَنَّ الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبر، فَإِذَا عُبِّرَت وَقَعت.
وَقَالَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا قَالَا مَا قَالَا وَأَخْبَرَهُمَا، قَالَا مَا رَأَيْنَا شَيْئًا. فَقَالَ: ﴿قُضِيَ الأمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ﴾
وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ [[في ت: "فضل".]] عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِهِ، وَكَذَا فَسَّرَهَ مُجَاهِدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَغَيْرُهُمْ. وَحَاصِلُهُ أَنَّ مَنْ تحلَّم بِبَاطِلٍ وفَسّره، فَإِنَّهُ يُلزَم بِتَأْوِيلِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدة، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: "الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبر [[في ت: "يعبر".]] فَإِذَا عُبِّرت وَقَعَتْ" [[سبق تخريجه عند تفسير الآية: "٥" من هذه السورة.]]
وَفِي مُسْنَدِ أَبِي يَعْلَى، مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ الرَّقاشي، عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا: "الرُّؤْيَا لِأَوَّلِ عَابِرٍ" [[ورواه ابن ماجة في السنن برقم (٣٩١٥) من طريق عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يزيد الرقاشي، عن أنس موقوفا، وقال البوصيري في الزوائد (٣/٢١٦) : "هذا إسناد فيه يزيد وهو ضعيف".]]
وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍۢ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ
And he said to the one whom he knew would go free, "Mention me before your master." But Satan made him forget the mention [to] his master, and Joseph remained in prison several years.
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
و به آن یکی از آن دو نفر، که میدانست رهایی مییابد، گفت: «مرا نزد صاحبت [= سلطان مصر] یادآوری کن!» ولی شیطان یادآوری او را نزد صاحبش از خاطر وی برد؛ و بدنبال آن، (یوسف) چند سال در زندان باقی ماند.
Tafsir Ibn Kathir
And he said to the one whom he knew to be saved: "Mention me to your king." But Shaytan made him forget to mention it to his master. So [Yusuf] stayed in prison a few (more) years (42)
Yusuf asks the King's Distiller to mention Him to the King
Yusuf knew that the distiller would be saved. So discretely, so that the other man's suspicion that he would be crucified would not intensify, he said,
اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ
(Mention me to your King.) asking him to mention his story to the king. That man forgot Yusuf's request and did not mention his story to the king, a plot from the devil, so that Allah's Prophet would not leave the prison. This is the correct meaning of,
فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ
(But Shaytan made him forget to mention it to his master.) that it refers to the man who was saved. As was said by Mujahid, Muhammad bin Ishaq and several others. As for, 'a few years', or, Bida' in Arabic, it means between three and nine, according to Mujahid and Qatadah. Wahb bin Munabbih said, "Ayyub suffered from the illness for seven years, Yusuf remained in prison for seven years and Bukhtanassar (Nebuchadnezzar - Chaldean king of Babylon) was tormented for seven years."
Tafsir Ibn Kathir
تعبیر بتا کر بادشاہ وقت کو اپنی یاد دہانی کی تاکید جسے حضرت یوسف نے اس کے خواب کی تعبیر کے مطابق اپنے خیال میں جیل خانہ سے آزاد ہونے والا سمجھا تھا اس سے در پردہ علیحدگی میں کہ وہ دوسرا یعنی باورچی نہ سنے فرمایا کہ بادشاہ کے سامنے ذرا میرا ذکر بھی کردینا۔ لیکن یہ اس بات کو بالکل ہی بھول گیا۔ یہ بھی ایک شیطانی چال ہی تھی جس سے نبی اللہ ؑ کئی سال تک قید خانے میں ہی رہے۔ پس ٹھیک قول یہی ہے کہ فانساہ میں ہ کی ضمیر کا مرجع نجات پانے والا شخص ہی ہے۔ گویا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ضمیر حضرت یوسف کی طرف پھرتی ہے۔ ابن عباس سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یوسف یہ کلمہ نہ کہتے تو جیل خانے میں اتنی لمبی مدت نہ گزارتے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور سے کشادگی چاہی۔ یہ روایت بہت ہی ضعیف ہے۔ اس لیے کہ سفیان بن وکیع اور ابراہیم بن یزید دونوں راوی ضعیف ہیں۔ حسن اور قتادہ سے مرسلاً مروی ہے۔ گو مرسل حدیثیں کسی موقع پر قابل قبول بھی ہوں لیکن ایسے اہم مقامات پر ایسی مرسل روایتیں ہرگز احتجاج کے قابل نہیں ہوسکتیں واللہ اعلم۔ بضع لفظ تین سے نو تک کے لیے آتا ہے۔ حضرت وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ حضرت ایوب بیماری میں سات سال تک مبتلا رہے اور حضرت یوسف قید خانے میں سات سال تک رہے اور بخت نصر کا عذاب بھی سات سال تک رہا ابن عباس کہتے ہیں مدت قید بارہ سال تھی۔ ضحاک کہتے ہیں چودہ برس آپ نے قید خانے میں گزارے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا ظَنَّ [[في ت، أ: "علم".]] يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، نَجَاةَ أحِدهما -وَهُوَ السَّاقِي -قَالَ لَهُ يُوسُفُ خُفْيَةً عَنِ الْآخَرِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، لِئَلَّا يُشْعِرَهُ أَنَّهُ الْمَصْلُوبُ قَالَ لَهُ: ﴿اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ﴾ يَقُولُ: اذْكُرْ قِصَّتِي عِنْدَ رَبِّكَ [[في ت، أ: "الملك".]] -وَهُوَ الْمَلِكُ -فَنَسِيَ ذَلِكَ الموصَى أَنْ يُذَكِّر مَوْلَاهُ بِذَلِكَ، وَكَانَ مِنْ جُمْلَةِ مَكَايِدِ الشَّيْطَانِ، لِئَلَّا يَطْلَعَ نَبِيُّ اللَّهِ مِنَ السِّجْنِ.
هَذَا هُوَ الصَّوَابُ أَنَّ الضَّمِيرَ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ﴾ عَائِدٌ عَلَى النَّاجِي، كَمَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ. وَيُقَالُ: إِنَّ الضَّمِيرَ عَائِدٌ عَلَى يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٍ أَيْضًا، وعِكْرِمة، وَغَيْرِهِمْ. وَأَسْنَدَ ابْنُ جَرِيرٍ هَاهُنَا حَدِيثًا فَقَالَ:
حَدَّثَنَا ابْنُ وَكِيع، حَدَّثَنَا عَمْرو بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ [[في ت: "عن يزيد".]] عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "لَوْ لَمْ يَقُلْ -يَعْنِي: يُوسُفَ -الْكَلِمَةَ الَّتِي قَالَ: مَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ. حَيْثُ يَبْتَغِي الْفَرَجَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ" [[تفسير الطبري (١٦/١١٢) .]] .
وَهَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ جِدًّا؛ لِأَنَّ سُفْيَانَ بْنَ وَكِيع ضَعِيفٌ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ -هُوَ الخُوزي -أَضْعَفُ مِنْهُ أَيْضًا. وَقَدْ رُوي عَنِ الْحَسَنِ وَقَتَادَةَ مُرْسَلًا عَنْ كُلٍّ مِنْهُمَا، وَهَذِهِ المرسَلات هَاهُنَا لَا تُقْبَلُ لَوْ قُبِلَ الْمُرْسَلُ مِنْ حَيْثُ هُوَ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْطِنِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَأَمَّا "الْبِضْعُ"، فَقَالَ مُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ: هُوَ مَا بَيْنَ الثَّلَاثِ إِلَى التسع. وقال وهب بن مُنَبَّه: مكث أَيُّوبُ فِي الْبَلَاءِ سَبْعًا وَيُوسُفُ فِي السِّجْنِ سَبْعًا، وَعَذَابُ [[في ت، أ: "وعذب".]] بُخْتُنَصَّرَ سَبْعًا.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ قَالَ: ثِنْتَا [[في ت، أ: "ثنتى".]] عَشْرَةَ سَنَةً. وَقَالَ الضَّحَّاكُ: أَرْبَعَ عَشَرَةَ سَنَةً.
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍۢ ۖ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ
And [subsequently] the king said, "Indeed, I have seen [in a dream] seven fat cows being eaten by seven [that were] lean, and seven green spikes [of grain] and others [that were] dry. O eminent ones, explain to me my vision, if you should interpret visions."
اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ
پادشاه گفت: «من در خواب دیدم هفت گاو چاق را که هفت گاو لاغر آنها را میخورند؛ و هفت خوشه سبز و هفت خوشه خشکیده؛ (که خشکیدهها بر سبزها پیچیدند؛ و آنها را از بین بردند.) ای جمعیّت اشراف! درباره خواب من نظر دهید، اگر خواب را تعبیر میکنید!»
Tafsir Ibn Kathir
And the king (of Egypt) said: "Verily, I saw (in a dream) seven fat cows, whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry. O notables! Explain to me my dream, if it be that you can interpret dreams (43)They said: "Mixed up false dreams and we are not skilled in the interpretation of dreams. (44)Then the man who was released, now at length remembered and said: "I will tell you its interpretation, so send me forth. (45)(He said): "O Yusuf, the man of truth! Explain to us seven fat cows whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry, that I may return to the people, and that they may know. (46)[Yusuf] said: "For seven consecutive years, you shall sow as usual and that which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat. (47)"Then will come after that, seven hard (years), which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored). (48)"Then thereafter will come a year in which people will have abundant rain and in which they will press (wine and oil). (49)
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَا أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us...) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) 'you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, 'Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows.
During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
Tafsir Ibn Kathir
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الرُّؤْيَا مِنْ مَلك مِصْرَ مِمَّا قَدّر اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهَا كَانَتْ سَبَبًا لِخُرُوجِ يوسفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنَ السِّجْنِ مُعزَّزًا مُكَرَّمًا، وَذَلِكَ أَنَّ المَلك رَأَى هَذِهِ الرُّؤْيَا، فَهَالَتْهُ وتَعجَّب مَنْ أَمْرِهَا، وَمَا يَكُونُ تَفْسِيرُهَا، فَجَمَعَ الْكَهَنَةَ والحُزَاة وَكُبَرَاءَ دَوْلَتِهِ وَأُمَرَاءَهُ وقَصَّ عَلَيْهِمْ مَا رَأَى، وَسَأَلَهُمْ عَنْ تَأْوِيلِهَا، فَلَمْ يَعْرِفُوا ذَلِكَ، وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ بِأَنَّ هَذِهِ ﴿أَضْغَاثُ أَحْلامٍ﴾ أَيْ: أَخْلَاطٌ اقْتَضَتْ رُؤْيَاكَ هَذِهِ [[في ت، أ: "رؤيا في هذا".]] ﴿وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الأحْلامِ بِعَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَوْ كَانَتْ رُؤْيَا صَحِيحَةً مِنْ أَخْلَاطٍ، لَمَا كَانَ لَنَا مَعْرِفَةً بِتَأْوِيلِهَا، وَهُوَ تَعْبِيرُهَا. فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ذَلِكَ الَّذِي نَجَا مِنْ ذَيْنِكَ الْفَتَيَيْنِ اللَّذَيْنِ [[في ت: "الذي".]] كَانَا فِي السِّجْنِ مَعَ يُوسُفَ، وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدْ أَنْسَاهُ مَا وَصَّاهُ بِهِ يُوسُفُ، مِنْ ذِكْرِ أَمْرِهِ لِلْمَلِكِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ﴿بَعْدَ أُمَّةٍ﴾ أَيْ: مُدَّةٍ -وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "بَعْدَ أَمِةٍ" أَيْ: بَعْدَ نِسْيَانٍ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ وَالَّذِينَ جَمَعَهُمْ لِذَلِكَ: ﴿أَنَا أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ﴾ أَيْ: بِتَأْوِيلِ هَذَا الْمَنَامِ، ﴿فَأَرْسِلُونِ﴾ أَيْ: فَابْعَثُونِ إِلَى يُوسُفَ الصِّدِّيقِ إِلَى السِّجْنِ. وَمَعْنَى الْكَلَامِ: فَبَعَثُوا [[في ت: "فبعثوه".]] فَجَاءَ. فَقَالَ: ﴿يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا﴾ وَذَكَرَ الْمَنَامَ الَّذِي رَآهُ الْمَلِكُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ذَكَرَ لَهُ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، تَعْبِيرَهَا مِنْ غَيْرِ تَعْنِيفٍ لِذَلِكَ الْفَتَى فِي نِسْيَانِهِ مَا وَصَّاهُ بِهِ، وَمِنْ غَيْرِ اشْتِرَاطٍ لِلْخُرُوجِ قَبْلَ ذَلِكَ، بَلْ قَالَ: ﴿تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا﴾ أَيْ [[في ت: "إذ".]] يَأْتِيكُمُ الْخِصْبُ وَالْمَطَرُ سَبْعَ سِنِينَ مُتَوَالِيَاتٍ، فَفَسَّرَ الْبَقَرَ بِالسِّنِينَ؛ لِأَنَّهَا تُثِيرُ الْأَرْضَ الَّتِي تُسْتغل منها الثمرات والزروع، وهن السنبلات الْخُضْرُ، ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى مَا يَعْتَمِدُونَهُ فِي تِلْكَ السِّنِينَ فَقَالَ: ﴿فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلا قَلِيلا مِمَّا تَأْكُلُونَ﴾ أَيْ: مَهْمَا اسْتَغْلَلْتُمْ [[في ت، أ: "استغليتم".]] فِي هَذِهِ السَّبْعِ السِّنِينَ الْخِصْبَ فَاخْزُنُوهُ فِي سُنْبُلِهِ، لِيَكُونَ أَبْقَى لَهُ وَأَبْعَدَ عَنْ إِسْرَاعِ الْفَسَادِ إِلَيْهِ، إِلَّا الْمِقْدَارَ الَّذِي تَأْكُلُونَهُ، وَلْيَكُنْ قَلِيلًا قَلِيلًا لَا تُسْرِفُوا فِيهِ، لِتَنْتَفِعُوا فِي السَّبْعِ الشِّدَادِ، وَهُنَّ السَّبْعُ السِّنِينَ المُحْل الَّتِي تَعْقُبُ هَذِهِ السَّبْعَ مُتَوَالِيَاتٍ، وَهُنَّ الْبَقَرَاتُ الْعِجَافُ اللَّاتِي يَأْكُلْنَ السِّمان؛ لِأَنَّ سِنِيَّ [[في ت، أ: "سنين".]] الجَدْب يُؤْكَلُ فِيهَا مَا جَمَعَوه فِي سِنِيِّ [[في ت، أ: "سنين".]] الْخِصْبِ، وَهُنَّ السُّنْبُلَاتُ الْيَابِسَاتُ.
وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُنَّ لَا يُنْبِتْنَ شَيْئًا، وَمَا بَذَرُوهُ فَلَا يَرْجِعُونَ مِنْهُ إِلَى شَيْءٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلا قَلِيلا مِمَّا تُحْصِنُونَ﴾
ثُمَّ بَشَّرَهُمْ بَعْدَ الجَدْب الْعَامِ الْمُتَوَالِي بِأَنَّهُ يَعْقُبُهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ﴿عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ﴾ أَيْ: يَأْتِيهِمُ الْغَيْثُ، وَهُوَ المَطرُ، وتُغل الْبِلَادُ، ويَعصرُ النَّاسُ مَا كَانُوا يَعْصِرُونَ عَلَى عَادَتِهِمْ، مِنْ زَيْتٍ وَنَحْوِهُ، وَسُكَّرٍ وَنَحْوِهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: يَدْخُلُ [[في ت، أ: "ويدخل".]] فِيهِ حَلْبُ اللَّبَنِ أَيْضًا.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ﴿وَفِيهِ يَعْصِرُونَ﴾ يَحْلِبُونَ.
قَالُوٓا۟ أَضْغَٰثُ أَحْلَٰمٍۢ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ
They said, "[It is but] a mixture of false dreams, and we are not learned in the interpretation of dreams."
انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی
گفتند: «خوابهای پریشان و پراکندهای است؛ و ما از تعبیر این گونه خوابها آگاه نیستیم!»
Tafsir Ibn Kathir
And the king (of Egypt) said: "Verily, I saw (in a dream) seven fat cows, whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry. O notables! Explain to me my dream, if it be that you can interpret dreams (43)They said: "Mixed up false dreams and we are not skilled in the interpretation of dreams. (44)Then the man who was released, now at length remembered and said: "I will tell you its interpretation, so send me forth. (45)(He said): "O Yusuf, the man of truth! Explain to us seven fat cows whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry, that I may return to the people, and that they may know. (46)[Yusuf] said: "For seven consecutive years, you shall sow as usual and that which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat. (47)"Then will come after that, seven hard (years), which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored). (48)"Then thereafter will come a year in which people will have abundant rain and in which they will press (wine and oil). (49)
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَا أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us...) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) 'you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, 'Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows.
During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
Tafsir Ibn Kathir
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الرُّؤْيَا مِنْ مَلك مِصْرَ مِمَّا قَدّر اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهَا كَانَتْ سَبَبًا لِخُرُوجِ يوسفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنَ السِّجْنِ مُعزَّزًا مُكَرَّمًا، وَذَلِكَ أَنَّ المَلك رَأَى هَذِهِ الرُّؤْيَا، فَهَالَتْهُ وتَعجَّب مَنْ أَمْرِهَا، وَمَا يَكُونُ تَفْسِيرُهَا، فَجَمَعَ الْكَهَنَةَ والحُزَاة وَكُبَرَاءَ دَوْلَتِهِ وَأُمَرَاءَهُ وقَصَّ عَلَيْهِمْ مَا رَأَى، وَسَأَلَهُمْ عَنْ تَأْوِيلِهَا، فَلَمْ يَعْرِفُوا ذَلِكَ، وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ بِأَنَّ هَذِهِ ﴿أَضْغَاثُ أَحْلامٍ﴾ أَيْ: أَخْلَاطٌ اقْتَضَتْ رُؤْيَاكَ هَذِهِ [[في ت، أ: "رؤيا في هذا".]] ﴿وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الأحْلامِ بِعَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَوْ كَانَتْ رُؤْيَا صَحِيحَةً مِنْ أَخْلَاطٍ، لَمَا كَانَ لَنَا مَعْرِفَةً بِتَأْوِيلِهَا، وَهُوَ تَعْبِيرُهَا. فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ذَلِكَ الَّذِي نَجَا مِنْ ذَيْنِكَ الْفَتَيَيْنِ اللَّذَيْنِ [[في ت: "الذي".]] كَانَا فِي السِّجْنِ مَعَ يُوسُفَ، وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدْ أَنْسَاهُ مَا وَصَّاهُ بِهِ يُوسُفُ، مِنْ ذِكْرِ أَمْرِهِ لِلْمَلِكِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ﴿بَعْدَ أُمَّةٍ﴾ أَيْ: مُدَّةٍ -وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "بَعْدَ أَمِةٍ" أَيْ: بَعْدَ نِسْيَانٍ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ وَالَّذِينَ جَمَعَهُمْ لِذَلِكَ: ﴿أَنَا أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ﴾ أَيْ: بِتَأْوِيلِ هَذَا الْمَنَامِ، ﴿فَأَرْسِلُونِ﴾ أَيْ: فَابْعَثُونِ إِلَى يُوسُفَ الصِّدِّيقِ إِلَى السِّجْنِ. وَمَعْنَى الْكَلَامِ: فَبَعَثُوا [[في ت: "فبعثوه".]] فَجَاءَ. فَقَالَ: ﴿يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا﴾ وَذَكَرَ الْمَنَامَ الَّذِي رَآهُ الْمَلِكُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ذَكَرَ لَهُ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، تَعْبِيرَهَا مِنْ غَيْرِ تَعْنِيفٍ لِذَلِكَ الْفَتَى فِي نِسْيَانِهِ مَا وَصَّاهُ بِهِ، وَمِنْ غَيْرِ اشْتِرَاطٍ لِلْخُرُوجِ قَبْلَ ذَلِكَ، بَلْ قَالَ: ﴿تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا﴾ أَيْ [[في ت: "إذ".]] يَأْتِيكُمُ الْخِصْبُ وَالْمَطَرُ سَبْعَ سِنِينَ مُتَوَالِيَاتٍ، فَفَسَّرَ الْبَقَرَ بِالسِّنِينَ؛ لِأَنَّهَا تُثِيرُ الْأَرْضَ الَّتِي تُسْتغل منها الثمرات والزروع، وهن السنبلات الْخُضْرُ، ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى مَا يَعْتَمِدُونَهُ فِي تِلْكَ السِّنِينَ فَقَالَ: ﴿فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلا قَلِيلا مِمَّا تَأْكُلُونَ﴾ أَيْ: مَهْمَا اسْتَغْلَلْتُمْ [[في ت، أ: "استغليتم".]] فِي هَذِهِ السَّبْعِ السِّنِينَ الْخِصْبَ فَاخْزُنُوهُ فِي سُنْبُلِهِ، لِيَكُونَ أَبْقَى لَهُ وَأَبْعَدَ عَنْ إِسْرَاعِ الْفَسَادِ إِلَيْهِ، إِلَّا الْمِقْدَارَ الَّذِي تَأْكُلُونَهُ، وَلْيَكُنْ قَلِيلًا قَلِيلًا لَا تُسْرِفُوا فِيهِ، لِتَنْتَفِعُوا فِي السَّبْعِ الشِّدَادِ، وَهُنَّ السَّبْعُ السِّنِينَ المُحْل الَّتِي تَعْقُبُ هَذِهِ السَّبْعَ مُتَوَالِيَاتٍ، وَهُنَّ الْبَقَرَاتُ الْعِجَافُ اللَّاتِي يَأْكُلْنَ السِّمان؛ لِأَنَّ سِنِيَّ [[في ت، أ: "سنين".]] الجَدْب يُؤْكَلُ فِيهَا مَا جَمَعَوه فِي سِنِيِّ [[في ت، أ: "سنين".]] الْخِصْبِ، وَهُنَّ السُّنْبُلَاتُ الْيَابِسَاتُ.
وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُنَّ لَا يُنْبِتْنَ شَيْئًا، وَمَا بَذَرُوهُ فَلَا يَرْجِعُونَ مِنْهُ إِلَى شَيْءٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلا قَلِيلا مِمَّا تُحْصِنُونَ﴾
ثُمَّ بَشَّرَهُمْ بَعْدَ الجَدْب الْعَامِ الْمُتَوَالِي بِأَنَّهُ يَعْقُبُهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ﴿عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ﴾ أَيْ: يَأْتِيهِمُ الْغَيْثُ، وَهُوَ المَطرُ، وتُغل الْبِلَادُ، ويَعصرُ النَّاسُ مَا كَانُوا يَعْصِرُونَ عَلَى عَادَتِهِمْ، مِنْ زَيْتٍ وَنَحْوِهُ، وَسُكَّرٍ وَنَحْوِهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: يَدْخُلُ [[في ت، أ: "ويدخل".]] فِيهِ حَلْبُ اللَّبَنِ أَيْضًا.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ﴿وَفِيهِ يَعْصِرُونَ﴾ يَحْلِبُونَ.
وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ
But the one who was freed and remembered after a time said, "I will inform you of its interpretation, so send me forth."
اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے
و یکی از آن دو که نجات یافته بود -و بعد از مدّتی به خاطرش آمد- گفت: «من تأویل آن را به شما خبر میدهم؛ مرا (به سراغ آن جوان زندانی) بفرستید!»
Tafsir Ibn Kathir
And the king (of Egypt) said: "Verily, I saw (in a dream) seven fat cows, whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry. O notables! Explain to me my dream, if it be that you can interpret dreams (43)They said: "Mixed up false dreams and we are not skilled in the interpretation of dreams. (44)Then the man who was released, now at length remembered and said: "I will tell you its interpretation, so send me forth. (45)(He said): "O Yusuf, the man of truth! Explain to us seven fat cows whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry, that I may return to the people, and that they may know. (46)[Yusuf] said: "For seven consecutive years, you shall sow as usual and that which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat. (47)"Then will come after that, seven hard (years), which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored). (48)"Then thereafter will come a year in which people will have abundant rain and in which they will press (wine and oil). (49)
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَا أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us...) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) 'you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, 'Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows.
During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
Tafsir Ibn Kathir
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الرُّؤْيَا مِنْ مَلك مِصْرَ مِمَّا قَدّر اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهَا كَانَتْ سَبَبًا لِخُرُوجِ يوسفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنَ السِّجْنِ مُعزَّزًا مُكَرَّمًا، وَذَلِكَ أَنَّ المَلك رَأَى هَذِهِ الرُّؤْيَا، فَهَالَتْهُ وتَعجَّب مَنْ أَمْرِهَا، وَمَا يَكُونُ تَفْسِيرُهَا، فَجَمَعَ الْكَهَنَةَ والحُزَاة وَكُبَرَاءَ دَوْلَتِهِ وَأُمَرَاءَهُ وقَصَّ عَلَيْهِمْ مَا رَأَى، وَسَأَلَهُمْ عَنْ تَأْوِيلِهَا، فَلَمْ يَعْرِفُوا ذَلِكَ، وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ بِأَنَّ هَذِهِ ﴿أَضْغَاثُ أَحْلامٍ﴾ أَيْ: أَخْلَاطٌ اقْتَضَتْ رُؤْيَاكَ هَذِهِ [[في ت، أ: "رؤيا في هذا".]] ﴿وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الأحْلامِ بِعَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَوْ كَانَتْ رُؤْيَا صَحِيحَةً مِنْ أَخْلَاطٍ، لَمَا كَانَ لَنَا مَعْرِفَةً بِتَأْوِيلِهَا، وَهُوَ تَعْبِيرُهَا. فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ذَلِكَ الَّذِي نَجَا مِنْ ذَيْنِكَ الْفَتَيَيْنِ اللَّذَيْنِ [[في ت: "الذي".]] كَانَا فِي السِّجْنِ مَعَ يُوسُفَ، وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدْ أَنْسَاهُ مَا وَصَّاهُ بِهِ يُوسُفُ، مِنْ ذِكْرِ أَمْرِهِ لِلْمَلِكِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ﴿بَعْدَ أُمَّةٍ﴾ أَيْ: مُدَّةٍ -وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "بَعْدَ أَمِةٍ" أَيْ: بَعْدَ نِسْيَانٍ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ وَالَّذِينَ جَمَعَهُمْ لِذَلِكَ: ﴿أَنَا أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ﴾ أَيْ: بِتَأْوِيلِ هَذَا الْمَنَامِ، ﴿فَأَرْسِلُونِ﴾ أَيْ: فَابْعَثُونِ إِلَى يُوسُفَ الصِّدِّيقِ إِلَى السِّجْنِ. وَمَعْنَى الْكَلَامِ: فَبَعَثُوا [[في ت: "فبعثوه".]] فَجَاءَ. فَقَالَ: ﴿يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا﴾ وَذَكَرَ الْمَنَامَ الَّذِي رَآهُ الْمَلِكُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ذَكَرَ لَهُ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، تَعْبِيرَهَا مِنْ غَيْرِ تَعْنِيفٍ لِذَلِكَ الْفَتَى فِي نِسْيَانِهِ مَا وَصَّاهُ بِهِ، وَمِنْ غَيْرِ اشْتِرَاطٍ لِلْخُرُوجِ قَبْلَ ذَلِكَ، بَلْ قَالَ: ﴿تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا﴾ أَيْ [[في ت: "إذ".]] يَأْتِيكُمُ الْخِصْبُ وَالْمَطَرُ سَبْعَ سِنِينَ مُتَوَالِيَاتٍ، فَفَسَّرَ الْبَقَرَ بِالسِّنِينَ؛ لِأَنَّهَا تُثِيرُ الْأَرْضَ الَّتِي تُسْتغل منها الثمرات والزروع، وهن السنبلات الْخُضْرُ، ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى مَا يَعْتَمِدُونَهُ فِي تِلْكَ السِّنِينَ فَقَالَ: ﴿فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلا قَلِيلا مِمَّا تَأْكُلُونَ﴾ أَيْ: مَهْمَا اسْتَغْلَلْتُمْ [[في ت، أ: "استغليتم".]] فِي هَذِهِ السَّبْعِ السِّنِينَ الْخِصْبَ فَاخْزُنُوهُ فِي سُنْبُلِهِ، لِيَكُونَ أَبْقَى لَهُ وَأَبْعَدَ عَنْ إِسْرَاعِ الْفَسَادِ إِلَيْهِ، إِلَّا الْمِقْدَارَ الَّذِي تَأْكُلُونَهُ، وَلْيَكُنْ قَلِيلًا قَلِيلًا لَا تُسْرِفُوا فِيهِ، لِتَنْتَفِعُوا فِي السَّبْعِ الشِّدَادِ، وَهُنَّ السَّبْعُ السِّنِينَ المُحْل الَّتِي تَعْقُبُ هَذِهِ السَّبْعَ مُتَوَالِيَاتٍ، وَهُنَّ الْبَقَرَاتُ الْعِجَافُ اللَّاتِي يَأْكُلْنَ السِّمان؛ لِأَنَّ سِنِيَّ [[في ت، أ: "سنين".]] الجَدْب يُؤْكَلُ فِيهَا مَا جَمَعَوه فِي سِنِيِّ [[في ت، أ: "سنين".]] الْخِصْبِ، وَهُنَّ السُّنْبُلَاتُ الْيَابِسَاتُ.
وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُنَّ لَا يُنْبِتْنَ شَيْئًا، وَمَا بَذَرُوهُ فَلَا يَرْجِعُونَ مِنْهُ إِلَى شَيْءٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلا قَلِيلا مِمَّا تُحْصِنُونَ﴾
ثُمَّ بَشَّرَهُمْ بَعْدَ الجَدْب الْعَامِ الْمُتَوَالِي بِأَنَّهُ يَعْقُبُهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ﴿عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ﴾ أَيْ: يَأْتِيهِمُ الْغَيْثُ، وَهُوَ المَطرُ، وتُغل الْبِلَادُ، ويَعصرُ النَّاسُ مَا كَانُوا يَعْصِرُونَ عَلَى عَادَتِهِمْ، مِنْ زَيْتٍ وَنَحْوِهُ، وَسُكَّرٍ وَنَحْوِهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: يَدْخُلُ [[في ت، أ: "ويدخل".]] فِيهِ حَلْبُ اللَّبَنِ أَيْضًا.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ﴿وَفِيهِ يَعْصِرُونَ﴾ يَحْلِبُونَ.
يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍۢ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ
[He said], "Joseph, O man of truth, explain to us about seven fat cows eaten by seven [that were] lean, and seven green spikes [of grain] and others [that were] dry - that I may return to the people; perhaps they will know [about you]."
(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں
(او به زندان آمد، و چنین گفت:) یوسف، ای مرد بسیار راستگو! درباره این خواب اظهار نظر کن که هفت گاو چاق را هفت گاو لاغر میخورند؛ و هفت خوشه تر، و هفت خوشه خشکیده؛ تا من بسوی مردم بازگردم، شاید (از تعبیر این خواب) آگاه شوند!
Tafsir Ibn Kathir
And the king (of Egypt) said: "Verily, I saw (in a dream) seven fat cows, whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry. O notables! Explain to me my dream, if it be that you can interpret dreams (43)They said: "Mixed up false dreams and we are not skilled in the interpretation of dreams. (44)Then the man who was released, now at length remembered and said: "I will tell you its interpretation, so send me forth. (45)(He said): "O Yusuf, the man of truth! Explain to us seven fat cows whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry, that I may return to the people, and that they may know. (46)[Yusuf] said: "For seven consecutive years, you shall sow as usual and that which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat. (47)"Then will come after that, seven hard (years), which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored). (48)"Then thereafter will come a year in which people will have abundant rain and in which they will press (wine and oil). (49)
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَا أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us...) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) 'you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, 'Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows.
During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
Tafsir Ibn Kathir
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الرُّؤْيَا مِنْ مَلك مِصْرَ مِمَّا قَدّر اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهَا كَانَتْ سَبَبًا لِخُرُوجِ يوسفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنَ السِّجْنِ مُعزَّزًا مُكَرَّمًا، وَذَلِكَ أَنَّ المَلك رَأَى هَذِهِ الرُّؤْيَا، فَهَالَتْهُ وتَعجَّب مَنْ أَمْرِهَا، وَمَا يَكُونُ تَفْسِيرُهَا، فَجَمَعَ الْكَهَنَةَ والحُزَاة وَكُبَرَاءَ دَوْلَتِهِ وَأُمَرَاءَهُ وقَصَّ عَلَيْهِمْ مَا رَأَى، وَسَأَلَهُمْ عَنْ تَأْوِيلِهَا، فَلَمْ يَعْرِفُوا ذَلِكَ، وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ بِأَنَّ هَذِهِ ﴿أَضْغَاثُ أَحْلامٍ﴾ أَيْ: أَخْلَاطٌ اقْتَضَتْ رُؤْيَاكَ هَذِهِ [[في ت، أ: "رؤيا في هذا".]] ﴿وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الأحْلامِ بِعَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَوْ كَانَتْ رُؤْيَا صَحِيحَةً مِنْ أَخْلَاطٍ، لَمَا كَانَ لَنَا مَعْرِفَةً بِتَأْوِيلِهَا، وَهُوَ تَعْبِيرُهَا. فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ذَلِكَ الَّذِي نَجَا مِنْ ذَيْنِكَ الْفَتَيَيْنِ اللَّذَيْنِ [[في ت: "الذي".]] كَانَا فِي السِّجْنِ مَعَ يُوسُفَ، وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدْ أَنْسَاهُ مَا وَصَّاهُ بِهِ يُوسُفُ، مِنْ ذِكْرِ أَمْرِهِ لِلْمَلِكِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ﴿بَعْدَ أُمَّةٍ﴾ أَيْ: مُدَّةٍ -وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "بَعْدَ أَمِةٍ" أَيْ: بَعْدَ نِسْيَانٍ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ وَالَّذِينَ جَمَعَهُمْ لِذَلِكَ: ﴿أَنَا أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ﴾ أَيْ: بِتَأْوِيلِ هَذَا الْمَنَامِ، ﴿فَأَرْسِلُونِ﴾ أَيْ: فَابْعَثُونِ إِلَى يُوسُفَ الصِّدِّيقِ إِلَى السِّجْنِ. وَمَعْنَى الْكَلَامِ: فَبَعَثُوا [[في ت: "فبعثوه".]] فَجَاءَ. فَقَالَ: ﴿يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا﴾ وَذَكَرَ الْمَنَامَ الَّذِي رَآهُ الْمَلِكُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ذَكَرَ لَهُ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، تَعْبِيرَهَا مِنْ غَيْرِ تَعْنِيفٍ لِذَلِكَ الْفَتَى فِي نِسْيَانِهِ مَا وَصَّاهُ بِهِ، وَمِنْ غَيْرِ اشْتِرَاطٍ لِلْخُرُوجِ قَبْلَ ذَلِكَ، بَلْ قَالَ: ﴿تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا﴾ أَيْ [[في ت: "إذ".]] يَأْتِيكُمُ الْخِصْبُ وَالْمَطَرُ سَبْعَ سِنِينَ مُتَوَالِيَاتٍ، فَفَسَّرَ الْبَقَرَ بِالسِّنِينَ؛ لِأَنَّهَا تُثِيرُ الْأَرْضَ الَّتِي تُسْتغل منها الثمرات والزروع، وهن السنبلات الْخُضْرُ، ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى مَا يَعْتَمِدُونَهُ فِي تِلْكَ السِّنِينَ فَقَالَ: ﴿فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلا قَلِيلا مِمَّا تَأْكُلُونَ﴾ أَيْ: مَهْمَا اسْتَغْلَلْتُمْ [[في ت، أ: "استغليتم".]] فِي هَذِهِ السَّبْعِ السِّنِينَ الْخِصْبَ فَاخْزُنُوهُ فِي سُنْبُلِهِ، لِيَكُونَ أَبْقَى لَهُ وَأَبْعَدَ عَنْ إِسْرَاعِ الْفَسَادِ إِلَيْهِ، إِلَّا الْمِقْدَارَ الَّذِي تَأْكُلُونَهُ، وَلْيَكُنْ قَلِيلًا قَلِيلًا لَا تُسْرِفُوا فِيهِ، لِتَنْتَفِعُوا فِي السَّبْعِ الشِّدَادِ، وَهُنَّ السَّبْعُ السِّنِينَ المُحْل الَّتِي تَعْقُبُ هَذِهِ السَّبْعَ مُتَوَالِيَاتٍ، وَهُنَّ الْبَقَرَاتُ الْعِجَافُ اللَّاتِي يَأْكُلْنَ السِّمان؛ لِأَنَّ سِنِيَّ [[في ت، أ: "سنين".]] الجَدْب يُؤْكَلُ فِيهَا مَا جَمَعَوه فِي سِنِيِّ [[في ت، أ: "سنين".]] الْخِصْبِ، وَهُنَّ السُّنْبُلَاتُ الْيَابِسَاتُ.
وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُنَّ لَا يُنْبِتْنَ شَيْئًا، وَمَا بَذَرُوهُ فَلَا يَرْجِعُونَ مِنْهُ إِلَى شَيْءٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلا قَلِيلا مِمَّا تُحْصِنُونَ﴾
ثُمَّ بَشَّرَهُمْ بَعْدَ الجَدْب الْعَامِ الْمُتَوَالِي بِأَنَّهُ يَعْقُبُهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ﴿عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ﴾ أَيْ: يَأْتِيهِمُ الْغَيْثُ، وَهُوَ المَطرُ، وتُغل الْبِلَادُ، ويَعصرُ النَّاسُ مَا كَانُوا يَعْصِرُونَ عَلَى عَادَتِهِمْ، مِنْ زَيْتٍ وَنَحْوِهُ، وَسُكَّرٍ وَنَحْوِهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: يَدْخُلُ [[في ت، أ: "ويدخل".]] فِيهِ حَلْبُ اللَّبَنِ أَيْضًا.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ﴿وَفِيهِ يَعْصِرُونَ﴾ يَحْلِبُونَ.
قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًۭا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
[Joseph] said, "You will plant for seven years consecutively; and what you harvest leave in its spikes, except a little from which you will eat.
انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا
گفت: «هفت سال با جدیّت زراعت میکنید؛ و آنچه را درو کردید، جز کمی که میخورید، در خوشههای خود باقی بگذارید (و ذخیره نمایید).
Tafsir Ibn Kathir
And the king (of Egypt) said: "Verily, I saw (in a dream) seven fat cows, whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry. O notables! Explain to me my dream, if it be that you can interpret dreams (43)They said: "Mixed up false dreams and we are not skilled in the interpretation of dreams. (44)Then the man who was released, now at length remembered and said: "I will tell you its interpretation, so send me forth. (45)(He said): "O Yusuf, the man of truth! Explain to us seven fat cows whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry, that I may return to the people, and that they may know. (46)[Yusuf] said: "For seven consecutive years, you shall sow as usual and that which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat. (47)"Then will come after that, seven hard (years), which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored). (48)"Then thereafter will come a year in which people will have abundant rain and in which they will press (wine and oil). (49)
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَا أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us...) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) 'you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, 'Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows.
During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
Tafsir Ibn Kathir
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الرُّؤْيَا مِنْ مَلك مِصْرَ مِمَّا قَدّر اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهَا كَانَتْ سَبَبًا لِخُرُوجِ يوسفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنَ السِّجْنِ مُعزَّزًا مُكَرَّمًا، وَذَلِكَ أَنَّ المَلك رَأَى هَذِهِ الرُّؤْيَا، فَهَالَتْهُ وتَعجَّب مَنْ أَمْرِهَا، وَمَا يَكُونُ تَفْسِيرُهَا، فَجَمَعَ الْكَهَنَةَ والحُزَاة وَكُبَرَاءَ دَوْلَتِهِ وَأُمَرَاءَهُ وقَصَّ عَلَيْهِمْ مَا رَأَى، وَسَأَلَهُمْ عَنْ تَأْوِيلِهَا، فَلَمْ يَعْرِفُوا ذَلِكَ، وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ بِأَنَّ هَذِهِ ﴿أَضْغَاثُ أَحْلامٍ﴾ أَيْ: أَخْلَاطٌ اقْتَضَتْ رُؤْيَاكَ هَذِهِ [[في ت، أ: "رؤيا في هذا".]] ﴿وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الأحْلامِ بِعَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَوْ كَانَتْ رُؤْيَا صَحِيحَةً مِنْ أَخْلَاطٍ، لَمَا كَانَ لَنَا مَعْرِفَةً بِتَأْوِيلِهَا، وَهُوَ تَعْبِيرُهَا. فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ذَلِكَ الَّذِي نَجَا مِنْ ذَيْنِكَ الْفَتَيَيْنِ اللَّذَيْنِ [[في ت: "الذي".]] كَانَا فِي السِّجْنِ مَعَ يُوسُفَ، وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدْ أَنْسَاهُ مَا وَصَّاهُ بِهِ يُوسُفُ، مِنْ ذِكْرِ أَمْرِهِ لِلْمَلِكِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ﴿بَعْدَ أُمَّةٍ﴾ أَيْ: مُدَّةٍ -وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "بَعْدَ أَمِةٍ" أَيْ: بَعْدَ نِسْيَانٍ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ وَالَّذِينَ جَمَعَهُمْ لِذَلِكَ: ﴿أَنَا أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ﴾ أَيْ: بِتَأْوِيلِ هَذَا الْمَنَامِ، ﴿فَأَرْسِلُونِ﴾ أَيْ: فَابْعَثُونِ إِلَى يُوسُفَ الصِّدِّيقِ إِلَى السِّجْنِ. وَمَعْنَى الْكَلَامِ: فَبَعَثُوا [[في ت: "فبعثوه".]] فَجَاءَ. فَقَالَ: ﴿يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا﴾ وَذَكَرَ الْمَنَامَ الَّذِي رَآهُ الْمَلِكُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ذَكَرَ لَهُ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، تَعْبِيرَهَا مِنْ غَيْرِ تَعْنِيفٍ لِذَلِكَ الْفَتَى فِي نِسْيَانِهِ مَا وَصَّاهُ بِهِ، وَمِنْ غَيْرِ اشْتِرَاطٍ لِلْخُرُوجِ قَبْلَ ذَلِكَ، بَلْ قَالَ: ﴿تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا﴾ أَيْ [[في ت: "إذ".]] يَأْتِيكُمُ الْخِصْبُ وَالْمَطَرُ سَبْعَ سِنِينَ مُتَوَالِيَاتٍ، فَفَسَّرَ الْبَقَرَ بِالسِّنِينَ؛ لِأَنَّهَا تُثِيرُ الْأَرْضَ الَّتِي تُسْتغل منها الثمرات والزروع، وهن السنبلات الْخُضْرُ، ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى مَا يَعْتَمِدُونَهُ فِي تِلْكَ السِّنِينَ فَقَالَ: ﴿فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلا قَلِيلا مِمَّا تَأْكُلُونَ﴾ أَيْ: مَهْمَا اسْتَغْلَلْتُمْ [[في ت، أ: "استغليتم".]] فِي هَذِهِ السَّبْعِ السِّنِينَ الْخِصْبَ فَاخْزُنُوهُ فِي سُنْبُلِهِ، لِيَكُونَ أَبْقَى لَهُ وَأَبْعَدَ عَنْ إِسْرَاعِ الْفَسَادِ إِلَيْهِ، إِلَّا الْمِقْدَارَ الَّذِي تَأْكُلُونَهُ، وَلْيَكُنْ قَلِيلًا قَلِيلًا لَا تُسْرِفُوا فِيهِ، لِتَنْتَفِعُوا فِي السَّبْعِ الشِّدَادِ، وَهُنَّ السَّبْعُ السِّنِينَ المُحْل الَّتِي تَعْقُبُ هَذِهِ السَّبْعَ مُتَوَالِيَاتٍ، وَهُنَّ الْبَقَرَاتُ الْعِجَافُ اللَّاتِي يَأْكُلْنَ السِّمان؛ لِأَنَّ سِنِيَّ [[في ت، أ: "سنين".]] الجَدْب يُؤْكَلُ فِيهَا مَا جَمَعَوه فِي سِنِيِّ [[في ت، أ: "سنين".]] الْخِصْبِ، وَهُنَّ السُّنْبُلَاتُ الْيَابِسَاتُ.
وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُنَّ لَا يُنْبِتْنَ شَيْئًا، وَمَا بَذَرُوهُ فَلَا يَرْجِعُونَ مِنْهُ إِلَى شَيْءٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلا قَلِيلا مِمَّا تُحْصِنُونَ﴾
ثُمَّ بَشَّرَهُمْ بَعْدَ الجَدْب الْعَامِ الْمُتَوَالِي بِأَنَّهُ يَعْقُبُهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ﴿عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ﴾ أَيْ: يَأْتِيهِمُ الْغَيْثُ، وَهُوَ المَطرُ، وتُغل الْبِلَادُ، ويَعصرُ النَّاسُ مَا كَانُوا يَعْصِرُونَ عَلَى عَادَتِهِمْ، مِنْ زَيْتٍ وَنَحْوِهُ، وَسُكَّرٍ وَنَحْوِهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: يَدْخُلُ [[في ت، أ: "ويدخل".]] فِيهِ حَلْبُ اللَّبَنِ أَيْضًا.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ﴿وَفِيهِ يَعْصِرُونَ﴾ يَحْلِبُونَ.
ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌۭ شِدَادٌۭ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
Then will come after that seven difficult [years] which will consume what you saved for them, except a little from which you will store.
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
پس از آن، هفت سال سخت (و خشکی و قحطی) میآید، که آنچه را برای آن سالها ذخیره کردهاید، میخورند؛ جز کمی که (برای بذر) ذخیره خواهید کرد.
Tafsir Ibn Kathir
And the king (of Egypt) said: "Verily, I saw (in a dream) seven fat cows, whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry. O notables! Explain to me my dream, if it be that you can interpret dreams (43)They said: "Mixed up false dreams and we are not skilled in the interpretation of dreams. (44)Then the man who was released, now at length remembered and said: "I will tell you its interpretation, so send me forth. (45)(He said): "O Yusuf, the man of truth! Explain to us seven fat cows whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry, that I may return to the people, and that they may know. (46)[Yusuf] said: "For seven consecutive years, you shall sow as usual and that which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat. (47)"Then will come after that, seven hard (years), which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored). (48)"Then thereafter will come a year in which people will have abundant rain and in which they will press (wine and oil). (49)
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَا أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us...) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) 'you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, 'Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows.
During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
Tafsir Ibn Kathir
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الرُّؤْيَا مِنْ مَلك مِصْرَ مِمَّا قَدّر اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهَا كَانَتْ سَبَبًا لِخُرُوجِ يوسفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنَ السِّجْنِ مُعزَّزًا مُكَرَّمًا، وَذَلِكَ أَنَّ المَلك رَأَى هَذِهِ الرُّؤْيَا، فَهَالَتْهُ وتَعجَّب مَنْ أَمْرِهَا، وَمَا يَكُونُ تَفْسِيرُهَا، فَجَمَعَ الْكَهَنَةَ والحُزَاة وَكُبَرَاءَ دَوْلَتِهِ وَأُمَرَاءَهُ وقَصَّ عَلَيْهِمْ مَا رَأَى، وَسَأَلَهُمْ عَنْ تَأْوِيلِهَا، فَلَمْ يَعْرِفُوا ذَلِكَ، وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ بِأَنَّ هَذِهِ ﴿أَضْغَاثُ أَحْلامٍ﴾ أَيْ: أَخْلَاطٌ اقْتَضَتْ رُؤْيَاكَ هَذِهِ [[في ت، أ: "رؤيا في هذا".]] ﴿وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الأحْلامِ بِعَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَوْ كَانَتْ رُؤْيَا صَحِيحَةً مِنْ أَخْلَاطٍ، لَمَا كَانَ لَنَا مَعْرِفَةً بِتَأْوِيلِهَا، وَهُوَ تَعْبِيرُهَا. فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ذَلِكَ الَّذِي نَجَا مِنْ ذَيْنِكَ الْفَتَيَيْنِ اللَّذَيْنِ [[في ت: "الذي".]] كَانَا فِي السِّجْنِ مَعَ يُوسُفَ، وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدْ أَنْسَاهُ مَا وَصَّاهُ بِهِ يُوسُفُ، مِنْ ذِكْرِ أَمْرِهِ لِلْمَلِكِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ﴿بَعْدَ أُمَّةٍ﴾ أَيْ: مُدَّةٍ -وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "بَعْدَ أَمِةٍ" أَيْ: بَعْدَ نِسْيَانٍ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ وَالَّذِينَ جَمَعَهُمْ لِذَلِكَ: ﴿أَنَا أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ﴾ أَيْ: بِتَأْوِيلِ هَذَا الْمَنَامِ، ﴿فَأَرْسِلُونِ﴾ أَيْ: فَابْعَثُونِ إِلَى يُوسُفَ الصِّدِّيقِ إِلَى السِّجْنِ. وَمَعْنَى الْكَلَامِ: فَبَعَثُوا [[في ت: "فبعثوه".]] فَجَاءَ. فَقَالَ: ﴿يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا﴾ وَذَكَرَ الْمَنَامَ الَّذِي رَآهُ الْمَلِكُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ذَكَرَ لَهُ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، تَعْبِيرَهَا مِنْ غَيْرِ تَعْنِيفٍ لِذَلِكَ الْفَتَى فِي نِسْيَانِهِ مَا وَصَّاهُ بِهِ، وَمِنْ غَيْرِ اشْتِرَاطٍ لِلْخُرُوجِ قَبْلَ ذَلِكَ، بَلْ قَالَ: ﴿تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا﴾ أَيْ [[في ت: "إذ".]] يَأْتِيكُمُ الْخِصْبُ وَالْمَطَرُ سَبْعَ سِنِينَ مُتَوَالِيَاتٍ، فَفَسَّرَ الْبَقَرَ بِالسِّنِينَ؛ لِأَنَّهَا تُثِيرُ الْأَرْضَ الَّتِي تُسْتغل منها الثمرات والزروع، وهن السنبلات الْخُضْرُ، ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى مَا يَعْتَمِدُونَهُ فِي تِلْكَ السِّنِينَ فَقَالَ: ﴿فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلا قَلِيلا مِمَّا تَأْكُلُونَ﴾ أَيْ: مَهْمَا اسْتَغْلَلْتُمْ [[في ت، أ: "استغليتم".]] فِي هَذِهِ السَّبْعِ السِّنِينَ الْخِصْبَ فَاخْزُنُوهُ فِي سُنْبُلِهِ، لِيَكُونَ أَبْقَى لَهُ وَأَبْعَدَ عَنْ إِسْرَاعِ الْفَسَادِ إِلَيْهِ، إِلَّا الْمِقْدَارَ الَّذِي تَأْكُلُونَهُ، وَلْيَكُنْ قَلِيلًا قَلِيلًا لَا تُسْرِفُوا فِيهِ، لِتَنْتَفِعُوا فِي السَّبْعِ الشِّدَادِ، وَهُنَّ السَّبْعُ السِّنِينَ المُحْل الَّتِي تَعْقُبُ هَذِهِ السَّبْعَ مُتَوَالِيَاتٍ، وَهُنَّ الْبَقَرَاتُ الْعِجَافُ اللَّاتِي يَأْكُلْنَ السِّمان؛ لِأَنَّ سِنِيَّ [[في ت، أ: "سنين".]] الجَدْب يُؤْكَلُ فِيهَا مَا جَمَعَوه فِي سِنِيِّ [[في ت، أ: "سنين".]] الْخِصْبِ، وَهُنَّ السُّنْبُلَاتُ الْيَابِسَاتُ.
وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُنَّ لَا يُنْبِتْنَ شَيْئًا، وَمَا بَذَرُوهُ فَلَا يَرْجِعُونَ مِنْهُ إِلَى شَيْءٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلا قَلِيلا مِمَّا تُحْصِنُونَ﴾
ثُمَّ بَشَّرَهُمْ بَعْدَ الجَدْب الْعَامِ الْمُتَوَالِي بِأَنَّهُ يَعْقُبُهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ﴿عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ﴾ أَيْ: يَأْتِيهِمُ الْغَيْثُ، وَهُوَ المَطرُ، وتُغل الْبِلَادُ، ويَعصرُ النَّاسُ مَا كَانُوا يَعْصِرُونَ عَلَى عَادَتِهِمْ، مِنْ زَيْتٍ وَنَحْوِهُ، وَسُكَّرٍ وَنَحْوِهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: يَدْخُلُ [[في ت، أ: "ويدخل".]] فِيهِ حَلْبُ اللَّبَنِ أَيْضًا.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ﴿وَفِيهِ يَعْصِرُونَ﴾ يَحْلِبُونَ.
ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌۭ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ
Then will come after that a year in which the people will be given rain and in which they will press [olives and grapes]."
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
سپس سالی فرامیرسد که باران فراوان نصیب مردم میشود؛ و در آن سال، مردم عصاره (میوهها و دانههای روغنی را) میگیرند (و سال پر برکتی است.)»
Tafsir Ibn Kathir
And the king (of Egypt) said: "Verily, I saw (in a dream) seven fat cows, whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry. O notables! Explain to me my dream, if it be that you can interpret dreams (43)They said: "Mixed up false dreams and we are not skilled in the interpretation of dreams. (44)Then the man who was released, now at length remembered and said: "I will tell you its interpretation, so send me forth. (45)(He said): "O Yusuf, the man of truth! Explain to us seven fat cows whom seven lean ones were devouring, and seven green ears of corn, and (seven) others dry, that I may return to the people, and that they may know. (46)[Yusuf] said: "For seven consecutive years, you shall sow as usual and that which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat. (47)"Then will come after that, seven hard (years), which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored). (48)"Then thereafter will come a year in which people will have abundant rain and in which they will press (wine and oil). (49)
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَا أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us...) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) 'you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, 'Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows.
During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
Tafsir Ibn Kathir
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
Tafsir Ibn Kathir
هَذِهِ الرُّؤْيَا مِنْ مَلك مِصْرَ مِمَّا قَدّر اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهَا كَانَتْ سَبَبًا لِخُرُوجِ يوسفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنَ السِّجْنِ مُعزَّزًا مُكَرَّمًا، وَذَلِكَ أَنَّ المَلك رَأَى هَذِهِ الرُّؤْيَا، فَهَالَتْهُ وتَعجَّب مَنْ أَمْرِهَا، وَمَا يَكُونُ تَفْسِيرُهَا، فَجَمَعَ الْكَهَنَةَ والحُزَاة وَكُبَرَاءَ دَوْلَتِهِ وَأُمَرَاءَهُ وقَصَّ عَلَيْهِمْ مَا رَأَى، وَسَأَلَهُمْ عَنْ تَأْوِيلِهَا، فَلَمْ يَعْرِفُوا ذَلِكَ، وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ بِأَنَّ هَذِهِ ﴿أَضْغَاثُ أَحْلامٍ﴾ أَيْ: أَخْلَاطٌ اقْتَضَتْ رُؤْيَاكَ هَذِهِ [[في ت، أ: "رؤيا في هذا".]] ﴿وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الأحْلامِ بِعَالِمِينَ﴾ أَيْ: وَلَوْ كَانَتْ رُؤْيَا صَحِيحَةً مِنْ أَخْلَاطٍ، لَمَا كَانَ لَنَا مَعْرِفَةً بِتَأْوِيلِهَا، وَهُوَ تَعْبِيرُهَا. فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ذَلِكَ الَّذِي نَجَا مِنْ ذَيْنِكَ الْفَتَيَيْنِ اللَّذَيْنِ [[في ت: "الذي".]] كَانَا فِي السِّجْنِ مَعَ يُوسُفَ، وَكَانَ الشَّيْطَانُ قَدْ أَنْسَاهُ مَا وَصَّاهُ بِهِ يُوسُفُ، مِنْ ذِكْرِ أَمْرِهِ لِلْمَلِكِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَذَكَّرَ ﴿بَعْدَ أُمَّةٍ﴾ أَيْ: مُدَّةٍ -وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "بَعْدَ أَمِةٍ" أَيْ: بَعْدَ نِسْيَانٍ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ وَالَّذِينَ جَمَعَهُمْ لِذَلِكَ: ﴿أَنَا أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ﴾ أَيْ: بِتَأْوِيلِ هَذَا الْمَنَامِ، ﴿فَأَرْسِلُونِ﴾ أَيْ: فَابْعَثُونِ إِلَى يُوسُفَ الصِّدِّيقِ إِلَى السِّجْنِ. وَمَعْنَى الْكَلَامِ: فَبَعَثُوا [[في ت: "فبعثوه".]] فَجَاءَ. فَقَالَ: ﴿يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا﴾ وَذَكَرَ الْمَنَامَ الَّذِي رَآهُ الْمَلِكُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ ذَكَرَ لَهُ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، تَعْبِيرَهَا مِنْ غَيْرِ تَعْنِيفٍ لِذَلِكَ الْفَتَى فِي نِسْيَانِهِ مَا وَصَّاهُ بِهِ، وَمِنْ غَيْرِ اشْتِرَاطٍ لِلْخُرُوجِ قَبْلَ ذَلِكَ، بَلْ قَالَ: ﴿تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا﴾ أَيْ [[في ت: "إذ".]] يَأْتِيكُمُ الْخِصْبُ وَالْمَطَرُ سَبْعَ سِنِينَ مُتَوَالِيَاتٍ، فَفَسَّرَ الْبَقَرَ بِالسِّنِينَ؛ لِأَنَّهَا تُثِيرُ الْأَرْضَ الَّتِي تُسْتغل منها الثمرات والزروع، وهن السنبلات الْخُضْرُ، ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى مَا يَعْتَمِدُونَهُ فِي تِلْكَ السِّنِينَ فَقَالَ: ﴿فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلا قَلِيلا مِمَّا تَأْكُلُونَ﴾ أَيْ: مَهْمَا اسْتَغْلَلْتُمْ [[في ت، أ: "استغليتم".]] فِي هَذِهِ السَّبْعِ السِّنِينَ الْخِصْبَ فَاخْزُنُوهُ فِي سُنْبُلِهِ، لِيَكُونَ أَبْقَى لَهُ وَأَبْعَدَ عَنْ إِسْرَاعِ الْفَسَادِ إِلَيْهِ، إِلَّا الْمِقْدَارَ الَّذِي تَأْكُلُونَهُ، وَلْيَكُنْ قَلِيلًا قَلِيلًا لَا تُسْرِفُوا فِيهِ، لِتَنْتَفِعُوا فِي السَّبْعِ الشِّدَادِ، وَهُنَّ السَّبْعُ السِّنِينَ المُحْل الَّتِي تَعْقُبُ هَذِهِ السَّبْعَ مُتَوَالِيَاتٍ، وَهُنَّ الْبَقَرَاتُ الْعِجَافُ اللَّاتِي يَأْكُلْنَ السِّمان؛ لِأَنَّ سِنِيَّ [[في ت، أ: "سنين".]] الجَدْب يُؤْكَلُ فِيهَا مَا جَمَعَوه فِي سِنِيِّ [[في ت، أ: "سنين".]] الْخِصْبِ، وَهُنَّ السُّنْبُلَاتُ الْيَابِسَاتُ.
وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُنَّ لَا يُنْبِتْنَ شَيْئًا، وَمَا بَذَرُوهُ فَلَا يَرْجِعُونَ مِنْهُ إِلَى شَيْءٍ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلا قَلِيلا مِمَّا تُحْصِنُونَ﴾
ثُمَّ بَشَّرَهُمْ بَعْدَ الجَدْب الْعَامِ الْمُتَوَالِي بِأَنَّهُ يَعْقُبُهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ﴿عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ﴾ أَيْ: يَأْتِيهِمُ الْغَيْثُ، وَهُوَ المَطرُ، وتُغل الْبِلَادُ، ويَعصرُ النَّاسُ مَا كَانُوا يَعْصِرُونَ عَلَى عَادَتِهِمْ، مِنْ زَيْتٍ وَنَحْوِهُ، وَسُكَّرٍ وَنَحْوِهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: يَدْخُلُ [[في ت، أ: "ويدخل".]] فِيهِ حَلْبُ اللَّبَنِ أَيْضًا.
قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ﴿وَفِيهِ يَعْصِرُونَ﴾ يَحْلِبُونَ.
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌۭ
And the king said, "Bring him to me." But when the messenger came to him, [Joseph] said, "Return to your master and ask him what is the case of the women who cut their hands. Indeed, my Lord is Knowing of their plan."
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
پادشاه گفت: «او را نزد من آورید!» ولی هنگامی که فرستاده او نزد وی [= یوسف] آمد گفت: «به سوی صاحبت بازگرد، و از او بپرس ماجرای زنانی که دستهای خود را بریدند چه بود؟ که خدای من به نیرنگ آنها آگاه است.»
Tafsir Ibn Kathir
And the king said: "Bring him to me." But when the messenger came to him, [Yusuf] said: "Return to your king and ask him, 'What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot.' (50)(The king) said (to the women): "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf" The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!" The wife of the 'Aziz said: "Now the truth is manifest (to all); it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful. (51)[Then Yusuf said: "I asked for this inquiry] in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence." And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers (52)"And I free not myself (from the blame). Verily, the self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills). Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful. (53)
The King investigates what happened between the Wife of the 'Aziz, the Women in the City, and Yusuf
Allah narrates to us that when the king was conveyed the interpretation of his dream, he liked Yusuf's interpretation and felt sure that it was true. He realized the virtue of Prophet Yusuf, recognized his knowledge in the interpretation of dreams and valued his good conduct with his subjects in his country. The king said,
ائْتُونِي بِهِ
(Bring him to me.) 'Release him from prison and bring him to me.' When the king's emissary came to Yusuf and conveyed the news of his imminent release, Yusuf refused to leave the prison until the king and his subjects declare his innocence and the integrity of his honor, denouncing the false accusation that the wife of the 'Aziz made against him. He wanted them to know that sending him to prison was an act of injustice and aggression, not that he committed an offense that warranted it. He said,
ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ
(Return to your lord (i.e. king)...) The Sunnah of our Prophet ﷺ praised Prophet Yusuf and asserted his virtues, honor, elevated rank and patience, may Allah's peace and blessings be on him. The Musnad and the Two Sahihs recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ
(We are more liable to be in doubt than Ibrahim when he said,)
رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ
(My Lord! Show me how You give life to the dead...)
وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
(And may Allah send His mercy on Lut! He wished to have powerful support! If I were to stay in prison for such a long time as Yusuf did, I would have accepted the offer.) In another narration collected by Ahmad from Abu Hurayrah, the Prophet ﷺ said about Yusuf's statement,
فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
("...and ask him, 'What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot.'")
لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ
(If it was me, I would have accepted the offer rather than await my exoneration first.) Allah said (that the king asked),
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(He said, "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf?") The king gathered those women who cut their hands, while being hosted at the house of the wife of the 'Aziz. He asked them all, even though he was directing his speech at the wife of his minister, the 'Aziz in particular. He asked the women who cut their hands,
مَا خَطْبُكُنَّ
(What was your affair...), what was your story with regards to,
إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(when you did seek to seduce Yusuf?) on the day of the banquet?
قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ
(The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!") The women answered the king, 'Allah forbid that Yusuf be guilty of this, for by Allah, we never knew him to do evil.' This is when,
قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ
(The wife of the 'Aziz said: "Now the truth has Hashasa...") or the truth is manifest to all, according to Ibn 'Abbas, Mujahid and others. Hashasa also means, 'became clear and plain',
أَنَا رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
(it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful.) when he said,
هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي
(It was she that sought to seduce me.)
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ
(in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence.) She said, 'I admit this against myself so that my husband knows that I did not betray him in his absence and that adultery did not occur. I tried to seduce this young man and he refused, and I am admitting this so that he knows I am innocent,'
وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ - وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي
(And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers. And I free not myself (from the blame).) She said, 'I do not exonerate myself from blame, because the soul wishes and lusts, and this is what made me seduce him,' for,
النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّى
(Verily, the (human) self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills).) whom Allah the Exalted wills to grant them immunity,
إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is the most viable and suitable understanding for the continuity of the story and the meanings of Arabic speech. Al-Mawardi mentioned this in his Tafsir, in support of it, it was also preferred by Imam Abu Al-'Abbas Ibn Taymiyyah who wrote about it in detail in a separate work.
It was said Yusuf peace be upon him is the one who said,
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ
(in order that he (the 'Aziz) may know that I betrayed him not) with his wife,
بِالْغَيْبِ
(in (his) absence).) until the end of Ayah (53) He said, 'I sent back the emissary, so that the king would investigate my innocence and the 'Aziz be certain that,
أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ
(I betrayed him not), with his wife,
بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ
(in (his) absence. And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers.)' This is the only explanation presented by Ibn Jarir At-Tabari and Ibn Abi Hatim, but the first view is stronger and more obvious because it is a continuation of what the wife of the 'Aziz said in the presence of the king. Yusuf was not present at all during this time, for he was released later on and brought to the king by his order.
Tafsir Ibn Kathir
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف ؑ کو وزارت سونپنا خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ حضرت یوسف ؑ کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب تک کہ شاہ مصر اور اسکے درباری اور اہل مصر یہ نہ معلوم کرلیں کہ میرا قصور کیا تھا ؟ عزیز کی بیوی کی نسبت جو بات مجھ سے منسوب کی گئی ہے اس میں سچ کہاں تک ہے اب تک میرا قید خانہ بھگتنا واقعہ کسی حقیقت کی بنا پر تھا ؟ یا صرف ظلم و زیادتی کی بناء پر ؟ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا کر میرا یہ پیغام پہنچاؤ کہ وہ اس واقعہ کی پوری تحقیق کریں۔ حدیث شریف میں بھی حضرت یوسف ؑ کے اس صبر کی اور آپ کی اس شرافت و فضیلت کی تعریف آئی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ شک کے حقدار ہم بہ نسبت حضرت ابراہیم ؑ کے بابت زیادہ ہیں جب کہ انہوں نے فرمایا تھا میرے رب مجھے اپنا مردوں کا زندہ کرنا مع کیفیت دکھا (یعنی جب ہم اللہ کی اس قدرت میں شک نہیں کرتے تو حضرت ابراہیم ؑ جلیل القدر پیغمبر کیسے شک کرسکتے تھے ؟ پس آپ کی یہ طلب از روئے مزید اطمینان کے تھی نہ کہ ازروئے شک۔ چناچہ خود قرآن میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ میرے اطمینان دل کے لیے ہے۔ اللہ حضرت لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی زور آور جماعت یا مضبوط قلعہ کی پناہ میں آنا چاہنے لگے۔ اور سنو اگر میں یوسف ؑ کے برابر جیل خانہ بھگتے ہوئے ہوتا اور پھر قاصد میری رہائی کا پیغام لاتا تو میں تو اسی وقت جیل خانے سے آزادی منظور کرلیتا۔ مسند احمد میں اسی آیت فاضلہ کی تفسیر میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو اسی وقت قاصد کی بات مان لیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ مسند عبدالرزاق میں ہے آپ فرماتے ہیں واللہ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر رہ رہ کر تعجب آتا ہے اللہ اسے بخشے دیکھو تو سہی بادشاہ نے خواب دیکھا ہے وہ تعبیر کے لیے مضطرب ہے قاصد آکر آپ سے تعبیر پوچھتا ہے آپ فوراً بغیر کسی شرط کے بتا دیتے ہیں۔ اگر میں ہوتا تو جب تک جیل خانے سے اپنی رہائی نہ کرا لیتا ہرگز نہ بتلاتا۔ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اللہ انہیں بخشے کہ جب ان کے پاس قاصد ان کی رہائی کا پیغام لے کر پہنچتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ابھی نہیں جب تک کہ میری پاکیزگی، پاک دامنی اور بےقصوری سب پر تحقیق سے کھل نہ جائے۔ اگر میں انکی جگہ ہوتا تو میں تو دوڑ کر دروازے پر پہنچتا یہ روایت مرسل ہے۔ اب بادشاہ نے تحقیق کرنی شروع کی ان عورتیں کو جنہیں عزیز کی بیوی نے اپنے ہاں دعوت پر جمع کیا تھا اور خود اسے بھی دربار میں بلوایا۔ پھر ان تمام عورتوں سے پوچھا کہ ضیافت والے دن کیا گزری تھی ؟ سب بیان کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ماشا اللہ یوسف پر کوئی الزام نہیں اس پر بےسروپا تہمت ہے۔ واللہ ہم خوب جانتی ہیں کہ یوسف میں کوئی بدی نہیں اس وقت عزیز کی بیوی خود بھی بول اٹھی کہ اب حق ظاہر ہوگیا واقعہ کھل گیا۔ حقیقت نکھر آئی مجھے خود اس امر کا اقرار ہے۔ کہ واقعی میں نے ہی اسے پھنسانا چاہا تھا۔ اس نے جو بروقت کہا تھا کہ یہ عورت مجھے پھسلا رہی تھی اس میں وہ بالکل سچا ہے۔ میں اس کا اقرار کرتی ہوں اور اپنا قصور آپ بیان کرتی ہوں تاکہ میرے خاوند یہ بات بھی جان لیں کہ میں نے اس کی کوئی خیانت دراصل نہیں کی۔ یوسف کی پاکدامنی کی وجہ سے کوئی شر اور برائی مجھ سے ظہور میں نہیں آئی۔ بدکاری سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بچائے رکھا۔ میری اس اقرار سے اور واقعہ کے کھل جانے سے صاف ظاہر ہے اور میرے خاوند جان سکتے ہیں کہ میں برائی میں مبتلا نہیں ہوئی۔ یہ بالکل سچ ہے کہ خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو اللہ تعالیٰ فروغ نہیں دیا۔ ان کی دغا بازی کوئی پھل نہیں لاتی۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارہویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنِ الْمَلِكِ لَمَّا رَجَعُوا إِلَيْهِ بِتَعْبِيرِ رُؤْيَاهُ، الَّتِي كَانَ رَآهَا، بِمَا أَعْجَبَهُ وَأَيْنَقَهُ، فَعَرَفَ فَضْلَ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَعِلْمَهُ [وَحُسْنَ اطِّلَاعِهِ عَلَى رُؤْيَاهُ] [[زيادة من ت، أ.]] وَحُسْنَ أَخْلَاقِهِ عَلَى مَنْ بِبَلَدِهِ مِنْ رَعَايَاهُ، فَقَالَ ﴿ائْتُونِي بِهِ﴾ أَيْ: أَخْرِجُوهُ مِنَ السِّجْنِ وَأَحْضَرُوهُ. فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ بِذَلِكَ امْتَنَعَ مِنَ الْخُرُوجِ حَتَّى يَتَحَقَّقَ الْمَلِكُ وَرَعَيَّتُهُ بَرَاءَةَ سَاحَتِهِ، وَنَزَاهَةَ عِرْضِهِ، مِمَّا نُسِبَ إِلَيْهِ مِنْ جِهَةِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، وَأَنَّ هَذَا السِّجْنَ لَمْ يَكُنْ عَلَى أَمْرٍ يَقْتَضِيهِ، بَلْ كَانَ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا، قَالَ: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾
وَقَدْ وَرَدَتِ السَّنَةُ بِمَدْحِهِ عَلَى ذَلِكَ، وَالتَّنْبِيهِ عَلَى فَضْلِهِ وَشَرَفِهِ، وعُلُوّ قَدْرِهِ وَصَبْرِهِ، صَلَوَاتُ الله وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، فَفِي الْمُسْنَدِ وَالصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٦٠] وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ" [[المسند (٢/٣٢٦) وصحيح البخاري برقم (٤٦٩٤) وصحيح مسلم برقم (١٥١) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لو كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ، وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ" [[المسند (٢/٣٤٧) وقال الهيثمي في المجمع (٧/٤٠) : "وفيه محمد بن عمرو، وهو حسن الحديث".]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَة، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَقَدْ عَجِبْتُ مِنْ يُوسُفَ وَصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، حِينَ سُئل عَنِ الْبَقَرَاتِ العِجاف والسِّمان، وَلَوْ كُنْتُ مَكَانَهُ مَا أَجَبْتُهُمْ حَتَّى أَشْتَرِطَ أَنْ يُخْرِجُونِي. وَلَقَدْ عَجِبْتُ مِنْ يُوسُفَ وَصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، حِينَ أَتَاهُ الرَّسُولُ، ولو كنت مكانه لبادرتهم الباب، َ وَلَكِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ لَهُ الْعُذْرُ". هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨١، ٢٨٢) وقد وصله إسحاق بن راهويه في مسنده ومن طريقه الطبراني في المعجم الكبير (١١/٢٤٩) من طريق إبراهيم بن يزيد الخوزي عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابن عباس مرفوعا بنحوه. وفيه إبراهيم بن يزيد وهو متروك.]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ﴾ إِخْبَارٌ عَنِ الْمَلِكِ حِينَ جَمَعَ النِّسْوَةَ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ عِنْدَ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ مُخَاطِبًا لَهُنَّ كُلَّهُنَّ -وَهُوَ يُرِيدُ امْرَأَةَ وَزِيرِهِ، وَهُوَ الْعَزِيزُ -: ﴿مَا خَطْبُكُنَّ﴾ أَيْ: شَأْنُكُنَّ وَخَبَرُكُنَّ ﴿إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ﴾ يَعْنِي: يَوْمَ الضِّيَافَةِ؟ ﴿قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ﴾ أَيْ: قَالَتِ النِّسْوَةُ جَوَابًا لِلْمَلِكِ: حَاشَ لِلَّهِ أَنْ يَكُونَ يُوسُفَ مُتَّهَمَا، وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ. فَعِنْدَ ذَلِكَ ﴿قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ: تَقُولُ الْآنَ: تَبَيَّنَ الْحَقُّ وَظَهَرَ وَبَرَزَ.
﴿أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴾ أَيْ: فِي قَوْلِهِ: ﴿هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي﴾ ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ﴾ تَقُولُ: إِنَّمَا اعْتَرَفْتُ بِهَذَا عَلَى نَفْسِي، ذَلِكَ لِيَعْلَمَ زَوْجِي أَنْ لَمْ أَخُنْهُ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ، وَلَا وَقَعَ الْمَحْذُورُ الْأَكْبَرُ، وَإِنَّمَا رَاوَدْتُ هَذَا الشَّابَّ مُرَاوَدَةً، فَامْتَنَعَ؛ فَلِهَذَا اعترفتُ لِيَعْلَمَ أَنِّي بَرِيئَةٌ، ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي﴾ تَقُولُ الْمَرْأَةُ: وَلَسْتُ أُبَرِّئُ نَفْسِي، فَإِنَّ النَّفْسَ تَتَحَدَّثُ [[في ت، أ: "تحدث".]] وَتَتَمَنَّى؛ وَلِهَذَا رَاوَدَتْهُ لِأَنَّهَا أَمَارَةٌ بِالسُّوءِ، ﴿إِلا مَا [[في ت أ: "عن" وهو خطأ.]] رَحِمَ رَبِّي﴾ أَيْ: إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، ﴿إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [[في ت: "لغفور" وهو خطأ.]] .
وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الْأَشْهَرُ وَالْأَلْيَقُ وَالْأَنْسَبُ بِسِيَاقِ الْقِصَّةِ وَمَعَانِي الْكَلَامِ. وَقَدْ حَكَاهُ الْمَاوَرْدِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ، وَانْتَدَبَ لِنَصْرِهِ الْإِمَامُ الْعَلَّامَةُ أَبُو الْعَبَّاسِ ابْنُ تَيميَّة، رَحِمَهُ اللَّهُ، فَأَفْرَدَهُ بِتَصْنِيفٍ عَلَى حِدَةٍ [[انظر: مجموع الفتاوى لابن تيمية (١٠/٢٩٨) .]]
وَقَدْ قِيلَ: إِنَّ ذَلِكَ مِنْ كَلَامِ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ قَوْلِهِ: ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ﴾ فِي زَوْجَتِهِ ﴿بِالْغَيْبِ﴾ الْآيَتَيْنِ أَيْ: إِنَّمَا رَدَدْتُ الرَّسُولَ لِيَعْلَمَ الْمَلِكُ بَرَاءَتِي وَلِيَعْلَمَ الْعَزِيزُ ﴿أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ﴾ فِي زَوْجَتِهِ ﴿بِالْغَيْبِ﴾ ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأمَّارَةٌ بِالسُّوءِ﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من ت، أ.]] وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الَّذِي لَمَّ يَحْكِ ابْنُ جَرِيرٍ وَلَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ سِوَاهُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب، حَدَّثَنَا وَكِيع، عَنْ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا جَمَعَ الْمَلِكُ النِّسْوَةَ فَسَأَلَهُنَّ: هَلْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ؟ ﴿قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴾ قَالَ يُوسُفُ ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ [وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ] ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] قَالَ: فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: وَلَا يَوْمَ هَمَمْتَ بِمَا هَمَمْتَ بِهِ. فَقَالَ: ﴿وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأمَّارَةٌ بِالسُّوءِ﴾ [[تفسير الطبري (١٦/١٤٣) .]]
وَهَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَعِكْرِمَةُ، وَابْنُ أَبِي الهُذَيل، وَالضَّحَّاكُ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدي. وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَقْوَى وَأُظْهِرُ؛ لِأَنَّ سِيَاقَ الْكَلَامِ كُلِّهِ مِنْ كَلَامِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ بِحَضْرَةِ الْمَلِكِ، وَلَمْ يَكُنْ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عِنْدَهُمْ، بَلْ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْضَرَهُ الْمَلِكُ.
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍۢ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٰٔنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
Said [the king to the women], "What was your condition when you sought to seduce Joseph?" They said, "Perfect is Allah! We know about him no evil." The wife of al-'Azeez said, "Now the truth has become evident. It was I who sought to seduce him, and indeed, he is of the truthful.
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
(پادشاه آن زنان را طلبید و) گفت: «به هنگامی که یوسف را به سوی خویش دعوت کردید، جریان کار شما چه بود؟» گفتند: «منزّه است خدا، ما هیچ عیبی در او نیافتیم!» (در این هنگام) همسر عزیز گفت: «الآن حق آشکار گشت! من بودم که او را به سوی خود دعوت کردم؛ و او از راستگویان است!
Tafsir Ibn Kathir
And the king said: "Bring him to me." But when the messenger came to him, [Yusuf] said: "Return to your king and ask him, 'What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot.' (50)(The king) said (to the women): "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf" The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!" The wife of the 'Aziz said: "Now the truth is manifest (to all); it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful. (51)[Then Yusuf said: "I asked for this inquiry] in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence." And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers (52)"And I free not myself (from the blame). Verily, the self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills). Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful. (53)
The King investigates what happened between the Wife of the 'Aziz, the Women in the City, and Yusuf
Allah narrates to us that when the king was conveyed the interpretation of his dream, he liked Yusuf's interpretation and felt sure that it was true. He realized the virtue of Prophet Yusuf, recognized his knowledge in the interpretation of dreams and valued his good conduct with his subjects in his country. The king said,
ائْتُونِي بِهِ
(Bring him to me.) 'Release him from prison and bring him to me.' When the king's emissary came to Yusuf and conveyed the news of his imminent release, Yusuf refused to leave the prison until the king and his subjects declare his innocence and the integrity of his honor, denouncing the false accusation that the wife of the 'Aziz made against him. He wanted them to know that sending him to prison was an act of injustice and aggression, not that he committed an offense that warranted it. He said,
ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ
(Return to your lord (i.e. king)...) The Sunnah of our Prophet ﷺ praised Prophet Yusuf and asserted his virtues, honor, elevated rank and patience, may Allah's peace and blessings be on him. The Musnad and the Two Sahihs recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ
(We are more liable to be in doubt than Ibrahim when he said,)
رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ
(My Lord! Show me how You give life to the dead...)
وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
(And may Allah send His mercy on Lut! He wished to have powerful support! If I were to stay in prison for such a long time as Yusuf did, I would have accepted the offer.) In another narration collected by Ahmad from Abu Hurayrah, the Prophet ﷺ said about Yusuf's statement,
فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
("...and ask him, 'What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot.'")
لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ
(If it was me, I would have accepted the offer rather than await my exoneration first.) Allah said (that the king asked),
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(He said, "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf?") The king gathered those women who cut their hands, while being hosted at the house of the wife of the 'Aziz. He asked them all, even though he was directing his speech at the wife of his minister, the 'Aziz in particular. He asked the women who cut their hands,
مَا خَطْبُكُنَّ
(What was your affair...), what was your story with regards to,
إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(when you did seek to seduce Yusuf?) on the day of the banquet?
قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ
(The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!") The women answered the king, 'Allah forbid that Yusuf be guilty of this, for by Allah, we never knew him to do evil.' This is when,
قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ
(The wife of the 'Aziz said: "Now the truth has Hashasa...") or the truth is manifest to all, according to Ibn 'Abbas, Mujahid and others. Hashasa also means, 'became clear and plain',
أَنَا رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
(it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful.) when he said,
هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي
(It was she that sought to seduce me.)
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ
(in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence.) She said, 'I admit this against myself so that my husband knows that I did not betray him in his absence and that adultery did not occur. I tried to seduce this young man and he refused, and I am admitting this so that he knows I am innocent,'
وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ - وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي
(And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers. And I free not myself (from the blame).) She said, 'I do not exonerate myself from blame, because the soul wishes and lusts, and this is what made me seduce him,' for,
النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّى
(Verily, the (human) self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills).) whom Allah the Exalted wills to grant them immunity,
إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is the most viable and suitable understanding for the continuity of the story and the meanings of Arabic speech. Al-Mawardi mentioned this in his Tafsir, in support of it, it was also preferred by Imam Abu Al-'Abbas Ibn Taymiyyah who wrote about it in detail in a separate work.
It was said Yusuf peace be upon him is the one who said,
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ
(in order that he (the 'Aziz) may know that I betrayed him not) with his wife,
بِالْغَيْبِ
(in (his) absence).) until the end of Ayah (53) He said, 'I sent back the emissary, so that the king would investigate my innocence and the 'Aziz be certain that,
أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ
(I betrayed him not), with his wife,
بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ
(in (his) absence. And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers.)' This is the only explanation presented by Ibn Jarir At-Tabari and Ibn Abi Hatim, but the first view is stronger and more obvious because it is a continuation of what the wife of the 'Aziz said in the presence of the king. Yusuf was not present at all during this time, for he was released later on and brought to the king by his order.
