#1776
Sahih
Narrated Anas: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited that a man should put on sandals while he is standing." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib. Muhammad bin Isma'il said: "This Hadith is not correct, not the Hadith of Ma'mar from 'Ammar bin Abi 'Ammar, from Abu Hurairah (no)
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ ٍ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اور نہ ہی معمر کی حدیث جسے وہ عمار بن ابی عمار سے اور عمار ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَلاَ يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ وَلاَ حَدِيثُ مَعْمَرٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#1777
Munkar
Narrated 'Aishah:"Sometimes the Prophet (ﷺ) would walk in one sandal
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بسا اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوتا پہن کر چلتے۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، كُوفِيٌّ حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رُبَّمَا مَشَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ .
#1778
Sahih
Narrated 'Abdur-Rahman bin Al-Qasim: From his father, about 'Aishah that: "She would walk in one sandal." This is more correct. [Abu 'Eisa said:] This is how it was reported by Sufyan Ath-Thawri and others, from 'Abdur-Rahman bin Al-Qasim, in Mawquf form, and this is more correct
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک جوتا پہن کر چلیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ روایت زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۲- سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے اسی طرح اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطہ سے موقوف طریقہ سے روایت کیا ہے اور یہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا مَشَتْ بِنَعْلٍ وَاحِدَةٍ . وَهَذَا أَصَحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ مَوْقُوفًا وَهَذَا أَصَحُّ .
#1779
Sahih
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you dons sandals, then let him begin with the right. And when he removes them then let him begin with left, so that the right will be the first to put on and the last of them removed." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی جوتا پہنے تو داہنے پیر سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں سے شروع کرے، پہننے میں داہنا پاؤں پہلے اور اتارنے میں پیچھے ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ فَلْتَكُنِ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1780
Very Daif
Narrated 'Aishah: "The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'If you want to stick with me, then suffice yourself in the world with the provisions of the rider. And beware of gatherings of the rich, and do not consider a garment to be worn out until it has been patched.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib, we do not know of it except as a narration of Salih bin Hassan. He said: I heard Muhammad bin Isma'il saying: "Salih bin Hassan is Munkar is Hadith." And Salih bin Hassan - the one who Ibn Abi Dhi'b reports from - is trustworthy. [Abu 'Eisa said:] The meaning of this saying: "And beware of gathering of the rich" is similar to what was related from Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ), that he said: "Whoever sees one that has been more favored than him in appearance and provision, then let him look at the one who is less than him, rather than one who is favored more than him. For indeed it is more appropriate so that he not scorn Allah's favors [upon him]." And it has been related from 'Awn bin 'Abdullah who said: "I accompanied the rich, and did not see anyone with more troubles than me. I saw a beast that was better than my beast, and a garment that was better than my garment. And I accompanied the poor, and felt at ease
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اگر تم ( آخرت میں ) مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے مسافر کے سامان سفر کے برابر حاصل کرنے پر اکتفا کرو، مالداروں کی صحبت سے بچو اور کسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھ یہاں تک کہ اس میں پیوند لگا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف صالح بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صالح بن حسان منکر حدیث ہیں اور صالح بن ابی حسان جن سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے وہ ثقہ ہیں،
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِيكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الأَغْنِيَاءِ وَلاَ تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ . قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ثِقَةٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَمَعْنَى قَوْلِهِ " وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الأَغْنِيَاءِ " . هُوَ نَحْوُ مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ رَأَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْخَلْقِ وَالرِّزْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لاَ يَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ " . وَيُرْوَى عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ صَحِبْتُ الأَغْنِيَاءَ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَكْثَرَ هَمًّا مِنِّي أَرَى دَابَّةً خَيْرًا مِنْ دَابَّتِي وَثَوْبًا خَيْرًا مِنْ ثَوْبِي وَصَحِبْتُ الْفُقَرَاءَ فَاسْتَرَحْتُ .
