1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ
Say, "I seek refuge in the Lord of mankind,
کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
بگو: پناه میبرم به پروردگار مردم،
Tafsir Ibn Kathir
Say: "I seek refuge with the Lord of An-Nas, (1)"The King of An-Nas, (2)"The God of An-Nas, (3)"From the evil of the whisperer who withdraws. (4)"Who whispers in the breasts of An-Nas. (5)"Of Jinn and An-Nas. (6)
These are three attributes from the attributes of the Lord, the Mighty and Majestic. They are lordship, sovereignty and divinity. Thus, He is the Lord of everything, the King of everything and the God of everything. All things are created by Him, owned by Him, and subservient to Him. Therefore, He commands whoever is seeking protection to seek refuge with the One Who has these attributes from the evil of the whisperer who withdraws. This (the whisperer) is the devil that is assigned to man. For verily, there is not any of the Children of Adam except that he has a companion that beautifies wicked deeds for him. This devil will go to any lengths to confuse and confound him. The only person who is safe is He Whom Allah protects.
It is confirmed in the Sahih that he (the Prophet ﷺ) said,
مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ
(There is not a single one of you except that his companion (a devil) has been assigned to him.) They (the Companions) said, "What about you, O Messenger of Allah?" He replied,
نَعَمْ، إِلَّا أَنَّ اللهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ، فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ
(Yes. However, Allah has helped me against him and he has accepted Islam. Thus, he only commands me to do good.)
It is also confirmed in the Two Sahihs from Anas, who reported the story of Safiyyah when she came to visit the Prophet ﷺ while he was performing I'tikaf, that he went out with her during the night to walk her back to her house. So, two men from the Ansar met him (on the way). When they saw the Prophet ﷺ, they began walking swiftly. So, the Messenger of Allah ﷺ said,
عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ
(Slow down! This is Safiyyah bint Huyay!)
They said, "Glory be to Allah, O Messenger of Allah!" He said,
إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا، أَوْ قَالَ: شَرًّا
(Verily, Shaytan runs in the Son of Adam like the running of the blood. And verily, I feared that he might cast something into your hearts – or he said – evil.)
Sa'id bin Jubayr reported that Ibn 'Abbas said concerning Allah's statement,
الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ
(The whisperer (Al-Waswas) who withdraws.) "The devil who is squatting (perched) upon the heart of the Son of Adam. So when he becomes absentminded and heedless he whispers. Then, when he remembers Allah he withdraws." Mujahid and Qatadah also said this.
Al-Mu'tamir bin Sulayman reported that his father said, "It has been mentioned to me that Shaytan is Al-Waswas. He blows into the heart of the Son of Adam when he is sad and when he is happy. But when he (man) remembers Allah, Shaytan withdraws." Al-'Awfi reported from Ibn 'Abbas;
الْوَسْوَاسِ
(The whisperer.)
"He is Shaytan. He whispers and then when he is obeyed, he withdraws." As for Allah's saying;
الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ
(Who whispers in the breasts of An-Nas.) Is this specific for the Children of Adam as is apparent, or is it general, including both mankind and Jinns?
There are two views concerning this. This is because they (the Jinns) are also included in the usage of the word An-Nas (the people) in most cases.
Ibn Jarir said, "The phrase Rijalun min Al-Jinn (Men from the Jinns)[referring to Quran 72:6] has been used in reference to them, so it is not strange for the word An-Nas to be applied to them also." Then Allah says,
مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ
(Of Jinn and An-Nas.) Is this explanatory of Allah's statement,
الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ
(Who whispers in the breasts of An-Nas.)?
Then, Allah explains this by saying,
مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ
(Of Jinn and An-Nas.) This is supportive of the second view. It has also been said that Allah's saying,
مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ
(Of Jinn and An-Nas) is an explanation of who is it that whispers into the breasts of mankind from the devils of mankind and Jinns. This is similar to Allah's saying,
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا
(And so We have appointed for every Prophet enemies – Shayatin among mankind and Jinn, inspiring one another with adorned speech as a delusion.)(6:112)
Imam Ahmad recorded that Ibn 'Abbas said, "A man came to the Prophet ﷺ and said, 'O Messenger of Allah! Sometimes I say things to myself that I would rather fall from the sky than say (aloud openly).' The Prophet ﷺ said,
اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرٌ الْحَمْدُ للهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ
(Allah is Most Great! Allah is Most Great! All praise is due to Allah Who sent his (Shaytan's) plot back as only a whisper.)"