Tafsir Ibn Kathir
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف ؑ کو وزارت سونپنا خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ حضرت یوسف ؑ کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب تک کہ شاہ مصر اور اسکے درباری اور اہل مصر یہ نہ معلوم کرلیں کہ میرا قصور کیا تھا ؟ عزیز کی بیوی کی نسبت جو بات مجھ سے منسوب کی گئی ہے اس میں سچ کہاں تک ہے اب تک میرا قید خانہ بھگتنا واقعہ کسی حقیقت کی بنا پر تھا ؟ یا صرف ظلم و زیادتی کی بناء پر ؟ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا کر میرا یہ پیغام پہنچاؤ کہ وہ اس واقعہ کی پوری تحقیق کریں۔ حدیث شریف میں بھی حضرت یوسف ؑ کے اس صبر کی اور آپ کی اس شرافت و فضیلت کی تعریف آئی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ شک کے حقدار ہم بہ نسبت حضرت ابراہیم ؑ کے بابت زیادہ ہیں جب کہ انہوں نے فرمایا تھا میرے رب مجھے اپنا مردوں کا زندہ کرنا مع کیفیت دکھا (یعنی جب ہم اللہ کی اس قدرت میں شک نہیں کرتے تو حضرت ابراہیم ؑ جلیل القدر پیغمبر کیسے شک کرسکتے تھے ؟ پس آپ کی یہ طلب از روئے مزید اطمینان کے تھی نہ کہ ازروئے شک۔ چناچہ خود قرآن میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ میرے اطمینان دل کے لیے ہے۔ اللہ حضرت لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی زور آور جماعت یا مضبوط قلعہ کی پناہ میں آنا چاہنے لگے۔ اور سنو اگر میں یوسف ؑ کے برابر جیل خانہ بھگتے ہوئے ہوتا اور پھر قاصد میری رہائی کا پیغام لاتا تو میں تو اسی وقت جیل خانے سے آزادی منظور کرلیتا۔ مسند احمد میں اسی آیت فاضلہ کی تفسیر میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو اسی وقت قاصد کی بات مان لیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ مسند عبدالرزاق میں ہے آپ فرماتے ہیں واللہ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر رہ رہ کر تعجب آتا ہے اللہ اسے بخشے دیکھو تو سہی بادشاہ نے خواب دیکھا ہے وہ تعبیر کے لیے مضطرب ہے قاصد آکر آپ سے تعبیر پوچھتا ہے آپ فوراً بغیر کسی شرط کے بتا دیتے ہیں۔ اگر میں ہوتا تو جب تک جیل خانے سے اپنی رہائی نہ کرا لیتا ہرگز نہ بتلاتا۔ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اللہ انہیں بخشے کہ جب ان کے پاس قاصد ان کی رہائی کا پیغام لے کر پہنچتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ابھی نہیں جب تک کہ میری پاکیزگی، پاک دامنی اور بےقصوری سب پر تحقیق سے کھل نہ جائے۔ اگر میں انکی جگہ ہوتا تو میں تو دوڑ کر دروازے پر پہنچتا یہ روایت مرسل ہے۔ اب بادشاہ نے تحقیق کرنی شروع کی ان عورتیں کو جنہیں عزیز کی بیوی نے اپنے ہاں دعوت پر جمع کیا تھا اور خود اسے بھی دربار میں بلوایا۔ پھر ان تمام عورتوں سے پوچھا کہ ضیافت والے دن کیا گزری تھی ؟ سب بیان کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ماشا اللہ یوسف پر کوئی الزام نہیں اس پر بےسروپا تہمت ہے۔ واللہ ہم خوب جانتی ہیں کہ یوسف میں کوئی بدی نہیں اس وقت عزیز کی بیوی خود بھی بول اٹھی کہ اب حق ظاہر ہوگیا واقعہ کھل گیا۔ حقیقت نکھر آئی مجھے خود اس امر کا اقرار ہے۔ کہ واقعی میں نے ہی اسے پھنسانا چاہا تھا۔ اس نے جو بروقت کہا تھا کہ یہ عورت مجھے پھسلا رہی تھی اس میں وہ بالکل سچا ہے۔ میں اس کا اقرار کرتی ہوں اور اپنا قصور آپ بیان کرتی ہوں تاکہ میرے خاوند یہ بات بھی جان لیں کہ میں نے اس کی کوئی خیانت دراصل نہیں کی۔ یوسف کی پاکدامنی کی وجہ سے کوئی شر اور برائی مجھ سے ظہور میں نہیں آئی۔ بدکاری سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بچائے رکھا۔ میری اس اقرار سے اور واقعہ کے کھل جانے سے صاف ظاہر ہے اور میرے خاوند جان سکتے ہیں کہ میں برائی میں مبتلا نہیں ہوئی۔ یہ بالکل سچ ہے کہ خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو اللہ تعالیٰ فروغ نہیں دیا۔ ان کی دغا بازی کوئی پھل نہیں لاتی۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارہویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنِ الْمَلِكِ لَمَّا رَجَعُوا إِلَيْهِ بِتَعْبِيرِ رُؤْيَاهُ، الَّتِي كَانَ رَآهَا، بِمَا أَعْجَبَهُ وَأَيْنَقَهُ، فَعَرَفَ فَضْلَ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَعِلْمَهُ [وَحُسْنَ اطِّلَاعِهِ عَلَى رُؤْيَاهُ] [[زيادة من ت، أ.]] وَحُسْنَ أَخْلَاقِهِ عَلَى مَنْ بِبَلَدِهِ مِنْ رَعَايَاهُ، فَقَالَ ﴿ائْتُونِي بِهِ﴾ أَيْ: أَخْرِجُوهُ مِنَ السِّجْنِ وَأَحْضَرُوهُ. فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ بِذَلِكَ امْتَنَعَ مِنَ الْخُرُوجِ حَتَّى يَتَحَقَّقَ الْمَلِكُ وَرَعَيَّتُهُ بَرَاءَةَ سَاحَتِهِ، وَنَزَاهَةَ عِرْضِهِ، مِمَّا نُسِبَ إِلَيْهِ مِنْ جِهَةِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، وَأَنَّ هَذَا السِّجْنَ لَمْ يَكُنْ عَلَى أَمْرٍ يَقْتَضِيهِ، بَلْ كَانَ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا، قَالَ: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾
وَقَدْ وَرَدَتِ السَّنَةُ بِمَدْحِهِ عَلَى ذَلِكَ، وَالتَّنْبِيهِ عَلَى فَضْلِهِ وَشَرَفِهِ، وعُلُوّ قَدْرِهِ وَصَبْرِهِ، صَلَوَاتُ الله وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، فَفِي الْمُسْنَدِ وَالصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٦٠] وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ" [[المسند (٢/٣٢٦) وصحيح البخاري برقم (٤٦٩٤) وصحيح مسلم برقم (١٥١) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لو كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ، وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ" [[المسند (٢/٣٤٧) وقال الهيثمي في المجمع (٧/٤٠) : "وفيه محمد بن عمرو، وهو حسن الحديث".]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَة، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَقَدْ عَجِبْتُ مِنْ يُوسُفَ وَصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، حِينَ سُئل عَنِ الْبَقَرَاتِ العِجاف والسِّمان، وَلَوْ كُنْتُ مَكَانَهُ مَا أَجَبْتُهُمْ حَتَّى أَشْتَرِطَ أَنْ يُخْرِجُونِي. وَلَقَدْ عَجِبْتُ مِنْ يُوسُفَ وَصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، حِينَ أَتَاهُ الرَّسُولُ، ولو كنت مكانه لبادرتهم الباب، َ وَلَكِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ لَهُ الْعُذْرُ". هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨١، ٢٨٢) وقد وصله إسحاق بن راهويه في مسنده ومن طريقه الطبراني في المعجم الكبير (١١/٢٤٩) من طريق إبراهيم بن يزيد الخوزي عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابن عباس مرفوعا بنحوه. وفيه إبراهيم بن يزيد وهو متروك.]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ﴾ إِخْبَارٌ عَنِ الْمَلِكِ حِينَ جَمَعَ النِّسْوَةَ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ عِنْدَ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ مُخَاطِبًا لَهُنَّ كُلَّهُنَّ -وَهُوَ يُرِيدُ امْرَأَةَ وَزِيرِهِ، وَهُوَ الْعَزِيزُ -: ﴿مَا خَطْبُكُنَّ﴾ أَيْ: شَأْنُكُنَّ وَخَبَرُكُنَّ ﴿إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ﴾ يَعْنِي: يَوْمَ الضِّيَافَةِ؟ ﴿قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ﴾ أَيْ: قَالَتِ النِّسْوَةُ جَوَابًا لِلْمَلِكِ: حَاشَ لِلَّهِ أَنْ يَكُونَ يُوسُفَ مُتَّهَمَا، وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ. فَعِنْدَ ذَلِكَ ﴿قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ: تَقُولُ الْآنَ: تَبَيَّنَ الْحَقُّ وَظَهَرَ وَبَرَزَ.
﴿أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴾ أَيْ: فِي قَوْلِهِ: ﴿هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي﴾ ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ﴾ تَقُولُ: إِنَّمَا اعْتَرَفْتُ بِهَذَا عَلَى نَفْسِي، ذَلِكَ لِيَعْلَمَ زَوْجِي أَنْ لَمْ أَخُنْهُ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ، وَلَا وَقَعَ الْمَحْذُورُ الْأَكْبَرُ، وَإِنَّمَا رَاوَدْتُ هَذَا الشَّابَّ مُرَاوَدَةً، فَامْتَنَعَ؛ فَلِهَذَا اعترفتُ لِيَعْلَمَ أَنِّي بَرِيئَةٌ، ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي﴾ تَقُولُ الْمَرْأَةُ: وَلَسْتُ أُبَرِّئُ نَفْسِي، فَإِنَّ النَّفْسَ تَتَحَدَّثُ [[في ت، أ: "تحدث".]] وَتَتَمَنَّى؛ وَلِهَذَا رَاوَدَتْهُ لِأَنَّهَا أَمَارَةٌ بِالسُّوءِ، ﴿إِلا مَا [[في ت أ: "عن" وهو خطأ.]] رَحِمَ رَبِّي﴾ أَيْ: إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، ﴿إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [[في ت: "لغفور" وهو خطأ.]] .
وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الْأَشْهَرُ وَالْأَلْيَقُ وَالْأَنْسَبُ بِسِيَاقِ الْقِصَّةِ وَمَعَانِي الْكَلَامِ. وَقَدْ حَكَاهُ الْمَاوَرْدِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ، وَانْتَدَبَ لِنَصْرِهِ الْإِمَامُ الْعَلَّامَةُ أَبُو الْعَبَّاسِ ابْنُ تَيميَّة، رَحِمَهُ اللَّهُ، فَأَفْرَدَهُ بِتَصْنِيفٍ عَلَى حِدَةٍ [[انظر: مجموع الفتاوى لابن تيمية (١٠/٢٩٨) .]]
وَقَدْ قِيلَ: إِنَّ ذَلِكَ مِنْ كَلَامِ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ قَوْلِهِ: ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ﴾ فِي زَوْجَتِهِ ﴿بِالْغَيْبِ﴾ الْآيَتَيْنِ أَيْ: إِنَّمَا رَدَدْتُ الرَّسُولَ لِيَعْلَمَ الْمَلِكُ بَرَاءَتِي وَلِيَعْلَمَ الْعَزِيزُ ﴿أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ﴾ فِي زَوْجَتِهِ ﴿بِالْغَيْبِ﴾ ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأمَّارَةٌ بِالسُّوءِ﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من ت، أ.]] وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الَّذِي لَمَّ يَحْكِ ابْنُ جَرِيرٍ وَلَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ سِوَاهُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب، حَدَّثَنَا وَكِيع، عَنْ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا جَمَعَ الْمَلِكُ النِّسْوَةَ فَسَأَلَهُنَّ: هَلْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ؟ ﴿قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴾ قَالَ يُوسُفُ ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ [وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ] ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] قَالَ: فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: وَلَا يَوْمَ هَمَمْتَ بِمَا هَمَمْتَ بِهِ. فَقَالَ: ﴿وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأمَّارَةٌ بِالسُّوءِ﴾ [[تفسير الطبري (١٦/١٤٣) .]]
وَهَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَعِكْرِمَةُ، وَابْنُ أَبِي الهُذَيل، وَالضَّحَّاكُ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدي. وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَقْوَى وَأُظْهِرُ؛ لِأَنَّ سِيَاقَ الْكَلَامِ كُلِّهِ مِنْ كَلَامِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ بِحَضْرَةِ الْمَلِكِ، وَلَمْ يَكُنْ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عِنْدَهُمْ، بَلْ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْضَرَهُ الْمَلِكُ.
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ
That is so al-'Azeez will know that I did not betray him in [his] absence and that Allah does not guide the plan of betrayers.
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
این سخن را بخاطر آن گفتم تا بداند من در غیاب به او خیانت نکردم؛ و خداوند مکر خائنان را هدایت نمیکند!
Tafsir Ibn Kathir
And the king said: "Bring him to me." But when the messenger came to him, [Yusuf] said: "Return to your king and ask him, 'What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot.' (50)(The king) said (to the women): "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf" The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!" The wife of the 'Aziz said: "Now the truth is manifest (to all); it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful. (51)[Then Yusuf said: "I asked for this inquiry] in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence." And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers (52)"And I free not myself (from the blame). Verily, the self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills). Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful. (53)
The King investigates what happened between the Wife of the 'Aziz, the Women in the City, and Yusuf
Allah narrates to us that when the king was conveyed the interpretation of his dream, he liked Yusuf's interpretation and felt sure that it was true. He realized the virtue of Prophet Yusuf, recognized his knowledge in the interpretation of dreams and valued his good conduct with his subjects in his country. The king said,
ائْتُونِي بِهِ
(Bring him to me.) 'Release him from prison and bring him to me.' When the king's emissary came to Yusuf and conveyed the news of his imminent release, Yusuf refused to leave the prison until the king and his subjects declare his innocence and the integrity of his honor, denouncing the false accusation that the wife of the 'Aziz made against him. He wanted them to know that sending him to prison was an act of injustice and aggression, not that he committed an offense that warranted it. He said,
ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ
(Return to your lord (i.e. king)...) The Sunnah of our Prophet ﷺ praised Prophet Yusuf and asserted his virtues, honor, elevated rank and patience, may Allah's peace and blessings be on him. The Musnad and the Two Sahihs recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ
(We are more liable to be in doubt than Ibrahim when he said,)
رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ
(My Lord! Show me how You give life to the dead...)
وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
(And may Allah send His mercy on Lut! He wished to have powerful support! If I were to stay in prison for such a long time as Yusuf did, I would have accepted the offer.) In another narration collected by Ahmad from Abu Hurayrah, the Prophet ﷺ said about Yusuf's statement,
فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
("...and ask him, 'What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot.'")
لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ
(If it was me, I would have accepted the offer rather than await my exoneration first.) Allah said (that the king asked),
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(He said, "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf?") The king gathered those women who cut their hands, while being hosted at the house of the wife of the 'Aziz. He asked them all, even though he was directing his speech at the wife of his minister, the 'Aziz in particular. He asked the women who cut their hands,
مَا خَطْبُكُنَّ
(What was your affair...), what was your story with regards to,
إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(when you did seek to seduce Yusuf?) on the day of the banquet?
قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ
(The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!") The women answered the king, 'Allah forbid that Yusuf be guilty of this, for by Allah, we never knew him to do evil.' This is when,
قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ
(The wife of the 'Aziz said: "Now the truth has Hashasa...") or the truth is manifest to all, according to Ibn 'Abbas, Mujahid and others. Hashasa also means, 'became clear and plain',
أَنَا رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
(it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful.) when he said,
هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي
(It was she that sought to seduce me.)
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ
(in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence.) She said, 'I admit this against myself so that my husband knows that I did not betray him in his absence and that adultery did not occur. I tried to seduce this young man and he refused, and I am admitting this so that he knows I am innocent,'
وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ - وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي
(And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers. And I free not myself (from the blame).) She said, 'I do not exonerate myself from blame, because the soul wishes and lusts, and this is what made me seduce him,' for,
النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّى
(Verily, the (human) self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills).) whom Allah the Exalted wills to grant them immunity,
إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is the most viable and suitable understanding for the continuity of the story and the meanings of Arabic speech. Al-Mawardi mentioned this in his Tafsir, in support of it, it was also preferred by Imam Abu Al-'Abbas Ibn Taymiyyah who wrote about it in detail in a separate work.
It was said Yusuf peace be upon him is the one who said,
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ
(in order that he (the 'Aziz) may know that I betrayed him not) with his wife,
بِالْغَيْبِ
(in (his) absence).) until the end of Ayah (53) He said, 'I sent back the emissary, so that the king would investigate my innocence and the 'Aziz be certain that,
أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ
(I betrayed him not), with his wife,
بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ
(in (his) absence. And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers.)' This is the only explanation presented by Ibn Jarir At-Tabari and Ibn Abi Hatim, but the first view is stronger and more obvious because it is a continuation of what the wife of the 'Aziz said in the presence of the king. Yusuf was not present at all during this time, for he was released later on and brought to the king by his order.
Tafsir Ibn Kathir
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف ؑ کو وزارت سونپنا خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ حضرت یوسف ؑ کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب تک کہ شاہ مصر اور اسکے درباری اور اہل مصر یہ نہ معلوم کرلیں کہ میرا قصور کیا تھا ؟ عزیز کی بیوی کی نسبت جو بات مجھ سے منسوب کی گئی ہے اس میں سچ کہاں تک ہے اب تک میرا قید خانہ بھگتنا واقعہ کسی حقیقت کی بنا پر تھا ؟ یا صرف ظلم و زیادتی کی بناء پر ؟ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا کر میرا یہ پیغام پہنچاؤ کہ وہ اس واقعہ کی پوری تحقیق کریں۔ حدیث شریف میں بھی حضرت یوسف ؑ کے اس صبر کی اور آپ کی اس شرافت و فضیلت کی تعریف آئی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ شک کے حقدار ہم بہ نسبت حضرت ابراہیم ؑ کے بابت زیادہ ہیں جب کہ انہوں نے فرمایا تھا میرے رب مجھے اپنا مردوں کا زندہ کرنا مع کیفیت دکھا (یعنی جب ہم اللہ کی اس قدرت میں شک نہیں کرتے تو حضرت ابراہیم ؑ جلیل القدر پیغمبر کیسے شک کرسکتے تھے ؟ پس آپ کی یہ طلب از روئے مزید اطمینان کے تھی نہ کہ ازروئے شک۔ چناچہ خود قرآن میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ میرے اطمینان دل کے لیے ہے۔ اللہ حضرت لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی زور آور جماعت یا مضبوط قلعہ کی پناہ میں آنا چاہنے لگے۔ اور سنو اگر میں یوسف ؑ کے برابر جیل خانہ بھگتے ہوئے ہوتا اور پھر قاصد میری رہائی کا پیغام لاتا تو میں تو اسی وقت جیل خانے سے آزادی منظور کرلیتا۔ مسند احمد میں اسی آیت فاضلہ کی تفسیر میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو اسی وقت قاصد کی بات مان لیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ مسند عبدالرزاق میں ہے آپ فرماتے ہیں واللہ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر رہ رہ کر تعجب آتا ہے اللہ اسے بخشے دیکھو تو سہی بادشاہ نے خواب دیکھا ہے وہ تعبیر کے لیے مضطرب ہے قاصد آکر آپ سے تعبیر پوچھتا ہے آپ فوراً بغیر کسی شرط کے بتا دیتے ہیں۔ اگر میں ہوتا تو جب تک جیل خانے سے اپنی رہائی نہ کرا لیتا ہرگز نہ بتلاتا۔ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اللہ انہیں بخشے کہ جب ان کے پاس قاصد ان کی رہائی کا پیغام لے کر پہنچتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ابھی نہیں جب تک کہ میری پاکیزگی، پاک دامنی اور بےقصوری سب پر تحقیق سے کھل نہ جائے۔ اگر میں انکی جگہ ہوتا تو میں تو دوڑ کر دروازے پر پہنچتا یہ روایت مرسل ہے۔ اب بادشاہ نے تحقیق کرنی شروع کی ان عورتیں کو جنہیں عزیز کی بیوی نے اپنے ہاں دعوت پر جمع کیا تھا اور خود اسے بھی دربار میں بلوایا۔ پھر ان تمام عورتوں سے پوچھا کہ ضیافت والے دن کیا گزری تھی ؟ سب بیان کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ماشا اللہ یوسف پر کوئی الزام نہیں اس پر بےسروپا تہمت ہے۔ واللہ ہم خوب جانتی ہیں کہ یوسف میں کوئی بدی نہیں اس وقت عزیز کی بیوی خود بھی بول اٹھی کہ اب حق ظاہر ہوگیا واقعہ کھل گیا۔ حقیقت نکھر آئی مجھے خود اس امر کا اقرار ہے۔ کہ واقعی میں نے ہی اسے پھنسانا چاہا تھا۔ اس نے جو بروقت کہا تھا کہ یہ عورت مجھے پھسلا رہی تھی اس میں وہ بالکل سچا ہے۔ میں اس کا اقرار کرتی ہوں اور اپنا قصور آپ بیان کرتی ہوں تاکہ میرے خاوند یہ بات بھی جان لیں کہ میں نے اس کی کوئی خیانت دراصل نہیں کی۔ یوسف کی پاکدامنی کی وجہ سے کوئی شر اور برائی مجھ سے ظہور میں نہیں آئی۔ بدکاری سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بچائے رکھا۔ میری اس اقرار سے اور واقعہ کے کھل جانے سے صاف ظاہر ہے اور میرے خاوند جان سکتے ہیں کہ میں برائی میں مبتلا نہیں ہوئی۔ یہ بالکل سچ ہے کہ خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو اللہ تعالیٰ فروغ نہیں دیا۔ ان کی دغا بازی کوئی پھل نہیں لاتی۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارہویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنِ الْمَلِكِ لَمَّا رَجَعُوا إِلَيْهِ بِتَعْبِيرِ رُؤْيَاهُ، الَّتِي كَانَ رَآهَا، بِمَا أَعْجَبَهُ وَأَيْنَقَهُ، فَعَرَفَ فَضْلَ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَعِلْمَهُ [وَحُسْنَ اطِّلَاعِهِ عَلَى رُؤْيَاهُ] [[زيادة من ت، أ.]] وَحُسْنَ أَخْلَاقِهِ عَلَى مَنْ بِبَلَدِهِ مِنْ رَعَايَاهُ، فَقَالَ ﴿ائْتُونِي بِهِ﴾ أَيْ: أَخْرِجُوهُ مِنَ السِّجْنِ وَأَحْضَرُوهُ. فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ بِذَلِكَ امْتَنَعَ مِنَ الْخُرُوجِ حَتَّى يَتَحَقَّقَ الْمَلِكُ وَرَعَيَّتُهُ بَرَاءَةَ سَاحَتِهِ، وَنَزَاهَةَ عِرْضِهِ، مِمَّا نُسِبَ إِلَيْهِ مِنْ جِهَةِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، وَأَنَّ هَذَا السِّجْنَ لَمْ يَكُنْ عَلَى أَمْرٍ يَقْتَضِيهِ، بَلْ كَانَ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا، قَالَ: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾
وَقَدْ وَرَدَتِ السَّنَةُ بِمَدْحِهِ عَلَى ذَلِكَ، وَالتَّنْبِيهِ عَلَى فَضْلِهِ وَشَرَفِهِ، وعُلُوّ قَدْرِهِ وَصَبْرِهِ، صَلَوَاتُ الله وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، فَفِي الْمُسْنَدِ وَالصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٦٠] وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ" [[المسند (٢/٣٢٦) وصحيح البخاري برقم (٤٦٩٤) وصحيح مسلم برقم (١٥١) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لو كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ، وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ" [[المسند (٢/٣٤٧) وقال الهيثمي في المجمع (٧/٤٠) : "وفيه محمد بن عمرو، وهو حسن الحديث".]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَة، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَقَدْ عَجِبْتُ مِنْ يُوسُفَ وَصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، حِينَ سُئل عَنِ الْبَقَرَاتِ العِجاف والسِّمان، وَلَوْ كُنْتُ مَكَانَهُ مَا أَجَبْتُهُمْ حَتَّى أَشْتَرِطَ أَنْ يُخْرِجُونِي. وَلَقَدْ عَجِبْتُ مِنْ يُوسُفَ وَصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، حِينَ أَتَاهُ الرَّسُولُ، ولو كنت مكانه لبادرتهم الباب، َ وَلَكِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ لَهُ الْعُذْرُ". هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨١، ٢٨٢) وقد وصله إسحاق بن راهويه في مسنده ومن طريقه الطبراني في المعجم الكبير (١١/٢٤٩) من طريق إبراهيم بن يزيد الخوزي عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابن عباس مرفوعا بنحوه. وفيه إبراهيم بن يزيد وهو متروك.]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ﴾ إِخْبَارٌ عَنِ الْمَلِكِ حِينَ جَمَعَ النِّسْوَةَ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ عِنْدَ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ مُخَاطِبًا لَهُنَّ كُلَّهُنَّ -وَهُوَ يُرِيدُ امْرَأَةَ وَزِيرِهِ، وَهُوَ الْعَزِيزُ -: ﴿مَا خَطْبُكُنَّ﴾ أَيْ: شَأْنُكُنَّ وَخَبَرُكُنَّ ﴿إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ﴾ يَعْنِي: يَوْمَ الضِّيَافَةِ؟ ﴿قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ﴾ أَيْ: قَالَتِ النِّسْوَةُ جَوَابًا لِلْمَلِكِ: حَاشَ لِلَّهِ أَنْ يَكُونَ يُوسُفَ مُتَّهَمَا، وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ. فَعِنْدَ ذَلِكَ ﴿قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ: تَقُولُ الْآنَ: تَبَيَّنَ الْحَقُّ وَظَهَرَ وَبَرَزَ.
﴿أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴾ أَيْ: فِي قَوْلِهِ: ﴿هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي﴾ ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ﴾ تَقُولُ: إِنَّمَا اعْتَرَفْتُ بِهَذَا عَلَى نَفْسِي، ذَلِكَ لِيَعْلَمَ زَوْجِي أَنْ لَمْ أَخُنْهُ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ، وَلَا وَقَعَ الْمَحْذُورُ الْأَكْبَرُ، وَإِنَّمَا رَاوَدْتُ هَذَا الشَّابَّ مُرَاوَدَةً، فَامْتَنَعَ؛ فَلِهَذَا اعترفتُ لِيَعْلَمَ أَنِّي بَرِيئَةٌ، ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي﴾ تَقُولُ الْمَرْأَةُ: وَلَسْتُ أُبَرِّئُ نَفْسِي، فَإِنَّ النَّفْسَ تَتَحَدَّثُ [[في ت، أ: "تحدث".]] وَتَتَمَنَّى؛ وَلِهَذَا رَاوَدَتْهُ لِأَنَّهَا أَمَارَةٌ بِالسُّوءِ، ﴿إِلا مَا [[في ت أ: "عن" وهو خطأ.]] رَحِمَ رَبِّي﴾ أَيْ: إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، ﴿إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [[في ت: "لغفور" وهو خطأ.]] .
وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الْأَشْهَرُ وَالْأَلْيَقُ وَالْأَنْسَبُ بِسِيَاقِ الْقِصَّةِ وَمَعَانِي الْكَلَامِ. وَقَدْ حَكَاهُ الْمَاوَرْدِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ، وَانْتَدَبَ لِنَصْرِهِ الْإِمَامُ الْعَلَّامَةُ أَبُو الْعَبَّاسِ ابْنُ تَيميَّة، رَحِمَهُ اللَّهُ، فَأَفْرَدَهُ بِتَصْنِيفٍ عَلَى حِدَةٍ [[انظر: مجموع الفتاوى لابن تيمية (١٠/٢٩٨) .]]
وَقَدْ قِيلَ: إِنَّ ذَلِكَ مِنْ كَلَامِ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ قَوْلِهِ: ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ﴾ فِي زَوْجَتِهِ ﴿بِالْغَيْبِ﴾ الْآيَتَيْنِ أَيْ: إِنَّمَا رَدَدْتُ الرَّسُولَ لِيَعْلَمَ الْمَلِكُ بَرَاءَتِي وَلِيَعْلَمَ الْعَزِيزُ ﴿أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ﴾ فِي زَوْجَتِهِ ﴿بِالْغَيْبِ﴾ ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأمَّارَةٌ بِالسُّوءِ﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من ت، أ.]] وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الَّذِي لَمَّ يَحْكِ ابْنُ جَرِيرٍ وَلَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ سِوَاهُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب، حَدَّثَنَا وَكِيع، عَنْ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا جَمَعَ الْمَلِكُ النِّسْوَةَ فَسَأَلَهُنَّ: هَلْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ؟ ﴿قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴾ قَالَ يُوسُفُ ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ [وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ] ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] قَالَ: فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: وَلَا يَوْمَ هَمَمْتَ بِمَا هَمَمْتَ بِهِ. فَقَالَ: ﴿وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأمَّارَةٌ بِالسُّوءِ﴾ [[تفسير الطبري (١٦/١٤٣) .]]
وَهَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَعِكْرِمَةُ، وَابْنُ أَبِي الهُذَيل، وَالضَّحَّاكُ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدي. وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَقْوَى وَأُظْهِرُ؛ لِأَنَّ سِيَاقَ الْكَلَامِ كُلِّهِ مِنْ كَلَامِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ بِحَضْرَةِ الْمَلِكِ، وَلَمْ يَكُنْ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عِنْدَهُمْ، بَلْ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْضَرَهُ الْمَلِكُ.
۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ ۚ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
And I do not acquit myself. Indeed, the soul is a persistent enjoiner of evil, except those upon which my Lord has mercy. Indeed, my Lord is Forgiving and Merciful."
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
من هرگز خودم را تبرئه نمیکنم، که نفس (سرکش) بسیار به بدیها امر میکند؛ مگر آنچه را پروردگارم رحم کند! پروردگارم آمرزنده و مهربان است.»
Tafsir Ibn Kathir
And the king said: "Bring him to me." But when the messenger came to him, [Yusuf] said: "Return to your king and ask him, 'What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot.' (50)(The king) said (to the women): "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf" The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!" The wife of the 'Aziz said: "Now the truth is manifest (to all); it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful. (51)[Then Yusuf said: "I asked for this inquiry] in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence." And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers (52)"And I free not myself (from the blame). Verily, the self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills). Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful. (53)
The King investigates what happened between the Wife of the 'Aziz, the Women in the City, and Yusuf
Allah narrates to us that when the king was conveyed the interpretation of his dream, he liked Yusuf's interpretation and felt sure that it was true. He realized the virtue of Prophet Yusuf, recognized his knowledge in the interpretation of dreams and valued his good conduct with his subjects in his country. The king said,
ائْتُونِي بِهِ
(Bring him to me.) 'Release him from prison and bring him to me.' When the king's emissary came to Yusuf and conveyed the news of his imminent release, Yusuf refused to leave the prison until the king and his subjects declare his innocence and the integrity of his honor, denouncing the false accusation that the wife of the 'Aziz made against him. He wanted them to know that sending him to prison was an act of injustice and aggression, not that he committed an offense that warranted it. He said,
ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ
(Return to your lord (i.e. king)...) The Sunnah of our Prophet ﷺ praised Prophet Yusuf and asserted his virtues, honor, elevated rank and patience, may Allah's peace and blessings be on him. The Musnad and the Two Sahihs recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ
(We are more liable to be in doubt than Ibrahim when he said,)
رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ
(My Lord! Show me how You give life to the dead...)
وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
(And may Allah send His mercy on Lut! He wished to have powerful support! If I were to stay in prison for such a long time as Yusuf did, I would have accepted the offer.) In another narration collected by Ahmad from Abu Hurayrah, the Prophet ﷺ said about Yusuf's statement,
فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
("...and ask him, 'What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot.'")
لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ
(If it was me, I would have accepted the offer rather than await my exoneration first.) Allah said (that the king asked),
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(He said, "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf?") The king gathered those women who cut their hands, while being hosted at the house of the wife of the 'Aziz. He asked them all, even though he was directing his speech at the wife of his minister, the 'Aziz in particular. He asked the women who cut their hands,
مَا خَطْبُكُنَّ
(What was your affair...), what was your story with regards to,
إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(when you did seek to seduce Yusuf?) on the day of the banquet?
قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ
(The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!") The women answered the king, 'Allah forbid that Yusuf be guilty of this, for by Allah, we never knew him to do evil.' This is when,
قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ
(The wife of the 'Aziz said: "Now the truth has Hashasa...") or the truth is manifest to all, according to Ibn 'Abbas, Mujahid and others. Hashasa also means, 'became clear and plain',
أَنَا رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
(it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful.) when he said,
هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي
(It was she that sought to seduce me.)
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ
(in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence.) She said, 'I admit this against myself so that my husband knows that I did not betray him in his absence and that adultery did not occur. I tried to seduce this young man and he refused, and I am admitting this so that he knows I am innocent,'
وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ - وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي
(And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers. And I free not myself (from the blame).) She said, 'I do not exonerate myself from blame, because the soul wishes and lusts, and this is what made me seduce him,' for,
النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّى
(Verily, the (human) self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills).) whom Allah the Exalted wills to grant them immunity,
إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is the most viable and suitable understanding for the continuity of the story and the meanings of Arabic speech. Al-Mawardi mentioned this in his Tafsir, in support of it, it was also preferred by Imam Abu Al-'Abbas Ibn Taymiyyah who wrote about it in detail in a separate work.
It was said Yusuf peace be upon him is the one who said,
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ
(in order that he (the 'Aziz) may know that I betrayed him not) with his wife,
بِالْغَيْبِ
(in (his) absence).) until the end of Ayah (53) He said, 'I sent back the emissary, so that the king would investigate my innocence and the 'Aziz be certain that,
أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ
(I betrayed him not), with his wife,
بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ
(in (his) absence. And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers.)' This is the only explanation presented by Ibn Jarir At-Tabari and Ibn Abi Hatim, but the first view is stronger and more obvious because it is a continuation of what the wife of the 'Aziz said in the presence of the king. Yusuf was not present at all during this time, for he was released later on and brought to the king by his order.
Tafsir Ibn Kathir
عزیز مصر کی بیوی کہہ رہی ہے کہ میں اپنی پاکیزگی بیان نہیں کر رہی اپنے آپ کو نہیں سراہتی۔ نفس انسانی تمناؤں اور بری باتوں کا مخزن ہے۔ اس میں ایسے جذبات اور شوق اچھلتے رہتے ہیں۔ وہ برائیوں پر ابھارتا رہتا ہے۔ اسی کے پھندے میں پھنس کر میں نے حضرت یوسف ؑ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ مگر جسے اللہ چاہے نفس کی برائی سے محفوظ رکھ لیتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ بخشش کرنا معافی دینا اس کی ابدی اور لازمی صفت ہے۔ یہ قول عزیز مصر کی عورت کا ہی ہے۔ یہی بات مشہور ہے اور زیادہ لائق ہے اور واقعہ کے بیان سے بھی زیادہ مناسب ہے۔ اور کلام کے معنی کے ساتھ بھی زیادہ موافق ہے۔ اما ماوردی ؒ نے اپنی تفسیر میں اسے وارد کیا ہے۔ اور علامہ ابو العباس حضرت امام ابن تیمیہ ؒ نے تو اسے ایک مستقل تصنیف میں بیان فرمایا ہے اور اس کی پوری تائید کی ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قول حضرت یوسف ؑ کا ہے۔ لیعلم سے اس دوسری آیت کے ختم تک انہی کا فرمان ہے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے تو صرف یہی ایک قول نقل کیا ہے۔ چناچہ ابن جریر میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بادشاہ نے عورتوں کو جمع کر کے جب ان سے پوچھا کہ کیا تم نے حضرت یوسف ؑ کو بہلایا پھسلایا تھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حاش اللہ ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔ اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے اقرار کیا کہ واقعی حق تو یہی ہے۔ تو حضرت یوسف ؑ نے فرمایا یہ سب اس لئے تھا کہ میری امانت درای کا یقین ہوجائے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے آپ سے فرمایا وہ دن بھی یاد ہے ؟ کہ آپ نے کچھ ارادہ کرلیا تھا ؟ تب آپ نے فرمایا میں اپنے نفس کی برات تو نہیں کر رہا ؟ بیشک نفس برائیوں کا حکم دیتا ہے۔ الغرض ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ کلام حضرت یوسف ؑ کا ہے۔ لیکن پہلا قول یعنی اس کلام کا عزیز کی موت کا کلام ہونا ہی زیادہ قوی اور زیادہ ظاہر ہے۔ اس لئے کہ اوپر سے انہی کا کلام چلا آ رہا ہے جو بادشاہ کے سامنے سب کی موجودگی میں ہو رہا تھا۔ اس وقت تو حضرت یوسف علی السلام وہاں موجود ہی نہ تھے۔ اس تمام قصے کے کھل جانے کے بعد بادشاہ نے آپ کو بلوایا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنِ الْمَلِكِ لَمَّا رَجَعُوا إِلَيْهِ بِتَعْبِيرِ رُؤْيَاهُ، الَّتِي كَانَ رَآهَا، بِمَا أَعْجَبَهُ وَأَيْنَقَهُ، فَعَرَفَ فَضْلَ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَعِلْمَهُ [وَحُسْنَ اطِّلَاعِهِ عَلَى رُؤْيَاهُ] [[زيادة من ت، أ.]] وَحُسْنَ أَخْلَاقِهِ عَلَى مَنْ بِبَلَدِهِ مِنْ رَعَايَاهُ، فَقَالَ ﴿ائْتُونِي بِهِ﴾ أَيْ: أَخْرِجُوهُ مِنَ السِّجْنِ وَأَحْضَرُوهُ. فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ بِذَلِكَ امْتَنَعَ مِنَ الْخُرُوجِ حَتَّى يَتَحَقَّقَ الْمَلِكُ وَرَعَيَّتُهُ بَرَاءَةَ سَاحَتِهِ، وَنَزَاهَةَ عِرْضِهِ، مِمَّا نُسِبَ إِلَيْهِ مِنْ جِهَةِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، وَأَنَّ هَذَا السِّجْنَ لَمْ يَكُنْ عَلَى أَمْرٍ يَقْتَضِيهِ، بَلْ كَانَ ظُلْمًا وَعُدْوَانًا، قَالَ: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾
وَقَدْ وَرَدَتِ السَّنَةُ بِمَدْحِهِ عَلَى ذَلِكَ، وَالتَّنْبِيهِ عَلَى فَضْلِهِ وَشَرَفِهِ، وعُلُوّ قَدْرِهِ وَصَبْرِهِ، صَلَوَاتُ الله وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، فَفِي الْمُسْنَدِ وَالصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢٦٠] وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ" [[المسند (٢/٣٢٦) وصحيح البخاري برقم (٤٦٩٤) وصحيح مسلم برقم (١٥١) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ: ﴿فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لو كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ، وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ" [[المسند (٢/٣٤٧) وقال الهيثمي في المجمع (٧/٤٠) : "وفيه محمد بن عمرو، وهو حسن الحديث".]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَة، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَقَدْ عَجِبْتُ مِنْ يُوسُفَ وَصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، حِينَ سُئل عَنِ الْبَقَرَاتِ العِجاف والسِّمان، وَلَوْ كُنْتُ مَكَانَهُ مَا أَجَبْتُهُمْ حَتَّى أَشْتَرِطَ أَنْ يُخْرِجُونِي. وَلَقَدْ عَجِبْتُ مِنْ يُوسُفَ وَصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، حِينَ أَتَاهُ الرَّسُولُ، ولو كنت مكانه لبادرتهم الباب، َ وَلَكِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ لَهُ الْعُذْرُ". هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨١، ٢٨٢) وقد وصله إسحاق بن راهويه في مسنده ومن طريقه الطبراني في المعجم الكبير (١١/٢٤٩) من طريق إبراهيم بن يزيد الخوزي عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابن عباس مرفوعا بنحوه. وفيه إبراهيم بن يزيد وهو متروك.]]
* *
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ﴾ إِخْبَارٌ عَنِ الْمَلِكِ حِينَ جَمَعَ النِّسْوَةَ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ عِنْدَ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ مُخَاطِبًا لَهُنَّ كُلَّهُنَّ -وَهُوَ يُرِيدُ امْرَأَةَ وَزِيرِهِ، وَهُوَ الْعَزِيزُ -: ﴿مَا خَطْبُكُنَّ﴾ أَيْ: شَأْنُكُنَّ وَخَبَرُكُنَّ ﴿إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ﴾ يَعْنِي: يَوْمَ الضِّيَافَةِ؟ ﴿قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ﴾ أَيْ: قَالَتِ النِّسْوَةُ جَوَابًا لِلْمَلِكِ: حَاشَ لِلَّهِ أَنْ يَكُونَ يُوسُفَ مُتَّهَمَا، وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ. فَعِنْدَ ذَلِكَ ﴿قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ﴾
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ: تَقُولُ الْآنَ: تَبَيَّنَ الْحَقُّ وَظَهَرَ وَبَرَزَ.
﴿أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴾ أَيْ: فِي قَوْلِهِ: ﴿هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي﴾ ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ﴾ تَقُولُ: إِنَّمَا اعْتَرَفْتُ بِهَذَا عَلَى نَفْسِي، ذَلِكَ لِيَعْلَمَ زَوْجِي أَنْ لَمْ أَخُنْهُ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ، وَلَا وَقَعَ الْمَحْذُورُ الْأَكْبَرُ، وَإِنَّمَا رَاوَدْتُ هَذَا الشَّابَّ مُرَاوَدَةً، فَامْتَنَعَ؛ فَلِهَذَا اعترفتُ لِيَعْلَمَ أَنِّي بَرِيئَةٌ، ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي﴾ تَقُولُ الْمَرْأَةُ: وَلَسْتُ أُبَرِّئُ نَفْسِي، فَإِنَّ النَّفْسَ تَتَحَدَّثُ [[في ت، أ: "تحدث".]] وَتَتَمَنَّى؛ وَلِهَذَا رَاوَدَتْهُ لِأَنَّهَا أَمَارَةٌ بِالسُّوءِ، ﴿إِلا مَا [[في ت أ: "عن" وهو خطأ.]] رَحِمَ رَبِّي﴾ أَيْ: إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، ﴿إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [[في ت: "لغفور" وهو خطأ.]] .
وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الْأَشْهَرُ وَالْأَلْيَقُ وَالْأَنْسَبُ بِسِيَاقِ الْقِصَّةِ وَمَعَانِي الْكَلَامِ. وَقَدْ حَكَاهُ الْمَاوَرْدِيُّ فِي تَفْسِيرِهِ، وَانْتَدَبَ لِنَصْرِهِ الْإِمَامُ الْعَلَّامَةُ أَبُو الْعَبَّاسِ ابْنُ تَيميَّة، رَحِمَهُ اللَّهُ، فَأَفْرَدَهُ بِتَصْنِيفٍ عَلَى حِدَةٍ [[انظر: مجموع الفتاوى لابن تيمية (١٠/٢٩٨) .]]
وَقَدْ قِيلَ: إِنَّ ذَلِكَ مِنْ كَلَامِ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، مِنْ قَوْلِهِ: ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ﴾ فِي زَوْجَتِهِ ﴿بِالْغَيْبِ﴾ الْآيَتَيْنِ أَيْ: إِنَّمَا رَدَدْتُ الرَّسُولَ لِيَعْلَمَ الْمَلِكُ بَرَاءَتِي وَلِيَعْلَمَ الْعَزِيزُ ﴿أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ﴾ فِي زَوْجَتِهِ ﴿بِالْغَيْبِ﴾ ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأمَّارَةٌ بِالسُّوءِ﴾ [الْآيَةَ] [[زيادة من ت، أ.]] وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الَّذِي لَمَّ يَحْكِ ابْنُ جَرِيرٍ وَلَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ سِوَاهُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب، حَدَّثَنَا وَكِيع، عَنْ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاك، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا جَمَعَ الْمَلِكُ النِّسْوَةَ فَسَأَلَهُنَّ: هَلْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ؟ ﴿قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴾ قَالَ يُوسُفُ ﴿ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ [وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ] ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] قَالَ: فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: وَلَا يَوْمَ هَمَمْتَ بِمَا هَمَمْتَ بِهِ. فَقَالَ: ﴿وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأمَّارَةٌ بِالسُّوءِ﴾ [[تفسير الطبري (١٦/١٤٣) .]]
وَهَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر، وَعِكْرِمَةُ، وَابْنُ أَبِي الهُذَيل، وَالضَّحَّاكُ، وَالْحَسَنُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدي. وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَقْوَى وَأُظْهِرُ؛ لِأَنَّ سِيَاقَ الْكَلَامِ كُلِّهِ مِنْ كَلَامِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ بِحَضْرَةِ الْمَلِكِ، وَلَمْ يَكُنْ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عِنْدَهُمْ، بَلْ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْضَرَهُ الْمَلِكُ.
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌۭ
And the king said, "Bring him to me; I will appoint him exclusively for myself." And when he spoke to him, he said, "Indeed, you are today established [in position] and trusted."
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
پادشاه گفت: «او [= یوسف] را نزد من آورید، تا وی را مخصوص خود گردانم!» هنگامی که (یوسف نزد وی آمد و) با او صحبت کرد، (پادشاه به عقل و درایت او پی برد؛ و) گفت: «تو امروز نزد ما جایگاهی والا داری، و مورد اعتماد هستی!»
Tafsir Ibn Kathir
And the king said: "Bring him to me that I may attach him to my person." Then, when he spoke to him, he said: "Verily, this day, you are with us high in rank and fully trusted. (54) Yusuf said: "Set me over the storehouses of the land; I will indeed guard them with full knowledge. (55)
Yusuf's Rank with the King of Egypt
Allah states that when he became aware of Yusuf's innocence and his innocense of what he was accused of, the king said,
ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي
(Bring him to me that I may attach him to my person.), 'that I may make him among my close aids and associates,'
فَلَمَّا كَلَّمَهُ
(Then, when he spoke to him), when the king spoke to Yusuf and further recognized his virtues, great ability, brilliance, good conduct and perfect mannerism, he said to him,
إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ
(Verily, this day, you are with us high in rank and fully trusted.) The king said to Yusuf, 'You have assumed an exalted status with us and are indeed fully trusted.' Yusuf, peace be upon him said,
اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ
(Set me over the storehouses of the land; I will indeed guard them with full knowledge.) Yusuf praised himself, for this is allowed when one's abilities are unknown and there is a need to do so. He said that he is,
حَفِيظٌ
(Hafiz), an honest guard,
عَلِيمٌ
('Alim), having knowledge and wisdom about the job he is to be entrusted with. Prophet Yusuf asked the king to appoint him as minister of finance for the land, responsible for the harvest storehouses, in which they would collect produce for the years of drought which he told them will come. He wanted to be the guard, so that he could dispense the harvest in the wisest, best and most beneficial way. The king accepted Yusuf's offer, for he was eager to draw Yusuf close to him and to honor him. So Allah said,
Tafsir Ibn Kathir
جب بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کرلوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ کی صورت دیکھی۔ آپ کی باتیں سنیں، آپ کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہوگیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ نے ایک خدمت اپنے لئے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر مجھے مقرر کیا جائے تاکہ میں محافظت کروں نیز اپنے علم کے مطابق عمل کرسکوں تاکہ رعایا کو قحط سالی کی مصیبت کے وقت قدرے عافیت مل سکے۔ بادشاہ کے دل پر تو آپ کی امانت داری، سچائی، سلیقہ مندی اور کامل علم کا سکہ بیٹھ چکا تھا اسی وقت اس نے اس درخواست کو منظور کرلیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنِ الْمَلِكِ حِينَ تَحَقَقَ بَرَاءَةَ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَنَزَاهَةَ عرْضه مِمَّا نُسِبَ إِلَيْهِ، قَالَ: ﴿ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي﴾ أَيْ: أَجْعَلُهُ مِنْ خَاصَّتِي وَأَهْلِ مَشُورَتِي ﴿فَلَمَّا كَلَّمَهُ﴾ أَيْ: خَاطَبَهُ الْمَلِكُ وَعَرَفَهُ، وَرَأَى فَضْلَهُ وَبَرَاعَتَهُ، وَعَلِمَ مَا هُوَ عَلَيْهِ مِنْ خَلْق وخُلُق وَكَمَالٍ قَالَ لَهُ الْمَلِكُ: ﴿إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ﴾ أَيْ: إِنَّكَ عِنْدَنَا قَدْ بَقِيتَ ذَا مَكَانَةٍ وَأَمَانَةٍ، فَقَالَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الأرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ﴾ مَدَحَ نَفْسَهُ، وَيَجُوزُ لِلرَّجُلِ ذَلِكَ إِذَا جُهِل أَمْرُهُ، لِلْحَاجَةِ. وَذَكَرَ أَنَّهُ ﴿حَفِيظٌ﴾ أَيْ: خَازِنٌ أَمِينٌ، ﴿عَلِيمٌ﴾ ذُو عِلْمٍ وبصرَ بِمَا يَتَوَلَّاهُ [[في ت: "نتولاه".]] .
قَالَ شَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ: حَفِيظٌ لِمَا اسْتَوْدَعَتْنِي، عَلِيمٌ بِسِني الجَدْب. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَسَأَلَ الْعَمَلَ لِعِلْمِهِ بِقُدْرَتِهِ عَلَيْهِ، وَلِمَا فِي ذَلِكَ مِنَ الْمَصَالِحِ لِلنَّاسِ [[في ت: "مصالح الناس".]] وَإِنَّمَا سَأَلَ أَنْ يُجْعَل عَلَى خَزَائِنِ [[في ت: "خزان"]] الْأَرْضِ، وَهِيَ الْأَهْرَامُ الَّتِي [[في ت: "الذي".]] يُجْمَعُ فِيهَا الْغَلَّاتُ، لِمَا يَسْتَقْبِلُونَهُ مِنَ السِّنِينَ الَّتِي أَخْبَرَهُمْ بِشَأْنِهَا، لِيَتَصَرَّفَ لَهُمْ عَلَى الْوَجْهِ الْأَحْوَطِ وَالْأَصْلَحِ وَالْأَرْشَدِ، فَأُجِيبَ إِلَى ذَلِكَ رَغْبَةً فِيهِ، وتكرِمَةً لَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى:
قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌۭ
[Joseph] said, "Appoint me over the storehouses of the land. Indeed, I will be a knowing guardian."
(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں
(یوسف) گفت: «مرا سرپرست خزائن سرزمین (مصر) قرار ده، که نگهدارنده و آگاهم!»
Tafsir Ibn Kathir
And the king said: "Bring him to me that I may attach him to my person." Then, when he spoke to him, he said: "Verily, this day, you are with us high in rank and fully trusted. (54) Yusuf said: "Set me over the storehouses of the land; I will indeed guard them with full knowledge. (55)
Yusuf's Rank with the King of Egypt
Allah states that when he became aware of Yusuf's innocence and his innocense of what he was accused of, the king said,
ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي
(Bring him to me that I may attach him to my person.), 'that I may make him among my close aids and associates,'
فَلَمَّا كَلَّمَهُ
(Then, when he spoke to him), when the king spoke to Yusuf and further recognized his virtues, great ability, brilliance, good conduct and perfect mannerism, he said to him,
إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ
(Verily, this day, you are with us high in rank and fully trusted.) The king said to Yusuf, 'You have assumed an exalted status with us and are indeed fully trusted.' Yusuf, peace be upon him said,
اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ
(Set me over the storehouses of the land; I will indeed guard them with full knowledge.) Yusuf praised himself, for this is allowed when one's abilities are unknown and there is a need to do so. He said that he is,
حَفِيظٌ
(Hafiz), an honest guard,
عَلِيمٌ
('Alim), having knowledge and wisdom about the job he is to be entrusted with. Prophet Yusuf asked the king to appoint him as minister of finance for the land, responsible for the harvest storehouses, in which they would collect produce for the years of drought which he told them will come. He wanted to be the guard, so that he could dispense the harvest in the wisest, best and most beneficial way. The king accepted Yusuf's offer, for he was eager to draw Yusuf close to him and to honor him. So Allah said,
Tafsir Ibn Kathir
جب بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کرلوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ کی صورت دیکھی۔ آپ کی باتیں سنیں، آپ کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہوگیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ نے ایک خدمت اپنے لئے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر مجھے مقرر کیا جائے تاکہ میں محافظت کروں نیز اپنے علم کے مطابق عمل کرسکوں تاکہ رعایا کو قحط سالی کی مصیبت کے وقت قدرے عافیت مل سکے۔ بادشاہ کے دل پر تو آپ کی امانت داری، سچائی، سلیقہ مندی اور کامل علم کا سکہ بیٹھ چکا تھا اسی وقت اس نے اس درخواست کو منظور کرلیا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنِ الْمَلِكِ حِينَ تَحَقَقَ بَرَاءَةَ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَنَزَاهَةَ عرْضه مِمَّا نُسِبَ إِلَيْهِ، قَالَ: ﴿ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي﴾ أَيْ: أَجْعَلُهُ مِنْ خَاصَّتِي وَأَهْلِ مَشُورَتِي ﴿فَلَمَّا كَلَّمَهُ﴾ أَيْ: خَاطَبَهُ الْمَلِكُ وَعَرَفَهُ، وَرَأَى فَضْلَهُ وَبَرَاعَتَهُ، وَعَلِمَ مَا هُوَ عَلَيْهِ مِنْ خَلْق وخُلُق وَكَمَالٍ قَالَ لَهُ الْمَلِكُ: ﴿إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ﴾ أَيْ: إِنَّكَ عِنْدَنَا قَدْ بَقِيتَ ذَا مَكَانَةٍ وَأَمَانَةٍ، فَقَالَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الأرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ﴾ مَدَحَ نَفْسَهُ، وَيَجُوزُ لِلرَّجُلِ ذَلِكَ إِذَا جُهِل أَمْرُهُ، لِلْحَاجَةِ. وَذَكَرَ أَنَّهُ ﴿حَفِيظٌ﴾ أَيْ: خَازِنٌ أَمِينٌ، ﴿عَلِيمٌ﴾ ذُو عِلْمٍ وبصرَ بِمَا يَتَوَلَّاهُ [[في ت: "نتولاه".]] .
قَالَ شَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ: حَفِيظٌ لِمَا اسْتَوْدَعَتْنِي، عَلِيمٌ بِسِني الجَدْب. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.
وَسَأَلَ الْعَمَلَ لِعِلْمِهِ بِقُدْرَتِهِ عَلَيْهِ، وَلِمَا فِي ذَلِكَ مِنَ الْمَصَالِحِ لِلنَّاسِ [[في ت: "مصالح الناس".]] وَإِنَّمَا سَأَلَ أَنْ يُجْعَل عَلَى خَزَائِنِ [[في ت: "خزان"]] الْأَرْضِ، وَهِيَ الْأَهْرَامُ الَّتِي [[في ت: "الذي".]] يُجْمَعُ فِيهَا الْغَلَّاتُ، لِمَا يَسْتَقْبِلُونَهُ مِنَ السِّنِينَ الَّتِي أَخْبَرَهُمْ بِشَأْنِهَا، لِيَتَصَرَّفَ لَهُمْ عَلَى الْوَجْهِ الْأَحْوَطِ وَالْأَصْلَحِ وَالْأَرْشَدِ، فَأُجِيبَ إِلَى ذَلِكَ رَغْبَةً فِيهِ، وتكرِمَةً لَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى:
وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ
And thus We established Joseph in the land to settle therein wherever he willed. We touch with Our mercy whom We will, and We do not allow to be lost the reward of those who do good.
اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے
و اینگونه ما به یوسف در سرزمین (مصر) قدرت دادیم، که هر جا میخواست در آن منزل میگزید (و تصرّف میکرد)! ما رحمت خود را به هر کس بخواهیم (و شایسته بدانیم) میبخشیم؛ و پاداش نیکوکاران را ضایع نمیکنیم!
Tafsir Ibn Kathir
Thus did We give full authority to Yusuf in the land, to take possession therein, when or where he likes. We bestow of Our mercy on whom We will, and We make not to be lost the reward of the good doers (56)And verily, the reward of the Hereafter is better for those who believed and had Taqwa (57)
Yusuf's Reign in Egypt
Allah said next,
وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ
(Thus did We give full authority to Yusuf in the land), in Egypt,
يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ
(to take possession therein, when or where he likes.) As-Suddi and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that this part of the Ayah means, "To do whatever he wants therein." Ibn Jarir at Tabari said that it means, "He used to move about freely in the land after being imprisoned, suffering from hardship and the disgrace of slavery." Allah said next,
نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَاءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
(We bestow of Our mercy on whom We will, and We make not to be lost the reward of the good doers.) Allah says here, We did not let the patience of Yusuf, from the harm his brothers exerted on him and being imprisoned because of the wife of the 'Aziz, to be lost. Instead, Allah the Exalted and Most Honored rewarded him with His aid and victory,
وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ
(And We make not to be lost the reward of the good doers. And verily, the reward of the Hereafter is better for those who believed and had Taqwa.) Allah states that what He has prepared for His Prophet Yusuf, peace be upon him, in the Hereafter is much greater, substantial and honored than the authority He gave him in this life. Allah said about His Prophet Sulayman (Solomon), peace be upon him,
هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ - وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
("This is Our gift, so spend or withhold, no account will be asked of you." And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (Paradise).)[38:39-40] Yusuf, peace be upon him, was appointed minister of finance by Ar-Rayyan bin Al-Walid, king of Egypt at the time, instead of the 'Aziz who bought him and the husband of she who tried to seduce him. The king of Egypt embraced Islam at the hands of Yusuf, peace be upon him, according to Mujahid.
Tafsir Ibn Kathir
زمین مصر میں یوں حضرت یوسف ؑ کی ترقی ہوئی۔ اب ان کے اختیار میں تھا کہ جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ جہاں چاہیں مکانات تعمیر کریں۔ یا اس تنہائی اور قید کو دیکھئے یا اب اس اختیار اور آزادی کو دیکھئے۔ سچ ہے رب جسے چاہے اپنی رحمت کا جتنا حصہ چاہے دے۔ صابروں کا پھل لا کر ہی رہتا ہے۔ بھائیوں کا دکھ سہا، اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لئے عزیز مصر کی عورت سے بگاڑ لی اور قید خانے کی مصیبتیں برداشت کیں۔ پس رحمت الہی کا ہاتھ بڑھا اور صبر کا اجر ملا۔ نیک کاروں کی نیکیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ پھر ایسے باایمان تقوی والے آخرت میں بڑے درجے اور اعلی ثواب پاتے ہیں۔ یہاں یہ ملا، وہاں کے ملنے کی تو کچھ نہ پوچھئے۔ حضرت سلیمان ؑ کے بارے میں بھی قرآن میں آیا ہے کہ یہ دنیا کی دولت و سلطنت ہم نے تجھے اپنے احسان سے دی ہے اور قیامت کے دن بھی تیرے لئے ہمارے ہاں اچھی مہمانی ہے۔ الغرض شاہ مصر ریان بن ولید نے سلطنت مصر کی وزارت آپ کو دی، پہلے اسی عہدے پر اس عورت کا خاوند تھا۔ جس نے آپ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا، اسی نے آپ کو خرید لیا تھا۔ آخر شاہ مصر آپ کے ہاتھ پر ایمان لایا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ آپ کے خریدنے والے کا نام اطغر تھا۔ یہ انہی دنوں میں انتقال کر گیا۔ اس کے بعد باشاہ نے اس کی زوجہ راعیل سے حضرت یوسف ؑ کا نکاح کردیا۔ جب آپ ان سے ملے تو فرمایا کہو کیا یہ تمہارے اس ارادے سے بہتر نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجیئے آپ کو معلوم ہے کہ میں حسن و خوبصورتی والی دھن دولت والی عورت تھی میرے خاوند مردمی سے محروم تھے وہ مجھ سے مل ہی نہیں سکتے تھے۔ ادھر آپ کو قدرت نے جس فیاضی سے دولت حسن کے ساتھ مالا مال کیا ہے وہ بھی ظاہر ہے۔ پس مجھے اب ملامت نہ کیجئے۔ کہتے ہیں کہ واقعی حضرت یوسف ؑ نے انہیں کنواری پایا۔ پھر ان کے بطن سے آپ کو دو لڑکے ہوئے افراثیم اور میضا۔ افراثیم کے ہاں نون پیدا ہوئے جو حضرت یوشع کے والد ہیں اور رحمت نامی صاحبزادی ہوئی جو حضرت ایوب ؑ کی بیوی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جو حضرت یوسف ؑ کی بیوی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جب حضرت یوسف ؑ کی سواری نکلی تو بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ الحمد اللہ اللہ کی شان کے قربان جس نے اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے غلاموں کو بادشاہی پر پہنچایا اور اپنی نافرمانی کی وجہ سے بادشاہوں کو غلامی پر لا اتارا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الأرْضِ﴾ أَيْ: أَرْضِ مِصْرَ، ﴿يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ﴾
قَالَ السُّدِّي، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: يَتَصَرَّفُ فِيهَا كَيْفَ يَشَاءُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: يَتَّخِذُ مِنْهَا مَنْزِلًا حَيْثُ يَشَاءُ [[في ت: "شاء".]] بَعْدَ الضِّيقِ وَالْحَبْسِ وَالْإِسَارِ. ﴿نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ وَلا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾ أَيْ: وَمَا أَضَعْنَا صَبْرَ يُوسُفَ عَلَى أَذَى إِخْوَتِهِ، وَصَبْرَهُ عَلَى الْحَبْسِ بِسَبَبِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ؛ فَلِهَذَا أَعْقَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّلَامَةَ وَالنَّصْرَ وَالتَّأْيِيدَ، ﴿وَلا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ وَلأجْرُ الآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾ يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ مَا ادَّخَرَهُ [[في ت: "ذخره".]] اللَّهُ لِنَبِيِّهِ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ أَعْظَمُ وَأَكْثَرُ [[في ت: "وأكبر".]] وَأَجَلُّ، مِمَّا خَوَّلَهُ مِنَ التَّصَرُّفِ وَالنُّفُوذِ فِي الدُّنْيَا كَمَا قَالَ تَعَالَى فِي حَقِّ سُلَيْمَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ [ص: ٣٩، ٤٠] .
وَالْغَرَضُ أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلَّاهُ مَلك مِصْرَ الريانُ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَزَارَةَ فِي بِلَادِ مِصْرَ، مَكَانَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ زَوْجِ الَّتِي رَاوَدَتْهُ، وَأَسْلَمَ الْمَلِكُ عَلَى يَدَيْ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
قَالَهُ مُجَاهِدٌ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ لَمَّا قَالَ يُوسُفُ لِلْمَلِكِ: ﴿اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الأرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ﴾ قَالَ الْمَلِكُ: قَدْ فَعَلْتُ. فَوَلَّاهُ فِيمَا ذَكَرُوا عَمَلَ إِطْفِيرَ [[في ت: "إظفير".]] وَعَزَلَ إِطْفِيرَ [[في ت: "إظفير".]] عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الأرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ وَلا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾ فَذُكِرَ لِي -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّ إِطْفِيرَ [[في ت: "إظفير".]] هَلك فِي تِلْكَ اللَّيَالِي، وَأَنَّ الْمَلِكَ الرَّيَّانَ بْنَ الْوَلِيدِ زوَّج يُوسُفَ امْرَأَةَ إِطْفِيرَ [[في ت: "إظفير".]] رَاعِيلَ، وَأَنَّهَا حِينَ دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَالَ: أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِمَّا كُنْتِ تُرِيدِينَ؟ قَالَ: فَيَزْعُمُونَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَيُّهَا الصِّدِّيقُ، لَا تَلُمْنِي، فَإِنِّي كُنْتُ امْرَأَةً كَمَا تَرَى حَسْنَاءَ جَمِيلَةً، نَاعِمَةً فِي مُلْكٍ وَدُنْيَا، وَكَانَ صَاحِبِي لَا يَأْتِي النِّسَاءَ، وَكُنْتَ كَمَا جَعَلَكَ اللَّهُ فِي حُسْنِكَ وَهَيْئَتِكَ [[في ت: "وهيبتك".]] عَلَى مَا رَأَيْتَ، فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ وَجَدَهَا عَذْرَاءَ، فَأَصَابَهَا فَوَلَدَتْ لَهُ رَجُلَيْنِ أَفْرَائِيمَ بن يوسف، وميشا بن يُوسُفَ [[وهذا مما لم يرد به الكتاب ولا السنة، فمثله لا يعتمد فيه على رواية ابن إسحاق رحمه الله.]] وَوُلِدَ لِأَفْرَائِيمَ نُونٌ، وَالِدُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ، وَرَحْمَةَ امْرَأَةِ أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
وَقَالَ الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ: وَقَفَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ، حَتَّى مَرّ يُوسُفُ، فَقَالَتْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْعَبِيدَ مُلُوكًا بِطَاعَتِهِ، وَالْمُلُوكَ عَبِيدًا بِمَعْصِيَتِهِ.
وَلَأَجْرُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ
And the reward of the Hereafter is better for those who believed and were fearing Allah.
اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے
(امّا) پاداش آخرت، برای کسانی که ایمان آورده و پرهیزگاری داشتند، بهتر است!
Tafsir Ibn Kathir
Thus did We give full authority to Yusuf in the land, to take possession therein, when or where he likes. We bestow of Our mercy on whom We will, and We make not to be lost the reward of the good doers (56)And verily, the reward of the Hereafter is better for those who believed and had Taqwa (57)
Yusuf's Reign in Egypt
Allah said next,
وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ
(Thus did We give full authority to Yusuf in the land), in Egypt,
يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ
(to take possession therein, when or where he likes.) As-Suddi and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that this part of the Ayah means, "To do whatever he wants therein." Ibn Jarir at Tabari said that it means, "He used to move about freely in the land after being imprisoned, suffering from hardship and the disgrace of slavery." Allah said next,
نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَاءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
(We bestow of Our mercy on whom We will, and We make not to be lost the reward of the good doers.) Allah says here, We did not let the patience of Yusuf, from the harm his brothers exerted on him and being imprisoned because of the wife of the 'Aziz, to be lost. Instead, Allah the Exalted and Most Honored rewarded him with His aid and victory,
وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ
(And We make not to be lost the reward of the good doers. And verily, the reward of the Hereafter is better for those who believed and had Taqwa.) Allah states that what He has prepared for His Prophet Yusuf, peace be upon him, in the Hereafter is much greater, substantial and honored than the authority He gave him in this life. Allah said about His Prophet Sulayman (Solomon), peace be upon him,
هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ - وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ
("This is Our gift, so spend or withhold, no account will be asked of you." And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (Paradise).)[38:39-40] Yusuf, peace be upon him, was appointed minister of finance by Ar-Rayyan bin Al-Walid, king of Egypt at the time, instead of the 'Aziz who bought him and the husband of she who tried to seduce him. The king of Egypt embraced Islam at the hands of Yusuf, peace be upon him, according to Mujahid.
Tafsir Ibn Kathir
زمین مصر میں یوں حضرت یوسف ؑ کی ترقی ہوئی۔ اب ان کے اختیار میں تھا کہ جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ جہاں چاہیں مکانات تعمیر کریں۔ یا اس تنہائی اور قید کو دیکھئے یا اب اس اختیار اور آزادی کو دیکھئے۔ سچ ہے رب جسے چاہے اپنی رحمت کا جتنا حصہ چاہے دے۔ صابروں کا پھل لا کر ہی رہتا ہے۔ بھائیوں کا دکھ سہا، اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لئے عزیز مصر کی عورت سے بگاڑ لی اور قید خانے کی مصیبتیں برداشت کیں۔ پس رحمت الہی کا ہاتھ بڑھا اور صبر کا اجر ملا۔ نیک کاروں کی نیکیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ پھر ایسے باایمان تقوی والے آخرت میں بڑے درجے اور اعلی ثواب پاتے ہیں۔ یہاں یہ ملا، وہاں کے ملنے کی تو کچھ نہ پوچھئے۔ حضرت سلیمان ؑ کے بارے میں بھی قرآن میں آیا ہے کہ یہ دنیا کی دولت و سلطنت ہم نے تجھے اپنے احسان سے دی ہے اور قیامت کے دن بھی تیرے لئے ہمارے ہاں اچھی مہمانی ہے۔ الغرض شاہ مصر ریان بن ولید نے سلطنت مصر کی وزارت آپ کو دی، پہلے اسی عہدے پر اس عورت کا خاوند تھا۔ جس نے آپ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا، اسی نے آپ کو خرید لیا تھا۔ آخر شاہ مصر آپ کے ہاتھ پر ایمان لایا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ آپ کے خریدنے والے کا نام اطغر تھا۔ یہ انہی دنوں میں انتقال کر گیا۔ اس کے بعد باشاہ نے اس کی زوجہ راعیل سے حضرت یوسف ؑ کا نکاح کردیا۔ جب آپ ان سے ملے تو فرمایا کہو کیا یہ تمہارے اس ارادے سے بہتر نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجیئے آپ کو معلوم ہے کہ میں حسن و خوبصورتی والی دھن دولت والی عورت تھی میرے خاوند مردمی سے محروم تھے وہ مجھ سے مل ہی نہیں سکتے تھے۔ ادھر آپ کو قدرت نے جس فیاضی سے دولت حسن کے ساتھ مالا مال کیا ہے وہ بھی ظاہر ہے۔ پس مجھے اب ملامت نہ کیجئے۔ کہتے ہیں کہ واقعی حضرت یوسف ؑ نے انہیں کنواری پایا۔ پھر ان کے بطن سے آپ کو دو لڑکے ہوئے افراثیم اور میضا۔ افراثیم کے ہاں نون پیدا ہوئے جو حضرت یوشع کے والد ہیں اور رحمت نامی صاحبزادی ہوئی جو حضرت ایوب ؑ کی بیوی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جو حضرت یوسف ؑ کی بیوی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جب حضرت یوسف ؑ کی سواری نکلی تو بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ الحمد اللہ اللہ کی شان کے قربان جس نے اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے غلاموں کو بادشاہی پر پہنچایا اور اپنی نافرمانی کی وجہ سے بادشاہوں کو غلامی پر لا اتارا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: ﴿وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الأرْضِ﴾ أَيْ: أَرْضِ مِصْرَ، ﴿يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ﴾
قَالَ السُّدِّي، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: يَتَصَرَّفُ فِيهَا كَيْفَ يَشَاءُ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: يَتَّخِذُ مِنْهَا مَنْزِلًا حَيْثُ يَشَاءُ [[في ت: "شاء".]] بَعْدَ الضِّيقِ وَالْحَبْسِ وَالْإِسَارِ. ﴿نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ وَلا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾ أَيْ: وَمَا أَضَعْنَا صَبْرَ يُوسُفَ عَلَى أَذَى إِخْوَتِهِ، وَصَبْرَهُ عَلَى الْحَبْسِ بِسَبَبِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ؛ فَلِهَذَا أَعْقَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّلَامَةَ وَالنَّصْرَ وَالتَّأْيِيدَ، ﴿وَلا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ وَلأجْرُ الآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾ يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ مَا ادَّخَرَهُ [[في ت: "ذخره".]] اللَّهُ لِنَبِيِّهِ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ أَعْظَمُ وَأَكْثَرُ [[في ت: "وأكبر".]] وَأَجَلُّ، مِمَّا خَوَّلَهُ مِنَ التَّصَرُّفِ وَالنُّفُوذِ فِي الدُّنْيَا كَمَا قَالَ تَعَالَى فِي حَقِّ سُلَيْمَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ﴾ [ص: ٣٩، ٤٠] .
وَالْغَرَضُ أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلَّاهُ مَلك مِصْرَ الريانُ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَزَارَةَ فِي بِلَادِ مِصْرَ، مَكَانَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ زَوْجِ الَّتِي رَاوَدَتْهُ، وَأَسْلَمَ الْمَلِكُ عَلَى يَدَيْ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
قَالَهُ مُجَاهِدٌ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ لَمَّا قَالَ يُوسُفُ لِلْمَلِكِ: ﴿اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الأرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ﴾ قَالَ الْمَلِكُ: قَدْ فَعَلْتُ. فَوَلَّاهُ فِيمَا ذَكَرُوا عَمَلَ إِطْفِيرَ [[في ت: "إظفير".]] وَعَزَلَ إِطْفِيرَ [[في ت: "إظفير".]] عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الأرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ وَلا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾ فَذُكِرَ لِي -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّ إِطْفِيرَ [[في ت: "إظفير".]] هَلك فِي تِلْكَ اللَّيَالِي، وَأَنَّ الْمَلِكَ الرَّيَّانَ بْنَ الْوَلِيدِ زوَّج يُوسُفَ امْرَأَةَ إِطْفِيرَ [[في ت: "إظفير".]] رَاعِيلَ، وَأَنَّهَا حِينَ دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَالَ: أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِمَّا كُنْتِ تُرِيدِينَ؟ قَالَ: فَيَزْعُمُونَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَيُّهَا الصِّدِّيقُ، لَا تَلُمْنِي، فَإِنِّي كُنْتُ امْرَأَةً كَمَا تَرَى حَسْنَاءَ جَمِيلَةً، نَاعِمَةً فِي مُلْكٍ وَدُنْيَا، وَكَانَ صَاحِبِي لَا يَأْتِي النِّسَاءَ، وَكُنْتَ كَمَا جَعَلَكَ اللَّهُ فِي حُسْنِكَ وَهَيْئَتِكَ [[في ت: "وهيبتك".]] عَلَى مَا رَأَيْتَ، فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ وَجَدَهَا عَذْرَاءَ، فَأَصَابَهَا فَوَلَدَتْ لَهُ رَجُلَيْنِ أَفْرَائِيمَ بن يوسف، وميشا بن يُوسُفَ [[وهذا مما لم يرد به الكتاب ولا السنة، فمثله لا يعتمد فيه على رواية ابن إسحاق رحمه الله.]] وَوُلِدَ لِأَفْرَائِيمَ نُونٌ، وَالِدُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ، وَرَحْمَةَ امْرَأَةِ أَيُّوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
وَقَالَ الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ: وَقَفَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ، حَتَّى مَرّ يُوسُفُ، فَقَالَتْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْعَبِيدَ مُلُوكًا بِطَاعَتِهِ، وَالْمُلُوكَ عَبِيدًا بِمَعْصِيَتِهِ.
وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ
And the brothers of Joseph came [seeking food], and they entered upon him; and he recognized them, but he was to them unknown.
اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے
(سرزمین کنعان را قحطی فرا گرفت؛) برادران یوسف (در پی موادّ غذایی به مصر) آمدند؛ و بر او وارد شدند. او آنان را شناخت؛ ولی آنها او را نشناختند.
Tafsir Ibn Kathir
And Yusuf's brethren came and they entered unto him, and he recognized them, but they recognized him not (58)And when he furnished them with their provisions, he said: "Bring me a brother of yours from your father. See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts? (59)"But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me, nor shall you come near me. (60)They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it. (61)And [Yusuf] told his servants to put their money into their bags, so that they might know it when they go back to their people; in order that they might come again (62)
Yusuf's Brothers travel to Egypt
As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others said that the reason why Yusuf's brothers went to Egypt, is that after Yusuf became minister of Egypt and the seven years of abundance passed, then came the seven years of drought that struck all areas of Egypt. The drought also reached the area of Kana'an (Canaan), where Prophet Ya'qub, peace be upon him, and his children resided. Prophet Yusuf efficiently guarded the people's harvest and collected it, and what he collected became a great fortune for the people. This also permitted Yusuf to give gifts to the people who sought his aid from various areas who came to buy food and provisions for their families. Yusuf would not give a family man more than whatever a camel could carry, as annual provisions for them. Yusuf himself did not fill his stomach from this food, nor did the king and his aids eat except one meal a day. By doing so, the people could sustain themselves with what they had for the remainder of the seven years. Indeed, Yusuf was a mercy from Allah sent to the people of Egypt.
Yusuf's brothers were among those who came to Egypt to buy food supplies, by the order of their father. They knew that the 'Aziz of Egypt was selling food to people who need it for a low price, so they took some merchandise from their land with them to exchange it for food. They were ten, because Ya'qub peace be upon him kept his son and Yusuf's brother Binyamin with him. Binyamin was the dearest of his sons to him after Yusuf.
When Prophet Yusuf's brothers entered on him in his court and the center of his authority, he knew them the minute he saw them. However, they did not recognize him because they got rid of him when he was still young, and sold him to a caravan of travelers while unaware of their destination. They could not have imagined that Yusuf would end up being a minister, and this is why they did not recognize him, while he did recognize them. As-Suddi said that Yusuf started talking to his brothers and asked them, "What brought you to my land?" They said, "O, 'Aziz, we came to buy provisions." He asked them, "You might be spies." They said, "Allah forbids." He asked them, "Where are you from?" They said, "From the area of Kana'an, and our father is Allah's Prophet Ya'qub." He asked them, "Does he have other children besides you?" They said, "Yes, we were twelve brothers. Our youngest died in the desert, and he used to be the dearest to his father. His full brother is alive and his father kept him, so that his closeness compensates him for losing our youngest brother [who died]." Yusuf ordered that his brothers be honored and allowed to remain,
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ
(And when he furnished them with their provisions,) according to their needs and gave them what they wanted to buy, he said to them, "Bring me your brother from your father's side whom you mentioned, so that I know that you have told me the truth." He continued,
أَلَا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزِلِينَ
(See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts?) encouraging them to return to him. He then threatened them,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِي
(But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me.) He threatened them that if the next time they come without Binyamin with them, they will not be allowed to buy the food that they need,
وَلَا تَقْرَبُونِ - قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ
("...nor shall you come near me." They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it.") They said, 'We will try our best to bring him with us, so that we spare no effort to prove to you that we are truthful in what we told you about ourselves.' Allah said,
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ
(And [Yusuf] told his servants), or his slaves,
اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ
(to put their money), or the merchandise they brought with them to exchange for food,
فِي رِحَالِهِمْ
(into their bags,), while they were unaware,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might come again.) It was said that Yusuf did this because he feared that his brothers might not have any more merchandise they could bring with them to exchange for food.
Tafsir Ibn Kathir
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب ؑ کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف ؑ نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔ اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔ سدی ؒ تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔
Tafsir Ibn Kathir
ذَكَرَ السُّدي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْمُفَسِّرِينَ: أَنَّ السَّبَبَ الَّذِي أَقْدَمَ إِخْوَةَ يُوسُفَ بِلَادَ مِصْرَ، أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا بَاشَرَ الْوَزَارَةَ بِمِصْرَ، وَمَضَتِ السَّبْعُ السِّنِينَ الْمُخْصِبَةُ، ثُمَّ تَلَتْهَا سنينُ الْجَدْبِ، وَعَمَّ الْقَحْطُ بِلَادَ مِصْرَ بِكَمَالِهَا، وَوَصَلَ إِلَى بِلَادِ كَنْعَانَ، وَهِيَ الَّتِي فِيهَا يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَوْلَادُهُ. وَحِينَئِذٍ احْتَاطَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِلنَّاسِ فِي غَلَّاتِهِمْ، وَجَمَعَهَا أَحْسَنَ [[في ت: "أتم".]] جَمْعٍ، فَحَصَلَ مِنْ ذَلِكَ مَبْلَغٌ عَظِيمٌ، وأهراءَ مُتَعَدِّدَةٌ هَائِلَةٌ، وَوَرَدَ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ سَائِرِ الْأَقَالِيمِ وَالْمُعَامَلَاتِ، يَمْتَارُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَعِيَالِهِمْ، فَكَانَ لَا يُعْطَى الرَّجُلُ أَكْثَرَ مِنْ حَمْلِ بِعِيرٍ فِي السَّنَةِ. وَكَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَا يُشْبِعُ نَفْسَهُ وَلَا يَأْكُلُ هُوَ وَالْمَلِكُ وَجُنُودُهُمَا إِلَّا أَكْلَةً وَاحِدَةً فِي وَسَطِ النَّهَارِ، حَتَّى يَتَكَفَّى النَّاسُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ مُدَّةَ السَّبْعِ سِنِينَ. وَكَانَ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ عَلَى أَهْلِ مِصْرَ.
وَمَا ذَكَرَهُ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ مِنْ أَنَّهُ بَاعَهُمْ فِي السَّنَةِ الْأَوْلَى بِالْأَمْوَالِ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِالْمَتَاعِ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِكَذَا، وَفِي الرَّابِعَةِ بِكَذَا، حَتَّى بَاعَهُمْ بِأَنْفُسِهِمْ وَأَوْلَادِهِمْ بَعْدَمَا تَمَلَّك عَلَيْهِمْ جَمِيعَ مَا يَمْلِكُونَ، ثُمَّ أَعْتَقَهُمْ وَرَدَّ عَلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ كُلَّهَا، اللَّهُ [[في ت: "والله".]] أَعْلَمُ بِصِحَّةِ ذَلِكَ، وَهُوَ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ الَّتِي لَا تُصَدَّقُ وَلَا تَكْذَّبُ.
وَالْغَرَضُ أَنَّهُ كَانَ فِي جُمْلَةِ مِنْ وَرَدَ لِلْمِيرَةِ إخوةُ يُوسُفَ، عَنْ أَمْرِ أَبِيهِمْ لَهُمْ فِي ذَلِكَ، فَإِنَّهُ بَلَغَهُمْ أَنَّ عَزِيزَ مِصْرَ يُعْطِي النَّاسَ الطَّعَامَ بِثَمَنِهِ، فَأَخَذُوا مَعَهُمْ بِضَاعَةً يَعْتَاضُونَ بِهَا طَعَامًا، وَرَكِبُوا عَشَرَةُ نَفَرٍ، وَاحْتَبَسَ يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عِنْدَهُ بِنْيَامِينَ شَقِيقَ يُوسُفَ، عَلَيْهِمَا [[في ت: "عليه".]] السَّلَامُ، وَكَانَ أَحَبَّ وَلَدِهِ إِلَيْهِ بَعْدَ يُوسُفَ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى يُوسُفَ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي أُبَّهَتِهِ وَرِيَاسَتِهِ وَسِيَادَتِهِ، عَرَفَهُمْ حِينَ نَظَرَ إِلَيْهِمْ، ﴿وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَعْرِفُونَهُ؛ لِأَنَّهُمْ فَارَقُوهُ وَهُوَ صَغِيرٌ حَدَثٌ فَبَاعُوهُ [[في ت: "وباعوه".]] لِلسَّيَّارَةِ، وَلَمْ يَدْرُوا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهِ، وَلَا كَانُوا يَسْتَشْعِرُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ أَنْ يَصِيرَ إِلَى مَا صَارَ إِلَيْهِ، فَلِهَذَا لَمْ يَعْرِفُوهُ، وأما هو فعرفهم.