#1781
Sahih
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ام ہانی سے مجاہد کا سماع میں نہیں جانتا ہوں۔
#1782
Daif
Narrated Abu Sa'eed - who is 'Abdullah bin Busr: "I heard Abu Kabshah Al-Anmari saying: 'The Kimam (caps) of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) were Buthan (stretched over the head).'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Munkar, 'Abdullah bin Busr is from Al-Basrah, and he is weak according to the people of Hadith. Yahya bin Sa'eed and others graded him weak. Buthun means expansive
ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- عبداللہ بن بسر بصرہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے، ۳- «بطح» چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الأَنْمَارِيَّ، يَقُولُ كَانَتْ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُطْحًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ . وَبُطْحٌ يَعْنِي وَاسِعَةٌ .
#1783
Sahih
Narrated Hudhaifa: "The Messenger of Allah (ﷺ) took hold of the calf of my shin - or his shin - and he said: "This is the place of the Izar, if you must lower it, then the Izar has no right to be on the ankles." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Ath-Thawri and Shu'bah reported it from Abu Ishaq
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی یا میری پنڈلی کا گوشت پکڑا اور فرمایا: ”یہ تہبند کی جگہ ہے، اگر اس پر راضی نہ ہو تو تھوڑا اور نیچا کر لو، پھر اگر اور نیچا کرنا چاہو تو تہ بند ٹخنوں سے نیچا نہیں کر سکتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، ثوری اور شعبہ نے بھی اس کو ابواسحاق سبیعی سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ فَقَالَ " هَذَا مَوْضِعُ الإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلُ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلاَ حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ .
#1784
Daif
Narrated Abu Ja'far bin Muhammad bin Rukanah: From his father that Rukanah wrestled the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) won the match. Rukanah said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Indeed what distinguishes between us and between the idolater is the turban over the cap.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. Its chain is not established, and we do not know of Abu Al-Hasan Al-'Asqalani, nor Ibn Rukanah
محمد بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی لڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پچھاڑ دیا، رکانہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”ہمارے اور مشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قائم ( صحیح ) نہیں ہے، ۳- ہم ابوالحسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُكَانَةَ، صَارَعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ رُكَانَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلاَنِسِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ . وَلاَ نَعْرِفُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَسْقَلاَنِيَّ وَلاَ ابْنَ رُكَانَةَ .
#1785
Daif
Narrated 'Abdullah bin Buraidah: From his father who said: "A man wearing an iron ring came to the Prophet (ﷺ). So he said to him: 'What is this I see on you, jewelry of the people of the Fire ?' Then he came wearing a ring of brass. So he said: 'What is this smell of idols I sense on you ?' Then he came wearing a ring of gold. So he said to him: 'What is this jewelry of the people of Paradise I see on you ?' So he said: 'What should I use then ?' He said: 'From silver, but not its entire weight." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib and there are narrations on this topic from 'Abdullah bin 'Amr, and 'Abdullah bin Muslim's Kunyah is Abu Taibah, and he is from Al-Marwaz
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو؟“ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آ رہی ہے؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو؟ اس نے پوچھا: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ نے فرمایا: ”چاندی کی اور ( وزن میں ) ایک مثقال سے کم رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے، ۳- عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ " . ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ " مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الأَصْنَامِ " . ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . قَالَ مِنْ أَىِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ قَالَ " مِنْ وَرِقٍ وَلاَ تُتِمَّهُ مِثْقَالاً " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ .
#1786
Sahih
Narrated Ibn Abi Musa: "I heard 'Ali saying: 'The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited Al-Qassi, the red Mitharah, and wearing rings on this and this.' And he pointed to the index and middle fingers." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Ibn Abi Musa is Abu Burdah bin Abi Musa and his name is 'Amir bin 'Abdullah bin Qais
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قسي» ( ایک ریشمی کپڑا ) سرخ ( رنگ کا ریشمی ) زین پوش اور اس انگلی اور اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا اور انہوں نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَأَنْ أَلْبَسَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ وَفِي هَذِهِ . وَأَشَارَ إِلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَابْنُ أَبِي مُوسَى هُوَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى وَاسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ .
#1787
Sahih
Narrated Anas: "The garment the Messenger (ﷺ) like most to wear was the Hibrah." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ کپڑا جسے آپ پہنتے تھے وہ دھاری دار یمنی چادر تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُهَا الْحِبَرَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#1788
Sahih
Narrated Yunus: From Qatadah, that Anas said: "The Messenger of Allah (ﷺ) never ate on a table, nor on small plates, not did he eat thin bread." He (Yunus) said: "I asked Qatadah: 'So what did he eat on ?' He said: 'On these leather dining sheets.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. Muhammad bin Bash-har said: "This Yunus is Yunus Al-Iskaf." And 'Abdul-Warith bin Sa'eed reported similarly from Sa'eed bin Abi 'Arubah, from Qatadah, from Anas [From the Prophet (ﷺ]
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خوان ( میز وغیرہ ) پر نہیں کھایا، نہ چھوٹی طشتریوں اور پیالیوں میں کھایا، اور نہ آپ کے لیے کبھی پتلی روٹی پکائی گئی۔ یونس کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا: پھر کس چیز پر کھاتے تھے؟ کہا: انہی دسترخوانوں پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- محمد بن بشار کہتے ہیں: یہ یونس، یونس اسکاف ہیں، ۳- عبدالوارث بن سعید نے بسند «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَا أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي خِوَانٍ وَلاَ فِي سُكُرُّجَةٍ وَلاَ خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ . قَالَ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ فَعَلَى مَا كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى هَذِهِ السُّفَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَيُونُسُ هَذَا هُوَ يُونُسُ الإِسْكَافُ . وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#1789
Sahih
Narrated Hisham b. Zaid: "I heard Anas saying: 'Once we provoked a rabbit at Marr Az-Zahran. So the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) rushed after it, and I caught up to it and captured it. I brought it to Abu Talhah who slaughtered it with Marwah. He sent me with its legs - or its thighs - to the Prophet (ﷺ) so he could eat it.'" He (Hisham) said: "I said: 'He ate it?' He said:'He accepted it.'" [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Jubair, 'Ammar, Muhammad bin Safwan, and they say: Muhammad bin Saifi. This Hadith is Hasan Sahih. This is acted upon according to the people of knowledge. They saw no harm in eating rabbit. Some of the people of knowledge disliked eating rabbit, they said that it menstruates
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے مقام مرالظہران میں ایک خرگوش کا پیچھا کیا، صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے، میں نے اسے پا لیا اور پکڑ لیا، پھر اسے ابوطلحہ کے پاس لایا، انہوں نے اس کو پتھر سے ذبح کیا اور مجھے اس کی ران دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، چنانچہ آپ نے اسے کھایا۔ راوی ہشام بن زید کہتے ہیں: میں نے ( راوی حدیث اپنے دادا انس بن مالک رضی الله عنہ سے ) پوچھا: کیا آپ نے اسے کھایا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، عمار، محمد بن صفوان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ خرگوش کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ہیں، ۴- جب کہ بعض اہل علم خرگوش کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: اسے ( یعنی مادہ خرگوش کو ) حیض کا خون آتا ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهَا فَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا بِمَرْوَةٍ فَبَعَثَ مَعِي بِفَخِذِهَا أَوْ بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلَهُ . قَالَ قُلْتُ أَكَلَهُ قَالَ قَبِلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَعَمَّارٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ وَيُقَالُ مُحَمَّدُ بْنُ صَيْفِيٍّ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ بِأَكْلِ الأَرْنَبِ بَأْسًا . وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الأَرْنَبِ وَقَالُوا إِنَّهَا تَدْمِي .