Abu Dawud and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
This is the end of the Tafsir. All praise and thanks are due to Allah, the Lord of all that exists. Tafsir Ibn Kathir
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ٭٭ اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہؤی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برت رصفات والے اللہ کی پناہ میں آجائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو وب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔ صحیح حدیث شری میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا ہاں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجیھ صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے۔ بخاری مسلم کی اور حدیث میں حضرت انس ؓ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ حضرت ﷺ جب اعتکاف میں تھے تو ام المومنین حضرت صفیہ ؓ آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو حضور ﷺ نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا سنو ! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ؓ ہیں انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ ﷺ اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ آپ نے فرمایا انس ان کے خون کے جاری ہنے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجیھ خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے، حافظ ابو یعلی موصلی رحمتہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب تو اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کرلیتا ہے، یہی وسو اس الحناس ہے، یہ حدیث غریب ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو آنحضرت ﷺ نے فرمایا یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم بسم اللہ کہو تو و گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کے برابر ہوجاتا ہے، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہوجاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہوجاتا ہے اور غالب آجاتا ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ تعالیٰعنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہوا اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو، حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں شیطان ابن آدم کے دل پر چنگل مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا، سلیمان فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جاں انسان نے اسکی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے، پھر فرمایا جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ ناس جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آجاتا ہے۔ قرآن میں اور جگہ ہے برجال من الجن کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ ناس میں داخل کرلینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنتا کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ اس کے بعد کے جملے من الجنتہ والناس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسو اس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان جیسے اور جگہ ہے (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ۭ وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ01102) 6۔ الانعام :112) یعنی اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمنی انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنور کر ڈالتے رہتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا نماز بھی پڑھی ؟ میں نے کہا نہیں۔ فرمایا کھڑے ہوجاؤ اور دو رکعت ادا کرلو۔ میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا اے ابوذر اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں، میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے، میں نے پوچھا روزہ ؟ فرمایا کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر وثواب لا انتہا ہے۔ میں نے پھر پوچھا صدقہ ؟ حضور ﷺ نے فرمایا بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا۔ میں نے پھر عرض کی حضور ﷺ کونسا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا، میں نے سوال کیا حضور ﷺ سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ آپ نے فرمایا حضرت آدم ؑ ، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی، میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ رسول اللہ ﷺ رسول کتنے ہوئے ؟ فرمایا تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت اور کبھی فرمایا تین سو پندرہ، میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کونسی ہے ؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا آیت الکرسی (اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ ڬ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ02505) 2۔ البقرة :255) یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابو حاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے، فا اللہ اعلم، مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ ہی کے لئے حمد وثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا، یہ حدیث ابو داؤد اور نسائی میں بھی ہے۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ والحمد اللہ رب العالمین اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ آمین الہ الحق امین ! والحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام و علی جمیع المرسلین Tafsir Ibn Kathir
سورة الناس
* *
هَذِهِ ثَلَاثُ صِفَاتٍ [[في هـ: "صفة" والمثبت من م، أ.]] مِنْ صِفَاتِ الرَّبِّ، عَزَّ وَجَلَّ؛ الرُّبُوبِيَّةُ، وَالْمُلْكُ، وَالْإِلَهِيَّةُ: فَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ وَإِلَهُهُ، فَجَمِيعُ الْأَشْيَاءِ مَخْلُوقَةٌ لَهُ، مَمْلُوكَةٌ عَبِيدٌ لَهُ، فَأَمَرَ الْمُسْتَعِيذَ أَنْ يَتَعَوَّذَ بِالْمُتَّصِفِ بِهَذِهِ الصِّفَاتِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ، وَهُوَ الشَّيْطَانُ الْمُوَكَّلُ بِالْإِنْسَانِ، فَإِنَّهُ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَلَهُ قَرِينٌ يُزَين لَهُ الْفَوَاحِشَ، وَلَا يَأْلُوهُ جُهْدًا فِي الْخَبَالِ. وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَم اللَّهُ، وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ أَنَّهُ: "مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ وُكِل بِهِ قَرِينَةٌ". قَالُوا: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "نَعَمْ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ، فَأَسْلَمَ، فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ" [[رواه مسلم في صحيحه برقم (٢٨١٤) مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.]] وَثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ زِيَارَةِ صَفِيَّةَ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ مُعْتَكَفٌ، وَخُرُوجِهِ مَعَهَا لَيْلًا لِيَرُدَّهَا إِلَى مَنْزِلِهَا، فَلَقِيَهُ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَسْرَعَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: "عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيي". فَقَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ [[في أ: "من الإنسان".]] مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا، أَوْ قَالَ: شَرًّا" [[صحيح مسلم برقم (٢١٧٤) هو في صحيح البخاري برقم (٢٠٣٥،٦٢١٩،٧١٧١) من حديث صفية، رضي الله عنها.]] .
وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا عِدِيُّ بْنُ أبي عمَارة، حدثنا زيادًا [[في م: "زياد" وهو الصواب.]] النُّمَيْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ وَاضِعٌ خَطْمَهُ [[في أ: "خرطومه".]] عَلَى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، فَإِنْ ذَكَرَ [[في أ: "ذكر الله".]] خَنَس، وَإِنْ نَسِيَ [[في أ: "نسى الله".]] الْتَقَمَ قَلْبَهُ، فَذَلِكَ الْوَسْوَاسُ الْخَنَّاسُ" [[مسند أبي يعلى (٧/٢٧٨،٢٧٩) قال الحافظ ابن حجر في الفتح (٨/٧٤٢) : "إسناده ضعيف"؛ وذلك لضعف زياد النميري والكلام في عدي بن أبي عمارة.]] غَرِيبٌ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حدثنا شعبة، عن عَاصِمٍ، سَمِعْتُ أَبَا تَمِيمَةَ يُحَدث عَنْ رَديف رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قال: عَثَر بِالنَّبِيِّ ﷺ حمارهُ، فَقُلْتُ: تَعِس الشَّيْطَانُ. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "لَا تَقُلْ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ؛ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، تعاظَم، وَقَالَ: بِقُوَّتِي صَرَعْتُهُ، وَإِذَا قَلْتَ: بِسْمِ اللَّهِ، تَصَاغَرَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الذُّبَابِ" [[المسند (٥/٥٩) .]] .
تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ، إِسْنَادُهُ [[في م: "إسناد".]] جَيِّدٌ قَوِيٌّ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْقَلْبَ مَتَى ذَكَرَ اللَّهَ تَصَاغَرَ الشَّيْطَانُ وغُلِب، وَإِنْ لَمْ يُذْكَرِ اللَّهَ تَعَاظَمَ وَغَلَبَ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي المسجد، جاءه الشيطان فأبس بِهِ كَمَا يُبَس الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ، فَإِذَا سَكَنَ لَهُ زَنَقَهُ -أَوْ: أَلْجَمَهُ". قَالَ أَبُو هُرَيرة: وَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِكَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاهُ مَائِلًا-كَذَا-لَا يَذْكُرُ اللَّهَ، وَأَمَّا الْمُلْجَمُ فَفَاتِحٌ فَاهُ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ. تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ [[المسند (٢/٢٣٠) ، وقال الهيثمي في المجمع (١/٢٤٢) : "رجاله رجال الصحيح".]] .
وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ﴾ قَالَ: الشَّيْطَانُ جَاثِمٌ عَلَى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، فَإِذَا سَهَا وَغَفَلَ وَسْوَسَ، فَإِذَا ذَكَرَ اللَّهُ خَنَس. وَكَذَا قَالَ مُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ.
وَقَالَ الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ: ذُكرَ لِي أَنَّ الشَّيْطَانَ، أَوِ: الْوَسْوَاسَ يَنْفُثُ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ عِنْدَ الْحُزْنِ وَعِنْدَ الْفَرَحِ، فَإِذَا ذَكَرَ اللَّهُ خَنَسَ.
وَقَالَ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ﴿الْوَسْوَاس﴾ قَالَ: هُوَ الشَّيْطَانُ يَأْمُرُ، فَإِذَا أُطِيعَ خَنَسَ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ﴾ هَلْ يَخْتَصُّ هَذَا بِبَنِي آدَمَ -كَمَا هُوَ الظَّاهِرُ -أَوْ يَعُمُّ بَنِي آدَمَ وَالْجِنَّ؟ فِيهِ قَوْلَانِ، وَيَكُونُونَ قَدْ دَخَلُوا فِي لَفْظِ النَّاسِ تَغْلِيبًا.
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَقَدِ اسْتَعْمَلَ فِيهِمْ (رجَالٌ منَ الجنَ) فَلَا بِدَعَ فِي إِطْلَاقِ النَّاسِ عَلَيْهِمْ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ هَلْ هُوَ تَفْصِيلٌ لِقَوْلِهِ: ﴿الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ﴾ ثُمَّ بَيَّنَهُمْ فَقَالَ: ﴿مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ وَهَذَا يُقَوِّي الْقَوْلَ الثَّانِيَ. وَقِيلَ قَوْلُهُ: ﴿مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ تَفْسِيرٌ لِلَّذِي يُوسوس فِي صُدُورِ النَّاسِ، مِنْ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الإنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا﴾ [الْأَنْعَامِ: ١١٢] ، وَكَمَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ:
حَدَّثَنَا وَكِيع، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَر الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَلَسْتُ، فَقَالَ: "يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ ". قُلْتُ: لَا. قَالَ: "قُمْ فَصَلِّ". قَالَ: فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ: "يَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِالْلَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ".
قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةُ؟ قَالَ: "خَيْرُ مَوْضُوعٍ، مَنْ شَاءَ أَقَلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الصَّوْمُ؟ قَالَ: "فَرْضٌ يُجْزِئُ، وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالصَّدَقَةُ؟ قَالَ: "أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّهَا [[في م: "فأيها".]] أَفْضَلُ؟ قَالَ: "جُهد مِنْ مُقل، أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: "آدَمُ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَنَبِيٌّ [[في م: "ونبيا".]] كَانَ؟ قَالَ: "نَعِمَ، نَبِيٌّ مُكَلَّم". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمِ الْمُرْسَلُونَ؟ قَالَ: "ثَلَثُمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشْرَ، جَمًّا غَفيرًا". وَقَالَ مَرَّةً: "خَمْسَةَ عَشْرَ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أعظم؟ قَالَ: "آيَةُ الْكُرْسِيِّ: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾
وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ، بِهِ [[المسند (٥/١٧٨) وسنن النسائي (٨/٢٧٥) .]] . وَقَدْ أَخْرَجَ هَذَا الْحَدِيثَ مُطَوَّلًا جِدًّا أَبُو حَاتِمِ بْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ، بِطَرِيقٍ آخَرَ، وَلَفْظٍ آخَرَ مُطَوَّلٍ جِدًّا [[صحيح ابن حبان برقم (٩٤) "موارد"، (١/٢٨٧) "الإحسان" من طريق إبراهيم بن هشام بن يحيى بن يحيى الغساني، عن أبيه عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانَيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رضي الله عنه، وقد قال ابن عدي عن هذا الحديث: "هذا الحديث منكر من هذا الطريق".]] فَاللَّهُ أَعْلَمُ.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا وَكِيع، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الهَمْداني، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحَدِّثُ [[في م: "لأحدث".]] نَفْسِي بِالشَّيْءِ لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ".
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، مِنْ حَدِيثِ مَنْصُورٍ -زَادَ النَّسَائِيُّ: وَالْأَعْمَشُ -كِلَاهُمَا عَنْ ذَرٍّ، بِهِ [[المسند (١/٢٣٥) وسنن أبي داود برقم (٥١١٢) وسنن النسائي الكبرى برقم (١٠٥٠٣) .]] .
آخِرُ التَّفْسِيرِ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [[في أ: "والحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى".]] . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ [[في أ: "وسلم تسليما أبدا دائما إلى يوم الدين".]] . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ [[في أ: "ورضي الله عن أصحاب رسول الله".]] . حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ.
وَكَانَ الْفَرَاغُ مِنْهُ فِي الْعَاشِرِ مِنْ جُمَادَى الْأُولَى سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَمَانِينَ. وَالْحَمْدُ لَهُ وَحْدَهُ [[في م: "آخر التفسير ويليه فضائل القرآن للمؤلف أيضا، وبه يتم الكتاب إن شاء الله، ولله الحمد والمنة على التمام، إنه ولي الإنعام".
وقد جاء في خاتمة النسخة "هـ" هذه الخاتمة للناسخ:
"الحمد لله الذي رفع السماء بغير عماد، وبسط الأرض وثبتها بالأطواد، ومنح معرفته ومحبته من شاء من العباد، وأقام لدينه أولياء ينصرونه ويقومون به، وجعل منهم النجباء والأقطاب والأوتاد، وأعلى منار الدين بالعلماء العاملين، وأوضح بهم طرق الرشاد، وقمع بهم أهل الزيغ والأهواء والبدع والفساد، وثبت لهم دينهم بالنقل عن نبيهم بصحيح الإسناد، ونفى عنهم التدليس والشذوذ والانفراد.
وأشهد أن لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، المتعالي عن الشركاء والنظراء والأنداد، المنزه عن الحلول والاتحاد والإلحاد.
وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، وحبيبه وخليله، سيد العباد، صلى الله عليه وعلى آله النجباء الأنجاد، وصحابته السادة الأبرار الأمجاد، صلاة تدوم وتقوم ما قامت السموات والأرض بأمره، وقابل البياض السواد.