فَذَكَرَ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ: أَنَّهُ شَرَعَ يُخَاطِبُهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ كَالْمُنْكِرِ عَلَيْهِمْ: مَا أَقْدَمُكُمْ بِلَادِي؟ قَالُوا: أَيُّهَا الْعَزِيزُ، إِنَّا قَدِمْنَا لِلْمِيرَةِ. قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ عُيُونٌ؟ قَالُوا: مَعَاذَ اللَّهِ. قَالَ: فَمَنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ بِلَادِ كَنْعَانَ، وَأَبُونَا يَعْقُوبُ نَبِيُّ اللَّهِ. قَالَ: وَلَهُ أَوْلَادٌ غَيْرُكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، كُنَّا اثْنَى عَشَرَ، فَذَهَبَ أَصْغَرُنَا، هَلَكَ فِي البَرِيَّة، وَكَانَ أَحَبَّنَا إِلَى أَبِيهِ، وَبَقِيَ شَقِيقُهُ فَاحْتَبَسَهُ [[في ت: "فاحبسوه".]] أَبُوهُ لِيَتَسَلَّى بِهِ عَنْهُ. فَأَمْرٌ بِإِنْزَالِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ.
﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ﴾ أَيْ: وَفَّاهم كَيْلَهُمْ، وَحَمَّلَ لَهُمْ أَحْمَالَهُمْ قَالَ: ائْتُونِي بِأَخِيكُمْ هَذَا الَّذِي ذَكَرْتُمْ، لِأَعْلَمَ صِدْقَكُمْ فِيمَا ذَكَرْتُمْ، ﴿أَلا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزلِينَ﴾ يُرَغِّبُهُمْ فِي الرُّجُوعِ إِلَيْهِ، ثُمَّ رَهَّبَهم فَقَالَ: ﴿فَإِنْ لَمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِي وَلا تَقْرَبُونِ﴾ أَيْ: إِنْ لَمْ تَقْدَمُوا بِهِ مَعَكُمْ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ، فَلَيْسَ لَكُمْ عِنْدِي مِيرَةٌ، ﴿وَلا تَقْرَبُونِ قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ﴾ أَيْ: سَنَحْرِصُ عَلَى مَجِيئِهِ إِلَيْكَ بِكُلِّ مُمْكِنٍ وَلَا نُبْقِي مَجْهُودًا لِتَعْلَمَ صِدْقَنَا فِيمَا قُلْنَاهُ.
وَذَكَرَ السُّدِّيُّ: أَنَّهُ أَخَذَ مِنْهُمْ رَهَائِنَ حَتَّى يَقْدُمُوا بِهِ مَعَهُمْ. وَفِي هَذَا نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ أَحْسَنَ إِلَيْهِمْ وَرَغَّبَهُمْ كَثِيرًا، وَهَذَا لِحِرْصِهِ [[في ت: "ولهذا بحرصه" وفي أ: "ولهذا يحرضهم".]] عَلَى رُجُوعِهِمْ.
﴿وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ﴾ أَيْ: غِلْمَانِهِ ﴿اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ﴾ وَهِيَ الَّتِي قَدِمُوا بِهَا لِيَمْتَارُوا عِوَضًا عَنْهَا ﴿فِي رِحَالِهِمْ﴾ أَيْ: فِي أَمْتِعَتِهِمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ، ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ بِهَا.
قِيلَ: خَشِيَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَلَّا يَكُونَ عِنْدَهُمْ بِضَاعَةٌ أُخْرَى يَرْجِعُونَ لِلْمِيرَةِ بِهَا. وَقِيلَ: تَذَمَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ أَبِيهِ وَإِخْوَتِهِ عِوَضًا عَنِ الطَّعَامِ. وَقِيلَ: أَرَادَ أَنْ يَرُدَّهُمْ إِذَا وَجَدُوهَا فِي مَتَاعِهِمْ تَحَرُّجًا وَتَوَرُّعًا لِأَنَّهُ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُمْ [[في ت، أ: "منهم ذلك".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍۢ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ
And when he had furnished them with their supplies, he said, "Bring me a brother of yours from your father. Do not you see that I give full measure and that I am the best of accommodators?
جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں
و هنگامی که (یوسف) بارهای آنان را آماده ساخت، گفت: «(نوبت آینده) آن برادری را که از پدر دارید، نزد من آورید! آیا نمیبینید من حق پیمانه را ادا میکنم، و من بهترین میزبانان هستم؟!
Tafsir Ibn Kathir
And Yusuf's brethren came and they entered unto him, and he recognized them, but they recognized him not (58)And when he furnished them with their provisions, he said: "Bring me a brother of yours from your father. See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts? (59)"But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me, nor shall you come near me. (60)They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it. (61)And [Yusuf] told his servants to put their money into their bags, so that they might know it when they go back to their people; in order that they might come again (62)
Yusuf's Brothers travel to Egypt
As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others said that the reason why Yusuf's brothers went to Egypt, is that after Yusuf became minister of Egypt and the seven years of abundance passed, then came the seven years of drought that struck all areas of Egypt. The drought also reached the area of Kana'an (Canaan), where Prophet Ya'qub, peace be upon him, and his children resided. Prophet Yusuf efficiently guarded the people's harvest and collected it, and what he collected became a great fortune for the people. This also permitted Yusuf to give gifts to the people who sought his aid from various areas who came to buy food and provisions for their families. Yusuf would not give a family man more than whatever a camel could carry, as annual provisions for them. Yusuf himself did not fill his stomach from this food, nor did the king and his aids eat except one meal a day. By doing so, the people could sustain themselves with what they had for the remainder of the seven years. Indeed, Yusuf was a mercy from Allah sent to the people of Egypt.
Yusuf's brothers were among those who came to Egypt to buy food supplies, by the order of their father. They knew that the 'Aziz of Egypt was selling food to people who need it for a low price, so they took some merchandise from their land with them to exchange it for food. They were ten, because Ya'qub peace be upon him kept his son and Yusuf's brother Binyamin with him. Binyamin was the dearest of his sons to him after Yusuf.
When Prophet Yusuf's brothers entered on him in his court and the center of his authority, he knew them the minute he saw them. However, they did not recognize him because they got rid of him when he was still young, and sold him to a caravan of travelers while unaware of their destination. They could not have imagined that Yusuf would end up being a minister, and this is why they did not recognize him, while he did recognize them. As-Suddi said that Yusuf started talking to his brothers and asked them, "What brought you to my land?" They said, "O, 'Aziz, we came to buy provisions." He asked them, "You might be spies." They said, "Allah forbids." He asked them, "Where are you from?" They said, "From the area of Kana'an, and our father is Allah's Prophet Ya'qub." He asked them, "Does he have other children besides you?" They said, "Yes, we were twelve brothers. Our youngest died in the desert, and he used to be the dearest to his father. His full brother is alive and his father kept him, so that his closeness compensates him for losing our youngest brother [who died]." Yusuf ordered that his brothers be honored and allowed to remain,
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ
(And when he furnished them with their provisions,) according to their needs and gave them what they wanted to buy, he said to them, "Bring me your brother from your father's side whom you mentioned, so that I know that you have told me the truth." He continued,
أَلَا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزِلِينَ
(See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts?) encouraging them to return to him. He then threatened them,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِي
(But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me.) He threatened them that if the next time they come without Binyamin with them, they will not be allowed to buy the food that they need,
وَلَا تَقْرَبُونِ - قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ
("...nor shall you come near me." They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it.") They said, 'We will try our best to bring him with us, so that we spare no effort to prove to you that we are truthful in what we told you about ourselves.' Allah said,
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ
(And [Yusuf] told his servants), or his slaves,
اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ
(to put their money), or the merchandise they brought with them to exchange for food,
فِي رِحَالِهِمْ
(into their bags,), while they were unaware,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might come again.) It was said that Yusuf did this because he feared that his brothers might not have any more merchandise they could bring with them to exchange for food.
Tafsir Ibn Kathir
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب ؑ کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف ؑ نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔ اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔ سدی ؒ تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔
Tafsir Ibn Kathir
ذَكَرَ السُّدي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْمُفَسِّرِينَ: أَنَّ السَّبَبَ الَّذِي أَقْدَمَ إِخْوَةَ يُوسُفَ بِلَادَ مِصْرَ، أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا بَاشَرَ الْوَزَارَةَ بِمِصْرَ، وَمَضَتِ السَّبْعُ السِّنِينَ الْمُخْصِبَةُ، ثُمَّ تَلَتْهَا سنينُ الْجَدْبِ، وَعَمَّ الْقَحْطُ بِلَادَ مِصْرَ بِكَمَالِهَا، وَوَصَلَ إِلَى بِلَادِ كَنْعَانَ، وَهِيَ الَّتِي فِيهَا يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَوْلَادُهُ. وَحِينَئِذٍ احْتَاطَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِلنَّاسِ فِي غَلَّاتِهِمْ، وَجَمَعَهَا أَحْسَنَ [[في ت: "أتم".]] جَمْعٍ، فَحَصَلَ مِنْ ذَلِكَ مَبْلَغٌ عَظِيمٌ، وأهراءَ مُتَعَدِّدَةٌ هَائِلَةٌ، وَوَرَدَ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ سَائِرِ الْأَقَالِيمِ وَالْمُعَامَلَاتِ، يَمْتَارُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَعِيَالِهِمْ، فَكَانَ لَا يُعْطَى الرَّجُلُ أَكْثَرَ مِنْ حَمْلِ بِعِيرٍ فِي السَّنَةِ. وَكَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَا يُشْبِعُ نَفْسَهُ وَلَا يَأْكُلُ هُوَ وَالْمَلِكُ وَجُنُودُهُمَا إِلَّا أَكْلَةً وَاحِدَةً فِي وَسَطِ النَّهَارِ، حَتَّى يَتَكَفَّى النَّاسُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ مُدَّةَ السَّبْعِ سِنِينَ. وَكَانَ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ عَلَى أَهْلِ مِصْرَ.
وَمَا ذَكَرَهُ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ مِنْ أَنَّهُ بَاعَهُمْ فِي السَّنَةِ الْأَوْلَى بِالْأَمْوَالِ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِالْمَتَاعِ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِكَذَا، وَفِي الرَّابِعَةِ بِكَذَا، حَتَّى بَاعَهُمْ بِأَنْفُسِهِمْ وَأَوْلَادِهِمْ بَعْدَمَا تَمَلَّك عَلَيْهِمْ جَمِيعَ مَا يَمْلِكُونَ، ثُمَّ أَعْتَقَهُمْ وَرَدَّ عَلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ كُلَّهَا، اللَّهُ [[في ت: "والله".]] أَعْلَمُ بِصِحَّةِ ذَلِكَ، وَهُوَ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ الَّتِي لَا تُصَدَّقُ وَلَا تَكْذَّبُ.
وَالْغَرَضُ أَنَّهُ كَانَ فِي جُمْلَةِ مِنْ وَرَدَ لِلْمِيرَةِ إخوةُ يُوسُفَ، عَنْ أَمْرِ أَبِيهِمْ لَهُمْ فِي ذَلِكَ، فَإِنَّهُ بَلَغَهُمْ أَنَّ عَزِيزَ مِصْرَ يُعْطِي النَّاسَ الطَّعَامَ بِثَمَنِهِ، فَأَخَذُوا مَعَهُمْ بِضَاعَةً يَعْتَاضُونَ بِهَا طَعَامًا، وَرَكِبُوا عَشَرَةُ نَفَرٍ، وَاحْتَبَسَ يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عِنْدَهُ بِنْيَامِينَ شَقِيقَ يُوسُفَ، عَلَيْهِمَا [[في ت: "عليه".]] السَّلَامُ، وَكَانَ أَحَبَّ وَلَدِهِ إِلَيْهِ بَعْدَ يُوسُفَ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى يُوسُفَ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي أُبَّهَتِهِ وَرِيَاسَتِهِ وَسِيَادَتِهِ، عَرَفَهُمْ حِينَ نَظَرَ إِلَيْهِمْ، ﴿وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَعْرِفُونَهُ؛ لِأَنَّهُمْ فَارَقُوهُ وَهُوَ صَغِيرٌ حَدَثٌ فَبَاعُوهُ [[في ت: "وباعوه".]] لِلسَّيَّارَةِ، وَلَمْ يَدْرُوا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهِ، وَلَا كَانُوا يَسْتَشْعِرُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ أَنْ يَصِيرَ إِلَى مَا صَارَ إِلَيْهِ، فَلِهَذَا لَمْ يَعْرِفُوهُ، وأما هو فعرفهم.
فَذَكَرَ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ: أَنَّهُ شَرَعَ يُخَاطِبُهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ كَالْمُنْكِرِ عَلَيْهِمْ: مَا أَقْدَمُكُمْ بِلَادِي؟ قَالُوا: أَيُّهَا الْعَزِيزُ، إِنَّا قَدِمْنَا لِلْمِيرَةِ. قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ عُيُونٌ؟ قَالُوا: مَعَاذَ اللَّهِ. قَالَ: فَمَنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ بِلَادِ كَنْعَانَ، وَأَبُونَا يَعْقُوبُ نَبِيُّ اللَّهِ. قَالَ: وَلَهُ أَوْلَادٌ غَيْرُكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، كُنَّا اثْنَى عَشَرَ، فَذَهَبَ أَصْغَرُنَا، هَلَكَ فِي البَرِيَّة، وَكَانَ أَحَبَّنَا إِلَى أَبِيهِ، وَبَقِيَ شَقِيقُهُ فَاحْتَبَسَهُ [[في ت: "فاحبسوه".]] أَبُوهُ لِيَتَسَلَّى بِهِ عَنْهُ. فَأَمْرٌ بِإِنْزَالِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ.
﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ﴾ أَيْ: وَفَّاهم كَيْلَهُمْ، وَحَمَّلَ لَهُمْ أَحْمَالَهُمْ قَالَ: ائْتُونِي بِأَخِيكُمْ هَذَا الَّذِي ذَكَرْتُمْ، لِأَعْلَمَ صِدْقَكُمْ فِيمَا ذَكَرْتُمْ، ﴿أَلا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزلِينَ﴾ يُرَغِّبُهُمْ فِي الرُّجُوعِ إِلَيْهِ، ثُمَّ رَهَّبَهم فَقَالَ: ﴿فَإِنْ لَمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِي وَلا تَقْرَبُونِ﴾ أَيْ: إِنْ لَمْ تَقْدَمُوا بِهِ مَعَكُمْ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ، فَلَيْسَ لَكُمْ عِنْدِي مِيرَةٌ، ﴿وَلا تَقْرَبُونِ قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ﴾ أَيْ: سَنَحْرِصُ عَلَى مَجِيئِهِ إِلَيْكَ بِكُلِّ مُمْكِنٍ وَلَا نُبْقِي مَجْهُودًا لِتَعْلَمَ صِدْقَنَا فِيمَا قُلْنَاهُ.
وَذَكَرَ السُّدِّيُّ: أَنَّهُ أَخَذَ مِنْهُمْ رَهَائِنَ حَتَّى يَقْدُمُوا بِهِ مَعَهُمْ. وَفِي هَذَا نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ أَحْسَنَ إِلَيْهِمْ وَرَغَّبَهُمْ كَثِيرًا، وَهَذَا لِحِرْصِهِ [[في ت: "ولهذا بحرصه" وفي أ: "ولهذا يحرضهم".]] عَلَى رُجُوعِهِمْ.
﴿وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ﴾ أَيْ: غِلْمَانِهِ ﴿اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ﴾ وَهِيَ الَّتِي قَدِمُوا بِهَا لِيَمْتَارُوا عِوَضًا عَنْهَا ﴿فِي رِحَالِهِمْ﴾ أَيْ: فِي أَمْتِعَتِهِمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ، ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ بِهَا.
قِيلَ: خَشِيَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَلَّا يَكُونَ عِنْدَهُمْ بِضَاعَةٌ أُخْرَى يَرْجِعُونَ لِلْمِيرَةِ بِهَا. وَقِيلَ: تَذَمَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ أَبِيهِ وَإِخْوَتِهِ عِوَضًا عَنِ الطَّعَامِ. وَقِيلَ: أَرَادَ أَنْ يَرُدَّهُمْ إِذَا وَجَدُوهَا فِي مَتَاعِهِمْ تَحَرُّجًا وَتَوَرُّعًا لِأَنَّهُ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُمْ [[في ت، أ: "منهم ذلك".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ
But if you do not bring him to me, no measure will there be [hereafter] for you from me, nor will you approach me."
اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے
و اگر او را نزد من نیاورید، نه کیل (و پیمانهای از غلّه) نزد من خواهید داشت؛ و نه (اصلاً) به من نزدیک شوید!»
Tafsir Ibn Kathir
And Yusuf's brethren came and they entered unto him, and he recognized them, but they recognized him not (58)And when he furnished them with their provisions, he said: "Bring me a brother of yours from your father. See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts? (59)"But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me, nor shall you come near me. (60)They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it. (61)And [Yusuf] told his servants to put their money into their bags, so that they might know it when they go back to their people; in order that they might come again (62)
Yusuf's Brothers travel to Egypt
As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others said that the reason why Yusuf's brothers went to Egypt, is that after Yusuf became minister of Egypt and the seven years of abundance passed, then came the seven years of drought that struck all areas of Egypt. The drought also reached the area of Kana'an (Canaan), where Prophet Ya'qub, peace be upon him, and his children resided. Prophet Yusuf efficiently guarded the people's harvest and collected it, and what he collected became a great fortune for the people. This also permitted Yusuf to give gifts to the people who sought his aid from various areas who came to buy food and provisions for their families. Yusuf would not give a family man more than whatever a camel could carry, as annual provisions for them. Yusuf himself did not fill his stomach from this food, nor did the king and his aids eat except one meal a day. By doing so, the people could sustain themselves with what they had for the remainder of the seven years. Indeed, Yusuf was a mercy from Allah sent to the people of Egypt.
Yusuf's brothers were among those who came to Egypt to buy food supplies, by the order of their father. They knew that the 'Aziz of Egypt was selling food to people who need it for a low price, so they took some merchandise from their land with them to exchange it for food. They were ten, because Ya'qub peace be upon him kept his son and Yusuf's brother Binyamin with him. Binyamin was the dearest of his sons to him after Yusuf.
When Prophet Yusuf's brothers entered on him in his court and the center of his authority, he knew them the minute he saw them. However, they did not recognize him because they got rid of him when he was still young, and sold him to a caravan of travelers while unaware of their destination. They could not have imagined that Yusuf would end up being a minister, and this is why they did not recognize him, while he did recognize them. As-Suddi said that Yusuf started talking to his brothers and asked them, "What brought you to my land?" They said, "O, 'Aziz, we came to buy provisions." He asked them, "You might be spies." They said, "Allah forbids." He asked them, "Where are you from?" They said, "From the area of Kana'an, and our father is Allah's Prophet Ya'qub." He asked them, "Does he have other children besides you?" They said, "Yes, we were twelve brothers. Our youngest died in the desert, and he used to be the dearest to his father. His full brother is alive and his father kept him, so that his closeness compensates him for losing our youngest brother [who died]." Yusuf ordered that his brothers be honored and allowed to remain,
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ
(And when he furnished them with their provisions,) according to their needs and gave them what they wanted to buy, he said to them, "Bring me your brother from your father's side whom you mentioned, so that I know that you have told me the truth." He continued,
أَلَا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزِلِينَ
(See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts?) encouraging them to return to him. He then threatened them,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِي
(But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me.) He threatened them that if the next time they come without Binyamin with them, they will not be allowed to buy the food that they need,
وَلَا تَقْرَبُونِ - قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ
("...nor shall you come near me." They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it.") They said, 'We will try our best to bring him with us, so that we spare no effort to prove to you that we are truthful in what we told you about ourselves.' Allah said,
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ
(And [Yusuf] told his servants), or his slaves,
اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ
(to put their money), or the merchandise they brought with them to exchange for food,
فِي رِحَالِهِمْ
(into their bags,), while they were unaware,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might come again.) It was said that Yusuf did this because he feared that his brothers might not have any more merchandise they could bring with them to exchange for food.
Tafsir Ibn Kathir
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب ؑ کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف ؑ نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔ اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔ سدی ؒ تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔
Tafsir Ibn Kathir
ذَكَرَ السُّدي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْمُفَسِّرِينَ: أَنَّ السَّبَبَ الَّذِي أَقْدَمَ إِخْوَةَ يُوسُفَ بِلَادَ مِصْرَ، أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا بَاشَرَ الْوَزَارَةَ بِمِصْرَ، وَمَضَتِ السَّبْعُ السِّنِينَ الْمُخْصِبَةُ، ثُمَّ تَلَتْهَا سنينُ الْجَدْبِ، وَعَمَّ الْقَحْطُ بِلَادَ مِصْرَ بِكَمَالِهَا، وَوَصَلَ إِلَى بِلَادِ كَنْعَانَ، وَهِيَ الَّتِي فِيهَا يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَوْلَادُهُ. وَحِينَئِذٍ احْتَاطَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِلنَّاسِ فِي غَلَّاتِهِمْ، وَجَمَعَهَا أَحْسَنَ [[في ت: "أتم".]] جَمْعٍ، فَحَصَلَ مِنْ ذَلِكَ مَبْلَغٌ عَظِيمٌ، وأهراءَ مُتَعَدِّدَةٌ هَائِلَةٌ، وَوَرَدَ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ سَائِرِ الْأَقَالِيمِ وَالْمُعَامَلَاتِ، يَمْتَارُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَعِيَالِهِمْ، فَكَانَ لَا يُعْطَى الرَّجُلُ أَكْثَرَ مِنْ حَمْلِ بِعِيرٍ فِي السَّنَةِ. وَكَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَا يُشْبِعُ نَفْسَهُ وَلَا يَأْكُلُ هُوَ وَالْمَلِكُ وَجُنُودُهُمَا إِلَّا أَكْلَةً وَاحِدَةً فِي وَسَطِ النَّهَارِ، حَتَّى يَتَكَفَّى النَّاسُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ مُدَّةَ السَّبْعِ سِنِينَ. وَكَانَ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ عَلَى أَهْلِ مِصْرَ.
وَمَا ذَكَرَهُ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ مِنْ أَنَّهُ بَاعَهُمْ فِي السَّنَةِ الْأَوْلَى بِالْأَمْوَالِ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِالْمَتَاعِ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِكَذَا، وَفِي الرَّابِعَةِ بِكَذَا، حَتَّى بَاعَهُمْ بِأَنْفُسِهِمْ وَأَوْلَادِهِمْ بَعْدَمَا تَمَلَّك عَلَيْهِمْ جَمِيعَ مَا يَمْلِكُونَ، ثُمَّ أَعْتَقَهُمْ وَرَدَّ عَلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ كُلَّهَا، اللَّهُ [[في ت: "والله".]] أَعْلَمُ بِصِحَّةِ ذَلِكَ، وَهُوَ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ الَّتِي لَا تُصَدَّقُ وَلَا تَكْذَّبُ.
وَالْغَرَضُ أَنَّهُ كَانَ فِي جُمْلَةِ مِنْ وَرَدَ لِلْمِيرَةِ إخوةُ يُوسُفَ، عَنْ أَمْرِ أَبِيهِمْ لَهُمْ فِي ذَلِكَ، فَإِنَّهُ بَلَغَهُمْ أَنَّ عَزِيزَ مِصْرَ يُعْطِي النَّاسَ الطَّعَامَ بِثَمَنِهِ، فَأَخَذُوا مَعَهُمْ بِضَاعَةً يَعْتَاضُونَ بِهَا طَعَامًا، وَرَكِبُوا عَشَرَةُ نَفَرٍ، وَاحْتَبَسَ يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عِنْدَهُ بِنْيَامِينَ شَقِيقَ يُوسُفَ، عَلَيْهِمَا [[في ت: "عليه".]] السَّلَامُ، وَكَانَ أَحَبَّ وَلَدِهِ إِلَيْهِ بَعْدَ يُوسُفَ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى يُوسُفَ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي أُبَّهَتِهِ وَرِيَاسَتِهِ وَسِيَادَتِهِ، عَرَفَهُمْ حِينَ نَظَرَ إِلَيْهِمْ، ﴿وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَعْرِفُونَهُ؛ لِأَنَّهُمْ فَارَقُوهُ وَهُوَ صَغِيرٌ حَدَثٌ فَبَاعُوهُ [[في ت: "وباعوه".]] لِلسَّيَّارَةِ، وَلَمْ يَدْرُوا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهِ، وَلَا كَانُوا يَسْتَشْعِرُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ أَنْ يَصِيرَ إِلَى مَا صَارَ إِلَيْهِ، فَلِهَذَا لَمْ يَعْرِفُوهُ، وأما هو فعرفهم.
فَذَكَرَ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ: أَنَّهُ شَرَعَ يُخَاطِبُهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ كَالْمُنْكِرِ عَلَيْهِمْ: مَا أَقْدَمُكُمْ بِلَادِي؟ قَالُوا: أَيُّهَا الْعَزِيزُ، إِنَّا قَدِمْنَا لِلْمِيرَةِ. قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ عُيُونٌ؟ قَالُوا: مَعَاذَ اللَّهِ. قَالَ: فَمَنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ بِلَادِ كَنْعَانَ، وَأَبُونَا يَعْقُوبُ نَبِيُّ اللَّهِ. قَالَ: وَلَهُ أَوْلَادٌ غَيْرُكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، كُنَّا اثْنَى عَشَرَ، فَذَهَبَ أَصْغَرُنَا، هَلَكَ فِي البَرِيَّة، وَكَانَ أَحَبَّنَا إِلَى أَبِيهِ، وَبَقِيَ شَقِيقُهُ فَاحْتَبَسَهُ [[في ت: "فاحبسوه".]] أَبُوهُ لِيَتَسَلَّى بِهِ عَنْهُ. فَأَمْرٌ بِإِنْزَالِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ.
﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ﴾ أَيْ: وَفَّاهم كَيْلَهُمْ، وَحَمَّلَ لَهُمْ أَحْمَالَهُمْ قَالَ: ائْتُونِي بِأَخِيكُمْ هَذَا الَّذِي ذَكَرْتُمْ، لِأَعْلَمَ صِدْقَكُمْ فِيمَا ذَكَرْتُمْ، ﴿أَلا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزلِينَ﴾ يُرَغِّبُهُمْ فِي الرُّجُوعِ إِلَيْهِ، ثُمَّ رَهَّبَهم فَقَالَ: ﴿فَإِنْ لَمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِي وَلا تَقْرَبُونِ﴾ أَيْ: إِنْ لَمْ تَقْدَمُوا بِهِ مَعَكُمْ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ، فَلَيْسَ لَكُمْ عِنْدِي مِيرَةٌ، ﴿وَلا تَقْرَبُونِ قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ﴾ أَيْ: سَنَحْرِصُ عَلَى مَجِيئِهِ إِلَيْكَ بِكُلِّ مُمْكِنٍ وَلَا نُبْقِي مَجْهُودًا لِتَعْلَمَ صِدْقَنَا فِيمَا قُلْنَاهُ.
وَذَكَرَ السُّدِّيُّ: أَنَّهُ أَخَذَ مِنْهُمْ رَهَائِنَ حَتَّى يَقْدُمُوا بِهِ مَعَهُمْ. وَفِي هَذَا نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ أَحْسَنَ إِلَيْهِمْ وَرَغَّبَهُمْ كَثِيرًا، وَهَذَا لِحِرْصِهِ [[في ت: "ولهذا بحرصه" وفي أ: "ولهذا يحرضهم".]] عَلَى رُجُوعِهِمْ.
﴿وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ﴾ أَيْ: غِلْمَانِهِ ﴿اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ﴾ وَهِيَ الَّتِي قَدِمُوا بِهَا لِيَمْتَارُوا عِوَضًا عَنْهَا ﴿فِي رِحَالِهِمْ﴾ أَيْ: فِي أَمْتِعَتِهِمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ، ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ بِهَا.
قِيلَ: خَشِيَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَلَّا يَكُونَ عِنْدَهُمْ بِضَاعَةٌ أُخْرَى يَرْجِعُونَ لِلْمِيرَةِ بِهَا. وَقِيلَ: تَذَمَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ أَبِيهِ وَإِخْوَتِهِ عِوَضًا عَنِ الطَّعَامِ. وَقِيلَ: أَرَادَ أَنْ يَرُدَّهُمْ إِذَا وَجَدُوهَا فِي مَتَاعِهِمْ تَحَرُّجًا وَتَوَرُّعًا لِأَنَّهُ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُمْ [[في ت، أ: "منهم ذلك".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
قَالُوا۟ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ
They said, "We will attempt to dissuade his father from [keeping] him, and indeed, we will do [it]."
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے
گفتند: «ما با پدرش گفتگو خواهیم کرد؛ (و سعی میکنیم موافقتش را جلب نمائیم؛) و ما این کار را خواهیم کرد!»
Tafsir Ibn Kathir
And Yusuf's brethren came and they entered unto him, and he recognized them, but they recognized him not (58)And when he furnished them with their provisions, he said: "Bring me a brother of yours from your father. See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts? (59)"But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me, nor shall you come near me. (60)They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it. (61)And [Yusuf] told his servants to put their money into their bags, so that they might know it when they go back to their people; in order that they might come again (62)
Yusuf's Brothers travel to Egypt
As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others said that the reason why Yusuf's brothers went to Egypt, is that after Yusuf became minister of Egypt and the seven years of abundance passed, then came the seven years of drought that struck all areas of Egypt. The drought also reached the area of Kana'an (Canaan), where Prophet Ya'qub, peace be upon him, and his children resided. Prophet Yusuf efficiently guarded the people's harvest and collected it, and what he collected became a great fortune for the people. This also permitted Yusuf to give gifts to the people who sought his aid from various areas who came to buy food and provisions for their families. Yusuf would not give a family man more than whatever a camel could carry, as annual provisions for them. Yusuf himself did not fill his stomach from this food, nor did the king and his aids eat except one meal a day. By doing so, the people could sustain themselves with what they had for the remainder of the seven years. Indeed, Yusuf was a mercy from Allah sent to the people of Egypt.
Yusuf's brothers were among those who came to Egypt to buy food supplies, by the order of their father. They knew that the 'Aziz of Egypt was selling food to people who need it for a low price, so they took some merchandise from their land with them to exchange it for food. They were ten, because Ya'qub peace be upon him kept his son and Yusuf's brother Binyamin with him. Binyamin was the dearest of his sons to him after Yusuf.
When Prophet Yusuf's brothers entered on him in his court and the center of his authority, he knew them the minute he saw them. However, they did not recognize him because they got rid of him when he was still young, and sold him to a caravan of travelers while unaware of their destination. They could not have imagined that Yusuf would end up being a minister, and this is why they did not recognize him, while he did recognize them. As-Suddi said that Yusuf started talking to his brothers and asked them, "What brought you to my land?" They said, "O, 'Aziz, we came to buy provisions." He asked them, "You might be spies." They said, "Allah forbids." He asked them, "Where are you from?" They said, "From the area of Kana'an, and our father is Allah's Prophet Ya'qub." He asked them, "Does he have other children besides you?" They said, "Yes, we were twelve brothers. Our youngest died in the desert, and he used to be the dearest to his father. His full brother is alive and his father kept him, so that his closeness compensates him for losing our youngest brother [who died]." Yusuf ordered that his brothers be honored and allowed to remain,
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ
(And when he furnished them with their provisions,) according to their needs and gave them what they wanted to buy, he said to them, "Bring me your brother from your father's side whom you mentioned, so that I know that you have told me the truth." He continued,
أَلَا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزِلِينَ
(See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts?) encouraging them to return to him. He then threatened them,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِي
(But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me.) He threatened them that if the next time they come without Binyamin with them, they will not be allowed to buy the food that they need,
وَلَا تَقْرَبُونِ - قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ
("...nor shall you come near me." They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it.") They said, 'We will try our best to bring him with us, so that we spare no effort to prove to you that we are truthful in what we told you about ourselves.' Allah said,
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ
(And [Yusuf] told his servants), or his slaves,
اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ
(to put their money), or the merchandise they brought with them to exchange for food,
فِي رِحَالِهِمْ
(into their bags,), while they were unaware,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might come again.) It was said that Yusuf did this because he feared that his brothers might not have any more merchandise they could bring with them to exchange for food.
Tafsir Ibn Kathir
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب ؑ کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف ؑ نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔ اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔ سدی ؒ تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔
Tafsir Ibn Kathir
ذَكَرَ السُّدي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْمُفَسِّرِينَ: أَنَّ السَّبَبَ الَّذِي أَقْدَمَ إِخْوَةَ يُوسُفَ بِلَادَ مِصْرَ، أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا بَاشَرَ الْوَزَارَةَ بِمِصْرَ، وَمَضَتِ السَّبْعُ السِّنِينَ الْمُخْصِبَةُ، ثُمَّ تَلَتْهَا سنينُ الْجَدْبِ، وَعَمَّ الْقَحْطُ بِلَادَ مِصْرَ بِكَمَالِهَا، وَوَصَلَ إِلَى بِلَادِ كَنْعَانَ، وَهِيَ الَّتِي فِيهَا يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَوْلَادُهُ. وَحِينَئِذٍ احْتَاطَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِلنَّاسِ فِي غَلَّاتِهِمْ، وَجَمَعَهَا أَحْسَنَ [[في ت: "أتم".]] جَمْعٍ، فَحَصَلَ مِنْ ذَلِكَ مَبْلَغٌ عَظِيمٌ، وأهراءَ مُتَعَدِّدَةٌ هَائِلَةٌ، وَوَرَدَ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ سَائِرِ الْأَقَالِيمِ وَالْمُعَامَلَاتِ، يَمْتَارُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَعِيَالِهِمْ، فَكَانَ لَا يُعْطَى الرَّجُلُ أَكْثَرَ مِنْ حَمْلِ بِعِيرٍ فِي السَّنَةِ. وَكَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَا يُشْبِعُ نَفْسَهُ وَلَا يَأْكُلُ هُوَ وَالْمَلِكُ وَجُنُودُهُمَا إِلَّا أَكْلَةً وَاحِدَةً فِي وَسَطِ النَّهَارِ، حَتَّى يَتَكَفَّى النَّاسُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ مُدَّةَ السَّبْعِ سِنِينَ. وَكَانَ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ عَلَى أَهْلِ مِصْرَ.
وَمَا ذَكَرَهُ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ مِنْ أَنَّهُ بَاعَهُمْ فِي السَّنَةِ الْأَوْلَى بِالْأَمْوَالِ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِالْمَتَاعِ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِكَذَا، وَفِي الرَّابِعَةِ بِكَذَا، حَتَّى بَاعَهُمْ بِأَنْفُسِهِمْ وَأَوْلَادِهِمْ بَعْدَمَا تَمَلَّك عَلَيْهِمْ جَمِيعَ مَا يَمْلِكُونَ، ثُمَّ أَعْتَقَهُمْ وَرَدَّ عَلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ كُلَّهَا، اللَّهُ [[في ت: "والله".]] أَعْلَمُ بِصِحَّةِ ذَلِكَ، وَهُوَ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ الَّتِي لَا تُصَدَّقُ وَلَا تَكْذَّبُ.
وَالْغَرَضُ أَنَّهُ كَانَ فِي جُمْلَةِ مِنْ وَرَدَ لِلْمِيرَةِ إخوةُ يُوسُفَ، عَنْ أَمْرِ أَبِيهِمْ لَهُمْ فِي ذَلِكَ، فَإِنَّهُ بَلَغَهُمْ أَنَّ عَزِيزَ مِصْرَ يُعْطِي النَّاسَ الطَّعَامَ بِثَمَنِهِ، فَأَخَذُوا مَعَهُمْ بِضَاعَةً يَعْتَاضُونَ بِهَا طَعَامًا، وَرَكِبُوا عَشَرَةُ نَفَرٍ، وَاحْتَبَسَ يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عِنْدَهُ بِنْيَامِينَ شَقِيقَ يُوسُفَ، عَلَيْهِمَا [[في ت: "عليه".]] السَّلَامُ، وَكَانَ أَحَبَّ وَلَدِهِ إِلَيْهِ بَعْدَ يُوسُفَ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى يُوسُفَ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي أُبَّهَتِهِ وَرِيَاسَتِهِ وَسِيَادَتِهِ، عَرَفَهُمْ حِينَ نَظَرَ إِلَيْهِمْ، ﴿وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَعْرِفُونَهُ؛ لِأَنَّهُمْ فَارَقُوهُ وَهُوَ صَغِيرٌ حَدَثٌ فَبَاعُوهُ [[في ت: "وباعوه".]] لِلسَّيَّارَةِ، وَلَمْ يَدْرُوا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهِ، وَلَا كَانُوا يَسْتَشْعِرُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ أَنْ يَصِيرَ إِلَى مَا صَارَ إِلَيْهِ، فَلِهَذَا لَمْ يَعْرِفُوهُ، وأما هو فعرفهم.
فَذَكَرَ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ: أَنَّهُ شَرَعَ يُخَاطِبُهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ كَالْمُنْكِرِ عَلَيْهِمْ: مَا أَقْدَمُكُمْ بِلَادِي؟ قَالُوا: أَيُّهَا الْعَزِيزُ، إِنَّا قَدِمْنَا لِلْمِيرَةِ. قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ عُيُونٌ؟ قَالُوا: مَعَاذَ اللَّهِ. قَالَ: فَمَنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ بِلَادِ كَنْعَانَ، وَأَبُونَا يَعْقُوبُ نَبِيُّ اللَّهِ. قَالَ: وَلَهُ أَوْلَادٌ غَيْرُكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، كُنَّا اثْنَى عَشَرَ، فَذَهَبَ أَصْغَرُنَا، هَلَكَ فِي البَرِيَّة، وَكَانَ أَحَبَّنَا إِلَى أَبِيهِ، وَبَقِيَ شَقِيقُهُ فَاحْتَبَسَهُ [[في ت: "فاحبسوه".]] أَبُوهُ لِيَتَسَلَّى بِهِ عَنْهُ. فَأَمْرٌ بِإِنْزَالِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ.
﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ﴾ أَيْ: وَفَّاهم كَيْلَهُمْ، وَحَمَّلَ لَهُمْ أَحْمَالَهُمْ قَالَ: ائْتُونِي بِأَخِيكُمْ هَذَا الَّذِي ذَكَرْتُمْ، لِأَعْلَمَ صِدْقَكُمْ فِيمَا ذَكَرْتُمْ، ﴿أَلا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزلِينَ﴾ يُرَغِّبُهُمْ فِي الرُّجُوعِ إِلَيْهِ، ثُمَّ رَهَّبَهم فَقَالَ: ﴿فَإِنْ لَمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِي وَلا تَقْرَبُونِ﴾ أَيْ: إِنْ لَمْ تَقْدَمُوا بِهِ مَعَكُمْ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ، فَلَيْسَ لَكُمْ عِنْدِي مِيرَةٌ، ﴿وَلا تَقْرَبُونِ قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ﴾ أَيْ: سَنَحْرِصُ عَلَى مَجِيئِهِ إِلَيْكَ بِكُلِّ مُمْكِنٍ وَلَا نُبْقِي مَجْهُودًا لِتَعْلَمَ صِدْقَنَا فِيمَا قُلْنَاهُ.
وَذَكَرَ السُّدِّيُّ: أَنَّهُ أَخَذَ مِنْهُمْ رَهَائِنَ حَتَّى يَقْدُمُوا بِهِ مَعَهُمْ. وَفِي هَذَا نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ أَحْسَنَ إِلَيْهِمْ وَرَغَّبَهُمْ كَثِيرًا، وَهَذَا لِحِرْصِهِ [[في ت: "ولهذا بحرصه" وفي أ: "ولهذا يحرضهم".]] عَلَى رُجُوعِهِمْ.
﴿وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ﴾ أَيْ: غِلْمَانِهِ ﴿اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ﴾ وَهِيَ الَّتِي قَدِمُوا بِهَا لِيَمْتَارُوا عِوَضًا عَنْهَا ﴿فِي رِحَالِهِمْ﴾ أَيْ: فِي أَمْتِعَتِهِمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ، ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ بِهَا.
قِيلَ: خَشِيَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَلَّا يَكُونَ عِنْدَهُمْ بِضَاعَةٌ أُخْرَى يَرْجِعُونَ لِلْمِيرَةِ بِهَا. وَقِيلَ: تَذَمَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ أَبِيهِ وَإِخْوَتِهِ عِوَضًا عَنِ الطَّعَامِ. وَقِيلَ: أَرَادَ أَنْ يَرُدَّهُمْ إِذَا وَجَدُوهَا فِي مَتَاعِهِمْ تَحَرُّجًا وَتَوَرُّعًا لِأَنَّهُ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُمْ [[في ت، أ: "منهم ذلك".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ لِفِتْيَٰنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
And [Joseph] said to his servants, "Put their merchandise into their saddlebags so they might recognize it when they have gone back to their people that perhaps they will [again] return."
(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
(سپس) به کارگزاران خود گفت: «آنچه را بعنوان قیمت پرداختهاند، در بارهایشان بگذارید! شاید پس از بازگشت به خانواده خویش، آن را بشناسند؛ و شاید برگردند!»
Tafsir Ibn Kathir
And Yusuf's brethren came and they entered unto him, and he recognized them, but they recognized him not (58)And when he furnished them with their provisions, he said: "Bring me a brother of yours from your father. See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts? (59)"But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me, nor shall you come near me. (60)They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it. (61)And [Yusuf] told his servants to put their money into their bags, so that they might know it when they go back to their people; in order that they might come again (62)
Yusuf's Brothers travel to Egypt
As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others said that the reason why Yusuf's brothers went to Egypt, is that after Yusuf became minister of Egypt and the seven years of abundance passed, then came the seven years of drought that struck all areas of Egypt. The drought also reached the area of Kana'an (Canaan), where Prophet Ya'qub, peace be upon him, and his children resided. Prophet Yusuf efficiently guarded the people's harvest and collected it, and what he collected became a great fortune for the people. This also permitted Yusuf to give gifts to the people who sought his aid from various areas who came to buy food and provisions for their families. Yusuf would not give a family man more than whatever a camel could carry, as annual provisions for them. Yusuf himself did not fill his stomach from this food, nor did the king and his aids eat except one meal a day. By doing so, the people could sustain themselves with what they had for the remainder of the seven years. Indeed, Yusuf was a mercy from Allah sent to the people of Egypt.
Yusuf's brothers were among those who came to Egypt to buy food supplies, by the order of their father. They knew that the 'Aziz of Egypt was selling food to people who need it for a low price, so they took some merchandise from their land with them to exchange it for food. They were ten, because Ya'qub peace be upon him kept his son and Yusuf's brother Binyamin with him. Binyamin was the dearest of his sons to him after Yusuf.
When Prophet Yusuf's brothers entered on him in his court and the center of his authority, he knew them the minute he saw them. However, they did not recognize him because they got rid of him when he was still young, and sold him to a caravan of travelers while unaware of their destination. They could not have imagined that Yusuf would end up being a minister, and this is why they did not recognize him, while he did recognize them. As-Suddi said that Yusuf started talking to his brothers and asked them, "What brought you to my land?" They said, "O, 'Aziz, we came to buy provisions." He asked them, "You might be spies." They said, "Allah forbids." He asked them, "Where are you from?" They said, "From the area of Kana'an, and our father is Allah's Prophet Ya'qub." He asked them, "Does he have other children besides you?" They said, "Yes, we were twelve brothers. Our youngest died in the desert, and he used to be the dearest to his father. His full brother is alive and his father kept him, so that his closeness compensates him for losing our youngest brother [who died]." Yusuf ordered that his brothers be honored and allowed to remain,
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ
(And when he furnished them with their provisions,) according to their needs and gave them what they wanted to buy, he said to them, "Bring me your brother from your father's side whom you mentioned, so that I know that you have told me the truth." He continued,
أَلَا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزِلِينَ
(See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts?) encouraging them to return to him. He then threatened them,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِي
(But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me.) He threatened them that if the next time they come without Binyamin with them, they will not be allowed to buy the food that they need,
وَلَا تَقْرَبُونِ - قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ
("...nor shall you come near me." They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it.") They said, 'We will try our best to bring him with us, so that we spare no effort to prove to you that we are truthful in what we told you about ourselves.' Allah said,
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ
(And [Yusuf] told his servants), or his slaves,
اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ
(to put their money), or the merchandise they brought with them to exchange for food,
فِي رِحَالِهِمْ
(into their bags,), while they were unaware,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might come again.) It was said that Yusuf did this because he feared that his brothers might not have any more merchandise they could bring with them to exchange for food.
Tafsir Ibn Kathir
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب ؑ کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف ؑ نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔ اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔ سدی ؒ تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔
Tafsir Ibn Kathir
ذَكَرَ السُّدي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْمُفَسِّرِينَ: أَنَّ السَّبَبَ الَّذِي أَقْدَمَ إِخْوَةَ يُوسُفَ بِلَادَ مِصْرَ، أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا بَاشَرَ الْوَزَارَةَ بِمِصْرَ، وَمَضَتِ السَّبْعُ السِّنِينَ الْمُخْصِبَةُ، ثُمَّ تَلَتْهَا سنينُ الْجَدْبِ، وَعَمَّ الْقَحْطُ بِلَادَ مِصْرَ بِكَمَالِهَا، وَوَصَلَ إِلَى بِلَادِ كَنْعَانَ، وَهِيَ الَّتِي فِيهَا يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَوْلَادُهُ. وَحِينَئِذٍ احْتَاطَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِلنَّاسِ فِي غَلَّاتِهِمْ، وَجَمَعَهَا أَحْسَنَ [[في ت: "أتم".]] جَمْعٍ، فَحَصَلَ مِنْ ذَلِكَ مَبْلَغٌ عَظِيمٌ، وأهراءَ مُتَعَدِّدَةٌ هَائِلَةٌ، وَوَرَدَ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ سَائِرِ الْأَقَالِيمِ وَالْمُعَامَلَاتِ، يَمْتَارُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَعِيَالِهِمْ، فَكَانَ لَا يُعْطَى الرَّجُلُ أَكْثَرَ مِنْ حَمْلِ بِعِيرٍ فِي السَّنَةِ. وَكَانَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَا يُشْبِعُ نَفْسَهُ وَلَا يَأْكُلُ هُوَ وَالْمَلِكُ وَجُنُودُهُمَا إِلَّا أَكْلَةً وَاحِدَةً فِي وَسَطِ النَّهَارِ، حَتَّى يَتَكَفَّى النَّاسُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ مُدَّةَ السَّبْعِ سِنِينَ. وَكَانَ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ عَلَى أَهْلِ مِصْرَ.
وَمَا ذَكَرَهُ بَعْضُ الْمُفَسِّرِينَ مِنْ أَنَّهُ بَاعَهُمْ فِي السَّنَةِ الْأَوْلَى بِالْأَمْوَالِ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِالْمَتَاعِ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِكَذَا، وَفِي الرَّابِعَةِ بِكَذَا، حَتَّى بَاعَهُمْ بِأَنْفُسِهِمْ وَأَوْلَادِهِمْ بَعْدَمَا تَمَلَّك عَلَيْهِمْ جَمِيعَ مَا يَمْلِكُونَ، ثُمَّ أَعْتَقَهُمْ وَرَدَّ عَلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ كُلَّهَا، اللَّهُ [[في ت: "والله".]] أَعْلَمُ بِصِحَّةِ ذَلِكَ، وَهُوَ مِنَ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ الَّتِي لَا تُصَدَّقُ وَلَا تَكْذَّبُ.
وَالْغَرَضُ أَنَّهُ كَانَ فِي جُمْلَةِ مِنْ وَرَدَ لِلْمِيرَةِ إخوةُ يُوسُفَ، عَنْ أَمْرِ أَبِيهِمْ لَهُمْ فِي ذَلِكَ، فَإِنَّهُ بَلَغَهُمْ أَنَّ عَزِيزَ مِصْرَ يُعْطِي النَّاسَ الطَّعَامَ بِثَمَنِهِ، فَأَخَذُوا مَعَهُمْ بِضَاعَةً يَعْتَاضُونَ بِهَا طَعَامًا، وَرَكِبُوا عَشَرَةُ نَفَرٍ، وَاحْتَبَسَ يَعْقُوبُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عِنْدَهُ بِنْيَامِينَ شَقِيقَ يُوسُفَ، عَلَيْهِمَا [[في ت: "عليه".]] السَّلَامُ، وَكَانَ أَحَبَّ وَلَدِهِ إِلَيْهِ بَعْدَ يُوسُفَ. فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى يُوسُفَ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي أُبَّهَتِهِ وَرِيَاسَتِهِ وَسِيَادَتِهِ، عَرَفَهُمْ حِينَ نَظَرَ إِلَيْهِمْ، ﴿وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ﴾ أَيْ: لَا يَعْرِفُونَهُ؛ لِأَنَّهُمْ فَارَقُوهُ وَهُوَ صَغِيرٌ حَدَثٌ فَبَاعُوهُ [[في ت: "وباعوه".]] لِلسَّيَّارَةِ، وَلَمْ يَدْرُوا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهِ، وَلَا كَانُوا يَسْتَشْعِرُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ أَنْ يَصِيرَ إِلَى مَا صَارَ إِلَيْهِ، فَلِهَذَا لَمْ يَعْرِفُوهُ، وأما هو فعرفهم.
فَذَكَرَ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ: أَنَّهُ شَرَعَ يُخَاطِبُهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ كَالْمُنْكِرِ عَلَيْهِمْ: مَا أَقْدَمُكُمْ بِلَادِي؟ قَالُوا: أَيُّهَا الْعَزِيزُ، إِنَّا قَدِمْنَا لِلْمِيرَةِ. قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ عُيُونٌ؟ قَالُوا: مَعَاذَ اللَّهِ. قَالَ: فَمَنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ بِلَادِ كَنْعَانَ، وَأَبُونَا يَعْقُوبُ نَبِيُّ اللَّهِ. قَالَ: وَلَهُ أَوْلَادٌ غَيْرُكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، كُنَّا اثْنَى عَشَرَ، فَذَهَبَ أَصْغَرُنَا، هَلَكَ فِي البَرِيَّة، وَكَانَ أَحَبَّنَا إِلَى أَبِيهِ، وَبَقِيَ شَقِيقُهُ فَاحْتَبَسَهُ [[في ت: "فاحبسوه".]] أَبُوهُ لِيَتَسَلَّى بِهِ عَنْهُ. فَأَمْرٌ بِإِنْزَالِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ.
﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ﴾ أَيْ: وَفَّاهم كَيْلَهُمْ، وَحَمَّلَ لَهُمْ أَحْمَالَهُمْ قَالَ: ائْتُونِي بِأَخِيكُمْ هَذَا الَّذِي ذَكَرْتُمْ، لِأَعْلَمَ صِدْقَكُمْ فِيمَا ذَكَرْتُمْ، ﴿أَلا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزلِينَ﴾ يُرَغِّبُهُمْ فِي الرُّجُوعِ إِلَيْهِ، ثُمَّ رَهَّبَهم فَقَالَ: ﴿فَإِنْ لَمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِي وَلا تَقْرَبُونِ﴾ أَيْ: إِنْ لَمْ تَقْدَمُوا بِهِ مَعَكُمْ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ، فَلَيْسَ لَكُمْ عِنْدِي مِيرَةٌ، ﴿وَلا تَقْرَبُونِ قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ﴾ أَيْ: سَنَحْرِصُ عَلَى مَجِيئِهِ إِلَيْكَ بِكُلِّ مُمْكِنٍ وَلَا نُبْقِي مَجْهُودًا لِتَعْلَمَ صِدْقَنَا فِيمَا قُلْنَاهُ.
وَذَكَرَ السُّدِّيُّ: أَنَّهُ أَخَذَ مِنْهُمْ رَهَائِنَ حَتَّى يَقْدُمُوا بِهِ مَعَهُمْ. وَفِي هَذَا نَظَرٌ؛ لِأَنَّهُ أَحْسَنَ إِلَيْهِمْ وَرَغَّبَهُمْ كَثِيرًا، وَهَذَا لِحِرْصِهِ [[في ت: "ولهذا بحرصه" وفي أ: "ولهذا يحرضهم".]] عَلَى رُجُوعِهِمْ.
﴿وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ﴾ أَيْ: غِلْمَانِهِ ﴿اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ﴾ وَهِيَ الَّتِي قَدِمُوا بِهَا لِيَمْتَارُوا عِوَضًا عَنْهَا ﴿فِي رِحَالِهِمْ﴾ أَيْ: فِي أَمْتِعَتِهِمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ، ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ بِهَا.
قِيلَ: خَشِيَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَلَّا يَكُونَ عِنْدَهُمْ بِضَاعَةٌ أُخْرَى يَرْجِعُونَ لِلْمِيرَةِ بِهَا. وَقِيلَ: تَذَمَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ أَبِيهِ وَإِخْوَتِهِ عِوَضًا عَنِ الطَّعَامِ. وَقِيلَ: أَرَادَ أَنْ يَرُدَّهُمْ إِذَا وَجَدُوهَا فِي مَتَاعِهِمْ تَحَرُّجًا وَتَوَرُّعًا لِأَنَّهُ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُمْ [[في ت، أ: "منهم ذلك".]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
فَلَمَّا رَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ
So when they returned to their father, they said, "O our father, [further] measure has been denied to us, so send with us our brother [that] we will be given measure. And indeed, we will be his guardians."
جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں
هنگامی که به سوی پدرشان بازگشتند، گفتند: «ای پدر! دستور داده شده که (بدون حضور برادرمان بنیامین) پیمانهای (از غلّه) به ما ندهند؛ پس برادرمان را با ما بفرست، تا سهمی (از غلّه) دریافت داریم؛ و ما او را محافظت خواهیم کرد!»
Tafsir Ibn Kathir
So, when they returned to their father, they said: "O our father! No more measure of grain shall we get (unless we take our brother). So send our brother with us, and we shall get our measure and truly, we will guard him. (63)He said: "Can I entrust him to you except as I entrusted his brother [Yusuf] to you aforetime? But Allah is the Best to guard, and He is the Most Merciful of those who show mercy. (64)
Yusuf's Brothers ask Ya'qub's Permission to send Their Brother Binyamin with Them to Egypt
Allah says that when they went back to their father,
قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ
(they said: "O our father! No more measure of grain shall we get...") 'after this time, unless you send our brother Binyamin with us. So send him with us, and we shall get our measure and we shall certainly guard him.' Some scholars read this Ayah in a way that means, 'and he shall get his ration.' They said,
وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
(and truly, we will guard him.), 'do not fear for his safety, for he will be returned back to you.' This is what they said to Ya'qub about their brother Yusuf,
أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
("Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and verily, we will take care of him.")[12:12] This is why Prophet Ya'qub said to them,
هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَا أَمِنتُكُمْ عَلَىٰ أَخِيهِ مِن قَبْلُ
(Can I entrust him to you except as I entrusted his brother [Yusuf] to you aforetime?) He asked them, 'Will you do to him except what you did to his brother Yusuf before, when you took him away from me and separated me from him?'
فَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(But Allah is the Best to guard, and He is the Most Merciful of those who show mercy.) Ya'qub said, 'Allah has the most mercy with me among all those who show mercy, He is compassionate with me for my old age, feebleness and eagerness for my son. I invoke Allah to return him to me, and to allow him and I to be together; for surely, He is the Most Merciful of those who show mercy.'
Tafsir Ibn Kathir
بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھجیں اگر انہیں ساتھ کردیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بےفکر رہئے ہم اس کی نگہبانی کرلیں گے نکتل کی دوسری قرأت یکتل بھی ہے۔ حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ بس وہی تم ان کے ساتھ کرو گے جو اس سے پہلے ان کے بھائی حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کرچکے ہو کہ یہاں سے لے گئے اور یہاں پہنچ کر کوئی بات بنادی۔ حافظاکی دوسری قرأت حفظا بھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہترین حافظ اور نگہبان ہے اور ہے بھی وہ ارحم الراحمین میرے بڑھاپے پر میری کمزوری پر رحم فرمائے گا اور جو غم و رنج مجھے اپنے بچے کا ہے وہ دور کر دے گا۔ مجھے اس کی پاک ذات سے امید ہے کہ وہ میرے یوسف کو مجھ سے پھر ملا دے گا اور میری پراگندگی کو دور کر دے گا۔ اس پر کوئی کام مشکل نہیں وہ اپنے بندوں سے اپنے رحم وکرم کو نہیں روکتا۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ ﴿قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ﴾ يَعْنُونَ بَعْدَ هَذِهِ الْمَرَّةِ، إِنْ لَمْ تُرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا بِنْيَامِينَ، فَأَرْسِلْهُ مَعَنَا نَكْتَلْ.
وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: [يَكْتَلْ] [[زيادة من ت، أ.]] بِالْيَاءِ، أَيْ يَكْتَلُ هُوَ، ﴿وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ أَيْ: لَا تَخَفْ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ سَيَرْجِعُ إِلَيْكَ. وَهَذَا كَمَا قَالُوا لَهُ فِي يُوسُفَ: ﴿أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ [[في ت، أ: "نرتع ونلعب".]] ؛ وَلِهَذَا قَالَ لَهُمْ: ﴿هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلا كَمَا أَمِنْتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِنْ قَبْلُ﴾ أَيْ: هَلْ أَنْتُمْ صَانِعُونَ بِهِ إِلَّا كَمَا صَنَعْتُمْ بِأَخِيهِ مِنْ قَبْلُ، تُغَيِّبُونَهُ عَنِّي، وَتَحُولُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ؟ ﴿فَاللَّهُ خَيْرٌ حفظًا﴾ وقرأ بعضهم: "حَافِظًا" ﴿وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ أَيْ: هُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ بِي، وَسَيَرْحَمُ كِبَرِي وَضَعْفِي وَوَجْدِي بِوَلَدِي، وَأَرْجُو مِنَ اللَّهِ أَنْ يَرُدَّهُ عَلَيَّ، وَيَجْمَعَ شَمْلِي بِهِ، إِنَّهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ.
قَالَ هَلْ ءَامَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ ۖ فَٱللَّهُ خَيْرٌ حَٰفِظًۭا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
He said, "Should I entrust you with him except [under coercion] as I entrusted you with his brother before? But Allah is the best guardian, and He is the most merciful of the merciful."
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
گفت: «آیا نسبت به او به شما اطمینان کنم همانگونه که نسبت به برادرش (یوسف) اطمینان کردم (و دیدید چه شد)؟! و (در هر حال،) خداوند بهترین حافظ، و مهربانترین مهربانان است»
Tafsir Ibn Kathir
So, when they returned to their father, they said: "O our father! No more measure of grain shall we get (unless we take our brother). So send our brother with us, and we shall get our measure and truly, we will guard him. (63)He said: "Can I entrust him to you except as I entrusted his brother [Yusuf] to you aforetime? But Allah is the Best to guard, and He is the Most Merciful of those who show mercy. (64)
Yusuf's Brothers ask Ya'qub's Permission to send Their Brother Binyamin with Them to Egypt
Allah says that when they went back to their father,
قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ
(they said: "O our father! No more measure of grain shall we get...") 'after this time, unless you send our brother Binyamin with us. So send him with us, and we shall get our measure and we shall certainly guard him.' Some scholars read this Ayah in a way that means, 'and he shall get his ration.' They said,
وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
(and truly, we will guard him.), 'do not fear for his safety, for he will be returned back to you.' This is what they said to Ya'qub about their brother Yusuf,
أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
("Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and verily, we will take care of him.")[12:12] This is why Prophet Ya'qub said to them,
هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَا أَمِنتُكُمْ عَلَىٰ أَخِيهِ مِن قَبْلُ
(Can I entrust him to you except as I entrusted his brother [Yusuf] to you aforetime?) He asked them, 'Will you do to him except what you did to his brother Yusuf before, when you took him away from me and separated me from him?'
فَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(But Allah is the Best to guard, and He is the Most Merciful of those who show mercy.) Ya'qub said, 'Allah has the most mercy with me among all those who show mercy, He is compassionate with me for my old age, feebleness and eagerness for my son. I invoke Allah to return him to me, and to allow him and I to be together; for surely, He is the Most Merciful of those who show mercy.'
Tafsir Ibn Kathir
بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھجیں اگر انہیں ساتھ کردیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بےفکر رہئے ہم اس کی نگہبانی کرلیں گے نکتل کی دوسری قرأت یکتل بھی ہے۔ حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ بس وہی تم ان کے ساتھ کرو گے جو اس سے پہلے ان کے بھائی حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کرچکے ہو کہ یہاں سے لے گئے اور یہاں پہنچ کر کوئی بات بنادی۔ حافظاکی دوسری قرأت حفظا بھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہترین حافظ اور نگہبان ہے اور ہے بھی وہ ارحم الراحمین میرے بڑھاپے پر میری کمزوری پر رحم فرمائے گا اور جو غم و رنج مجھے اپنے بچے کا ہے وہ دور کر دے گا۔ مجھے اس کی پاک ذات سے امید ہے کہ وہ میرے یوسف کو مجھ سے پھر ملا دے گا اور میری پراگندگی کو دور کر دے گا۔ اس پر کوئی کام مشکل نہیں وہ اپنے بندوں سے اپنے رحم وکرم کو نہیں روکتا۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ ﴿قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ﴾ يَعْنُونَ بَعْدَ هَذِهِ الْمَرَّةِ، إِنْ لَمْ تُرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا بِنْيَامِينَ، فَأَرْسِلْهُ مَعَنَا نَكْتَلْ.
وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: [يَكْتَلْ] [[زيادة من ت، أ.]] بِالْيَاءِ، أَيْ يَكْتَلُ هُوَ، ﴿وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ أَيْ: لَا تَخَفْ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ سَيَرْجِعُ إِلَيْكَ. وَهَذَا كَمَا قَالُوا لَهُ فِي يُوسُفَ: ﴿أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ [[في ت، أ: "نرتع ونلعب".]] ؛ وَلِهَذَا قَالَ لَهُمْ: ﴿هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلا كَمَا أَمِنْتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِنْ قَبْلُ﴾ أَيْ: هَلْ أَنْتُمْ صَانِعُونَ بِهِ إِلَّا كَمَا صَنَعْتُمْ بِأَخِيهِ مِنْ قَبْلُ، تُغَيِّبُونَهُ عَنِّي، وَتَحُولُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ؟ ﴿فَاللَّهُ خَيْرٌ حفظًا﴾ وقرأ بعضهم: "حَافِظًا" ﴿وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ أَيْ: هُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ بِي، وَسَيَرْحَمُ كِبَرِي وَضَعْفِي وَوَجْدِي بِوَلَدِي، وَأَرْجُو مِنَ اللَّهِ أَنْ يَرُدَّهُ عَلَيَّ، وَيَجْمَعَ شَمْلِي بِهِ، إِنَّهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ.
وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَٰعَهُمْ وَجَدُوا۟ بِضَٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى ۖ هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍۢ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌۭ يَسِيرٌۭ
And when they opened their baggage, they found their merchandise returned to them. They said, "O our father, what [more] could we desire? This is our merchandise returned to us. And we will obtain supplies for our family and protect our brother and obtain an increase of a camel's load; that is an easy measurement."
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے
و هنگامی که متاع خود را گشودند، دیدند سرمایه آنها به آنها بازگردانده شده! گفتند: «پدر! ما دیگر چه میخواهیم؟! این سرمایه ماست که به ما باز پس گردانده شده است! (پس چه بهتر که برادر را با ما بفرستی؛) و ما برای خانواده خویش موادّ غذایی میآوریم؛ و برادرمان را حفظ خواهیم کرد؛ و یک بار شتر زیادتر دریافت خواهیم داشت؛ این پیمانه (بار) کوچکی است!»
Tafsir Ibn Kathir
And when they opened their bags, they found their money had been returned to them. They said: "O our father! What (more) can we desire? This, our money has been returned to us; so we shall get (more) food for our family, and we shall guard our brother and add one more measure of a camel's load. This quantity is easy (for the king to give). (65)He Ya'qub said: "I will not send him with you until you swear a solemn oath to me in Allah's Name, that you will bring him back to me unless you are yourselves surrounded (by enemies)," And when they had sworn their solemn oath, he said: "Allah is the Witness to what we have said. (66)
They find Their Money returned to Their Bags
Allah says, when Yusuf's brothers opened their bags, they found their merchandise inside them, for Yusuf had ordered his servants to return it to their bags. When they found their merchandise in their bags,
قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي
(They said: "O our father! What (more) can we desire?..."), what more can we ask for,
هَٰذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا
(This, our money has been returned to us;) Qatadah commented (that they said), "What more can we ask for, our merchandise was returned to us and the 'Aziz has given us the sufficient load we wanted?" They said next,
وَنَمِيرُ أَهْلَنَا
(so we shall get (more) food for our family,), 'if you send our brother with us the next time we go to buy food for our family,'
وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ
(and we shall guard our brother and add one more measure of a camel's load.) since Yusuf, peace be upon him, gave each man a camel's load of corn.
ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ
(This quantity is easy (for the king to give).) They said these words to make their case more appealing, saying that taking their brother with them is worth this gain,
قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ
(He [Ya'qub (Jacob)] said: "I will not send him with you until you swear a solemn oath to me in Allah's Name..."), until you swear by Allah with the strongest oath,
لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلَّا أَن يُحَاطَ بِكُمْ
(that you will bring him back to me unless you are yourselves surrounded (by enemies)), unless you were all overwhelmed and were unable to rescue him,
فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ
(And when they had sworn their solemn oath), he affirmed it further, saying,
اللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
(Allah is the Witness to what we have said.) Ibn Ishaq commented, "Ya'qub did that because he had no choice but to send them to bring necessary food supplies for their survival. So he sent Binyamin with them."
Tafsir Ibn Kathir
یہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی نے ان کا مال و متاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کردیا تھا۔ یہاں گھر پہنچ کر جب انہوں نے کجاوے کھولے اور اسباب علیحدہ علیحدہ کیا تو اپنی چیزیں جوں کی توں واپس شدہ پائیں تو اپنے والد سے کہنے لگے لیجئے اب آپ کو اور کیا چاہئے۔ اصل تک تو عزیز مصر نے ہمیں واپس کردی ہے اور بدلے کا غلہ پورا پورا دے دیا ہے۔ اب تو آپ بھائی صاحب کو ضرور ہمارے ساتھ کر دیجئے تو ہم خاندان کے لئے غلہ بھی لائیں گے اور بھائی کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ اور بھی مل جائے گا کیونکہ عزیز مصر ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ ہی دیتے ہیں۔ اور آپ کو انہیں ہمارے ساتھ کرنے میں تامل کیوں ہے ؟ ہم اس کی دیکھ بھال اور نگہداشت پوری طرح کریں گے۔ یہ ناپ بہت ہی آسان ہے یہ تھا اللہ کا کلام کا تتممہ اور کلام کو اچھا کرنا۔ حضرت یعقوب ؑ ان تمام باتوں کے جواب میں فرماتے ہیں کہ جب تک تم حلفیہ اقرار نہ کرو کہ اپنے اس بھائی کو اپنے ہمراہ مجھ تک واپس پہنچاؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ بھیجنے کا نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ نہ کرے تم سب ہی گھر جاؤ اور چھوٹ نہ سکو۔ چناچہ بیٹوں نے اللہ کو بیچ میں رکھ کر مضبوط عہدو پیمان کیا۔ اب حضرت یعقوب ؑ نے یہ فرما کر کہ ہماری اس گفتگو کا اللہ وکیل ہے۔ اپنے پیارے بچے کو ان کے ساتھ کردیا۔ اس لئے کہ قحط کے مارے غلے کی ضرورت تھی اور بغیر بھیجے چارہ نہ تھا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَلَمَّا فَتَحَ إِخْوَةُ يُوسُفَ مَتَاعَهُمْ، وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ، وَهِيَ الَّتِي كَانَ أَمَرَ يُوسُفُ فِتْيَانَهُ بِوَضْعِهَا فِي رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا وَجَدُوهَا فِي مَتَاعِهِمْ ﴿قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي﴾ ؟ أَيْ: مَاذَا نُرِيدُ؟ ﴿هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا﴾ كَمَا قَالَ قَتَادَةُ. مَا نَبْغِي وَرَاءَ هَذَا [[في أ: "هذه".]] ؟ إِنَّ بِضَاعَتَنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَقَدْ أُوفِيَ لَنَا الْكَيْلُ.
﴿وَنَمِيرُ أَهْلَنَا﴾ أَيْ: إِذَا أَرْسَلْتَ أَخَانَا مَعَنَا نَأْتِي بِالْمِيرَةِ إِلَى أَهْلِنَا، ﴿وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنزدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ حِمْلَ بَعِيرٍ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: حِمْلَ حِمَارٍ. وَقَدْ يُسَمَّى فِي بَعْضِ اللُّغَاتِ بَعِيرًا، كَذَا قَالَ.
﴿ذَلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ﴾ هَذَا مِنْ تَمَامِ الْكَلَامِ وَتَحْسِينِهِ، أَيْ: إِنَّ هَذَا يَسِيرٌ فِي مُقَابَلَةِ أَخْذِ أَخِيهِمْ مَا يَعْدِلُ هَذَا.
﴿قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ﴾ أَيْ: تَحْلِفُونَ [[في ت: "تحلفوا".]] بِالْعُهُودِ وَالْمَوَاثِيقِ، ﴿لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلا أَنْ يُحَاطَ بِكُمْ﴾ إِلَّا أَنْ تُغْلَبُوا كُلُّكُمْ وَلَا تَقْدِرُونَ عَلَى تَخْلِيصِهِ.
﴿فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ﴾ أَكَّدَهُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: ﴿اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ﴾
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَإِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَجِدْ بُدًّا مَنْ بَعْثِهِمْ لِأَجْلِ الْمِيرَةِ، الَّتِي لَا غنى لهم عنها، فبعثه معهم.
قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ
[Jacob] said, "Never will I send him with you until you give me a promise by Allah that you will bring him [back] to me, unless you should be surrounded by enemies." And when they had given their promise, he said, "Allah, over what we say, is Witness."
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
گفت: «من هرگز او را با شما نخواهم فرستاد، تا پیمان مؤکّد الهی بدهید که او را حتماً نزد من خواهید آورد! مگر اینکه (بر اثر مرگ یا علّت دیگر،) قدرت از شما سلب گردد. و هنگامی که آنها پیمان استوار خود را در اختیار او گذاردند، گفت: «خداوند، نسبت به آنچه میگوییم، ناظر و نگهبان است!»
Tafsir Ibn Kathir
And when they opened their bags, they found their money had been returned to them. They said: "O our father! What (more) can we desire? This, our money has been returned to us; so we shall get (more) food for our family, and we shall guard our brother and add one more measure of a camel's load. This quantity is easy (for the king to give). (65)He Ya'qub said: "I will not send him with you until you swear a solemn oath to me in Allah's Name, that you will bring him back to me unless you are yourselves surrounded (by enemies)," And when they had sworn their solemn oath, he said: "Allah is the Witness to what we have said. (66)
They find Their Money returned to Their Bags
Allah says, when Yusuf's brothers opened their bags, they found their merchandise inside them, for Yusuf had ordered his servants to return it to their bags. When they found their merchandise in their bags,
قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي
(They said: "O our father! What (more) can we desire?..."), what more can we ask for,
هَٰذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا
(This, our money has been returned to us;) Qatadah commented (that they said), "What more can we ask for, our merchandise was returned to us and the 'Aziz has given us the sufficient load we wanted?" They said next,
وَنَمِيرُ أَهْلَنَا
(so we shall get (more) food for our family,), 'if you send our brother with us the next time we go to buy food for our family,'
وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ
(and we shall guard our brother and add one more measure of a camel's load.) since Yusuf, peace be upon him, gave each man a camel's load of corn.
ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ
(This quantity is easy (for the king to give).) They said these words to make their case more appealing, saying that taking their brother with them is worth this gain,
قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ
(He [Ya'qub (Jacob)] said: "I will not send him with you until you swear a solemn oath to me in Allah's Name..."), until you swear by Allah with the strongest oath,
لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلَّا أَن يُحَاطَ بِكُمْ
(that you will bring him back to me unless you are yourselves surrounded (by enemies)), unless you were all overwhelmed and were unable to rescue him,
فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ
(And when they had sworn their solemn oath), he affirmed it further, saying,
اللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
(Allah is the Witness to what we have said.) Ibn Ishaq commented, "Ya'qub did that because he had no choice but to send them to bring necessary food supplies for their survival. So he sent Binyamin with them."
Tafsir Ibn Kathir
یہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی نے ان کا مال و متاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کردیا تھا۔ یہاں گھر پہنچ کر جب انہوں نے کجاوے کھولے اور اسباب علیحدہ علیحدہ کیا تو اپنی چیزیں جوں کی توں واپس شدہ پائیں تو اپنے والد سے کہنے لگے لیجئے اب آپ کو اور کیا چاہئے۔ اصل تک تو عزیز مصر نے ہمیں واپس کردی ہے اور بدلے کا غلہ پورا پورا دے دیا ہے۔ اب تو آپ بھائی صاحب کو ضرور ہمارے ساتھ کر دیجئے تو ہم خاندان کے لئے غلہ بھی لائیں گے اور بھائی کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ اور بھی مل جائے گا کیونکہ عزیز مصر ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ ہی دیتے ہیں۔ اور آپ کو انہیں ہمارے ساتھ کرنے میں تامل کیوں ہے ؟ ہم اس کی دیکھ بھال اور نگہداشت پوری طرح کریں گے۔ یہ ناپ بہت ہی آسان ہے یہ تھا اللہ کا کلام کا تتممہ اور کلام کو اچھا کرنا۔ حضرت یعقوب ؑ ان تمام باتوں کے جواب میں فرماتے ہیں کہ جب تک تم حلفیہ اقرار نہ کرو کہ اپنے اس بھائی کو اپنے ہمراہ مجھ تک واپس پہنچاؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ بھیجنے کا نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ نہ کرے تم سب ہی گھر جاؤ اور چھوٹ نہ سکو۔ چناچہ بیٹوں نے اللہ کو بیچ میں رکھ کر مضبوط عہدو پیمان کیا۔ اب حضرت یعقوب ؑ نے یہ فرما کر کہ ہماری اس گفتگو کا اللہ وکیل ہے۔ اپنے پیارے بچے کو ان کے ساتھ کردیا۔ اس لئے کہ قحط کے مارے غلے کی ضرورت تھی اور بغیر بھیجے چارہ نہ تھا۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: وَلَمَّا فَتَحَ إِخْوَةُ يُوسُفَ مَتَاعَهُمْ، وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ، وَهِيَ الَّتِي كَانَ أَمَرَ يُوسُفُ فِتْيَانَهُ بِوَضْعِهَا فِي رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا وَجَدُوهَا فِي مَتَاعِهِمْ ﴿قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي﴾ ؟ أَيْ: مَاذَا نُرِيدُ؟ ﴿هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا﴾ كَمَا قَالَ قَتَادَةُ. مَا نَبْغِي وَرَاءَ هَذَا [[في أ: "هذه".]] ؟ إِنَّ بِضَاعَتَنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَقَدْ أُوفِيَ لَنَا الْكَيْلُ.
﴿وَنَمِيرُ أَهْلَنَا﴾ أَيْ: إِذَا أَرْسَلْتَ أَخَانَا مَعَنَا نَأْتِي بِالْمِيرَةِ إِلَى أَهْلِنَا، ﴿وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنزدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ﴾ وَذَلِكَ أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ حِمْلَ بَعِيرٍ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: حِمْلَ حِمَارٍ. وَقَدْ يُسَمَّى فِي بَعْضِ اللُّغَاتِ بَعِيرًا، كَذَا قَالَ.
﴿ذَلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ﴾ هَذَا مِنْ تَمَامِ الْكَلَامِ وَتَحْسِينِهِ، أَيْ: إِنَّ هَذَا يَسِيرٌ فِي مُقَابَلَةِ أَخْذِ أَخِيهِمْ مَا يَعْدِلُ هَذَا.
﴿قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ﴾ أَيْ: تَحْلِفُونَ [[في ت: "تحلفوا".]] بِالْعُهُودِ وَالْمَوَاثِيقِ، ﴿لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلا أَنْ يُحَاطَ بِكُمْ﴾ إِلَّا أَنْ تُغْلَبُوا كُلُّكُمْ وَلَا تَقْدِرُونَ عَلَى تَخْلِيصِهِ.
﴿فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ﴾ أَكَّدَهُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: ﴿اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ﴾
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَإِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَجِدْ بُدًّا مَنْ بَعْثِهِمْ لِأَجْلِ الْمِيرَةِ، الَّتِي لَا غنى لهم عنها، فبعثه معهم.
وَقَالَ يَٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍۢ وَٰحِدٍۢ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍۢ مُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ
And he said, "O my sons, do not enter from one gate but enter from different gates; and I cannot avail you against [the decree of] Allah at all. The decision is only for Allah; upon Him I have relied, and upon Him let those who would rely [indeed] rely."
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
و (هنگامی که میخواستند حرکت کنند، یعقوب) گفت: «فرزندان من! از یک در وارد نشوید؛ بلکه از درهای متفرّق وارد گردید (تا توجه مردم به سوی شما جلب نشود)! و (من با این دستور،) نمیتوانم حادثهای را که از سوی خدا حتمی است، از شما دفع کنم! حکم و فرمان، تنها از آنِ خداست! بر او توکّل کردهام؛ و همه متوکّلان باید بر او توکّل کنند!»
Tafsir Ibn Kathir
And he said: "O my sons! Do not enter by one gate, but enter by different gates, and I cannot avail you against Allah at all. Verily, the decision rests only with Allah. In Him, I put my trust and let all those that trust, put their trust in Him. (67)And when they entered according to their father's advice, it did not avail them in the least against (the will of) Allah; it was but a need of Ya'qub's inner self which he discharged. And verily, he was endowed with knowledge because We had taught him, but most men know not (68)
Ya'qub orders His Children to enter Egypt from Different Gates
Allah says that Ya'qub, peace be upon him, ordered his children, when he sent Binyamin with them to Egypt, to enter from different gates rather than all of them entering from one gate. Ibn 'Abbas, Muhammad bin Ka'b, Mujahid, Ad-Dahhak Qatadah, As-Suddi and several others said that he feared the evil eye for them, because they were handsome and looked beautiful and graceful. He feared that people might direct the evil eye at them, because the evil eye truly harms, by Allah's decree, and brings down the mighty warrior-rider from his horse. He next said,
وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ
(and I cannot avail you against Allah at all.) this precaution will not resist Allah's decision and appointed decree. Verily, whatever Allah wills, cannot be resisted or stopped,
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ - وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِي عَنْهُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ إِلَّا حَاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا
("Verily, the decision rests only with Allah. In Him, I put my trust and let all those that trust, put their trust in Him." And when they entered according to their father's advice, it did not avail them in the least against (the will of) Allah; it was but a need of Ya'qub's inner self which he discharged.), as a precaution against the evil eye,
وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ
(And verily, he was endowed with knowledge because We had taught him,) he had knowledge that he implemented, according to Qatadah and Ath-Thawri. Ibn Jarir said that this part of the Ayah means, he has knowledge that We taught him,
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(but most men know not.)
Tafsir Ibn Kathir
چونکہ اللہ کے نبی نے حضرت یعقوب ؑ کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لئے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا۔ نظر کا لگ جانا حق ہے۔ گھوڑ سوار کو یہ گرا دیتی ہے۔ پھر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ یہ میں جانتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ یہ تدبیر تقدیر میں ہیر پہیری نہیں کرسکتی۔ اللہ کی قضا کو کوئی شخص کسی تدبیر سے بدل نہیں سکتا۔ اللہ کا چاہا پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔ حکم اسی کا چلتا ہے۔ کون ہے جو اس کے ارادے کو بدل سکے ؟ اس کے فرمان کو ٹال سکے ؟ اس کی قضا کو لوٹا سکے ؟ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور مجھ پر ہی کیا موقوف ہے۔ ہر ایک توکل کرنے والے کو اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ چناچہ بیٹوں نے باپ کی فرماں برداری کی اور اسی طرح کئی ایک دروازوں میں بٹ گئے اور شہر میں پہنچے۔ اس طرح وہ اللہ کی قضا کو لوٹا نہیں سکتے تھے ہاں حضرت یعقوب ؑ نے ایک ظاہری تدبیر پوری کی کہ اس سے وہ نظر بد سے بچ جائیں۔ وہ ذی علم تھے، الہامی علم ان کے پاس تھا۔ ہاں اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى، إِخْبَارًا عَنْ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّهُ أَمَرَ بَنِيهِ لَمَّا جَهَّزَهُمْ مَعَ أَخِيهِمْ بِنْيَامِينَ إِلَى مِصْرَ، أَلَّا يُدْخِلُوا كُلُّهُمْ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ، وَلِيَدْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ، فَإِنَّهُ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَالضَّحَّاكُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدِّي: إِنَّهُ خَشِيَ عَلَيْهِمُ الْعَيْنَ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا ذَوِي جَمَالٍ وَهَيْئَةٍ حَسَنَةٍ، وَمَنْظَرٍ وَبَهَاءٍ، فَخَشِيَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَهُمُ النَّاسُ بِعُيُونِهِمْ؛ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ، تَسْتَنْزِلُ الْفَارِسَ عَنْ فَرَسِهِ.
وَرَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخّعي فِي قَوْلِهِ: ﴿وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ﴾ قَالَ: عَلِمَ أَنَّهُ سَيَلْقَى إِخْوَتَهُ فِي بَعْضِ الْأَبْوَابِ.
وَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ﴾ أَيْ: هَذَا الِاحْتِرَازُ لَا يَرُدُّ قَدَرَ اللَّهِ وَقَضَاءَهُ [[في ت: "قضاء الله وقدره".]] ؛ فَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا لَا يُخَالَفُ وَلَا يُمَانَعُ [[في ت: "لا يمانع ولا يخالف".]] ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُمْ مَا كَانَ يُغْنِي عَنْهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ إِلا حَاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا﴾ قَالُوا: هِيَ دَفْعُ إِصَابَةِ الْعَيْنِ لَهُمْ، ﴿وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِمَا عَلَّمْنَاهُ﴾ قَالَ قَتَادَةُ وَالثَّوْرِيُّ: لَذُو عَمَلٍ بِعِلْمِهِ. وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: لَذُو عِلْمٍ لِتَعْلِيمِنَا إِيَّاهُ، ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾
وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةًۭ فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا ۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍۢ لِّمَا عَلَّمْنَٰهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
And when they entered from where their father had ordered them, it did not avail them against Allah at all except [it was] a need within the soul of Jacob, which he satisfied. And indeed, he was a possessor of knowledge because of what We had taught him, but most of the people do not know.
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
و هنگامی که از همان طریق که پدر به آنها دستور داده بود وارد شدند، این کار هیچ حادثه حتمی الهی را نمیتوانست از آنها دور سازد، جز حاجتی در دل یعقوب (که از این طریق) انجام شد (و خاطرش آرام گرفت)؛ و او به خاطر تعلیمی که ما به او دادیم، علم فراوانی داشت؛ ولی بیشتر مردم نمیدانند!
Tafsir Ibn Kathir
And he said: "O my sons! Do not enter by one gate, but enter by different gates, and I cannot avail you against Allah at all. Verily, the decision rests only with Allah. In Him, I put my trust and let all those that trust, put their trust in Him. (67)And when they entered according to their father's advice, it did not avail them in the least against (the will of) Allah; it was but a need of Ya'qub's inner self which he discharged. And verily, he was endowed with knowledge because We had taught him, but most men know not (68)
Ya'qub orders His Children to enter Egypt from Different Gates
Allah says that Ya'qub, peace be upon him, ordered his children, when he sent Binyamin with them to Egypt, to enter from different gates rather than all of them entering from one gate. Ibn 'Abbas, Muhammad bin Ka'b, Mujahid, Ad-Dahhak Qatadah, As-Suddi and several others said that he feared the evil eye for them, because they were handsome and looked beautiful and graceful. He feared that people might direct the evil eye at them, because the evil eye truly harms, by Allah's decree, and brings down the mighty warrior-rider from his horse. He next said,
وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ
(and I cannot avail you against Allah at all.) this precaution will not resist Allah's decision and appointed decree. Verily, whatever Allah wills, cannot be resisted or stopped,
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ - وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِي عَنْهُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ إِلَّا حَاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا
("Verily, the decision rests only with Allah. In Him, I put my trust and let all those that trust, put their trust in Him." And when they entered according to their father's advice, it did not avail them in the least against (the will of) Allah; it was but a need of Ya'qub's inner self which he discharged.), as a precaution against the evil eye,
وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ
(And verily, he was endowed with knowledge because We had taught him,) he had knowledge that he implemented, according to Qatadah and Ath-Thawri. Ibn Jarir said that this part of the Ayah means, he has knowledge that We taught him,
وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(but most men know not.)
Tafsir Ibn Kathir
چونکہ اللہ کے نبی نے حضرت یعقوب ؑ کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لئے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا۔ نظر کا لگ جانا حق ہے۔ گھوڑ سوار کو یہ گرا دیتی ہے۔ پھر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ یہ میں جانتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ یہ تدبیر تقدیر میں ہیر پہیری نہیں کرسکتی۔ اللہ کی قضا کو کوئی شخص کسی تدبیر سے بدل نہیں سکتا۔ اللہ کا چاہا پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔ حکم اسی کا چلتا ہے۔ کون ہے جو اس کے ارادے کو بدل سکے ؟ اس کے فرمان کو ٹال سکے ؟ اس کی قضا کو لوٹا سکے ؟ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور مجھ پر ہی کیا موقوف ہے۔ ہر ایک توکل کرنے والے کو اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ چناچہ بیٹوں نے باپ کی فرماں برداری کی اور اسی طرح کئی ایک دروازوں میں بٹ گئے اور شہر میں پہنچے۔ اس طرح وہ اللہ کی قضا کو لوٹا نہیں سکتے تھے ہاں حضرت یعقوب ؑ نے ایک ظاہری تدبیر پوری کی کہ اس سے وہ نظر بد سے بچ جائیں۔ وہ ذی علم تھے، الہامی علم ان کے پاس تھا۔ ہاں اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى، إِخْبَارًا عَنْ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّهُ أَمَرَ بَنِيهِ لَمَّا جَهَّزَهُمْ مَعَ أَخِيهِمْ بِنْيَامِينَ إِلَى مِصْرَ، أَلَّا يُدْخِلُوا كُلُّهُمْ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ، وَلِيَدْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ، فَإِنَّهُ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَالضَّحَّاكُ، وَقَتَادَةُ، والسُّدِّي: إِنَّهُ خَشِيَ عَلَيْهِمُ الْعَيْنَ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا ذَوِي جَمَالٍ وَهَيْئَةٍ حَسَنَةٍ، وَمَنْظَرٍ وَبَهَاءٍ، فَخَشِيَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَهُمُ النَّاسُ بِعُيُونِهِمْ؛ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ، تَسْتَنْزِلُ الْفَارِسَ عَنْ فَرَسِهِ.
وَرَوَى ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخّعي فِي قَوْلِهِ: ﴿وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ﴾ قَالَ: عَلِمَ أَنَّهُ سَيَلْقَى إِخْوَتَهُ فِي بَعْضِ الْأَبْوَابِ.
وَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ﴾ أَيْ: هَذَا الِاحْتِرَازُ لَا يَرُدُّ قَدَرَ اللَّهِ وَقَضَاءَهُ [[في ت: "قضاء الله وقدره".]] ؛ فَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا لَا يُخَالَفُ وَلَا يُمَانَعُ [[في ت: "لا يمانع ولا يخالف".]] ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُمْ مَا كَانَ يُغْنِي عَنْهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ إِلا حَاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا﴾ قَالُوا: هِيَ دَفْعُ إِصَابَةِ الْعَيْنِ لَهُمْ، ﴿وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِمَا عَلَّمْنَاهُ﴾ قَالَ قَتَادَةُ وَالثَّوْرِيُّ: لَذُو عَمَلٍ بِعِلْمِهِ. وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: لَذُو عِلْمٍ لِتَعْلِيمِنَا إِيَّاهُ، ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾
وَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
And when they entered upon Joseph, he took his brother to himself; he said, "Indeed, I am your brother, so do not despair over what they used to do [to me]."
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا
هنگامی که (برادران) بر یوسف وارد شدند، برادرش را نزد خود جای داد و گفت: «من برادر تو هستم، از آنچه آنها انجام میدادند، غمگین و ناراحت نباش!»
Tafsir Ibn Kathir
And when they went in before Yusuf, he took his brother (Binyamin) to himself and said: "Verily, I am your brother, so grieve not for what they used to do. (69)
Yusuf comforts Binyamin
Allah states that when Yusuf's brothers went in before him along with his full brother Binyamin, he invited them to a place of honor as privileged guests. He granted them gifts and generous hospitality and kindness. He met his brother in confidence and told him the story of what happened to him and that he was in fact his brother. He said to him,
لَا تَبْتَئِسْ
(grieve not) nor feel sad for what they did to me.' He ordered Binyamin to hide the news from them and to refrain from telling them that the 'Aziz is his brother Yusuf. He plotted with him to keep him in Egypt enjoying honor and great hospitality.
Tafsir Ibn Kathir
بنیامین جو حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی تھے انہیں لے کر آپ کے اور بھائی جب مصر پہنچے آپ نے أپ نے سرکاری مہمان خانے میں ٹھیرایا، بڑی عزت تکریم کی اور صلہ اور انعام و اکرام دیا، اپنے بھائی سے تنہائی میں فرمایا کہ میں تیرا بھائی یوسف ہوں، اللہ نے مجھ پر یہ انعام و اکرام فرمایا ہے، اب تمہیں چاہئے کہ بھائیوں نے جو سلوک میرے ساتھ کیا ہے، اس کا رنج نہ کرو اور اس حقیقت کو بھی ان پر نہ کھولو میں کوشش میں ہوں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے پاس روک لوں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ إِخْوَةِ يُوسُفَ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى يُوسُفَ وَمَعَهُمْ أَخُوهُ شَقِيقُهُ بِنْيَامِينُ، فَأَدْخَلَهُمْ دَارَ كَرَامَتِهِ وَمَنْزِلَ ضِيَافَتِهِ، وَأَفَاضَ عَلَيْهِمُ الصِّلَةَ وَالْإِلْطَافَ وَالْإِحْسَانَ، وَاخْتَلَى بِأَخِيهِ فَأَطْلَعَهُ عَلَى شَأْنِهِ، وَمَا جَرَى لَهُ، وعَرّفه أَنَّهُ أَخُوهُ، وَقَالَ لَهُ: "لَا تَبْتَئِسْ" أَيْ: لَا تَأْسَفْ عَلَى مَا صَنَعُوا بِي، وَأَمَرَهُ بِكِتْمَانِ ذَلِكَ عَنْهُمْ، وَأَلَّا يُطْلِعَهُمْ عَلَى مَا أَطْلَعَهُ عَلَيْهِ مِنْ أَنَّهُ أَخُوهُ، وَتَوَاطَأَ مَعَهُ أَنَّهُ سَيَحْتَالُ عَلَى أَنْ يُبْقِيَهُ عِنْدَهُ، مُعزّزًا مكرما معظما.
فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَٰرِقُونَ
So when he had furnished them with their supplies, he put the [gold measuring] bowl into the bag of his brother. Then an announcer called out, "O caravan, indeed you are thieves."
جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
و هنگامی که (مأمور یوسف) بارهای آنها را بست، ظرف آبخوری پادشاه را در بارِ برادرش گذاشت؛ سپس کسی صدا زد؛ «ای اهل قافله، شما دزد هستید!»
Tafsir Ibn Kathir
So when he furnished them forth with their provisions, he put the bowl in his brother's bag. Then a crier cried: "O you (in) the caravan! Surely, you are thieves! (70)They, turning towards them, said: "What is it that you have lost? (71)They said: "We have lost the bowl of the king and for him who produces it is (the reward of) a camel load; and I will be bound by it. (72)
Yusuf had His Golden Bowl placed in Binyamin's Bag; a Plot to keep Him in Egypt
After Yusuf supplied them with their provisions, he ordered some of his servants to place his silver bowl (in Binyamin's bag), according to the majority of scholars. Some scholars said that the king's bowl was made from gold. Ibn Zayd added that the king used it to drink from, and later, measured food grains with it since food became scarce in that time, according to Ibn 'Abbas, Mujahid, Qatadah, Ad-Dahhak and 'Abdur-Rahman bin Zayd. Shu'bah said that Abu Bishr narrated that Sa'id bin Jubayr said that Ibn 'Abbas said that the king's bowl was made from silver and he used it to drink with. Yusuf had the bowl placed in Binyamin's bag while they were unaware, and then had someone herald,
أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ
(O you (in) the caravan! Surely, you are thieves!) They looked at the man who was heralding this statement and asked him,
مَّاذَا تَفْقِدُونَ - قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ
("What is it that you have lost?" They said: "We have lost the bowl of the king..."), which he used to measure food grains,
وَلِمَن جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ
(and for him who produces it is a camel load), as a reward,
وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ
(and I will be bound by it.), as assurance of delivery of the reward.
Tafsir Ibn Kathir
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کردیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ کے بھائی حضرت بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ جواب ملا کہ شاہی پیمانہ جس سے اناج ناپا جاتا تھا، سنو شاہی اعلان ہے کہ اس کے ڈھونڈ لانے والے کو ایک بوجھ غلہ ملے گا اور میں خود ضامن ہوں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا جَهَّزَهُمْ وحَمَّل لَهُمْ أَبْعِرَتَهُمْ طَعَامًا، أَمَرَ بَعْضَ فِتْيَانِهِ أَنْ يَضَعَ "السِّقَايَةَ"، وَهِيَ: إِنَاءٌ مِنْ فِضَّةٍ فِي قَوْلِ الْأَكْثَرِينَ. وَقِيلَ: مِنْ ذَهَبٍ -قَالَهُ ابْنُ زَيْدٍ -كَانَ يَشْرَبُ فِيهِ، وَيَكِيلُ لِلنَّاسِ بِهِ مِنْ عزَّة الطَّعَامِ إِذْ ذَاكَ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ.
وَقَالَ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿صُوَاعَ الْمَلِكِ﴾ قَالَ: كَانَ مِنْ فِضَّةٍ يَشْرَبُونَ فِيهِ، وَكَانَ مِثْلَ الْمَكُّوكِ، وَكَانَ لِلْعَبَّاسِ مثلُه فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَضَعَهَا فِي مَتَاعِ بِنْيَامِينَ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُ أَحَدٌ، ثُمَّ نَادَى مُنَادٍ بَيْنَهُمْ: ﴿أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ﴾ فَالْتَفَتُوا إِلَى الْمُنَادِي وَقَالُوا: ﴿مَاذَا تَفْقِدُونَ قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ﴾ أَيْ: صَاعَهُ الَّذِي يَكِيلُ بِهِ، ﴿وَلِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ﴾ وَهَذَا مِنْ بَابِ الجُعَالة، ﴿وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ﴾ وَهَذَا مِنْ بَابِ الضَّمَانِ وَالْكَفَالَةِ.
قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ
They said while approaching them, "What is it you are missing?"
وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے
آنها رو به سوی او کردند و گفتند: «چه چیز گم کردهاید؟»
Tafsir Ibn Kathir
So when he furnished them forth with their provisions, he put the bowl in his brother's bag. Then a crier cried: "O you (in) the caravan! Surely, you are thieves! (70)They, turning towards them, said: "What is it that you have lost? (71)They said: "We have lost the bowl of the king and for him who produces it is (the reward of) a camel load; and I will be bound by it. (72)
Yusuf had His Golden Bowl placed in Binyamin's Bag; a Plot to keep Him in Egypt
After Yusuf supplied them with their provisions, he ordered some of his servants to place his silver bowl (in Binyamin's bag), according to the majority of scholars. Some scholars said that the king's bowl was made from gold. Ibn Zayd added that the king used it to drink from, and later, measured food grains with it since food became scarce in that time, according to Ibn 'Abbas, Mujahid, Qatadah, Ad-Dahhak and 'Abdur-Rahman bin Zayd. Shu'bah said that Abu Bishr narrated that Sa'id bin Jubayr said that Ibn 'Abbas said that the king's bowl was made from silver and he used it to drink with. Yusuf had the bowl placed in Binyamin's bag while they were unaware, and then had someone herald,
أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ
(O you (in) the caravan! Surely, you are thieves!) They looked at the man who was heralding this statement and asked him,
مَّاذَا تَفْقِدُونَ - قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ
("What is it that you have lost?" They said: "We have lost the bowl of the king..."), which he used to measure food grains,
وَلِمَن جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ
(and for him who produces it is a camel load), as a reward,
وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ
(and I will be bound by it.), as assurance of delivery of the reward.
Tafsir Ibn Kathir
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کردیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ کے بھائی حضرت بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ جواب ملا کہ شاہی پیمانہ جس سے اناج ناپا جاتا تھا، سنو شاہی اعلان ہے کہ اس کے ڈھونڈ لانے والے کو ایک بوجھ غلہ ملے گا اور میں خود ضامن ہوں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا جَهَّزَهُمْ وحَمَّل لَهُمْ أَبْعِرَتَهُمْ طَعَامًا، أَمَرَ بَعْضَ فِتْيَانِهِ أَنْ يَضَعَ "السِّقَايَةَ"، وَهِيَ: إِنَاءٌ مِنْ فِضَّةٍ فِي قَوْلِ الْأَكْثَرِينَ. وَقِيلَ: مِنْ ذَهَبٍ -قَالَهُ ابْنُ زَيْدٍ -كَانَ يَشْرَبُ فِيهِ، وَيَكِيلُ لِلنَّاسِ بِهِ مِنْ عزَّة الطَّعَامِ إِذْ ذَاكَ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ.
وَقَالَ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿صُوَاعَ الْمَلِكِ﴾ قَالَ: كَانَ مِنْ فِضَّةٍ يَشْرَبُونَ فِيهِ، وَكَانَ مِثْلَ الْمَكُّوكِ، وَكَانَ لِلْعَبَّاسِ مثلُه فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَضَعَهَا فِي مَتَاعِ بِنْيَامِينَ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُ أَحَدٌ، ثُمَّ نَادَى مُنَادٍ بَيْنَهُمْ: ﴿أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ﴾ فَالْتَفَتُوا إِلَى الْمُنَادِي وَقَالُوا: ﴿مَاذَا تَفْقِدُونَ قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ﴾ أَيْ: صَاعَهُ الَّذِي يَكِيلُ بِهِ، ﴿وَلِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ﴾ وَهَذَا مِنْ بَابِ الجُعَالة، ﴿وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ﴾ وَهَذَا مِنْ بَابِ الضَّمَانِ وَالْكَفَالَةِ.
قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍۢ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌۭ
They said, "We are missing the measure of the king. And for he who produces it is [the reward of] a camel's load, and I am responsible for it."
وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
گفتند: «پیمانه پادشاه را! و هر کس آن را بیاورد، یک بار شتر (غلّه) به او داده میشود؛ و من ضامن این (پاداش) هستم!»
Tafsir Ibn Kathir
So when he furnished them forth with their provisions, he put the bowl in his brother's bag. Then a crier cried: "O you (in) the caravan! Surely, you are thieves! (70)They, turning towards them, said: "What is it that you have lost? (71)They said: "We have lost the bowl of the king and for him who produces it is (the reward of) a camel load; and I will be bound by it. (72)
Yusuf had His Golden Bowl placed in Binyamin's Bag; a Plot to keep Him in Egypt
After Yusuf supplied them with their provisions, he ordered some of his servants to place his silver bowl (in Binyamin's bag), according to the majority of scholars. Some scholars said that the king's bowl was made from gold. Ibn Zayd added that the king used it to drink from, and later, measured food grains with it since food became scarce in that time, according to Ibn 'Abbas, Mujahid, Qatadah, Ad-Dahhak and 'Abdur-Rahman bin Zayd. Shu'bah said that Abu Bishr narrated that Sa'id bin Jubayr said that Ibn 'Abbas said that the king's bowl was made from silver and he used it to drink with. Yusuf had the bowl placed in Binyamin's bag while they were unaware, and then had someone herald,
أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ
(O you (in) the caravan! Surely, you are thieves!) They looked at the man who was heralding this statement and asked him,
مَّاذَا تَفْقِدُونَ - قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ
("What is it that you have lost?" They said: "We have lost the bowl of the king..."), which he used to measure food grains,
وَلِمَن جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ
(and for him who produces it is a camel load), as a reward,
وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ
(and I will be bound by it.), as assurance of delivery of the reward.
Tafsir Ibn Kathir
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کردیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ کے بھائی حضرت بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ جواب ملا کہ شاہی پیمانہ جس سے اناج ناپا جاتا تھا، سنو شاہی اعلان ہے کہ اس کے ڈھونڈ لانے والے کو ایک بوجھ غلہ ملے گا اور میں خود ضامن ہوں۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا جَهَّزَهُمْ وحَمَّل لَهُمْ أَبْعِرَتَهُمْ طَعَامًا، أَمَرَ بَعْضَ فِتْيَانِهِ أَنْ يَضَعَ "السِّقَايَةَ"، وَهِيَ: إِنَاءٌ مِنْ فِضَّةٍ فِي قَوْلِ الْأَكْثَرِينَ. وَقِيلَ: مِنْ ذَهَبٍ -قَالَهُ ابْنُ زَيْدٍ -كَانَ يَشْرَبُ فِيهِ، وَيَكِيلُ لِلنَّاسِ بِهِ مِنْ عزَّة الطَّعَامِ إِذْ ذَاكَ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ.
وَقَالَ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿صُوَاعَ الْمَلِكِ﴾ قَالَ: كَانَ مِنْ فِضَّةٍ يَشْرَبُونَ فِيهِ، وَكَانَ مِثْلَ الْمَكُّوكِ، وَكَانَ لِلْعَبَّاسِ مثلُه فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَضَعَهَا فِي مَتَاعِ بِنْيَامِينَ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُ أَحَدٌ، ثُمَّ نَادَى مُنَادٍ بَيْنَهُمْ: ﴿أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ﴾ فَالْتَفَتُوا إِلَى الْمُنَادِي وَقَالُوا: ﴿مَاذَا تَفْقِدُونَ قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ﴾ أَيْ: صَاعَهُ الَّذِي يَكِيلُ بِهِ، ﴿وَلِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ﴾ وَهَذَا مِنْ بَابِ الجُعَالة، ﴿وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ﴾ وَهَذَا مِنْ بَابِ الضَّمَانِ وَالْكَفَالَةِ.
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ
They said, "By Allah, you have certainly known that we did not come to cause corruption in the land, and we have not been thieves."
وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں
گفتند: «به خدا سوگند شما میدانید ما نیامدهایم که در این سرزمین فساد کنیم؛ و ما (هرگز) دزد نبودهایم!»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves! (73)They said: "What then shall be the penalty of him, if you are (proved to be) liars. (74)They [Yusuf's brothers] said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment (of the crime). Thus we punish the wrongdoers! (75)So he Yusuf began (the search) in their bags before the bag of his brother. Then he brought it out of his brother's bag. Thus did We plan for Yusuf. He could not take his brother by the law of the king (as a slave), except that Allah willed it. We raise to degrees whom We will, but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah)(76)
After Yusuf's servants accused his brothers of theft, they said,
تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
(By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) 'Ever since you knew us, you, due to our good conduct, became certain that,
مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
(we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) They said, 'Theft is not in our character, as you came to know.' Yusuf's men said,
فَمَا جَزَاؤُهُ
(What then shall be the penalty of him), in reference to the thief, if it came out that he is one of you,'
إِن كُنتُمْ كَاذِبِينَ
(if you are (proved to be) liars?) They asked them, 'What should be the thief's punishment if he is one of you?'
قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(They said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment. Thus we punish the wrongdoers!") This was the law of Prophet Ibrahim, peace be upon him, that the thief be given as a slave to the victim of theft. This is what Yusuf wanted, and this is why he started with their bags first before his brother's bag, to perfect the plot,
ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ
(Then he brought it out of his brother's bag.) Therefore, Yusuf took Binyamin as a slave according to their judgement and the law which they believed in. So Allah said;
كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ
(Thus did We plan for Yusuf.) and this is a good plot that Allah likes and prefers, because it seeks a certain benefit using wisdom and the benefit of all. Allah said next,
مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ
(He could not take his brother by the law of the king,) as a captive, for this was not the law of king of Egypt, according to Ad-Dahhak and several other scholars. Allah only allowed Yusuf to take his brother as a captive after his brothers agreed to this judgement beforehand, and he knew that this was their law. This is why Allah praised him when He said,
نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ
(We raise to degrees whom We will,) just as He said in another Ayah,
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ
(Allah will exalt in degree those of you who believe.)[58:11] Allah said next,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing.) Al-Hasan commented, "There is no knowledgeable person, but there is another person with more knowledge until it ends at Allah the Exalted and Most Honored." In addition, 'Abdur-Razzaq recorded that Sa'id bin Jubayr said, "We were with Ibn 'Abbas when he narrated an amazing Hadith. A man in the audience said, 'All praise is to Allah! There is an all-knowing above every person endowed with knowledge.' Ibn 'Abbas responded, 'Worse it is that which you said! Allah is the All-Knowing and His knowledge is above the knowledge of every knowledgeable person.' Simak narrated that 'Ikrimah said that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah).) "This person has more knowledge than that person, and Allah is above all knowledgeable persons." Similar was narrated from 'Ikrimah. Qatadah said, "Over every person endowed with knowledge is a more knowledgeable person until all knowledge ends with Allah. Verily, knowledge started from Allah, and from Him the scholars learn, and to Him all knowledge returns." 'Abdullah bin Mas'ud read the Ayah this way,
(وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ)
"And above every scholar, is the All-Knower (Allah)."
Tafsir Ibn Kathir
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لئے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہوچکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لئے اس میں سے نکلنا ہی تھا، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور حضرت یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لئے حضرت یوسف صدیق ؑ کو سکھائی تھی۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو حضرت یوسف ؑ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے یہی فیصلہ حضرت یوسف ؑ نے جاری کردیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے۔ اس لئے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے، بڑھا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتدا ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں فوق کل عالم علیم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا اتَّهَمَهُمْ أُولَئِكَ الْفِتْيَانُ بِالسَّرِقَةِ، قَالَ لَهُمْ إِخْوَةُ يُوسُفَ: ﴿تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الأرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ﴾ أَيْ: لَقَدْ تَحَقَّقْتُمْ وَعَلِمْتُمْ مُنْذُ [[في ت: "مذ".]] عَرَفْتُمُونَا، لِأَنَّهُمْ [[في ت: "لا لأنهم".]] شَاهَدُوا مِنْهُمْ سِيرَةً حَسَنَةً، أنَّا مَا جِئْنَا لِلْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ، وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ، أَيْ: لَيْسَتْ سَجَايَانَا تَقْتَضِي هَذِهِ الصِّفَةَ، فَقَالَ [[في أ: "فقالت".]] لَهُمُ الْفِتْيَانُ: ﴿فَمَا جَزَاؤُهُ﴾ أَيِ: السَّارِقُ، إِنْ كَانَ فِيكُمْ ﴿إِنْ كُنْتُمْ كَاذِبِينَ﴾ أَيْ: أَيُّ شَيْءٍ يَكُونُ عُقُوبَتَهُ إِنْ وَجَدْنَا فِيكُمْ مِنْ أَخَذَهُ [[في أ: "فيهم من أخذها".]] ؟ ﴿قَالُوا جَزَاؤُهُ مَنْ وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾
وَهَكَذَا كَانَتْ شَرِيعَةُ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّ السَّارِقَ يُدْفَعُ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ. وَهَذَا هُوَ الَّذِي أَرَادَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ وَلِهَذَا بَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ، أَيْ فَتَّشَهَا قَبْلَهُ، تَوْرِيَةً، ﴿ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ﴾ فَأَخَذَهُ مِنْهُمْ بِحُكْمِ اعْتِرَافِهِمْ وَالْتِزَامِهِمْ وَإِلْزَامًا لَهُمْ بِمَا يَعْتَقِدُونَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ﴾ وَهَذَا مِنَ الْكَيْدِ الْمَحْبُوبِ الْمُرَادِ الَّذِي يُحِبُّهُ اللَّهُ وَيَرْضَاهُ، لِمَا فِيهِ مِنَ الْحِكْمَةِ وَالْمَصْلَحَةِ الْمَطْلُوبَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ﴾ أَيْ: لَمْ يَكُنْ لَهُ أَخْذَهُ فِي حُكْمِ مَلِكِ مِصْرَ، قَالَهُ الضَّحَّاكُ وَغَيْرُهُ.
وَإِنَّمَا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ أَنِ [[في ت: "أنه".]] الْتَزَمَ لَهُ إِخْوَتُهُ بِمَا الْتَزَمُوهُ، وَهُوَ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْ شَرِيعَتِهِمْ؛ وَلِهَذَا مَدَحَهُ تَعَالَى فَقَالَ: ﴿نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾ [الْمُجَادَلَةِ: ١١] .
﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: لَيْسَ عَالِمٌ إِلَّا فَوْقَهُ عَالِمٌ، حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بن جبير قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَتَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ عَجِيبٍ، فَتَعَجَّبُ رَجُلٌ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ [فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِئْسَ مَا قُلْتَ، اللَّهُ الْعَلِيمُ، وَهُوَ فَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ] [[زيادة من ت، أ.]] وَكَذَا رَوَى سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ قَالَ: يَكُونُ هَذَا أَعْلَمَ مِنْ هَذَا، وَهَذَا أَعْلَمَ مِنْ هَذَا، وَاللَّهُ فَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ. وَهَكَذَا [[في ت، أ: "وكذا".]] قَالَ عِكْرِمَةُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ حَتَّى يَنْتَهِيَ الْعِلْمُ إِلَى اللَّهِ، مِنْهُ بُدئ وَتَعَلَّمَتِ الْعُلَمَاءُ، وَإِلَيْهِ يَعُودُ، وَفِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ "وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ".
قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَٰذِبِينَ
The accusers said, "Then what would be its recompense if you should be liars?"
بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
آنها گفتند: «اگر دروغگو باشید، کیفرش چیست؟»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves! (73)They said: "What then shall be the penalty of him, if you are (proved to be) liars. (74)They [Yusuf's brothers] said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment (of the crime). Thus we punish the wrongdoers! (75)So he Yusuf began (the search) in their bags before the bag of his brother. Then he brought it out of his brother's bag. Thus did We plan for Yusuf. He could not take his brother by the law of the king (as a slave), except that Allah willed it. We raise to degrees whom We will, but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah)(76)
After Yusuf's servants accused his brothers of theft, they said,
تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
(By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) 'Ever since you knew us, you, due to our good conduct, became certain that,
مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
(we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) They said, 'Theft is not in our character, as you came to know.' Yusuf's men said,
فَمَا جَزَاؤُهُ
(What then shall be the penalty of him), in reference to the thief, if it came out that he is one of you,'
إِن كُنتُمْ كَاذِبِينَ
(if you are (proved to be) liars?) They asked them, 'What should be the thief's punishment if he is one of you?'
قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(They said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment. Thus we punish the wrongdoers!") This was the law of Prophet Ibrahim, peace be upon him, that the thief be given as a slave to the victim of theft. This is what Yusuf wanted, and this is why he started with their bags first before his brother's bag, to perfect the plot,
ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ
(Then he brought it out of his brother's bag.) Therefore, Yusuf took Binyamin as a slave according to their judgement and the law which they believed in. So Allah said;
كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ
(Thus did We plan for Yusuf.) and this is a good plot that Allah likes and prefers, because it seeks a certain benefit using wisdom and the benefit of all. Allah said next,
مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ
(He could not take his brother by the law of the king,) as a captive, for this was not the law of king of Egypt, according to Ad-Dahhak and several other scholars. Allah only allowed Yusuf to take his brother as a captive after his brothers agreed to this judgement beforehand, and he knew that this was their law. This is why Allah praised him when He said,
نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ
(We raise to degrees whom We will,) just as He said in another Ayah,
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ
(Allah will exalt in degree those of you who believe.)[58:11] Allah said next,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing.) Al-Hasan commented, "There is no knowledgeable person, but there is another person with more knowledge until it ends at Allah the Exalted and Most Honored." In addition, 'Abdur-Razzaq recorded that Sa'id bin Jubayr said, "We were with Ibn 'Abbas when he narrated an amazing Hadith. A man in the audience said, 'All praise is to Allah! There is an all-knowing above every person endowed with knowledge.' Ibn 'Abbas responded, 'Worse it is that which you said! Allah is the All-Knowing and His knowledge is above the knowledge of every knowledgeable person.' Simak narrated that 'Ikrimah said that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah).) "This person has more knowledge than that person, and Allah is above all knowledgeable persons." Similar was narrated from 'Ikrimah. Qatadah said, "Over every person endowed with knowledge is a more knowledgeable person until all knowledge ends with Allah. Verily, knowledge started from Allah, and from Him the scholars learn, and to Him all knowledge returns." 'Abdullah bin Mas'ud read the Ayah this way,
(وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ)
"And above every scholar, is the All-Knower (Allah)."
Tafsir Ibn Kathir
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لئے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہوچکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لئے اس میں سے نکلنا ہی تھا، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور حضرت یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لئے حضرت یوسف صدیق ؑ کو سکھائی تھی۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو حضرت یوسف ؑ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے یہی فیصلہ حضرت یوسف ؑ نے جاری کردیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے۔ اس لئے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے، بڑھا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتدا ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں فوق کل عالم علیم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا اتَّهَمَهُمْ أُولَئِكَ الْفِتْيَانُ بِالسَّرِقَةِ، قَالَ لَهُمْ إِخْوَةُ يُوسُفَ: ﴿تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الأرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ﴾ أَيْ: لَقَدْ تَحَقَّقْتُمْ وَعَلِمْتُمْ مُنْذُ [[في ت: "مذ".]] عَرَفْتُمُونَا، لِأَنَّهُمْ [[في ت: "لا لأنهم".]] شَاهَدُوا مِنْهُمْ سِيرَةً حَسَنَةً، أنَّا مَا جِئْنَا لِلْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ، وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ، أَيْ: لَيْسَتْ سَجَايَانَا تَقْتَضِي هَذِهِ الصِّفَةَ، فَقَالَ [[في أ: "فقالت".]] لَهُمُ الْفِتْيَانُ: ﴿فَمَا جَزَاؤُهُ﴾ أَيِ: السَّارِقُ، إِنْ كَانَ فِيكُمْ ﴿إِنْ كُنْتُمْ كَاذِبِينَ﴾ أَيْ: أَيُّ شَيْءٍ يَكُونُ عُقُوبَتَهُ إِنْ وَجَدْنَا فِيكُمْ مِنْ أَخَذَهُ [[في أ: "فيهم من أخذها".]] ؟ ﴿قَالُوا جَزَاؤُهُ مَنْ وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾
وَهَكَذَا كَانَتْ شَرِيعَةُ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّ السَّارِقَ يُدْفَعُ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ. وَهَذَا هُوَ الَّذِي أَرَادَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ وَلِهَذَا بَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ، أَيْ فَتَّشَهَا قَبْلَهُ، تَوْرِيَةً، ﴿ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ﴾ فَأَخَذَهُ مِنْهُمْ بِحُكْمِ اعْتِرَافِهِمْ وَالْتِزَامِهِمْ وَإِلْزَامًا لَهُمْ بِمَا يَعْتَقِدُونَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ﴾ وَهَذَا مِنَ الْكَيْدِ الْمَحْبُوبِ الْمُرَادِ الَّذِي يُحِبُّهُ اللَّهُ وَيَرْضَاهُ، لِمَا فِيهِ مِنَ الْحِكْمَةِ وَالْمَصْلَحَةِ الْمَطْلُوبَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ﴾ أَيْ: لَمْ يَكُنْ لَهُ أَخْذَهُ فِي حُكْمِ مَلِكِ مِصْرَ، قَالَهُ الضَّحَّاكُ وَغَيْرُهُ.
وَإِنَّمَا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ أَنِ [[في ت: "أنه".]] الْتَزَمَ لَهُ إِخْوَتُهُ بِمَا الْتَزَمُوهُ، وَهُوَ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْ شَرِيعَتِهِمْ؛ وَلِهَذَا مَدَحَهُ تَعَالَى فَقَالَ: ﴿نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾ [الْمُجَادَلَةِ: ١١] .
﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: لَيْسَ عَالِمٌ إِلَّا فَوْقَهُ عَالِمٌ، حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بن جبير قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَتَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ عَجِيبٍ، فَتَعَجَّبُ رَجُلٌ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ [فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِئْسَ مَا قُلْتَ، اللَّهُ الْعَلِيمُ، وَهُوَ فَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ] [[زيادة من ت، أ.]] وَكَذَا رَوَى سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ قَالَ: يَكُونُ هَذَا أَعْلَمَ مِنْ هَذَا، وَهَذَا أَعْلَمَ مِنْ هَذَا، وَاللَّهُ فَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ. وَهَكَذَا [[في ت، أ: "وكذا".]] قَالَ عِكْرِمَةُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ حَتَّى يَنْتَهِيَ الْعِلْمُ إِلَى اللَّهِ، مِنْهُ بُدئ وَتَعَلَّمَتِ الْعُلَمَاءُ، وَإِلَيْهِ يَعُودُ، وَفِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ "وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ".
قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ
[The brothers] said, "Its recompense is that he in whose bag it is found - he [himself] will be its recompense. Thus do we recompense the wrongdoers."
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
گفتند: «هر کس (آن پیمانه) در بارِ او پیدا شود، خودش کیفر آن خواهد بود؛ (و بخاطر این کار، برده شما خواهد شد؛) ما اینگونه ستمگران را کیفر میدهیم!»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves! (73)They said: "What then shall be the penalty of him, if you are (proved to be) liars. (74)They [Yusuf's brothers] said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment (of the crime). Thus we punish the wrongdoers! (75)So he Yusuf began (the search) in their bags before the bag of his brother. Then he brought it out of his brother's bag. Thus did We plan for Yusuf. He could not take his brother by the law of the king (as a slave), except that Allah willed it. We raise to degrees whom We will, but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah)(76)
After Yusuf's servants accused his brothers of theft, they said,
تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
(By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) 'Ever since you knew us, you, due to our good conduct, became certain that,
مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
(we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) They said, 'Theft is not in our character, as you came to know.' Yusuf's men said,
فَمَا جَزَاؤُهُ
(What then shall be the penalty of him), in reference to the thief, if it came out that he is one of you,'
إِن كُنتُمْ كَاذِبِينَ
(if you are (proved to be) liars?) They asked them, 'What should be the thief's punishment if he is one of you?'
قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(They said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment. Thus we punish the wrongdoers!") This was the law of Prophet Ibrahim, peace be upon him, that the thief be given as a slave to the victim of theft. This is what Yusuf wanted, and this is why he started with their bags first before his brother's bag, to perfect the plot,
ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ
(Then he brought it out of his brother's bag.) Therefore, Yusuf took Binyamin as a slave according to their judgement and the law which they believed in. So Allah said;
كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ
(Thus did We plan for Yusuf.) and this is a good plot that Allah likes and prefers, because it seeks a certain benefit using wisdom and the benefit of all. Allah said next,
مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ
(He could not take his brother by the law of the king,) as a captive, for this was not the law of king of Egypt, according to Ad-Dahhak and several other scholars. Allah only allowed Yusuf to take his brother as a captive after his brothers agreed to this judgement beforehand, and he knew that this was their law. This is why Allah praised him when He said,
نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ
(We raise to degrees whom We will,) just as He said in another Ayah,
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ
(Allah will exalt in degree those of you who believe.)[58:11] Allah said next,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing.) Al-Hasan commented, "There is no knowledgeable person, but there is another person with more knowledge until it ends at Allah the Exalted and Most Honored." In addition, 'Abdur-Razzaq recorded that Sa'id bin Jubayr said, "We were with Ibn 'Abbas when he narrated an amazing Hadith. A man in the audience said, 'All praise is to Allah! There is an all-knowing above every person endowed with knowledge.' Ibn 'Abbas responded, 'Worse it is that which you said! Allah is the All-Knowing and His knowledge is above the knowledge of every knowledgeable person.' Simak narrated that 'Ikrimah said that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah).) "This person has more knowledge than that person, and Allah is above all knowledgeable persons." Similar was narrated from 'Ikrimah. Qatadah said, "Over every person endowed with knowledge is a more knowledgeable person until all knowledge ends with Allah. Verily, knowledge started from Allah, and from Him the scholars learn, and to Him all knowledge returns." 'Abdullah bin Mas'ud read the Ayah this way,
(وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ)
"And above every scholar, is the All-Knower (Allah)."
Tafsir Ibn Kathir
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لئے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہوچکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لئے اس میں سے نکلنا ہی تھا، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور حضرت یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لئے حضرت یوسف صدیق ؑ کو سکھائی تھی۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو حضرت یوسف ؑ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے یہی فیصلہ حضرت یوسف ؑ نے جاری کردیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے۔ اس لئے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے، بڑھا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتدا ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں فوق کل عالم علیم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا اتَّهَمَهُمْ أُولَئِكَ الْفِتْيَانُ بِالسَّرِقَةِ، قَالَ لَهُمْ إِخْوَةُ يُوسُفَ: ﴿تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الأرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ﴾ أَيْ: لَقَدْ تَحَقَّقْتُمْ وَعَلِمْتُمْ مُنْذُ [[في ت: "مذ".]] عَرَفْتُمُونَا، لِأَنَّهُمْ [[في ت: "لا لأنهم".]] شَاهَدُوا مِنْهُمْ سِيرَةً حَسَنَةً، أنَّا مَا جِئْنَا لِلْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ، وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ، أَيْ: لَيْسَتْ سَجَايَانَا تَقْتَضِي هَذِهِ الصِّفَةَ، فَقَالَ [[في أ: "فقالت".]] لَهُمُ الْفِتْيَانُ: ﴿فَمَا جَزَاؤُهُ﴾ أَيِ: السَّارِقُ، إِنْ كَانَ فِيكُمْ ﴿إِنْ كُنْتُمْ كَاذِبِينَ﴾ أَيْ: أَيُّ شَيْءٍ يَكُونُ عُقُوبَتَهُ إِنْ وَجَدْنَا فِيكُمْ مِنْ أَخَذَهُ [[في أ: "فيهم من أخذها".]] ؟ ﴿قَالُوا جَزَاؤُهُ مَنْ وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾
وَهَكَذَا كَانَتْ شَرِيعَةُ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّ السَّارِقَ يُدْفَعُ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ. وَهَذَا هُوَ الَّذِي أَرَادَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ وَلِهَذَا بَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ، أَيْ فَتَّشَهَا قَبْلَهُ، تَوْرِيَةً، ﴿ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ﴾ فَأَخَذَهُ مِنْهُمْ بِحُكْمِ اعْتِرَافِهِمْ وَالْتِزَامِهِمْ وَإِلْزَامًا لَهُمْ بِمَا يَعْتَقِدُونَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ﴾ وَهَذَا مِنَ الْكَيْدِ الْمَحْبُوبِ الْمُرَادِ الَّذِي يُحِبُّهُ اللَّهُ وَيَرْضَاهُ، لِمَا فِيهِ مِنَ الْحِكْمَةِ وَالْمَصْلَحَةِ الْمَطْلُوبَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ﴾ أَيْ: لَمْ يَكُنْ لَهُ أَخْذَهُ فِي حُكْمِ مَلِكِ مِصْرَ، قَالَهُ الضَّحَّاكُ وَغَيْرُهُ.
وَإِنَّمَا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ أَنِ [[في ت: "أنه".]] الْتَزَمَ لَهُ إِخْوَتُهُ بِمَا الْتَزَمُوهُ، وَهُوَ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْ شَرِيعَتِهِمْ؛ وَلِهَذَا مَدَحَهُ تَعَالَى فَقَالَ: ﴿نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾ [الْمُجَادَلَةِ: ١١] .
﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: لَيْسَ عَالِمٌ إِلَّا فَوْقَهُ عَالِمٌ، حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بن جبير قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَتَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ عَجِيبٍ، فَتَعَجَّبُ رَجُلٌ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ [فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِئْسَ مَا قُلْتَ، اللَّهُ الْعَلِيمُ، وَهُوَ فَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ] [[زيادة من ت، أ.]] وَكَذَا رَوَى سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ قَالَ: يَكُونُ هَذَا أَعْلَمَ مِنْ هَذَا، وَهَذَا أَعْلَمَ مِنْ هَذَا، وَاللَّهُ فَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ. وَهَكَذَا [[في ت، أ: "وكذا".]] قَالَ عِكْرِمَةُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ حَتَّى يَنْتَهِيَ الْعِلْمُ إِلَى اللَّهِ، مِنْهُ بُدئ وَتَعَلَّمَتِ الْعُلَمَاءُ، وَإِلَيْهِ يَعُودُ، وَفِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ "وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ".
فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ
So he began [the search] with their bags before the bag of his brother; then he extracted it from the bag of his brother. Thus did We plan for Joseph. He could not have taken his brother within the religion of the king except that Allah willed. We raise in degrees whom We will, but over every possessor of knowledge is one [more] knowing.
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
در این هنگام، (یوسف) قبل از بار برادرش، به کاوش بارهای آنها پرداخت؛ سپس آن را از بارِ برادرش بیرون آورد؛ این گونه راه چاره را به یوسف یاد دادیم! او هرگز نمیتوانست برادرش را مطابق آیین پادشاه (مصر) بگیرد، مگر آنکه خدا بخواهد! درجات هر کس را بخواهیم بالا میبریم؛ و برتر از هر صاحب علمی، عالمی است!
Tafsir Ibn Kathir
They said: "By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves! (73)They said: "What then shall be the penalty of him, if you are (proved to be) liars. (74)They [Yusuf's brothers] said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment (of the crime). Thus we punish the wrongdoers! (75)So he Yusuf began (the search) in their bags before the bag of his brother. Then he brought it out of his brother's bag. Thus did We plan for Yusuf. He could not take his brother by the law of the king (as a slave), except that Allah willed it. We raise to degrees whom We will, but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah)(76)
After Yusuf's servants accused his brothers of theft, they said,
تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
(By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) 'Ever since you knew us, you, due to our good conduct, became certain that,
مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
(we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) They said, 'Theft is not in our character, as you came to know.' Yusuf's men said,
فَمَا جَزَاؤُهُ
(What then shall be the penalty of him), in reference to the thief, if it came out that he is one of you,'
إِن كُنتُمْ كَاذِبِينَ
(if you are (proved to be) liars?) They asked them, 'What should be the thief's punishment if he is one of you?'
قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
(They said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment. Thus we punish the wrongdoers!") This was the law of Prophet Ibrahim, peace be upon him, that the thief be given as a slave to the victim of theft. This is what Yusuf wanted, and this is why he started with their bags first before his brother's bag, to perfect the plot,
ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ
(Then he brought it out of his brother's bag.) Therefore, Yusuf took Binyamin as a slave according to their judgement and the law which they believed in. So Allah said;
كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ
(Thus did We plan for Yusuf.) and this is a good plot that Allah likes and prefers, because it seeks a certain benefit using wisdom and the benefit of all. Allah said next,
مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ
(He could not take his brother by the law of the king,) as a captive, for this was not the law of king of Egypt, according to Ad-Dahhak and several other scholars. Allah only allowed Yusuf to take his brother as a captive after his brothers agreed to this judgement beforehand, and he knew that this was their law. This is why Allah praised him when He said,
نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ
(We raise to degrees whom We will,) just as He said in another Ayah,
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ
(Allah will exalt in degree those of you who believe.)[58:11] Allah said next,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing.) Al-Hasan commented, "There is no knowledgeable person, but there is another person with more knowledge until it ends at Allah the Exalted and Most Honored." In addition, 'Abdur-Razzaq recorded that Sa'id bin Jubayr said, "We were with Ibn 'Abbas when he narrated an amazing Hadith. A man in the audience said, 'All praise is to Allah! There is an all-knowing above every person endowed with knowledge.' Ibn 'Abbas responded, 'Worse it is that which you said! Allah is the All-Knowing and His knowledge is above the knowledge of every knowledgeable person.' Simak narrated that 'Ikrimah said that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah).) "This person has more knowledge than that person, and Allah is above all knowledgeable persons." Similar was narrated from 'Ikrimah. Qatadah said, "Over every person endowed with knowledge is a more knowledgeable person until all knowledge ends with Allah. Verily, knowledge started from Allah, and from Him the scholars learn, and to Him all knowledge returns." 'Abdullah bin Mas'ud read the Ayah this way,
(وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ)
"And above every scholar, is the All-Knower (Allah)."
Tafsir Ibn Kathir
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لئے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہوچکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لئے اس میں سے نکلنا ہی تھا، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور حضرت یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لئے حضرت یوسف صدیق ؑ کو سکھائی تھی۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو حضرت یوسف ؑ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے یہی فیصلہ حضرت یوسف ؑ نے جاری کردیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے۔ اس لئے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے، بڑھا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتدا ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں فوق کل عالم علیم ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا اتَّهَمَهُمْ أُولَئِكَ الْفِتْيَانُ بِالسَّرِقَةِ، قَالَ لَهُمْ إِخْوَةُ يُوسُفَ: ﴿تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الأرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ﴾ أَيْ: لَقَدْ تَحَقَّقْتُمْ وَعَلِمْتُمْ مُنْذُ [[في ت: "مذ".]] عَرَفْتُمُونَا، لِأَنَّهُمْ [[في ت: "لا لأنهم".]] شَاهَدُوا مِنْهُمْ سِيرَةً حَسَنَةً، أنَّا مَا جِئْنَا لِلْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ، وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ، أَيْ: لَيْسَتْ سَجَايَانَا تَقْتَضِي هَذِهِ الصِّفَةَ، فَقَالَ [[في أ: "فقالت".]] لَهُمُ الْفِتْيَانُ: ﴿فَمَا جَزَاؤُهُ﴾ أَيِ: السَّارِقُ، إِنْ كَانَ فِيكُمْ ﴿إِنْ كُنْتُمْ كَاذِبِينَ﴾ أَيْ: أَيُّ شَيْءٍ يَكُونُ عُقُوبَتَهُ إِنْ وَجَدْنَا فِيكُمْ مِنْ أَخَذَهُ [[في أ: "فيهم من أخذها".]] ؟ ﴿قَالُوا جَزَاؤُهُ مَنْ وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾
وَهَكَذَا كَانَتْ شَرِيعَةُ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّ السَّارِقَ يُدْفَعُ إِلَى الْمَسْرُوقِ مِنْهُ. وَهَذَا هُوَ الَّذِي أَرَادَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ وَلِهَذَا بَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ، أَيْ فَتَّشَهَا قَبْلَهُ، تَوْرِيَةً، ﴿ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ﴾ فَأَخَذَهُ مِنْهُمْ بِحُكْمِ اعْتِرَافِهِمْ وَالْتِزَامِهِمْ وَإِلْزَامًا لَهُمْ بِمَا يَعْتَقِدُونَهُ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ﴾ وَهَذَا مِنَ الْكَيْدِ الْمَحْبُوبِ الْمُرَادِ الَّذِي يُحِبُّهُ اللَّهُ وَيَرْضَاهُ، لِمَا فِيهِ مِنَ الْحِكْمَةِ وَالْمَصْلَحَةِ الْمَطْلُوبَةِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ﴾ أَيْ: لَمْ يَكُنْ لَهُ أَخْذَهُ فِي حُكْمِ مَلِكِ مِصْرَ، قَالَهُ الضَّحَّاكُ وَغَيْرُهُ.
وَإِنَّمَا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ أَنِ [[في ت: "أنه".]] الْتَزَمَ لَهُ إِخْوَتُهُ بِمَا الْتَزَمُوهُ، وَهُوَ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْ شَرِيعَتِهِمْ؛ وَلِهَذَا مَدَحَهُ تَعَالَى فَقَالَ: ﴿نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ﴾ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾ [الْمُجَادَلَةِ: ١١] .
﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: لَيْسَ عَالِمٌ إِلَّا فَوْقَهُ عَالِمٌ، حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بن جبير قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَتَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ عَجِيبٍ، فَتَعَجَّبُ رَجُلٌ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ [فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِئْسَ مَا قُلْتَ، اللَّهُ الْعَلِيمُ، وَهُوَ فَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ] [[زيادة من ت، أ.]] وَكَذَا رَوَى سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ قَالَ: يَكُونُ هَذَا أَعْلَمَ مِنْ هَذَا، وَهَذَا أَعْلَمَ مِنْ هَذَا، وَاللَّهُ فَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ. وَهَكَذَا [[في ت، أ: "وكذا".]] قَالَ عِكْرِمَةُ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: ﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ﴾ حَتَّى يَنْتَهِيَ الْعِلْمُ إِلَى اللَّهِ، مِنْهُ بُدئ وَتَعَلَّمَتِ الْعُلَمَاءُ، وَإِلَيْهِ يَعُودُ، وَفِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ "وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ".
۞ قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌۭ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
They said, "If he steals - a brother of his has stolen before." But Joseph kept it within himself and did not reveal it to them. He said, "You are worse in position, and Allah is most knowing of what you describe."
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
(برادران) گفتند: «اگر او [بنیامین] دزدی کند، (جای تعجب نیست؛) برادرش (یوسف) نیز قبل از او دزدی کرد» یوسف (سخت ناراحت شد، و) این (ناراحتی) را در درون خود پنهان داشت، و برای آنها آشکار نکرد؛ (همین اندازه) گفت: «شما (از دیدگاه من،) از نظر منزلت بدّترین مردمید! و خدا از آنچه توصیف میکنید، آگاهتر است!»
Tafsir Ibn Kathir
They [Yusuf's brothers] said: "If he steals, there was a brother of his [Yusuf] who did steal before (him). " But these things did Yusuf keep in himself, revealing not the secrets to them. He said (within himself): "You are in an evil situation, and Allah is the Best Knower of that which you describe! (77)
Yusuf's Brothers accuse Him of Theft!
After Yusuf's brothers saw that the king's bowl was taken out of Binyamin's bag, they said,
إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ
(If he steals, there was a brother of his who did steal before.) They tried to show themselves as innocent from being like Binyamin, saying that he did just like a brother of his did beforehand, meaning Yusuf, peace be upon him! Allah said,
فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ
(But these things did Yusuf keep in himself), meaning the statement that he said afterwards,
أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۖ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
(You are in an evil situation, and Allah is the Best Knower of that which you describe!) Yusuf said this to himself and did not utter it aloud, thus intending to hide what he wanted to say to himself even before he said it. Al-'Awfi reported that Ibn 'Abbas said about Allah's statement,
فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ
(But these things did Yusuf keep in himself), "He kept in himself [his statement next],
أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۖ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
(You are in an evil situation, and Allah is the Best Knower of that which you describe!)."
Tafsir Ibn Kathir
بھائی کے شلیتے میں سے جام کا نکلنا دیکھ کر بات بنادی کہ دیکھو اس نے چوری کی تھی اور یہی کیا اس کے بھائی یوسف نے بہی ایک مرتبہ اس سے پہلے چوری کرلی تھی۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ اپنے نانا کا بت چپکے سے اٹھا لائے تھے اور اسے توڑ دیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کی ایک بڑی بہن تھیں، جن کے پاس اپنے والد اسحاق ؑ کا ایک کمر پٹہ تھا جو خاندان کے بڑے آدمی کے پاس رہا کرتا تھا۔ حضرت یوسف ؑ پیدا ہوتے ہی اپنی ان پھوپھی صاحبہ کی پرورش میں تھے۔ انہیں حضرت یوسف ؑ سے کمال درجے کی محبت تھی۔ جب آپ کچھ بڑے ہوگئے تو حضرت یعقوب ؑ نے آپ کو لے جانا چاہا۔ بہن صاحبہ سے درخواست کی۔ لیکن بہن نے جدائی و ناقابل برداشت بیان کر کے انکار کردیا۔ ادھر آپ کے والد صاحب حضرت یعقوب ؑ کے شوق کی بھی انتہا نہ تھی، سر ہوگئے۔ آخر بہن صاحبہ نے فرمایا اچھا کچھ دنوں رہنے دو پھر لے جانا۔ اسی اثنا میں ایک دن انہوں نے وہی کمر پٹہ حضرت یوسف ؑ کے کپڑوں کے نیچے چھپا دیا، پھر تلاش شروع کی۔ گھر بھر چھان مارا، نہ ملا، شور مچا، آخر یہ ٹھری کہ گھر میں جو ہیں، ان کی تلاشیاں لی جائیں۔ تلاشیاں لی گئیں۔ کسی کے پاس ہو تو نکلے آخر حضرت یوسف ؑ کی تلاشی لی گئی، ان کے پاس سے برآمد ہوا۔ حضرت یعقوب ؑ کو خبر دی گئی۔ اور ملت ابراہیمی کے قانون کے مطابق آپ اپنی پھوپھی کی تحویل میں کر دئے گئے۔ اور پھوپھی نے اس طرح اپنے شوق کو پورا کیا۔ انتقال کے وقت تک حضرت یوسف ؑ کو نہ چھوڑا۔ اسی بات کا طعنہ آج بھائی دے رہے ہیں۔ جس کے جواب میں حضرت یوسف ؑ نے چپکے سے اپنے دل میں کہا کہ تم بڑے خانہ خراب لوگ ہو اس کے بھائی کی چوری کا حال اللہ خوب جانتا ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
وَقَالَ [[في ت، أ: "فقال".]] إِخْوَةُ يُوسُفَ لَمَّا رَأَوُا الصُّوَاعَ قَدْ أُخْرِجَ مِنْ مَتَاعِ بِنْيَامِينَ: ﴿إِنْ يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ﴾ يَتَنَصَّلُونَ إِلَى الْعَزِيزِ مِنَ التَّشَبُّهِ [[في أ: "الشبه".]] بِهِ، وَيَذْكُرُونَ أَنَّ هَذَا فَعَلَ كَمَا فَعَل أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ، يَعْنُونَ بِهِ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ [[في ت، أ: "وقتادة".]] كَانَ يُوسُفُ قَدْ سَرَقَ صَنَمًا لِجَدِّهِ، أَبِي أُمِّهِ، فَكَسَرَهُ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كَانَ أَوَّلُ مَا دَخَلَ عَلَى يُوسُفَ مِنَ الْبَلَاءِ، فِيمَا بَلَغَنِي، أَنَّ عَمَّتَهُ ابْنَةَ إِسْحَاقَ، وَكَانَتْ أَكْبَرَ وَلَدِ إِسْحَاقَ، وَكَانَتْ إِلَيْهَا مِنْطَقَةُ إِسْحَاقَ، وَكَانُوا يَتَوَارَثُونَهَا بِالْكِبَرِ، فَكَانَ مَنِ اخْتَبَاهَا [[في أ: "اختانها".]] مِمَّنْ وَلِيَهَا كَانَ لَهُ سَلَما لَا يُنَازَعُ فِيهِ، يَصْنَعُ فِيهِ مَا يَشَاءُ [[في ت، أ: "ما شاء".]] وَكَانَ يَعْقُوبُ حِينَ ولُد لَهُ يُوسُفُ قَدْ حَضَنَتْهُ عَمَّتُهُ، فَكَانَ مِنْهَا وَإِلَيْهَا، فَلَمْ يُحب أحدٌ شَيْئًا مِنَ الْأَشْيَاءِ حُبَّهَا إِيَّاهُ، حَتَّى إِذَا تَرَعْرَعَ وَبَلَغَ سَنَوَاتٍ وَقَعَتْ نَفْسُ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ فَأَتَاهَا، فَقَالَ: يَا أخيَّه [[في ت، أ: "يا أخته".]] سَلِّمِى إِلَيَّ يُوسُفَ، فَوَاللَّهِ مَا أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَغِيبَ عَنِّي سَاعَةً. قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا أَنَا بِتَارِكَتِهِ. ثُمَّ قَالَتْ: فَدَعْهُ عِنْدِي أَيَّامًا أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَأَسْكُنُ عَنْهُ، لَعَلَّ ذَلِكَ يُسَلِّينِي عَنْهُ -أَوْ كَمَا قَالَتْ. فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا يَعْقُوبُ، عَمَدَتْ إِلَى مِنْطَقَةِ إِسْحَاقَ، فَحَزَمَتْهَا عَلَى يُوسُفَ مِنْ تَحْتِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ قَالَتْ: فَقَدْتُ مِنْطَقَةَ إِسْحَاقَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَانْظُرُوا مَنْ أَخَذَهَا وَمَنْ أَصَابَهَا؟ فَالْتَمَسَتْ ثُمَّ قَالَتْ: اكْشِفُوا أَهْلَ الْبَيْتِ. فَكَشَفُوهُمْ فَوَجَدُوهَا مَعَ يُوسُفَ. فَقَالَتْ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لِي لسَلَمٌ، أَصْنَعُ فِيهِ مَا شِئْتُ. فَأَتَاهَا يَعْقُوبُ فَأَخْبَرَتْهُ الْخَبَرَ. فَقَالَ لَهَا: أَنْتَ وَذَاكَ، إِنْ كَانَ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ سَلَم لَكِ مَا أَسْتَطِيعُ غَيْرَ ذَلِكَ. فَأَمْسَكَتْهُ فَمَا قَدَرَ عَلَيْهِ يَعْقُوبُ حَتَّى مَاتَتْ. قَالَ: فَهُوَ الَّذِي يَقُولُ إِخْوَةُ يُوسُفَ حِينَ صُنِعَ بِأَخِيهِ مَا صَنَعَ حِينَ أَخَذَهُ: ﴿إِنْ يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ﴾ [[رواه الطبري في تفسير (١٦/١٩٦) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ﴾ [[في ت: "فأسر هذا".]] يَعْنِي: الْكَلِمَةَ الَّتِي بَعْدَهَا، وَهِيَ قَوْلُهُ: ﴿أَنْتُمْ شَرٌّ مَكَانًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ﴾ [[في ت: "يصفون".]] أَيْ: تَذْكُرُونَ. قَالَ هَذَا فِي نَفْسِهِ، وَلَمْ يُبْدِهِ لَهُمْ، وَهَذَا مِنْ بَابِ الْإِضْمَارِ قَبْلَ الذَّكَرِ، وَهُوَ كَثِيرٌ، كَقَوْلِ الشَّاعِرِ: [[هو سليط بن سعد، والبيت من شواهد ابن عقيل في شرحه على الألفية لابن مالك برقم (١٥٣) .]]
جَزَى بَنُوه أَبَا الْغَيْلَانِ عَنِ كبَرٍ ... وحسْن فِعْلٍ [[في ت، أ: "ظن".]] كَمَا يُجزَى سِنِمَّارُ
وَلَهُ شَوَاهِدُ كَثِيرَةٌ فِي الْقُرْآنِ وَالْحَدِيثِ وَاللُّغَةِ، فِي مَنْثُورِهَا وَأَخْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَا.
قَالَ الْعَوْفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ﴾ قَالَ: أَسَرَ فِي نَفْسِهِ: ﴿أَنْتُمْ شَرٌّ مَكَانًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ﴾
قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًۭا شَيْخًۭا كَبِيرًۭا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ
They said, "O 'Azeez, indeed he has a father [who is] an old man, so take one of us in place of him. Indeed, we see you as a doer of good."
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
گفتند: «ای عزیز! او پدر پیری دارد (که سخت ناراحت میشود)؛ یکی از ما را به جای او بگیر؛ ما تو را از نیکوکاران میبینیم!»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "O 'Aziz! Verily, he has an old father (who will grieve for him); so take one of us in his place. Indeed we think that you are one of the doers of good. (78)He said: "Allah forbid, that we should take anyone but him with whom we found our property. Indeed (if we did so), we should be wrongdoers. (79)
Yusuf's Brothers offer taking One of Them instead of Binyamin as a Slave, Yusuf rejects the Offer
When it was decided that Benyamin was to be taken and kept with Yusuf according to the law they adhered by, Yusuf's brothers started requesting clemency and raising compassion in his heart for them,
قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا
(They said, "O 'Aziz! Verily, he has an old father...") who loves him very much and is comforted by his presence from the son that he lost,
فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ
(so take one of us in his place.), instead of Binyamin to remain with you,
إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ
(Indeed we think that you are one of the doers of good.), the good doers, just, and accepting fairness,
قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِندَهُ
(He said: "Allah forbid, that we should take anyone but him with whom we found our property..."), 'according to the judgement that you gave for his punishment,
إِنَّا إِذًا لَّظَالِمُونَ
(Indeed, we should be wrongdoers.), if we take an innocent man instead of the guilty man.'
Tafsir Ibn Kathir
جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لئے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہوچکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہوسکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو ناکردہ گناہ کو سزا دینا اور گنہگار کو چھور دینا یہ تو صریح ناانصافی اور بدسلوکی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا تَعَيَّنَ أخْذ بِنْيَامِينَ وَتَقَرَّرَ تَرْكُهُ عِنْدَ يُوسُفَ بِمُقْتَضَى اعْتِرَافِهِمْ، شَرَعُوا يَتَرَقَّقُونَ لَهُ وَيُعَطِّفُونَهُ عَلَيْهِمْ، فَ ﴿قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا﴾ يَعْنُونَ: وَهُوَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا وَيَتَسَلَّى بِهِ عَنْ وَلَدِهِ الَّذِي فَقَدَهُ، ﴿فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ﴾ أَيْ: بَدَلَهُ، يَكُونُ عِنْدَكَ عِوَضًا عَنْهُ، ﴿إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾ [[في أ: "لنراك" وهو خطأ.]] أَيْ: مِنَ الْعَادِلِينَ الْمُنْصِفَيْنِ الْقَابِلَيْنِ لِلْخَيْرِ. ﴿قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ﴾ أَيْ: كَمَا قُلْتُمْ وَاعْتَرَفْتُمْ، ﴿إِنَّا إِذًا لَظَالِمُونَ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، أ.]] إِنْ أَخْذَنَا بَرِيئًا بِسَقِيمٍ.
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَٰلِمُونَ
He said, "[I seek] the refuge of Allah [to prevent] that we take except him with whom we found our possession. Indeed, we would then be unjust."
(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں
گفت: «پناه بر خدا که ما غیر از آن کس که متاع خود را نزد او یافتهایم بگیریم؛ در آن صورت، از ظالمان خواهیم بود!»
Tafsir Ibn Kathir
They said: "O 'Aziz! Verily, he has an old father (who will grieve for him); so take one of us in his place. Indeed we think that you are one of the doers of good. (78)He said: "Allah forbid, that we should take anyone but him with whom we found our property. Indeed (if we did so), we should be wrongdoers. (79)
Yusuf's Brothers offer taking One of Them instead of Binyamin as a Slave, Yusuf rejects the Offer
When it was decided that Benyamin was to be taken and kept with Yusuf according to the law they adhered by, Yusuf's brothers started requesting clemency and raising compassion in his heart for them,
قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا
(They said, "O 'Aziz! Verily, he has an old father...") who loves him very much and is comforted by his presence from the son that he lost,
فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ
(so take one of us in his place.), instead of Binyamin to remain with you,
إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ
(Indeed we think that you are one of the doers of good.), the good doers, just, and accepting fairness,
قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِندَهُ
(He said: "Allah forbid, that we should take anyone but him with whom we found our property..."), 'according to the judgement that you gave for his punishment,
إِنَّا إِذًا لَّظَالِمُونَ
(Indeed, we should be wrongdoers.), if we take an innocent man instead of the guilty man.'
Tafsir Ibn Kathir
جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لئے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہوچکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہوسکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو ناکردہ گناہ کو سزا دینا اور گنہگار کو چھور دینا یہ تو صریح ناانصافی اور بدسلوکی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
لَمَّا تَعَيَّنَ أخْذ بِنْيَامِينَ وَتَقَرَّرَ تَرْكُهُ عِنْدَ يُوسُفَ بِمُقْتَضَى اعْتِرَافِهِمْ، شَرَعُوا يَتَرَقَّقُونَ لَهُ وَيُعَطِّفُونَهُ عَلَيْهِمْ، فَ ﴿قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا﴾ يَعْنُونَ: وَهُوَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا وَيَتَسَلَّى بِهِ عَنْ وَلَدِهِ الَّذِي فَقَدَهُ، ﴿فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ﴾ أَيْ: بَدَلَهُ، يَكُونُ عِنْدَكَ عِوَضًا عَنْهُ، ﴿إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾ [[في أ: "لنراك" وهو خطأ.]] أَيْ: مِنَ الْعَادِلِينَ الْمُنْصِفَيْنِ الْقَابِلَيْنِ لِلْخَيْرِ. ﴿قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ﴾ أَيْ: كَمَا قُلْتُمْ وَاعْتَرَفْتُمْ، ﴿إِنَّا إِذًا لَظَالِمُونَ﴾ [أَيْ] [[زيادة من ت، أ.]] إِنْ أَخْذَنَا بَرِيئًا بِسَقِيمٍ.
فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّۭا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ
So when they had despaired of him, they secluded themselves in private consultation. The eldest of them said, "Do you not know that your father has taken upon you an oath by Allah and [that] before you failed in [your duty to] Joseph? So I will never leave [this] land until my father permits me or Allah decides for me, and He is the best of judges.
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
هنگامی که (برادران) از او مأیوس شدند، به کناری رفتند و با هم به نجوا پرداختند؛ (برادر) بزرگشان گفت: «آیا نمیدانید پدرتان از شما پیمان الهی گرفته؛ و پیش از این درباره یوسف کوتاهی کردید؟! من از این سرزمین حرکت نمیکنم، تا پدرم به من اجازه دهد؛ یا خدا درباره من داوری کند، که او بهترین حکمکنندگان است!
Tafsir Ibn Kathir
So, when they despaired of him, they consulted in private. The eldest among them said: "Know you not that your father did take an oath from you in Allah's Name, and before this you did fail in your duty with Yusuf? Therefore I will not leave this land until my father permits me, or Allah decides my case and He is the Best of the judges (80)"Return to your father and say, 'O our father! Verily, your son has stolen, and we testify not except according to what we know, and we could not know the Unseen (81)"And ask (the people of) the town where we have been, and the caravan in which we returned; and indeed we are telling the truth. (82)
Yusuf's Brothers consult Each Other in Confidence; the Advice Their Eldest Brother gave Them
Allah narrates to us that Yusuf's brothers were desperate because they could not secure the release of their brother Binyamin, even though they had given a promise and sworn to their father to bring him back. They were unable to fulfill their promise to their father, so,
خَلَصُوا
(in private), away from people's eyes,
نَجِيًّا
(they consulted), among themselves,
قَالَ كَبِيرُهُمْ
(The eldest among them said), and his name, as we mentioned, was Rubil, or Yahudha. He was the one among them who recommended throwing Yusuf into a well, rather than killing him. So Rubil said to them,
أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ
(Know you not that your father did take an oath from you in Allah's Name,) that you will return Binyamin to him? However, you were not able to fulfill this promise and, before you caused Yusuf to be lost from his father,
فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ
(Therefore I will not leave this land), I will not leave Egypt,
حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِي أَبِي
(until my father permits me,) allows me to go back to him while he is pleased with me,
أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي
(or Allah decides my case) by using the sword, or, they says; by allowing me to secure the release of my brother,
وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
(and He is the Best of the judges.), He next ordered them to narrate to their father what happened so that they could present their excuse about that happened to Binyamin and as claim their innocence before him. Rubil said to them (to say to their father),
وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ
(and we could not know the Unseen!) or, 'we did not know that your son had committed theft,' according to Qatadah and 'Ikrimah. 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that it means, 'we did not know that Binyamin stole something that belonged to the king, we only stated the punishment of the thief,'
وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا
(And ask (the people of) the town where we have been,), in reference to Egypt, according to Qatadah, or another town.
وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا
(and the caravan in which we returned), 'about our truthfulness, honesty, protection and sincere guardianship,
وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
(and indeed we are telling the truth.) in what we have told you, that Binyamin stole and was taken as a captive as compensation for his theft.'
Tafsir Ibn Kathir
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہوگئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے۔ الزام ثابت ہوچکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے اب بتاؤ کیا کیا جائے اس آپس کے مشورے میں بڑے بھائی نے اپنا خیال ان لفظوں میں ظاہر کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس زبردست ٹہوس وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کر کے آئے ہیں، اب انہیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے کہ کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرلیں پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور نادم کر رہا ہے جو حضرت یوسف ؑ کے بارے میں ہم سے اس سے پہلے سرزد ہوچکا ہے پس اب میں تو یہیں رک جاتا ہوں۔ یہاں تک کہ یا تو والد صاحب میرا قصور معاف فرما کر مجھے اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت دیں یا اللہ تعالیٰ مجھے کوئی فیصلہ بجھا دے کہ میں یا تو لڑ بھڑ کر اپنے بھائی کو لے کر جاؤں یا اللہ تعالیٰ کوئی اور صورت بنا دے۔ کہا گیا ہے کہ ان کا نام روبیل تھا یا یہودا تھا یہی تھے کہ حضرت یوسف ؑ کو جب اور بھائیوں نے قتل کرنا جاہا تھا انہوں نے روکا تھا۔ اب یہ اپنے اور بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ تم ابا جی کے پاس جاؤ۔ انہیں حقیقت حال سے مطلع کرو۔ ان سے کہو کہ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ چوری کرلیں گے اور چوری کا مال ان کے پاس موجود ہے ہم سے تو مسئلے کی صورت پوچھی گئی ہم نے بیان کردی۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہ ہو تو اہل مصر سے دریافت فرما لیجئے جس قافلے کے ساتھ ہم آئے ہیں اس سے پوچھ لیجئے۔ کہ ہم نے صداقت، امانت، حفاظت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور ہم جو کچھ عرض کر رہے ہیں، وہ بالکل راستی پر مبنی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ إِخْوَةِ يُوسُفَ: أَنَّهُمْ لَمَّا يَئِسُوا مِنْ تَخْلِيصِ أَخِيهِمْ بِنْيَامِينَ، الَّذِي قَدِ الْتَزَمُوا لِأَبِيهِمْ بِرَدِّهِ إِلَيْهِ، وَعَاهَدُوهُ عَلَى ذَلِكَ، فَامْتَنَعَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ، ﴿خَلَصُوا﴾ أَيِ: انْفَرَدُوا عَنِ النَّاسِ ﴿نَجِيًّا﴾ يَتَنَاجَوْنَ فِيمَا بَيْنَهُمْ.
﴿قَالَ كَبِيرُهُمْ﴾ وَهُوَ رُوبيل، وَقِيلَ: يَهُوذَا، وَهُوَ الَّذِي أَشَارَ عَلَيْهِمْ بِإِلْقَائِهِ فِي الْبِئْرِ عِنْدَمَا همّوا بِقَتْلِهِ، قَالَ لَهُمْ: ﴿أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُمْ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ﴾ لتردنَّه إِلَيْهِ، فَقَدْ رَأَيْتُمْ كَيْفَ تَعَذَّرَ عَلَيْكُمْ ذَلِكَ مَعَ مَا تَقَدَّمَ لَكُمْ مِنْ إِضَاعَةِ يُوسُفَ عَنْهُ، ﴿فَلَنْ أَبْرَحَ الأرْضَ﴾ أَيْ: لَنْ أُفَارِقَ هَذِهِ الْبَلْدَةَ، ﴿حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي﴾ فِي الرُّجُوعِ إِلَيْهِ رَاضِيًا عَنِّي، ﴿أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي﴾ قِيلَ: بِالسَّيْفِ. وَقِيلَ: بِأَنْ يُمَكِّنَنِي مِنْ أَخْذِ أَخِي، ﴿وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ﴾ [[في ت، أ: "أحكم الحاكمين" وهو خطأ.]] .
ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يُخْبِرُوا أَبَاهُمْ بِصُورَةِ مَا وَقَعَ، حَتَّى يَكُونَ عُذْرًا لَهُمْ عِنْدَهُ وَيَتَنَصَّلُوا إِلَيْهِ، وَيَبْرَءُوا مِمَّا وَقَعَ بِقَوْلِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ﴾ قَالَ عِكْرِمَةُ وَقَتَادَةُ: مَا [كُنَّا] [[زيادة من ت، أ.]] نَعْلَمُ أَنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [[في ت: "يسرق".]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: مَا عَلِمْنَا فِي الْغَيْبِ أَنَّهُ يَسْرِقُ [[في ت، أ: "سرق".]] لَهُ شَيْئًا، إِنَّمَا سَأَلَنَا [[في ت، أ: "سألناه".]] مَا جَزَاءُ السَّارِقِ؟
﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا﴾ قِيلَ: الْمُرَادُ مِصْرُ. قَالَهُ قَتَادَةُ، وَقِيلَ: غَيْرُهَا، ﴿وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا﴾ أَيِ: الَّتِي رَافَقْنَاهَا، عَنْ صِدْقِنَا وَأَمَانَتِنَا وَحِفْظِنَا وَحِرَاسَتِنَا، ﴿وَإِنَّا لَصَادِقُونَ﴾ فِيمَا أَخْبَرْنَاكَ بِهِ، مِنْ أَنَّهُ سَرَقَ وَأَخَذُوهُ بِسَرِقَتِهِ.
ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَٰفِظِينَ
Return to your father and say, "O our father, indeed your son has stolen, and we did not testify except to what we knew. And we were not witnesses of the unseen,
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
شما به سوی پدرتان بازگردید و بگویید: پدر (جان)، پسرت دزدی کرد! و ما جز به آنچه میدانستیم گواهی ندادیم؛ و ما از غیب آگاه نبودیم!
Tafsir Ibn Kathir
So, when they despaired of him, they consulted in private. The eldest among them said: "Know you not that your father did take an oath from you in Allah's Name, and before this you did fail in your duty with Yusuf? Therefore I will not leave this land until my father permits me, or Allah decides my case and He is the Best of the judges (80)"Return to your father and say, 'O our father! Verily, your son has stolen, and we testify not except according to what we know, and we could not know the Unseen (81)"And ask (the people of) the town where we have been, and the caravan in which we returned; and indeed we are telling the truth. (82)
Yusuf's Brothers consult Each Other in Confidence; the Advice Their Eldest Brother gave Them
Allah narrates to us that Yusuf's brothers were desperate because they could not secure the release of their brother Binyamin, even though they had given a promise and sworn to their father to bring him back. They were unable to fulfill their promise to their father, so,
خَلَصُوا
(in private), away from people's eyes,
نَجِيًّا
(they consulted), among themselves,
قَالَ كَبِيرُهُمْ
(The eldest among them said), and his name, as we mentioned, was Rubil, or Yahudha. He was the one among them who recommended throwing Yusuf into a well, rather than killing him. So Rubil said to them,
أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ
(Know you not that your father did take an oath from you in Allah's Name,) that you will return Binyamin to him? However, you were not able to fulfill this promise and, before you caused Yusuf to be lost from his father,
فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ
(Therefore I will not leave this land), I will not leave Egypt,
حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِي أَبِي
(until my father permits me,) allows me to go back to him while he is pleased with me,
أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي
(or Allah decides my case) by using the sword, or, they says; by allowing me to secure the release of my brother,
وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
(and He is the Best of the judges.), He next ordered them to narrate to their father what happened so that they could present their excuse about that happened to Binyamin and as claim their innocence before him. Rubil said to them (to say to their father),
وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ
(and we could not know the Unseen!) or, 'we did not know that your son had committed theft,' according to Qatadah and 'Ikrimah. 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that it means, 'we did not know that Binyamin stole something that belonged to the king, we only stated the punishment of the thief,'
وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا
(And ask (the people of) the town where we have been,), in reference to Egypt, according to Qatadah, or another town.
وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا
(and the caravan in which we returned), 'about our truthfulness, honesty, protection and sincere guardianship,
وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
(and indeed we are telling the truth.) in what we have told you, that Binyamin stole and was taken as a captive as compensation for his theft.'
Tafsir Ibn Kathir
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہوگئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے۔ الزام ثابت ہوچکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے اب بتاؤ کیا کیا جائے اس آپس کے مشورے میں بڑے بھائی نے اپنا خیال ان لفظوں میں ظاہر کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس زبردست ٹہوس وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کر کے آئے ہیں، اب انہیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے کہ کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرلیں پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور نادم کر رہا ہے جو حضرت یوسف ؑ کے بارے میں ہم سے اس سے پہلے سرزد ہوچکا ہے پس اب میں تو یہیں رک جاتا ہوں۔ یہاں تک کہ یا تو والد صاحب میرا قصور معاف فرما کر مجھے اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت دیں یا اللہ تعالیٰ مجھے کوئی فیصلہ بجھا دے کہ میں یا تو لڑ بھڑ کر اپنے بھائی کو لے کر جاؤں یا اللہ تعالیٰ کوئی اور صورت بنا دے۔ کہا گیا ہے کہ ان کا نام روبیل تھا یا یہودا تھا یہی تھے کہ حضرت یوسف ؑ کو جب اور بھائیوں نے قتل کرنا جاہا تھا انہوں نے روکا تھا۔ اب یہ اپنے اور بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ تم ابا جی کے پاس جاؤ۔ انہیں حقیقت حال سے مطلع کرو۔ ان سے کہو کہ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ چوری کرلیں گے اور چوری کا مال ان کے پاس موجود ہے ہم سے تو مسئلے کی صورت پوچھی گئی ہم نے بیان کردی۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہ ہو تو اہل مصر سے دریافت فرما لیجئے جس قافلے کے ساتھ ہم آئے ہیں اس سے پوچھ لیجئے۔ کہ ہم نے صداقت، امانت، حفاظت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور ہم جو کچھ عرض کر رہے ہیں، وہ بالکل راستی پر مبنی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ إِخْوَةِ يُوسُفَ: أَنَّهُمْ لَمَّا يَئِسُوا مِنْ تَخْلِيصِ أَخِيهِمْ بِنْيَامِينَ، الَّذِي قَدِ الْتَزَمُوا لِأَبِيهِمْ بِرَدِّهِ إِلَيْهِ، وَعَاهَدُوهُ عَلَى ذَلِكَ، فَامْتَنَعَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ، ﴿خَلَصُوا﴾ أَيِ: انْفَرَدُوا عَنِ النَّاسِ ﴿نَجِيًّا﴾ يَتَنَاجَوْنَ فِيمَا بَيْنَهُمْ.
﴿قَالَ كَبِيرُهُمْ﴾ وَهُوَ رُوبيل، وَقِيلَ: يَهُوذَا، وَهُوَ الَّذِي أَشَارَ عَلَيْهِمْ بِإِلْقَائِهِ فِي الْبِئْرِ عِنْدَمَا همّوا بِقَتْلِهِ، قَالَ لَهُمْ: ﴿أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُمْ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ﴾ لتردنَّه إِلَيْهِ، فَقَدْ رَأَيْتُمْ كَيْفَ تَعَذَّرَ عَلَيْكُمْ ذَلِكَ مَعَ مَا تَقَدَّمَ لَكُمْ مِنْ إِضَاعَةِ يُوسُفَ عَنْهُ، ﴿فَلَنْ أَبْرَحَ الأرْضَ﴾ أَيْ: لَنْ أُفَارِقَ هَذِهِ الْبَلْدَةَ، ﴿حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي﴾ فِي الرُّجُوعِ إِلَيْهِ رَاضِيًا عَنِّي، ﴿أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي﴾ قِيلَ: بِالسَّيْفِ. وَقِيلَ: بِأَنْ يُمَكِّنَنِي مِنْ أَخْذِ أَخِي، ﴿وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ﴾ [[في ت، أ: "أحكم الحاكمين" وهو خطأ.]] .
ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يُخْبِرُوا أَبَاهُمْ بِصُورَةِ مَا وَقَعَ، حَتَّى يَكُونَ عُذْرًا لَهُمْ عِنْدَهُ وَيَتَنَصَّلُوا إِلَيْهِ، وَيَبْرَءُوا مِمَّا وَقَعَ بِقَوْلِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ﴾ قَالَ عِكْرِمَةُ وَقَتَادَةُ: مَا [كُنَّا] [[زيادة من ت، أ.]] نَعْلَمُ أَنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [[في ت: "يسرق".]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: مَا عَلِمْنَا فِي الْغَيْبِ أَنَّهُ يَسْرِقُ [[في ت، أ: "سرق".]] لَهُ شَيْئًا، إِنَّمَا سَأَلَنَا [[في ت، أ: "سألناه".]] مَا جَزَاءُ السَّارِقِ؟
﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا﴾ قِيلَ: الْمُرَادُ مِصْرُ. قَالَهُ قَتَادَةُ، وَقِيلَ: غَيْرُهَا، ﴿وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا﴾ أَيِ: الَّتِي رَافَقْنَاهَا، عَنْ صِدْقِنَا وَأَمَانَتِنَا وَحِفْظِنَا وَحِرَاسَتِنَا، ﴿وَإِنَّا لَصَادِقُونَ﴾ فِيمَا أَخْبَرْنَاكَ بِهِ، مِنْ أَنَّهُ سَرَقَ وَأَخَذُوهُ بِسَرِقَتِهِ.
وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
And ask the city in which we were and the caravan in which we came - and indeed, we are truthful,"
اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں
(و اگر اطمینان نداری،) از آن شهر که در آن بودیم سؤال کن، و نیز از آن قافله که با آن آمدیم (بپرس)! و ما (در گفتار خود) صادق هستیم!»
Tafsir Ibn Kathir
So, when they despaired of him, they consulted in private. The eldest among them said: "Know you not that your father did take an oath from you in Allah's Name, and before this you did fail in your duty with Yusuf? Therefore I will not leave this land until my father permits me, or Allah decides my case and He is the Best of the judges (80)"Return to your father and say, 'O our father! Verily, your son has stolen, and we testify not except according to what we know, and we could not know the Unseen (81)"And ask (the people of) the town where we have been, and the caravan in which we returned; and indeed we are telling the truth. (82)
Yusuf's Brothers consult Each Other in Confidence; the Advice Their Eldest Brother gave Them
Allah narrates to us that Yusuf's brothers were desperate because they could not secure the release of their brother Binyamin, even though they had given a promise and sworn to their father to bring him back. They were unable to fulfill their promise to their father, so,
خَلَصُوا
(in private), away from people's eyes,
نَجِيًّا
(they consulted), among themselves,
قَالَ كَبِيرُهُمْ
(The eldest among them said), and his name, as we mentioned, was Rubil, or Yahudha. He was the one among them who recommended throwing Yusuf into a well, rather than killing him. So Rubil said to them,
أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ
(Know you not that your father did take an oath from you in Allah's Name,) that you will return Binyamin to him? However, you were not able to fulfill this promise and, before you caused Yusuf to be lost from his father,
فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ
(Therefore I will not leave this land), I will not leave Egypt,
حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِي أَبِي
(until my father permits me,) allows me to go back to him while he is pleased with me,
أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي
(or Allah decides my case) by using the sword, or, they says; by allowing me to secure the release of my brother,
وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
(and He is the Best of the judges.), He next ordered them to narrate to their father what happened so that they could present their excuse about that happened to Binyamin and as claim their innocence before him. Rubil said to them (to say to their father),
وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ
(and we could not know the Unseen!) or, 'we did not know that your son had committed theft,' according to Qatadah and 'Ikrimah. 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that it means, 'we did not know that Binyamin stole something that belonged to the king, we only stated the punishment of the thief,'
وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا
(And ask (the people of) the town where we have been,), in reference to Egypt, according to Qatadah, or another town.
وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا
(and the caravan in which we returned), 'about our truthfulness, honesty, protection and sincere guardianship,
وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
(and indeed we are telling the truth.) in what we have told you, that Binyamin stole and was taken as a captive as compensation for his theft.'
Tafsir Ibn Kathir
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہوگئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے۔ الزام ثابت ہوچکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے اب بتاؤ کیا کیا جائے اس آپس کے مشورے میں بڑے بھائی نے اپنا خیال ان لفظوں میں ظاہر کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس زبردست ٹہوس وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کر کے آئے ہیں، اب انہیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے کہ کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرلیں پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور نادم کر رہا ہے جو حضرت یوسف ؑ کے بارے میں ہم سے اس سے پہلے سرزد ہوچکا ہے پس اب میں تو یہیں رک جاتا ہوں۔ یہاں تک کہ یا تو والد صاحب میرا قصور معاف فرما کر مجھے اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت دیں یا اللہ تعالیٰ مجھے کوئی فیصلہ بجھا دے کہ میں یا تو لڑ بھڑ کر اپنے بھائی کو لے کر جاؤں یا اللہ تعالیٰ کوئی اور صورت بنا دے۔ کہا گیا ہے کہ ان کا نام روبیل تھا یا یہودا تھا یہی تھے کہ حضرت یوسف ؑ کو جب اور بھائیوں نے قتل کرنا جاہا تھا انہوں نے روکا تھا۔ اب یہ اپنے اور بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ تم ابا جی کے پاس جاؤ۔ انہیں حقیقت حال سے مطلع کرو۔ ان سے کہو کہ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ چوری کرلیں گے اور چوری کا مال ان کے پاس موجود ہے ہم سے تو مسئلے کی صورت پوچھی گئی ہم نے بیان کردی۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہ ہو تو اہل مصر سے دریافت فرما لیجئے جس قافلے کے ساتھ ہم آئے ہیں اس سے پوچھ لیجئے۔ کہ ہم نے صداقت، امانت، حفاظت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور ہم جو کچھ عرض کر رہے ہیں، وہ بالکل راستی پر مبنی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ إِخْوَةِ يُوسُفَ: أَنَّهُمْ لَمَّا يَئِسُوا مِنْ تَخْلِيصِ أَخِيهِمْ بِنْيَامِينَ، الَّذِي قَدِ الْتَزَمُوا لِأَبِيهِمْ بِرَدِّهِ إِلَيْهِ، وَعَاهَدُوهُ عَلَى ذَلِكَ، فَامْتَنَعَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ، ﴿خَلَصُوا﴾ أَيِ: انْفَرَدُوا عَنِ النَّاسِ ﴿نَجِيًّا﴾ يَتَنَاجَوْنَ فِيمَا بَيْنَهُمْ.
﴿قَالَ كَبِيرُهُمْ﴾ وَهُوَ رُوبيل، وَقِيلَ: يَهُوذَا، وَهُوَ الَّذِي أَشَارَ عَلَيْهِمْ بِإِلْقَائِهِ فِي الْبِئْرِ عِنْدَمَا همّوا بِقَتْلِهِ، قَالَ لَهُمْ: ﴿أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُمْ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ﴾ لتردنَّه إِلَيْهِ، فَقَدْ رَأَيْتُمْ كَيْفَ تَعَذَّرَ عَلَيْكُمْ ذَلِكَ مَعَ مَا تَقَدَّمَ لَكُمْ مِنْ إِضَاعَةِ يُوسُفَ عَنْهُ، ﴿فَلَنْ أَبْرَحَ الأرْضَ﴾ أَيْ: لَنْ أُفَارِقَ هَذِهِ الْبَلْدَةَ، ﴿حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي﴾ فِي الرُّجُوعِ إِلَيْهِ رَاضِيًا عَنِّي، ﴿أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي﴾ قِيلَ: بِالسَّيْفِ. وَقِيلَ: بِأَنْ يُمَكِّنَنِي مِنْ أَخْذِ أَخِي، ﴿وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ﴾ [[في ت، أ: "أحكم الحاكمين" وهو خطأ.]] .
ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يُخْبِرُوا أَبَاهُمْ بِصُورَةِ مَا وَقَعَ، حَتَّى يَكُونَ عُذْرًا لَهُمْ عِنْدَهُ وَيَتَنَصَّلُوا إِلَيْهِ، وَيَبْرَءُوا مِمَّا وَقَعَ بِقَوْلِهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ﴾ قَالَ عِكْرِمَةُ وَقَتَادَةُ: مَا [كُنَّا] [[زيادة من ت، أ.]] نَعْلَمُ أَنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [[في ت: "يسرق".]] .
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: مَا عَلِمْنَا فِي الْغَيْبِ أَنَّهُ يَسْرِقُ [[في ت، أ: "سرق".]] لَهُ شَيْئًا، إِنَّمَا سَأَلَنَا [[في ت، أ: "سألناه".]] مَا جَزَاءُ السَّارِقِ؟
﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا﴾ قِيلَ: الْمُرَادُ مِصْرُ. قَالَهُ قَتَادَةُ، وَقِيلَ: غَيْرُهَا، ﴿وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا﴾ أَيِ: الَّتِي رَافَقْنَاهَا، عَنْ صِدْقِنَا وَأَمَانَتِنَا وَحِفْظِنَا وَحِرَاسَتِنَا، ﴿وَإِنَّا لَصَادِقُونَ﴾ فِيمَا أَخْبَرْنَاكَ بِهِ، مِنْ أَنَّهُ سَرَقَ وَأَخَذُوهُ بِسَرِقَتِهِ.
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ
[Jacob] said, "Rather, your souls have enticed you to something, so patience is most fitting. Perhaps Allah will bring them to me all together. Indeed it is He who is the Knowing, the Wise."
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
(یعقوب) گفت: «(هوای) نفس شما، مسأله را چنین در نظرتان آراسته است! من صبر میکنم، صبری زیبا (و خالی از کفران)! امیدوارم خداوند همه آنها را به من بازگرداند؛ چرا که او دانا و حکیم است!
Tafsir Ibn Kathir
He [Ya'qub] said: "Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me). May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing, All-Wise. (83)And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing (84)They said: "By Allah! You will never cease remembering Yusuf until you become weak with old age, or until you be of the dead. (85)He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah, and I know from Allah that which you know not. (86)
Allah's Prophet Ya'qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya'qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf's shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya'qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before [to Yusuf], they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did [to Yusuf]. Therefore, Ya'qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya'qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. 'Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-'Usfuri said that Sa'id bin Jubayr said, "Only this nation [the following of Prophet Muhammad ﷺ] were given Al-Istirja' [saying: 'To Allah we belong and to Him shall be our return']. Have you not heard the statement of Ya'qub, peace be upon him,
يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing.)?" Ya'qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya'qub was aggrieved, sorrowful and sad."
Ya'qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), 'you will keep remembering Yusuf,
حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, 'if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya'qub said,
إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي
(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah,) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn 'Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
Tafsir Ibn Kathir
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس لوٹیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے میری حالت کو خوب جان رہا ہے۔ حکیم ہے اس کی قضا وقدر اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اب آپ کے اس نئے رنج نے پرانا رنج بھی تازہ کردیا اور حضرت یوسف کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں انا للہ الخ پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئے حضرت یعقوب ؑ بھی ایسے موقعہ پر آیت (يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ 84) 12۔ یوسف :84) کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ کو نابینا کردیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہوجائے۔ جواب ملا کہ اے داؤد حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اور صبر کیا۔ تیری آزائش ابھی ایسی نہیں ہوئی۔ اسحاق ؑ نے خود اپنی قربانی منظور کرلی اور اپنا گلا کٹوانے بیٹھ گئے۔ تجھ پر یہ بات بھی نہیں آئی۔ یعقوب ؑ سے میں نے ان کے لخت جگر کو الگ کردیا اس نے بھی صبر کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ بھی نہیں ہوا یہ روایت مرسل ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ اس روایت کے راوی علی بن زید بن جدعان اکثر منکر اور غریب روایتیں بیان کردیا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ احنف بن قیس ؒ نے یہ روایت بنی اسرائیل سے لی ہو، جیسے کعب وہب وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل کی ورایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف کو اس موقعہ پر جب کہ بنیامین قید میں تھے۔ ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں رحم دلانے کے لئے لکھا تھا کہ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ میرے دادا حضرت ابراہیم آگ میں ڈالے گئے۔ میرے والد حضرت اسحاق ؑ ذبح کے ساتھ آزمائے گئے۔ میں خود فراق یوسف میں مبتلا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی سندا ثابت نہیں۔ بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ حضرت یعقوب ؑ نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی ؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا یوسف کو رو رو کر آنکھیں کھو بیھٹا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں ؟ حضرت یعقوب ؑ نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ لَهُمْ كَمَا قَالَ لَهُمْ حِينَ جَاءُوا عَلَى قَمِيصِ يُوسُفَ بِدَمٍ كَذِبٍ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: لَمَّا جَاءُوا يَعْقُوبَ وَأَخْبَرُوهُ بِمَا يَجْرِي اتِّهَمَهُمْ، وَظَنَّ أَنَّهَا كَفَعْلَتِهِمْ بِيُوسُفَ ﴿قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾ [[في ت، أ: "فقال" وهو خطأ.]] .
وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَمَّا كَانَ صَنِيعُهُمْ [[في ت: "صبرنا".]] هَذَا مُرَتَّبًا عَلَى فِعْلِهِمُ الْأَوَّلِ، سُحب [[في ت: "اسحب"، وفي أ: "استحب".]] حُكْمُ الْأَوَّلِ عَلَيْهِ، وَصَحَّ قَوْلُهُ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾
ثُمَّ تَرَجَّى [[في ت: "يرجى".]] مِنَ اللَّهِ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ أَوْلَادَهُ الثَّلَاثَةَ: يُوسُفَ وأخاه بنيامين، وروبيل الذي أقام بديار مِصْرَ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللَّهِ فِيهِ، إِمَّا أَنْ يَرْضَى عَنْهُ أَبُوهُ فَيَأْمُرُهُ بِالرُّجُوعِ إِلَيْهِ، وَإِمَّا أَنْ يَأْخُذَ أَخَاهُ خُفْيَةً؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿عَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ﴾ أَيِ: الْعَلِيمُ بِحَالِي، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَفْعَالِهِ وَقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ.
﴿وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ﴾ أَيْ: أَعْرَضَ عَنْ بَنِيهِ وَقَالَ مُتَذَكِّرًا حُزنَ يُوسُفَ الْقَدِيمَ الْأَوَّلَ: ﴿يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ﴾ جَدَّد لَهُ حزنُ الِابْنَيْنِ [[في ت: "الاثنين".]] الْحُزْنَ الدَّفِينَ.
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ العُصْفُريّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ غيرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الِاسْتِرْجَاعَ، أَلَّا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ أَيْ: سَاكِتٌ لَا يَشْكُو أَمْرَهُ إِلَى مَخْلُوقٍ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨٤) وروى موصولا ولا يصح.]] قَالَهُ قَتَادَةُ وَغَيْرُهُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ كَمِيدٌ حَزِينٌ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ [حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى] ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ [[في ت: "يزيد".]] عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: يَا رَبِّ، إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَسْأَلُونَكَ بِإِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ، فَاجْعَلْنِي لَهُمْ رَابِعًا. فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ أَنْ يَا دَاوُدُ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ بِسَبَبِي فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ، وَإِنَّ إِسْحَاقَ بَذَلَ مُهْجَةَ [[في ت: "مهجته"]] دَمِهِ فِي سَبَبِي فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ، وَإِنَّ يَعْقُوبَ أَخَذْتُ مِنْهُ حَبِيبَهُ حَتَّى ابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ، فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ".
وَهَذَا مُرْسَلٌ، وَفِيهِ نَكَارَةٌ [[ورواه ابن أبي شيبة في المصنف (١١/٥٥٤) عَنْ عَفَّانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ بِهِ.]] ؛ فَإِنَّ الصَّحِيحَ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ هُوَ الذَّبِيحُ، وَلَكِنَّ عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَان لَهُ مَنَاكِيرُ وَغَرَائِبُ كَثِيرَةٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَأَقْرَبُ مَا فِي هَذَا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَكَاهُ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، عَنْ بَنِي [[في ت: "عن بعض بني".]] إِسْرَائِيلَ كَكَعْبٍ وَوَهْبٍ وَنَحْوِهِمَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ الْإِسْرَائِيلِيِّينَ يَنْقُلُونَ أَنَّ يَعْقُوبَ كَتَبَ إِلَى يُوسُفَ لَمَّا احْتَبَسَ أَخَاهُ بِسَبَبِ السَّرِقَةِ يَتَلَطَّفُ لَهُ فِي رَدِّهِ، وَيَذْكُرُ لَهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتٍ مُصَابُونَ بِالْبَلَاءِ، فَإِبْرَاهِيمُ ابْتُلِيَ بِالنَّارِ، وَإِسْحَاقُ بِالذَّبْحِ، وَيَعْقُوبُ بِفِرَاقِ يُوسُفَ، فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ لَا يَصِحُّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ رَقَّ لَهُ بَنُوهُ، وَقَالُوا لَهُ عَلَى سَبِيلِ الرِّفْقِ بِهِ وَالشَّفَقَةِ عَلَيْهِ: ﴿قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ﴾ أَيْ: لَا تُفَارِقُ تَذَكُّر يُوسُفَ، ﴿حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا﴾ أَيْ: ضَعِيفَ الْجِسْمِ، ضَعِيفَ الْقُوَّةِ، ﴿أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ﴾ يَقُولُونَ: وَإِنِ اسْتَمَرَّ بِكَ هَذَا الْحَالُ خَشِينَا عَلَيْكَ الْهَلَاكَ وَالتَّلَفَ.
﴿قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: أَجَابَهُمْ عَمَّا قَالُوا بِقَوْلِهِ: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي﴾
أَيْ: هَمِّي وَمَا أَنَا فِيهِ ﴿إِلَى اللَّهِ﴾ وَحَدَّهُ ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: أَرْجُو مِنْهُ كُلَّ خَيْرٍ.
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [يَعْنِي رُؤْيَا يُوسُفَ أَنَّهَا صِدْقٌ وَأَنَّ اللَّهَ لَا بُدَّ أَنْ يُظْهِرَهَا وَيُنْجِزَهَا. وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [[زيادة من ت.]] أَعْلَمُ أَنَّ رُؤْيَا يُوسُفَ صَادِقَةٌ، وَأَنِّي سَوْفَ أَسْجُدُ لَهُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنَيَّة، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كَانَ لِيَعْقُوبَ النَّبِيِّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَخٌ مُؤاخ لَهُ، فَقَالَ لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ: مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ وَقَوَّسَ ظَهْرَكَ؟ قَالَ: الَّذِي [[في أ: "أما الذي".]] أَذْهَبَ بَصَرِي الْبُكَاءُ [[في ت، أ: "فالبكاء".]] عَلَى يُوسُفَ، وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى بِنْيَامِينَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ، إِنَّ اللَّهَ يُقرئك السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: أَمَا تَسْتَحْيِي أَنْ تَشْكُوَنِي إِلَى غَيْرِي؟ فَقَالَ يَعْقُوبُ: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ. فَقَالَ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَشْكُو" [[ورواه الحاكم في المستدرك (٢/٣٤٨) من طريق أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عن حفص بن عمر ابن الزبير، عن أنس بنحوه، وقال الحاكم: "حفص بن عمر بن الزبير، وأظن الزبير وهما من الراوي فإنه حفص بن عمر بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري". ورواه إسحاق بن راهويه ومن طريقه الحاكم في المستدرك (٢/٣٤٨) من طريق يحيى بن عبد الملك، عن أنس بن مالك مرسلا. ورواه ابن أبي الدنيا في "الفرج بعد الشدة" برقم (٤٧) من طريق زافر بن سليمان عن يحيى بن عبد الملك عن رجل، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مرفوعا. ورواه الطبراني في الأوسط برقم (٣٣٤١) "مجمع البحرين" من طريق وهب بن بقية عن يحيى بن عبد المطلب عن حصين بن عمر الأحمسي عن أبي الزبير عن أنس مرفوعا. وبهذا يتبين أن الحديث مضطرب.]] .
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، فيه نكارة.
وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌۭ
And he turned away from them and said, "Oh, my sorrow over Joseph," and his eyes became white from grief, for he was [of that] a suppressor.
پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا
و از آنها روی برگرداند و گفت: «وا اسفا بر یوسف!» و چشمان او از اندوه سفید شد، اما خشم خود را فرو میبرد (و هرگز کفران نمیکرد)!
Tafsir Ibn Kathir
He [Ya'qub] said: "Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me). May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing, All-Wise. (83)And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing (84)They said: "By Allah! You will never cease remembering Yusuf until you become weak with old age, or until you be of the dead. (85)He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah, and I know from Allah that which you know not. (86)
Allah's Prophet Ya'qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya'qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf's shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya'qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before [to Yusuf], they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did [to Yusuf]. Therefore, Ya'qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya'qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. 'Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-'Usfuri said that Sa'id bin Jubayr said, "Only this nation [the following of Prophet Muhammad ﷺ] were given Al-Istirja' [saying: 'To Allah we belong and to Him shall be our return']. Have you not heard the statement of Ya'qub, peace be upon him,
يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing.)?" Ya'qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya'qub was aggrieved, sorrowful and sad."
Ya'qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), 'you will keep remembering Yusuf,
حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, 'if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya'qub said,
إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي
(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah,) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn 'Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
Tafsir Ibn Kathir
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس لوٹیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے میری حالت کو خوب جان رہا ہے۔ حکیم ہے اس کی قضا وقدر اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اب آپ کے اس نئے رنج نے پرانا رنج بھی تازہ کردیا اور حضرت یوسف کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں انا للہ الخ پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئے حضرت یعقوب ؑ بھی ایسے موقعہ پر آیت (يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ 84) 12۔ یوسف :84) کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ کو نابینا کردیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہوجائے۔ جواب ملا کہ اے داؤد حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اور صبر کیا۔ تیری آزائش ابھی ایسی نہیں ہوئی۔ اسحاق ؑ نے خود اپنی قربانی منظور کرلی اور اپنا گلا کٹوانے بیٹھ گئے۔ تجھ پر یہ بات بھی نہیں آئی۔ یعقوب ؑ سے میں نے ان کے لخت جگر کو الگ کردیا اس نے بھی صبر کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ بھی نہیں ہوا یہ روایت مرسل ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ اس روایت کے راوی علی بن زید بن جدعان اکثر منکر اور غریب روایتیں بیان کردیا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ احنف بن قیس ؒ نے یہ روایت بنی اسرائیل سے لی ہو، جیسے کعب وہب وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل کی ورایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف کو اس موقعہ پر جب کہ بنیامین قید میں تھے۔ ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں رحم دلانے کے لئے لکھا تھا کہ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ میرے دادا حضرت ابراہیم آگ میں ڈالے گئے۔ میرے والد حضرت اسحاق ؑ ذبح کے ساتھ آزمائے گئے۔ میں خود فراق یوسف میں مبتلا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی سندا ثابت نہیں۔ بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ حضرت یعقوب ؑ نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی ؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا یوسف کو رو رو کر آنکھیں کھو بیھٹا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں ؟ حضرت یعقوب ؑ نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ لَهُمْ كَمَا قَالَ لَهُمْ حِينَ جَاءُوا عَلَى قَمِيصِ يُوسُفَ بِدَمٍ كَذِبٍ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: لَمَّا جَاءُوا يَعْقُوبَ وَأَخْبَرُوهُ بِمَا يَجْرِي اتِّهَمَهُمْ، وَظَنَّ أَنَّهَا كَفَعْلَتِهِمْ بِيُوسُفَ ﴿قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾ [[في ت، أ: "فقال" وهو خطأ.]] .
وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَمَّا كَانَ صَنِيعُهُمْ [[في ت: "صبرنا".]] هَذَا مُرَتَّبًا عَلَى فِعْلِهِمُ الْأَوَّلِ، سُحب [[في ت: "اسحب"، وفي أ: "استحب".]] حُكْمُ الْأَوَّلِ عَلَيْهِ، وَصَحَّ قَوْلُهُ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾
ثُمَّ تَرَجَّى [[في ت: "يرجى".]] مِنَ اللَّهِ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ أَوْلَادَهُ الثَّلَاثَةَ: يُوسُفَ وأخاه بنيامين، وروبيل الذي أقام بديار مِصْرَ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللَّهِ فِيهِ، إِمَّا أَنْ يَرْضَى عَنْهُ أَبُوهُ فَيَأْمُرُهُ بِالرُّجُوعِ إِلَيْهِ، وَإِمَّا أَنْ يَأْخُذَ أَخَاهُ خُفْيَةً؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿عَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ﴾ أَيِ: الْعَلِيمُ بِحَالِي، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَفْعَالِهِ وَقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ.
﴿وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ﴾ أَيْ: أَعْرَضَ عَنْ بَنِيهِ وَقَالَ مُتَذَكِّرًا حُزنَ يُوسُفَ الْقَدِيمَ الْأَوَّلَ: ﴿يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ﴾ جَدَّد لَهُ حزنُ الِابْنَيْنِ [[في ت: "الاثنين".]] الْحُزْنَ الدَّفِينَ.
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ العُصْفُريّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ غيرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الِاسْتِرْجَاعَ، أَلَّا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ أَيْ: سَاكِتٌ لَا يَشْكُو أَمْرَهُ إِلَى مَخْلُوقٍ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨٤) وروى موصولا ولا يصح.]] قَالَهُ قَتَادَةُ وَغَيْرُهُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ كَمِيدٌ حَزِينٌ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ [حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى] ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ [[في ت: "يزيد".]] عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: يَا رَبِّ، إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَسْأَلُونَكَ بِإِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ، فَاجْعَلْنِي لَهُمْ رَابِعًا. فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ أَنْ يَا دَاوُدُ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ بِسَبَبِي فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ، وَإِنَّ إِسْحَاقَ بَذَلَ مُهْجَةَ [[في ت: "مهجته"]] دَمِهِ فِي سَبَبِي فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ، وَإِنَّ يَعْقُوبَ أَخَذْتُ مِنْهُ حَبِيبَهُ حَتَّى ابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ، فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ".
وَهَذَا مُرْسَلٌ، وَفِيهِ نَكَارَةٌ [[ورواه ابن أبي شيبة في المصنف (١١/٥٥٤) عَنْ عَفَّانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ بِهِ.]] ؛ فَإِنَّ الصَّحِيحَ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ هُوَ الذَّبِيحُ، وَلَكِنَّ عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَان لَهُ مَنَاكِيرُ وَغَرَائِبُ كَثِيرَةٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَأَقْرَبُ مَا فِي هَذَا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَكَاهُ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، عَنْ بَنِي [[في ت: "عن بعض بني".]] إِسْرَائِيلَ كَكَعْبٍ وَوَهْبٍ وَنَحْوِهِمَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ الْإِسْرَائِيلِيِّينَ يَنْقُلُونَ أَنَّ يَعْقُوبَ كَتَبَ إِلَى يُوسُفَ لَمَّا احْتَبَسَ أَخَاهُ بِسَبَبِ السَّرِقَةِ يَتَلَطَّفُ لَهُ فِي رَدِّهِ، وَيَذْكُرُ لَهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتٍ مُصَابُونَ بِالْبَلَاءِ، فَإِبْرَاهِيمُ ابْتُلِيَ بِالنَّارِ، وَإِسْحَاقُ بِالذَّبْحِ، وَيَعْقُوبُ بِفِرَاقِ يُوسُفَ، فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ لَا يَصِحُّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ رَقَّ لَهُ بَنُوهُ، وَقَالُوا لَهُ عَلَى سَبِيلِ الرِّفْقِ بِهِ وَالشَّفَقَةِ عَلَيْهِ: ﴿قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ﴾ أَيْ: لَا تُفَارِقُ تَذَكُّر يُوسُفَ، ﴿حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا﴾ أَيْ: ضَعِيفَ الْجِسْمِ، ضَعِيفَ الْقُوَّةِ، ﴿أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ﴾ يَقُولُونَ: وَإِنِ اسْتَمَرَّ بِكَ هَذَا الْحَالُ خَشِينَا عَلَيْكَ الْهَلَاكَ وَالتَّلَفَ.
﴿قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: أَجَابَهُمْ عَمَّا قَالُوا بِقَوْلِهِ: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي﴾
أَيْ: هَمِّي وَمَا أَنَا فِيهِ ﴿إِلَى اللَّهِ﴾ وَحَدَّهُ ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: أَرْجُو مِنْهُ كُلَّ خَيْرٍ.
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [يَعْنِي رُؤْيَا يُوسُفَ أَنَّهَا صِدْقٌ وَأَنَّ اللَّهَ لَا بُدَّ أَنْ يُظْهِرَهَا وَيُنْجِزَهَا. وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [[زيادة من ت.]] أَعْلَمُ أَنَّ رُؤْيَا يُوسُفَ صَادِقَةٌ، وَأَنِّي سَوْفَ أَسْجُدُ لَهُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنَيَّة، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كَانَ لِيَعْقُوبَ النَّبِيِّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَخٌ مُؤاخ لَهُ، فَقَالَ لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ: مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ وَقَوَّسَ ظَهْرَكَ؟ قَالَ: الَّذِي [[في أ: "أما الذي".]] أَذْهَبَ بَصَرِي الْبُكَاءُ [[في ت، أ: "فالبكاء".]] عَلَى يُوسُفَ، وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى بِنْيَامِينَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ، إِنَّ اللَّهَ يُقرئك السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: أَمَا تَسْتَحْيِي أَنْ تَشْكُوَنِي إِلَى غَيْرِي؟ فَقَالَ يَعْقُوبُ: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ. فَقَالَ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَشْكُو" [[ورواه الحاكم في المستدرك (٢/٣٤٨) من طريق أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عن حفص بن عمر ابن الزبير، عن أنس بنحوه، وقال الحاكم: "حفص بن عمر بن الزبير، وأظن الزبير وهما من الراوي فإنه حفص بن عمر بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري". ورواه إسحاق بن راهويه ومن طريقه الحاكم في المستدرك (٢/٣٤٨) من طريق يحيى بن عبد الملك، عن أنس بن مالك مرسلا. ورواه ابن أبي الدنيا في "الفرج بعد الشدة" برقم (٤٧) من طريق زافر بن سليمان عن يحيى بن عبد الملك عن رجل، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مرفوعا. ورواه الطبراني في الأوسط برقم (٣٣٤١) "مجمع البحرين" من طريق وهب بن بقية عن يحيى بن عبد المطلب عن حصين بن عمر الأحمسي عن أبي الزبير عن أنس مرفوعا. وبهذا يتبين أن الحديث مضطرب.]] .
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، فيه نكارة.
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَٰلِكِينَ
They said, "By Allah, you will not cease remembering Joseph until you become fatally ill or become of those who perish."
بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے
گفتند: «به خدا تو آنقدر یاد یوسف میکنی تا در آستانه مرگ قرار گیری، یا هلاک گردی!»
Tafsir Ibn Kathir
He [Ya'qub] said: "Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me). May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing, All-Wise. (83)And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing (84)They said: "By Allah! You will never cease remembering Yusuf until you become weak with old age, or until you be of the dead. (85)He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah, and I know from Allah that which you know not. (86)
Allah's Prophet Ya'qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya'qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf's shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya'qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before [to Yusuf], they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did [to Yusuf]. Therefore, Ya'qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya'qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. 'Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-'Usfuri said that Sa'id bin Jubayr said, "Only this nation [the following of Prophet Muhammad ﷺ] were given Al-Istirja' [saying: 'To Allah we belong and to Him shall be our return']. Have you not heard the statement of Ya'qub, peace be upon him,
يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing.)?" Ya'qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya'qub was aggrieved, sorrowful and sad."
Ya'qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), 'you will keep remembering Yusuf,
حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, 'if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya'qub said,
إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي
(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah,) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn 'Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
Tafsir Ibn Kathir
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس لوٹیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے میری حالت کو خوب جان رہا ہے۔ حکیم ہے اس کی قضا وقدر اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اب آپ کے اس نئے رنج نے پرانا رنج بھی تازہ کردیا اور حضرت یوسف کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں انا للہ الخ پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئے حضرت یعقوب ؑ بھی ایسے موقعہ پر آیت (يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ 84) 12۔ یوسف :84) کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ کو نابینا کردیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہوجائے۔ جواب ملا کہ اے داؤد حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اور صبر کیا۔ تیری آزائش ابھی ایسی نہیں ہوئی۔ اسحاق ؑ نے خود اپنی قربانی منظور کرلی اور اپنا گلا کٹوانے بیٹھ گئے۔ تجھ پر یہ بات بھی نہیں آئی۔ یعقوب ؑ سے میں نے ان کے لخت جگر کو الگ کردیا اس نے بھی صبر کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ بھی نہیں ہوا یہ روایت مرسل ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ اس روایت کے راوی علی بن زید بن جدعان اکثر منکر اور غریب روایتیں بیان کردیا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ احنف بن قیس ؒ نے یہ روایت بنی اسرائیل سے لی ہو، جیسے کعب وہب وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل کی ورایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف کو اس موقعہ پر جب کہ بنیامین قید میں تھے۔ ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں رحم دلانے کے لئے لکھا تھا کہ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ میرے دادا حضرت ابراہیم آگ میں ڈالے گئے۔ میرے والد حضرت اسحاق ؑ ذبح کے ساتھ آزمائے گئے۔ میں خود فراق یوسف میں مبتلا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی سندا ثابت نہیں۔ بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ حضرت یعقوب ؑ نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی ؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا یوسف کو رو رو کر آنکھیں کھو بیھٹا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں ؟ حضرت یعقوب ؑ نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ لَهُمْ كَمَا قَالَ لَهُمْ حِينَ جَاءُوا عَلَى قَمِيصِ يُوسُفَ بِدَمٍ كَذِبٍ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: لَمَّا جَاءُوا يَعْقُوبَ وَأَخْبَرُوهُ بِمَا يَجْرِي اتِّهَمَهُمْ، وَظَنَّ أَنَّهَا كَفَعْلَتِهِمْ بِيُوسُفَ ﴿قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾ [[في ت، أ: "فقال" وهو خطأ.]] .
وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَمَّا كَانَ صَنِيعُهُمْ [[في ت: "صبرنا".]] هَذَا مُرَتَّبًا عَلَى فِعْلِهِمُ الْأَوَّلِ، سُحب [[في ت: "اسحب"، وفي أ: "استحب".]] حُكْمُ الْأَوَّلِ عَلَيْهِ، وَصَحَّ قَوْلُهُ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾
ثُمَّ تَرَجَّى [[في ت: "يرجى".]] مِنَ اللَّهِ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ أَوْلَادَهُ الثَّلَاثَةَ: يُوسُفَ وأخاه بنيامين، وروبيل الذي أقام بديار مِصْرَ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللَّهِ فِيهِ، إِمَّا أَنْ يَرْضَى عَنْهُ أَبُوهُ فَيَأْمُرُهُ بِالرُّجُوعِ إِلَيْهِ، وَإِمَّا أَنْ يَأْخُذَ أَخَاهُ خُفْيَةً؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿عَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ﴾ أَيِ: الْعَلِيمُ بِحَالِي، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَفْعَالِهِ وَقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ.
﴿وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ﴾ أَيْ: أَعْرَضَ عَنْ بَنِيهِ وَقَالَ مُتَذَكِّرًا حُزنَ يُوسُفَ الْقَدِيمَ الْأَوَّلَ: ﴿يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ﴾ جَدَّد لَهُ حزنُ الِابْنَيْنِ [[في ت: "الاثنين".]] الْحُزْنَ الدَّفِينَ.
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ العُصْفُريّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ غيرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الِاسْتِرْجَاعَ، أَلَّا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ أَيْ: سَاكِتٌ لَا يَشْكُو أَمْرَهُ إِلَى مَخْلُوقٍ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨٤) وروى موصولا ولا يصح.]] قَالَهُ قَتَادَةُ وَغَيْرُهُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ كَمِيدٌ حَزِينٌ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ [حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى] ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ [[في ت: "يزيد".]] عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: يَا رَبِّ، إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَسْأَلُونَكَ بِإِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ، فَاجْعَلْنِي لَهُمْ رَابِعًا. فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ أَنْ يَا دَاوُدُ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ بِسَبَبِي فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ، وَإِنَّ إِسْحَاقَ بَذَلَ مُهْجَةَ [[في ت: "مهجته"]] دَمِهِ فِي سَبَبِي فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ، وَإِنَّ يَعْقُوبَ أَخَذْتُ مِنْهُ حَبِيبَهُ حَتَّى ابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ، فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ".
وَهَذَا مُرْسَلٌ، وَفِيهِ نَكَارَةٌ [[ورواه ابن أبي شيبة في المصنف (١١/٥٥٤) عَنْ عَفَّانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ بِهِ.]] ؛ فَإِنَّ الصَّحِيحَ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ هُوَ الذَّبِيحُ، وَلَكِنَّ عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَان لَهُ مَنَاكِيرُ وَغَرَائِبُ كَثِيرَةٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَأَقْرَبُ مَا فِي هَذَا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَكَاهُ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، عَنْ بَنِي [[في ت: "عن بعض بني".]] إِسْرَائِيلَ كَكَعْبٍ وَوَهْبٍ وَنَحْوِهِمَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ الْإِسْرَائِيلِيِّينَ يَنْقُلُونَ أَنَّ يَعْقُوبَ كَتَبَ إِلَى يُوسُفَ لَمَّا احْتَبَسَ أَخَاهُ بِسَبَبِ السَّرِقَةِ يَتَلَطَّفُ لَهُ فِي رَدِّهِ، وَيَذْكُرُ لَهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتٍ مُصَابُونَ بِالْبَلَاءِ، فَإِبْرَاهِيمُ ابْتُلِيَ بِالنَّارِ، وَإِسْحَاقُ بِالذَّبْحِ، وَيَعْقُوبُ بِفِرَاقِ يُوسُفَ، فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ لَا يَصِحُّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ رَقَّ لَهُ بَنُوهُ، وَقَالُوا لَهُ عَلَى سَبِيلِ الرِّفْقِ بِهِ وَالشَّفَقَةِ عَلَيْهِ: ﴿قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ﴾ أَيْ: لَا تُفَارِقُ تَذَكُّر يُوسُفَ، ﴿حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا﴾ أَيْ: ضَعِيفَ الْجِسْمِ، ضَعِيفَ الْقُوَّةِ، ﴿أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ﴾ يَقُولُونَ: وَإِنِ اسْتَمَرَّ بِكَ هَذَا الْحَالُ خَشِينَا عَلَيْكَ الْهَلَاكَ وَالتَّلَفَ.
﴿قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: أَجَابَهُمْ عَمَّا قَالُوا بِقَوْلِهِ: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي﴾
أَيْ: هَمِّي وَمَا أَنَا فِيهِ ﴿إِلَى اللَّهِ﴾ وَحَدَّهُ ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: أَرْجُو مِنْهُ كُلَّ خَيْرٍ.
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [يَعْنِي رُؤْيَا يُوسُفَ أَنَّهَا صِدْقٌ وَأَنَّ اللَّهَ لَا بُدَّ أَنْ يُظْهِرَهَا وَيُنْجِزَهَا. وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [[زيادة من ت.]] أَعْلَمُ أَنَّ رُؤْيَا يُوسُفَ صَادِقَةٌ، وَأَنِّي سَوْفَ أَسْجُدُ لَهُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنَيَّة، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كَانَ لِيَعْقُوبَ النَّبِيِّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَخٌ مُؤاخ لَهُ، فَقَالَ لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ: مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ وَقَوَّسَ ظَهْرَكَ؟ قَالَ: الَّذِي [[في أ: "أما الذي".]] أَذْهَبَ بَصَرِي الْبُكَاءُ [[في ت، أ: "فالبكاء".]] عَلَى يُوسُفَ، وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى بِنْيَامِينَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ، إِنَّ اللَّهَ يُقرئك السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: أَمَا تَسْتَحْيِي أَنْ تَشْكُوَنِي إِلَى غَيْرِي؟ فَقَالَ يَعْقُوبُ: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ. فَقَالَ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَشْكُو" [[ورواه الحاكم في المستدرك (٢/٣٤٨) من طريق أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عن حفص بن عمر ابن الزبير، عن أنس بنحوه، وقال الحاكم: "حفص بن عمر بن الزبير، وأظن الزبير وهما من الراوي فإنه حفص بن عمر بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري". ورواه إسحاق بن راهويه ومن طريقه الحاكم في المستدرك (٢/٣٤٨) من طريق يحيى بن عبد الملك، عن أنس بن مالك مرسلا. ورواه ابن أبي الدنيا في "الفرج بعد الشدة" برقم (٤٧) من طريق زافر بن سليمان عن يحيى بن عبد الملك عن رجل، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مرفوعا. ورواه الطبراني في الأوسط برقم (٣٣٤١) "مجمع البحرين" من طريق وهب بن بقية عن يحيى بن عبد المطلب عن حصين بن عمر الأحمسي عن أبي الزبير عن أنس مرفوعا. وبهذا يتبين أن الحديث مضطرب.]] .
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، فيه نكارة.
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
He said, "I only complain of my suffering and my grief to Allah, and I know from Allah that which you do not know.
انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
گفت: «من غم و اندوهم را تنها به خدا میگویم (و شکایت نزد او میبرم)! و از خدا چیزهایی میدانم که شما نمیدانید!
Tafsir Ibn Kathir
He [Ya'qub] said: "Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me). May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing, All-Wise. (83)And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing (84)They said: "By Allah! You will never cease remembering Yusuf until you become weak with old age, or until you be of the dead. (85)He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah, and I know from Allah that which you know not. (86)
Allah's Prophet Ya'qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya'qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf's shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya'qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before [to Yusuf], they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did [to Yusuf]. Therefore, Ya'qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya'qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. 'Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-'Usfuri said that Sa'id bin Jubayr said, "Only this nation [the following of Prophet Muhammad ﷺ] were given Al-Istirja' [saying: 'To Allah we belong and to Him shall be our return']. Have you not heard the statement of Ya'qub, peace be upon him,
يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing.)?" Ya'qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya'qub was aggrieved, sorrowful and sad."
Ya'qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), 'you will keep remembering Yusuf,
حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, 'if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya'qub said,
إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي
(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah,) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn 'Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
Tafsir Ibn Kathir
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس لوٹیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے میری حالت کو خوب جان رہا ہے۔ حکیم ہے اس کی قضا وقدر اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اب آپ کے اس نئے رنج نے پرانا رنج بھی تازہ کردیا اور حضرت یوسف کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں انا للہ الخ پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئے حضرت یعقوب ؑ بھی ایسے موقعہ پر آیت (يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ 84) 12۔ یوسف :84) کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ کو نابینا کردیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہوجائے۔ جواب ملا کہ اے داؤد حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اور صبر کیا۔ تیری آزائش ابھی ایسی نہیں ہوئی۔ اسحاق ؑ نے خود اپنی قربانی منظور کرلی اور اپنا گلا کٹوانے بیٹھ گئے۔ تجھ پر یہ بات بھی نہیں آئی۔ یعقوب ؑ سے میں نے ان کے لخت جگر کو الگ کردیا اس نے بھی صبر کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ بھی نہیں ہوا یہ روایت مرسل ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ اس روایت کے راوی علی بن زید بن جدعان اکثر منکر اور غریب روایتیں بیان کردیا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ احنف بن قیس ؒ نے یہ روایت بنی اسرائیل سے لی ہو، جیسے کعب وہب وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل کی ورایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف کو اس موقعہ پر جب کہ بنیامین قید میں تھے۔ ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں رحم دلانے کے لئے لکھا تھا کہ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ میرے دادا حضرت ابراہیم آگ میں ڈالے گئے۔ میرے والد حضرت اسحاق ؑ ذبح کے ساتھ آزمائے گئے۔ میں خود فراق یوسف میں مبتلا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی سندا ثابت نہیں۔ بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ حضرت یعقوب ؑ نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی ؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا یوسف کو رو رو کر آنکھیں کھو بیھٹا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں ؟ حضرت یعقوب ؑ نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ لَهُمْ كَمَا قَالَ لَهُمْ حِينَ جَاءُوا عَلَى قَمِيصِ يُوسُفَ بِدَمٍ كَذِبٍ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: لَمَّا جَاءُوا يَعْقُوبَ وَأَخْبَرُوهُ بِمَا يَجْرِي اتِّهَمَهُمْ، وَظَنَّ أَنَّهَا كَفَعْلَتِهِمْ بِيُوسُفَ ﴿قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾ [[في ت، أ: "فقال" وهو خطأ.]] .
وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَمَّا كَانَ صَنِيعُهُمْ [[في ت: "صبرنا".]] هَذَا مُرَتَّبًا عَلَى فِعْلِهِمُ الْأَوَّلِ، سُحب [[في ت: "اسحب"، وفي أ: "استحب".]] حُكْمُ الْأَوَّلِ عَلَيْهِ، وَصَحَّ قَوْلُهُ: ﴿بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ﴾
ثُمَّ تَرَجَّى [[في ت: "يرجى".]] مِنَ اللَّهِ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ أَوْلَادَهُ الثَّلَاثَةَ: يُوسُفَ وأخاه بنيامين، وروبيل الذي أقام بديار مِصْرَ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللَّهِ فِيهِ، إِمَّا أَنْ يَرْضَى عَنْهُ أَبُوهُ فَيَأْمُرُهُ بِالرُّجُوعِ إِلَيْهِ، وَإِمَّا أَنْ يَأْخُذَ أَخَاهُ خُفْيَةً؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿عَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ﴾ أَيِ: الْعَلِيمُ بِحَالِي، ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَفْعَالِهِ وَقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ.
﴿وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ﴾ أَيْ: أَعْرَضَ عَنْ بَنِيهِ وَقَالَ مُتَذَكِّرًا حُزنَ يُوسُفَ الْقَدِيمَ الْأَوَّلَ: ﴿يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ﴾ جَدَّد لَهُ حزنُ الِابْنَيْنِ [[في ت: "الاثنين".]] الْحُزْنَ الدَّفِينَ.
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ العُصْفُريّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ غيرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الِاسْتِرْجَاعَ، أَلَّا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: ﴿يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ أَيْ: سَاكِتٌ لَا يَشْكُو أَمْرَهُ إِلَى مَخْلُوقٍ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨٤) وروى موصولا ولا يصح.]] قَالَهُ قَتَادَةُ وَغَيْرُهُ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: ﴿فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ كَمِيدٌ حَزِينٌ.
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ [حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى] ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ [[في ت: "يزيد".]] عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: يَا رَبِّ، إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَسْأَلُونَكَ بِإِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ، فَاجْعَلْنِي لَهُمْ رَابِعًا. فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ أَنْ يَا دَاوُدُ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ بِسَبَبِي فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ، وَإِنَّ إِسْحَاقَ بَذَلَ مُهْجَةَ [[في ت: "مهجته"]] دَمِهِ فِي سَبَبِي فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ، وَإِنَّ يَعْقُوبَ أَخَذْتُ مِنْهُ حَبِيبَهُ حَتَّى ابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ، فَصَبَرَ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ".
وَهَذَا مُرْسَلٌ، وَفِيهِ نَكَارَةٌ [[ورواه ابن أبي شيبة في المصنف (١١/٥٥٤) عَنْ عَفَّانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ بِهِ.]] ؛ فَإِنَّ الصَّحِيحَ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ هُوَ الذَّبِيحُ، وَلَكِنَّ عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَان لَهُ مَنَاكِيرُ وَغَرَائِبُ كَثِيرَةٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَأَقْرَبُ مَا فِي هَذَا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَكَاهُ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، عَنْ بَنِي [[في ت: "عن بعض بني".]] إِسْرَائِيلَ كَكَعْبٍ وَوَهْبٍ وَنَحْوِهِمَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ الْإِسْرَائِيلِيِّينَ يَنْقُلُونَ أَنَّ يَعْقُوبَ كَتَبَ إِلَى يُوسُفَ لَمَّا احْتَبَسَ أَخَاهُ بِسَبَبِ السَّرِقَةِ يَتَلَطَّفُ لَهُ فِي رَدِّهِ، وَيَذْكُرُ لَهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتٍ مُصَابُونَ بِالْبَلَاءِ، فَإِبْرَاهِيمُ ابْتُلِيَ بِالنَّارِ، وَإِسْحَاقُ بِالذَّبْحِ، وَيَعْقُوبُ بِفِرَاقِ يُوسُفَ، فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ لَا يَصِحُّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ رَقَّ لَهُ بَنُوهُ، وَقَالُوا لَهُ عَلَى سَبِيلِ الرِّفْقِ بِهِ وَالشَّفَقَةِ عَلَيْهِ: ﴿قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ﴾ أَيْ: لَا تُفَارِقُ تَذَكُّر يُوسُفَ، ﴿حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا﴾ أَيْ: ضَعِيفَ الْجِسْمِ، ضَعِيفَ الْقُوَّةِ، ﴿أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ﴾ يَقُولُونَ: وَإِنِ اسْتَمَرَّ بِكَ هَذَا الْحَالُ خَشِينَا عَلَيْكَ الْهَلَاكَ وَالتَّلَفَ.
﴿قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ أَيْ: أَجَابَهُمْ عَمَّا قَالُوا بِقَوْلِهِ: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي﴾
أَيْ: هَمِّي وَمَا أَنَا فِيهِ ﴿إِلَى اللَّهِ﴾ وَحَدَّهُ ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: أَرْجُو مِنْهُ كُلَّ خَيْرٍ.
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [يَعْنِي رُؤْيَا يُوسُفَ أَنَّهَا صِدْقٌ وَأَنَّ اللَّهَ لَا بُدَّ أَنْ يُظْهِرَهَا وَيُنْجِزَهَا. وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [[زيادة من ت.]] أَعْلَمُ أَنَّ رُؤْيَا يُوسُفَ صَادِقَةٌ، وَأَنِّي سَوْفَ أَسْجُدُ لَهُ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنَيَّة، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "كَانَ لِيَعْقُوبَ النَّبِيِّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَخٌ مُؤاخ لَهُ، فَقَالَ لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ: مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ وَقَوَّسَ ظَهْرَكَ؟ قَالَ: الَّذِي [[في أ: "أما الذي".]] أَذْهَبَ بَصَرِي الْبُكَاءُ [[في ت، أ: "فالبكاء".]] عَلَى يُوسُفَ، وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى بِنْيَامِينَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ، إِنَّ اللَّهَ يُقرئك السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: أَمَا تَسْتَحْيِي أَنْ تَشْكُوَنِي إِلَى غَيْرِي؟ فَقَالَ يَعْقُوبُ: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ. فَقَالَ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَشْكُو" [[ورواه الحاكم في المستدرك (٢/٣٤٨) من طريق أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عن حفص بن عمر ابن الزبير، عن أنس بنحوه، وقال الحاكم: "حفص بن عمر بن الزبير، وأظن الزبير وهما من الراوي فإنه حفص بن عمر بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري". ورواه إسحاق بن راهويه ومن طريقه الحاكم في المستدرك (٢/٣٤٨) من طريق يحيى بن عبد الملك، عن أنس بن مالك مرسلا. ورواه ابن أبي الدنيا في "الفرج بعد الشدة" برقم (٤٧) من طريق زافر بن سليمان عن يحيى بن عبد الملك عن رجل، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مرفوعا. ورواه الطبراني في الأوسط برقم (٣٣٤١) "مجمع البحرين" من طريق وهب بن بقية عن يحيى بن عبد المطلب عن حصين بن عمر الأحمسي عن أبي الزبير عن أنس مرفوعا. وبهذا يتبين أن الحديث مضطرب.]] .
وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، فيه نكارة.
يَٰبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَٰفِرُونَ
O my sons, go and find out about Joseph and his brother and despair not of relief from Allah. Indeed, no one despairs of relief from Allah except the disbelieving people."
بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں
پسرانم! بروید، و از یوسف و برادرش جستجو کنید؛ و از رحمت خدا مأیوس نشوید؛ که تنها گروه کافران، از رحمت خدا مأیوس میشوند!»
Tafsir Ibn Kathir
"O my sons! Go you and inquire about Yusuf and his brother, and never give up hope of Allah's mercy. Certainly no one despairs of Allah's mercy, except the people who disbelieve. (87)Then, when they entered unto him, they said: "O 'Aziz! A hard time has hit us and our family, and we have brought but poor capital, so pay us full measure and be charitable to us. Truly, Allah does reward the charitable. (88)
Ya'qub orders His Children to inquire about Yusuf and His Brother
Allah states that Ya'qub, peace be upon him, ordered his children to go back and inquire about the news of Yusuf and his brother Binyamin, in a good manner, not as spies. He encouraged them, delivered to them the good news and ordered them not to despair of Allah's mercy. He ordered them to never give up hope in Allah, nor to ever discontinue trusting in Him for what they seek to accomplish. He said to them that only the disbelieving people despair of Allah's mercy.
Yusuf's Brothers stand before Him
Allah said next,
فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ
(Then, when they entered unto him), when they went back to Egypt and entered upon Yusuf,
قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ
(they said: "O Aziz! A hard time has hit us and our family..."), because of severe droughts and the scarcity of food,
وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجَاةٍ
(and we have brought but poor capital,) means, 'we brought money for the food we want to buy, but it is not substantial,' according to Mujahid, Al-Hasan and several others.
Allah said that they said next,
فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ
(so pay us full measure) meaning, 'in return for the little money we brought, give us the full measure that you gave us before.' Ibn Mas'ud read this Ayah in a way that means, "So give the full load on our animals and be charitable with us." Ibn Jurayj commented, "So be charitable to us by returning our brother to us." And when Sufyan bin 'Uyaynah was asked if the Sadaqah (charity) was prohibited for any Prophet before our Prophet ﷺ, he said, "Have you not heard the Ayah,
فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ
(so pay us full measure and be charitable to us. Truly, Allah does reward the charitable.)?" Ibn Jarir At-Tabari collected this statement.
Tafsir Ibn Kathir
حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کو حکم فرما رہے ہیں کہ تم ادھر ادھر جاؤ اور حضرت یوسف اور بنیامین کی تلاش کرو۔ عربی میں تحسس کا لفظ بھلائی کی جستجو کے لئے بولا جاتا ہے اور برائی کی ٹٹول کے لئے تجسس کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ساتھ میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات سے مایوس نہ ہونا چاہیے اس کی رحمت سے مایوس وہی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں کفر ہوتا ہے۔ تم تلاش بند نہ کرو، اللہ سے نیک امید رکھو اور اپنی کوشش جاری رکھو۔ چناچہ یہ لوگ چلے، پھر مصر پہنچے، حضرت یوسف کے دربار میں حاضر ہوئے، وہاں اپنی خستہ حالی ظاہر کی کہ قحط سالی نے ہمارے خاندان کو ستا رکھا ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں رہا، جس سے غلہ خریدتے اب ردی، واہی، ناقص، بیکار، کھوٹی اور قیمت نہ بننے والی کچھ یونہی سی رکھی رکھائی چیزیں لے کر آپ کے پاس آئے ہیں گویہ بدلہ نہیں کہا جاسکتا نہ قیمت بنتی ہے لیکن تاہم ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں وہی دیجئے جو سچی صحیح اور پوری قیمت پر دیا کرتے ہیں۔ ہمارے بوجھ بھر دیجئے، ہماری خورجیاں پر کر دیجئے، ابن مسعود کی قرأت میں (فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ 88) 12۔ یوسف :88) کے بدلے فاوقرر کا بنا ہے یعنی ہمارے اونٹ غلے سے لاد دیجئے۔ اور ہم پر صدقہ کیجئے ہمارے بھائی کو رہائی دیجئے، یا یہ مطلب ہے کہ یہ غلہ ہمیں ہمارے اس مال کے بدلے نہیں بلکہ بطور خیرات دیجئے۔ حضرت سفیان بن عیینہ ؒ سے سوال ہوتا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ سے پہلے بھی کسی نبی پر صدقہ حرام ہوا ہے ؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھ کر استدلال کیا کہ نہیں ہوا۔ حضرت مجاہد ؒ سے سوال ہوا کہ کیا کسی شخص کا اپنی دعا میں یہ کہنا مکروہ ہے کہ یا اللہ مجھ پر صدقہ کر۔ فرمایا ہاں اس لئے کہ صدقہ وہ کرتا ہے جو طالب ثواب ہو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّهُ نَدَبَ بَنِيهِ عَلَى [[في أ: "إلى".]] الذَّهَابِ فِي الْأَرْضِ، يَسْتَعْلِمُونَ أَخْبَارَ يُوسُفَ وَأَخِيهِ بِنْيَامِينَ.
وَالتَّحَسُّسُ [[في ت: "والتجسس".]] يَكُونُ فِي الْخَيْرِ، وَالتَّجَسُّسُ يُسْتَعْمَلُ فِي الشَّرِّ.
ونَهّضهم وَبَشَّرَهُمْ وَأَمْرَهُمْ أَلَّا يَيْأَسُوا مِنْ رُوحِ اللَّهِ، أَيْ: لَا يَقْطَعُوا رَجَاءَهُمْ وَأَمَلَهُمْ مِنَ اللَّهِ فِيمَا يَرُومُونَهُ وَيَقْصِدُونَهُ [[في ت، أ: "ويقصدون له".]] فَإِنَّهُ لَا يَقْطَعُ الرَّجَاءَ، وَيَقْطَعُ الْإِيَاسَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ [[في ت: "الكافرين".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ﴾ تَقْدِيرُ الْكَلَامِ: فَذَهَبُوا فَدَخَلُوا بلد [[في أ: "بلاد".]] مصر، ودخلوا على يوسف، ﴿قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ﴾ يَعْنُونَ مِنَ الْجَدْبِ وَالْقَحْطِ وَقِلَّةِ الطَّعَامِ، ﴿وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ﴾ أَيْ: وَمَعَنَا ثَمَنُ الطَّعَامِ الَّذِي تَمْتَارُهُ، وَهُوَ ثَمَنٌ قَلِيلٌ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الرَّدِيءُ [[في ت، أ: "الردي الذي لا ".]] لَا يَنفُق، مِثْلَ خَلَق الغِرارة، وَالْحَبْلِ، وَالشَّيْءِ، وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الدَّرَاهِمُ الرَّدِيئَةُ الَّتِي لَا تَجُوزُ إِلَّا بِنُقْصَانٍ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ، والُّسدي.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ [وَعِكْرِمَةُ] [[زيادة من ت، أ.]] هِيَ الدَّرَاهِمُ الفُسُول.
وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ: هُوَ الصَّنَوْبَرُ وَحَبَّةُ الْخَضْرَاءِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: كَاسِدَةٌ لَا تُنْفَقُ.
وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ: جَاءُوا بحَبِّ البُطْم الْأَخْضَرِ وَالصَّنَوْبَرِ.
وَأَصْلُ الْإِزْجَاءِ: الدَّفْعُ لِضَعْفِ الشَّيْءِ، كَمَا قَالَ حَاتِمٌ الطَّائِيُّ:
ليَبْك عَلى مِلْحَانَ ضَيفٌ مُدَفَّعٌ ... وَأرمَلَةٌ تُزْجي مَعَ الَّليْلِ أرمَلا [[البيت في تفسير الطبري (١٦/٢٣٥) .]]
وَقَالَ أَعْشَى بَنِي ثَعْلَبَةَ:
الوَاهبُ المائةِ الهجَان وعَبدِها ... عُوذًا تُزَجِّي خَلْفَها أطْفَالَها [[البيت في تفسير الطبري (١٦/٢٣٥) .]]
* *
وَقَوْلُهُ إِخْبَارًا عَنْهُمْ: ﴿فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ﴾ أَيْ: أَعْطِنَا بِهَذَا الثَّمَنِ الْقَلِيلِ مَا كُنْتَ تُعْطِينَا قَبْلَ ذَلِكَ. وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ: "فأوقرْ رِكَابَنَا وَتَصَدَّقَ عَلَيْنَا".
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: ﴿وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا﴾ برَدِّ أَخِينَا إِلَيْنَا.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالسُّدِّيُّ: ﴿وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا﴾ يَقُولُونَ: تَصَدَّقْ عَلَيْنَا بِقَبْضِ هَذِهِ الْبِضَاعَةِ الْمُزْجَاةِ، وَتَجَوَّزُ فِيهَا.
وَسُئِلَ سُفْيَانُ بْنُ عُيُيْنَة: هَلْ حُرِّمَتِ الصَّدَقَةُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَ النَّبِيِّ ﷺ؟ فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَهُ: ﴿فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ﴾ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْهُ [[في أ: "به".]] [[تفسير الطبري (١٦/٢٤٢) .]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا وَسُئِلَ: هَلْ يُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ تَصَدَّقْ عَلَيَّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا الصَّدَقَةُ لمن يبتغي الثواب.
فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَٰعَةٍۢ مُّزْجَىٰةٍۢ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ
So when they entered upon Joseph, they said, "O 'Azeez, adversity has touched us and our family, and we have come with goods poor in quality, but give us full measure and be charitable to us. Indeed, Allah rewards the charitable."
جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے
هنگامی که آنها بر او [= یوسف] وارد شدند، گفتند: «ای عزیز! ما و خاندان ما را ناراحتی فرا گرفته، و متاع کمی (برای خرید موادّ غذایی) با خود آوردهایم؛ پیمانه را برای ما کامل کن؛ و بر ما تصدّق و بخشش نما، که خداوند بخشندگان را پاداش میدهد!»
Tafsir Ibn Kathir
"O my sons! Go you and inquire about Yusuf and his brother, and never give up hope of Allah's mercy. Certainly no one despairs of Allah's mercy, except the people who disbelieve. (87)Then, when they entered unto him, they said: "O 'Aziz! A hard time has hit us and our family, and we have brought but poor capital, so pay us full measure and be charitable to us. Truly, Allah does reward the charitable. (88)
Ya'qub orders His Children to inquire about Yusuf and His Brother
Allah states that Ya'qub, peace be upon him, ordered his children to go back and inquire about the news of Yusuf and his brother Binyamin, in a good manner, not as spies. He encouraged them, delivered to them the good news and ordered them not to despair of Allah's mercy. He ordered them to never give up hope in Allah, nor to ever discontinue trusting in Him for what they seek to accomplish. He said to them that only the disbelieving people despair of Allah's mercy.
Yusuf's Brothers stand before Him
Allah said next,
فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ
(Then, when they entered unto him), when they went back to Egypt and entered upon Yusuf,
قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ
(they said: "O Aziz! A hard time has hit us and our family..."), because of severe droughts and the scarcity of food,
وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجَاةٍ
(and we have brought but poor capital,) means, 'we brought money for the food we want to buy, but it is not substantial,' according to Mujahid, Al-Hasan and several others.
Allah said that they said next,
فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ
(so pay us full measure) meaning, 'in return for the little money we brought, give us the full measure that you gave us before.' Ibn Mas'ud read this Ayah in a way that means, "So give the full load on our animals and be charitable with us." Ibn Jurayj commented, "So be charitable to us by returning our brother to us." And when Sufyan bin 'Uyaynah was asked if the Sadaqah (charity) was prohibited for any Prophet before our Prophet ﷺ, he said, "Have you not heard the Ayah,
فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ
(so pay us full measure and be charitable to us. Truly, Allah does reward the charitable.)?" Ibn Jarir At-Tabari collected this statement.
Tafsir Ibn Kathir
حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کو حکم فرما رہے ہیں کہ تم ادھر ادھر جاؤ اور حضرت یوسف اور بنیامین کی تلاش کرو۔ عربی میں تحسس کا لفظ بھلائی کی جستجو کے لئے بولا جاتا ہے اور برائی کی ٹٹول کے لئے تجسس کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ساتھ میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات سے مایوس نہ ہونا چاہیے اس کی رحمت سے مایوس وہی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں کفر ہوتا ہے۔ تم تلاش بند نہ کرو، اللہ سے نیک امید رکھو اور اپنی کوشش جاری رکھو۔ چناچہ یہ لوگ چلے، پھر مصر پہنچے، حضرت یوسف کے دربار میں حاضر ہوئے، وہاں اپنی خستہ حالی ظاہر کی کہ قحط سالی نے ہمارے خاندان کو ستا رکھا ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں رہا، جس سے غلہ خریدتے اب ردی، واہی، ناقص، بیکار، کھوٹی اور قیمت نہ بننے والی کچھ یونہی سی رکھی رکھائی چیزیں لے کر آپ کے پاس آئے ہیں گویہ بدلہ نہیں کہا جاسکتا نہ قیمت بنتی ہے لیکن تاہم ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں وہی دیجئے جو سچی صحیح اور پوری قیمت پر دیا کرتے ہیں۔ ہمارے بوجھ بھر دیجئے، ہماری خورجیاں پر کر دیجئے، ابن مسعود کی قرأت میں (فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ 88) 12۔ یوسف :88) کے بدلے فاوقرر کا بنا ہے یعنی ہمارے اونٹ غلے سے لاد دیجئے۔ اور ہم پر صدقہ کیجئے ہمارے بھائی کو رہائی دیجئے، یا یہ مطلب ہے کہ یہ غلہ ہمیں ہمارے اس مال کے بدلے نہیں بلکہ بطور خیرات دیجئے۔ حضرت سفیان بن عیینہ ؒ سے سوال ہوتا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ سے پہلے بھی کسی نبی پر صدقہ حرام ہوا ہے ؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھ کر استدلال کیا کہ نہیں ہوا۔ حضرت مجاہد ؒ سے سوال ہوا کہ کیا کسی شخص کا اپنی دعا میں یہ کہنا مکروہ ہے کہ یا اللہ مجھ پر صدقہ کر۔ فرمایا ہاں اس لئے کہ صدقہ وہ کرتا ہے جو طالب ثواب ہو۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّهُ نَدَبَ بَنِيهِ عَلَى [[في أ: "إلى".]] الذَّهَابِ فِي الْأَرْضِ، يَسْتَعْلِمُونَ أَخْبَارَ يُوسُفَ وَأَخِيهِ بِنْيَامِينَ.
وَالتَّحَسُّسُ [[في ت: "والتجسس".]] يَكُونُ فِي الْخَيْرِ، وَالتَّجَسُّسُ يُسْتَعْمَلُ فِي الشَّرِّ.
ونَهّضهم وَبَشَّرَهُمْ وَأَمْرَهُمْ أَلَّا يَيْأَسُوا مِنْ رُوحِ اللَّهِ، أَيْ: لَا يَقْطَعُوا رَجَاءَهُمْ وَأَمَلَهُمْ مِنَ اللَّهِ فِيمَا يَرُومُونَهُ وَيَقْصِدُونَهُ [[في ت، أ: "ويقصدون له".]] فَإِنَّهُ لَا يَقْطَعُ الرَّجَاءَ، وَيَقْطَعُ الْإِيَاسَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ [[في ت: "الكافرين".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ﴾ تَقْدِيرُ الْكَلَامِ: فَذَهَبُوا فَدَخَلُوا بلد [[في أ: "بلاد".]] مصر، ودخلوا على يوسف، ﴿قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ﴾ يَعْنُونَ مِنَ الْجَدْبِ وَالْقَحْطِ وَقِلَّةِ الطَّعَامِ، ﴿وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ﴾ أَيْ: وَمَعَنَا ثَمَنُ الطَّعَامِ الَّذِي تَمْتَارُهُ، وَهُوَ ثَمَنٌ قَلِيلٌ. قَالَهُ مُجَاهِدٌ، وَالْحَسَنُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الرَّدِيءُ [[في ت، أ: "الردي الذي لا ".]] لَا يَنفُق، مِثْلَ خَلَق الغِرارة، وَالْحَبْلِ، وَالشَّيْءِ، وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: الدَّرَاهِمُ الرَّدِيئَةُ الَّتِي لَا تَجُوزُ إِلَّا بِنُقْصَانٍ. وَكَذَا قَالَ قَتَادَةُ، والُّسدي.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ [وَعِكْرِمَةُ] [[زيادة من ت، أ.]] هِيَ الدَّرَاهِمُ الفُسُول.
وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ: هُوَ الصَّنَوْبَرُ وَحَبَّةُ الْخَضْرَاءِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ: كَاسِدَةٌ لَا تُنْفَقُ.
وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ: جَاءُوا بحَبِّ البُطْم الْأَخْضَرِ وَالصَّنَوْبَرِ.
وَأَصْلُ الْإِزْجَاءِ: الدَّفْعُ لِضَعْفِ الشَّيْءِ، كَمَا قَالَ حَاتِمٌ الطَّائِيُّ:
ليَبْك عَلى مِلْحَانَ ضَيفٌ مُدَفَّعٌ ... وَأرمَلَةٌ تُزْجي مَعَ الَّليْلِ أرمَلا [[البيت في تفسير الطبري (١٦/٢٣٥) .]]
وَقَالَ أَعْشَى بَنِي ثَعْلَبَةَ:
الوَاهبُ المائةِ الهجَان وعَبدِها ... عُوذًا تُزَجِّي خَلْفَها أطْفَالَها [[البيت في تفسير الطبري (١٦/٢٣٥) .]]
* *
وَقَوْلُهُ إِخْبَارًا عَنْهُمْ: ﴿فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ﴾ أَيْ: أَعْطِنَا بِهَذَا الثَّمَنِ الْقَلِيلِ مَا كُنْتَ تُعْطِينَا قَبْلَ ذَلِكَ. وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ: "فأوقرْ رِكَابَنَا وَتَصَدَّقَ عَلَيْنَا".
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: ﴿وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا﴾ برَدِّ أَخِينَا إِلَيْنَا.
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالسُّدِّيُّ: ﴿وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا﴾ يَقُولُونَ: تَصَدَّقْ عَلَيْنَا بِقَبْضِ هَذِهِ الْبِضَاعَةِ الْمُزْجَاةِ، وَتَجَوَّزُ فِيهَا.
وَسُئِلَ سُفْيَانُ بْنُ عُيُيْنَة: هَلْ حُرِّمَتِ الصَّدَقَةُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَ النَّبِيِّ ﷺ؟ فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَهُ: ﴿فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ﴾ رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ عَنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْهُ [[في أ: "به".]] [[تفسير الطبري (١٦/٢٤٢) .]] .
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا وَسُئِلَ: هَلْ يُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ تَصَدَّقْ عَلَيَّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا الصَّدَقَةُ لمن يبتغي الثواب.
قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَٰهِلُونَ
He said, "Do you know what you did with Joseph and his brother when you were ignorant?"
(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
گفت: «آیا دانستید با یوسف و برادرش چه کردید، آنگاه که جاهل بودید؟!»
Tafsir Ibn Kathir
He said: "Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant? (89)They said: "Are you indeed Yusuf?" He said: "I am Yusuf , and this is my brother. Allah has indeed been gracious to us. He who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost. (90)They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us, and we certainly have been sinners. (91)He said: "No reproach on you this day; may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy (92)
Yusuf reveals His True Identity to His Brothers and forgives Them
Allah says, when Yusuf's brothers told him about the afflictions and hardship, and shortages in food they suffered from in the aftermath of the drought that struck them, and he remembered his father's grief for losing his two children, he felt compassion, pity and mercy for his father and brothers. He felt this way, especially since he was enjoying kingship, authority and power, so he cried and revealed his true identity to them when he asked them,
هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ
(Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant?) meaning, 'when you separated between Yusuf and his brother,'
إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ
(when you were ignorant?) He said, 'What made you do this is your ignorance of the tremendous sin you were about to commit.' It appears, and Allah knows best, that Yusuf revealed his identity to his brothers only then by Allah's command, just as he hid his identity from them in the first two meetings, by Allah's command. When the affliction became harder, Allah sent His relief from that affliction, just as He said He does,
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
(Verily, along with every hardship is relief. Verily, along with every hardship is relief.)[94:5-6] This is when they said to Yusuf,
أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ
(Are you indeed Yusuf?), in amazement, because they had been meeting him for more than two years while unaware of who he really was. Yet, he knew who they were and hid this news from them. Therefore, they asked in astonishment,
أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَٰذَا أَخِي
(Are you indeed Yusuf? He said: "I am Yusuf, and this is my brother...") Yusuf said next,
قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا
(Allah has indeed been gracious to us.) by gathering us together after being separated all this time,'
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا
("Verily, he who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost." They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us.") They affirmed Yusuf's virtue above them, being blessed with beauty, conduct, richness, kingship, authority and, above all, prophethood. They admitted their error and acknowledged that they made a mistake against him,
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
(He said: "No reproach on you this day.") He said to them, 'There will be no blame for you today or admonishment, and I will not remind you after today of your error against me.' He then multiplied his generosity by invoking Allah for them for mercy,
يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy!)
Tafsir Ibn Kathir
جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے معاملہ صاف کردیا۔ جب تکلیف بڑھ گئی سختی زیادہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے راحت دے دی اور کشادگی عطا فرما دی۔ جیسے ارشاد ہے کہ سختی کے ساتھ آسانی ہے یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ اب بھائی چونک پڑے کچھ اس وجہ سے کہ تاج اتار نے کے بعد پیشانی کی نشانی دیکھ لی اور کچھ اس قسم کے سوالات کچھ حالات کچھ اگلے واقعات سب سامنے آگئے تاہم اپنا شک دور کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ آپ نے اس سوال کے جواب میں صاف کہہ دیا کہ ہاں میں خود یوسف ہوں اور یہ میرا سگا بھائی ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا بچھڑنے کے بعد ملا دیا تفرقہ کے بعد اجتماع کردیا تقوی اور صبر رائگاں نہیں جاتے۔ نیک کاری بےپھل لائے نہیں رہتی۔ اب تو بھائیوں نے حضرت یوسف ؑ کی فضیلت اور بزرگی کا اقرار کرلیا کہ واقعی صورت سیرت دونوں اعتبار سے آپ ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ ملک و مال کے اعتبار سے بھی اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اسی طرح بعض کے نزدیک نبوت کے اعتبار سے بھی کیونکہ حضرت یوسف نبی تھے اور یہ بھائی نبی نہ تھے۔ اس اقرار کے بعد اپنی خطا کاری کا بھی اقرار کیا۔ اسی وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میں آج کے دن کے بعد سے تمہیں تمہاری یہ خطا یاد بھی نہ دلاؤں گا میں تمہیں کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنا نہیں چاہتا نہ تم پر الزام رکھتا ہوں نہ تم پر اظہار خفگی کرتا ہوں بلکہ میری دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرمائے وہ ارحم الراحمین ہے۔ بھائیوں نے عذر پیش کیا اپنے قبول فرما لیا اللہ تمہاری پردہ پوشی کرے اور تم نے جو کیا ہے اسے بخش دے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّهُ لَمَّا ذَكَرَ لَهُ إِخْوَتُهُ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْجَهْدِ وَالضِّيقِ وَقِلَّةِ الطَّعَامِ وَعُمُومِ الْجَدْبِ، وَتَذَكَّرَ أَبَاهُ وَمَا هُوَ فِيهِ مِنَ الْحُزْنِ لِفَقْدِ وَلَدَيْهِ، مَعَ مَا هُوَ فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ وَالتَّصَرُّفِ وَالسَّعَةِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَخَذَتْهُ رِقَّةٌ وَرَأْفَةٌ وَرَحْمَةٌ وَشَفَقَةٌ عَلَى أَبِيهِ وَإِخْوَتِهِ، وَبَدَرَهُ الْبُكَاءُ، فَتَعَرَّفَ إِلَيْهِمْ، يُقَالُ [[في ت، أ: "فيقال".]] إِنَّهُ رَفَعَ التَّاجَ عَنْ جَبْهَتِهِ، وَكَانَ فِيهَا شَامَةٌ، وَقَالَ: ﴿هَلْ عَلِمْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُونَ﴾ ؟ يَعْنِي: كَيْفَ فَرَّقُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ﴿إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُونَ﴾ أَيْ: إِنَّمَا حَمَلَكُمْ عَلَى هَذَا [[في أ: "ذلك".]] الْجَهْلُ بِمِقْدَارِ هَذَا الَّذِي ارْتَكَبْتُمُوهُ، كَمَا قَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: كُلُّ مَنْ عَصَى اللَّهَ فَهُوَ جَاهِلٌ، وَقَرَأَ: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ١١٩] .
وَالظَّاهِرُ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّمَا تَعَرَّفَ إِلَيْهِمْ بِنَفْسِهِ، بِإِذْنِ اللَّهِ لَهُ فِي ذَلِكَ، كَمَا أَنَّهُ إِنَّمَا أَخْفَى مِنْهُمْ نَفْسَهُ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ت، أ: "الأولتين".]] بِأَمْرِ اللَّهِ تَعَالَى لَهُ فِي ذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَلَكِنْ لَمَّا ضَاقَ الْحَالُ وَاشْتَدَّ الْأَمْرُ، فَرَّج اللَّهُ تَعَالَى مِنْ ذَلِكَ الضِّيقِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ [[في ت، أ: "إن" وهو خطأ.]] [الشَّرْحِ: ٥، ٦] ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالُوا: ﴿أَئِنَّكَ لأنْتَ يُوسُفُ﴾ ؟
وَقَرَأَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: "أَوَ أَنْتَ [[في أ: "أو إنك".]] يُوسُفُ"، وَقَرَأَ ابْنُ مُحَيْصِن: "إنَّك لأنتَ [[في ت، أ: "وأنت".]] يُوسُفُ". وَالْقِرَاءَةُ الْمَشْهُورَةُ هِيَ الْأُولَى؛ لِأَنَّ الِاسْتِفْهَامَ يَدُلُّ عَلَى الِاسْتِعْظَامِ، أَيْ: إِنَّهُمْ تَعجَّبوا مِنْ ذَلِكَ أَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ إِلَيْهِ مِنْ سَنَتَيْنِ وَأَكْثَرَ، وَهُمْ لَا يَعْرِفُونَهُ، وَهُوَ مَعَ هَذَا يَعْرِفُهُمْ وَيَكْتُمُ نَفْسَهُ، فَلِهَذَا قَالُوا عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِفْهَامِ: ﴿أَئِنَّكَ لأنْتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَذَا أَخِي﴾ ﴿قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا﴾ أَيْ: بِجَمْعِهِ بَيْنَنَا بَعْدَ التَّفْرِقَةِ وَبَعْدَ الْمُدَّةِ، ﴿إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا لَخَاطِئِينَ﴾ يَقُولُونَ مُعْتَرِفِينَ لَهُ بِالْفَضْلِ وَالْأَثْرَةِ عَلَيْهِمْ فِي الْخَلْقِ وَالْخُلُقِ، وَالسَّعَةِ وَالْمُلْكِ، وَالتَّصَرُّفِ وَالنُّبُوَّةِ أَيْضًا -عَلَى قَوْلِ مَنْ لَمْ يَجْعَلْهُمْ أَنْبِيَاءَ -وَأَقَرُّوا لَهُ بِأَنَّهُمْ أَسَاءُوا إِلَيْهِ وَأَخْطَئُوا فِي حَقِّهِ.
﴿قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾ يَقُولُ: لَا تَأْنِيبَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَتْب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ، وَلَا أُعِيدُ [[في ت، أ: "ولا أعيد عليكم".]] ذَنْبَكُمْ فِي حَقِّي بَعْدَ اليوم.
ثُمَّ زَادَهُمُ الدُّعَاءَ لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
قَالَ السُّدِّيُّ: اعْتَذَرُوا إِلَى يُوسُفَ، فَقَالَ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾ يَقُولُ: لَا أَذْكُرُ لَكُمْ ذَنْبَكُمْ.
وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَالثَّوْرِيُّ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ [الْيَوْمَ] ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] أَيْ: لَا تَأْنِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ عِنْدِي فِيمَا صَنَعْتُمْ ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ﴾ أَيْ: يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْتُمْ، ﴿وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ
They said, "Are you indeed Joseph?" He said "I am Joseph, and this is my brother. Allah has certainly favored us. Indeed, he who fears Allah and is patient, then indeed, Allah does not allow to be lost the reward of those who do good."
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
گفتند: «آیا تو همان یوسفی؟!» گفت: «(آری،) من یوسفم، و این برادر من است! خداوند بر ما منّت گذارد؛ هر کس تقوا پیشه کند، و شکیبایی و استقامت نماید، (سرانجام پیروز میشود؛) چرا که خداوند پاداش نیکوکاران را ضایع نمیکند!»
Tafsir Ibn Kathir
He said: "Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant? (89)They said: "Are you indeed Yusuf?" He said: "I am Yusuf , and this is my brother. Allah has indeed been gracious to us. He who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost. (90)They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us, and we certainly have been sinners. (91)He said: "No reproach on you this day; may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy (92)
Yusuf reveals His True Identity to His Brothers and forgives Them
Allah says, when Yusuf's brothers told him about the afflictions and hardship, and shortages in food they suffered from in the aftermath of the drought that struck them, and he remembered his father's grief for losing his two children, he felt compassion, pity and mercy for his father and brothers. He felt this way, especially since he was enjoying kingship, authority and power, so he cried and revealed his true identity to them when he asked them,
هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ
(Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant?) meaning, 'when you separated between Yusuf and his brother,'
إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ
(when you were ignorant?) He said, 'What made you do this is your ignorance of the tremendous sin you were about to commit.' It appears, and Allah knows best, that Yusuf revealed his identity to his brothers only then by Allah's command, just as he hid his identity from them in the first two meetings, by Allah's command. When the affliction became harder, Allah sent His relief from that affliction, just as He said He does,
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
(Verily, along with every hardship is relief. Verily, along with every hardship is relief.)[94:5-6] This is when they said to Yusuf,
أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ
(Are you indeed Yusuf?), in amazement, because they had been meeting him for more than two years while unaware of who he really was. Yet, he knew who they were and hid this news from them. Therefore, they asked in astonishment,
أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَٰذَا أَخِي
(Are you indeed Yusuf? He said: "I am Yusuf, and this is my brother...") Yusuf said next,
قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا
(Allah has indeed been gracious to us.) by gathering us together after being separated all this time,'
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا
("Verily, he who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost." They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us.") They affirmed Yusuf's virtue above them, being blessed with beauty, conduct, richness, kingship, authority and, above all, prophethood. They admitted their error and acknowledged that they made a mistake against him,
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
(He said: "No reproach on you this day.") He said to them, 'There will be no blame for you today or admonishment, and I will not remind you after today of your error against me.' He then multiplied his generosity by invoking Allah for them for mercy,
يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy!)