#1790
Sahih
Narrated Ibn 'Umar: "The Prophet (ﷺ) was asked about eating a mastigure and he said: 'I do not eat it, and I do not prohibit eating it.'" [He said:] There are narrations on this topic from 'Umar, Abu Sa'eed, Ibn 'Abbas, Thabit bin Wadi'ah, Jabir, and 'Abdur-Rahman bin Hasanah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih The People of knowledge have differed over eating mastigure. Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others permitted it, while others considered it disliked. It has been related that Ibn 'Abbas said: "Mastigure was eaten on the dining spread of the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) only avoided it because it was distasteful to him
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضب ( گوہ ) کھانے کے بارے میں پوچھا گیا؟ تو آپ نے فرمایا: ”میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابو سعید خدری، ابن عباس، ثابت بن ودیعہ، جابر اور عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ضب کھانے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم صحابہ نے رخصت دی ہے، ۴- اور بعض نے اسے مکروہ سمجھا ہے، ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر ضب کھایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی کراہیت کی بنا پر اسے چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ " لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ وَجَابِرٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي أَكْلِ الضَّبِّ فَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ . وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ أُكِلَ الضَّبُّ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّمَا تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَقَذُّرًا .
#1791
Sahih
Narrated Ibn Abi 'Ammar: "I asked Jabir: 'Is badger kind of game animal?' He said: 'Yes.'" He said: "I said: 'Should I eat it?' He said: 'Yes.'" He said: 'I said: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) say that ?' He said: 'Yes.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Some of the people of knowledge followed this. They did not see any harm eating badger. This is the view of Ahmad and Ishaq. A Hadith has been related from the Prophet (ﷺ) indicating disapproval of eating badger but its chain is not strong. Some of the people of knowledge disliked eating badger. This is the view of Ibn Al-Mubarak. Yahya bin Al-Qattan said: "Jarir bin Hazm reported this Hadith from 'Abdullah bin 'Ubaid bin 'Umair, from Ibn Abi 'Ammar, from Jabir, from 'Umar, as his saying. And the narration of Ibn Juraij (a narrator in the chain of this Hadith) is more correct. And Ibn Abi 'Ammar is 'Abdur-Rahman bin 'Abdullah bin Abi 'Ammar Al-Makki
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا لکڑبگھا بھی شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے پوچھا: اسے کھا سکتا ہوں؟ کہا: ہاں، میں نے پوچھا: کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؟ کہا: ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یحییٰ قطان کہتے ہیں: جریر بن حازم نے یہ حدیث اس سند سے روایت کی ہے: عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ابن ابی عمار سے، ابن ابی عمار نے جابر سے، جابر نے عمر رضی الله عنہ کے قول سے روایت کی ہے، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۳- بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے، وہ لوگ لکڑبگھا کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا کھانے کی کراہت کے سلسلے میں ایک حدیث آئی ہے، لیکن اس کی سند قوی نہیں ہے، ۵- بعض اہل علم نے بجو کھانے کو مکروہ سمجھا ہے، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ قُلْتُ لِجَابِرٍ الضَّبُعُ صَيْدٌ هِيَ قَالَ نَعَمْ . قَالَ قُلْتُ آكُلُهَا قَالَ نَعَمْ . قَالَ قُلْتُ لَهُ أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَلَمْ يَرَوْا بِأَكْلِ الضَّبُعِ بَأْسًا وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدِيثٌ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الضَّبُعِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الضَّبُعِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ . قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ . وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ . وَابْنُ أَبِي عَمَّارٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ الْمَكِّيُّ .