وبعد، فقد أمرني السيد الجليل، من وصل الله له جناح الصنيع الجميل، وواصل عليه السول، وأوصل إليه المأمول، وعمر بحبه ربوع أنسي، وأمطر بفيضه ربيع نفسي، مولانا وسيدنا العبد الفقير إلى الله سبحانه الآمل الراجي عفوه الكريم وإحسانه، قاضي القضاة، حاكم الحكام، نجم الدين حجة الإسلام والمسلمين، سيد العلماء في العالمين، بهاء الملة، لسان الشريعة، عز السنة، حصن الأمة، خطيب الخطباء، إمام البلغاء، غرة الزمان، ناصر الإيمان شيخ شيوخ العارفين، أبو حفص عمر - ابن سيدنا ومولانا العبد الفقير إلى الله تعالى - الشيخ الإمام العلامة، والحبر الفهامة، قدوة العلماء العاملين، أبي محمد حجي السعدي الشافعي - أمر - أعلى الله أمره، وأسد قدره، من لا يتقلب إلا في طاعته، ولا يتصرف إلا في مرضاته - أن يكتب برسم خزانة تفسير الإمام العالم الكبير، العلامة عماد الدين ابن كثير - رحمه الله وأرضاه، وجعل بحبوحة الجنة مقره ومثواه. فامتثلت أمره بالسمع والطاعة، وعددت هذا الأمر من أنفس البضاعة، مع أني في الكتابة قليل الصناعة. فكتبت قدر ما قدرت عليه، ووصلت إليه. فإن صادفت قبولا وبلغت مأمولا، فيكون سعدي سعيدا، ويقع سهمي سديدا.. فإن وقفت بي قدرتي دون همتي ... فمبلغ علمي والمعاذير تقبل
قد جمعت هذه الخزانة الشريفة أشتات العلوم على الإطلاق، من رام مثلها فهو مقصر عن روم أسباب اللحاق، خصوصا إذا كان بها هذا التفسير الذي مادته سنن المصطفى المنبه على جوامع ما يزداد اللبيب بها بصيرة في علمه النافع، إذ كان صلى الله عليه وسلم قد أوتي جوامع الكلام، وعلم فصل الخطاب. فلم يسمع الناس كلاما أعم نفعا، ولا أقصر لفظا، ولا أعدل وفرا، ولا أجمل مذهبا، ولا أكرم مطلبا، ولا أحسن موقعا، ولا أسهل مخرجا. ولا أفصح عن معناه، ولا أبين في فحواه صلى الله عليه وسلم.
فلله در مولانا؛ إذا جمع الفضائل، ونظم آحاد العقائل، وحاز من العلم الذري والغوارب. فلا يخفى على ذي لب أنه أغرق في الفهم فصولا، وأعرق في العلم أصولا، فأقول مختصرا، وعما يليق بمدحه معتذرا، عسى يمر به من تضاعيف ثنائي عليه ما يبلغني به الزلفى في حبه، والقربى من قلبه، وتلك أمنيتي حين ألقى منيتي، لا أتعداها، ولا أتمنى سواها ولله در القائل: إذا ابن حجي حادت لنا يده ... لم يحمد الأجودان البحر والمطر
وإن أضاءت لنا أنوار غرته ... تضاءل الأنوران الشمس والقمر
وإن مضى رأيه أو جد عزمته ... تأخر الماضيان السيف والقدر
من لم يبت حذرا من خوف سطوته ... لم يدر ما المزعجان: الخوف والحذر؟
كأنه الدهر في نعمي وفي نقم ... إذا تعاقب منه النفع والضرر
كأنه وزمام الدهر في يده ... يدا عواقب ما يأتي وما يذر
فالحمد لله الذي جعل جمال منظرك موازيا لكمال مخبرك، وشامخ فرعك مقارنا لراسخ عنصرك، والله حسبي فيك من كل ما يعوذ العبد به المولى: واسلم وعش لا زلت في نعمة ... أنت بها من غيرك الأولى
وصلى الله على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم.
كتبه الفقير محمد بن علي الصوفي البواب، لمنعاه التضائية، بدمشق المحروسة، حامدا ومصليا، ومحسبلا ومحوقلا، والحمد لله وحده".
يقول الفقير إلى عفو ربه سامي بن محمد بن عبد الرحمن بن سلامة: وكان الانتهاء من تحقيق تفسير القرآن العظيم فجر يوم الأربعاء الثاني من شهر ربيع الأول سنة سبع عشرة وأربعمائة وألف من الهجرة النبوية في مدينة الرياض، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.]] .