Tafsir Ibn Kathir
جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے معاملہ صاف کردیا۔ جب تکلیف بڑھ گئی سختی زیادہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے راحت دے دی اور کشادگی عطا فرما دی۔ جیسے ارشاد ہے کہ سختی کے ساتھ آسانی ہے یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ اب بھائی چونک پڑے کچھ اس وجہ سے کہ تاج اتار نے کے بعد پیشانی کی نشانی دیکھ لی اور کچھ اس قسم کے سوالات کچھ حالات کچھ اگلے واقعات سب سامنے آگئے تاہم اپنا شک دور کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ آپ نے اس سوال کے جواب میں صاف کہہ دیا کہ ہاں میں خود یوسف ہوں اور یہ میرا سگا بھائی ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا بچھڑنے کے بعد ملا دیا تفرقہ کے بعد اجتماع کردیا تقوی اور صبر رائگاں نہیں جاتے۔ نیک کاری بےپھل لائے نہیں رہتی۔ اب تو بھائیوں نے حضرت یوسف ؑ کی فضیلت اور بزرگی کا اقرار کرلیا کہ واقعی صورت سیرت دونوں اعتبار سے آپ ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ ملک و مال کے اعتبار سے بھی اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اسی طرح بعض کے نزدیک نبوت کے اعتبار سے بھی کیونکہ حضرت یوسف نبی تھے اور یہ بھائی نبی نہ تھے۔ اس اقرار کے بعد اپنی خطا کاری کا بھی اقرار کیا۔ اسی وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میں آج کے دن کے بعد سے تمہیں تمہاری یہ خطا یاد بھی نہ دلاؤں گا میں تمہیں کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنا نہیں چاہتا نہ تم پر الزام رکھتا ہوں نہ تم پر اظہار خفگی کرتا ہوں بلکہ میری دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرمائے وہ ارحم الراحمین ہے۔ بھائیوں نے عذر پیش کیا اپنے قبول فرما لیا اللہ تمہاری پردہ پوشی کرے اور تم نے جو کیا ہے اسے بخش دے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّهُ لَمَّا ذَكَرَ لَهُ إِخْوَتُهُ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْجَهْدِ وَالضِّيقِ وَقِلَّةِ الطَّعَامِ وَعُمُومِ الْجَدْبِ، وَتَذَكَّرَ أَبَاهُ وَمَا هُوَ فِيهِ مِنَ الْحُزْنِ لِفَقْدِ وَلَدَيْهِ، مَعَ مَا هُوَ فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ وَالتَّصَرُّفِ وَالسَّعَةِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَخَذَتْهُ رِقَّةٌ وَرَأْفَةٌ وَرَحْمَةٌ وَشَفَقَةٌ عَلَى أَبِيهِ وَإِخْوَتِهِ، وَبَدَرَهُ الْبُكَاءُ، فَتَعَرَّفَ إِلَيْهِمْ، يُقَالُ [[في ت، أ: "فيقال".]] إِنَّهُ رَفَعَ التَّاجَ عَنْ جَبْهَتِهِ، وَكَانَ فِيهَا شَامَةٌ، وَقَالَ: ﴿هَلْ عَلِمْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُونَ﴾ ؟ يَعْنِي: كَيْفَ فَرَّقُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ﴿إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُونَ﴾ أَيْ: إِنَّمَا حَمَلَكُمْ عَلَى هَذَا [[في أ: "ذلك".]] الْجَهْلُ بِمِقْدَارِ هَذَا الَّذِي ارْتَكَبْتُمُوهُ، كَمَا قَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: كُلُّ مَنْ عَصَى اللَّهَ فَهُوَ جَاهِلٌ، وَقَرَأَ: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ١١٩] .
وَالظَّاهِرُ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّمَا تَعَرَّفَ إِلَيْهِمْ بِنَفْسِهِ، بِإِذْنِ اللَّهِ لَهُ فِي ذَلِكَ، كَمَا أَنَّهُ إِنَّمَا أَخْفَى مِنْهُمْ نَفْسَهُ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ت، أ: "الأولتين".]] بِأَمْرِ اللَّهِ تَعَالَى لَهُ فِي ذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَلَكِنْ لَمَّا ضَاقَ الْحَالُ وَاشْتَدَّ الْأَمْرُ، فَرَّج اللَّهُ تَعَالَى مِنْ ذَلِكَ الضِّيقِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ [[في ت، أ: "إن" وهو خطأ.]] [الشَّرْحِ: ٥، ٦] ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالُوا: ﴿أَئِنَّكَ لأنْتَ يُوسُفُ﴾ ؟
وَقَرَأَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: "أَوَ أَنْتَ [[في أ: "أو إنك".]] يُوسُفُ"، وَقَرَأَ ابْنُ مُحَيْصِن: "إنَّك لأنتَ [[في ت، أ: "وأنت".]] يُوسُفُ". وَالْقِرَاءَةُ الْمَشْهُورَةُ هِيَ الْأُولَى؛ لِأَنَّ الِاسْتِفْهَامَ يَدُلُّ عَلَى الِاسْتِعْظَامِ، أَيْ: إِنَّهُمْ تَعجَّبوا مِنْ ذَلِكَ أَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ إِلَيْهِ مِنْ سَنَتَيْنِ وَأَكْثَرَ، وَهُمْ لَا يَعْرِفُونَهُ، وَهُوَ مَعَ هَذَا يَعْرِفُهُمْ وَيَكْتُمُ نَفْسَهُ، فَلِهَذَا قَالُوا عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِفْهَامِ: ﴿أَئِنَّكَ لأنْتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَذَا أَخِي﴾ ﴿قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا﴾ أَيْ: بِجَمْعِهِ بَيْنَنَا بَعْدَ التَّفْرِقَةِ وَبَعْدَ الْمُدَّةِ، ﴿إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا لَخَاطِئِينَ﴾ يَقُولُونَ مُعْتَرِفِينَ لَهُ بِالْفَضْلِ وَالْأَثْرَةِ عَلَيْهِمْ فِي الْخَلْقِ وَالْخُلُقِ، وَالسَّعَةِ وَالْمُلْكِ، وَالتَّصَرُّفِ وَالنُّبُوَّةِ أَيْضًا -عَلَى قَوْلِ مَنْ لَمْ يَجْعَلْهُمْ أَنْبِيَاءَ -وَأَقَرُّوا لَهُ بِأَنَّهُمْ أَسَاءُوا إِلَيْهِ وَأَخْطَئُوا فِي حَقِّهِ.
﴿قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾ يَقُولُ: لَا تَأْنِيبَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَتْب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ، وَلَا أُعِيدُ [[في ت، أ: "ولا أعيد عليكم".]] ذَنْبَكُمْ فِي حَقِّي بَعْدَ اليوم.
ثُمَّ زَادَهُمُ الدُّعَاءَ لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
قَالَ السُّدِّيُّ: اعْتَذَرُوا إِلَى يُوسُفَ، فَقَالَ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾ يَقُولُ: لَا أَذْكُرُ لَكُمْ ذَنْبَكُمْ.
وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَالثَّوْرِيُّ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ [الْيَوْمَ] ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] أَيْ: لَا تَأْنِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ عِنْدِي فِيمَا صَنَعْتُمْ ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ﴾ أَيْ: يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْتُمْ، ﴿وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ
They said, "By Allah, certainly has Allah preferred you over us, and indeed, we have been sinners."
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
گفتند: «به خدا سوگند، خداوند تو را بر ما برتری بخشیده؛ و ما خطاکار بودیم!»
Tafsir Ibn Kathir
He said: "Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant? (89)They said: "Are you indeed Yusuf?" He said: "I am Yusuf , and this is my brother. Allah has indeed been gracious to us. He who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost. (90)They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us, and we certainly have been sinners. (91)He said: "No reproach on you this day; may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy (92)
Yusuf reveals His True Identity to His Brothers and forgives Them
Allah says, when Yusuf's brothers told him about the afflictions and hardship, and shortages in food they suffered from in the aftermath of the drought that struck them, and he remembered his father's grief for losing his two children, he felt compassion, pity and mercy for his father and brothers. He felt this way, especially since he was enjoying kingship, authority and power, so he cried and revealed his true identity to them when he asked them,
هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ
(Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant?) meaning, 'when you separated between Yusuf and his brother,'
إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ
(when you were ignorant?) He said, 'What made you do this is your ignorance of the tremendous sin you were about to commit.' It appears, and Allah knows best, that Yusuf revealed his identity to his brothers only then by Allah's command, just as he hid his identity from them in the first two meetings, by Allah's command. When the affliction became harder, Allah sent His relief from that affliction, just as He said He does,
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
(Verily, along with every hardship is relief. Verily, along with every hardship is relief.)[94:5-6] This is when they said to Yusuf,
أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ
(Are you indeed Yusuf?), in amazement, because they had been meeting him for more than two years while unaware of who he really was. Yet, he knew who they were and hid this news from them. Therefore, they asked in astonishment,
أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَٰذَا أَخِي
(Are you indeed Yusuf? He said: "I am Yusuf, and this is my brother...") Yusuf said next,
قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا
(Allah has indeed been gracious to us.) by gathering us together after being separated all this time,'
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا
("Verily, he who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost." They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us.") They affirmed Yusuf's virtue above them, being blessed with beauty, conduct, richness, kingship, authority and, above all, prophethood. They admitted their error and acknowledged that they made a mistake against him,
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
(He said: "No reproach on you this day.") He said to them, 'There will be no blame for you today or admonishment, and I will not remind you after today of your error against me.' He then multiplied his generosity by invoking Allah for them for mercy,
يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy!)
Tafsir Ibn Kathir
جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے معاملہ صاف کردیا۔ جب تکلیف بڑھ گئی سختی زیادہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے راحت دے دی اور کشادگی عطا فرما دی۔ جیسے ارشاد ہے کہ سختی کے ساتھ آسانی ہے یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ اب بھائی چونک پڑے کچھ اس وجہ سے کہ تاج اتار نے کے بعد پیشانی کی نشانی دیکھ لی اور کچھ اس قسم کے سوالات کچھ حالات کچھ اگلے واقعات سب سامنے آگئے تاہم اپنا شک دور کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ آپ نے اس سوال کے جواب میں صاف کہہ دیا کہ ہاں میں خود یوسف ہوں اور یہ میرا سگا بھائی ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا بچھڑنے کے بعد ملا دیا تفرقہ کے بعد اجتماع کردیا تقوی اور صبر رائگاں نہیں جاتے۔ نیک کاری بےپھل لائے نہیں رہتی۔ اب تو بھائیوں نے حضرت یوسف ؑ کی فضیلت اور بزرگی کا اقرار کرلیا کہ واقعی صورت سیرت دونوں اعتبار سے آپ ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ ملک و مال کے اعتبار سے بھی اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اسی طرح بعض کے نزدیک نبوت کے اعتبار سے بھی کیونکہ حضرت یوسف نبی تھے اور یہ بھائی نبی نہ تھے۔ اس اقرار کے بعد اپنی خطا کاری کا بھی اقرار کیا۔ اسی وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میں آج کے دن کے بعد سے تمہیں تمہاری یہ خطا یاد بھی نہ دلاؤں گا میں تمہیں کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنا نہیں چاہتا نہ تم پر الزام رکھتا ہوں نہ تم پر اظہار خفگی کرتا ہوں بلکہ میری دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرمائے وہ ارحم الراحمین ہے۔ بھائیوں نے عذر پیش کیا اپنے قبول فرما لیا اللہ تمہاری پردہ پوشی کرے اور تم نے جو کیا ہے اسے بخش دے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّهُ لَمَّا ذَكَرَ لَهُ إِخْوَتُهُ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْجَهْدِ وَالضِّيقِ وَقِلَّةِ الطَّعَامِ وَعُمُومِ الْجَدْبِ، وَتَذَكَّرَ أَبَاهُ وَمَا هُوَ فِيهِ مِنَ الْحُزْنِ لِفَقْدِ وَلَدَيْهِ، مَعَ مَا هُوَ فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ وَالتَّصَرُّفِ وَالسَّعَةِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَخَذَتْهُ رِقَّةٌ وَرَأْفَةٌ وَرَحْمَةٌ وَشَفَقَةٌ عَلَى أَبِيهِ وَإِخْوَتِهِ، وَبَدَرَهُ الْبُكَاءُ، فَتَعَرَّفَ إِلَيْهِمْ، يُقَالُ [[في ت، أ: "فيقال".]] إِنَّهُ رَفَعَ التَّاجَ عَنْ جَبْهَتِهِ، وَكَانَ فِيهَا شَامَةٌ، وَقَالَ: ﴿هَلْ عَلِمْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُونَ﴾ ؟ يَعْنِي: كَيْفَ فَرَّقُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ﴿إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُونَ﴾ أَيْ: إِنَّمَا حَمَلَكُمْ عَلَى هَذَا [[في أ: "ذلك".]] الْجَهْلُ بِمِقْدَارِ هَذَا الَّذِي ارْتَكَبْتُمُوهُ، كَمَا قَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: كُلُّ مَنْ عَصَى اللَّهَ فَهُوَ جَاهِلٌ، وَقَرَأَ: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ١١٩] .
وَالظَّاهِرُ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّمَا تَعَرَّفَ إِلَيْهِمْ بِنَفْسِهِ، بِإِذْنِ اللَّهِ لَهُ فِي ذَلِكَ، كَمَا أَنَّهُ إِنَّمَا أَخْفَى مِنْهُمْ نَفْسَهُ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ت، أ: "الأولتين".]] بِأَمْرِ اللَّهِ تَعَالَى لَهُ فِي ذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَلَكِنْ لَمَّا ضَاقَ الْحَالُ وَاشْتَدَّ الْأَمْرُ، فَرَّج اللَّهُ تَعَالَى مِنْ ذَلِكَ الضِّيقِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ [[في ت، أ: "إن" وهو خطأ.]] [الشَّرْحِ: ٥، ٦] ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالُوا: ﴿أَئِنَّكَ لأنْتَ يُوسُفُ﴾ ؟
وَقَرَأَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: "أَوَ أَنْتَ [[في أ: "أو إنك".]] يُوسُفُ"، وَقَرَأَ ابْنُ مُحَيْصِن: "إنَّك لأنتَ [[في ت، أ: "وأنت".]] يُوسُفُ". وَالْقِرَاءَةُ الْمَشْهُورَةُ هِيَ الْأُولَى؛ لِأَنَّ الِاسْتِفْهَامَ يَدُلُّ عَلَى الِاسْتِعْظَامِ، أَيْ: إِنَّهُمْ تَعجَّبوا مِنْ ذَلِكَ أَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ إِلَيْهِ مِنْ سَنَتَيْنِ وَأَكْثَرَ، وَهُمْ لَا يَعْرِفُونَهُ، وَهُوَ مَعَ هَذَا يَعْرِفُهُمْ وَيَكْتُمُ نَفْسَهُ، فَلِهَذَا قَالُوا عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِفْهَامِ: ﴿أَئِنَّكَ لأنْتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَذَا أَخِي﴾ ﴿قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا﴾ أَيْ: بِجَمْعِهِ بَيْنَنَا بَعْدَ التَّفْرِقَةِ وَبَعْدَ الْمُدَّةِ، ﴿إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا لَخَاطِئِينَ﴾ يَقُولُونَ مُعْتَرِفِينَ لَهُ بِالْفَضْلِ وَالْأَثْرَةِ عَلَيْهِمْ فِي الْخَلْقِ وَالْخُلُقِ، وَالسَّعَةِ وَالْمُلْكِ، وَالتَّصَرُّفِ وَالنُّبُوَّةِ أَيْضًا -عَلَى قَوْلِ مَنْ لَمْ يَجْعَلْهُمْ أَنْبِيَاءَ -وَأَقَرُّوا لَهُ بِأَنَّهُمْ أَسَاءُوا إِلَيْهِ وَأَخْطَئُوا فِي حَقِّهِ.
﴿قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾ يَقُولُ: لَا تَأْنِيبَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَتْب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ، وَلَا أُعِيدُ [[في ت، أ: "ولا أعيد عليكم".]] ذَنْبَكُمْ فِي حَقِّي بَعْدَ اليوم.
ثُمَّ زَادَهُمُ الدُّعَاءَ لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
قَالَ السُّدِّيُّ: اعْتَذَرُوا إِلَى يُوسُفَ، فَقَالَ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾ يَقُولُ: لَا أَذْكُرُ لَكُمْ ذَنْبَكُمْ.
وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَالثَّوْرِيُّ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ [الْيَوْمَ] ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] أَيْ: لَا تَأْنِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ عِنْدِي فِيمَا صَنَعْتُمْ ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ﴾ أَيْ: يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْتُمْ، ﴿وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
He said, "No blame will there be upon you today. Allah will forgive you; and He is the most merciful of the merciful."
(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے
(یوسف) گفت: «امروز ملامت و توبیخی بر شما نیست! خداوند شما را میبخشد؛ و او مهربانترین مهربانان است!
Tafsir Ibn Kathir
He said: "Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant? (89)They said: "Are you indeed Yusuf?" He said: "I am Yusuf , and this is my brother. Allah has indeed been gracious to us. He who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost. (90)They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us, and we certainly have been sinners. (91)He said: "No reproach on you this day; may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy (92)
Yusuf reveals His True Identity to His Brothers and forgives Them
Allah says, when Yusuf's brothers told him about the afflictions and hardship, and shortages in food they suffered from in the aftermath of the drought that struck them, and he remembered his father's grief for losing his two children, he felt compassion, pity and mercy for his father and brothers. He felt this way, especially since he was enjoying kingship, authority and power, so he cried and revealed his true identity to them when he asked them,
هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ
(Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant?) meaning, 'when you separated between Yusuf and his brother,'
إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ
(when you were ignorant?) He said, 'What made you do this is your ignorance of the tremendous sin you were about to commit.' It appears, and Allah knows best, that Yusuf revealed his identity to his brothers only then by Allah's command, just as he hid his identity from them in the first two meetings, by Allah's command. When the affliction became harder, Allah sent His relief from that affliction, just as He said He does,
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
(Verily, along with every hardship is relief. Verily, along with every hardship is relief.)[94:5-6] This is when they said to Yusuf,
أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ
(Are you indeed Yusuf?), in amazement, because they had been meeting him for more than two years while unaware of who he really was. Yet, he knew who they were and hid this news from them. Therefore, they asked in astonishment,
أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَٰذَا أَخِي
(Are you indeed Yusuf? He said: "I am Yusuf, and this is my brother...") Yusuf said next,
قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا
(Allah has indeed been gracious to us.) by gathering us together after being separated all this time,'
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا
("Verily, he who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost." They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us.") They affirmed Yusuf's virtue above them, being blessed with beauty, conduct, richness, kingship, authority and, above all, prophethood. They admitted their error and acknowledged that they made a mistake against him,
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
(He said: "No reproach on you this day.") He said to them, 'There will be no blame for you today or admonishment, and I will not remind you after today of your error against me.' He then multiplied his generosity by invoking Allah for them for mercy,
يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy!)
Tafsir Ibn Kathir
جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے معاملہ صاف کردیا۔ جب تکلیف بڑھ گئی سختی زیادہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے راحت دے دی اور کشادگی عطا فرما دی۔ جیسے ارشاد ہے کہ سختی کے ساتھ آسانی ہے یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ اب بھائی چونک پڑے کچھ اس وجہ سے کہ تاج اتار نے کے بعد پیشانی کی نشانی دیکھ لی اور کچھ اس قسم کے سوالات کچھ حالات کچھ اگلے واقعات سب سامنے آگئے تاہم اپنا شک دور کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ آپ نے اس سوال کے جواب میں صاف کہہ دیا کہ ہاں میں خود یوسف ہوں اور یہ میرا سگا بھائی ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا بچھڑنے کے بعد ملا دیا تفرقہ کے بعد اجتماع کردیا تقوی اور صبر رائگاں نہیں جاتے۔ نیک کاری بےپھل لائے نہیں رہتی۔ اب تو بھائیوں نے حضرت یوسف ؑ کی فضیلت اور بزرگی کا اقرار کرلیا کہ واقعی صورت سیرت دونوں اعتبار سے آپ ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ ملک و مال کے اعتبار سے بھی اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اسی طرح بعض کے نزدیک نبوت کے اعتبار سے بھی کیونکہ حضرت یوسف نبی تھے اور یہ بھائی نبی نہ تھے۔ اس اقرار کے بعد اپنی خطا کاری کا بھی اقرار کیا۔ اسی وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میں آج کے دن کے بعد سے تمہیں تمہاری یہ خطا یاد بھی نہ دلاؤں گا میں تمہیں کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنا نہیں چاہتا نہ تم پر الزام رکھتا ہوں نہ تم پر اظہار خفگی کرتا ہوں بلکہ میری دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرمائے وہ ارحم الراحمین ہے۔ بھائیوں نے عذر پیش کیا اپنے قبول فرما لیا اللہ تمہاری پردہ پوشی کرے اور تم نے جو کیا ہے اسے بخش دے۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّهُ لَمَّا ذَكَرَ لَهُ إِخْوَتُهُ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْجَهْدِ وَالضِّيقِ وَقِلَّةِ الطَّعَامِ وَعُمُومِ الْجَدْبِ، وَتَذَكَّرَ أَبَاهُ وَمَا هُوَ فِيهِ مِنَ الْحُزْنِ لِفَقْدِ وَلَدَيْهِ، مَعَ مَا هُوَ فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ وَالتَّصَرُّفِ وَالسَّعَةِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَخَذَتْهُ رِقَّةٌ وَرَأْفَةٌ وَرَحْمَةٌ وَشَفَقَةٌ عَلَى أَبِيهِ وَإِخْوَتِهِ، وَبَدَرَهُ الْبُكَاءُ، فَتَعَرَّفَ إِلَيْهِمْ، يُقَالُ [[في ت، أ: "فيقال".]] إِنَّهُ رَفَعَ التَّاجَ عَنْ جَبْهَتِهِ، وَكَانَ فِيهَا شَامَةٌ، وَقَالَ: ﴿هَلْ عَلِمْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُونَ﴾ ؟ يَعْنِي: كَيْفَ فَرَّقُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ﴿إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُونَ﴾ أَيْ: إِنَّمَا حَمَلَكُمْ عَلَى هَذَا [[في أ: "ذلك".]] الْجَهْلُ بِمِقْدَارِ هَذَا الَّذِي ارْتَكَبْتُمُوهُ، كَمَا قَالَ بَعْضُ السَّلَفِ: كُلُّ مَنْ عَصَى اللَّهَ فَهُوَ جَاهِلٌ، وَقَرَأَ: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ١١٩] .
وَالظَّاهِرُ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّمَا تَعَرَّفَ إِلَيْهِمْ بِنَفْسِهِ، بِإِذْنِ اللَّهِ لَهُ فِي ذَلِكَ، كَمَا أَنَّهُ إِنَّمَا أَخْفَى مِنْهُمْ نَفْسَهُ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ [[في ت، أ: "الأولتين".]] بِأَمْرِ اللَّهِ تَعَالَى لَهُ فِي ذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَلَكِنْ لَمَّا ضَاقَ الْحَالُ وَاشْتَدَّ الْأَمْرُ، فَرَّج اللَّهُ تَعَالَى مِنْ ذَلِكَ الضِّيقِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ [[في ت، أ: "إن" وهو خطأ.]] [الشَّرْحِ: ٥، ٦] ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالُوا: ﴿أَئِنَّكَ لأنْتَ يُوسُفُ﴾ ؟
وَقَرَأَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: "أَوَ أَنْتَ [[في أ: "أو إنك".]] يُوسُفُ"، وَقَرَأَ ابْنُ مُحَيْصِن: "إنَّك لأنتَ [[في ت، أ: "وأنت".]] يُوسُفُ". وَالْقِرَاءَةُ الْمَشْهُورَةُ هِيَ الْأُولَى؛ لِأَنَّ الِاسْتِفْهَامَ يَدُلُّ عَلَى الِاسْتِعْظَامِ، أَيْ: إِنَّهُمْ تَعجَّبوا مِنْ ذَلِكَ أَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ إِلَيْهِ مِنْ سَنَتَيْنِ وَأَكْثَرَ، وَهُمْ لَا يَعْرِفُونَهُ، وَهُوَ مَعَ هَذَا يَعْرِفُهُمْ وَيَكْتُمُ نَفْسَهُ، فَلِهَذَا قَالُوا عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِفْهَامِ: ﴿أَئِنَّكَ لأنْتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَذَا أَخِي﴾ ﴿قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا﴾ أَيْ: بِجَمْعِهِ بَيْنَنَا بَعْدَ التَّفْرِقَةِ وَبَعْدَ الْمُدَّةِ، ﴿إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا لَخَاطِئِينَ﴾ يَقُولُونَ مُعْتَرِفِينَ لَهُ بِالْفَضْلِ وَالْأَثْرَةِ عَلَيْهِمْ فِي الْخَلْقِ وَالْخُلُقِ، وَالسَّعَةِ وَالْمُلْكِ، وَالتَّصَرُّفِ وَالنُّبُوَّةِ أَيْضًا -عَلَى قَوْلِ مَنْ لَمْ يَجْعَلْهُمْ أَنْبِيَاءَ -وَأَقَرُّوا لَهُ بِأَنَّهُمْ أَسَاءُوا إِلَيْهِ وَأَخْطَئُوا فِي حَقِّهِ.
﴿قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾ يَقُولُ: لَا تَأْنِيبَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَتْب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ، وَلَا أُعِيدُ [[في ت، أ: "ولا أعيد عليكم".]] ذَنْبَكُمْ فِي حَقِّي بَعْدَ اليوم.
ثُمَّ زَادَهُمُ الدُّعَاءَ لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
قَالَ السُّدِّيُّ: اعْتَذَرُوا إِلَى يُوسُفَ، فَقَالَ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾ يَقُولُ: لَا أَذْكُرُ لَكُمْ ذَنْبَكُمْ.
وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَالثَّوْرِيُّ: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ [الْيَوْمَ] ﴾ [[زيادة من ت، أ.]] أَيْ: لَا تَأْنِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ عِنْدِي فِيمَا صَنَعْتُمْ ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ﴾ أَيْ: يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْتُمْ، ﴿وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًۭا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
Take this, my shirt, and cast it over the face of my father; he will become seeing. And bring me your family, all together."
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
این پیراهن مرا ببرید، و بر صورت پدرم بیندازید، بینا میشود! و همه نزدیکان خود را نزد من بیاورید!»
Tafsir Ibn Kathir
"Go with this shirt of mine, and cast it over the face of my father, his vision will return, and bring to me all your family. (93)And when the caravan departed, their father said: "I do indeed sense the smell of Yusuf, if only you think me not senile). (94)They said: "By Allah! Certainly, you are in your old Dalal (error). (95)
Ya'qub finds the Scent of Yusuf in his Shirt!
Yusuf said, 'Take this shirt of mine,
فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا
(and cast it over the face of my father, his vision will return),' because Ya'qub had lost his sight from excessive crying,
وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
(and bring to me all your family.) all the children of Ya'qub.
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ
(And when the caravan departed) from Egypt,
قَالَ أَبُوهُمْ
(their father said...), Ya'qub, peace be upon him, said to the children who remained with him,
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.), except that you might think me senile because of old age.' 'Abdur-Razzaq narrated that Ibn 'Abbas said, "When the caravan departed [from Egypt], a wind started blowing and brought the scent of Yusuf's shirt to Ya'qub. He said,
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf , if only you think me not senile.) He found his scent from a distance of eight days away!" Similar was also reported through Sufyan Ath-Thawri and Shu'bah and others reported it from Abu Sinan. Ya'qub said to them,
لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(if only you think me not senile.) Ibn 'Abbas, Mujahid, 'Ata, Qatadah and Sa'id bin Jubayr commented, "If only you think me not a fool!" Mujahid and Al-Hasan said that it means, "If only you think me not old." Their answer to him was,
إِنَّكَ لَفِي ضَلَالِكَ الْقَدِيمِ
(Certainly, you are in your old Dalal.) meaning, 'in your old error,' according to Ibn 'Abbas. Qatadah commented, "They meant that, 'because of your love for Yusuf you will never forget him.' So they uttered a harsh word to their father that they should never have uttered to him, nor to a Prophet of Allah." Similar was said by As-Suddi and others.
Tafsir Ibn Kathir
چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب ؑ اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہوگئے تھے، اس لئے حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہوجائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آرہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا جو بحکم الہی ہوا نے حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی سے یہ کہے .
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ: اذْهَبُوا بِهَذَا الْقَمِيصِ، ﴿فَأَلْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا﴾ وَكَانَ قَدْ عَميَ مِنْ كَثْرَةِ الْبُكَاءِ، ﴿وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ أَيْ: بِجَمِيعِ بَنِي يَعْقُوبَ.
﴿وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ﴾ أَيْ: خَرَجَتْ مِنْ مِصْرَ، ﴿قَالَ أَبُوهُمْ﴾ يَعْنِي: يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِمَنْ بَقِيَ عِنْدَهُ مِنْ بَنِيهِ: ﴿إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ تَنْسِبُونِي إِلَى الفَنَد والكِبَر.
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي سِنَان، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الهُذَيْل قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: ﴿وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ﴾ قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْعِيرُ، هَاجَتْ رِيحٌ فَجَاءَتْ يَعْقُوبَ بِرِيحِ قَمِيصِ يُوسُفَ فَقَالَ: ﴿إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ قَالَ: فَوَجَدَ رِيحَهُ مِنْ مَسِيرَةِ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨٦) .]] .
وَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَغَيْرُهُمَا عَنْ أَبِي سِنَان، بِهِ.
وَقَالَ الْحَسَنُ وَابْنُ جُرَيْج: كَانَ بَيْنَهُمَا ثَمَانُونَ فَرْسَخًا، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مُنْذُ افْتَرَقَا ثَمَانُونَ سَنَةً.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَعَطَاءٌ، وَقَتَادَةُ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر: تُسَفّهون.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ أَيْضًا، وَالْحَسَنُ: تُهرّمون.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَفِي خَطَئِكَ الْقَدِيمِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: أَيْ مِنْ حُبِّ يُوسُفَ لَا تَنْسَاهُ وَلَا تَسَلَاهُ، قَالُوا لِوَالِدِهِمْ كَلِمَةً غَلِيظَةً، لَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوهَا لِوَالِدِهِمْ، وَلَا لِنَبِيِّ اللَّهِ ﷺ [[في أ: "عليه السلام".]] وَكَذَا قَالَ السدي، وغيره.
وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ
And when the caravan departed [from Egypt], their father said, "Indeed, I find the smell of Joseph [and would say that he was alive] if you did not think me weakened in mind."
اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے
هنگامی که کاروان (از سرزمین مصر) جدا شد، پدرشان [= یعقوب] گفت: «من بوی یوسف را احساس میکنم، اگر مرا به نادانی و کم عقلی نسبت ندهید!»
Tafsir Ibn Kathir
"Go with this shirt of mine, and cast it over the face of my father, his vision will return, and bring to me all your family. (93)And when the caravan departed, their father said: "I do indeed sense the smell of Yusuf, if only you think me not senile). (94)They said: "By Allah! Certainly, you are in your old Dalal (error). (95)
Ya'qub finds the Scent of Yusuf in his Shirt!
Yusuf said, 'Take this shirt of mine,
فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا
(and cast it over the face of my father, his vision will return),' because Ya'qub had lost his sight from excessive crying,
وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
(and bring to me all your family.) all the children of Ya'qub.
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ
(And when the caravan departed) from Egypt,
قَالَ أَبُوهُمْ
(their father said...), Ya'qub, peace be upon him, said to the children who remained with him,
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.), except that you might think me senile because of old age.' 'Abdur-Razzaq narrated that Ibn 'Abbas said, "When the caravan departed [from Egypt], a wind started blowing and brought the scent of Yusuf's shirt to Ya'qub. He said,
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf , if only you think me not senile.) He found his scent from a distance of eight days away!" Similar was also reported through Sufyan Ath-Thawri and Shu'bah and others reported it from Abu Sinan. Ya'qub said to them,
لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(if only you think me not senile.) Ibn 'Abbas, Mujahid, 'Ata, Qatadah and Sa'id bin Jubayr commented, "If only you think me not a fool!" Mujahid and Al-Hasan said that it means, "If only you think me not old." Their answer to him was,
إِنَّكَ لَفِي ضَلَالِكَ الْقَدِيمِ
(Certainly, you are in your old Dalal.) meaning, 'in your old error,' according to Ibn 'Abbas. Qatadah commented, "They meant that, 'because of your love for Yusuf you will never forget him.' So they uttered a harsh word to their father that they should never have uttered to him, nor to a Prophet of Allah." Similar was said by As-Suddi and others.
Tafsir Ibn Kathir
چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب ؑ اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہوگئے تھے، اس لئے حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہوجائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آرہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا جو بحکم الہی ہوا نے حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی سے یہ کہے .
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ: اذْهَبُوا بِهَذَا الْقَمِيصِ، ﴿فَأَلْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا﴾ وَكَانَ قَدْ عَميَ مِنْ كَثْرَةِ الْبُكَاءِ، ﴿وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ أَيْ: بِجَمِيعِ بَنِي يَعْقُوبَ.
﴿وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ﴾ أَيْ: خَرَجَتْ مِنْ مِصْرَ، ﴿قَالَ أَبُوهُمْ﴾ يَعْنِي: يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِمَنْ بَقِيَ عِنْدَهُ مِنْ بَنِيهِ: ﴿إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ تَنْسِبُونِي إِلَى الفَنَد والكِبَر.
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي سِنَان، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الهُذَيْل قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: ﴿وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ﴾ قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْعِيرُ، هَاجَتْ رِيحٌ فَجَاءَتْ يَعْقُوبَ بِرِيحِ قَمِيصِ يُوسُفَ فَقَالَ: ﴿إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ قَالَ: فَوَجَدَ رِيحَهُ مِنْ مَسِيرَةِ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨٦) .]] .
وَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَغَيْرُهُمَا عَنْ أَبِي سِنَان، بِهِ.
وَقَالَ الْحَسَنُ وَابْنُ جُرَيْج: كَانَ بَيْنَهُمَا ثَمَانُونَ فَرْسَخًا، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مُنْذُ افْتَرَقَا ثَمَانُونَ سَنَةً.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَعَطَاءٌ، وَقَتَادَةُ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر: تُسَفّهون.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ أَيْضًا، وَالْحَسَنُ: تُهرّمون.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَفِي خَطَئِكَ الْقَدِيمِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: أَيْ مِنْ حُبِّ يُوسُفَ لَا تَنْسَاهُ وَلَا تَسَلَاهُ، قَالُوا لِوَالِدِهِمْ كَلِمَةً غَلِيظَةً، لَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوهَا لِوَالِدِهِمْ، وَلَا لِنَبِيِّ اللَّهِ ﷺ [[في أ: "عليه السلام".]] وَكَذَا قَالَ السدي، وغيره.
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ
They said, "By Allah, indeed you are in your [same] old error."
وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں
گفتند: «به خدا تو در همان گمراهی سابقت هستی!»
Tafsir Ibn Kathir
"Go with this shirt of mine, and cast it over the face of my father, his vision will return, and bring to me all your family. (93)And when the caravan departed, their father said: "I do indeed sense the smell of Yusuf, if only you think me not senile). (94)They said: "By Allah! Certainly, you are in your old Dalal (error). (95)
Ya'qub finds the Scent of Yusuf in his Shirt!
Yusuf said, 'Take this shirt of mine,
فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا
(and cast it over the face of my father, his vision will return),' because Ya'qub had lost his sight from excessive crying,
وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
(and bring to me all your family.) all the children of Ya'qub.
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ
(And when the caravan departed) from Egypt,
قَالَ أَبُوهُمْ
(their father said...), Ya'qub, peace be upon him, said to the children who remained with him,
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.), except that you might think me senile because of old age.' 'Abdur-Razzaq narrated that Ibn 'Abbas said, "When the caravan departed [from Egypt], a wind started blowing and brought the scent of Yusuf's shirt to Ya'qub. He said,
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf , if only you think me not senile.) He found his scent from a distance of eight days away!" Similar was also reported through Sufyan Ath-Thawri and Shu'bah and others reported it from Abu Sinan. Ya'qub said to them,
لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(if only you think me not senile.) Ibn 'Abbas, Mujahid, 'Ata, Qatadah and Sa'id bin Jubayr commented, "If only you think me not a fool!" Mujahid and Al-Hasan said that it means, "If only you think me not old." Their answer to him was,
إِنَّكَ لَفِي ضَلَالِكَ الْقَدِيمِ
(Certainly, you are in your old Dalal.) meaning, 'in your old error,' according to Ibn 'Abbas. Qatadah commented, "They meant that, 'because of your love for Yusuf you will never forget him.' So they uttered a harsh word to their father that they should never have uttered to him, nor to a Prophet of Allah." Similar was said by As-Suddi and others.
Tafsir Ibn Kathir
چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب ؑ اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہوگئے تھے، اس لئے حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہوجائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آرہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا جو بحکم الہی ہوا نے حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی سے یہ کہے .
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ: اذْهَبُوا بِهَذَا الْقَمِيصِ، ﴿فَأَلْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا﴾ وَكَانَ قَدْ عَميَ مِنْ كَثْرَةِ الْبُكَاءِ، ﴿وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ أَيْ: بِجَمِيعِ بَنِي يَعْقُوبَ.
﴿وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ﴾ أَيْ: خَرَجَتْ مِنْ مِصْرَ، ﴿قَالَ أَبُوهُمْ﴾ يَعْنِي: يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لِمَنْ بَقِيَ عِنْدَهُ مِنْ بَنِيهِ: ﴿إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ تَنْسِبُونِي إِلَى الفَنَد والكِبَر.
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي سِنَان، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الهُذَيْل قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: ﴿وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ﴾ قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْعِيرُ، هَاجَتْ رِيحٌ فَجَاءَتْ يَعْقُوبَ بِرِيحِ قَمِيصِ يُوسُفَ فَقَالَ: ﴿إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ قَالَ: فَوَجَدَ رِيحَهُ مِنْ مَسِيرَةِ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ [[تفسير عبد الرزاق (١/٢٨٦) .]] .
وَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَغَيْرُهُمَا عَنْ أَبِي سِنَان، بِهِ.
وَقَالَ الْحَسَنُ وَابْنُ جُرَيْج: كَانَ بَيْنَهُمَا ثَمَانُونَ فَرْسَخًا، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مُنْذُ افْتَرَقَا ثَمَانُونَ سَنَةً.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَعَطَاءٌ، وَقَتَادَةُ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْر: تُسَفّهون.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ أَيْضًا، وَالْحَسَنُ: تُهرّمون.
* *
وَقَوْلُهُمْ: ﴿إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَفِي خَطَئِكَ الْقَدِيمِ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: أَيْ مِنْ حُبِّ يُوسُفَ لَا تَنْسَاهُ وَلَا تَسَلَاهُ، قَالُوا لِوَالِدِهِمْ كَلِمَةً غَلِيظَةً، لَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوهَا لِوَالِدِهِمْ، وَلَا لِنَبِيِّ اللَّهِ ﷺ [[في أ: "عليه السلام".]] وَكَذَا قَالَ السدي، وغيره.
فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًۭا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
And when the bearer of good tidings arrived, he cast it over his face, and he returned [once again] seeing. He said, "Did I not tell you that I know from Allah that which you do not know?"
جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
امّا هنگامی که بشارت دهنده فرا رسید، آن (پیراهن) را بر صورت او افکند؛ ناگهان بینا شد! گفت: «آیا به شما نگفتم من از خدا چیزهایی میدانم که شما نمیدانید؟!»
Tafsir Ibn Kathir
Then, when the bearer of the good news arrived, he cast it (the shirt) over his face, and his vision returned. He said: "Did I not say to you, 'I know from Allah that which you know not?' (96)They said: "O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners. (97)He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful. (98)
Yahudha brings Yusuf's Shirt and Good News
Ibn 'Abbas and Ad-Dahhak said;
الْبَشِيرُ
(good news) means information. Mujahid and As-Suddi said that the bearer of good news was Yahudha, son of Ya'qub. As-Suddi added, "He brought it (Yusuf's shirt) because it was he who brought Yusuf's shirt stained with the false blood. So he liked to erase that error with this good act, by bringing Yusuf's shirt and placing it on his father's face. His father's sight was restored to him." Ya'qub said to his children,
أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(Did I not say to you, 'I know from Allah that which you know not'), that I know that Allah will return Yusuf to me and that,
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.)
Yusuf's Brothers feel Sorry and Regretful
This is when Yusuf's brothers said to their father, with humbleness,
يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ - قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
("O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners." He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.")
and He forgives those who repent to Him. 'Abdullah bin Mas'ud, Ibrahim At-Taymi, 'Amr bin Qays, Ibn Jurayj and several others said that Prophet Ya'qub delayed fulfilling their request until the latter part of the night.
Tafsir Ibn Kathir
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف ؑ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہوجائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہوجائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بیخبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لئے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت عمر ؓ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے، پس تو مجھے بخش دے، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے گھر سے یہ آواز آرہی ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لئے حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آجائے۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالضَّحَّاكُ: ﴿الْبَشِيرُ﴾ الْبَرِيدُ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ: كَانَ يَهُوذَا بْنُ يَعْقُوبَ.
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّمَا جَاءَ بِهِ لِأَنَّهُ هُوَ الَّذِي جَاءَ بِالْقَمِيصِ وَهُوَ مُلَطَّخٌ بِدَمٍ كَذب، فَأَرَادَ [[في ت، أ: "فأحب".]] أَنْ يَغْسِلَ ذَلِكَ بِهَذَا، فَجَاءَ بِالْقَمِيصِ فَأَلْقَاهُ عَلَى وَجْهِ أَبِيهِ، فَرَجَعَ بَصِيرًا.
وَقَالَ لِبَنِيهِ عِنْدَ ذَلِكَ: ﴿أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ سَيَرُدُّهُ إليَّ، وَقَلْتُ لَكُمْ: ﴿إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ ؟. فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالُوا لِأَبِيهِمْ مُتَرَفِّقِينَ لَهُ: ﴿يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ أَيْ: مَنْ تَابَ إِلَيْهِ تَابَ عَلَيْهِ.
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيّ، وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، وَابْنُ جُرَيْج وَغَيْرُهُمْ: أَرْجَأَهُمْ إِلَى وَقْتِ السَّحَر.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي أَبُو السَّائِبِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ إِسْحَاقَ يَذْكُرُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيَسْمَعُ [[في أ: "فسمع".]] إِنْسَانًا يَقُولُ: "اللَّهُمَّ دَعَوْتَنِي فَأَجَبْتُ، وَأَمَرْتَنِي فَأَطَعْتُ، وَهَذَا السَّحَرُ فَاغْفِرْ لِي". قَالَ: فَاسْتَمَعَ الصَّوْتَ فَإِذَا هُوَ مِنْ دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ. فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنَّ يَعْقُوبَ أخَّر بَنِيهِ إِلَى السِّحْرِ بِقَوْلِهِ: ﴿سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي﴾ [[تفسير الطبري (١٦/٢٦١) .]]
وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ لَيْلَةَ جُمُعَةٍ، كَمَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: أَيْضًا: حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو [[في ت: "بن".]] أَيُّوبَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْج، عَنْ عَطَاءٍ وعِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: ﴿سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي﴾ يَقُولُ: حَتَّى تَأْتِيَ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَخِي يَعْقُوبَ لِبَنِيهِ [[تفسير الطبري (١٦/٢٦٢) وهذا إسناد فيه ثلاث علل: الأولى: عنعنه ابن جريج وهو مدلس لم يصرح بالسماع. الثانية: الوليد بن مسلم القرشي كان يهم في رفع الأحاديث ويدلس تدليس التسوية. الثالثة: سليمان بن عبد الرحمن تكلم فيه من جهة حفظه وبمثل هذا السند روي حديث دعاء نسيان القرآن، وسبق الكلام عليه في فضائل القرآن.]] .
وَهَذَا غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي رفعه نظر، والله أعلم.
قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ
They said, "O our father, ask for us forgiveness of our sins; indeed, we have been sinners."
بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے
گفتند: «پدر! از خدا آمرزش گناهان ما را بخواه، که ما خطاکار بودیم!»
Tafsir Ibn Kathir
Then, when the bearer of the good news arrived, he cast it (the shirt) over his face, and his vision returned. He said: "Did I not say to you, 'I know from Allah that which you know not?' (96)They said: "O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners. (97)He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful. (98)
Yahudha brings Yusuf's Shirt and Good News
Ibn 'Abbas and Ad-Dahhak said;
الْبَشِيرُ
(good news) means information. Mujahid and As-Suddi said that the bearer of good news was Yahudha, son of Ya'qub. As-Suddi added, "He brought it (Yusuf's shirt) because it was he who brought Yusuf's shirt stained with the false blood. So he liked to erase that error with this good act, by bringing Yusuf's shirt and placing it on his father's face. His father's sight was restored to him." Ya'qub said to his children,
أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(Did I not say to you, 'I know from Allah that which you know not'), that I know that Allah will return Yusuf to me and that,
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.)
Yusuf's Brothers feel Sorry and Regretful
This is when Yusuf's brothers said to their father, with humbleness,
يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ - قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
("O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners." He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.")
and He forgives those who repent to Him. 'Abdullah bin Mas'ud, Ibrahim At-Taymi, 'Amr bin Qays, Ibn Jurayj and several others said that Prophet Ya'qub delayed fulfilling their request until the latter part of the night.
Tafsir Ibn Kathir
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف ؑ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہوجائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہوجائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بیخبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لئے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت عمر ؓ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے، پس تو مجھے بخش دے، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے گھر سے یہ آواز آرہی ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لئے حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آجائے۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالضَّحَّاكُ: ﴿الْبَشِيرُ﴾ الْبَرِيدُ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ: كَانَ يَهُوذَا بْنُ يَعْقُوبَ.
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّمَا جَاءَ بِهِ لِأَنَّهُ هُوَ الَّذِي جَاءَ بِالْقَمِيصِ وَهُوَ مُلَطَّخٌ بِدَمٍ كَذب، فَأَرَادَ [[في ت، أ: "فأحب".]] أَنْ يَغْسِلَ ذَلِكَ بِهَذَا، فَجَاءَ بِالْقَمِيصِ فَأَلْقَاهُ عَلَى وَجْهِ أَبِيهِ، فَرَجَعَ بَصِيرًا.
وَقَالَ لِبَنِيهِ عِنْدَ ذَلِكَ: ﴿أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ سَيَرُدُّهُ إليَّ، وَقَلْتُ لَكُمْ: ﴿إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ ؟. فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالُوا لِأَبِيهِمْ مُتَرَفِّقِينَ لَهُ: ﴿يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ أَيْ: مَنْ تَابَ إِلَيْهِ تَابَ عَلَيْهِ.
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيّ، وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، وَابْنُ جُرَيْج وَغَيْرُهُمْ: أَرْجَأَهُمْ إِلَى وَقْتِ السَّحَر.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي أَبُو السَّائِبِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ إِسْحَاقَ يَذْكُرُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيَسْمَعُ [[في أ: "فسمع".]] إِنْسَانًا يَقُولُ: "اللَّهُمَّ دَعَوْتَنِي فَأَجَبْتُ، وَأَمَرْتَنِي فَأَطَعْتُ، وَهَذَا السَّحَرُ فَاغْفِرْ لِي". قَالَ: فَاسْتَمَعَ الصَّوْتَ فَإِذَا هُوَ مِنْ دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ. فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنَّ يَعْقُوبَ أخَّر بَنِيهِ إِلَى السِّحْرِ بِقَوْلِهِ: ﴿سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي﴾ [[تفسير الطبري (١٦/٢٦١) .]]
وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ لَيْلَةَ جُمُعَةٍ، كَمَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: أَيْضًا: حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو [[في ت: "بن".]] أَيُّوبَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْج، عَنْ عَطَاءٍ وعِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: ﴿سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي﴾ يَقُولُ: حَتَّى تَأْتِيَ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَخِي يَعْقُوبَ لِبَنِيهِ [[تفسير الطبري (١٦/٢٦٢) وهذا إسناد فيه ثلاث علل: الأولى: عنعنه ابن جريج وهو مدلس لم يصرح بالسماع. الثانية: الوليد بن مسلم القرشي كان يهم في رفع الأحاديث ويدلس تدليس التسوية. الثالثة: سليمان بن عبد الرحمن تكلم فيه من جهة حفظه وبمثل هذا السند روي حديث دعاء نسيان القرآن، وسبق الكلام عليه في فضائل القرآن.]] .
وَهَذَا غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي رفعه نظر، والله أعلم.
قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
He said, "I will ask forgiveness for you from my Lord. Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful."
انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
گفت: «بزودی برای شما از پروردگارم آمرزش میطلبم، که او آمرزنده و مهربان است!»
Tafsir Ibn Kathir
Then, when the bearer of the good news arrived, he cast it (the shirt) over his face, and his vision returned. He said: "Did I not say to you, 'I know from Allah that which you know not?' (96)They said: "O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners. (97)He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful. (98)
Yahudha brings Yusuf's Shirt and Good News
Ibn 'Abbas and Ad-Dahhak said;
الْبَشِيرُ
(good news) means information. Mujahid and As-Suddi said that the bearer of good news was Yahudha, son of Ya'qub. As-Suddi added, "He brought it (Yusuf's shirt) because it was he who brought Yusuf's shirt stained with the false blood. So he liked to erase that error with this good act, by bringing Yusuf's shirt and placing it on his father's face. His father's sight was restored to him." Ya'qub said to his children,
أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(Did I not say to you, 'I know from Allah that which you know not'), that I know that Allah will return Yusuf to me and that,
إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.)
Yusuf's Brothers feel Sorry and Regretful
This is when Yusuf's brothers said to their father, with humbleness,
يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ - قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
("O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners." He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.")
and He forgives those who repent to Him. 'Abdullah bin Mas'ud, Ibrahim At-Taymi, 'Amr bin Qays, Ibn Jurayj and several others said that Prophet Ya'qub delayed fulfilling their request until the latter part of the night.
Tafsir Ibn Kathir
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف ؑ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہوجائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہوجائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بیخبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لئے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت عمر ؓ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے، پس تو مجھے بخش دے، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے گھر سے یہ آواز آرہی ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لئے حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آجائے۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالضَّحَّاكُ: ﴿الْبَشِيرُ﴾ الْبَرِيدُ.
وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ: كَانَ يَهُوذَا بْنُ يَعْقُوبَ.
قَالَ السُّدِّيُّ: إِنَّمَا جَاءَ بِهِ لِأَنَّهُ هُوَ الَّذِي جَاءَ بِالْقَمِيصِ وَهُوَ مُلَطَّخٌ بِدَمٍ كَذب، فَأَرَادَ [[في ت، أ: "فأحب".]] أَنْ يَغْسِلَ ذَلِكَ بِهَذَا، فَجَاءَ بِالْقَمِيصِ فَأَلْقَاهُ عَلَى وَجْهِ أَبِيهِ، فَرَجَعَ بَصِيرًا.
وَقَالَ لِبَنِيهِ عِنْدَ ذَلِكَ: ﴿أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ أَيْ: أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ سَيَرُدُّهُ إليَّ، وَقَلْتُ لَكُمْ: ﴿إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ﴾ ؟. فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالُوا لِأَبِيهِمْ مُتَرَفِّقِينَ لَهُ: ﴿يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ أَيْ: مَنْ تَابَ إِلَيْهِ تَابَ عَلَيْهِ.
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيّ، وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، وَابْنُ جُرَيْج وَغَيْرُهُمْ: أَرْجَأَهُمْ إِلَى وَقْتِ السَّحَر.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي أَبُو السَّائِبِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ إِسْحَاقَ يَذْكُرُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيَسْمَعُ [[في أ: "فسمع".]] إِنْسَانًا يَقُولُ: "اللَّهُمَّ دَعَوْتَنِي فَأَجَبْتُ، وَأَمَرْتَنِي فَأَطَعْتُ، وَهَذَا السَّحَرُ فَاغْفِرْ لِي". قَالَ: فَاسْتَمَعَ الصَّوْتَ فَإِذَا هُوَ مِنْ دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ. فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنَّ يَعْقُوبَ أخَّر بَنِيهِ إِلَى السِّحْرِ بِقَوْلِهِ: ﴿سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي﴾ [[تفسير الطبري (١٦/٢٦١) .]]
وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ لَيْلَةَ جُمُعَةٍ، كَمَا قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: أَيْضًا: حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو [[في ت: "بن".]] أَيُّوبَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْج، عَنْ عَطَاءٍ وعِكْرِمة، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: ﴿سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي﴾ يَقُولُ: حَتَّى تَأْتِيَ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَخِي يَعْقُوبَ لِبَنِيهِ [[تفسير الطبري (١٦/٢٦٢) وهذا إسناد فيه ثلاث علل: الأولى: عنعنه ابن جريج وهو مدلس لم يصرح بالسماع. الثانية: الوليد بن مسلم القرشي كان يهم في رفع الأحاديث ويدلس تدليس التسوية. الثالثة: سليمان بن عبد الرحمن تكلم فيه من جهة حفظه وبمثل هذا السند روي حديث دعاء نسيان القرآن، وسبق الكلام عليه في فضائل القرآن.]] .
وَهَذَا غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي رفعه نظر، والله أعلم.
فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ
And when they entered upon Joseph, he took his parents to himself and said, "Enter Egypt, Allah willing, safe [and secure]."
جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا
و هنگامی که بر یوسف وارد شدند، او پدر و مادر خود را در آغوش گرفت، و گفت: «همگی داخل مصر شوید، که انشاء الله در امن و امان خواهید بود!»
Tafsir Ibn Kathir
Then, when they came in before Yusuf, he took his parents to himself and said: "Enter Egypt, if Allah wills, in security. (99)And he raised his parents to the 'Arsh and they fell down before him prostrate. And he said: "O my father! This is the interpretation of my dream aforetime! My Lord has made it come true! He was indeed good to me, when He took me out of the prison, and brought you (all here) out of the bedouin life, after Shaytan had sown enmity between me and my brothers. Certainly, my Lord is the Most Courteous and Kind unto whom He wills. Truly, He! Only He is the All-Knowing, the All-Wise (100)
Yusuf welcomes His Parents - His Dream comes True
Allah states that Ya'qub went to Yusuf in Egypt. Yusuf had asked his brothers to bring all of their family, and they all departed their area and left Kana'an to Egypt. When Yusuf received news of their approach to Egypt, he went out to receive them. The king ordered the princes and notable people to go out in the receiving party with Yusuf to meet Allah's Prophet Ya'qub, peace be upon him. It is said that the king also went out with them to meet Ya'qub. Yusuf said to his family, after they entered unto him and he took them to himself,
وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ
(and said: "Enter Egypt, if Allah wills, in security.") He said to them, 'enter Egypt', meaning, 'reside in Egypt', and added, 'if Allah wills, in security', in reference to the hardship and famine that they suffered. Allah said next,
آوَىٰ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ
(and he took his parents to himself) As-Suddi and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that his parents were his father and maternal aunt, as his mother had died long ago. Muhammad bin Ishaq and Ibn Jarir At-Tabari said, "His father and mother were both alive." Ibn Jarir added, "There is no evidence that his mother had died before then. Rather, the apparent words of the Qur'an testify that she was alive." This opinion has the apparent and suitable meaning that this story testifies to.
Allah said next,
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ
(And he raised his parents to Al-'Arsh) he raised them to his bedstead where he sat, according to Ibn 'Abbas, Mujahid and several others. Allah said,
وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا
(and they fell down before him prostrate.) Yusuf's parents and brothers prostrated before him, and they were eleven men,
وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ
(And he said: "O my father! This is the Ta'wil (interpretation) of my dream aforetime..."), in reference to the dream that he narrated to his father before,
إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا
(I saw (in a dream) eleven stars...)[12:4] In the laws of these and previous Prophets, it was allowed for the people to prostrate before the men of authority, when they met them. This practice was allowed in the law of Adam until the law of 'Isa, peace be upon them, but was later prohibited in our law. Islam made prostration exclusively for Allah Alone, the Exalted and Most Honored. The implication of this statement was collected from Qatadah and other scholars.
When Mu'adh bin Jabal visited the Sham area, he found them prostrating before their priests. When he returned (to Al-Madinah), he prostrated before the Messenger of Allah , who asked him,
مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟
(What is this, O, Mu'adh?) Mu'adh said, "I saw that they prostrate before their priests. However, you, O Messenger of Allah, deserve more to be prostrated before." The Messenger ﷺ said,
لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا لِعِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا
(If I were to order anyone to prostrate before anyone else (among the creation), I would have ordered the wife to prostrate before her husband because of the enormity of his right on her.) Therefore, this practice was allowed in previous laws, as we stated. This is why they (Ya'qub and his wife and eleven sons) prostrated before Yusuf, who said at that time,
يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا
(O my father! This is the Ta'wil of my dream aforetime! My Lord has made it come true!) using the word, 'Ta'wil', to describe what became of the matter, later on. Allah said in another Ayah,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ ۚ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ
(Await they just for its Ta'wil? On the Day the event is finally fulfilled...), meaning, on the Day of Judgement what they were promised of good or evil will surely come to them.
Yusuf said,
قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا
(My Lord has made it come true!) mentioning that Allah blessed him by making his dream come true,
وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ
(He was indeed good to me, when He took me out of the prison, and brought you (all here) out of the bedouin life,) out of the desert, for they lived a bedouin life and raised cattle, according to Ibn Jurayj and others. He also said that they used to live in the Arava, Ghur area of Palestine, in Greater Syria. Yusuf said next,
مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي ۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ
(after Shaytan had sown enmity between me and my brothers. Certainly, my Lord is the Most Courteous and Kind unto whom He wills.) for when Allah wills something, He brings forth its reasons and elements of existence, then wills it into existence and makes it easy to attain,
إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(Truly, He! Only He is the All-Knowing.) what benefits His servants,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise.) in His statements, actions, decrees, preordainment and what He chooses and wills.
Tafsir Ibn Kathir
بھائیوں پر حضرت یوسف ؑ نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے نے کنعان سے کوچ کیا جب مصر کے قریب پہنچے تو نبی اللہ حضرت یوسف ؑ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے چلے اور حکم شاہی سے شہر کے تمام امیر امرا اور ارکان دولت بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے شہر سے باہر آیا تھا۔ اس کے بعد جو جگہ دینے وغیرہ کا ذکر ہے اس کی بابت بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی آپ نے ان سے فرمایا تم مصر میں چلو، انشاء اللہ پر امن اور بےخطر رہو گے اب شہر میں داخلے کے بعد آپ نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور انہیں اونچے تخت پر بٹھایا۔ لیکن امام ابن جریر ؒ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں سدی ؒ کا قول بالکل ٹھیک ہے جب پہلے ہی ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں اپنے پاس کرلیا اور جب شہر کا دروازہ آیا تو فرمایا اب اطمینان کے ساتھ یہاں چلئے۔ لیکن اس میں بھی ایک بات رہ گئی ہے۔ ایوا اصل میں منزل میں جگہ دینے کو کہتے ہیں جیسے اوؤ الیہ احاہ میں ہے۔ اور حدیث میں بھی ہے من اوی محدثا پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کا مطلب یہ بیان نہ کریں کہ ان کے آجانے کے بعد انہیں جگہ دینے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو یعنی یہاں قحط وغیرہ کی مصیبتوں سے محفوظ ہو کر با آرام رہو سہو، مشہور ہے کہ اور جو قحط سالی کے سال باقی تھے، وہ حضرت یعقوب ؑ کی تشریف آوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دور کر دئے۔ جیسے کہ اہل مکہ کی قحط سالی سے تنگ آکر ابو سفیان نے آپ سے شکایت کی اور بہت روئے پیٹے اور سفارش چاہی۔ عبد الرحمن کہتے ہیں حضرت یوسف ؑ کی والدہ کا تو پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔ اس وقت آپ کے والد صاحب کے ہمراہ آپ کی خالہ صاحبہ آئی تھیں۔ لیکن امام ابن جریر اور امام محمد بن اسحاق ؒ کا قول ہے کہ آپ کی والدہ خود ہی زندہ موجود تھیں، ان کی موت پر کوئی صحیح دلیل نہیں اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ اس بات کو چاہتے ہیں کہ آپ کی والدہ ماجدہ زندہ موجود تھیں، یہی بات ٹھیک بھی ہے۔ آپ نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت شاہی پر بٹھا لیا۔ اس وقت ماں باپ بھی اور گیارہ بھائی کل کے کل آپ کے سامنے سجدے میں گرپڑے۔ آپ نے فرمایا ابا جی لیجئے میرے خواب کی تعبیر ظاہر ہوگئی یہ ہیں گیارہ ستارے اور یہ ہیں سورج چاند جو میرے سامنے سجدے میں ہیں۔ ان کی شرع میں یہ جائز تھی کہ بڑوں کو سلام کے ساتھ سجدہ کرتے تھے بلکہ حضرت آدم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک یہ بات جائز ہی رہی لیکن اس ملت محمدیہ میں اللہ تبارک وتعالی نے کسی اور کے لئے سوائے اپنی ذات پاک کے سجدے کو مطلقا حرام کردیا۔ اور اللہ سبحانہ وتعالی نے اسے اپنے لئے ہی مخصوص کرلیا۔ حضرت قتادہ ؒ وغیرہ کے قول کا ماحصل مضمون یہی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت معاذ ؓ ملک شام گئے، وہاں انہوں نے دیکہا کہ شامی لوگ اپنے بڑوں کو سجدے کرتے ہیں یہ جب لوٹے تو انہوں نے حضور ﷺ کو سجدہ کیا، آب نے پوچھا، معاذ یہ کیا بات ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے اہل شام کو دیکھا کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ تو اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں کسی کے لئے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے سجدہ کرے۔ بہ سبب اس کے بہت بڑے حق کے جو اس پر ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضرت سلمان ؓ نے اپنے اسلام کے ابتدائی زمانے میں راستے میں حضور ﷺ کو دیکھ کر آپ کے سامنے سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا سلمان مجھے سجدہ نہ کرو۔ سجدہ اس اللہ کو کرو جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبہی نہ مرے گا۔ الغرض چونکہ اس شریعت میں جائز تھا اس لئے انہوں نے سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا لیجئے ابا جی میرے خواب کا ظہور ہوگیا۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس کا انجام ظاہر ہوگیا۔ چناچہ اور آیت میں قیامت کے دن کے لئے بھی یہی لفظ بولا گیا ہے آیت (یوم یاتی تاویلہ) پس یہ بھی اللہ کا مجھ پر ایک احسان عظیم ہے کہ اس نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا اور جو میں نے سوتے سوتے دیکھا تھا، الحمد للہ مجھے جاکنے میں بھی اس نے دکھا دیا۔ اور احسان اس کا یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نجات دی اور تم سب کو صحرا سے یہاں لا کر مجھ سے ملا دیا۔ آپ چونکہ جانوروں کے پالنے والے تھے، اس لئے عموما بادیہ میں ہی قیام رہتا تھا، فلسطین بھی شام کے جنگلوں میں ہے اکثر اوقات پڑاؤ رہا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ اولاج میں حسمی کے نیچے رہا کرتے تھے اور مویشی پالتے تھے، اونٹ بکریاں وغیرہ ساتھ رہتی تھیں۔ بھر فرماتے ہیں اس کے بعد کہ شیطان نے ہم میں پھوٹ ڈلوا دی تھی، اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، اس کے ویسے ہی اسباب مہیا کردیتا ہے اور اسے آسان اور سہل کردیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اپنے افعال اقوال قضا و قدر مختار و مراد میں وہ باحکمت ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ خواب کے دیکھنے اور اس کی تاویل کے ظاہر ہونے میں چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں خواب کی تعبیر کے واقع ہونے میں اس سے زیادہ زمانہ لگتا بھی نہیں یہ آخری مدت ہے۔ حضرت حسن ؒ سے روایت ہے کہ باپ بیٹے اسی برس کے بعد ملے تم خیال تو کرو کہ زمین پر حضرت یعقوب ؑ سے زیادہ اللہ کا کوئی محبوب بندہ نہ تھا۔ پھر بھی اتنی مدت انہیں فراق یوسف میں گزری، ہر وقت آنکھوں سے آنسو جاری رہتے اور دل میں غم کی موجیں اٹھتیں اور روایت میں ہے کہ یہ مدت تراسی سال کی تھی۔ فرماتے ہیں جب حضرت یوسف ؑ کنویں میں ڈالے گئے اس وقت آپ کی عمر سترہ سال کی تھی۔ اسی برس تک آپ باپ کی نظروں سے اوجھل رہے۔ پھر ملاقات کے بعد تیئس برس زندہ رہے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں انتقال کیا۔ بقول قتادہ ؒ ترپن برس کے بعد باپ بیٹا ملے۔ ایک قول ہے کہ اٹھارہ سال ایک دوسرے سے دور رہے اور ایک قول ہے کہ چالیس سال کی جدائی رہی اور پھر مصر میں باپ سے ملنے کے بعد سترہ سال زندہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ بنو اسرائیل جب مصر پہنچے ہیں ان کی تعداد صرف تریسٹھ کی تھی اور جب یہاں سے نکلے ہیں اس وقت ان کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار کی تھی۔ مسروق کہتے ہیں آنے کے وقت یہ مع مرد و عورت تین سو نوے تھے، عبداللہ بن شداد کا قول ہے کہ جب یہ لوگ آئے کل چھیاسی تھے یعنی مرد عورت بوڑھے بچے سب ملا کر اور جب نکلے ہیں اس وقت ان کی گنتی چھ لاکھ سے اوپر اوپر تھی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ وُرُودِ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَلَى يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقُدُومِهِ بِلَادَ [[في أ: "على".]] مِصْرَ، لَمَّا كَانَ يُوسُفُ قَدْ تَقَدَّمَ إِلَى إِخْوَتِهِ أَنْ يَأْتُوهُ بِأَهْلِهِمْ أَجْمَعِينَ، فَتُحُمِّلُوا عَنْ آخِرِهِمْ وَتَرَحَّلُوا مِنْ بِلَادِ كَنْعَانَ قَاصِدِينَ بِلَادَ [[في ت، أ: "ديار".]] مِصْرَ، فَلَمَّا أُخْبِرَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِاقْتِرَابِهِمْ خَرَجَ لِتَلَقِّيهِمْ، وَأَمَرَ [الْمَلِكُ] [[زيادة من ت، أ.]] أُمَرَاءَهُ وَأَكَابِرَ النَّاسِ بِالْخُرُوجِ [مَعَ يُوسُفَ] [[زيادة من ت، أ.]] لِتَلَقِّي نَبِيَّ اللَّهِ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَيُقَالُ: إِنَّ الْمَلِكَ خَرَجَ أَيْضًا لِتَلَقِّيهِ، وَهُوَ الْأَشْبَهُ.
وَقَدْ أُشْكِلَ قَوْلُهُ: ﴿آوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ﴾ عَلَى كَثِيرٍ [[في ت: "كثيرين".]] مِنَ الْمُفَسِّرِينَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا مِنَ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤَخَّرِ، وَمَعْنَى الْكَلَامِ: ﴿وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ﴾ وَآوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ، وَرَفَعَهُمَا عَلَى الْعَرْشِ.
وَقَدْ رَدَّ ابْنُ جَرِيرٍ هَذَا. وَأَجَادَ فِي ذَلِكَ. ثُمَّ اخْتَارَ مَا حَكَاهُ عَنِ السٌّدِّي: أَنَّ يُوسُفَ آوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ لَمَّا تَلَقَّاهُمَا، ثُمَّ لَمَّا وَصَلُوا بَابَ الْبَلَدِ قَالَ: ﴿ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ﴾
وَفِي هَذَا نَظَرٌ أَيْضًا؛ لِأَنَّ الْإِيوَاءَ إِنَّمَا يَكُونُ فِي الْمَنْزِلِ، كَقَوْلِهِ: ﴿آوَى إِلَيْهِ أَخَاهُ﴾ وَفِي الْحَدِيثِ: "مَنْ آوَى مُحْدِثًا" وَمَا الْمَانِعُ أَنْ يَكُونَ قَالَ لَهُمْ بَعْدَمَا دَخَلُوا عَلَيْهِ وَآوَاهُمْ إِلَيْهِ: ﴿ادْخُلُوا مِصْرَ﴾ وضمَّنه: اسْكُنُوا مِصْرَ ﴿إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ﴾ أَيْ: مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْجَهْدِ وَالْقَحْطِ، وَيُقَالُ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى رَفَعَ عَنْ أَهْلِ مِصْرَ بَقِيَّةَ السِّنِينَ الْمُجْدِبَةِ بِبَرَكَةِ قُدُومِ يَعْقُوبَ عَلَيْهِمْ، كَمَا رَفَعَ بَقِيَّةَ السِّنِينَ الَّتِي دَعَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ حِينَ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ"، ثُمَّ لَمَّا تَضَرَّعُوا إِلَيْهِ وَاسْتَشْفَعُوا لَدَيْهِ، وَأَرْسَلُوا أَبَا سُفْيَانَ فِي ذَلِكَ، فَدَعَا لَهُمْ، فَرُفِعَ عَنْهُمْ بَقِيَّةُ ذَلِكَ بِبَرَكَةِ دُعَائِهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[رواه البخاري في صحيحه برقم (١٠٠٧) مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿آوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ﴾ قَالَ السُّدِّيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: إِنَّمَا كَانَ أَبَاهُ [[في ت: "أبوه".]] وَخَالَتَهُ، وَكَانَتْ أُمُّهُ قَدْ مَاتَتْ قَدِيمًا.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَابْنُ جَرِيرٍ: كَانَ أَبُوهُ وَأُمُّهُ يَعِيشَانِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَلَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى مَوْتِ أُمِّهِ، وَظَاهِرُ الْقُرْآنِ يدل على حياتها. وهذا الذي نصره هُوَ الْمَنْصُورُ الَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ السِّيَاقُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ: يَعْنِي السَّرِيرَ، أَيْ: أَجْلَسَهُمَا مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ.
﴿وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا﴾ أَيْ: سَجَدَ لَهُ أَبَوَاهُ وَإِخْوَتُهُ الْبَاقُونَ، وَكَانُوا أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا ﴿وَقَالَ يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ﴾ أَيِ: الَّتِي كَانَ قَصَّهَا عَلَى أَبِيهِ ﴿إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ﴾ [يُوسُفَ: ٤]
وَقَدْ كَانَ هَذَا سَائِغًا فِي شَرَائِعِهِمْ إِذَا سلَّموا عَلَى الْكَبِيرِ يَسْجُدُونَ لَهُ، وَلَمْ يَزَلْ هَذَا جَائِزًا مِنْ لَدُنْ آدَمَ إِلَى شَرِيعَةِ عِيسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَحُرِّمَ هَذَا فِي هَذِهِ الْمِلَّةِ، وجُعل السُّجُودُ مُخْتَصًّا بِجَنَابِ الرَّبِّ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى.
هَذَا مَضْمُونُ قَوْلِ قَتَادَةَ وَغَيْرِهِ.
وَفِي الْحَدِيثِ أَنَّ مُعَاذًا قَدِمَ الشَّامَ، فَوَجَدَهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ، فَلَمَّا رَجَعَ سَجَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: "مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟ " فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ، وَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: "لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الزَّوْجَةَ [[في ت، أ: "المرأة"]] أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظم [[في ت: "عظيم".]] حَقِّهِ عَلَيْهَا" [[رواه أحمد في المسند (٤/٣٨١) وابن ماجه في السنن برقم (١٨٥٣) من حديث معاذ رضي الله عنه، وصححه ابن حبان.]]
وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ: أَنَّ سَلْمَانَ لَقِيَ النَّبِيَّ ﷺ فِي بَعْضِ طُرُق الْمَدِينَةِ، وَكَانَ سَلْمَانُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِالْإِسْلَامِ، فَسَجَدَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ: "لَا تَسْجُدْ لِي يَا سَلْمَانُ، وَاسْجُدْ لِلْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ" [[رواه أبو نعيم في تاريخ أصبهان (٢/١٠٣) من طريق شهر بن حوشب، عن سلمان رضي الله عنه، وسيأتي عند تفسير الآية: ٥٨ من سورة الفرقان.]] .
وَالْغَرَضُ أَنَّ هَذَا كَانَ جَائِزًا فِي شَرِيعَتِهِمْ؛ وَلِهَذَا خَرُّوا لَهُ سُجَّدًا، فَعِنْدَهَا قَالَ يُوسُفُ: ﴿يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا﴾ أَيْ: هَذَا مَا آلَ إِلَيْهِ الْأَمْرُ، فَإِنَّ التَّأْوِيلَ يُطْلَقُ عَلَى مَا يَصِيرُ إِلَيْهِ الْأَمْرُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلا تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٥٣] أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَأْتِيهِمْ مَا وُعِدُوا مِنْ خَيْرٍ وَشَرٍّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا﴾ أَيْ: صَحِيحَةً صِدْقا، يَذْكُرُ نِعَمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، ﴿وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُمْ مِنَ الْبَدْوِ﴾ أَيِ: الْبَادِيَةِ.
قَالَ ابْنُ جُرَيْج وَغَيْرُهُ: كَانُوا أَهْلَ بَادِيَةٍ وَمَاشِيَةٍ. وَقَالَ: كَانُوا يَسْكُنُونَ بالعَربَات مِنْ أَرْضِ فِلَسْطِينَ، مِنْ غَوْرِ الشَّامِ. قَالَ: وَبَعْضٌ يَقُولُ: كَانُوا بِالْأَوْلَاجِ مِنْ نَاحِيَةِ شِعْبٍ أَسْفَلَ مِنْ حسمَى، وَكَانُوا أَصْحَابَ بادية وشاء [[في أ: "وماشية".]] وإبل.
﴿مِنْ بَعْدِ أَنْ نزغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي﴾ [ثُمَّ قَالَ] [[زيادة من ت، أ.]] ﴿إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ﴾ أَيْ: إِذَا أَرَادَ أَمْرًا قَيَّضَ لَهُ أَسْبَابًا وَيَسَّرَهُ وَقَدَّرَهُ، ﴿إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ﴾ بِمَصَالِحِ عِبَادِهِ ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَفْعَالِهِ وَأَقْوَالِهِ، وَقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ، وَمَا يَخْتَارُهُ وَيُرِيدُهُ.
قَالَ أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ [[في أ: "عن سلمان قال".]] كَانَ بَيْنَ رُؤْيَا يُوسُفَ وَتَأْوِيلِهَا أَرْبَعُونَ سَنَةً.
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: وَإِلَيْهَا [[في ت: "وإليه".]] يَنْتَهِي أَقْصَى الرُّؤْيَا. رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: كَانَ مُنْذُ [[في ت: "مذ".]] فَارَقَ يُوسُفُ يَعْقُوبَ إِلَى أن التقيا، ثمانون سنة، لم يفارق في الْحُزْنُ قَلْبَهُ، وَدُمُوعُهُ تَجْرِي عَلَى خَدَّيْهِ، وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ عَبَدٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ يَعْقُوبَ [[تفسير الطبري (١/٢٧٣) .]] .
وَقَالَ هُشَيْم، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ: ثَلَاثٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً.
وَقَالَ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ: أُلْقِيَ يُوسُفُ فِي الْجُبِّ وَهُوَ ابْنُ سَبْعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَغَابَ عَنْ أَبِيهِ ثَمَانِينَ [[في أ: "ثمانون".]] سَنَةً، وَعَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ سَنَةً، فَمَاتَ وَلَهُ عِشْرُونَ وَمِائَةُ سَنَةٍ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ بَيْنَهُمَا خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ سَنَةً.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: ذُكر -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّ غَيْبَةَ يُوسُفَ عَنْ يَعْقُوبَ كَانَتْ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةً -قَالَ: وَأَهْلُ الْكِتَابِ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ [[في أ: أربعون".]] سَنَةً أَوْ نَحْوَهَا، وَأَنَّ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بَقِيَ مَعَ يُوسُفَ بَعْدَ أَنَّ قَدِمَ عَلَيْهِ مِصْرَ سَبْعَ عَشْرَةَ سَنَةً، ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعي، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلَ بَنُو إِسْرَائِيلَ مِصْرَ، وَهُمْ ثَلَاثَةٌ وَسِتُّونَ إِنْسَانًا، وَخَرَجُوا مِنْهَا وَهُمْ سِتُّمِائَةِ أَلْفٍ وَسَبْعُونَ أَلْفًا.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مسروق: دخلوا وهم ثلثمائة وَتِسْعُونَ مِنْ بَيْنِ رَجُلٍ وَاِمْرَأَةٍ. وَاللَّهُ [[في ت، أ: "فالله".]] أَعْلَمُ.
وَقَالَ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ القُرَظي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ: اجْتَمَعَ آلُ يَعْقُوبَ إِلَى يُوسُفَ بِمِصْرَ. وَهُمْ سِتَّةٌ وَثَمَانُونَ إِنْسَانًا، صَغِيرُهُمْ وَكَبِيرُهُمْ، وَذَكَرُهُمْ وَأُنْثَاهُمْ، وَخَرَجُوا مِنْهَا وَهُمْ سِتُّمِائَةِ أَلْفٍ وَنَيِّفٍ.
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّوا۟ لَهُۥ سُجَّدًۭا ۖ وَقَالَ يَٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّۭا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌۭ لِّمَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ
And he raised his parents upon the throne, and they bowed to him in prostration. And he said, "O my father, this is the explanation of my vision of before. My Lord has made it reality. And He was certainly good to me when He took me out of prison and brought you [here] from bedouin life after Satan had induced [estrangement] between me and my brothers. Indeed, my Lord is Subtle in what He wills. Indeed, it is He who is the Knowing, the Wise.
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
و پدر و مادر خود را بر تخت نشاند؛ و همگی بخاطر او به سجده افتادند؛ و گفت: «پدر! این تعبیر خوابی است که قبلاً دیدم؛ پروردگارم آن را حقّ قرار داد! و او به من نیکی کرد هنگامی که مرا از زندان بیرون آورد، و شما را از آن بیابان (به اینجا) آورد بعد از آنکه شیطان، میان من و برادرانم فساد کرد. پروردگارم نسبت به آنچه میخواهد (و شایسته میداند،) صاحب لطف است؛ چرا که او دانا و حکیم است!
Tafsir Ibn Kathir
Then, when they came in before Yusuf, he took his parents to himself and said: "Enter Egypt, if Allah wills, in security. (99)And he raised his parents to the 'Arsh and they fell down before him prostrate. And he said: "O my father! This is the interpretation of my dream aforetime! My Lord has made it come true! He was indeed good to me, when He took me out of the prison, and brought you (all here) out of the bedouin life, after Shaytan had sown enmity between me and my brothers. Certainly, my Lord is the Most Courteous and Kind unto whom He wills. Truly, He! Only He is the All-Knowing, the All-Wise (100)
Yusuf welcomes His Parents - His Dream comes True
Allah states that Ya'qub went to Yusuf in Egypt. Yusuf had asked his brothers to bring all of their family, and they all departed their area and left Kana'an to Egypt. When Yusuf received news of their approach to Egypt, he went out to receive them. The king ordered the princes and notable people to go out in the receiving party with Yusuf to meet Allah's Prophet Ya'qub, peace be upon him. It is said that the king also went out with them to meet Ya'qub. Yusuf said to his family, after they entered unto him and he took them to himself,
وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ
(and said: "Enter Egypt, if Allah wills, in security.") He said to them, 'enter Egypt', meaning, 'reside in Egypt', and added, 'if Allah wills, in security', in reference to the hardship and famine that they suffered. Allah said next,
آوَىٰ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ
(and he took his parents to himself) As-Suddi and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that his parents were his father and maternal aunt, as his mother had died long ago. Muhammad bin Ishaq and Ibn Jarir At-Tabari said, "His father and mother were both alive." Ibn Jarir added, "There is no evidence that his mother had died before then. Rather, the apparent words of the Qur'an testify that she was alive." This opinion has the apparent and suitable meaning that this story testifies to.
Allah said next,
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ
(And he raised his parents to Al-'Arsh) he raised them to his bedstead where he sat, according to Ibn 'Abbas, Mujahid and several others. Allah said,
وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا
(and they fell down before him prostrate.) Yusuf's parents and brothers prostrated before him, and they were eleven men,
وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ
(And he said: "O my father! This is the Ta'wil (interpretation) of my dream aforetime..."), in reference to the dream that he narrated to his father before,
إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا
(I saw (in a dream) eleven stars...)[12:4] In the laws of these and previous Prophets, it was allowed for the people to prostrate before the men of authority, when they met them. This practice was allowed in the law of Adam until the law of 'Isa, peace be upon them, but was later prohibited in our law. Islam made prostration exclusively for Allah Alone, the Exalted and Most Honored. The implication of this statement was collected from Qatadah and other scholars.
When Mu'adh bin Jabal visited the Sham area, he found them prostrating before their priests. When he returned (to Al-Madinah), he prostrated before the Messenger of Allah , who asked him,
مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟
(What is this, O, Mu'adh?) Mu'adh said, "I saw that they prostrate before their priests. However, you, O Messenger of Allah, deserve more to be prostrated before." The Messenger ﷺ said,
لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا لِعِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا
(If I were to order anyone to prostrate before anyone else (among the creation), I would have ordered the wife to prostrate before her husband because of the enormity of his right on her.) Therefore, this practice was allowed in previous laws, as we stated. This is why they (Ya'qub and his wife and eleven sons) prostrated before Yusuf, who said at that time,
يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا
(O my father! This is the Ta'wil of my dream aforetime! My Lord has made it come true!) using the word, 'Ta'wil', to describe what became of the matter, later on. Allah said in another Ayah,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ ۚ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ
(Await they just for its Ta'wil? On the Day the event is finally fulfilled...), meaning, on the Day of Judgement what they were promised of good or evil will surely come to them.
Yusuf said,
قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا
(My Lord has made it come true!) mentioning that Allah blessed him by making his dream come true,
وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ
(He was indeed good to me, when He took me out of the prison, and brought you (all here) out of the bedouin life,) out of the desert, for they lived a bedouin life and raised cattle, according to Ibn Jurayj and others. He also said that they used to live in the Arava, Ghur area of Palestine, in Greater Syria. Yusuf said next,
مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي ۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ
(after Shaytan had sown enmity between me and my brothers. Certainly, my Lord is the Most Courteous and Kind unto whom He wills.) for when Allah wills something, He brings forth its reasons and elements of existence, then wills it into existence and makes it easy to attain,
إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(Truly, He! Only He is the All-Knowing.) what benefits His servants,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise.) in His statements, actions, decrees, preordainment and what He chooses and wills.
