#2401
Sahih
Abu Hurairah (narrated from) the Prophet(s.a.w) who said:"Allah, Mighty and Sublime is He, said: 'For whomever I take his sight, and he is patient and seeking a reward, I shall not be satisfied with any reward for him less than Paradise
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے جس کی پیاری آنکھیں چھین لیں اور اس نے اس پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو میں اسے جنت کے سوا اور کوئی بدلہ نہیں دوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذْهَبْتُ حَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2402
Hasan
Jabir narrated that the Prophet (s.a.w) said:"On the Day of Judgement, when the people who were tried (in this world) are given their rewards, the people who were pardoned (in life), will wish that their skins had been cut off with scissors while they were in the world." This Hadith is Gharib, we do not know of it with this chain except through this route. Some of them have reported something similar to this Hadith from Al-A`mash, from Talhah bin Musarrif from Masruq
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کے دن ایسے لوگوں کو ثواب دیا جائے گا جن کی دنیا میں آزمائش ہوئی تھی تو اہل عافیت خواہش کریں گے کاش دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کتری جاتیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کا کچھ حصہ «عن الأعمش عن طلحة بن مصرف عن مسروق» کی سند مسروق کے قول سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ أَبُو زُهَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَوَدُّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يُعْطَى أَهْلُ الْبَلاَءِ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ قُرِضَتْ فِي الدُّنْيَا بِالْمَقَارِيضِ " . وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَوْلَهُ شَيْئًا مِنْ هَذَا .
#2403
Very Daif
Abu Hurairah narrated that the Prophet(s.a.w) said:"There is no one who dies but he shall regret." They said: "What shall he regret over O Messenger of Allah?" He said: "If he was a good doer, he regrets that he did not do more, and if he was an evil doer, he regrets that he did not stop
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مرتا ہے وہ نادم و شرمندہ ہوتا ہے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شرم و ندامت کی کیا وجہ ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”اگر وہ شخص نیک ہے تو اسے اس بات پر ندامت ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکی نہ کر سکا، اور اگر وہ بد ہے تو نادم ہوتا ہے کہ میں نے بدی سے اپنے آپ کو نکالا کیوں نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یحییٰ بن عبیداللہ کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے، اور یہ یحییٰ بن عبیداللہ بن موہب مدنی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلاَّ نَدِمَ " . قَالُوا وَمَا نَدَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لاَ يَكُونَ ازْدَادَ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لاَ يَكُونَ نَزَعَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ مَدَنِيٌّ .
#2404
Very Daif
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"In the end of time there shall come men who will swindle the world with religion, decieving the people in soft skins of sheep, their tongues are sweeter than sugar and their hearts are the hearts of wolves. Allah [Mighty and Sublime is He] says: 'Is it me you try to delude or is it against me whom you conspire? By Me, I swear to send upon these people,among them, a Fitnah that leaves them utterly devoid of reason
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی جب کہ ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرات کرتے ہیں میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور میں ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الذِّئَابِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عَلَىَّ يَجْتَرِئُونَ فَبِي حَلَفْتُ لأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ مِنْهُمْ حَيْرَانًا " . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
#2405
Daif
Ibn 'Umar narrated that the Prophet(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High, said:'I have created creatures whose tongues are sweeter than honey and their hearts are more bitter than aloes. So by Me, I swear to abase them with a Fitnah, leaving them utterly devoid of reason. Is it Me whom they try to delude, or it is against Me whom they conspire?
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی ہے جن کی زبانیں شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہیں اور ان کے دل ایلوا کے پھل سے بھی زیادہ کڑوے ہیں، میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں! کہ ضرور میں ان کے درمیان ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا، پھر بھی یہ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا جرات کرتے ہیں؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمْزَةُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لَقَدْ خَلَقْتُ خَلْقًا أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبِرِ فَبِي حَلَفْتُ لأُتِيحَنَّهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ مِنْهُمْ حَيْرَانًا فَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عَلَىَّ يَجْتَرِءُونَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
#2406
Sahih
Uqbah bin 'Amir narrated:"I said: 'O Messenger of Allah! What is the means to salvation?' He said: 'That you control your tongue, suffice yourself your house, and cry over your sins
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا النَّجَاةُ قَالَ " أَمْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#2407
Hasan
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated (that the Prophet s.a.w) said:"When the son of Adam wakes up in the morning, all of his body parts bow to the tongue and say: 'Fear Allah regarding us, we are only part of you. If you are straight we are straight and if you are crooked we are crooked
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان جب صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر اس لیے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَفَعَهُ قَالَ " إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ الأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ فَتَقُولُ اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّمَا نَحْنُ بِكَ فَإِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا " . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ . حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
#2408
Sahih
Sahl bin Sa'd narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Whoever guarantees for me what is between his jaws and what is between his legs, I shall guarantee Paradise for him
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سہل بن سعد کی روایت سے حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَهْلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ .
#2409
Hasan Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"For whomever Allah protects against the evil of what is between his jaws and the evil of what is between his legs, he shall enter Paradise
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ نے اس کی ٹانگوں اور ڈاڑھوں کے درمیان کی چیز کے شر و فساد سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمان ہے، یہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور کوفی ہیں اور سہل بن سعد سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمہ بن دینار ہے جو زاہد مدنی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَشَرَّ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى أَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ اسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الأَشْجَعِيَّةِ وَهُوَ كُوفِيٌّ وَأَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ هُوَ أَبُو حَازِمٍ الزَّاهِدُ مَدَنِيٌّ وَاسْمُهُ سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#2410
Sahih
Sufyan bin 'Abdullah Ath-Thaqafi said:I said: "O Messenger of Allah! Inform me about a matter that I may hold fast to." He said: 'Say: My Lord is Allah, then be steadfast.' I said: "O Messenger of Allah! What do you fear most for me?" So he took hold of his tongue and said: 'This
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے ایسی بات بیان فرمائیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں، آپ نے فرمایا: ”کہو: میرا رب ( معبود حقیقی ) اللہ ہے پھر اسی عہد پر قائم رہو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو مجھ سے کس چیز کا زیادہ خوف ہے؟ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسی کا زیادہ خوف ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث سفیان بن عبداللہ ثقفی سے کئی سندوں سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ . قَالَ " قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَىَّ فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ " هَذَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ .
#2411
Daif
Ibn 'Umar narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Do not talk too much without remembrance of Allah. Indeed excessive talking without remembrance of Allah hardens the heart. And indeed the furthest of people from Allah is the harsh-hearted
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام سے پرہیز کرو اس لیے کہ ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام دل کو سخت بنا دیتا ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہو گا“۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي ثَلْجٍ الْبَغْدَادِيُّ صَاحِبُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُكْثِرُوا الْكَلاَمَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّ كَثْرَةَ الْكَلاَمِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ وَإِنَّ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللَّهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي " . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاطِبٍ .
#2412
Daif
Umm Habibah, the wife of the Prophet (s.a.w), narrated from the Prophet (s.a.w) who said:"The son of Adam's speech is against him not for him, except for commanding good, or forbidding evil, or remembrance of Allah
ام المؤمنین حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کی ساری باتیں اس کے لیے وبال ہیں ان میں سے اسے امربالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے سوا اسے کسی اور کا ثواب نہیں ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے اسے ہم صرف محمد بن یزید بن خنیس کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيَّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ صَالِحٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ كَلاَمِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لاَ لَهُ إِلاَّ أَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهْىٌ عَنْ مُنْكَرٍ أَوْ ذِكْرُ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ .
#2413
Sahih
Ubu Juhaifah narrated from his father who said:"The Messenger of Allah (s.a.w) made a bond of brotherhood between Salman and Abu Ad-Darda. Salman went to visit Abu Ad-Darda, and saw Umm Ad-Darda wearing shabby clothes, So he said: 'Why are you wearing such shabby clothes?' She said: 'Your brother Abu Ad-Darda has no interest in the world.' So when Abu Ad-Darda arrived, he prepared some food for him (Salman) and said: 'Eat, for I am fasting.' He said: 'I shall not eat until you eat.'" He said: "So he ate. When night came Abu Ad-Darda started to leave and stand (in prayer), but Salman said to him: 'Sleep.' So he slept. Then he went to stand (in prayer) but he said to him: 'Sleep'. So he slept. When the morning (Fajr) came,Salman said: 'Get up now.'So he got up to perform Salat. Then he (Salman) said: 'Indeed your self has a right upon you, your Lord has a right upon you, your guest has a right upon you, and your family has a right upon you. So give each the right they are due. The Prophet (s.a.w), and that was mentioned to him, so he said: 'Salman has told the truth
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابو الدرداء کے مابین بھائی چارہ کروایا تو ایک دن سلمان نے ابوالدرداء رضی الله عنہ کی زیارت کی، دیکھا کہ ان کی بیوی ام الدرداء معمولی کپڑے میں ملبوس ہیں، چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ تمہاری اس حالت کی کیا وجہ ہے؟ ان کی بیوی نے جواب دیا: تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی الله عنہ کو دنیا سے کوئی رغبت نہیں ہے کہ جب ابو الدرداء گھر آئے تو پہلے انہوں نے سلمان رضی الله عنہ کے سامنے کھانا پیش کیا اور کہا: کھاؤ میں آج روزے سے ہوں۔ سلمان رضی الله عنہ نے کہا: میں نہیں کھاؤں گا یہاں تک کہ تم بھی میرے ساتھ کھاؤ۔ چنانچہ سلمان نے بھی کھایا۔ پھر جب رات آئی تو ابوالدرداء رضی الله عنہ تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے، تو سلمان نے ان سے کہا: سو جاؤ وہ سو گئے۔ پھر تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو کہا سو جاؤ، چنانچہ وہ سو گئے، پھر جب صبح قریب ہوئی تو سلمان نے ان سے کہا: اب اٹھ جاؤ چنانچہ دونوں نے اٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر سلمان نے ان سے کہا: ”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر صاحب حق کو اس کا حق ادا کرو“، اس کے بعد دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس گفتگو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”سلمان نے سچ کہا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً فَقَالَ مَا شَأْنُكِ مُتَبَذِّلَةً قَالَتْ إِنَّ أَخَاكَ أَبَا الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا . قَالَ فَلَمَّا جَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ قَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا فَقَالَ كُلْ فَإِنِّي صَائِمٌ . قَالَ مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ . قَالَ فَأَكَلَ فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيَقُومَ فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ نَمْ . فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ فَقَالَ لَهُ نَمْ . فَنَامَ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الصُّبْحِ قَالَ لَهُ سَلْمَانُ قُمِ الآنَ فَقَامَا فَصَلَّيَا فَقَالَ إِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ . فَأَتَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَا ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ " صَدَقَ سَلْمَانُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو الْعُمَيْسِ اسْمُهُ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ أَخُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيِّ .
#2414
Sahih
Abdul-Wahhab bin Al-Ward narrated from a man among the inhabitants of Al-Madinah who said:"Mu'awiyah wrote a letter to 'Aishah, that: 'Write a letter to advise me , and do not overburden me.'" He said: "So 'Aishah [may Allah be pleased with her]wrote to Mu'awiyah: 'Peace be upon you. As for what follows: Indeed I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: Whoever seeks Allah's pleasure by the people's wrath, Allah will suffice him from the people. And who ever seeks the people's pleasure by Allah's wrath, Allah will entrust him to the people. And Peace be upon you
عبدالوہاب بن ورد سے روایت ہے کہ ان سے مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا: معاویہ رضی الله عنہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ایک خط لکھا کہ مجھے ایک خط لکھئیے اور اس میں کچھ وصیت کیجئے لیكن بہت زیادہ نہیں ۔ چنانچہ عائشہ رضی الله عنہا نے معاویہ رضی الله عنہ کے پاس خط لکھا: دعا و سلام کے بعد معلوم ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو لوگوں کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو تو لوگوں سے پہنچنے والی تکلیف کے سلسلے میں اللہ اس کے لیے کافی ہو گا اور جو اللہ کی ناراضگی میں لوگوں کی رضا کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو اسے تکلیف دینے کے لیے مقرر کر دے گا“، ( والسلام علیک تم پر اللہ کی سلامتی نازل ہو ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ الْوَرْدِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رضى الله عنها أَنِ اكْتُبِي إِلَىَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلاَ تُكْثِرِي عَلَىَّ . فَكَتَبَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها إِلَى مُعَاوِيَةَ سَلاَمٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ الْتَمَسَ رِضَاءَ اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللَّهُ مُؤْنَةَ النَّاسِ وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَاءَ النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ " . وَالسَّلاَمُ عَلَيْكَ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَتَبَتْ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
