1
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٱلْقَارِعَةُ
The Striking Calamity -
کھڑ کھڑانے والی
آن حادثه کوبنده،
Tafsir Ibn Kathir
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
الْقَارِعَةُ - مَا الْقَارِعَةُ - وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ - يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ - وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ - فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ - فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ - وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ - فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ - وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ - نَارٌ حَامِيَةٌ
(1. Al-Qari'ah.)(2. What is Al-Qari'ah?)(3. And what will make you know what Al-Qari'ah is?)(4. It is a Day whereon mankind will be like moths scattered about.)(5. And the mountains will be like wool, carded.)(6. Then as for him whose Balance will be heavy,)(7. He will live a pleasant life.)(8. But as for him whose Balance will be light,)(9. His mother will be Hawiyah.)(10. And what will make you know what it is?)(11. A fire Hamiyah!)
Al-Qariah is one of the names of the Day of Judgement, like Al-Haqqah, At-Tammah, As-Sakhkhah, Al-Ghashiyah aand other names. Then Allah intensifies concern and fright for it by saying,
وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ
(And what will make you know what Al-Qari'ah is?)
Then He explains this by saying,
يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ
(It is a Day whereon mankind will be like moths scattered about.) meaning, in their scattering, their dividing, their coming and their going, all due to being bewildered at what is happening to them, they will be like scattered moths. This is like Allah's statement,
كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ
(As if they were locusts spread abroad.)(54:7)
Allah said,
وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ
(And the mountains will be like wool, carded.) meaning, they will become like carded wool that has began to wear out (fade away) and be torn apart. Mujahid, 'Ikrimah, Sa'id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah, 'Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak and As-Suddi have all said,
كَالْعِهْنِ
(like wool ('Ihn).) "Woolen." Then Allah informs about the results received by those who performed the deeds, and the honor and disgrace they will experience based upon their deeds. He says,
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ
(Then as for him whose Balance will be heavy.) meaning, his good deeds are more than his bad deeds.
فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ
(He will live a pleasant life.) meaning, in Paradise.
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ
(But as for him whose Balance will be light.) meaning, his bad deeds are more than his good deeds. Then Allah says,
فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ
(His mother will be Hawiyah.) It has been said that this means he will be falling and tumbling headfirst into the fire of Hell, and the expression 'his mother' has been used to refer to his brain (as it is the mother of his head).
A statement similar to this has been reported from Ibn 'Abbas, 'Ikrimah, Abu Salih and Qatadah. Qatadah said, "He will fall into the Hellfire on his head." Abu Salih made a similar statement when he said, "They will fall into the Fire on their heads."
It has also been said that it means his mother that he will return to and end up with in the Hereafter will be Hawiyah, which is one of the names of the Hellfire. Ibn Jarir said, "Al-Hawiyah is only called his mother because he will have no other abode except for it." Ibn Zayd said, "Al-Hawiyah is the Fire, and it will be his mother and his abode to which he will return, and where he will be settled." Then he recited the Ayah,
وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ
(Their abode will be the Fire.)(3:151)
Ibn Abi Hatim said that it has been narrated from Qatadah that he said, "It is the Fire, and it is their abode." Thus, Allah says in explaining the meaning of Al-Hawiyah,
وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ
(And what will make you know what it is?).
Allah's statement
نَارٌ حَامِيَةٌ
(A fire Hamiyah!) meaning, extreme heat. It is a heat that is accompanied by a strong flame and fire. It is narrated from Abu Hurayrah that the Prophet ﷺ said,
نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي تُوقِدُونَ، جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ
(The fire of the Children of Adam that you all kindle is one part of the seventy parts of the fire of Hell.)
They (the Companions) said, "O Messenger of Allah! Isn't it sufficient?" He replied,
إِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا
(It is more than it by sixty-nine times.)
This has been recorded by Al-Bukhari and Muslim. In some of the wordings he stated,
إِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا، كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا
(It is more than it by sixty-nine times, each of them is like the heat of it.)
It has been narrated in a Hadith that Imam Ahmad recorded from Abu Hurayrah that the Prophet ﷺ said,
إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ
(Verily, the person who will receive the lightest torment of the people of the Hellfire will be a man who will have two sandals that will cause his brain to boil.)"