Tafsir Ibn Kathir
بھائیوں پر حضرت یوسف ؑ نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے نے کنعان سے کوچ کیا جب مصر کے قریب پہنچے تو نبی اللہ حضرت یوسف ؑ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے چلے اور حکم شاہی سے شہر کے تمام امیر امرا اور ارکان دولت بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے شہر سے باہر آیا تھا۔ اس کے بعد جو جگہ دینے وغیرہ کا ذکر ہے اس کی بابت بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی آپ نے ان سے فرمایا تم مصر میں چلو، انشاء اللہ پر امن اور بےخطر رہو گے اب شہر میں داخلے کے بعد آپ نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور انہیں اونچے تخت پر بٹھایا۔ لیکن امام ابن جریر ؒ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں سدی ؒ کا قول بالکل ٹھیک ہے جب پہلے ہی ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں اپنے پاس کرلیا اور جب شہر کا دروازہ آیا تو فرمایا اب اطمینان کے ساتھ یہاں چلئے۔ لیکن اس میں بھی ایک بات رہ گئی ہے۔ ایوا اصل میں منزل میں جگہ دینے کو کہتے ہیں جیسے اوؤ الیہ احاہ میں ہے۔ اور حدیث میں بھی ہے من اوی محدثا پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کا مطلب یہ بیان نہ کریں کہ ان کے آجانے کے بعد انہیں جگہ دینے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو یعنی یہاں قحط وغیرہ کی مصیبتوں سے محفوظ ہو کر با آرام رہو سہو، مشہور ہے کہ اور جو قحط سالی کے سال باقی تھے، وہ حضرت یعقوب ؑ کی تشریف آوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دور کر دئے۔ جیسے کہ اہل مکہ کی قحط سالی سے تنگ آکر ابو سفیان نے آپ سے شکایت کی اور بہت روئے پیٹے اور سفارش چاہی۔ عبد الرحمن کہتے ہیں حضرت یوسف ؑ کی والدہ کا تو پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔ اس وقت آپ کے والد صاحب کے ہمراہ آپ کی خالہ صاحبہ آئی تھیں۔ لیکن امام ابن جریر اور امام محمد بن اسحاق ؒ کا قول ہے کہ آپ کی والدہ خود ہی زندہ موجود تھیں، ان کی موت پر کوئی صحیح دلیل نہیں اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ اس بات کو چاہتے ہیں کہ آپ کی والدہ ماجدہ زندہ موجود تھیں، یہی بات ٹھیک بھی ہے۔ آپ نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت شاہی پر بٹھا لیا۔ اس وقت ماں باپ بھی اور گیارہ بھائی کل کے کل آپ کے سامنے سجدے میں گرپڑے۔ آپ نے فرمایا ابا جی لیجئے میرے خواب کی تعبیر ظاہر ہوگئی یہ ہیں گیارہ ستارے اور یہ ہیں سورج چاند جو میرے سامنے سجدے میں ہیں۔ ان کی شرع میں یہ جائز تھی کہ بڑوں کو سلام کے ساتھ سجدہ کرتے تھے بلکہ حضرت آدم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک یہ بات جائز ہی رہی لیکن اس ملت محمدیہ میں اللہ تبارک وتعالی نے کسی اور کے لئے سوائے اپنی ذات پاک کے سجدے کو مطلقا حرام کردیا۔ اور اللہ سبحانہ وتعالی نے اسے اپنے لئے ہی مخصوص کرلیا۔ حضرت قتادہ ؒ وغیرہ کے قول کا ماحصل مضمون یہی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت معاذ ؓ ملک شام گئے، وہاں انہوں نے دیکہا کہ شامی لوگ اپنے بڑوں کو سجدے کرتے ہیں یہ جب لوٹے تو انہوں نے حضور ﷺ کو سجدہ کیا، آب نے پوچھا، معاذ یہ کیا بات ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے اہل شام کو دیکھا کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ تو اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں کسی کے لئے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے سجدہ کرے۔ بہ سبب اس کے بہت بڑے حق کے جو اس پر ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضرت سلمان ؓ نے اپنے اسلام کے ابتدائی زمانے میں راستے میں حضور ﷺ کو دیکھ کر آپ کے سامنے سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا سلمان مجھے سجدہ نہ کرو۔ سجدہ اس اللہ کو کرو جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبہی نہ مرے گا۔ الغرض چونکہ اس شریعت میں جائز تھا اس لئے انہوں نے سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا لیجئے ابا جی میرے خواب کا ظہور ہوگیا۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس کا انجام ظاہر ہوگیا۔ چناچہ اور آیت میں قیامت کے دن کے لئے بھی یہی لفظ بولا گیا ہے آیت (یوم یاتی تاویلہ) پس یہ بھی اللہ کا مجھ پر ایک احسان عظیم ہے کہ اس نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا اور جو میں نے سوتے سوتے دیکھا تھا، الحمد للہ مجھے جاکنے میں بھی اس نے دکھا دیا۔ اور احسان اس کا یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نجات دی اور تم سب کو صحرا سے یہاں لا کر مجھ سے ملا دیا۔ آپ چونکہ جانوروں کے پالنے والے تھے، اس لئے عموما بادیہ میں ہی قیام رہتا تھا، فلسطین بھی شام کے جنگلوں میں ہے اکثر اوقات پڑاؤ رہا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ اولاج میں حسمی کے نیچے رہا کرتے تھے اور مویشی پالتے تھے، اونٹ بکریاں وغیرہ ساتھ رہتی تھیں۔ بھر فرماتے ہیں اس کے بعد کہ شیطان نے ہم میں پھوٹ ڈلوا دی تھی، اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، اس کے ویسے ہی اسباب مہیا کردیتا ہے اور اسے آسان اور سہل کردیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اپنے افعال اقوال قضا و قدر مختار و مراد میں وہ باحکمت ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ خواب کے دیکھنے اور اس کی تاویل کے ظاہر ہونے میں چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں خواب کی تعبیر کے واقع ہونے میں اس سے زیادہ زمانہ لگتا بھی نہیں یہ آخری مدت ہے۔ حضرت حسن ؒ سے روایت ہے کہ باپ بیٹے اسی برس کے بعد ملے تم خیال تو کرو کہ زمین پر حضرت یعقوب ؑ سے زیادہ اللہ کا کوئی محبوب بندہ نہ تھا۔ پھر بھی اتنی مدت انہیں فراق یوسف میں گزری، ہر وقت آنکھوں سے آنسو جاری رہتے اور دل میں غم کی موجیں اٹھتیں اور روایت میں ہے کہ یہ مدت تراسی سال کی تھی۔ فرماتے ہیں جب حضرت یوسف ؑ کنویں میں ڈالے گئے اس وقت آپ کی عمر سترہ سال کی تھی۔ اسی برس تک آپ باپ کی نظروں سے اوجھل رہے۔ پھر ملاقات کے بعد تیئس برس زندہ رہے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں انتقال کیا۔ بقول قتادہ ؒ ترپن برس کے بعد باپ بیٹا ملے۔ ایک قول ہے کہ اٹھارہ سال ایک دوسرے سے دور رہے اور ایک قول ہے کہ چالیس سال کی جدائی رہی اور پھر مصر میں باپ سے ملنے کے بعد سترہ سال زندہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ بنو اسرائیل جب مصر پہنچے ہیں ان کی تعداد صرف تریسٹھ کی تھی اور جب یہاں سے نکلے ہیں اس وقت ان کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار کی تھی۔ مسروق کہتے ہیں آنے کے وقت یہ مع مرد و عورت تین سو نوے تھے، عبداللہ بن شداد کا قول ہے کہ جب یہ لوگ آئے کل چھیاسی تھے یعنی مرد عورت بوڑھے بچے سب ملا کر اور جب نکلے ہیں اس وقت ان کی گنتی چھ لاکھ سے اوپر اوپر تھی۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ وُرُودِ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَلَى يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقُدُومِهِ بِلَادَ [[في أ: "على".]] مِصْرَ، لَمَّا كَانَ يُوسُفُ قَدْ تَقَدَّمَ إِلَى إِخْوَتِهِ أَنْ يَأْتُوهُ بِأَهْلِهِمْ أَجْمَعِينَ، فَتُحُمِّلُوا عَنْ آخِرِهِمْ وَتَرَحَّلُوا مِنْ بِلَادِ كَنْعَانَ قَاصِدِينَ بِلَادَ [[في ت، أ: "ديار".]] مِصْرَ، فَلَمَّا أُخْبِرَ يُوسُفُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بِاقْتِرَابِهِمْ خَرَجَ لِتَلَقِّيهِمْ، وَأَمَرَ [الْمَلِكُ] [[زيادة من ت، أ.]] أُمَرَاءَهُ وَأَكَابِرَ النَّاسِ بِالْخُرُوجِ [مَعَ يُوسُفَ] [[زيادة من ت، أ.]] لِتَلَقِّي نَبِيَّ اللَّهِ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَيُقَالُ: إِنَّ الْمَلِكَ خَرَجَ أَيْضًا لِتَلَقِّيهِ، وَهُوَ الْأَشْبَهُ.
وَقَدْ أُشْكِلَ قَوْلُهُ: ﴿آوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ﴾ عَلَى كَثِيرٍ [[في ت: "كثيرين".]] مِنَ الْمُفَسِّرِينَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا مِنَ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤَخَّرِ، وَمَعْنَى الْكَلَامِ: ﴿وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ﴾ وَآوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ، وَرَفَعَهُمَا عَلَى الْعَرْشِ.
وَقَدْ رَدَّ ابْنُ جَرِيرٍ هَذَا. وَأَجَادَ فِي ذَلِكَ. ثُمَّ اخْتَارَ مَا حَكَاهُ عَنِ السٌّدِّي: أَنَّ يُوسُفَ آوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ لَمَّا تَلَقَّاهُمَا، ثُمَّ لَمَّا وَصَلُوا بَابَ الْبَلَدِ قَالَ: ﴿ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ﴾
وَفِي هَذَا نَظَرٌ أَيْضًا؛ لِأَنَّ الْإِيوَاءَ إِنَّمَا يَكُونُ فِي الْمَنْزِلِ، كَقَوْلِهِ: ﴿آوَى إِلَيْهِ أَخَاهُ﴾ وَفِي الْحَدِيثِ: "مَنْ آوَى مُحْدِثًا" وَمَا الْمَانِعُ أَنْ يَكُونَ قَالَ لَهُمْ بَعْدَمَا دَخَلُوا عَلَيْهِ وَآوَاهُمْ إِلَيْهِ: ﴿ادْخُلُوا مِصْرَ﴾ وضمَّنه: اسْكُنُوا مِصْرَ ﴿إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ﴾ أَيْ: مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْجَهْدِ وَالْقَحْطِ، وَيُقَالُ -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى رَفَعَ عَنْ أَهْلِ مِصْرَ بَقِيَّةَ السِّنِينَ الْمُجْدِبَةِ بِبَرَكَةِ قُدُومِ يَعْقُوبَ عَلَيْهِمْ، كَمَا رَفَعَ بَقِيَّةَ السِّنِينَ الَّتِي دَعَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ حِينَ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ"، ثُمَّ لَمَّا تَضَرَّعُوا إِلَيْهِ وَاسْتَشْفَعُوا لَدَيْهِ، وَأَرْسَلُوا أَبَا سُفْيَانَ فِي ذَلِكَ، فَدَعَا لَهُمْ، فَرُفِعَ عَنْهُمْ بَقِيَّةُ ذَلِكَ بِبَرَكَةِ دُعَائِهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ [[رواه البخاري في صحيحه برقم (١٠٠٧) مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿آوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ﴾ قَالَ السُّدِّيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ: إِنَّمَا كَانَ أَبَاهُ [[في ت: "أبوه".]] وَخَالَتَهُ، وَكَانَتْ أُمُّهُ قَدْ مَاتَتْ قَدِيمًا.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَابْنُ جَرِيرٍ: كَانَ أَبُوهُ وَأُمُّهُ يَعِيشَانِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَلَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ عَلَى مَوْتِ أُمِّهِ، وَظَاهِرُ الْقُرْآنِ يدل على حياتها. وهذا الذي نصره هُوَ الْمَنْصُورُ الَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ السِّيَاقُ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ: يَعْنِي السَّرِيرَ، أَيْ: أَجْلَسَهُمَا مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ.
﴿وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا﴾ أَيْ: سَجَدَ لَهُ أَبَوَاهُ وَإِخْوَتُهُ الْبَاقُونَ، وَكَانُوا أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا ﴿وَقَالَ يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ﴾ أَيِ: الَّتِي كَانَ قَصَّهَا عَلَى أَبِيهِ ﴿إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ﴾ [يُوسُفَ: ٤]
وَقَدْ كَانَ هَذَا سَائِغًا فِي شَرَائِعِهِمْ إِذَا سلَّموا عَلَى الْكَبِيرِ يَسْجُدُونَ لَهُ، وَلَمْ يَزَلْ هَذَا جَائِزًا مِنْ لَدُنْ آدَمَ إِلَى شَرِيعَةِ عِيسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَحُرِّمَ هَذَا فِي هَذِهِ الْمِلَّةِ، وجُعل السُّجُودُ مُخْتَصًّا بِجَنَابِ الرَّبِّ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى.
هَذَا مَضْمُونُ قَوْلِ قَتَادَةَ وَغَيْرِهِ.
وَفِي الْحَدِيثِ أَنَّ مُعَاذًا قَدِمَ الشَّامَ، فَوَجَدَهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ، فَلَمَّا رَجَعَ سَجَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: "مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟ " فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ، وَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: "لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الزَّوْجَةَ [[في ت، أ: "المرأة"]] أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظم [[في ت: "عظيم".]] حَقِّهِ عَلَيْهَا" [[رواه أحمد في المسند (٤/٣٨١) وابن ماجه في السنن برقم (١٨٥٣) من حديث معاذ رضي الله عنه، وصححه ابن حبان.]]
وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ: أَنَّ سَلْمَانَ لَقِيَ النَّبِيَّ ﷺ فِي بَعْضِ طُرُق الْمَدِينَةِ، وَكَانَ سَلْمَانُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِالْإِسْلَامِ، فَسَجَدَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ: "لَا تَسْجُدْ لِي يَا سَلْمَانُ، وَاسْجُدْ لِلْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ" [[رواه أبو نعيم في تاريخ أصبهان (٢/١٠٣) من طريق شهر بن حوشب، عن سلمان رضي الله عنه، وسيأتي عند تفسير الآية: ٥٨ من سورة الفرقان.]] .
وَالْغَرَضُ أَنَّ هَذَا كَانَ جَائِزًا فِي شَرِيعَتِهِمْ؛ وَلِهَذَا خَرُّوا لَهُ سُجَّدًا، فَعِنْدَهَا قَالَ يُوسُفُ: ﴿يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا﴾ أَيْ: هَذَا مَا آلَ إِلَيْهِ الْأَمْرُ، فَإِنَّ التَّأْوِيلَ يُطْلَقُ عَلَى مَا يَصِيرُ إِلَيْهِ الْأَمْرُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلا تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٥٣] أَيْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَأْتِيهِمْ مَا وُعِدُوا مِنْ خَيْرٍ وَشَرٍّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا﴾ أَيْ: صَحِيحَةً صِدْقا، يَذْكُرُ نِعَمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، ﴿وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُمْ مِنَ الْبَدْوِ﴾ أَيِ: الْبَادِيَةِ.
قَالَ ابْنُ جُرَيْج وَغَيْرُهُ: كَانُوا أَهْلَ بَادِيَةٍ وَمَاشِيَةٍ. وَقَالَ: كَانُوا يَسْكُنُونَ بالعَربَات مِنْ أَرْضِ فِلَسْطِينَ، مِنْ غَوْرِ الشَّامِ. قَالَ: وَبَعْضٌ يَقُولُ: كَانُوا بِالْأَوْلَاجِ مِنْ نَاحِيَةِ شِعْبٍ أَسْفَلَ مِنْ حسمَى، وَكَانُوا أَصْحَابَ بادية وشاء [[في أ: "وماشية".]] وإبل.
﴿مِنْ بَعْدِ أَنْ نزغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي﴾ [ثُمَّ قَالَ] [[زيادة من ت، أ.]] ﴿إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ﴾ أَيْ: إِذَا أَرَادَ أَمْرًا قَيَّضَ لَهُ أَسْبَابًا وَيَسَّرَهُ وَقَدَّرَهُ، ﴿إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ﴾ بِمَصَالِحِ عِبَادِهِ ﴿الْحَكِيمُ﴾ فِي أَفْعَالِهِ وَأَقْوَالِهِ، وَقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ، وَمَا يَخْتَارُهُ وَيُرِيدُهُ.
قَالَ أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ [[في أ: "عن سلمان قال".]] كَانَ بَيْنَ رُؤْيَا يُوسُفَ وَتَأْوِيلِهَا أَرْبَعُونَ سَنَةً.
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: وَإِلَيْهَا [[في ت: "وإليه".]] يَنْتَهِي أَقْصَى الرُّؤْيَا. رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ.
وَقَالَ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: كَانَ مُنْذُ [[في ت: "مذ".]] فَارَقَ يُوسُفُ يَعْقُوبَ إِلَى أن التقيا، ثمانون سنة، لم يفارق في الْحُزْنُ قَلْبَهُ، وَدُمُوعُهُ تَجْرِي عَلَى خَدَّيْهِ، وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ عَبَدٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ يَعْقُوبَ [[تفسير الطبري (١/٢٧٣) .]] .
وَقَالَ هُشَيْم، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ: ثَلَاثٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً.
وَقَالَ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ: أُلْقِيَ يُوسُفُ فِي الْجُبِّ وَهُوَ ابْنُ سَبْعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَغَابَ عَنْ أَبِيهِ ثَمَانِينَ [[في أ: "ثمانون".]] سَنَةً، وَعَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ سَنَةً، فَمَاتَ وَلَهُ عِشْرُونَ وَمِائَةُ سَنَةٍ.
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ بَيْنَهُمَا خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ سَنَةً.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: ذُكر -وَاللَّهُ أَعْلَمُ -أَنَّ غَيْبَةَ يُوسُفَ عَنْ يَعْقُوبَ كَانَتْ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةً -قَالَ: وَأَهْلُ الْكِتَابِ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ [[في أ: أربعون".]] سَنَةً أَوْ نَحْوَهَا، وَأَنَّ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، بَقِيَ مَعَ يُوسُفَ بَعْدَ أَنَّ قَدِمَ عَلَيْهِ مِصْرَ سَبْعَ عَشْرَةَ سَنَةً، ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعي، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلَ بَنُو إِسْرَائِيلَ مِصْرَ، وَهُمْ ثَلَاثَةٌ وَسِتُّونَ إِنْسَانًا، وَخَرَجُوا مِنْهَا وَهُمْ سِتُّمِائَةِ أَلْفٍ وَسَبْعُونَ أَلْفًا.
وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مسروق: دخلوا وهم ثلثمائة وَتِسْعُونَ مِنْ بَيْنِ رَجُلٍ وَاِمْرَأَةٍ. وَاللَّهُ [[في ت، أ: "فالله".]] أَعْلَمُ.
وَقَالَ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ القُرَظي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ: اجْتَمَعَ آلُ يَعْقُوبَ إِلَى يُوسُفَ بِمِصْرَ. وَهُمْ سِتَّةٌ وَثَمَانُونَ إِنْسَانًا، صَغِيرُهُمْ وَكَبِيرُهُمْ، وَذَكَرُهُمْ وَأُنْثَاهُمْ، وَخَرَجُوا مِنْهَا وَهُمْ سِتُّمِائَةِ أَلْفٍ وَنَيِّفٍ.
۞ رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّٰلِحِينَ
My Lord, You have given me [something] of sovereignty and taught me of the interpretation of dreams. Creator of the heavens and earth, You are my protector in this world and in the Hereafter. Cause me to die a Muslim and join me with the righteous."
(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو
پروردگارا! بخشی (عظیم) از حکومت به من بخشیدی، و مرا از علم تعبیر خوابها آگاه ساختی! ای آفریننده آسمانها و زمین! تو ولیّ و سرپرست من در دنیا و آخرت هستی، مرا مسلمان بمیران؛ و به صالحان ملحق فرما!»
Tafsir Ibn Kathir
"My Lord! You have indeed bestowed on me of the sovereignty, and taught me something of the interpretation of dreams - the (Only) Creator of the heavens and the earth! You are my Wali in this world and in the Hereafter. Cause me to die as a Muslim, and join me with the righteous. (101)
Yusuf begs Allah to die as A Muslim
This is the invocation of Yusuf, the truthful one, to his Lord the Exalted and Most Honored. He invoked Allah after His favor was complete on him by being reunited with his parents and brothers, after He had bestowed on him prophethood and kingship. He begged his Lord the Exalted and Ever High, that as He has perfected His bounty on him in this life, to continue it until the Hereafter. He begged Him that, when he dies, he dies as a Muslim, as Ad-Dahhak said, and to join him with the ranks of the righteous, with his brethren the Prophets and Messengers, may Allah's peace and blessings be on them all. It is possible that Yusuf, peace be upon him, said this supplication while dying. In the Two Sahihs it is recorded that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said that while dying, the Messenger of Allah ﷺ was raising his finger and said - thrice,
اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى (ثَلَاثًا)
(O Allah to Ar-Rafiq Al-A'la [the uppermost, highest company in heaven].)It is also possible that long before he died, Yusuf begged Allah to die as a Muslim and be joined with the ranks of the righteous.
Tafsir Ibn Kathir
نبوت مل چکی، بادشاہت عطا ہوگئی، دکھ کٹ گئے، ماں باپ اور بھائی سب سے ملاقات ہوگئی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہے کہ جیسے یہ دنیوں نعمتیں تو نے مجھ پر پوری کی ہیں، ان نعمتوں کو آخرت میں پوری فرما، جب بھی موت آئے تو اسلام پر اور تیری فرمانبرداری پر آئے اور میں نیک لوگوں میں ملا دیا جاؤں اور نبیوں اور رسولوں میں صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین بہت ممکن ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی یہ دعا بوقت وفات ہو۔ جیسے کہ بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ثابت ہے کہ انتقال کے وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلی اٹھائی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ رفیق اعلی میں ملا دے۔ تین مرتبہ آپ نے یہی دعا کی۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی اس دعا کا مقصود یہ ہے کہ جب بھی وفات آئے اسلام پر آئے اور نیکوں میں مل جاؤں۔ یہ نہیں کہ اسی وقت آپ نے یہ دعا اپنی موت کے لئے کی ہو۔ اس کی بالکل وہی مثال ہے جو کوئی کسی کو دعا دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ تجھے اسلام پر موت دے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ ابھی ہی تجھے موت آجائے۔ یا جیسے ہم مانگتے ہیں کہ اللہ ہمیں تیرے دین پر ہی موت آئے یا ہماری یہی دعا کہ اللہ مجھے اسلام پر مار اور نیک کاروں میں ملا۔ اور اگر یہی مراد ہو کہ واقعی آپ نے اسی وقت موت مانگی تو ممکن ہے کہ یہ بات اس شریعت میں جائز ہو۔ چناچہ قتادہ ؒ کا قول ہے کہ جب آپ کے تمام کام بن گئے، آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں، ملک، مال، عزت، آبرو، خاندان، برادری، بادشاہت سب مل گئے تو آپ کو صالحین کی جماعت میں پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہی سب سے پہلے اس دعا کے مانگنے والے ہیں، ممکن ہے اس سے مراد ابن عباس کی یہ ہو کہ اس دعا کو سب سے پہلے کرنے والے یعنی خاتمہ اسلام پر ہونے کی دعا کے سب سے پہلے مانگنے والے آپ ہی تھے۔ جیسے کہ یہ دعا کو سب سے پہلے کرنے والے یعنی خاتمہ اسلام پر ہونے کی دعا کے سب سے پہلے مانگنے والے آپ ہی تھے۔ جیسے کہ یہ دعا رب اففرلی ولوالدی سب سے پہلے حضرت نوح ؑ نے مانگی تھی۔ باوجود اس کے بھی اگر یہی کہا جائے کہ حضرت یوسف ؑ نے موت کی ہی دعا کی تھی تو ہم کہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ ان کے دین میں جائز ہو۔ ہمارے ہاں تو سخت ممنوع ہے۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی کسی سختی اور ضرر سے گھبرا کر موت کی آرزو نہ کرے اگر اسے ایسی ہی تمنا کرنی ضروری ہے تو یوں کہے اے اللہ جب تک میری حیات تیرے علم میں میرے لئے بہتر ہے، مجھے زندہ رکھ اور جب تیرے علم میں میری موت میرے لئے بہتر ہو، مجھے موت دے دے۔ بخاری مسلم کی اسی حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی کسی سختی کے نازل ہونے کی وجہ سے موت کی تمنا ہرگز نہ کرے اگر وہ نیک ہے تو اس کی زندگی اس کی نیکیاں بڑھائے گی اور اگر وہ بد ہے تو بہت ممکن ہے کہ زندگی میں کسی وقت توبہ کی توفیق ہوجائے بلکہ یوں کہے اے اللہ جب تک میرے لئے حیات بہتر ہے تو مجھے زندہ رکھ۔ مسند احمد میں ہے ہم ایک مرتبہ حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور ہمارے دل گرما دئے۔ اس وقت ہم میں سب سے زیادہ رونے والے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ تھے، روتے ہی روتے ان کی زبان سے نکل گیا کہ کاش کہ میں مرجاتا آپ نے فرمایا سعد میرے سامنے موت کی تمنا کرتے ہو ؟ تین مرتبہ یہی الفاظ دہرائے۔ پھر فرمایا اے سعد اگر تو جنت کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو جس قدر عمر بڑھے گی اور نیکیاں زیادہ ہوں گی، تیرے حق میں بہتر ہے۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ہرگز ہرگز موت کی تمنا نہ کرے نہ اس کی دعا کرے اس سے پہلے کہ وہ آئے۔ ہاں اگر کوئی ایسا ہو کہ اسے اپنے اعمال کا وثوق اور ان پر یقین ہو۔ سنو تم میں سے جو مرتا ہے، اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں۔ مومن کے اعمال اس کی نیکیاں ہی بڑھاتے ہیں۔ یہ یاد رہے کہ یہ حکم اس مصیبت میں ہے جو دنیوی ہو اور اسی کی ذات کے متعلق ہو۔ لیکن اگر فتنہ مذہبی ہو، مصیبت دینی ہو، تو موت کا سوال جائز ہے۔ جیسے کہ فرعون کے جادو گروں نے اس وقت دعا کی تھی جب کہ فرعون انہیں قتل کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ کہا تھا کہ اللہ ہم کو صبر عطا کر اور ہمیں اسلام کی حالت میں موت دے۔ اسی طرح حضرت مریم (علیہا السلام) جب درد زہ سے گھبرا کر کھجور کے تنے تلے گئیں تو بےساختہ منہ سے نکل گیا کہ کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور آج تو لوگوں کی زبان ودل سے بھلا دی گئی ہوتی۔ یہ آپ نے اس وقت فرمایا جب معلوم ہوا کہ لوگ انہیں زنا کی تہمت لگا رہے ہیں، اس لئے کہ آپ خاوند والی نہ تھیں اور حمل ٹھر گیا تھا۔ پھر بچہ پیدا ہوا تھا اور دنیا نے شور مچایا تھا کہ مریم بڑی بد عورت ہے، نہ ماں بری نہ باپ بدکار۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی مخلصی کردی اور اپنے بندے حضرت عیسیٰ ؑ کو گہوارے میں زبان دی اور مخلوق کو زبردست معجزہ اور ظاہر نشان دکھا دیا صلوات اللہ وسلامہ علیہا ایک حدیث میں ایک لمبی دعا کا ذکر ہے جس میں یہ جملہ بھی ہے کہ اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنہ کا ارادہ کرے تو مجھے اس فتنے میں مبتلا کرنے سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دو چیزوں کو انسان اپنے حق میں بری جانتا ہے ؛ موت کو بری جانتا ہے اور موت مومن کے لئے فتنے سے بہتر ہے۔ مال کی کمی کو انسان اپنے لئے برائی خیال کرتا ہے حالانکہ مال کی کمی حساب کی کمی ہے الغرض دینی فتنوں کے وقت طلب موت جائز ہے۔ چناچہ حضرت علی ؓ نے اپنی خلافت کے آخری زمانے میں جب دیکھا کہ لوگوں کی شرارتیں کسی طرح ختم نہیں ہوتیں اور کسی طرح اتفاق نصیب نہیں ہوتا تو دعا کی کہ الہ العالمین مجھے اب تو اپنی طرف قبض کرلے۔ یہ لوگ مجھ سے اور میں ان سے تنگ آچکا ہوں۔ حضرت امام بخاری ؒ پر بھی جب فتنوں کی زیادتی ہوئی اور دین کا سنبھالنا مشکل ہو پڑا اور امیر خراسان کے ساتھ بڑے معرکے پیش آئے تو آپ نے جناب باری سے دعا کی کہ اللہ اب مجھے اپنے پاس بلا لے۔ ایک حدیث میں ہے کہ فتنوں کے زمانوں میں انسان قبر کو دیکھ کر کہے گا کاش کہ میں اس جگہ ہوتا کیونکہ فتنوں بلاؤں زلزلوں اور سختیوں نے ہر ایک مفتون کو فتنے میں ڈال رکھا ہوگا۔ ابن جریر میں ہے کہ جب حضرت یعقوب ؑ نے اپنے ان بیٹوں کے لئے جن سے بہت سے قصور سرزد ہوچکے تھے۔ استغفار کیا تو اللہ نے ان کا استغفار قبول کیا اور انہیں بخش دیا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب سارا خاندان مصر میں جمع ہوگیا تو برادران یوسف نے ایک روز آپس میں کہا کہ ہم نے ابا جان کو جتنا ستایا ہے ظاہر ہے ہم نے بھائی یوسف پر جو ظلم توڑے ہیں، ظاہر ہیں۔ اب گویہ دونوں بزرگ ہمیں کچھ نہ کہیں اور ہماری خطا سے درگزر فرما جائیں۔ لیکن کچھ خیال بھی ہے کہ اللہ کے ہاں ہماری کیسی درگت بنے گی ؟ آخر یہ ٹھیری کہ آؤ ابا جی کے پاس چلیں اور ان سے التجائیں کریں۔ چناچہ سب مل کر آپ کے پاس آئے۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ بھی باپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آتے ہی انہوں نے بیک زبان کہا کہ حضور ہم آپ کے پاس ایک ایسے اہم امر کے لئے آج آئے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسے اہم کام کے لئے آپ کے پاس نہیں آئے تھے، ابا جی اور اے بھائی صاحب ہم اس وقت ایسی مصیبت میں مبتلا ہیں اور ہمارے دل اس قدر کپکپا رہے ہیں کہ آج سے پہلے ہماری ایسی حالت کبھی نہیں ہوئی۔ الغرض کچھ اس طرح نرمی اور لجاجت کی کہ دونوں بزرگوں کا دل بہر آیا ظاہر ہے کہ انبیا کے دلوں میں تمام مخلوق سے زیادہ رحم اور نرمی ہوتی ہے۔ پوچھا کہ آخر تم کیا کہتے ہو اور ایسی تم پر کیا بپتا پڑی ہے ؟ سب نے کہا آپ کو خوب معلوم ہے کہ ہم نے آپ کو کس قدر ستایا، ہم نے بھائی پر کیسے ظلم وستم ڈھائے ؟ دونوں نے کہا ہاں معلوم ہے پہر ؟ کہا کیا یہ درست ہے کہ آپ دونوں نے ہماری تقصیر معاف فرما دی ؟ ہاں بالکل درست ہے۔ ہم دل سے معاف کرچکے۔ تب لڑکوں نے کہا، آپ کا معاف کردینا بھی بےسود ہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف نہ کر دے۔ پوچھا اچھا پھر مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ جواب دیا یہی کہ آپ ہمارے لئے اللہ سے بخشش طلب فرمائیں، یہاں تک کہ بذریعہ وحی آپ کو معلوم ہوجائے کہ اللہ نے ہمیں بخش دیا تو البتہ ہماری آنکھوں میں نور اور دل میں سرور آسکتا ہے ورنہ ہم تو دونوں جہاں سے گئے گزرے۔ اس وقت آپ کھڑے ہوگئے، قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے حضرت یوسف ؑ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، بڑے ہی خشوع خضوع سے جناب باری میں گڑگڑا گڑا گڑا کر دعائیں شروع کیں۔ حضرت یعقوب ؑ دعا کرتے تھے اور حضرت یوسف آمین کہتے تھے، کہتے ہیں کہ بیس سال تک دعا مقبول نہ ہوئی۔ آخر بیس سال تک جب کہ بھائیوں کا خون اللہ کے خوف سے خشک ہونے لگا، تب وحی آئی اور قبولیت دعا اور بخشش فرزندان کی بشارت سنائی گئی بلکہ یہ بھی فرمایا گیا کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ تیرے بعد نبوت بھی انہیں ملے گی۔ یہ قول حضرت انس ؓ کا ہے اور اس میں دو راوی ضعیف ہیں یزید رقاشی۔ صالح مری۔ سدی ؒ فرماتے ہیں حضرت یعقوب ؑ نے اپنی موت کے وقت حضرت یوسف ؑ کو وصیت کی کہ مجھے ابراہیم واسحاق کی جگہ میں دفن کرنا۔ چناچہ بعد از انتقال آپ نے یہ وصیت پوری کی اور ملک شام کی زمین میں آپ کے باپ دادا کے پاس دفن کیا۔ علیہم الصلوات والسلام
Tafsir Ibn Kathir
هَذَا دُعَاءٌ مَنْ يُوسُفَ الصِّدِّيقِ، دَعَا بِهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، لَمَّا تَمَّتِ النِّعْمَةُ عَلَيْهِ، بِاجْتِمَاعِهِ بِأَبَوَيْهِ وَإِخْوَتِهِ، وَمَا مَنَّ اللَّهُ بِهِ عَلَيْهِ مِنَ النُّبُوَّةِ وَالْمُلْكِ، سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، كَمَا أَتَمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا أَنْ يَسْتَمِرَّ بِهَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنْ يَتَوَفَّاهُ مُسْلِمًا حِينَ يَتَوَفَّاهُ. قَالَهُ الضَّحَّاكُ، وَأَنْ يُلْحِقَهُ بِالصَّالِحِينَ، وَهُمْ إِخْوَانُهُ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ [عَلَيْهِ و] [[زيادة من ت، أ.]] عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.
وَهَذَا الدُّعَاءُ يُحْتَمَلُ أَنَّ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَهُ عِنْدَ احْتِضَارِهِ، كَمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ جَعَلَ يَرْفَعُ أُصْبُعَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى، اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى، اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى" [[صحيح البخاري برقم (٤٤٣٧) وصحيح مسلم برقم (٢٤٤٤) .]] .
وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ سَأَلَ الْوَفَاةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَاللَّحَاقَ بِالصَّالِحِينَ إِذَا حَانَ أَجْلُهُ، وَانْقَضَى عُمْرُهُ؛ لَا أَنَّهُ سَأَلَ ذَلِكَ مُنْجَزًا، كَمَا يَقُولُ الدَّاعِي لِغَيْرِهِ: "أَمَاتَكَ اللَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ". وَيَقُولُ الدَّاعِي: "اللَّهُمَّ أَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَتُوَفَّنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحَقَنَا بِالصَّالِحِينَ".
وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ سَأَلَ ذَلِكَ مُنْجَزًا، وَكَانَ ذَلِكَ سَائِغًا فِي مِلَّتِهِمْ، كَمَا قَالَ قَتَادَةُ: قَوْلُهُ: ﴿تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ﴾ لَمَّا جَمَعَ اللَّهُ شَمْلَهُ وَأَقَرَّ عَيْنَهُ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مَغْمُورٌ فِي الدُّنْيَا وَمُلْكِهَا وَغَضَارَتِهَا، فَاشْتَاقَ [[في ت، أ: "واشتاق".]] إِلَى الصَّالِحِينَ قَبْلَهُ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: مَا تَمَنَّى نَبِيٌّ قَطُّ الْمَوْتَ قَبْلَ يُوسُفَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ.
وَكَذَا ذَكَرَ ابْنُ جَرِيرٍ [[في ت، أ: "جريج".]] وَالسُّدِّيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ أَوَّلُ نَبِيٍّ دَعَا بِذَلِكَ. وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ الْوَفَاةَ عَلَى الْإِسْلَامِ. كَمَا أَنَّ نُوحًا أَوَّلُ مَنْ قَالَ: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا﴾ [نُوحٍ: ٢٨] وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ نَجَازَ ذَلِكَ، وَهُوَ ظَاهِرُ سِيَاقِ قَتَادَةَ، وَلَكِنَّ هَذَا لَا يَجُوزُ [[في ت، أ: "لا يجوز هذا".]] فِي شَرِيعَتِنَا.
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "لَا يَتَمَنَّيْنَ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ [[في ت، أ: "كان ولا بد".]] مُتَمَنِّيًا الْمَوْتَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي" [[المسند (٣/١٠١) .]] .
[وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ، وَعِنْدَهُمَا: " لَا يَتَمَنَّيْنَ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ إِمَّا مُحْسِنًا فَيَزْدَادُ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ، أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الوفاة خَيْرًا لِي" [[صحيح البخاري برقم (٦٣٥١) وصحيح مسلم برقم (٢٦٨٠) .]] ] [[زيادة من ت، أ.]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُعُان بْنُ رِفَاعَةَ، حَدَّثَنِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أمامة قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فذكَّرنا ورقَّقنا، فَبَكَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَاصٍ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مُتُّ! فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "يَا سَعْدُ أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ؟ " فردَّد ذَلِكَ [ثَلَاثَ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: "يَا سَعْدُ، إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ، فَمَا طَالَ [[في ت، أ: "فأطال".]] عُمُرُكَ، أَوْ حَسُن مِنْ عَمَلِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ" [[المسند (٥/٢٦٦) .]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعة، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ -هُوَ سُلَيم بْنُ جُبير -عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ؛ أَنَّهُ قَالَ: "لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلَا يدعوَن [[في ت، أ: "لا يدعو".]] بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَثق بِعَمَلِهِ، فَإِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمُرُهُ [[في ت، أ: "عمله".]] إِلَّا خَيْرًا" تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٢/٣٥٠) .]]
وَهَذَا فِيمَا إِذَا كَانَ الضُّرُّ خَاصًّا بِهِ، أَمَّا إِذَا كَانَ [[في أ: "كان فيه".]] فِتْنَةً فِي الدِّينِ فَيَجُوزُ سُؤَالُ الْمَوْتِ، كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى إِخْبَارًا عَنِ السَّحَرَةِ لَمَّا أَرَادَهُمْ فِرْعَوْنُ عَنْ دِينِهِمْ وتهدَّدهم بِالْقَتْلِ قَالُوا: ﴿رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ١٢٦] وَقَالَتْ مَرْيَمُ لَمَّا أَجَاءَهَا الْمَخَاضُ، وَهُوَ الطَّلْقُ، إِلَى جذع النخلة ﴿يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا﴾ [مَرْيَمَ: ٢٣] لِمَا تَعْلَمُ مِنْ أَنَّ النَّاسَ يَقْذِفُونَهَا بِالْفَاحِشَةِ؛ لِأَنَّهَا لَمْ تَكُنْ ذَاتَ زَوْجٍ وَقَدْ حَمَلَتْ وَوَلَدَتْ، فَيَقُولُ الْقَائِلُ أَنَّى لَهَا هَذَا؟ وَلِهَذَا وَاجَهُوهَا أَوَّلًا بِأَنْ قَالُوا: ﴿يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا﴾ [مَرْيَمَ: ٢٧، ٢٨] فَجَعَلَ اللَّهُ لَهَا مِنْ ذَلِكَ الْحَالِ فَرَجًا وَمَخْرَجًا، وَأَنْطَقَ الصَّبِيَّ فِي الْمَهْدِ بِأَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، وَكَانَ [[في ت: "فكان".]] آيَةً عَظِيمَةً وَمُعْجِزَةً بَاهِرَةً صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ [[في ت: "عليه السلام".]] وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ، الَّذِي رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ، فِي قِصَّةِ الْمَنَامِ وَالدُّعَاءِ الَّذِي فِيهِ: "وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً، فَتَوَفَّنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ" [[المسند (٥/٢٤٣) وسنن الترمذي برقم (٣٢٣٥) . وقال الترمذي: "هذا حديث حسن صحيح، سألت محمد بن إسماعيل البخاري عن هذا الحديث فقال: هذا حديث حسن صحيح".]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، أَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرٍو عَنْ [[في ت: "ابن".]] عَاصِمٍ عَنْ [[في ت: "ابن".]] عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدم الموت، والموت خير لِلْمُؤْمِنِ [مِنَ الْفِتْنَةِ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ، وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ" [[المسند (٥/٤٢٧) .]] .
فَعِنْدَ حُلول الْفِتَنِ فِي الدِّينِ يَجُوزُ سُؤَالُ الْمَوْتِ؛ وَلِهَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي آخِرِ إِمَارَتِهِ لَمَّا رَأَى أَنَّ الْأُمُورَ لَا تَجْتَمِعُ لَهُ، وَلَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شَدَّةً قَالَ: اللهمَّ، خُذْنِي إِلَيْكَ، فَقَدْ سَئِمْتُهُمْ وَسَئِمُونِي.
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، لَمَّا وَقَعَتْ لَهُ تِلْكَ الْمِحَنُ وَجَرَى لَهُ مَا جَرَى مَعَ أَمِيرِ خُرَاسَانَ: اللَّهُمَّ تَوَفَّنِي إِلَيْكَ.
وَفِي الْحَدِيثِ: "إِنَّ الرَّجُلَ لَيَمُرُّ بِالْقَبْرِ -أَيْ فِي زَمَانِ الدَّجَّالِ -فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَكَ" [[رواه مسلم في صحيح برقم (١٥٧/٥٤) من حديث أبي هريرة بلفظ "والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يمر الرجل على القبر فيتمرغ عليه ويقول: يا ليتني كنت مكان صاحب هذا القبر، وليس به الدين إلا البلاء".]] لِمَا يَرَى مِنَ الْفِتَنِ وَالزَّلَازِلِ وَالْبَلَابِلِ وَالْأُمُورِ الْهَائِلَةِ الَّتِي هِيَ فِتْنَةٌ لِكُلِّ مَفْتُونٍ.
قَالَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: وذُكِرَ أَنَّ بَنِي يَعْقُوبَ الَّذِينَ فَعَلُوا بِيُوسُفَ مَا فَعَلُوا، اسْتَغْفَرَ لَهُمْ أَبُوهُمْ، فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَعَفَا عَنْهُمْ، وَغَفَرَ لَهُمْ ذُنُوبَهُمْ.
[ذِكْرُ مَنْ قَالَ ذَلِكَ] [[زيادة من ت، أ.]] :
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ يَزِيدُ الرَّقاشي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا جَمَعَ لِيَعْقُوبَ شَمْلَهُ، وَأَقَرَّ عَيْنَهُ [[في هـ، ت، أ: "شمله بعينه" والمثبت من الطبري".]] خَلَا ولدُه نَجِيًّا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَلَسْتُمْ قَدْ عَلِمْتُمْ مَا صَنَعْتُمْ، وَمَا لَقِيَ مِنْكُمُ الشَّيْخُ، وَمَا لَقِيَ مِنْكُمْ يُوسُفُ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالَ: فَيَغُرُّكُمْ عَفْوُهُمَا عَنْكُمْ، فَكَيْفَ لَكَمَ بِرَبِّكُمْ؟ فَاسْتَقَامَ أَمْرُهُمْ عَلَى أَنْ أَتَوُا الشَّيْخَ فَجَلَسُوا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَيُوسُفُ إِلَى جَنْبِ أَبِيهِ قَاعِدًا، قَالُوا: يَا أَبَانَا، إِنَّا أَتَيْنَاكَ فِي أَمْرٍ، لَمْ نَأْتِكَ فِي مَثَلِهِ قَطُّ، وَنَزَلَ بِنَا أَمْرٌ لَمْ يَنْزِلْ بِنَا مِثْلُهُ. حَتَّى حَرَّكوه، وَالْأَنْبِيَاءُ، عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، أَرْحَمُ الْبَرِيَّةِ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ يَا بَنيّ؟ قَالُوا: أَلَسْتَ قَدْ عَلِمْتَ مَا كَانَ مِنَّا إِلَيْكَ، وَمَا كَانَ مِنَّا إِلَى أَخِينَا يُوسُفَ؟ قَالَ: بَلَى. قَالُوا: أَوَ لَسْتُمَا قَدْ عَفَوتما؟ قَالَا بَلَى. قَالُوا: فَإِنَّ عَفْوَكُمَا لَا يُغْنِي عَنَّا شَيْئًا، إِنْ كَانَ اللَّهُ لَمْ يَعْفُ عَنَّا. قَالَ: فَمَا تُرِيدُونَ يَا بَنِيَّ؟ قَالُوا: نُريدُ أَنْ تدعوَ اللَّهَ لَنَا، فَإِذَا جَاءَكَ الْوَحْيُ مِنَ اللَّهِ بِأَنَّهُ قَدْ عَفَا عَمَّا صَنَعْنَا قَرَّتْ أَعْيُنُنَا، وَاطْمَأَنَّتْ قُلُوبُنَا، وَإِلَّا فَلَا قُرّة عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا أَبَدًا لَنَا. قَالَ: فَقَامَ الشَّيْخُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَامَ يُوسُفُ خَلْفَ أَبِيهِ، وَقَامُوا خَلْفَهُمَا أذلَّة خَاشِعِينَ. قَالَ: فَدَعَا وأمَّن يُوسُفُ، فَلَمْ يُجبْ فِيهِمْ عِشْرِينَ سَنَةً -قَالَ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ [[في ت: المزى".]] يُخِيفُهُمْ -قَالَ: حَتَّى إِذَا كَانَ رَأْسُ الْعِشْرِينَ نَزَلَ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَلَى يَعْقُوبَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكَ أُبَشِّرُكَ بِأَنَّهُ قَدْ أَجَابَ دَعْوَتَكَ فِي وَلَدِكَ، وَأَنَّهُ قد عفا عما صَنَعُوا، وَأَنَّهُ قَدِ اعْتَقَدَ مَوَاثِيقَهُمْ مِنْ بَعْدِكَ عَلَى النُّبُوَّةِ [[تفسير الطبري (١٦/٢٨١) .]] .
هَذَا الْأَثَرُ مَوْقُوفٌ عَنْ أَنَسٍ، وَيَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ وَصَالِحٌ الْمُرِّيُّ [[في ت: "المزي".]] ضَعِيفَانِ جَدًّا.
وَذَكَرَ السُّدِّيُّ: أَنَّ يَعْقُوبَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، أَوْصَى إِلَى يُوسُفَ بِأَنْ يُدْفَنَ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ، فَلَمَّا مَاتَ صَبَّره وَأَرْسَلَهُ إِلَى الشَّامِ، فَدُفِنَ عِنْدُهُمَا، عَلَيْهِمُ [[في ت: "عليهما".]] السَّلَامُ.
ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوٓا۟ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ
That is from the news of the unseen which We reveal, [O Muhammad], to you. And you were not with them when they put together their plan while they conspired.
(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے
این از خبرهای غیب است که به تو وحی میفرستیم! تو (هرگز) نزد آنها نبودی هنگامی که تصمیم میگرفتند و نقشه میکشیدند!
Tafsir Ibn Kathir
That is of the news of the Ghayb (Unseen) which We reveal to you. You were not (present) with them when they arranged their plan together, and (while) they were plotting (102)And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly (103)And no reward you ask of them for it; it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the 'Alamin (men and Jinn)(104)
This Story is a Revelation from Allah
Allah narrated to Muhammad, peace be upon him, the story of Yusuf and his brothers and how Allah raised him over them, giving him the better end, triumph, the sovereignty and wisdom (i.e., prophethood), even though they tried to harm and kill him. Allah said, 'This and similar stories are part of the unseen incidents of the past, O Muhammad,
نُوحِيهِ إِلَيْكَ
(which We reveal to you.) and inform you of, O Muhammad, because it carries a lesson, for you to draw from and a reminder to those who defy you.' Allah said next,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ
(You were not (present) with them), you did not witness their conference nor saw them,
إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ
(when they arranged their plan together,) to throw Yusuf into the well,
وَهُمْ يَمْكُرُونَ
(and (while) they were plotting) against him. We taught you all this through Our Revelation which We sent down to you.' Allah said in other Ayat,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ
(You were not with them, when they cast lots with their pens..)[3:44] and,
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ
(And you were not on the western side, when We made clear to Musa the commandment...)[28:44] until,
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا
(And you were not at the side of the Tur when We did call.)[28:46] Allah also said,
وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا
(And you were not a dweller among the people of Madyan, reciting Our verses to them.)[28:45] Allah states that Muhammad is His Messenger and that He has taught him the news of what occurred in the past, which carry lessons for people to draw from, so that they acquire their safety in their religious affairs as well as their worldly affairs. Yet, most people did not and will not believe, so Allah said,
وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) Allah said in similar Ayat,
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path)[6:116], and,
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers.)[26:8] Allah said next,
وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(And no reward you ask of them for it;) Allah says, 'You, O Muhammad, do not ask them in return for this advice and your call to all that is good and righteous, for any price or compensation for delivering it. Rather, you do so seeking Allah's Face and to deliver good and sincere advice to His creatures,
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
(it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the 'Alamin (men and Jinn)) with which they remember, receive guidance and save themselves in this life and the Hereafter.'
Tafsir Ibn Kathir
حضرت یوسف ؑ کا تمام و کمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہوگئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے حضرت مریم ؑ کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ حضرت موسیٰ کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کہول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ01106) 6۔ الانعام :116) اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے مخلوق کے نفع کے لئے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لئے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى لِعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، لَمَّا قَصَّ عَلَيْهِ نَبَأَ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَكَيْفَ رَفَعَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، وَجَعَلَ لَهُ الْعَاقِبَةَ وَالنَّصْرَ وَالْمُلْكَ وَالْحُكْمَ، مَعَ مَا أَرَادُوا بِهِ مِنَ السُّوءِ وَالْهَلَاكِ وَالْإِعْدَامِ: هَذَا وَأَمْثَالُهُ يَا مُحَمَّدُ مِنْ أَخْبَارِ الْغُيُوبِ السَّابِقَةِ، ﴿نُوحِيهِ إِلَيْكَ﴾ وَنُعْلِمُكَ بِهِ لِمَا فِيهِ مِنَ الْعِبْرَةِ لَكَ وَالِاتِّعَاظِ لِمَنْ خَالَفَكَ، ﴿وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ﴾ حَاضِرًا عِنْدَهُمْ وَلَا مُشَاهِدًا لَهُمْ ﴿إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ﴾ أَيْ: عَلَى إِلْقَائِهِ فِي الْجُبِّ، ﴿وَهُمْ يَمْكُرُونَ﴾ بِهِ، وَلَكِنَّا أَعْلَمْنَاكَ بِهِ وَحْيًّا إِلَيْكَ، وَإِنْزَالًا عَلَيْكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ٤٤] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَى مُوسَى الأمْرَ وَمَا كُنْتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٤٤] إِلَى أَنْ قَالَ: ﴿وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَكِنْ رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ﴾ [الْقَصَصِ: ٤٦] وَقَالَ ﴿وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٤٥] وَقَالَ ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلإ الأعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ إِنْ يُوحَى إِلَيَّ إِلا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِ﴾ [ص: ٦٩، ٧٠]
يُقَرِّرُ تَعَالَى أَنَّهُ رَسُولُهُ، وَأَنَّهُ قَدْ أَطْلَعَهُ عَلَى أَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ مِمَّا فِيهِ عِبْرَةٌ لِلنَّاسِ وَنَجَاةٌ لَهُمْ فِي دِينِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ؛ وَمَعَ هَذَا مَا آمَنَ أَكْثَرُ النَّاسِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ وَقَالَ ﴿وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الأرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١١٦] إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ﴾ أَيْ: وَمَا تَسْأَلُهُمْ يَا مُحَمَّدُ عَلَى هَذَا النُّصْحِ وَالدُّعَاءِ إِلَى الْخَيْرِ وَالرُّشْدِ مَنْ أَجْرٍ، أَيْ: مِنْ جُعَالة وَلَا أُجْرَةٍ عَلَى ذَلِكَ، بَلْ تَفْعَلُهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، وَنُصْحًا لِخَلْقِهِ.
﴿إِنْ هُوَ إِلا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: يَتَذَكَّرُونَ بِهِ وَيَهْتَدُونَ، وَيَنْجُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
وَمَآ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
And most of the people, although you strive [for it], are not believers.
اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں
و بیشتر مردم، هر چند اصرار داشته باشی، ایمان نمیآورند!
Tafsir Ibn Kathir
That is of the news of the Ghayb (Unseen) which We reveal to you. You were not (present) with them when they arranged their plan together, and (while) they were plotting (102)And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly (103)And no reward you ask of them for it; it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the 'Alamin (men and Jinn)(104)
This Story is a Revelation from Allah
Allah narrated to Muhammad, peace be upon him, the story of Yusuf and his brothers and how Allah raised him over them, giving him the better end, triumph, the sovereignty and wisdom (i.e., prophethood), even though they tried to harm and kill him. Allah said, 'This and similar stories are part of the unseen incidents of the past, O Muhammad,
نُوحِيهِ إِلَيْكَ
(which We reveal to you.) and inform you of, O Muhammad, because it carries a lesson, for you to draw from and a reminder to those who defy you.' Allah said next,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ
(You were not (present) with them), you did not witness their conference nor saw them,
إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ
(when they arranged their plan together,) to throw Yusuf into the well,
وَهُمْ يَمْكُرُونَ
(and (while) they were plotting) against him. We taught you all this through Our Revelation which We sent down to you.' Allah said in other Ayat,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ
(You were not with them, when they cast lots with their pens..)[3:44] and,
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ
(And you were not on the western side, when We made clear to Musa the commandment...)[28:44] until,
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا
(And you were not at the side of the Tur when We did call.)[28:46] Allah also said,
وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا
(And you were not a dweller among the people of Madyan, reciting Our verses to them.)[28:45] Allah states that Muhammad is His Messenger and that He has taught him the news of what occurred in the past, which carry lessons for people to draw from, so that they acquire their safety in their religious affairs as well as their worldly affairs. Yet, most people did not and will not believe, so Allah said,
وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) Allah said in similar Ayat,
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path)[6:116], and,
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers.)[26:8] Allah said next,
وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(And no reward you ask of them for it;) Allah says, 'You, O Muhammad, do not ask them in return for this advice and your call to all that is good and righteous, for any price or compensation for delivering it. Rather, you do so seeking Allah's Face and to deliver good and sincere advice to His creatures,
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
(it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the 'Alamin (men and Jinn)) with which they remember, receive guidance and save themselves in this life and the Hereafter.'
Tafsir Ibn Kathir
حضرت یوسف ؑ کا تمام و کمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہوگئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے حضرت مریم ؑ کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ حضرت موسیٰ کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کہول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ01106) 6۔ الانعام :116) اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے مخلوق کے نفع کے لئے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لئے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى لِعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، لَمَّا قَصَّ عَلَيْهِ نَبَأَ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَكَيْفَ رَفَعَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، وَجَعَلَ لَهُ الْعَاقِبَةَ وَالنَّصْرَ وَالْمُلْكَ وَالْحُكْمَ، مَعَ مَا أَرَادُوا بِهِ مِنَ السُّوءِ وَالْهَلَاكِ وَالْإِعْدَامِ: هَذَا وَأَمْثَالُهُ يَا مُحَمَّدُ مِنْ أَخْبَارِ الْغُيُوبِ السَّابِقَةِ، ﴿نُوحِيهِ إِلَيْكَ﴾ وَنُعْلِمُكَ بِهِ لِمَا فِيهِ مِنَ الْعِبْرَةِ لَكَ وَالِاتِّعَاظِ لِمَنْ خَالَفَكَ، ﴿وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ﴾ حَاضِرًا عِنْدَهُمْ وَلَا مُشَاهِدًا لَهُمْ ﴿إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ﴾ أَيْ: عَلَى إِلْقَائِهِ فِي الْجُبِّ، ﴿وَهُمْ يَمْكُرُونَ﴾ بِهِ، وَلَكِنَّا أَعْلَمْنَاكَ بِهِ وَحْيًّا إِلَيْكَ، وَإِنْزَالًا عَلَيْكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ٤٤] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَى مُوسَى الأمْرَ وَمَا كُنْتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٤٤] إِلَى أَنْ قَالَ: ﴿وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَكِنْ رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ﴾ [الْقَصَصِ: ٤٦] وَقَالَ ﴿وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٤٥] وَقَالَ ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلإ الأعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ إِنْ يُوحَى إِلَيَّ إِلا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِ﴾ [ص: ٦٩، ٧٠]
يُقَرِّرُ تَعَالَى أَنَّهُ رَسُولُهُ، وَأَنَّهُ قَدْ أَطْلَعَهُ عَلَى أَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ مِمَّا فِيهِ عِبْرَةٌ لِلنَّاسِ وَنَجَاةٌ لَهُمْ فِي دِينِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ؛ وَمَعَ هَذَا مَا آمَنَ أَكْثَرُ النَّاسِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ وَقَالَ ﴿وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الأرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١١٦] إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ﴾ أَيْ: وَمَا تَسْأَلُهُمْ يَا مُحَمَّدُ عَلَى هَذَا النُّصْحِ وَالدُّعَاءِ إِلَى الْخَيْرِ وَالرُّشْدِ مَنْ أَجْرٍ، أَيْ: مِنْ جُعَالة وَلَا أُجْرَةٍ عَلَى ذَلِكَ، بَلْ تَفْعَلُهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، وَنُصْحًا لِخَلْقِهِ.
﴿إِنْ هُوَ إِلا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: يَتَذَكَّرُونَ بِهِ وَيَهْتَدُونَ، وَيَنْجُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
وَمَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ لِّلْعَٰلَمِينَ
And you do not ask of them for it any payment. It is not except a reminder to the worlds.
اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے
و تو (هرگز) از آنها پاداشی نمیطلبی؛ آن نیست مگر تذکّری برای جهانیان!
Tafsir Ibn Kathir
That is of the news of the Ghayb (Unseen) which We reveal to you. You were not (present) with them when they arranged their plan together, and (while) they were plotting (102)And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly (103)And no reward you ask of them for it; it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the 'Alamin (men and Jinn)(104)
This Story is a Revelation from Allah
Allah narrated to Muhammad, peace be upon him, the story of Yusuf and his brothers and how Allah raised him over them, giving him the better end, triumph, the sovereignty and wisdom (i.e., prophethood), even though they tried to harm and kill him. Allah said, 'This and similar stories are part of the unseen incidents of the past, O Muhammad,
نُوحِيهِ إِلَيْكَ
(which We reveal to you.) and inform you of, O Muhammad, because it carries a lesson, for you to draw from and a reminder to those who defy you.' Allah said next,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ
(You were not (present) with them), you did not witness their conference nor saw them,
إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ
(when they arranged their plan together,) to throw Yusuf into the well,
وَهُمْ يَمْكُرُونَ
(and (while) they were plotting) against him. We taught you all this through Our Revelation which We sent down to you.' Allah said in other Ayat,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ
(You were not with them, when they cast lots with their pens..)[3:44] and,
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ
(And you were not on the western side, when We made clear to Musa the commandment...)[28:44] until,
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا
(And you were not at the side of the Tur when We did call.)[28:46] Allah also said,
وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا
(And you were not a dweller among the people of Madyan, reciting Our verses to them.)[28:45] Allah states that Muhammad is His Messenger and that He has taught him the news of what occurred in the past, which carry lessons for people to draw from, so that they acquire their safety in their religious affairs as well as their worldly affairs. Yet, most people did not and will not believe, so Allah said,
وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) Allah said in similar Ayat,
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path)[6:116], and,
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers.)[26:8] Allah said next,
وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(And no reward you ask of them for it;) Allah says, 'You, O Muhammad, do not ask them in return for this advice and your call to all that is good and righteous, for any price or compensation for delivering it. Rather, you do so seeking Allah's Face and to deliver good and sincere advice to His creatures,
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
(it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the 'Alamin (men and Jinn)) with which they remember, receive guidance and save themselves in this life and the Hereafter.'
Tafsir Ibn Kathir
حضرت یوسف ؑ کا تمام و کمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہوگئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے حضرت مریم ؑ کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ حضرت موسیٰ کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کہول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ01106) 6۔ الانعام :116) اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے مخلوق کے نفع کے لئے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لئے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى لِعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، لَمَّا قَصَّ عَلَيْهِ نَبَأَ إِخْوَةِ يُوسُفَ، وَكَيْفَ رَفَعَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، وَجَعَلَ لَهُ الْعَاقِبَةَ وَالنَّصْرَ وَالْمُلْكَ وَالْحُكْمَ، مَعَ مَا أَرَادُوا بِهِ مِنَ السُّوءِ وَالْهَلَاكِ وَالْإِعْدَامِ: هَذَا وَأَمْثَالُهُ يَا مُحَمَّدُ مِنْ أَخْبَارِ الْغُيُوبِ السَّابِقَةِ، ﴿نُوحِيهِ إِلَيْكَ﴾ وَنُعْلِمُكَ بِهِ لِمَا فِيهِ مِنَ الْعِبْرَةِ لَكَ وَالِاتِّعَاظِ لِمَنْ خَالَفَكَ، ﴿وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ﴾ حَاضِرًا عِنْدَهُمْ وَلَا مُشَاهِدًا لَهُمْ ﴿إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ﴾ أَيْ: عَلَى إِلْقَائِهِ فِي الْجُبِّ، ﴿وَهُمْ يَمْكُرُونَ﴾ بِهِ، وَلَكِنَّا أَعْلَمْنَاكَ بِهِ وَحْيًّا إِلَيْكَ، وَإِنْزَالًا عَلَيْكَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ٤٤] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَى مُوسَى الأمْرَ وَمَا كُنْتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٤٤] إِلَى أَنْ قَالَ: ﴿وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَكِنْ رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ﴾ [الْقَصَصِ: ٤٦] وَقَالَ ﴿وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ﴾ [الْقَصَصِ: ٤٥] وَقَالَ ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلإ الأعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ إِنْ يُوحَى إِلَيَّ إِلا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِ﴾ [ص: ٦٩، ٧٠]
يُقَرِّرُ تَعَالَى أَنَّهُ رَسُولُهُ، وَأَنَّهُ قَدْ أَطْلَعَهُ عَلَى أَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ مِمَّا فِيهِ عِبْرَةٌ لِلنَّاسِ وَنَجَاةٌ لَهُمْ فِي دِينِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ؛ وَمَعَ هَذَا مَا آمَنَ أَكْثَرُ النَّاسِ؛ وَلِهَذَا قَالَ: ﴿وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ﴾ وَقَالَ ﴿وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الأرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [الْأَنْعَامِ: ١١٦] إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ﴾ أَيْ: وَمَا تَسْأَلُهُمْ يَا مُحَمَّدُ عَلَى هَذَا النُّصْحِ وَالدُّعَاءِ إِلَى الْخَيْرِ وَالرُّشْدِ مَنْ أَجْرٍ، أَيْ: مِنْ جُعَالة وَلَا أُجْرَةٍ عَلَى ذَلِكَ، بَلْ تَفْعَلُهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، وَنُصْحًا لِخَلْقِهِ.
﴿إِنْ هُوَ إِلا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ﴾ أَيْ: يَتَذَكَّرُونَ بِهِ وَيَهْتَدُونَ، وَيَنْجُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
وَكَأَيِّن مِّنْ ءَايَةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
And how many a sign within the heavens and earth do they pass over while they, therefrom, are turning away.
اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں
و چه بسیار نشانهای (از خدا) در آسمانها و زمین که آنها از کنارش میگذرند، و از آن رویگردانند!
Tafsir Ibn Kathir
And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom (105)And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him (106)Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah, or of the coming against them of the (Final) Hour, all of a sudden while they perceive not (107)
People neglect to ponder the Signs before Them
Allah states that most people do not think about His signs and proofs of His Oneness that He created in the heavens and earth. Allah created brilliant stars and rotating heavenly objects and planets, all made subservient. There are many plots of fertile land next to each other on earth, and gardens, solid mountains, lively oceans, with their waves smashing against each other, and spacious deserts. There are many live creatures and others that have died; and animals, plants and fruits that are similar in shape, but different in taste, scent, color and attributes. All praise is due to Allah the One and Only, Who created all types of creations, Who Alone will remain and last forever. It is He Who is unique in His Names and Attributes. Allah said next,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) Ibn 'Abbas commented, "They have a part of faith, for when they are asked, 'Who created the heavens? Who created the earth? Who created the mountains?' They say, 'Allah did.' Yet, they associate others with Him in worship." Similar is said by Mujahid, 'Ata, 'Ikrimah, Ash-Sha'bi, Qatadah, Ad-Dahhak and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. In the Sahih, it is recorded that during the Hajj season, the idolators used to say in their Talbiyah: "Here we rush to Your service. You have no partners with You, except a partner with You whom You own but he owns not!" Allah said in another Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.)[31:13] This indeed is the greatest type of Shirk, associating others with Allah in worship. It is recorded in the Two Sahihs that 'Abdullah bin Mas'ud said, "I said, 'O Allah's Messenger! What is the greatest sin?' He said,
أَنْ تَجْعَلَ للهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ
(That you call a rival to Allah while He alone created you.)" Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) "This is the hypocrite; if he performs good deeds, he does so to show off with the people, and he is an idolator while doing this." Al-Hasan was referring to Allah's statement,
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا
(Verily, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is He Who deceives them. And when they stand up for As-Salah, they stand with laziness and to be seen of men, and they do not remember Allah but little.)[4:142] There is another type of hidden Shirk that most people are unaware of. Hammad bin Salamah narrated that 'Asim bin Abi An-Najud said that 'Urwah said, "Hudhayfah visited an ill man and saw a rope tied around his arm, so he ripped it off while reciting,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) In a Hadith, from Ibn 'Umar collected by At-Tirmidhi who said it was Hasan, the Prophet ﷺ said,
مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ أَشْرَكَ
(He who swears by other than Allah, commits Shirk.) Imam Ahmad, Abu Dawud and other scholars of Hadith narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ
(Verily, Ar-Ruqa, At-Tama'im and At-Tiwalah are all acts of Shirk.) In another narration collected by Ahmad and Abu Dawud, the Prophet ﷺ said,
الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ
(Verily, At-Tiyarah [omen] is Shirk; everyone might feel a glimpse of it, but Allah dissipates it with Tawakkul.)" Allah said next,
أَفَأَمِنُوا أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ
(Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah?) Allah asks, 'Do these idolators who associate others with Allah in the worship, feel secure from the coming of an encompassing torment from where they perceive not?' Allah said in other 'Ayat,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not? Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them (from Allah's punishment)? Or that He may catch them with gradual wasting (of their wealth and health)? Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful.)[16:45-47] and,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ - أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing? Did they then feel secure against the plan of Allah None feels secure from the plan of Allah? except the people who are the losers.)[7:97-99]
Tafsir Ibn Kathir
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہوجائیں ؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الہٰی تیرا کوئی شریک نہیں تو آنحضرت ﷺ فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری ومسلم میں ہے ابن مسعود ؓ نے رسالت پناہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چناچہ حضرت حذیفہ ؓ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو ؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہوگیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توکل کے باعث سب سختیوں سے دور کردیتا ہے۔ (ابو داؤد وغیرہ) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایس حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چار پائی تلے چھپا دیا آپ آئے میرے پاس میری چار پائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بےنیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویدات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھارا کردیتا تھا تو سکون ہوجاتا تھا، آپ نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ وہ کہتی جو رسول اللہ ﷺ نے سکھایا ہے دعا (اذھب الباس رب الناس اشف وانت الشاف لا شفاء الا شفاوک شفاء لا یغدر سقما) (مسند احمد) مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لئے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ مسند میں ہے جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمام شریکوں سے زیادہ بےنیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ (مسلم) مسنند میں ہے قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کرلے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بےنیاز ہے۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کرو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لئے تم نے عمل کئے تھے، انہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں ؟ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں جو شخص کوئی بد شگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہوگیا۔ صحابہ ؑ نے دریافت کیا حضور ﷺ پھر اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہنا دعا (اللہم لا خیر الا خیرک ولا طیر الا طیرک ولا الہ غیرک) یعنی اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر حضرت عبداللہ بن حرب اور حضرت قیس بن مصابب کھڑے ہوگئے اور کہا یا تو آپ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور حضرت عمر ؓ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں آنحضرت ﷺ نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا لوگو ! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو دعا (اللہم انا نعوذ بک ان نشرک بک شیئا تعلمہ ونستغفرک مما لا نعلم)ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت (اللہم انی اعوذ بک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک مما لا اعلم (مسند ابو یعلی) ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ دعا (اللہم فاطر السموت والارض عالم الغیب الشہادۃ رب کل شئی وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذ بک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشر کہ)ایک روایت میں ہے کہ مجھے حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں دعا (وان اقترف علی نفسی سوا او اجرہ الی مسلم۔)فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الہٰی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45ۙ) 16۔ النحل :45) یعنی مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت ورافت ہے کہ گنا کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے کہ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بےخطرے ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آجائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بےخوف نہ ہونا چاہئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ [غَفْلَةِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَكْثَرِ النَّاسِ عَنِ التَّفَكُّرِ فِي آيَاتِ اللَّهِ وَدَلَائِلِ تَوْحِيدِهِ، بِمَا خَلَقَهُ اللَّهُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ مِنْ كَوَاكِبَ زَاهِرَاتٍ ثَوَابِتَ، وَسَيَّارَاتٍ وَأَفْلَاكٍ دَائِرَاتٍ، وَالْجَمِيعُ مُسَخَّرَاتٌ، وَكَمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ قِطَعٍ مُتَجَاوِرَاتٍ وَحَدَائِقَ وَجَنَّاتٍ وَجِبَالٍ رَاسِيَاتٍ، وَبِحَارٍ زَاخِرَاتٍ، وَأَمْوَاجٍ مُتَلَاطِمَاتٍ، وَقِفَارٍ شَاسِعَاتٍ، وَكَمْ مِنْ أَحْيَاءٍ وَأَمْوَاتٍ، وَحَيَوَانٍ وَنَبَاتٍ، وَثَمَرَاتٍ مُتَشَابِهَةٍ وَمُخْتَلِفَاتٍ، فِي الطُّعُومِ وَالرَّوَائِحِ وَالْأَلْوَانِ وَالصِّفَاتِ، فَسُبْحَانَ الْوَاحِدِ الْأَحَدِ، خَالِقِ أَنْوَاعِ الْمَخْلُوقَاتِ، الْمُتَفَرِّدِ بِالدَّوَامِ وَالْبَقَاءِ وَالصَّمَدِيَّةِ ذِي الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ.
وَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مِنْ إِيمَانِهِمْ، إِذَا قِيلَ لَهُمْ: مَنْ خَلَقَ السَّمَوَاتِ؟ وَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ وَمَنْ خَلَقَ الْجِبَالِ؟ قَالُوا: "اللَّهُ"، وَهُمْ مُشْرِكُونَ بِهِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعَطَاءٌ وَعِكْرِمَةُ، وَالشَّعْبِيُّ، وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
وَهَكَذَا فِي الصَّحِيحَيْنِ [[في ت، أ: "في صحيح مسلم".]] أَنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا يَقُولُونَ فِي تَلْبِيَتِهِمْ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ. وَفِي الصَّحِيحِ: أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قَالُوا: "لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ" يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "قَدْ قَدْ"، أَيْ حَسْبُ حَسْبُ، لَا تَزِيدُوا عَلَى هَذَا [[صحيح مسلم برقم (١١٨٥/٢٢) .]] .
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [لُقْمَانَ: ١٣] وَهَذَا هُوَ الشِّرْكُ الْأَعْظَمُ الَّذِي يَعْبُدُ مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، كَمَا فِي الصَّحِيحَيْنِ. عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: "أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك" [[صحيح البخاري برقم (٤٤٧٧) وصحيح مسلم برقم (٦٨) .]] .
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾ قَالَ: ذَلِكَ الْمُنَافِقُ يَعْمَلُ إِذَا عَمِلَ رِيَاءَ النَّاسِ، وَهُوَ مُشْرِكٌ بِعَمَلِهِ ذَاكَ، يَعْنِي قَوْلَهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلا قَلِيلا﴾ [النِّسَاءِ: ١٤٢] .
وثمَّ شِرْكٌ آخَرُ خَفِيٌّ لَا يَشْعُرُ بِهِ غَالِبًا فَاعِلُهُ، كَمَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُود، عَنْ عُرْوَة قَالَ: دَخَلَ حُذَيْفَةُ عَلَى مَرِيضٍ، فَرَأَى فِي عَضُدِهِ سَيْرًا فَقَطَعَهُ -أَوِ: انْتَزَعَهُ -ثُمَّ قَالَ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾
وَفِي الْحَدِيثِ: "مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وحسنَّهَ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ [[سنن الترمذي برقم (١٥٣٥) .]]
وَفِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنُ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ الرُّقَى والتَّمائِم والتِّوَلة شرْك" [[المسند (١/٣٨١) وسنن أبي داود برقم (٣٨٨٣) ورواه ابن ماجه في السنن برقم (٣٥٣٠) .]] .
وَفِي لَفْظٍ لَهُمَا: " [الطيَرة شِرْكٌ] [[زيادة من ت، أ، والمسند وسنن أبي داود.]] وَمَا منَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ" [[المسند (١/٣٨٩) وسنن أبي داود برقم (٣٩١٠) .]] .
وَرَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بِأَبْسَطِ مِنْ هَذَا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرّة، عَنْ يَحْيَى الْجَزَّارِ [[في ت، أ: "يحيى بن الجزار".]] عَنِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ [عَنْ زَيْنَبَ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا جَاءَ مِنْ حَاجَةٍ فَانْتَهَى إِلَى الْبَابِ تَنَحْنَحَ [[في ت: "تنجيح".]] وَبَزَقَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَهْجُمَ مِنَّا عَلَى أَمْرٍ يَكْرَهُهُ، قَالَتْ: وَإِنَّهُ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَتَنَحْنَحَ وَعِنْدِي عَجُوزٌ تَرْقِينِي مِنَ الحُمْرَة فَأَدْخَلْتُهَا تَحْتَ السَّرِيرِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِي، فَرَأَى فِي عُنُقِي خَيْطًا، قَالَ: مَا هَذَا الْخَيْطُ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: خَيْطٌ رُقِى لِي فِيهِ. قَالَتْ: فَأَخَذَهُ فَقَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ آلَ عَبْدِ اللَّهِ لأغنياءٌ عَنِ الشِّرْكِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ والتِّوَلة شِرْكٌ". قَالَتْ، قُلْتُ لَهُ: لِمَ تَقُولُ هَذَا وَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ، فَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِيهَا، فَكَانَ إِذَا رَقَاهَا سَكَنَتْ؟ قَالَ: إِنَّمَا ذَاكَ مِنَ الشَّيْطَانِ. كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ، فَإِذَا رَقَيْتِهَا كَفَّ عَنْهَا: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" [[المسند (١/٣٨١) .]] .
وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ وَكِيع، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْم [[في ت: "حكيم".]] وَهُوَ مَرِيضٌ نَعُودُهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَعَلَّقت شَيْئًا؟ فَقَالَ: أَتَعَلَّقُ شَيْئًا! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ تَعَلَّق شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ" [[المسند (٤/٣١٠) ورواه الترمذي في السنن برقم (٢٠٧٢) من طريق عبد الرحمن بن أبي ليلى به، وقال الترمذي: "وحديث عبد الله بن حكيم إنما نعرفه من حديث عبد الرحمن بن أبي ليلى، وعبد الله بن حكيم لم يسمع النبي صلى الله عليه وسلم، وكان فِي زَمَنِ النَّبِيِّ ﷺ يقول: "كتب إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ".]] وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [[سنن النسائي (٧/١١٢) .]] .
وَفِي مُسْنَدِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، مِنْ حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ علَّق تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ" وَفِي رِوَايَةٍ: "مَنْ تَعَّلق تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ ودَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ" [[المسند (٤/١٥٦) وقال المنذري في الترغيب (٤/٣٠٧) : "رجاله ثقات".]]
وَعَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، وَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وشِرْكه". رَوَاهُ مُسْلِمٌ [[صحيح مسلم برقم (٢٩٨٥) .]] .
وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ، يُنَادِي مُنَادٍ: مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ [[المسند (٤/٢١٥) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا لَيْث، عَنْ يَزِيدَ -يَعْنِي: ابْنَ الْهَادِ -عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قال: "إن أخْوَف ما أخاف عليكم الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ". قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رسول الله؟ قال: "الرياء، يقول الله يوم القيامة إذا جزى الناس بأعمالهم: اذهبوا إلى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاءُونَ فِي الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً" [[المسند (٥/٤٢٨) وحسنه الحافظ ابن حجر في بلوغ المرام.]] .
وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيد، بِهِ [[رواه البغوي في شرح السنة (١٤/٣٣٣) من طريق عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ به.]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنٌ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعة، أَنْبَأَنَا ابْنُ هُبَيْرة، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحُبُلي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "من رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ عَنْ حَاجَةٍ، فَقَدْ أَشْرَكَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ [[في ت: "لا غير إلا غيرك".]] وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" [[المسند (٢/٢٢٠) ورواه ابن السنى في عمل اليوم والليلة (ص ٢٩٣) مِنْ طَرِيقِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ به، فصح الحديث بحمد الله.]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ العَرْزَمي، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ -رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَاهِلٍ -قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقَوْا هَذَا الشِّرْكَ، فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيب النَّمْلِ. فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَزْن وَقَيْسُ بْنُ الْمُضَارِبِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَتُخْرِجَنَّ [[في ت: "ليخرجن".]] مِمَّا قُلْتَ أَوْ لَنَأْتِيَنَّ عُمَرَ مَأْذُونًا لَنَا أَوْ غَيْرَ مَأْذُونٍ، قَالَ: بَلْ أخرج مما قلت، خطبنا رسول اللَّهِ ﷺ [ذَاتَ يَوْمٍ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقَوْا هَذَا الشِّرْكَ فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ". فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ: فَكَيْفَ نَتَّقِيهِ وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نُعُوذُ بِكَ [مِنْ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُهُ" [[المسند (٤/٤٠٣) .]] .
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَفِيهِ أَنَّ السَّائِلَ فِي ذَلِكَ هُوَ الصِّدِّيقُ، كَمَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمُوصِلِيُّ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ لَيْث بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مَعْقِل بْنِ يَسَار قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ ﷺ -أَوْ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "الشِّرْكُ أَخْفَى فِيكُمْ مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَلِ الشِّرْكُ إِلَّا مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ". ثُمَّ قَالَ: "أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا يُذهب عَنْكَ صَغِير ذَلِكَ وَكَبِيرَهُ؟ قُلِ: اللَّهُمَّ، أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا لَا أَعْلَمُ" [[مسند أبي يعلى (١/٦٢) ورواه ابن جريج عن ليث، عن أبي محمد، عن حذيفة نحوه، وأخرجه أبو يعلى في المسند (١/٦٠) وأبو محمد مجهول، وليث بن أبي سليم ضعيف.]] .
وَقَدْ رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "الشِّرْكُ أَخْفَى فِي أُمَّتِي مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا". قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ النَّجَاةُ وَالْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: "أَلَا أُخْبِرُكَ بِشَيْءٍ إِذَا قَلْتَهُ برئتَ مِنْ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ وَصَغِيرِهِ وَكَبِيرِهِ؟ ". قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "قُلِ: اللَّهُمَّ، إِنِّي أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ" [[ورواه أبو نعيم في الحلية (٧/١١٢) من طريق يحيى بن محمد البختري، عن شيبان بن فروخ به نحوه، وقال: "تفرد به عن الثوري يحيى بن كثير".]] .
قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ: "أَبُو النَّضْرِ"، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَصَحَّحَهُ، وَالنَّسَائِيُّ، مِنْ حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ [[في هـ، أ: "عاص" والمثبت من ت والمسند.]] سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أصبحتُ، وَإِذَا أمسيتُ، وَإِذَا أَخَذْتُ مَضْجَعِي. قَالَ: "قُلِ: اللَّهُمَّ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ" [[المسند (١/٩) وسنن أبي داود برقم (٥٠٦٧) وسنن الترمذي برقم (٣٣٩٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (٧٦٩١) .]] .
وَزَادَ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ لَهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثٍ مِنْ أَبِي سُلَيْمٍ، [عَنْ مجاهد] [[زيادة من ت، أ.]] عن أبي بكر الصديق قال: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ أَقُولَ. . . فَذَكَرَ هَذَا الدُّعَاءَ وَزَادَ فِي آخِرِهِ: "وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أجُرّه إِلَى مُسْلِمٍ" [[المسند (١/١٤) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَفَأَمِنُوا أَنْ تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ أَيْ: أَفَأَمِنَ هَؤُلَاءِ الْمُشْرِكُونَ [بِاللَّهِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَنْ يَأْتِيَهُمْ أَمْرٌ يَغْشَاهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الأرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ٤٥ -٤٧] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٩٧ -٩٩] .
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
And most of them believe not in Allah except while they associate others with Him.
اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں
و بیشتر آنها که مدعی ایمان به خدا هستند، مشرکند!