#1792
Daif
Narrated Khuzaimah bin Jaz': "I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about eating badger. He said: 'Does anyone eat badger?' So I asked him about eating wolf' He said: 'Does anyone who has any good in him eat wolf?'" [Abu 'Eisa said:] The chain for this Hadith is not strong. We do not know of it except as a narration of Isma'il bin Muslim from 'Abdul-Karim Abi Umayyah. Some of the people of Hadith have criticized Isma'il and 'Abdul Karim Abi Umayyah. And he is 'Abdul-Karim bin Qais, who is Ibn Abi Al-Mukhariq. While 'Abdul-Karim bin Malik Al-Jazari is trustworthy
خزیمہ بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا کھانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”بھلا کوئی لکڑبگھا کھاتا ہے؟ میں نے آپ سے بھیڑیئے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”بھلا کوئی نیک آدمی بھیڑیا کھاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے ہم اسے عبدالکریم ابی امیہ کے واسطہ سے صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض محدثین نے اسماعیل اور عبدالکریم ابی امیہ کے بارے میں کلام کیا ہے، ( حدیث کی سند میں مذکور ) یہ عبدالکریم، عبدالکریم بن قیس بن ابی المخارق ہیں، ۳- اور عبدالکریم بن مالک جزری ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ، خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ فَقَالَ " أَوَيَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ " . وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَكْلِ الذِّئْبِ فَقَالَ " أَوَيَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِسْمَاعِيلَ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَهُوَ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ قَيْسِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ وَعَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِيُّ ثِقَةٌ .
#1793
Sahih
Narrated Jabir: "The Messenger of Allah (ﷺ) allowed us to eat horse meat, and he forbade us from eating donkey meat." He said: There is something on this from Asma' bin Abi Bakr. Abu 'Eisa said: This Hadith is Hasan Sahih. This is how it was reported by more than one narrator, from 'Amr bin Dinar from Jabir. Hammad bin Zaid reported it from 'Amr bin Dinar from Muhammad bin 'Ali, from Jabir. The narration of Ibn 'Uyainah (no. 1793) is more correct. He said: I heard Muhammad saying: "Sufyan bin 'Uyainah is better at memorizing than Hammad bin Zaid
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے، ۳- حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي ۳۸ ( ۳۲۱۹ ) ، والصید ۲۷ ( ۵۵۲۰ ) ، و۲۸ ( ۵۵۲۴ ) ، صحیح مسلم/الصید ۶ ( ۱۹۴۱ ) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ۲۶ ( ۳۷۸۸ ) ، سنن النسائی/الصید ۲۹ ( ۴۳۳۲ ) ، وانظر: سنن ابن ماجہ/النکاح ۴۴ ( ۱۹۶۱ ) ، والذبائح ۱۲ ( ۳۱۹۱ ) ، ( تحفة الأشراف : ۲۵۳۹ ) ، و مسند احمد ( ۳/۳۲۲، ۳۲۵۶، ۳۶۱، ۳۶۲، ۳۸۵ ) ، سنن الدارمی/الأضاحي
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ . وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ . قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
#1794
Sahih
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے ۱؎ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی نے بسند «سفيان عن الزهري عن عبد الله والحسن» نے اسی جیسی حدیث بیان کی، عبداللہ و حسن دونوں محمد بن حنیفہ کے بیٹے ہیں، اور عبداللہ بن محمد الحنفیہ کی کنیت ابوہاشم ہے، زہری کہتے ہیں: ان دونوں میں زیادہ پسندیدہ حسن بن محمد بن حنفیہ ہیں، پھر انہوں۔ ابن عیینہ سے روایت کرنے والے سعید بن عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسرے لوگوں نے کہا ہے: ان دونوں میں زیادہ پسندیدہ عبداللہ بن محمد بن حنفیہ ہیں۔
#1795
Hasan Sahih
Narrated Abu Hurairah: "On the day of Khaibar, the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited every predator possessing canines, and the Mujath-thamah, and the domestic donkey." He said: There are narrations on this topic from 'Ali, Jabir, Al-Bara', Ibn Abi Awfa, Anas, Al-'Irbad bin Sariyah, Abu Tha'labah, Ibn 'Umar and Abu Sa'eed. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. 'Abdul-'Aziz bin Muhammad and others reported this Hadith from Muhammad bin 'Amr, and they only mentioned one phrase: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited every predator possessing canines