It has been confirmed in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ: نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ فِي الشِّتَاءِ مِنْ بَرْدِهَا، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ فِي الصَّيْفِ مِنْ حَرِّهَا
(The Hellfire complained to its Lord and said, "O Lord! Some parts of me devour other parts of me." So He (Allah) permitted it to take two breaths: one breath in the winter and one breath in the summer. Thus, the most severe cold that you experience in the winter is from its cold, and the most severe heat that you experience in the summer is from its heat.)
In the Two Sahihs it is recorded that he said,
إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
(When the heat becomes intense pray the prayer when it cools down, for indeed the intense heat is from the breath of Hell.) Tafsir Ibn Kathir
اعمال کا ترازو :قارعہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے حآقہ طآمہ صآخہ غاشیہ وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے جس طرح پروانے ہوتے ہیں اور جگہ فرمایا ہے کانھم جراد منتشر گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں پھر فرمایا پہاڑوں کا یہ حال ہوگا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہوجائیگا نیکوں پر چھا گئیں بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ جہنمی ہوجائیگا وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائیگا ام سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل ہاویہ میں جائیگا اور یہ بھی معن یہیں کہ فرشتے جہنم میں اسے کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے ھاویہ جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ ہاویہ کیا ہے ؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے حضرت اشعث بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے وہ کہتا ہے کہ وہ تو مرچکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو اپنی ماں ہاویہ میں پہنچا ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب صفتہ النار میں وارد کیا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے آمین ! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے لوگوں نے کہا حضرت ﷺ ہلاکت کو تو یہی کافی ہے آپ نے فرمایا ہاں لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے مسند کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا ستھواں حصہ ہونے کے بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے ؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہوگئی پس اب وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہونگی جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہوگا بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں ایک گرمی میں پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو یہ اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سخت یجہنم کے جوش کی وجہ سے ہے الحمد اللہ سورة قارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔ Tafsir Ibn Kathir
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقَارِعَةِ
وَهِيَ مَكِّيَّةٌ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
* *
﴿الْقَارِعَةُ﴾ مِنْ أَسْمَاءِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، كَالْحَاقَّةِ، وَالطَّامَّةِ، وَالصَّاخَّةِ، وَالْغَاشِيَةِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ.
ثُمَّ قَالَ مُعَظِّمًا أَمْرَهَا وَمُهَوِّلًا لِشَأْنِهَا: ﴿وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ﴾ ؟ ثُمَّ فَسَّرَ ذَلِكَ بِقَوْلِهِ: ﴿يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ﴾ أَيْ: فِي انْتِشَارِهِمْ وَتَفَرُّقِهِمْ، وَذَهَابِهِمْ وَمَجِيئِهِمْ، مِنْ حَيْرَتِهِمْ مِمَّا هُمْ فِيهِ، كَأَنَّهُمْ فَرَاشٌ مَبْثُوثٌ [[في أ: "منتشر".]] كَمَا قَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: ﴿كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُنْتَشِرٌ﴾
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ﴾ يَعْنِي: قَدْ صَارَتْ كَأَنَّهَا الصُّوفُ الْمَنْفُوشُ، الَّذِي قَدْ شَرَع فِي الذَّهَابِ وَالتَّمَزُّقِ.
قَالَ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَالْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، وَالضَّحَّاكُ، وَالسُّدِّيُّ: " الْعِهْنِ" الصُّوفُ.
ثُمَّ أَخْبَرَ تَعَالَى عَمَّا يَئُولُ إِلَيْهِ عَمَلُ الْعَامِلِينَ، وَمَا يَصِيرُونَ إِلَيْهِ مِنَ الْكَرَامَةِ أَوِ الْإِهَانَةِ، بِحَسْبِ أَعْمَالِهِمْ، فَقَالَ: ﴿فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ﴾ أَيْ: رَجَحَتْ حَسَنَاتُهُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ، ﴿فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ﴾ يَعْنِي: فِي الْجَنَّةِ. ﴿وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ﴾ أَيْ: رَجَحَتْ سَيِّئَاتُهُ عَلَى حَسَنَاتِهِ.