Tafsir Ibn Kathir
And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom (105)And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him (106)Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah, or of the coming against them of the (Final) Hour, all of a sudden while they perceive not (107)
People neglect to ponder the Signs before Them
Allah states that most people do not think about His signs and proofs of His Oneness that He created in the heavens and earth. Allah created brilliant stars and rotating heavenly objects and planets, all made subservient. There are many plots of fertile land next to each other on earth, and gardens, solid mountains, lively oceans, with their waves smashing against each other, and spacious deserts. There are many live creatures and others that have died; and animals, plants and fruits that are similar in shape, but different in taste, scent, color and attributes. All praise is due to Allah the One and Only, Who created all types of creations, Who Alone will remain and last forever. It is He Who is unique in His Names and Attributes. Allah said next,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) Ibn 'Abbas commented, "They have a part of faith, for when they are asked, 'Who created the heavens? Who created the earth? Who created the mountains?' They say, 'Allah did.' Yet, they associate others with Him in worship." Similar is said by Mujahid, 'Ata, 'Ikrimah, Ash-Sha'bi, Qatadah, Ad-Dahhak and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. In the Sahih, it is recorded that during the Hajj season, the idolators used to say in their Talbiyah: "Here we rush to Your service. You have no partners with You, except a partner with You whom You own but he owns not!" Allah said in another Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.)[31:13] This indeed is the greatest type of Shirk, associating others with Allah in worship. It is recorded in the Two Sahihs that 'Abdullah bin Mas'ud said, "I said, 'O Allah's Messenger! What is the greatest sin?' He said,
أَنْ تَجْعَلَ للهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ
(That you call a rival to Allah while He alone created you.)" Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) "This is the hypocrite; if he performs good deeds, he does so to show off with the people, and he is an idolator while doing this." Al-Hasan was referring to Allah's statement,
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا
(Verily, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is He Who deceives them. And when they stand up for As-Salah, they stand with laziness and to be seen of men, and they do not remember Allah but little.)[4:142] There is another type of hidden Shirk that most people are unaware of. Hammad bin Salamah narrated that 'Asim bin Abi An-Najud said that 'Urwah said, "Hudhayfah visited an ill man and saw a rope tied around his arm, so he ripped it off while reciting,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) In a Hadith, from Ibn 'Umar collected by At-Tirmidhi who said it was Hasan, the Prophet ﷺ said,
مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ أَشْرَكَ
(He who swears by other than Allah, commits Shirk.) Imam Ahmad, Abu Dawud and other scholars of Hadith narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ
(Verily, Ar-Ruqa, At-Tama'im and At-Tiwalah are all acts of Shirk.) In another narration collected by Ahmad and Abu Dawud, the Prophet ﷺ said,
الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ
(Verily, At-Tiyarah [omen] is Shirk; everyone might feel a glimpse of it, but Allah dissipates it with Tawakkul.)" Allah said next,
أَفَأَمِنُوا أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ
(Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah?) Allah asks, 'Do these idolators who associate others with Allah in the worship, feel secure from the coming of an encompassing torment from where they perceive not?' Allah said in other 'Ayat,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not? Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them (from Allah's punishment)? Or that He may catch them with gradual wasting (of their wealth and health)? Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful.)[16:45-47] and,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ - أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing? Did they then feel secure against the plan of Allah None feels secure from the plan of Allah? except the people who are the losers.)[7:97-99]
Tafsir Ibn Kathir
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہوجائیں ؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الہٰی تیرا کوئی شریک نہیں تو آنحضرت ﷺ فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری ومسلم میں ہے ابن مسعود ؓ نے رسالت پناہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چناچہ حضرت حذیفہ ؓ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو ؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہوگیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توکل کے باعث سب سختیوں سے دور کردیتا ہے۔ (ابو داؤد وغیرہ) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایس حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چار پائی تلے چھپا دیا آپ آئے میرے پاس میری چار پائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بےنیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویدات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھارا کردیتا تھا تو سکون ہوجاتا تھا، آپ نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ وہ کہتی جو رسول اللہ ﷺ نے سکھایا ہے دعا (اذھب الباس رب الناس اشف وانت الشاف لا شفاء الا شفاوک شفاء لا یغدر سقما) (مسند احمد) مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لئے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ مسند میں ہے جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمام شریکوں سے زیادہ بےنیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ (مسلم) مسنند میں ہے قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کرلے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بےنیاز ہے۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کرو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لئے تم نے عمل کئے تھے، انہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں ؟ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں جو شخص کوئی بد شگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہوگیا۔ صحابہ ؑ نے دریافت کیا حضور ﷺ پھر اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہنا دعا (اللہم لا خیر الا خیرک ولا طیر الا طیرک ولا الہ غیرک) یعنی اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر حضرت عبداللہ بن حرب اور حضرت قیس بن مصابب کھڑے ہوگئے اور کہا یا تو آپ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور حضرت عمر ؓ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں آنحضرت ﷺ نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا لوگو ! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو دعا (اللہم انا نعوذ بک ان نشرک بک شیئا تعلمہ ونستغفرک مما لا نعلم)ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت (اللہم انی اعوذ بک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک مما لا اعلم (مسند ابو یعلی) ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ دعا (اللہم فاطر السموت والارض عالم الغیب الشہادۃ رب کل شئی وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذ بک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشر کہ)ایک روایت میں ہے کہ مجھے حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں دعا (وان اقترف علی نفسی سوا او اجرہ الی مسلم۔)فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الہٰی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45ۙ) 16۔ النحل :45) یعنی مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت ورافت ہے کہ گنا کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے کہ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بےخطرے ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آجائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بےخوف نہ ہونا چاہئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ [غَفْلَةِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَكْثَرِ النَّاسِ عَنِ التَّفَكُّرِ فِي آيَاتِ اللَّهِ وَدَلَائِلِ تَوْحِيدِهِ، بِمَا خَلَقَهُ اللَّهُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ مِنْ كَوَاكِبَ زَاهِرَاتٍ ثَوَابِتَ، وَسَيَّارَاتٍ وَأَفْلَاكٍ دَائِرَاتٍ، وَالْجَمِيعُ مُسَخَّرَاتٌ، وَكَمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ قِطَعٍ مُتَجَاوِرَاتٍ وَحَدَائِقَ وَجَنَّاتٍ وَجِبَالٍ رَاسِيَاتٍ، وَبِحَارٍ زَاخِرَاتٍ، وَأَمْوَاجٍ مُتَلَاطِمَاتٍ، وَقِفَارٍ شَاسِعَاتٍ، وَكَمْ مِنْ أَحْيَاءٍ وَأَمْوَاتٍ، وَحَيَوَانٍ وَنَبَاتٍ، وَثَمَرَاتٍ مُتَشَابِهَةٍ وَمُخْتَلِفَاتٍ، فِي الطُّعُومِ وَالرَّوَائِحِ وَالْأَلْوَانِ وَالصِّفَاتِ، فَسُبْحَانَ الْوَاحِدِ الْأَحَدِ، خَالِقِ أَنْوَاعِ الْمَخْلُوقَاتِ، الْمُتَفَرِّدِ بِالدَّوَامِ وَالْبَقَاءِ وَالصَّمَدِيَّةِ ذِي الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ.
وَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مِنْ إِيمَانِهِمْ، إِذَا قِيلَ لَهُمْ: مَنْ خَلَقَ السَّمَوَاتِ؟ وَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ وَمَنْ خَلَقَ الْجِبَالِ؟ قَالُوا: "اللَّهُ"، وَهُمْ مُشْرِكُونَ بِهِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعَطَاءٌ وَعِكْرِمَةُ، وَالشَّعْبِيُّ، وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
وَهَكَذَا فِي الصَّحِيحَيْنِ [[في ت، أ: "في صحيح مسلم".]] أَنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا يَقُولُونَ فِي تَلْبِيَتِهِمْ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ. وَفِي الصَّحِيحِ: أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قَالُوا: "لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ" يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "قَدْ قَدْ"، أَيْ حَسْبُ حَسْبُ، لَا تَزِيدُوا عَلَى هَذَا [[صحيح مسلم برقم (١١٨٥/٢٢) .]] .
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [لُقْمَانَ: ١٣] وَهَذَا هُوَ الشِّرْكُ الْأَعْظَمُ الَّذِي يَعْبُدُ مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، كَمَا فِي الصَّحِيحَيْنِ. عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: "أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك" [[صحيح البخاري برقم (٤٤٧٧) وصحيح مسلم برقم (٦٨) .]] .
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾ قَالَ: ذَلِكَ الْمُنَافِقُ يَعْمَلُ إِذَا عَمِلَ رِيَاءَ النَّاسِ، وَهُوَ مُشْرِكٌ بِعَمَلِهِ ذَاكَ، يَعْنِي قَوْلَهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلا قَلِيلا﴾ [النِّسَاءِ: ١٤٢] .
وثمَّ شِرْكٌ آخَرُ خَفِيٌّ لَا يَشْعُرُ بِهِ غَالِبًا فَاعِلُهُ، كَمَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُود، عَنْ عُرْوَة قَالَ: دَخَلَ حُذَيْفَةُ عَلَى مَرِيضٍ، فَرَأَى فِي عَضُدِهِ سَيْرًا فَقَطَعَهُ -أَوِ: انْتَزَعَهُ -ثُمَّ قَالَ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾
وَفِي الْحَدِيثِ: "مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وحسنَّهَ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ [[سنن الترمذي برقم (١٥٣٥) .]]
وَفِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنُ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ الرُّقَى والتَّمائِم والتِّوَلة شرْك" [[المسند (١/٣٨١) وسنن أبي داود برقم (٣٨٨٣) ورواه ابن ماجه في السنن برقم (٣٥٣٠) .]] .
وَفِي لَفْظٍ لَهُمَا: " [الطيَرة شِرْكٌ] [[زيادة من ت، أ، والمسند وسنن أبي داود.]] وَمَا منَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ" [[المسند (١/٣٨٩) وسنن أبي داود برقم (٣٩١٠) .]] .
وَرَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بِأَبْسَطِ مِنْ هَذَا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرّة، عَنْ يَحْيَى الْجَزَّارِ [[في ت، أ: "يحيى بن الجزار".]] عَنِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ [عَنْ زَيْنَبَ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا جَاءَ مِنْ حَاجَةٍ فَانْتَهَى إِلَى الْبَابِ تَنَحْنَحَ [[في ت: "تنجيح".]] وَبَزَقَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَهْجُمَ مِنَّا عَلَى أَمْرٍ يَكْرَهُهُ، قَالَتْ: وَإِنَّهُ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَتَنَحْنَحَ وَعِنْدِي عَجُوزٌ تَرْقِينِي مِنَ الحُمْرَة فَأَدْخَلْتُهَا تَحْتَ السَّرِيرِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِي، فَرَأَى فِي عُنُقِي خَيْطًا، قَالَ: مَا هَذَا الْخَيْطُ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: خَيْطٌ رُقِى لِي فِيهِ. قَالَتْ: فَأَخَذَهُ فَقَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ آلَ عَبْدِ اللَّهِ لأغنياءٌ عَنِ الشِّرْكِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ والتِّوَلة شِرْكٌ". قَالَتْ، قُلْتُ لَهُ: لِمَ تَقُولُ هَذَا وَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ، فَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِيهَا، فَكَانَ إِذَا رَقَاهَا سَكَنَتْ؟ قَالَ: إِنَّمَا ذَاكَ مِنَ الشَّيْطَانِ. كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ، فَإِذَا رَقَيْتِهَا كَفَّ عَنْهَا: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" [[المسند (١/٣٨١) .]] .
وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ وَكِيع، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْم [[في ت: "حكيم".]] وَهُوَ مَرِيضٌ نَعُودُهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَعَلَّقت شَيْئًا؟ فَقَالَ: أَتَعَلَّقُ شَيْئًا! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ تَعَلَّق شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ" [[المسند (٤/٣١٠) ورواه الترمذي في السنن برقم (٢٠٧٢) من طريق عبد الرحمن بن أبي ليلى به، وقال الترمذي: "وحديث عبد الله بن حكيم إنما نعرفه من حديث عبد الرحمن بن أبي ليلى، وعبد الله بن حكيم لم يسمع النبي صلى الله عليه وسلم، وكان فِي زَمَنِ النَّبِيِّ ﷺ يقول: "كتب إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ".]] وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [[سنن النسائي (٧/١١٢) .]] .
وَفِي مُسْنَدِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، مِنْ حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ علَّق تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ" وَفِي رِوَايَةٍ: "مَنْ تَعَّلق تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ ودَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ" [[المسند (٤/١٥٦) وقال المنذري في الترغيب (٤/٣٠٧) : "رجاله ثقات".]]
وَعَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، وَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وشِرْكه". رَوَاهُ مُسْلِمٌ [[صحيح مسلم برقم (٢٩٨٥) .]] .
وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ، يُنَادِي مُنَادٍ: مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ [[المسند (٤/٢١٥) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا لَيْث، عَنْ يَزِيدَ -يَعْنِي: ابْنَ الْهَادِ -عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قال: "إن أخْوَف ما أخاف عليكم الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ". قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رسول الله؟ قال: "الرياء، يقول الله يوم القيامة إذا جزى الناس بأعمالهم: اذهبوا إلى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاءُونَ فِي الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً" [[المسند (٥/٤٢٨) وحسنه الحافظ ابن حجر في بلوغ المرام.]] .
وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيد، بِهِ [[رواه البغوي في شرح السنة (١٤/٣٣٣) من طريق عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ به.]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنٌ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعة، أَنْبَأَنَا ابْنُ هُبَيْرة، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحُبُلي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "من رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ عَنْ حَاجَةٍ، فَقَدْ أَشْرَكَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ [[في ت: "لا غير إلا غيرك".]] وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" [[المسند (٢/٢٢٠) ورواه ابن السنى في عمل اليوم والليلة (ص ٢٩٣) مِنْ طَرِيقِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ به، فصح الحديث بحمد الله.]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ العَرْزَمي، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ -رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَاهِلٍ -قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقَوْا هَذَا الشِّرْكَ، فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيب النَّمْلِ. فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَزْن وَقَيْسُ بْنُ الْمُضَارِبِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَتُخْرِجَنَّ [[في ت: "ليخرجن".]] مِمَّا قُلْتَ أَوْ لَنَأْتِيَنَّ عُمَرَ مَأْذُونًا لَنَا أَوْ غَيْرَ مَأْذُونٍ، قَالَ: بَلْ أخرج مما قلت، خطبنا رسول اللَّهِ ﷺ [ذَاتَ يَوْمٍ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقَوْا هَذَا الشِّرْكَ فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ". فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ: فَكَيْفَ نَتَّقِيهِ وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نُعُوذُ بِكَ [مِنْ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُهُ" [[المسند (٤/٤٠٣) .]] .
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَفِيهِ أَنَّ السَّائِلَ فِي ذَلِكَ هُوَ الصِّدِّيقُ، كَمَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمُوصِلِيُّ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ لَيْث بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مَعْقِل بْنِ يَسَار قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ ﷺ -أَوْ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "الشِّرْكُ أَخْفَى فِيكُمْ مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَلِ الشِّرْكُ إِلَّا مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ". ثُمَّ قَالَ: "أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا يُذهب عَنْكَ صَغِير ذَلِكَ وَكَبِيرَهُ؟ قُلِ: اللَّهُمَّ، أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا لَا أَعْلَمُ" [[مسند أبي يعلى (١/٦٢) ورواه ابن جريج عن ليث، عن أبي محمد، عن حذيفة نحوه، وأخرجه أبو يعلى في المسند (١/٦٠) وأبو محمد مجهول، وليث بن أبي سليم ضعيف.]] .
وَقَدْ رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "الشِّرْكُ أَخْفَى فِي أُمَّتِي مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا". قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ النَّجَاةُ وَالْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: "أَلَا أُخْبِرُكَ بِشَيْءٍ إِذَا قَلْتَهُ برئتَ مِنْ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ وَصَغِيرِهِ وَكَبِيرِهِ؟ ". قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "قُلِ: اللَّهُمَّ، إِنِّي أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ" [[ورواه أبو نعيم في الحلية (٧/١١٢) من طريق يحيى بن محمد البختري، عن شيبان بن فروخ به نحوه، وقال: "تفرد به عن الثوري يحيى بن كثير".]] .
قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ: "أَبُو النَّضْرِ"، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَصَحَّحَهُ، وَالنَّسَائِيُّ، مِنْ حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ [[في هـ، أ: "عاص" والمثبت من ت والمسند.]] سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أصبحتُ، وَإِذَا أمسيتُ، وَإِذَا أَخَذْتُ مَضْجَعِي. قَالَ: "قُلِ: اللَّهُمَّ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ" [[المسند (١/٩) وسنن أبي داود برقم (٥٠٦٧) وسنن الترمذي برقم (٣٣٩٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (٧٦٩١) .]] .
وَزَادَ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ لَهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثٍ مِنْ أَبِي سُلَيْمٍ، [عَنْ مجاهد] [[زيادة من ت، أ.]] عن أبي بكر الصديق قال: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ أَقُولَ. . . فَذَكَرَ هَذَا الدُّعَاءَ وَزَادَ فِي آخِرِهِ: "وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أجُرّه إِلَى مُسْلِمٍ" [[المسند (١/١٤) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَفَأَمِنُوا أَنْ تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ أَيْ: أَفَأَمِنَ هَؤُلَاءِ الْمُشْرِكُونَ [بِاللَّهِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَنْ يَأْتِيَهُمْ أَمْرٌ يَغْشَاهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الأرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ٤٥ -٤٧] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٩٧ -٩٩] .
أَفَأَمِنُوٓا۟ أَن تَأْتِيَهُمْ غَٰشِيَةٌۭ مِّنْ عَذَابِ ٱللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
Then do they feel secure that there will not come to them an overwhelming [aspect] of the punishment of Allah or that the Hour will not come upon them suddenly while they do not perceive?
کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو
آیا ایمن از آنند که عذاب فراگیری از سوی خدا به سراغ آنان بیاید، یا ساعت رستاخیز ناگهان فرارسد، در حالی که متوجّه نیستند؟!
Tafsir Ibn Kathir
And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom (105)And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him (106)Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah, or of the coming against them of the (Final) Hour, all of a sudden while they perceive not (107)
People neglect to ponder the Signs before Them
Allah states that most people do not think about His signs and proofs of His Oneness that He created in the heavens and earth. Allah created brilliant stars and rotating heavenly objects and planets, all made subservient. There are many plots of fertile land next to each other on earth, and gardens, solid mountains, lively oceans, with their waves smashing against each other, and spacious deserts. There are many live creatures and others that have died; and animals, plants and fruits that are similar in shape, but different in taste, scent, color and attributes. All praise is due to Allah the One and Only, Who created all types of creations, Who Alone will remain and last forever. It is He Who is unique in His Names and Attributes. Allah said next,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) Ibn 'Abbas commented, "They have a part of faith, for when they are asked, 'Who created the heavens? Who created the earth? Who created the mountains?' They say, 'Allah did.' Yet, they associate others with Him in worship." Similar is said by Mujahid, 'Ata, 'Ikrimah, Ash-Sha'bi, Qatadah, Ad-Dahhak and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. In the Sahih, it is recorded that during the Hajj season, the idolators used to say in their Talbiyah: "Here we rush to Your service. You have no partners with You, except a partner with You whom You own but he owns not!" Allah said in another Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.)[31:13] This indeed is the greatest type of Shirk, associating others with Allah in worship. It is recorded in the Two Sahihs that 'Abdullah bin Mas'ud said, "I said, 'O Allah's Messenger! What is the greatest sin?' He said,
أَنْ تَجْعَلَ للهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ
(That you call a rival to Allah while He alone created you.)" Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) "This is the hypocrite; if he performs good deeds, he does so to show off with the people, and he is an idolator while doing this." Al-Hasan was referring to Allah's statement,
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا
(Verily, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is He Who deceives them. And when they stand up for As-Salah, they stand with laziness and to be seen of men, and they do not remember Allah but little.)[4:142] There is another type of hidden Shirk that most people are unaware of. Hammad bin Salamah narrated that 'Asim bin Abi An-Najud said that 'Urwah said, "Hudhayfah visited an ill man and saw a rope tied around his arm, so he ripped it off while reciting,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) In a Hadith, from Ibn 'Umar collected by At-Tirmidhi who said it was Hasan, the Prophet ﷺ said,
مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ أَشْرَكَ
(He who swears by other than Allah, commits Shirk.) Imam Ahmad, Abu Dawud and other scholars of Hadith narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ
(Verily, Ar-Ruqa, At-Tama'im and At-Tiwalah are all acts of Shirk.) In another narration collected by Ahmad and Abu Dawud, the Prophet ﷺ said,
الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ
(Verily, At-Tiyarah [omen] is Shirk; everyone might feel a glimpse of it, but Allah dissipates it with Tawakkul.)" Allah said next,
أَفَأَمِنُوا أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ
(Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah?) Allah asks, 'Do these idolators who associate others with Allah in the worship, feel secure from the coming of an encompassing torment from where they perceive not?' Allah said in other 'Ayat,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not? Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them (from Allah's punishment)? Or that He may catch them with gradual wasting (of their wealth and health)? Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful.)[16:45-47] and,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ - أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ - أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep? Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing? Did they then feel secure against the plan of Allah None feels secure from the plan of Allah? except the people who are the losers.)[7:97-99]
Tafsir Ibn Kathir
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہوجائیں ؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الہٰی تیرا کوئی شریک نہیں تو آنحضرت ﷺ فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری ومسلم میں ہے ابن مسعود ؓ نے رسالت پناہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چناچہ حضرت حذیفہ ؓ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو ؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہوگیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توکل کے باعث سب سختیوں سے دور کردیتا ہے۔ (ابو داؤد وغیرہ) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایس حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چار پائی تلے چھپا دیا آپ آئے میرے پاس میری چار پائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بےنیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویدات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھارا کردیتا تھا تو سکون ہوجاتا تھا، آپ نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ وہ کہتی جو رسول اللہ ﷺ نے سکھایا ہے دعا (اذھب الباس رب الناس اشف وانت الشاف لا شفاء الا شفاوک شفاء لا یغدر سقما) (مسند احمد) مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لئے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ مسند میں ہے جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمام شریکوں سے زیادہ بےنیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ (مسلم) مسنند میں ہے قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کرلے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بےنیاز ہے۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کرو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لئے تم نے عمل کئے تھے، انہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں ؟ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں جو شخص کوئی بد شگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہوگیا۔ صحابہ ؑ نے دریافت کیا حضور ﷺ پھر اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہنا دعا (اللہم لا خیر الا خیرک ولا طیر الا طیرک ولا الہ غیرک) یعنی اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر حضرت عبداللہ بن حرب اور حضرت قیس بن مصابب کھڑے ہوگئے اور کہا یا تو آپ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور حضرت عمر ؓ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں آنحضرت ﷺ نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا لوگو ! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو دعا (اللہم انا نعوذ بک ان نشرک بک شیئا تعلمہ ونستغفرک مما لا نعلم)ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت (اللہم انی اعوذ بک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک مما لا اعلم (مسند ابو یعلی) ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ دعا (اللہم فاطر السموت والارض عالم الغیب الشہادۃ رب کل شئی وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذ بک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشر کہ)ایک روایت میں ہے کہ مجھے حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں دعا (وان اقترف علی نفسی سوا او اجرہ الی مسلم۔)فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الہٰی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45ۙ) 16۔ النحل :45) یعنی مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت ورافت ہے کہ گنا کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے کہ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بےخطرے ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آجائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بےخوف نہ ہونا چاہئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى عَنْ [غَفْلَةِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَكْثَرِ النَّاسِ عَنِ التَّفَكُّرِ فِي آيَاتِ اللَّهِ وَدَلَائِلِ تَوْحِيدِهِ، بِمَا خَلَقَهُ اللَّهُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ مِنْ كَوَاكِبَ زَاهِرَاتٍ ثَوَابِتَ، وَسَيَّارَاتٍ وَأَفْلَاكٍ دَائِرَاتٍ، وَالْجَمِيعُ مُسَخَّرَاتٌ، وَكَمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ قِطَعٍ مُتَجَاوِرَاتٍ وَحَدَائِقَ وَجَنَّاتٍ وَجِبَالٍ رَاسِيَاتٍ، وَبِحَارٍ زَاخِرَاتٍ، وَأَمْوَاجٍ مُتَلَاطِمَاتٍ، وَقِفَارٍ شَاسِعَاتٍ، وَكَمْ مِنْ أَحْيَاءٍ وَأَمْوَاتٍ، وَحَيَوَانٍ وَنَبَاتٍ، وَثَمَرَاتٍ مُتَشَابِهَةٍ وَمُخْتَلِفَاتٍ، فِي الطُّعُومِ وَالرَّوَائِحِ وَالْأَلْوَانِ وَالصِّفَاتِ، فَسُبْحَانَ الْوَاحِدِ الْأَحَدِ، خَالِقِ أَنْوَاعِ الْمَخْلُوقَاتِ، الْمُتَفَرِّدِ بِالدَّوَامِ وَالْبَقَاءِ وَالصَّمَدِيَّةِ ذِي الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ.
وَقَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مِنْ إِيمَانِهِمْ، إِذَا قِيلَ لَهُمْ: مَنْ خَلَقَ السَّمَوَاتِ؟ وَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ وَمَنْ خَلَقَ الْجِبَالِ؟ قَالُوا: "اللَّهُ"، وَهُمْ مُشْرِكُونَ بِهِ. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَعَطَاءٌ وَعِكْرِمَةُ، وَالشَّعْبِيُّ، وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
وَهَكَذَا فِي الصَّحِيحَيْنِ [[في ت، أ: "في صحيح مسلم".]] أَنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا يَقُولُونَ فِي تَلْبِيَتِهِمْ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ. وَفِي الصَّحِيحِ: أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قَالُوا: "لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ" يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "قَدْ قَدْ"، أَيْ حَسْبُ حَسْبُ، لَا تَزِيدُوا عَلَى هَذَا [[صحيح مسلم برقم (١١٨٥/٢٢) .]] .
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [لُقْمَانَ: ١٣] وَهَذَا هُوَ الشِّرْكُ الْأَعْظَمُ الَّذِي يَعْبُدُ مَعَ اللَّهِ غَيْرَهُ، كَمَا فِي الصَّحِيحَيْنِ. عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: "أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك" [[صحيح البخاري برقم (٤٤٧٧) وصحيح مسلم برقم (٦٨) .]] .
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾ قَالَ: ذَلِكَ الْمُنَافِقُ يَعْمَلُ إِذَا عَمِلَ رِيَاءَ النَّاسِ، وَهُوَ مُشْرِكٌ بِعَمَلِهِ ذَاكَ، يَعْنِي قَوْلَهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلا قَلِيلا﴾ [النِّسَاءِ: ١٤٢] .
وثمَّ شِرْكٌ آخَرُ خَفِيٌّ لَا يَشْعُرُ بِهِ غَالِبًا فَاعِلُهُ، كَمَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُود، عَنْ عُرْوَة قَالَ: دَخَلَ حُذَيْفَةُ عَلَى مَرِيضٍ، فَرَأَى فِي عَضُدِهِ سَيْرًا فَقَطَعَهُ -أَوِ: انْتَزَعَهُ -ثُمَّ قَالَ: ﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾
وَفِي الْحَدِيثِ: "مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وحسنَّهَ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ [[سنن الترمذي برقم (١٥٣٥) .]]
وَفِي الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنُ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ الرُّقَى والتَّمائِم والتِّوَلة شرْك" [[المسند (١/٣٨١) وسنن أبي داود برقم (٣٨٨٣) ورواه ابن ماجه في السنن برقم (٣٥٣٠) .]] .
وَفِي لَفْظٍ لَهُمَا: " [الطيَرة شِرْكٌ] [[زيادة من ت، أ، والمسند وسنن أبي داود.]] وَمَا منَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ" [[المسند (١/٣٨٩) وسنن أبي داود برقم (٣٩١٠) .]] .
وَرَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بِأَبْسَطِ مِنْ هَذَا فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرّة، عَنْ يَحْيَى الْجَزَّارِ [[في ت، أ: "يحيى بن الجزار".]] عَنِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ [عَنْ زَيْنَبَ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا جَاءَ مِنْ حَاجَةٍ فَانْتَهَى إِلَى الْبَابِ تَنَحْنَحَ [[في ت: "تنجيح".]] وَبَزَقَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَهْجُمَ مِنَّا عَلَى أَمْرٍ يَكْرَهُهُ، قَالَتْ: وَإِنَّهُ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَتَنَحْنَحَ وَعِنْدِي عَجُوزٌ تَرْقِينِي مِنَ الحُمْرَة فَأَدْخَلْتُهَا تَحْتَ السَّرِيرِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِي، فَرَأَى فِي عُنُقِي خَيْطًا، قَالَ: مَا هَذَا الْخَيْطُ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: خَيْطٌ رُقِى لِي فِيهِ. قَالَتْ: فَأَخَذَهُ فَقَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ آلَ عَبْدِ اللَّهِ لأغنياءٌ عَنِ الشِّرْكِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ والتِّوَلة شِرْكٌ". قَالَتْ، قُلْتُ لَهُ: لِمَ تَقُولُ هَذَا وَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ، فَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِيهَا، فَكَانَ إِذَا رَقَاهَا سَكَنَتْ؟ قَالَ: إِنَّمَا ذَاكَ مِنَ الشَّيْطَانِ. كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ، فَإِذَا رَقَيْتِهَا كَفَّ عَنْهَا: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" [[المسند (١/٣٨١) .]] .
وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ وَكِيع، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْم [[في ت: "حكيم".]] وَهُوَ مَرِيضٌ نَعُودُهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَعَلَّقت شَيْئًا؟ فَقَالَ: أَتَعَلَّقُ شَيْئًا! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ تَعَلَّق شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ" [[المسند (٤/٣١٠) ورواه الترمذي في السنن برقم (٢٠٧٢) من طريق عبد الرحمن بن أبي ليلى به، وقال الترمذي: "وحديث عبد الله بن حكيم إنما نعرفه من حديث عبد الرحمن بن أبي ليلى، وعبد الله بن حكيم لم يسمع النبي صلى الله عليه وسلم، وكان فِي زَمَنِ النَّبِيِّ ﷺ يقول: "كتب إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ".]] وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [[سنن النسائي (٧/١١٢) .]] .
وَفِي مُسْنَدِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، مِنْ حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ علَّق تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ" وَفِي رِوَايَةٍ: "مَنْ تَعَّلق تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ ودَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ" [[المسند (٤/١٥٦) وقال المنذري في الترغيب (٤/٣٠٧) : "رجاله ثقات".]]
وَعَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، وَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وشِرْكه". رَوَاهُ مُسْلِمٌ [[صحيح مسلم برقم (٢٩٨٥) .]] .
وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ، يُنَادِي مُنَادٍ: مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ [[المسند (٤/٢١٥) .]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا لَيْث، عَنْ يَزِيدَ -يَعْنِي: ابْنَ الْهَادِ -عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قال: "إن أخْوَف ما أخاف عليكم الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ". قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رسول الله؟ قال: "الرياء، يقول الله يوم القيامة إذا جزى الناس بأعمالهم: اذهبوا إلى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاءُونَ فِي الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً" [[المسند (٥/٤٢٨) وحسنه الحافظ ابن حجر في بلوغ المرام.]] .
وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيد، بِهِ [[رواه البغوي في شرح السنة (١٤/٣٣٣) من طريق عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ به.]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَسَنٌ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعة، أَنْبَأَنَا ابْنُ هُبَيْرة، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحُبُلي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "من رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ عَنْ حَاجَةٍ، فَقَدْ أَشْرَكَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ [[في ت: "لا غير إلا غيرك".]] وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ" [[المسند (٢/٢٢٠) ورواه ابن السنى في عمل اليوم والليلة (ص ٢٩٣) مِنْ طَرِيقِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ به، فصح الحديث بحمد الله.]] .
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ العَرْزَمي، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ -رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَاهِلٍ -قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقَوْا هَذَا الشِّرْكَ، فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيب النَّمْلِ. فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَزْن وَقَيْسُ بْنُ الْمُضَارِبِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَتُخْرِجَنَّ [[في ت: "ليخرجن".]] مِمَّا قُلْتَ أَوْ لَنَأْتِيَنَّ عُمَرَ مَأْذُونًا لَنَا أَوْ غَيْرَ مَأْذُونٍ، قَالَ: بَلْ أخرج مما قلت، خطبنا رسول اللَّهِ ﷺ [ذَاتَ يَوْمٍ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقَوْا هَذَا الشِّرْكَ فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ". فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ: فَكَيْفَ نَتَّقِيهِ وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نُعُوذُ بِكَ [مِنْ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُهُ" [[المسند (٤/٤٠٣) .]] .
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَفِيهِ أَنَّ السَّائِلَ فِي ذَلِكَ هُوَ الصِّدِّيقُ، كَمَا رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمُوصِلِيُّ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ لَيْث بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مَعْقِل بْنِ يَسَار قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ ﷺ -أَوْ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "الشِّرْكُ أَخْفَى فِيكُمْ مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَلِ الشِّرْكُ إِلَّا مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ". ثُمَّ قَالَ: "أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا يُذهب عَنْكَ صَغِير ذَلِكَ وَكَبِيرَهُ؟ قُلِ: اللَّهُمَّ، أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا لَا أَعْلَمُ" [[مسند أبي يعلى (١/٦٢) ورواه ابن جريج عن ليث، عن أبي محمد، عن حذيفة نحوه، وأخرجه أبو يعلى في المسند (١/٦٠) وأبو محمد مجهول، وليث بن أبي سليم ضعيف.]] .
وَقَدْ رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "الشِّرْكُ أَخْفَى فِي أُمَّتِي مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا". قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ النَّجَاةُ وَالْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: "أَلَا أُخْبِرُكَ بِشَيْءٍ إِذَا قَلْتَهُ برئتَ مِنْ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ وَصَغِيرِهِ وَكَبِيرِهِ؟ ". قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "قُلِ: اللَّهُمَّ، إِنِّي أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ" [[ورواه أبو نعيم في الحلية (٧/١١٢) من طريق يحيى بن محمد البختري، عن شيبان بن فروخ به نحوه، وقال: "تفرد به عن الثوري يحيى بن كثير".]] .
قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ: "أَبُو النَّضْرِ"، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَصَحَّحَهُ، وَالنَّسَائِيُّ، مِنْ حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ [[في هـ، أ: "عاص" والمثبت من ت والمسند.]] سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أصبحتُ، وَإِذَا أمسيتُ، وَإِذَا أَخَذْتُ مَضْجَعِي. قَالَ: "قُلِ: اللَّهُمَّ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ" [[المسند (١/٩) وسنن أبي داود برقم (٥٠٦٧) وسنن الترمذي برقم (٣٣٩٢) والنسائي في السنن الكبرى برقم (٧٦٩١) .]] .
وَزَادَ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ لَهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثٍ مِنْ أَبِي سُلَيْمٍ، [عَنْ مجاهد] [[زيادة من ت، أ.]] عن أبي بكر الصديق قال: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ أَقُولَ. . . فَذَكَرَ هَذَا الدُّعَاءَ وَزَادَ فِي آخِرِهِ: "وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أجُرّه إِلَى مُسْلِمٍ" [[المسند (١/١٤) .]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَفَأَمِنُوا أَنْ تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ أَيْ: أَفَأَمِنَ هَؤُلَاءِ الْمُشْرِكُونَ [بِاللَّهِ] [[زيادة من ت، أ.]] أَنْ يَأْتِيَهُمْ أَمْرٌ يَغْشَاهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الأرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ [النَّحْلِ: ٤٥ -٤٧] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٩٧ -٩٩] .
قُلْ هَٰذِهِۦ سَبِيلِىٓ أَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِى ۖ وَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
Say, "This is my way; I invite to Allah with insight, I and those who follow me. And exalted is Allah; and I am not of those who associate others with Him."
کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
بگو: «این راه من است من و پیروانم، و با بصیرت کامل، همه مردم را به سوی خدا دعوت میکنیم! منزّه است خدا! و من از مشرکان نیستم!»
Tafsir Ibn Kathir
Say "This is my way; I invite unto Allah with sure knowledge, I and whosoever follows me. And Glorified and Exalted be Allah. And I am not of the idolators. (108)
The Messenger's Way
Allah orders His Messenger ﷺ to say to mankind and the Jinns that this is his way, meaning, his method, path and Sunnah, concentrating on calling to the testimony that there is no deity worthy of worship except Allah alone without partners. The Messenger ﷺ calls to this testimonial with sure knowledge, certainty and firm evidence. He calls to this way, and those who followed him call to what Allah's Messenger ﷺ called to with sure knowledge, certainty and evidence, whether logical or religious evidence,
وَسُبْحَانَ اللَّهِ
(And Glorified and Exalted be Allah.) This part of the Ayah means, I glorify, honor, revere and praise Allah from having a partner, equal, rival, parent, son, wife, minister or advisor. All praise and honor be to Allah, glorified He is from all that they attribute to Him,
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا
(The seven heavens and the earth and all that is therein, glorify Him, and there is not a thing but glorifies His praise. But you understand not their glorification. Truly, He is Ever Forbearing, Oft-Forgiving.)[17:44]
Tafsir Ibn Kathir
دعوت وحدانیت اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جنہیں تمام جن و انس کی طرف بھیجا ہے، حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو خبر کر دوں کہ میرا مسلک، میرا طریق، میری سنت یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت کی دعوت عام کر دوں۔ پورے یقین دلیل اور بصیرت کے ساتھ۔ میں اس طرف سب کو بلا رہا ہوں میرے جتنے پیرو ہیں، وہ بھی اسی طرف سب کو بلا رہے ہیں، شرعی، نقلی اور عقلی دلیلوں کے ساتھ اس طرف دعوت دیتے ہیں ہم اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اس کی تعظیم تقدیس، تسبیح تہلیل بیان کرتے ہیں، اسے شریک سے، نظیر سے، عدیل سے، وزیر سے، مشیر سے اور ہر طرح کی کمی اور کمزوری سے پاک مانتے ہیں، نہ اس کی اولاد مانیں، نہ بیوی، نہ ساتھی، نہ ہم جنس۔ وہ ان تمام بری باتوں سے پاک اور بلند وبالا ہے۔ آسمان و زمین اور ان کی ساری مخلوق اس کی حمد و تسبیح کر رہی ہے لیکن لوگ ان کی تسبیح سمجھتے نہیں، اللہ بڑا ہی حلیم اور غفور ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يقول [الله] [[زيادة من أ.]] تعالى لعبد وَرَسُولِهِ إِلَى الثَّقَلَيْنِ: الْإِنْسِ وَالْجِنِّ، آمِرًا لَهُ أَنْ يُخْبِرَ النَّاسَ: أَنَّ هَذِهِ سَبِيلُهُ، أَيْ طَرِيقُهُ وَمَسْلَكُهُ وَسُنَّتُهُ، وَهِيَ الدَّعْوَةُ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، يَدْعُو إِلَى اللَّهِ بِهَا عَلَى بَصِيرة مِنْ ذَلِكَ، وَيَقِينٍ وَبُرْهَانٍ، هُوَ وَكُلُّ مَنِ اتَّبَعَهُ، يَدْعُو إِلَى مَا دَعَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ على بَصِيرَةٍ وَيَقِينٍ وَبُرْهَانٍ شَرْعِيٍّ وَعَقْلِيٍّ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَسُبْحَانَ اللَّهِ﴾ أَيْ: وَأُنَزِّهُ اللَّهَ وَأُجِلُّهُ وَأُعَظِّمُهُ وَأُقَدِّسُهُ، عَنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ شَرِيكٌ أَوْ نَظِيرٌ، أَوْ عَدِيلٌ أَوْ نَدِيدٌ، أَوْ وَلَدٌ أَوْ وَالِدٌ أَوْ صَاحِبَةٌ، أَوْ وَزِيرٌ أَوْ مُشِيرٌ، تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَتَقَدَّسَ وَتَنَزَّهَ عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ عُلُوًّا كَبِيرًا، ﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالأرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٤٤] .
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓ ۗ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ ٱلْءَاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
And We sent not before you [as messengers] except men to whom We revealed from among the people of cities. So have they not traveled through the earth and observed how was the end of those before them? And the home of the Hereafter is best for those who fear Allah; then will you not reason?
اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
و ما نفرستادیم پیش از تو، جز مردانی از اهل آبادیها که به آنها وحی میکردیم! آیا (مخالفان دعوت تو،) در زمین سیر نکردند تا ببینند عاقبت کسانی که پیش از آنها بودند چه شد؟! و سرای آخرت برای پرهیزکاران بهتر است! آیا فکر نمیکنید؟!
Tafsir Ibn Kathir
And We sent not before you (as Messengers) any but men unto whom We revealed, from among the people of townships. Have they not traveled in the land and seen what was the end of those who were before them? And verily, the home of the Hereafter is the best for those who have Taqwa. Do you not then understand (109)
All of the Prophets are Humans and Men
Allah states that He only sent Prophets and Messengers from among men and not from among women, as this Ayah clearly states. Allah did not reveal religious and legislative laws to any woman from among the daughters of Adam. This is the belief of Ahlus-Sunnah wal-Jama'ah. Shaykh Abu Al-Hasan, 'Ali bin Isma'il Al-Ash'ari mentioned that it is the view of Ahlus-Sunnah wal-Jama'ah, that there were no female Prophets, but there were truthful believers from among women. Allah mentions the most honorable of the truthful female believers, Maryam, the daughter of 'Imran, when He said,
مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ
(The Messiah ['Isa], son of Maryam (Mary), was no more than a Messenger; many were the Messengers that passed away before him. His mother was a Siddiqah [truthful believer]. They both used to eat food.)[5:75]
Therefore, the best description Allah gave her is Siddiqah. Had she been a Prophet, Allah would have mentioned this fact when He was praising her qualities and honor. Therefore, Mary was a truthful believer according to the words of the Qur'an.
All Prophets were Humans not Angels
Ad-Dahhak reported that Ibn 'Abbas commented on Allah's statement,
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا
(And We sent not before you (as Messengers) any but men) "They were not from among the residents of the heaven (angels), as you claimed." This statement of Ibn 'Abbas is supported by Allah's statements,
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers, but verily, they ate food and walked in the markets), [25:20]
وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ - ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنجَيْنَاهُمْ وَمَن نَّشَاءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ
(And We did not create them with bodies that ate not food, nor were they immortals. Then We fulfilled to them the promise. So We saved them and those whom We willed, but We destroyed extravagants), [21:8-9] and,
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers.")[46:9] Allah said next,
مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ
(from among the people of townships), meaning, from among the people of cities, not that they were sent among the bedouins who are some of the harshest and roughest of all people.
Drawing Lessons from the Incidents of the Past
Allah said next,
أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ
(Have they not traveled in the land), meaning, 'Have not these people who rejected you, O Muhammad, traveled in the land,'
فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(and seen what was the end of those who were before them?) that is, the earlier nations that rejected the Messengers, and how Allah destroyed them. A similar end is awaiting all disbelievers. Allah said in another Ayah,
أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا
(Have they not traveled through the land, and have they hearts wherewith to understand?)[22:46] When they hear this statement, they should realize that Allah destroyed the disbelievers and saved the believers, and this is His way with His creation. This is why Allah said,
وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَوْا
(And verily, the home of the Hereafter is the best for those who have Taqwa.) Allah says, 'Just as We saved the faithful in this life, We also wrote safety for them in the Hereafter, which is far better for them than the life of the present world.' Allah said in another Ayah,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ - يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth (i.e. Day of Resurrection). The Day when their excuses will be of no profit to the wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode (in Hellfire). [40:51-52]
Tafsir Ibn Kathir
رسول اور نبی صرف مرد ہی ہوئے ہیں بیان فرماتا ہے کہ رسول اور نبی مرد ہی بنتے رہے نہ کہ عورتیں۔ جمہور اہل اسلام کا یہی قول ہے کہ نبوت عورتوں کو کبھی نہیں ملی۔ اس آیت کریمہ کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن بعض کا قول ہے کہ خلیل اللہ ؑ کی بیوی حضرت سارہ، موسیٰ ؑ کی والدہ مریم بھی نبیہ تھیں۔ ملائیکہ نے حضرت سارہ کو ان کے لڑکے اسحاق اور پوتے یعقوب کی بشارت دی۔ موسیٰ کی ماں کی طرف انہیں دودھ پلانے کی وحی ہوئی۔ مریم کو حضرت عیسیٰ کی بشارت فرشتے نے دی۔ فرشتوں نے مریم سے کہا کہ اللہ نے تجھے پسندیدہ پاک اور برگزیدہ کرلیا ہے تمام جہان کی عورتوں پر۔ اے مریم اپنے رب کی فرماں برداری کرتی رہو، اس کے لئے سجدے کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اتنا تو ہم مانتے ہیں، جتنا قرآن نے بیان فرمایا۔ لیکن اس سے ان کی نبوت ثابت نہیں ہوتی۔ صرف اتنا فرمان یا اتنی بشارت یا اتنے حکم کسی کی نبوت کے لئے دلیل نہیں۔ اہل سنت والجماعت کا اور سب کا مذہب یہ کہ عورتوں میں سے کوئی نبوت والی نہیں۔ ہاں ان میں صدیقات ہیں جیسے کہ سب سے اشرف وافضل عورت حضرت مریم کی نسبت قرآن نے فرمایا ہے آیت (وامہ صدیقتہ) پس اگر وہ نبی ہوتیں تو اس مقام میں وہی مرتبہ بیان کیا جاتا۔ آیت میں آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا 20) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے بھلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی رکھتے تھے۔ وہ ایسے نہ تھے کہ کھانا کھانے سے پاک ہوں، نہ ایسے تھے کہ کبھی مرنے والے ہی نہ ہوں، ہم نے ان سے اپنے وعدے پورے کئے، انہیں اور ان کے ساتھ جنہیں ہم نے چاہا، نجات دی اور مسرف لوگوں کو ہلاک کردیا۔ اسی طرح اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی پہلا رسول تو نہیں ؟ الخ یاد رہے کہ اہل قری سے مراد اہل شہر ہیں نہ کہ بادیہ نشین وہ تو بڑے کج طبع اور بداخلاق ہوتے ہیں۔ مشہور و معروف ہے کہ شہری نرم طبع اور خوض خلق ہوتے ہیں اسی طرح بستیوں سے دور والے، پرے کنارے رہنے والے بھی عموما ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے ہوتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے آیت (اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 97۔) 9۔ التوبہ :97) جنگلوں کے رہنے والے بدو کفر ونفاق میں بہت سخت ہیں۔ قتادہ بھی یہی مطلب بیان فرماتے ہیں کیونکہ شہریوں میں علم وحلم زیادہ ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ بادیہ نشین اعراب میں سے کسی نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا آپ نے اسے بدلہ دیا لیکن اسے اس نے بہت کم سمجھا، آپ نے اور دیا اور دیا یہاں تک کہ اسے خوش کردیا۔ پھر فرمایا میرا تو جی چاہتا ہے کہ سوائے قریش اور انصاری اور ثقفی اور دوسی لوگوں کے اوروں کا تحفہ قبول ہی نہ کروں۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ وہ مومن جو لوگوں سے ملے جلے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرے، وہ اس سے بہتر ہے جو نہ ان سے ملے جلے ہو نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے۔ یہ جہٹلانے والے کیا ملک میں چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ اپنے سے پہلے کے جھٹلانے والوں کی حالتوں کو دیکھیں اور ان کے انجام پر غور کریں ؟ جیسے فرمان ہے آیت (اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ 46) 22۔ الحج :46) یعنی کیا انہوں نے زمین کی سیر نہیں کی کہ ان کے دل سجھدار ہوتے، الخ۔ ان کے کان سن لیتے، ان کی آنکھیں دیکھ لیتیں کہ ان جیسے گنہگاروں کا کیا حشر ہوتا رہا ہے ؟ وہ نجات سے محروم رہتے ہیں، عتاب الہٰی انہیں غارت کردیتا ہے، عالم آخرت انکے لئے بہت ہی بہتر ہے جو احتیاط سے زندگی گزار دیتے ہیں۔ یہاں بھی نجات پاتے ہیں اور وہاں بھی اور وہاں کی نجات یہاں کی نجات سے بہت ہی بہتر ہے۔ وعدہ الہٰی ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دینا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور قیامت کے دن بھی ان کی امداد کریں گے، اس دن گواہ کھڑے ہوں گے، ظالموں کے عذر بےسود رہیں گے، ان پر لعنت برسے گی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔ گھر کی اضافت آخرت کی طرف کی۔ جیسے صلوۃ اولیٰ اور مسجد جامع اور عام اول اور بارحۃ الاولیٰ اور یوم الخمیس میں ایسے ہی اضافت ہے، عربی شعروں میں بھی یہ اضافت بکثرت آئی ہے۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّهُ إِنَّمَا أرسلَ رسُلَه مِنَ الرِّجَالِ لَا مِنَ النِّسَاءِ. وَهَذَا قَوْلُ جُمْهُورِ الْعُلَمَاءِ، كَمَا دَلَّ عَلَيْهِ سِيَاقُ هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يُوحِ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنَاتِ بَنِي آدَمَ وَحي تَشْرِيعٍ.
وَزَعَمَ بَعْضُهُمْ: أَنَّ سَارَّةَ امْرَأَةَ الْخَلِيلِ، وَأُمَّ مُوسَى، وَمَرْيَمَ أَمَّ عيسى نبيات، واحتجوا بأن الملائكة بَشَّرَتْ سَارَّةَ بِإِسْحَاقَ، وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ، وَبِقَوْلِهِ: ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ﴾ الْآيَةَ. [الْقَصَصِ: ٧] ، وَبِأَنَّ الْمَلَكَ جَاءَ إِلَى مَرْيَمَ فَبَشَّرَهَا بِعِيسَى، عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَبُقُولِهِ تَعَالَى: ﴿وَإِذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ٤٢، ٤٣] .
وَهَذَا الْقَدْرُ حَاصِلٌ لَهُنَّ، وَلَكِنْ لَا يَلْزَمُ مِنْ هَذَا أَنْ يَكُنَّ نَبِيَّاتٍ بِذَلِكَ، فَإِنْ أَرَادَ الْقَائِلُ بِنُبُوَّتِهِنَّ هَذَا الْقَدْرَ مِنَ التَّشْرِيفِ، فَهَذَا لَا شَكَّ فِيهِ، وَيَبْقَى الْكَلَامُ مَعَهُ فِي أَنَّ هَذَا: هَلْ يَكْفِي فِي الِانْتِظَامِ فِي سَلْكِ النُّبُوَّةِ بِمُجَرَّدِهِ أَمْ لَا؟ الَّذِي عَلَيْهِ [أَئِمَّةُ] [[زيادة من ت، أ.]] أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، وَهُوَ الَّذِي نَقَلَهُ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَشْعَرِيُّ عَنْهُمْ: أَنَّهُ لَيْسَ فِي النِّسَاءِ نَبِيَّةٌ، وَإِنَّمَا فِيهِنَّ صِدِّيقَاتٌ، كَمَا قَالَ تَعَالَى مُخْبِرًا عَنْ أَشْرَفِهِنَّ مريمَ بِنْتِ عِمْرَانَ حَيْثُ قَالَ: ﴿مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلانِ الطَّعَامَ﴾ [الْمَائِدَةِ: ٧٥] فَوَصَفَهَا فِي أَشْرَفِ مَقَامَاتِهَا بِالصِّدِّيقَيةِ، فَلَوْ كَانَتْ نَبِيَّةً لَذَكَرَ ذَلِكَ فِي مَقَامِ التَّشْرِيفِ وَالْإِعْظَامِ، فَهِيَ صِدِّيقَةٌ بِنَصِّ الْقُرْآنِ.
وَقَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلا رِجَالا نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى﴾ [[في ت: "يوحى".]] أَيْ: لَيْسُوا مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ كَمَا قُلْتُمْ. وَهَذَا الْقَوْلُ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَعْتَضِدُ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الأسْوَاقِ﴾ الْآيَةَ [الْفُرْقَانِ: ٢٠] وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنْجَيْنَاهُمْ وَمَنْ نَشَاءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ﴾ [الْأَنْبِيَاءِ: ٨، ٩] وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ﴾ الْآيَةَ [الْأَحْقَافِ: ٩] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مِنْ أَهْلِ الْقُرَى﴾ الْمُرَادُ بِالْقُرَى: الْمُدُنُ، لَا أَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ الْبَوَادِي، الَّذِينَ هُمْ أَجْفَى النَّاسِ طِبَاعًا وَأَخْلَاقًا. وَهَذَا هُوَ الْمَعْهُودُ الْمَعْرُوفُ أَنَّ أَهْلَ الْمُدُنِ أَرَقُّ طِبَاعًا، وَأَلْطَفُ مِنْ أَهْلِ سَوَادِهِمْ، وَأَهْلُ الرِّيفِ وَالسَّوَادِ أَقْرَبُ حَالًا مِنَ الَّذِينَ يَسْكُنُونَ فِي الْبَوَادِي؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿الأعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنزلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ﴾ [التَّوْبَةِ: ٩٧] .
وَقَالَ قَتَادَةُ فِي قَوْلِهِ: ﴿مِنْ أَهْلِ الْقُرَى﴾ لِأَنَّهُمْ أَعْلَمُ وَأَحْلَمُ مَنْ أَهْلَ الْعَمُودِ.
وَفِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ نَاقَةً، فَلَمْ يَزَلْ يُعْطِيهِ وَيَزِيدُهُ حَتَّى رَضِيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَقَدْ هَمَمْتُ أَلَّا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِي". [[رواه أحمد في المسند (١/٢٩٥) من حديث ابن عباس رضي الله عنهما.]]
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ -قَالَ الْأَعْمَشُ: هُوَ [ابْنُ] [[زيادة من ت، أ، والمسند.]] عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، خَيْرٌ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ". [[المسند (٢/٤٣) .]]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأرْضِ﴾ [يَعْنِي: هَؤُلَاءِ الْمُكَذِّبِينَ لَكَ يَا مُحَمَّدُ فِي الْأَرْضِ،] [[زيادة من ت.]] ﴿فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ أَيْ: مِنَ الْأُمَمِ الْمُكَذِّبَةِ لِلرُّسُلِ، كَيْفَ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا، كَقَوْلِهِ: ﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الأبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾ [الْحَجِّ: ٤٦] ، فَإِذَا اسْتَمَعُوا [[في ت، أ: "استعملوا".]] خَبَرَ ذَلِكَ، رَأَوْا أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ الْكَافِرِينَ وَنَجَّى الْمُؤْمِنِينَ، وَهَذِهِ كَانَتْ سُنَّتَهُ تَعَالَى فِي خَلْقِهِ؛ وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَدَارُ الآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا﴾ [[في ت، أ: "يتقون" وهو خطأ.]] أَيْ: وَكَمَا أَنْجَيْنَا الْمُؤْمِنِينَ فِي الدُّنْيَا، كَذَلِكَ كَتَبْنَا لَهُمُ النَّجَاةَ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ أَيْضًا، وَهِيَ خَيْرٌ لَهُمْ مِنَ الدُّنْيَا بِكَثِيرٍ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الأشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ﴾ [غَافِرٍ: ٥٠، ٥١] .
وَأَضَافَ الدَّارَ إِلَى الْآخِرَةِ فَقَالَ: ﴿وَلَدَارُ الآخِرَةِ﴾ كَمَا يُقَالُ: "صَلَاةُ الْأُولَى" وَ"مَسْجِدُ الْجَامِعِ" وَ"عَامُ الْأَوَّلِ" وَ "بَارِحَةُ الْأُولَى" وَ"يَوْمُ الْخَمِيسِ". قَالَ الشَّاعِرُ: أَتَمْدَحُ فَقْعَسًا وَتذمّ [[في ت: "وتمدح".]] عَبْسًا ... أَلَا لِلَّهِ أمَّكَ مِنْ هَجين ...
وَلو أقْوتْ عَلَيك ديارُ عَبْسٍ ... عَرَفْتَ الذُّلَّ عرْفانَ اليَقين [[البيتان في تفسير الطبري (١٦/٢٩٥) .]]
حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا۟ جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّىَ مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ
[They continued] until, when the messengers despaired and were certain that they had been denied, there came to them Our victory, and whoever We willed was saved. And Our punishment cannot be repelled from the people who are criminals.
یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا
(پیامبران به دعوت خود، و دشمنان آنها به مخالفت خود همچنان ادامه دادند) تا آنگاه که رسولان مأیوس شدند، و (مردم) گمان کردند که به آنان دروغ گفته شده است؛ در این هنگام، یاری ما به سراغ آنها آمد؛ آنان را که خواستیم نجات یافتند؛ و مجازات و عذاب ما از قوم گنهکار بازگردانده نمیشود!
Tafsir Ibn Kathir
(They were reprieved) until, when the Messengers gave up hope and thought that they were denied, then came to them Our help, and whomsoever We willed were rescued. And Our punishment cannot be warded off from the people who are criminals (110)
Allah's Prophets are aided by Victory in Times of Distress
Allah states that He sends His aid and support to His Messengers, peace be upon them, when distress and hardship surround them and they eagerly await Allah's aid. Allah said in another Ayah,
وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ
(...and were so shaken that even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah?")[2:214] As for saying of Allah,
كُذِبُوا
(they were denied) There are two recitations for it. One of them is with a Shadda (meaning: they were betrayed by their people). And this is the way 'A'ishah, may Allah be pleased with her, recited it.
Al-Bukhari said that 'Urwah bin Az-Zubayr narrated that he asked 'Aishah about the meaning of the following verse,
حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ
('Until when the Messengers give up hope...), Respite will be granted, is it denied or betrayed? 'A'ishah replied, "betrayed." 'Urwah said, "I said, 'They were sure that their people betrayed them, so why use the word 'thought'?' She said, 'Yes, they were sure that they betrayed them.' I said,
وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا
(and they thought that they were denied (by Allah))?
A'ishah said, 'Allah forbid! The Messengers did not suspect their Lord of such a thing.' I asked, 'So what does this Ayah mean' She said, 'This Verse is concerned with the Messengers' followers who had faith in their Lord and believed in their Messengers. The period of trials for those followers was long and Allah's help was delayed until the Messengers gave up hope for the conversion of the disbelievers amongst their nation and suspected that even their followers were shaken in their belief, Allah's help then came to them.'"
Ibn Jurayj narrated that Ibn Abi Mulaikah said that Ibn 'Abbas read this Ayah this way,
وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا
(and they thought they were denied.) 'Abdullah bin Abi Mulaikah said, "Then Ibn 'Abbas said to me that they were humans. He then recited this Ayah,
حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
(...even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah?" Yes! Certainly, the help of Allah is near!)[2:214]" Ibn Jurayj also narrated that Ibn Abi Mulaykah said that 'Urwah narrated to him that 'Aishah did not agree to this and rejected it. She said, "Nothing that Allah has promised Muhammad, peace be upon him, but Muhammad knew for certainty that it shall come, until he died. However, the Messengers were tried with trials until they thought that those believers, who were with them, did not fully support them." Ibn Abi Mulaykah said that 'Urwah narrated that 'Aishah recited this Ayah this way,
(وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَد كُذِّبُوا)
"and they thought that they were betrayed."
Therefore, there is another way of reciting this word, and there is a difference of opinion about its meaning. We narrated the meaning that Ibn 'Abbas gave. Ibn Mas'ud said, as Sufyan Ath-Thawri narrated from him, that he read the Ayah this way,
حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا
(until, when the Messengers gave up hope and thought that they were denied.) 'Abdullah commented that this is the recitation that you dislike. Ibn 'Abbas also commented on the Ayah,
حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا
(until, when the Messengers gave up hope and thought that they were denied) "When the Messengers gave up hope that their people would accept their messages, and their people thought that their Messengers had not said the truth to them, Allah's victory came then,
فَنُجِّيَ مَن نَّشَاءُ
(and whomsoever We willed were rescued.) Ibn Jarir At-Tabari narrated that Ibrahim bin Abi Hamzah [Hurrah] Al-Jazari said, "A young man from Quraysh asked Sa'id bin Jubayr 'O, Abu 'Abdullah! How do you read this word, for when I pass by it, I wish I had not read this Surah,
حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا
(until, when the Messengers gave up hope and thought that they were denied...)
He said, 'Yes, it means, when the Messengers gave up hope that their people will believe in them and those to whom the Messengers were sent thought that the Messengers were not truthful.'" Ad-Dahhak bin Muzahim commented, "I have not seen someone who is called to knowledge and is lazy accepting the invitation, until today! If you traveled to Yemen just to get this explanation, it will still be worth it." Ibn Jarir At-Tabari narrated that Muslim bin Yasar asked Sa'id bin Jubayr about the same Ayah and he gave the same response. Muslim stood up and embraced Sa'id bin Jubayr, saying, "May Allah relieve a distress from you as you relieved a distress from me!" This was reported from Sa'id bin Jubayr through various chains of narration. This is also the Tafsir that Mujahid bin Jabr and several other Salaf scholars gave for this Ayah. However, some scholars said that the Ayah,
وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا
(and thought that they were denied), is in reference to the believers who followed the Messengers, while some said it is in reference to the disbelievers among the Messengers' nation. In the latter case, the meaning becomes: 'and the disbelievers thought that the Messengers were not given a true promise of victory. ' Ibn Jarir At-Tabari narrated that Tamim bin Hadhlam said, "I heard 'Abdullah bin Mas'ud comment on this Ayah,
حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ
(until, when the Messengers gave up hope) that their people will believe in them, and their people thought when the respite was long, that the Messengers were not given a true promise."
Tafsir Ibn Kathir
جب مخالفت عروج پر ہو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کی مدد اس کے رسولوں پر بروقت اترتی ہے۔ دنیا کے جھٹکے جب زوروں پر ہوتے ہیں، مخالفت جب تن جاتی ہے، اختلاف جب بڑھ جاتا ہے، دشمنی جب پوری ہوجاتی ہے، انبیاء اللہ کو جب چاروں طرف سے گھیر لیا جاتا ہے، معا اللہ کی مدد آپہنچتی ہے۔ کذبوا اور کذبوا دونوں قرأتیں ہیں، حضرت عائشہ کی قرأت ذال کی تشدید سے ہے، چناچہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ یہ لفظ کذبوا یا کذبوا ہے ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کذبوا ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو یہ معنی ہوئے کہ رسولوں نے گمان کیا کہ وہ جھٹلائے گئے تو یہ گمان کی کون سی بات تھی یہ تو یقینی بات تھی کہ وہ جھٹلائے جاتے تھے۔ آپ نے فرمایا بیشک یہ یقینی بات تھے کہ وہ کفار کی طرف سے جھٹلائے جاتے تھے لیکن وہ وقت بھی آئے کہ ایمان دار امتی بھی ایسے زلزلے میں ڈالے گئے اور اس طرح ان کی مدد میں تاخیر ہوئی کہ رسولوں کے دل میں آئی کہ غالبا اب تو ہماری جماعت بھی ہمیں جھٹلانے لگی ہوگی۔ اب مدد رب آئی۔ اور انہیں غلبہ ہوا۔ تم اتنا تو خیال کرو کہ کذبوا کیسے ٹھیک ہوسکتا ہے ؟ معاذ اللہ کیا انبیاء (علیہم السلام) اللہ کی نسبت یہ بدگمانی کرسکتے ہیں کہ انہیں رب کی طرف سے جھٹلایا گیا ؟ ابن عباس کی قرأت میں کذبوا ہے۔ آپ اس کی دلیل میں آیت (حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ02104) 2۔ البقرة :214) پڑھ دیتے تھے یعنی یہاں تک کہ انبیاء اور ایماندار کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے۔ یاد رکھو مدد رب بالکل قریب ہے۔ حضرت عائشہ ؓ اس کا سختی سے انکار کرتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ جناب رسول اللہ آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے جتنے وعدے کئے، آپ کو کامل یقین تھا کہ وہ سب یقینی اور حتمی ہیں اور سب پورے ہو کر ہی رہیں گے آخر دم تک کبھی نعوذ باللہ آب کے دل میں یہ وہم ہی پیدا نہیں ہوا کہ کوئی وعدہ ربانی غلط ثابت ہوگا۔ یا ممکن ہے کہ غلظ ہوجائے یا پورا نہ ہو۔ ہاں انبیا (علیہم السلام) پر برابر بلائیں اور آزمائشیں آتی رہیں، یہاں تک کہ ان کے دل میں یہ خطرہ پیدا ہونے لگا کہ کہیں میرے ماننے والے بھی مجھ سے بدگمان ہو کر مجھے جھٹلا نہ رہے ہوں۔ ایک شخص قاسم بن محمد کے پاس آ کر کہتا ہے کہ محمد بن کعب قرظی کذبوا پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ صدیقہ عائشہ سے سنا ہے وہ کذبوا پڑھتی تھیں یعنی ان کے ماننے والوں نے انہیں جھٹلایا۔ پس ایک قرأت تو تشدید کے ساتھ ہے دوسری تخفیف کے ساتھ ہے، پھر اس کی تفسیر میں ابن عباس سے تو وہ مری ہے جو اوپر گزر چکا۔ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے یہ آیت اسی طرح پڑھ کر فرمایا یہی وہ ہے جو تو برا جانتا ہے۔ یہ روایت اس روایت کے خلاف ہے، جسے ان دونوں بزرگوں سے اوروں نے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا جب رسول ناامید ہوگئے کہ ان کی قوم ان کی مانے گی اور قوم نے یہ سمجھ لیا کہ نبیوں نے ان سے جھوٹ کہا، اسی وقت اللہ کی مدد آپہنچی اور جسے اللہ نے چاہا نجات بخشی۔ اسی طرح کی تفسیر اوروں سے بھی مروی ہے۔ ایک نوجوان قریشی نے حضرت سعید بن جبیر ؒ سے کہا کہ حضرت ہمیں بتائیے، اس لفظ کو کیا پڑھیں، مجھ سے تو اس لفظ کی قرأت کی وجہ سے ممکن ہے کہ اس سورت کا پڑھنا ہی چھوٹ جائے۔ آپ نے فرمایا سنو اس کا مطلب یہ کہ انبیاء اس سے مایوس ہوگئے کہ ان کی قوم ان کی بات مانے گی اور قوم والے سمجھ بیٹھے کہ نبیوں نے غلط کہا ہے یہ سن کر حضرت ضحاک بن مزاحم بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا کہ اس جیسا جواب کسی ذی علم کا میں نے نہیں سنا اگر میں یہاں سے یمن پہنچ کر بھی ایسے جواب کو سنتا تو میں اسے بھی بہت آسان جانتا۔ مسلم بن یسار ؒ نے بھی آپ کا یہ جواب سن کر اٹھ کر آپ سے معانقہ کیا اور کہا اللہ تعالیٰ آپ کی پریشانیوں کو بھی اسی طرح دور کر دے، جس طرح آپ نے ہماری پریشانی دور فرمائی۔ بہت سے اور مفسرین نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے بلکہ مجاہد ؒ کی تو قرأت ذال کے زبر سے ہے یعنی کذبوا ہاں بعض مفسرین وظنوا کا فاعل مومنوں کو بتاتے ہیں اور بعض کافروں کو یعنی کافروں نے یا یہ کہ بعض مومنوں نے یہ گمان کیا کہ رسولوں سے جو وعدہ مدد کا تھا اس میں وہ جھوٹے ثابت ہوئے عبداللہ بن مسعود ؓ تو فرماتے ہیں رسول ناامید ہوگئے یعنی اپنی قوم کے ایمان سے اور نصرت ربانی میں دیر دیکھ کر ان کو قوم گمان کرنے لگی کہ وہ جھوٹا وعدہ دئے گئے تھے۔ پس یہ دونوں روایتیں تو ان دونوں بزرگ صحابیوں سے مروی ہیں۔ اور حضرت عائشہ ؓ اس کا صاف انکار کرتی ہیں۔ ابن جریر ؒ بھی قول صدیقہ کی طرفداری کرتے اور دوسرے قول کی تردید کرتے ہیں اور اسے ناپسند کر کے رد کردیتے ہیں، واللہ اعلم۔
Tafsir Ibn Kathir
يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ نَصْرَهُ يَنْزِلُ عَلَى رُسُلِهِ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، عِنْدَ ضَيِّقِ الْحَالِ وَانْتِظَارِ الْفَرَجِ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى فِي أَحْوَجِ الْأَوْقَاتِ إِلَى ذَلِكَ، كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢١٤] ، وَفِي قَوْلِهِ: ﴿كُذِبُوا﴾ قِرَاءَتَانِ، إِحْدَاهُمَا بِالتَّشْدِيدِ: "قَدْ كُذِّبُوا"، وَكَذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقْرَؤُهَا، قَالَ الْبُخَارِيُّ:
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن سعد، بن صالح، عن ابن شهاب قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ وَهُوَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ﴾ قَالَ: قُلْتُ: أكُذِبوا أَمْ كُذِّبوا؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كُذِّبوا. فَقُلْتُ: فَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ قَدْ كَذَّبوهم فَمَا هُوَ بِالظَّنِّ؟ قَالَتْ: أَجَلْ، لَعَمْرِي لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ. فَقُلْتُ لَهَا: وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا؟ قَالَتْ [[في ت، أ: "فقالت".]] مَعَاذَ اللَّهِ، لَمْ تَكُنِ [[في ت: "يكن".]] الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا. قُلْتُ: فَمَا هَذِهِ الْآيَةُ؟ قَالَتْ: هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ، فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلَاءُ، وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ، ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ﴾ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ، وَظَنَّتِ الرُّسُلُ أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ قَدْ كذَّبوهم، جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ.
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنَا عُرْوَة، فَقُلْتُ: لَعَلَّهَا قَدْ كُذِبوا مُخَفَّفَةً؟ قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ. انْتَهَى مَا ذَكَرَهُ. [[صحيح البخاري برقم (٤٦٩٥، ٤٦٩٦) .]]
وَقَالَ ابْنُ جُرَيْج أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبَى مُلَيْكة: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَرَأَهَا: ﴿وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ خَفِيفَةً -قَالَ عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُلَيْكة: ثُمَّ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانُوا بَشَرًا [[في أ: "بشروا".]] وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ: ﴿حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾ [الْبَقَرَةِ: ٢١٤] ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَقَالَ لِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا خَالَفَتْ ذَلِكَ وَأَبَتْهُ، وَقَالَتْ: مَا وَعَدَ اللَّهُ مُحَمَّدًا ﷺ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا قَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَكُونُ حَتَّى مَاتَ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَزَلِ الْبَلَاءُ بِالرُّسُلِ حَتَّى ظَنُّوا أنَّ مَنْ مَعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ كذَّبوهم. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَقْرَؤُهَا "وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبوا" مُثْقَلَةً، لِلتَّكْذِيبِ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: أَنَا يُونُسُ بْنُ عَبَدِ الْأَعْلَى قِرَاءَةً، أَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَ إِنْسَانٌ إِلَى الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ يَقُولُ [[في ت، أ: "يقرأ".]] هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ فَقَالَ الْقَاسِمُ: أَخْبِرْهُ عَنِّي أَنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ تَقُولُ: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ تَقُولُ: كَذَّبَتْهُمْ أَتْبَاعُهُمْ. إِسْنَادٌ صَحِيحٌ أَيْضًا.
وَالْقِرَاءَةُ الثَّانِيَةُ بِالتَّخْفِيفِ، وَاخْتَلَفُوا فِي تَفْسِيرِهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَقَدَّمَ، وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِيمَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَرَأَ: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ مُخَفَّفَةً، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هُوَ الَّذِي تَكْرَهُ. [[في أ: "يكره".]]
وَهَذَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، مُخَالِفٌ لِمَا رَوَاهُ آخَرُونَ عَنْهُمَا. أَمَّا ابْنُ عَبَّاسٍ فَرَوَى الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ قَالَ: لَمَّا أَيِسَتِ الرُّسُلُ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَهُمْ قَوْمُهُمْ، وظن قومهم أن الرسل قد كَذَّبوهم، جَاءَهُمُ النَّصْرُ عَلَى ذَلِكَ، ﴿فَنُجِّيَ مَنْ نَشَاءُ﴾ [[في ت: "فننجي".]]
وَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ السُّلَمِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وعلي بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، وَالْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِهِ.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَارِمٌ [[في ت: "غارم".]] أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ [[في أ: "شعبة".]] حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حُرة [[في ت، أ: "أبي حمزة".]] الجزرِيّ قَالَ: سَأَلَ فَتَى مِنْ قُرَيْشٍ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، كَيْفَ هَذَا الْحَرْفُ، فَإِنِّي إِذَا أَتَيْتُ عَلَيْهِ تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَا أَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ ؟ قَالَ: نَعَمْ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ مِنْ قَوْمِهِمْ أَنْ يصدِّقوهم، وَظَنَّ المرسَلُ إِلَيْهِمْ أَنَّ الرُّسُلَ كَذَبوا. فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ مزاحم: ما رأيت كاليوم قط رجل يُدْعَى إِلَى عِلْمٍ فَيَتَلَكَّأُ! لَوْ رَحَلْتُ فِي هَذِهِ إِلَى الْيَمَنِ كَانَ قَلِيلًا.
ثُمَّ رَوَى ابْنُ جَرِيرٍ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ: أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ يَسَار سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ ذَلِكَ، فَأَجَابَهُ بِهَذَا الْجَوَابِ، فَقَامَ إِلَى سَعِيدٍ فَاعْتَنَقَهُ، وَقَالَ: فرَّج اللَّهُ عَنْكَ كَمَا فَرجت عَنِّي.
وَهَكَذَا رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ فَسَّرَهَا كَذَلِكَ، وَكَذَا فَسَّرَهَا مُجَاهِدُ بْنُ جَبْر، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ، حَتَّى إِنَّ مُجَاهِدًا قَرَأَهَا: "وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كَذَبوا"، بِفَتْحِ الذَّالِ. رَوَاهُ ابْنُ جَرِيرٍ، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ مَنْ فَسَّرَهَا كَذَلِكَ يُعِيدُ الضَّمِيرَ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ إِلَى أَتْبَاعِ الرُّسُلِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعِيدُهُ إِلَى الْكَافِرِينَ مِنْهُمْ، أَيْ: وَظَنَّ الْكُفَّارُ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ كَذبوا -مُخَفَّفَةً -فِيمَا وَعَدُوا بِهِ مِنَ النَّصْرِ.
وَأَمَّا ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ [[في أ: "فضل".]] عَنْ جَحش [[في ت، أ: "محسن".]] بْنِ زِيَادٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حَذْلَم قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ﴾ مِنْ إِيمَانِ قَوْمِهِمْ أَنْ يُؤْمِنُوا بِهِمْ [[في ت، أ: "لهم".]] وَظَنَّ قَوْمُهُمْ حِينَ أَبْطَأَ الْأَمْرُ أَنَّهُمْ قَدْ كَذَبوا، بِالتَّخْفِيفِ. [[في ت، أ: "مخففة".]]
فَهَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ عَنْ كُلٍّ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَدْ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ عَلَى مَنْ فَسَّرَهَا بِذَلِكَ، وَانْتَصَرَ لَهَا ابْنُ جَرِيرٍ، وَوَجَّهَ الْمَشْهُورَ عَنِ الْجُمْهُورِ، وَزَيَّفَ الْقَوْلَ الْآخَرَ بِالْكُلِّيَّةِ، وردَّهُ وأبَاه، وَلَمْ يَقْبَلْهُ وَلَا ارْتَضَاهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. [[انظر ما قالته عائشة في: تفسير الطبري (١٦/٣٠٧، ٣٠٨) ورد الطبري لقول ابن عباس (١٦/٣٠٦) .]]
لَقَدْ كَانَ فِى قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌۭ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًۭا يُفْتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
There was certainly in their stories a lesson for those of understanding. Never was the Qur'an a narration invented, but a confirmation of what was before it and a detailed explanation of all things and guidance and mercy for a people who believe.
ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
در سرگذشت آنها درس عبرتی برای صاحبان اندیشه بود! اینها داستان دروغین نبود؛ بلکه (وحی آسمانی است، و) هماهنگ است با آنچه پیش روی او (از کتب آسمانی پیشین) قرار دارد؛ و شرح هر چیزی (که پایه سعادت انسان است)؛ و هدایت و رحمتی است برای گروهی که ایمان میآورند!
Tafsir Ibn Kathir
Indeed in their stories, there is a lesson for men of understanding. It (the Qur'an) is not a forged statement but a confirmation of that which was before it and a detailed explanation of everything and a guide and a mercy for the people who believe (111)
A Lesson for Men Who have Understanding
Allah states here that the stories of the Messengers and their nations and how we saved the believers and destroyed the disbelievers are,
عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ
(a lesson for men of understanding), who have sound minds,
مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ
(It is not a forged statement.) Allah says here that this Qur'an could not have been forged; it truly came from Allah,
وَلَٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ
(but a confirmation of that which was before it) in reference to the previously revealed Divine Books, by which this Qur'an testifies to the true parts that remain in them and denies and refutes the forged parts that were added, changed and falsified by people. The Qur'an accepts or abrogates whatever Allah wills of these Books,
وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ
(and a detailed explanation of everything) Meaning the allowed, the prohibited, the preferred and the disliked matters. The Qur'an deals with the acts of worship, the obligatory and recommended matters, forbids the unlawful and discourages from the disliked. The Qur'an contains major facts regarding the existence and about matters of the future in general terms or in detail. The Qur'an tells us about the Lord, the Exalted and Most Honored, and about His Names and Attributes and teaches us that Allah is glorified from being similar in any way to the creation. Hence, the Qur'an is,
هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(a guide and a mercy for the people who believe.) with which their hearts are directed from misguidance to guidance and from deviation to conformance, and with which they seek the mercy of the Lord of all creation in this life and on the Day of Return. We ask Allah the Most Great to make us among this group in the life of the present world and in the Hereafter, on the Day when those who are successful will have faces that radiate with light, while those whose faces are dark will end up with the losing deal.
This is the end of the Tafsir of Surah Yusuf; and all the thanks and praises are due to Allah, and all our trust and reliance are on Him Alone.
Tafsir Ibn Kathir
عبرت و نصیحت نبیوں کے واقعات، مسلمانوں کی نجات، کافروں کی ہلاکت کے قصے، عقلمندوں کے لئے بڑی عبرت و نصیحت والے ہیں۔ یہ قرآن بناوٹی نہیں بلکہ اگلی آسمانی کتابوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ ان میں جو حقیقی باتیں اللہ کی ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور جو تحریف و تبدیلی ہوئی ہے اسے چھانٹ دیتا ہے ان کی دو باتیں باقی رکھنے کی ہیں انہیں باقی رکھتا ہے۔ اور جو احکام منسوخ ہوگئے انہیں بیان کرتا ہے۔ ہر ایک حلال و حرام، محبوب و مکروہ کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ طاعات واجبات، مستحبات، محرمات، مکروہات وغیرہ کو بیان فرماتا ہے اجمالی اور تفصیلی خبریں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل وعلا کی صفات بیان فرماتا ہے اور بندوں نے جو غلطیاں اپنے خالق کے بارے میں کی ہیں ان کی اصلاح کرتا ہے۔ مخلوق کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اللہ کی کوئی صفت اس کی مخلوق میں ثابت کریں۔ پس یہ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے، ان کے دل ضلالت سے ہدایت اور جھوٹ سے سچ اور برائی سے بھلائی کی راہ پاتے ہیں اور رب العباد سے دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کرلیتے ہیں۔ ہماری بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دنیا آخرت میں ایسے ہی مومنوں کا ساتھ دے اور قیامت کے دن جب کہ بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے منہ کالے ہوجائیں گے، ہمیں مومنوں کے ساتھ نورانی چہروں میں شامل رکھے آمین۔ الحمد للہ سورة یوسف کی تفسیر ختم ہوگئی۔ اللہ کا شکر ہے وہی تعریفوں کے لائق ہے اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔
Tafsir Ibn Kathir
يَقُولُ تَعَالَى: لَقَدْ كَانَ فِي خَبَرِ الْمُرْسَلِينَ مَعَ قَوْمِهِمْ، وَكَيْفَ أَنْجَيْنَا [[في ت، أ: "نجينا".]] الْمُؤْمِنِينَ وَأَهْلَكْنَا الْكَافِرِينَ ﴿عِبْرَةٌ لأولِي الألْبَابِ﴾ وَهِيَ الْعُقُولُ، ﴿مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى﴾ أَيْ: وَمَا كَانَ لِهَذَا الْقُرْآنِ أَنْ يُفْتَرَى مِنْ دُونِ اللَّهِ، أَيْ: يُكَذَّبَ ويُختلق، ﴿وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ﴾ أَيْ: مِنَ الْكُتُبِ الْمُنَزَّلَةِ مِنَ السَّمَاءِ، وَهُوَ يُصَدِّقُ مَا فِيهَا مِنَ الصَّحِيحِ، وَيَنْفِي مَا وَقَعَ فِيهَا مِنْ تَحْرِيفٍ وَتَبْدِيلٍ وَتَغْيِيرٍ، وَيَحْكُمُ عَلَيْهَا بِالنَّسَخِ أَوِ التَّقْرِيرِ، ﴿وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ﴾ مِنْ تَحْلِيلٍ وَتَحْرِيمٍ، وَمَحْبُوبٍ وَمَكْرُوهٍ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَمْرِ بِالطَّاعَاتِ وَالْوَاجِبَاتِ وَالْمُسْتَحَبَّاتِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُحَرَّمَاتِ وَمَا شَاكَلَهَا مِنَ الْمَكْرُوهَاتِ، وَالْإِخْبَارِ عَنِ الْأُمُورِ عَلَى الْجَلِيَّةِ، وَعَنِ الْغُيُوبِ الْمُسْتَقْبَلَةِ الْمُجْمَلَةِ وَالتَّفْصِيلِيَّةِ، وَالْإِخْبَارِ عَنِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِالْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ، وَتَنْزِيهِهِ عَنْ مُمَاثَلَةِ الْمَخْلُوقَاتِ، فَلِهَذَا كَانَ: ﴿هُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ تَهْتَدِي بِهِ قُلُوبُهُمْ مِنَ الْغَيِّ إِلَى الرَّشَادِ، وَمِنَ الضَّلَالَةِ إِلَى السَّدَادِ، وَيَبْتَغُونَ بِهِ الرَّحْمَةَ مِنْ رَبِّ الْعِبَادِ، فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْمَعَادِ. فَنَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، يَوْمَ يَفُوزُ بِالرِّبْحِ المُبْيَضَّة وُجُوهُهُمُ النَّاضِرَةُ، وَيَرْجِعُ [[في ت: "وترجع".]] المسودَّة وجوهُهم بِالصَّفْقَةِ الْخَاسِرَةِ.
آخَرُ تَفْسِيرِ سُورَةِ يُوسُفَ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ وَبِهِ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْهِ التكلان، وهو حسبنا ونعم الوكيل.