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن ہر کچلی دانت والے درندہ جانور، «مجثمة» ۱؎ اور پالتو گدھے کو حرام قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبدالعزیز بن محمد اور دوسرے لوگوں نے بھی اسے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے صرف ایک جملہ بیان کیا ہے «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع» ”یعنی صرف کچلی والے درندوں کا ذکر کیا، مجثمہ اور پالتو گدھے کا ذکر نہیں کیا“، ۳ – اس باب میں علی، جابر، براء، ابن ابی اوفی، انس، عرباض بن ساریہ، ابوثعلبہ، ابن عمر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَالْمُجَثَّمَةَ وَالْحِمَارَ الإِنْسِيَّ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ وَالْبَرَاءِ وَابْنِ أَبِي أَوْفَى وَأَنَسٍ وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ وَأَبِي ثَعْلَبَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَغَيْرُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هَذَا الْحَدِيثَ وَإِنَّمَا ذَكَرُوا حَرْفًا وَاحِدًا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ .
#1796
Sahih
Narrated Abu Tha'labah Al-Khushani: "The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about the pots of Zorastrians. He said: 'Clean them by washing them, and then cook in them." And he prohibited every predator possessing canines." This is a well known Hadith of Abu Tha'labah, and it has been reported from him through routes other than this. And Abu Tha'labah's name is Jurthum, and they say: Jurhum, and they say: Nashib. This Hadith has also been mentioned by Abu Qilabah from Abu 'Asma Ar-Rahbi, from Abu Tha'labah
ابوثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوس کی ہانڈیوں ( برتنوں ) کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”انہیں دھو کر صاف کرو اور ان میں کھانا پکاؤ، اور آپ نے ہر کچلی دانت والے درندے جانور سے منع فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوثعلبہ کی روایت سے مشہور ہے، ان سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۲- ابوثعلبہ کا نام جرثوم ہے، انہیں جرہم اور ناشب بھی کہا گیا ہے، ۳- یہ حدیث «عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن أبي ثعلبة» کی سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قُدُورِ الْمَجُوسِ فَقَالَ " أَنْقُوهَا غَسْلاً وَاطْبُخُوا فِيهَا " . وَنَهَى عَنْ كُلِّ سَبُعٍ ذِي نَابٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مَشْهُورٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَرُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ . وَأَبُو ثَعْلَبَةَ اسْمُهُ جُرْثُومٌ وَيُقَالُ جُرْهُمٌ وَيُقَالُ نَاشِبٌ . وَقَدْ ذُكِرَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ .
#1797
Sahih
Narrated Abu Tha'labah Al-Khushani: That he said: "O Messenger of Allah! We live in a land of the People of Book and we cook in their containers, and drink in their vessels." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If you do not find other than them, then rinse them with water." The he said: "O Messenger of Allah! We live in a land of game, so what should we do ?" He said: "When you send your trained dog, and you mentioned the Name of Allah, and he kills it, then eat it. And when you shoot it with your bow, and it is killed, then eat it.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکائیں اور ان کے برتنوں میں پانی پئیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی برتن نہ مل سکے تو اسے پانی سے دھو لو“، پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم شکار والی سر زمین میں رہتے ہیں کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر وہ شکار مار ڈالے تو اسے کھاؤ، اور اگر کتا سدھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کر دیا جائے تو اسے کھاؤ اور جب تم تیر مارو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر اس سے شکار ہو جائے تو اسے کھاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ " . ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذُكِّيَ فَكُلْ وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1798