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ﴾ قِيلَ: مَعْنَاهُ: فَهُوَ سَاقِطٌ هَاوٍ بِأُمِّ رَأْسِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ. وعَبَّر عَنْهُ بِأُمِّهِ-يَعْنِي [[في م: "وهو".]] دِمَاغَهُ-رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعِكْرِمَةَ، وَأَبِي صَالِحٍ، وَقَتَادَةَ -قَالَ قَتَادَةُ: يَهْوِي فِي النَّارِ عَلَى رَأْسِهِ [[في م: "على رءوسهم".]] وَكَذَا قَالَ أَبُو صَالِحٍ: يَهْوُونَ فِي النَّارِ عَلَى رُءُوسِهِمْ.
وَقِيلَ: مَعْنَاهُ: ﴿فَأُمُّهُ﴾ الَّتِي يَرْجِعُ إِلَيْهَا، وَيَصِيرُ فِي الْمَعَادِ إِلَيْهَا ﴿هَاوِيَةٌ﴾ وَهِيَ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ النَّارِ.
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَإِنَّمَا قِيلَ: لِلْهَاوِيَةِ أُمُّهُ؛ لأنه لا مأوى له غيرها [[تفسير الطبري (٣٠/١٨٣) .]] .
وَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: الْهَاوِيَةُ: النَّارُ، هِيَ أُمَّهُ وَمَأْوَاهُ الَّتِي يَرْجِعُ إِلَيْهَا وَيَأْوِي إِلَيْهَا، وَقَرَأَ: ﴿وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ﴾ [آلِ عِمْرَانَ: ١٥١] .
قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: وَرُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ قَالَ: هِيَ النَّارُ، وَهِيَ مَأْوَاهُمْ. وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى مُفَسِّرًا لِلْهَاوِيَةِ: ﴿وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾
قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى: حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَر، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْمَى قَالَ: إِذَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ ذُهِبَ بِرُوحِهِ إِلَى أَرْوَاحِ الْمُؤْمِنِينَ، فَيَقُولُونَ: رَوِّحُوا أَخَاكُمْ، فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمّ الدُّنْيَا. قَالَ: وَيَسْأَلُونَهُ: وَمَا فَعَلَ فُلَانٌ [[في م، أ: "بفلان".]] ؟ فَيَقُولُ: مَاتَ، أو ما جَاءَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ [[تفسير الطبري (٣٠/١٨٢) .]]
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَرْدَويّه مِنْ طَرِيقِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوعًا، بِأَبْسَطِ مِنْ هَذَا. وَقَدْ أَوْرَدْنَاهُ فِي كِتَابِ صِفَةِ النَّارِ، أَجَارَنَا [[في أ: "أعاذنا".]] اللَّهُ مِنْهَا بِمَنِّهِ وَكَرَمِهِ [[قال السيوطي في الدر المنثور (٨/٦٠٦) : "وأخرج ابن مردويه عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إذا مات المؤمن تلقته أرواح المؤمنين يسألونه: ما فعل فلان؟ ما فعلت فلانة؟ فإن كان مات ولم يأتهم قالوا: خولف به إلى أمه الهاوية بئست الأم وبئست المربية حتى يقولوا: ما فعل فلان هل تزوج؟ ما فعلت فلانة هل تزوجت؟ فيقولون: دعوه فيستريح فقد خرج من كرب الدنيا".]] .
* *
وَقَوْلُهُ: ﴿نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ أَيْ: حَارَّةٌ شَدِيدَةُ الْحَرِّ، قَوِيَّةُ اللَّهِيبِ وَالسَّعِيرِ.
قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي تُوقدون جزء من سبعين جزء مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً. فَقَالَ: "إِنَّهَا فُضِّلَت عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزءًا" [[الموطأ برواية الزهري برقم (٢٠٩٨) وهو في رواية يحيى (٢/٩٩٤) .]] .
وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عن قُتيبة، عن المغيرة ابن عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّناد، بِهِ [[صحيح البخاري برقم (٣٢٦٥) وصحيح مسلم برقم (٢٨٤٣) .]] وَفِي بَعْضِ أَلْفَاظِهِ: "أَنَّهَا فُضلت عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا، كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا".
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ-عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ-سَمِعَ [[في م، أ: "سمعت".]] أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ يَقُولُ: " نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي تُوقِدُونَ، جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ". فَقَالَ رَجُلٌ: إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً. فَقَالَ: "لَقَدْ فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا حَرًّا فَحَرًّا" [[المسند (٢/٤٦٧) .]] .
تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهُوَ على شرط مسلم.
وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّيَادِ [[في أ: "عن أبي الزناد".]] عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيرة، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ -وَعَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدة-: "إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَضُرِبَتْ [[في أ: "وضرمت".]] بِالْبَحْرِ مَرَّتَيْنِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لِأَحَدٍ" [[المسند (٢/٢٤٤) .]] .
وَهَذَا عَلَى شَرْطِ الصِّحَّةِ [[في م، أ: "على شرط الصحيحين".]] وَلَمْ يُخَرِّجُوهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ مِنْ طَرِيقِ [ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ] [[زيادة من م.]] [[صحيح مسلم برقم (٢٨٤٣) .]] .
وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: "نَارُكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا" [[أما حديث ابن مسعود، فهو في مسند البزار برقم (١٨٦٤) من طريق عبيد بن إسحاق، عن زهير، عن أبي إسحاق، عن عمرو ابن ميمون، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عنه، وقال البزار: "هكذا رواه زهير ولا نعلم رواه عن زهير إلا عبيد بن إسحاق. ورواه عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عمرو الأصم، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم نحوه، ورواه غير عمرو ابن ثابت، عن أبي إسحاق، عمرو الأصم، عن عبد الله موقوفا". وأما حديث أبي سعيد، فقد رواه أيضا الترمذي في السنن برقم (٢٥٩٠) من طريق فراس، عن عطية، عن أبي سعيد -رضي الله عنه- وقال الترمذي: "هذا حديث حسن غريب".]] .
وَقَدْ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا [[في أ: "بن".]] عَبْدُ الْعَزِيزِ -هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ-عَنْ سُهَيل عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُريرة، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "هَذِهِ النَّارُ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ جُزْءٍ مِنْ جَهَنَّمَ" [[المسند (٢/٣٧٩) .]] .
تَفَرَّدَ بِهِ أَيْضًا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهُوَ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ أَيْضًا.
وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْن بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمّه أَبِي سُهَيل، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُريرة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَتُدْرُونَ مَا مَثَلُ نَارِكُمْ هَذِهِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ؟ لَهِيَ أَشَدُّ سَوَادًا مِنْ دُخَانِ نَارِكُمْ هَذِهِ بِسَبْعِينَ ضِعْفًا" [[المعجم الأوسط برقم (٤٨٤٣) "مجمع البحرين" وقال الهيثمي في المجمع (١٠/٣٨٧) : "رجاله رجال الصحيح".]] .
وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ. وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، عَنْ عَبَّاسٍ الدَّوريّ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَبِي بُكَيْر: حَدَّثَنَا شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيرة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ، فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ" [[سنن الترمذي برقم (٢٥٩١) وسنن ابن ماجة برقم (٤٣٢٠) وقال الترمذي: "حديث أبي هريرة في هذا موقوف أصح، ولا أعلم أحدا رفعه غير يحيى بن بكير عن شريك".]] .
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ [[حديث أنس رواه ابن مردويه والبيهقي في شعب الإيمان من طريق مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ مرفوعا، وقد تقدم عند تفسير الآية: ٨١ من سورة التوبة.]] وَعُمَرَ بن الخطاب.
وَجَاءَ فِي الْحَدِيثِ -عِنْدَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ-مِنْ طَرِيقِ أَبِي عُثْمَانَ النَّهدي، عَنْ أَنَسٍ -وَأَبِي نَضْرَةَ العَبْديّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وعَجْلان مَوْلَى المُشْمَعّل، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ -عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ" [[حديث أبي سعيد في المسند (٣/١٣) وحديث أبي هريرة في المسند (٢/٤٣٢) .]] .
وَثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ [[في م: "في الصحيحين".]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ: يَا رَبِّ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بنَفَسين: نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ. فَأَشُدُّ مَا تَجِدُونَ فِي الشِّتَاءِ مِنْ بَرْدِهَا، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ فِي الصَّيْفِ مِنْ حَرِّهَا" [[صحيح البخاري برقم (٣٢٦٠) من حديث أبي هريرة، رضي الله عنه.]] .
وَفِي الصَّحِيحَيْنِ: "إِذَا اشْتَدَّ الْحُرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيح جَهَنم" [[صحيح البخاري برقم (٥٣٣) وصحيح مسلم برقم (٦١٥) من حديث أبي هريرة، رضي الله عنه.]] . آخِرُ تَفْسِيرِ سُورَةِ "القارعة"