#2415
Sahih
Adi bin Hatim narrated that the Messenger of Allah SAW said:"There is no man among you except that his Lord shall converse with him on the Day of Judgement, there being no interpreter between him and Him (Allah). Then he looks to the south (his right) and does not see anything except the things he put forward (of good), then he looks to the north (his left) and he does not see anything except the things he put forward (of evil), then he turns to look before him to find he is facing the Fire." The Messenger of Allah SAW, said: "Whoever among you is able to protect his face from [the heat of] the Fire – even with a piece of a date - then let him do so." (Sahih) [Abu 'Eisa said: This Hadith is Hasan Sahih]. Abu As-Sã'ib narrated to us: "One day, Waki' narrated this Hadith to us from Al-'Amash. When Waki' was finished with this Hadith, he said: 'Whoever is present from the inhabitants of Khurãsãn, then let him seek the reward of spreading this Hadith in Khurãsãn." Abu 'Eisa said: The Jahmiyyah rejected this. [Abu As-Sã'ib's name is Salam bin Junadah bin Khãlid bin Jäbir bin Samurah Al-Kufi]. This Hadith is Hasan Sahih
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کا رب اس سے قیامت کے روز کلام کرے گا اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا، وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر بائیں جانب دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو جہنم کی گرمی سے اپنے چہرے کو بچانا چاہے تو اسے ایسا کرنا چاہیئے، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ إِلاَّ سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى شَيْئًا إِلاَّ شَيْئًا قَدَّمَهُ ثُمَّ يَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى شَيْئًا إِلاَّ شَيْئًا قَدَّمَهُ ثُمَّ يَنْظُرُ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ حَرَّ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، يَوْمًا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الأَعْمَشِ، فَلَمَّا فَرَغَ وَكِيعٌ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ فَلْيَحْتَسِبْ فِي إِظْهَارِ هَذَا الْحَدِيثِ بِخُرَاسَانَ لأَنَّ الْجَهْمِيَّةَ يُنْكِرُونَ هَذَا . اسْمُ أَبِي السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ بْنِ سَلْمِ بْنِ خَالِدِ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ الْكُوفِيُّ .هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
#2416
Hasan
Ibn Mas'ud narrated that the Messenger of Allah SAW said:"The feet of the son of Adam shall not move from before his Lord on the Day of Judgement, until he is asked about five things: About his life and what he did with it, about his youth and what he wore it out in, about his wealth and how he earned it, and spent it upon, and what he did with what he knew." (Da'if) [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib, we do not know of it as a narration of Ibn Mas'üd from the Prophet except through the narration of Husain bin Qais. Husain [bin Qais] was graded weak in Hadith [due to his memory]. There are narrations on this topic from Abu Barzah and Abu Sa'eed
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم «عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے صرف حسین بن قیس ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور حسین بن قیس اپنے حفظ کے قبیل سے ضعیف ہیں، ۳- اس باب میں ابوبرزہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ أَبُو مِحْصَنٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلاَهُ وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ . وَحُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ .
#2417
Sahih
Abu Barzah Al-Aslami narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The feet of the slave of Allah shall not move [on the Day of Judgement] until he is asked about five things: about his life and what he did with it, about his knowledge and what he did with it, about his wealth and how he earned it and where he spent it on, about his body and for what did he wear it out." [He said:] This Hadith is Hasan Sahih. Sa'eed bin Abdullah bin Juraij (a narrator in the chain) [is from Al-Basrah], and he is the freed slave of Abu Barzah AlAslami, and Abu Barzah AlAslami's name is Nadlah bin 'Ubaid
ابوبرزہ اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں ختم کیا، اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعید بن عبداللہ بن جریج بصریٰ ہیں اور وہ ابوبرزہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، ابوبرزہ کا نام نضلہ بن عبید ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ وَعَنْ عِلْمِهِ فِيمَا فَعَلَ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَا أَبْلاَهُ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ هُوَ بَصْرِيٌّ وَهُوَ مَوْلَى أَبِي بَرْزَةَ وَأَبُو بَرْزَةَ اسْمُهُ نَضْلَةُ بْنُ عُبَيْدٍ .