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas: From Maimunah that a mouse fell in some cooking fat and died. So the Prophet (ﷺ) was asked about that and he said: "Remove it (the mouse) and what was around it and then eat it (the fat)." He said: There are something on this topic from Abu Hurairah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. This Hadith has been related from Az-Zuhri, from 'Ubaidullah, from Ibn 'Abbas, saying: "The Prophet (ﷺ) as asked" and they did not mention Maimunah in it. The narration of Ibn 'Abbas from Maimunah is more correct. Ma'mar reported similar from Az-Zuhri, from Sa'eed bin Al-Musayyab, from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ). But this hadith is not preserved. He said: I heard Muhammad bin Isma'il saying: "The Hadith of Ma'mar from Az-Zuhri, from Sa'eed bin al-Musayyab, from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ)" - and he mentioned in it: 'That he was asked about it, so he said: "When it (the coking fat) is solid then remove it (the mouse) and what was around it. And when it is liquid then do not use it.'" This is a mistake. Ma'mar made a mistake with it. And he said: What is correct is the narration of Az-Zuhri from 'Ubaidullah, from Ibn 'Abbas, and Maimunah
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے اور جو کچھ چکنائی اس کے اردگرد ہے اسے پھینک دو ۱؎ اور ( بچا ہوا ) گھی کھا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند سے بھی آئی ہے «الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم»، راویوں نے اس میں «عن میمونة» کا واسطہ نہیں بیان کیا ہے، ۳- میمونہ کے واسطہ سے ابن عباس کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۴- معمر نے بطریق: «الزهري، عن ابن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» جیسی حدیث روایت کی ہے، یہ حدیث ( سند ) غیر محفوظ ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ معمر کی حدیث جسے وہ «عن الزهري عن سعيد ابن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جب گھی جما ہوا ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا گھی پھینک دو اور اگر پگھلا ہوا ہو تو اس کے قریب نہ جاؤ“ یہ خطا ہے، اس میں معمر سے خطا ہوئی ہے، صحیح زہری ہی کی حدیث ہے جو «عن عبيد الله عن ابن عباس عن ميمونة» کی سند سے آئی ہے ۲؎، ۵ – اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَأَبُو عَمَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً، وَقَعَتْ، فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ فَسُئِلَ عَنْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ مَيْمُونَةَ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ أَصَحُّ . وَرَوَى مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَهُوَ حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ . قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَ فِيهِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْهُ فَقَالَ " إِذَا كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلاَ تَقْرَبُوهُ " . فَقَالَ هَذَا خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ مَعْمَرٌ . قَالَ وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ .
#1799
Sahih
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: That the Prophet (ﷺ) said: "Let none of you wat with his left hand nor drink with his left hand, for indeed Ash-Shaitan eats with his left hand and drinks with his left hand." He said: There are narrations on this topic from Jabir, 'Umar bin Abi Salamah, Salamah bin Al-Akwa', Anas bin Malik, and Hafsah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. This is how Malik and Ibn 'Uyainah reported it from Az-Zuhri, from Abu Bakr bin 'Ubaidullah, from Ibn 'Umar. Ma'mar and 'Uqail reported it from Az-Zuhri, from Salim, from Ibn 'Umar. And the narration of Malik and Ibn 'Uyainah is more correct
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح مالک اور ا تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة ۱۳ ( ۲۰۲۰ ) سنن ابی داود/ الأطعمة ۲۰ ( ۳۷۷۶ ) ، ( تحفة الأشراف : ۸۵۷۹ ) ، وط/صفة النبی ﷺ ۴ ( ۶ ) ، و مسند احمد ( ۲/۱۰۶ ) ، سنن الدارمی/الأطعمة
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلاَ يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَحَفْصَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهَكَذَا رَوَى مَالِكٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . وَرَوَى مَعْمَرٌ وَعُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرِوَايَةُ مَالِكٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ .
#1800
Sahih
Narrated Az-Zuhri:From Salim, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you eats, then let him eat with his right hand, and let him drink with his right hand, for indeed Ash-Shaitan eats with his left hand, and he drinks with his left hand
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ " .