1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ لِإِيلَٰفِ قُرَيْشٍ
For the accustomed security of the Quraysh -
قریش کے مانوس کرنے کے سبب
(کیفر لشکر فیلسواران) بخاطر این بود که قریش (به این سرزمین مقدس) الفت گیرند (و زمینه ظهور پیامبر فراهم شود)!
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ - فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ - الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ
(1. For the Ilaf of the Quraysh.)(2. Their Ilaf caravans, in winter and in summer.)(3. So, let them worship the Lord of this House.)(4. Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.)
This Surah has been separated from the one that preceded it in the primary Mushaf (the original copy of 'Uthman). They (the Companions) wrote "In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful" on the line (i.e., the space) between these two Surahs. They did this even though this Surah is directly related to the one which precedes it, as Muhammad bin Ishaq and 'Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam have both clarified.
This is because the meaning of both of them is, "We have prevented the Elephant from entering Makkah and We have destroyed its people in order to gather (Ilaf) the Quraysh, which means to unite them and bring them together safely in their city."
It has also been said that the meaning of this (Ilaf) is what they would gather during their journey in the winter to Yemen and in the summer to Ash-Sham through trade and other than that. Then they would return to their city in safety during their journeys due to the respect that the people had for them because they were the residents of Allah's sanctuary. Therefore, whoever knew them would honor them. Even those who came to them and traveled with them, would be safe because of them. This was their situation during their journeys and travels during their winter and summer. In reference to their living in the city, then it is as Allah said,
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ
(Have they not seen that We have made it a secure sanctuary, while men are being snatched away from all around them?)(29:67)
Thus, Allah says,
لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - إِيلَافِهِمْ
(For the Ilaf of the Quraysh. Their Ilaf) This is a subject that has been transferred from the first sentence in order to give it more explanation. Thus, Allah says,
إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ
(Their Ilaf caravans, in winter and in summer.) Ibn Jarir said, "The correct opinion is that the letter Lam is a prefix that shows amazement. It is as though He (Allah) is saying, 'You should be amazed at the uniting (or taming) of the Quraysh and My favor upon them in that.'" He went on to say, "This is due to the consensus of the Muslims that they are two separate and independent Surahs."
Then Allah directs them to be grateful for this magnificent favor in His saying,
فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ
(So, let them worship the Lord of this House.) meaning, then let them single Him out for worship, just as He has given them a safe sanctuary and a Sacred House. This is as Allah says,
إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(I have been commanded only to worship the Lord of this city, Who has sanctified it and to Whom belongs everything. And I am commanded to be from among the Muslims.)(27:91)
Then Allah says,
الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ
(Who has fed them against hunger,) meaning, He is the Lord of the House and He is the One Who feeds them against hunger.
وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ
(And has made them safe from fear.) meaning, He favors them with safety and gentleness, so they should single Him out for worship alone, without any partner. They should not worship any idol, rival or statue besides Him. Therefore, whoever accepts this command, Allah will give him safety in both this life and the Hereafter. However, whoever disobeys Him, He will remove both of them from him. This is as Allah says,
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ - وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظَالِمُونَ
(And Allah puts forward the example of a township, that dwelt secure and well-content: its provision coming to it in abundance from every place, but it denied the favors of Allah. So, Allah made it taste extreme of hunger and fear, because of that which they used to do. And verily, there had come unto them a Messenger from among themselves, but they denied him, so the torment overtook them while they were wrongdoers.)(16:112-113) Tafsir Ibn Kathir
امن وامان کی ضمانت :موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورة فیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان بسم اللہ کی آیت کا فاصلہ ہے مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہ سے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع میں ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں میں کیا اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن وامان سے طے کرسکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت ہوتی تھی بلکہ ان کے ساتھ بھی جو ہوتا تھا امن وامان سے سفر طے کرلیتا تھا اسی طرح وطن سے ہر طرح کا امن انہیں حاصل ہوتا تھا جیسے کہ اور جگہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنادیا ہے اس کے آس پاس تو لوگ اچک لئے جاتے ہیں لیکن یہاں کے رہنے والے نڈر ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں لا یلف، میں پہلا لام تعجب کا لام ہے اور دونوں سورتیں بالکل جداگانہ ہیں جیسا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔ تو گویا یوں فرمایا جارہا ہے کہ تم قریشیوں کے اس اجتماع اور الفت پر تعجب کرو کہ میں نے انہیں کیسی بھاری نعمت عطا فرما رکھی ہے انہیں چاہیے کہ میری اس نعمت کا شکر اس طرح ادا کریں کہ صرف میری ہی عبادت کرتے رہیں جیسے اور جگہ ہے (قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَلَآ اُشْرِكَ بِهٖ ۭ اِلَيْهِ اَدْعُوْا وَاِلَيْهِ مَاٰبِ 36) 13۔ الرعد :36) ، یعنی اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی ہی عبادت کروں جس نے اسے حرم بنایا جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا مطیع اور فرمانبردار ہوں پھر فرمایا ہے وہ رب بیت جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور خوف میں نڈر رکھا نا ہیں چاہیے کہ اس کی عبادت میں کسی چھوٹے بڑے کو شریک نہ ٹھہرائیں جو اللہ کے اس حکم کی بجا آوری کرے گا وہ تو دنیا کے اس امن کے ساتھ آخرت کے دن بھی امن وامان سے رہے گا، اور اس کی نافرمانی کرنے سے یہ امن بھی بےامنی سے اور آخرت کا امن بھی ڈر خف اور انتہائی مایوسی سے بدل جائے گا جیسے اور جگہ فرمایا (وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ01102) 16۔ النحل :112) ، اللہ تعالیٰ ان بستی والوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن واطمینان کے ساتھ تھے ہر جگہ سے بافراغت روزیاں کھچی چلی آتی تھیں لیکن انہیں اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے کی سوجھی چناچہ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا یہی ان کے کرتوت کا بدلہ تھا ان کے پاس ان ہی میں سے اللہ کے بھیجے ہوئے آئے لیکن انہوں نے انہیں جھٹلایا اس ظلم پر اللہ کے عذابوں نے انہیں گرفتار کرلیا ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریشیو ! تمہیں تو اللہ یوں راحت و آرام پہنچائے گھر بیٹھے کھلائے پلائے چاروں طرف بد امنی کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور تمہیں امن وامان سے میٹھی نیند سلائے پھر تم پر کیا مصیبت ہے جو تم اپنے اس پروردگار کی توحید سے جی چراؤ اور اس کی عبادت میں دل نہ لگاؤ بلکہ اس کے سوا دو سروں کے آگے سر جھکاؤ۔ الحمد اللہ سورة قریش کی تفسیر ختم ہوئی۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
ذِكْرُ حَدِيثٍ غَرِيبٍ فِي فَضْلِهَا: قَالَ الْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ "الْخِلَافِيَّاتِ": حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيد اللَّهِ النَّرْسِيُّ [[في م، أ، هـ: "الزينبي" وهو خطأ.]] حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ [بْنِ] [[زيادة من م، أ.]] أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "فَضَّلَ اللَّهُ قُرَيْشًا بِسَبْعِ خِلَالٍ: أَنِّي مِنْهُمْ [[في أ: "أني فيهم".]] وَأَنَّ النُّبُوَّةَ فِيهِمْ، وَالْحِجَابَةَ، وَالسِّقَايَةَ فِيهِمْ، وَأَنَّ اللَّهَ نَصَرَهُمْ عَلَى الْفِيلِ، وَأَنَّهُمْ عَبَدُوا اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، عَشْرَ سِنِينَ لَا يَعْبُدُهُ غَيْرُهُمْ، وَأَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِيهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ" ثُمَّ تَلَاهَا رَسُولُ اللَّهِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " لإيلافِ قُرَيْشٍ إِيلافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ ". [[ورواه البيهقي في مناقب الشافعي (١/٣٤) وهو في المستدرك (٢/٥٣٦) وقال الحاكم: "صحيح الإسناد ولم يخرجاه"، وتعقبه الذهبي فقال: "فيه يعقوب بن محمد الزهري ضعيف، وإبراهيم صاحب مناكير هذا أنكرها" وقد حسن الحافظ العراقي هذا الحديث. وللشيخ ناصر الدين الألباني مبحث حول هذا الحديث في السلسلة الصحيحة برقم (١٩٤٤) ذهب إلى تحسينه، والله أعلم.]]
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
هَذِهِ السُّورَةُ مَفْصُولَةٌ عَنِ الَّتِي قَبْلَهَا فِي الْمُصْحَفِ الْإِمَامِ، كَتَبُوا بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَإِنْ كَانَتْ مُتَعَلِّقَةً بِمَا قَبْلَهَا. كَمَا صَرَّحَ بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ؛ لِأَنَّ الْمَعْنَى عِنْدَهُمَا: حَبَسْنَا عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَأَهْلَكْنَا أَهْلَهُ ﴿لإيلافِ قُرَيْشٍ﴾ أَيْ: لِائْتِلَافِهِمْ وَاجْتِمَاعِهِمْ فِي بَلَدِهِمْ آمِنِينَ.
وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِذَلِكَ مَا كَانُوا يَأْلَفُونَهُ مِنَ الرِّحْلَةِ فِي الشِّتَاءِ إِلَى الْيَمَنِ، وَفِي الصَّيْفِ إِلَى الشَّامِ فِي الْمَتَاجِرِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى بَلَدِهِمْ آمِنِينَ فِي أَسْفَارِهِمْ؛ لِعَظَمَتِهِمْ عِنْدَ النَّاسِ، لِكَوْنِهِمْ سُكَّانَ حَرَمِ اللَّهِ، فَمَنْ عَرَفهم احْتَرَمَهُمْ، بَلْ مَنْ صُوفِيَ إِلَيْهِمْ وَسَارَ مَعَهُمْ أَمِنَ بِهِمْ. هَذَا [[في م: "وهذا".]] حَالُهُمْ فِي أَسْفَارِهِمْ وَرِحْلَتِهِمْ فِي شِتَائِهِمْ وَصَيْفِهِمْ. وَأَمَّا فِي حَالِ إِقَامَتِهِمْ فِي الْبَلَدِ، فَكَمَا قَالَ اللَّهُ: ﴿أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ﴾ [الْعَنْكَبُوتِ:٦٧] وَلِهَذَا قَالَ: ﴿لإيلافِ قُرَيْشٍ﴾ بَدَلٌ مِنَ الْأَوَّلِ وَمُفَسِّرٌ لَهُ. ولهذا قال: ﴿إِيلافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ﴾
وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: الصَّوَابُ أَنَّ "اللَّامَ" لَامُ التَّعَجُّبِ، كَأَنَّهُ يَقُولُ: اعْجَبُوا لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ وَنِعْمَتِي عَلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ. قَالَ: وَذَلِكَ لِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّهُمَا سُورَتَانِ مُنْفَصِلَتَانِ مُسْتَقِلَّتَانِ. [[تفسير الطبري (٣٠/١٩٨) .]]
ثُمَّ أَرْشَدَهُمْ إِلَى شُكْرِ هَذِهِ النِّعْمَةِ الْعَظِيمَةِ فَقَالَ: ﴿فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ﴾ أَيْ: فَلْيُوَحِّدُوهُ بِالْعِبَادَةِ، كَمَا جَعَلَ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا وَبَيْتًا مُحَرَّمًا، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ [النَّمْلِ:٩١]
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ﴾ أَيْ: هُوَ رَبُّ الْبَيْتِ، وَهُوَ " الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ " أَيْ: تَفَضَّلَ عَلَيْهِمْ بِالْأَمْنِ وَالرُّخْصِ [[في أ: "والترخص".]] فَلْيُفْرِدُوهُ بِالْعِبَادَةِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَلَا يَعْبُدُوا مِنْ دُونِهِ صَنَمًا وَلَا نِدًّا وَلَا وَثَنًا. وَلِهَذَا مَنِ اسْتَجَابَ لِهَذَا الْأَمْرِ جَمَع اللَّهُ لَهُ بَيْنَ أَمْنِ الدُّنْيَا وَأَمْنِ الْآخِرَةِ، وَمَنْ عَصَاهُ سَلَبَهُمَا مِنْهُ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [النَّحْلِ:١١٢-١١٣]
وَقَدْ قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو العَدَني، حَدَّثَنَا قَبِيصة، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "وَيْلُ أُمِّكُمْ، قُرَيْشٍ، لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ" [[ورواه الطبراني في المعجم الكبير (٢٤/١٧٧،١٧٨) من طريق قبيصة بن عقبة، عن سفيان، به.]] ثُمَّ قَالَ:
حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا المؤَمَّل بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى -يعني ابن يونس-عن عُبَيد الله ابن أَبِي زِيَادٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ. وَيَحْكُمُ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَكُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَكُمْ مِنْ خَوْفٍ".
هَكَذَا رَأَيْتُهُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَصَوَابُهُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، أُمِّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا [[وكذا في رواية الإمام أحمد في المسند (٦/٤٦٠) عن علي بن يحيى، عن عيسى بن يونس، عن عبد اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يزيد عن النبي صلى الله عليه وسلم.]] فَلَعَلَّهُ وَقَعَ غَلَطٌ فِي النُّسْخَةِ أَوْ فِي أَصْلِ الرِّوَايَةِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
آخر تفسير سورة "لإيلاف قريش".