#2418
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Do you know who the bankrupt is?" They said: "O Messenger of Allah SAW! The bankrupt among us is the one who has no Dirham nor property." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "The bankrupt in my Ummah is the one who comes with Salat and fasting and Zakat on the Day of Judgement, but he comes having abused this one, falsely accusing that one, wrongfully consuming the wealth of this one, spilling the blood of that one, and beating this one. So he is seated, and this one is requited from his rewards. If his rewards are exhausted before the sins that he committed are requited, then some of their sins will be taken and cast upon him, then he will be cast into the Fire." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: ”کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے کہتے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے یہاں مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم و دینار اور ضروری سامان زندگی نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پہ تہمت باندھی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، اور کسی کو مارا ہو گا، پھر اسے سب کے سامنے بٹھایا جائے گا اور بدلے میں اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کے ظلموں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس پر رکھ دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ " . قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لاَ دِرْهَمَ لَهُ وَلاَ مَتَاعَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلاَتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْتَصَّ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2419
Daif
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"May Allah have mercy upon a servant who has wronged his brother in his honor or his wealth, then he comes to him to seek his pardon before (his right) is taken, when he has no Dinar nor Dirham. Then if he has any rewards, it will be taken from his rewards, and if he have no rewards, Then some of his (brothers) bad deeds will be levied upon him." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Sahih [Gharib as a narration of Sa'eed Al-Maqburi]. Malik bin Anas also reported it from Sa'eed A]-Maqburl, from Abu Hurairah from the Prophet SAW, and it is similar in meaning
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسے بندے پر رحم کرے جس کے پاس اس کے بھائی کا عزت یا مال میں کوئی بدلہ ہو، پھر وہ مرنے سے پہلے ہی اس کے پاس آ کے دنیا ہی میں اس سے معاف کرا لے کیونکہ قیامت کے روز نہ تو اس کے پاس دینار ہو گا اور نہ ہی درہم، پھر اگر ظالم کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو اس کی نیکیوں سے بدلہ لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں بھی نہیں ہوں گی تو مظلوموں کے گناہ ظالم کے سر پر ڈال دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سعید مقبری کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- مالک بن انس نے «عن سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَنَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا كَانَتْ لأَخِيهِ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ فِي عِرْضٍ أَوْ مَالٍ فَجَاءَهُ فَاسْتَحَلَّهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ وَلَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ حَمَّلُوا عَلَيْهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ . وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#2420
Sahih
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Rights will be given to their due, such that the hornless sheep would get its claim from the horned sheep." There are narrations on this topic from Abu Dharr and 'Abdullah bin Unais. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قیامت کے دن ) حقداروں کو ان کا پورا پورا حق دیا جائے گا، یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ لیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر اور عبداللہ بن انیس رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2421
Sahih
Sulaim bin 'Amir narrated from Al-Miqdad, a Companion of the Messenger of Allah (s.a.w) who said:"I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'On the Day of Judgement, the sun will be drawn near the servants, until it has come a mile or two (away).'" Sulaim bin 'Amir said: " I do not know if it is miles that refer to distance on the land, or Al-Mil which is used to apply Kuhl for the eyes." He (the Prophet (s.a.w)): "The sun will melt them, until they will be in sweat according to their deeds. Among them one will be covered up to his ankles, and among them will be one who is covered up to his knees, and among them will be one who is covered up to his waist, and among them will be one who is bridled with it.' I saw the Messenger of Allah (s.a.w) indicating with his hand toward his mouth, meaning that one would be bridled with it.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. There are narrations on this topic from Abu Sa'eed and Ibn 'Umar
مقداد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہو گا“۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی میل مراد لی ہے، ( زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی ) ، ”پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہو گا ۱؎“، مقداد رضی الله عنہ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام لگی ہوتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا الْمِقْدَادُ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ حَتَّى تَكُونَ قِيدَ مِيلٍ أَوِ اثْنَيْنِ " . قَالَ سُلَيْمٌ لاَ أَدْرِي أَىَّ الْمِيلَيْنِ عَنَى أَمَسَافَةَ الأَرْضِ أَمِ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ قَالَ " فَتَصْهَرُهُمُ الشَّمْسُ فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ بِقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حَقْوَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا " . فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ أَىْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ .
#2422
Sahih
Hammad bin Zayd narrated from Ayub, from Nafi', from Ibn 'Umar – Hammad said - :“And it is Marfu` in our view.” (He said): “The Day when all mankind will stand before the Lord of all that exists. They will be standing in their sweat up to the middle of their ears.” (Sahih) [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. (Another chain) from the Prophet SAW with similar meaning
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ ( المطففین: ۶ ) ، اور کہا: ”اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ حَمَّادٌ وَهُوَ عِنْدَنَا مَرْفُوعٌ (يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ) قَالَ يَقُومُونَ فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#2423
Sahih
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The people will be gathered on the Day of Resurrection bare-foot, naked and uncircumcised as they were created." Then he recited: "As we begin the first creation, we shall repeat it: A promise binding upon Us. Truly We shall do it. And the first of people to be clothed will be Ibrahim. Among my companions will be some men who are taken to the right and to the left. I will say: 'O my Lord! My companions!' It will be said: 'You do not know what they innovated after you, they continued to be apostates since you parted from them.' So I will say as the righteous worshipper said: If you punish them, they are your slaves, and if You forgive them, indeed You, only You are the Almighty, the All-Wise." (Another chain) and he mentioned similarly. [Abü 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کا حشر اس حال میں ہو گا کہ وہ ننگے بدن، ننگے پیر اور ختنہ کے بغیر ہوں گے، پھر آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی: «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» ”جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، اور ہم اسے ضرور کر کے ہی رہیں گے“ ( الانبیاء: ۱۰۴ ) ، انسانوں میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا، اور میری امت کے بعض لوگ دائیں اور بائیں طرف لے جائے جائیں گے تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں، تو کہا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی نئی باتیں نکالیں، اور جب سے آپ ان سے جدا ہوئے ہو یہ لوگ ہمیشہ دین سے پھرتے رہے ہیں ۱؎، تو اس وقت میں وہی کہوں گا جو ( اللہ کے ) نیک بندے عیسیٰ علیہ السلام نے کہی تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» ”اگر تو انہیں عذاب دے تو یقیناً یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں تو بخش دے تو یقیناً تو غالب اور حکمت والا ہے“ ( المائدہ: ۱۱۸ ) ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً كَمَا خُلِقُوا ثُمَّ قَرَأََ (كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ) وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى مِنَ الْخَلاَئِقِ إِبْرَاهِيمُ وَيُؤْخَذُ مِنْ أَصْحَابِي بِرِجَالٍ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي . فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ . فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُْ: (إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ) ". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#2424
Sahih
Bahz bin Hakim narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"You shall be gathered walking, riding, and dragged upon your faces." There is a narration on this topic from Abu Hurairah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan [Sahih]
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ میدان حشر میں پیدل اور سوار لائے جاؤ گے اور اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاؤ گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب کے میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالاً وَرُكْبَانًا وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#2425
Daif
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The people will face three presentations on the Day of Judgement. As for (the first) two presentations, they are the arguments and the excuses, as for the third presentation, upon that the records will fly into the hands. Some will take them in their right hand, and some will take them in their left hand." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is not correct, because Al-Hasan did not hear from Abu Hurairah. Some of them reported it from 'Ali bin 'Ali - and he is Ar-Rifa'i - from Al-Hasan, from Abu Musã from the Prophet SAW. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is not correct, because Al-Hasan did not hear from Abü Musa
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی، دو بار کی پیشی میں بحث و تکرار اور عذر و بہانے ہوں گے، اور تیسری بار ان لوگوں کے اعمال نامے ان کے ہاتھوں میں اڑ رہے ہوں گے، تو کوئی اسے اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑے ہو گا اور کوئی بائیں ہاتھ میں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ حسن کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ثابت نہیں ہے، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کو «عن علي الرفاعي عن الحسن عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ حسن کا سماع ابوموسیٰ اشعری سے بھی ثابت نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلاَثَ عَرَضَاتٍ فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ وَأَمَّا الْعَرْضَةُ الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الأَيْدِي فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَلاَ يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى وَلاَ يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي مُوسَى .