#1701
Sahih Isnaad
Narrated Ibn 'Abbas: "The Messenger of Allah (ﷺ) was a slave (of Allah), who would order as he has ben ordered to. He did not give an order to us instead of the people regarding anything except for three: He ordered us that we make our Wudu' well (Isbagh), that we not eat from charity, and the we not mate a donkey with a horse." [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from 'Ali. This Hadith is Hasan Sahih. Sufyan Ath-Thawri reported this from Abu Jahdam, who said: "From 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Abbas, from Ibn 'Abbas." He said I heard Muhammad saying: "The narration of Ath-Thawri is not preserved. Ath-Thawri made a mistake in it. What is correct is what Ismail bin 'Ulaiyyah and 'Abul-Warith bin Sa'eed reported from Abu Jahdam, from 'Abdullah bin 'Ubaidullah bin 'Abbas from Ibn 'Abbas
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مامور بندے تھے، آپ نے ہم کو دوسروں کی بنسبت تین چیزوں کا خصوصی حکم دیا: ہم کو حکم دیا ۱؎ کہ پوری طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی پر گدھا نہ چھوڑیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے ابوجہضم سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کی سند یوں بیان کی، «عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس عن ابن عباس»، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ثوری کی حدیث غیر محفوظ ہے، اس میں ثوری سے وہم ہوا ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث بن سعید نے ابوجہضم سے، ابوجہضم عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے، اور عبیداللہ نے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، ۴- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ، مُوسَى بْنُ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدًا مَأْمُورًا مَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلاَّ بِثَلاَثٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لاَ نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لاَ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ فَقَالَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَوَهِمَ فِيهِ الثَّوْرِيُّ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
#1702
Sahih
Narrated Abu Ad-Darda': That he heard the Prophet (ﷺ) saying: "Seek your weak for me. For indeed you sustenance and aid is only by your weak." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو، اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی ( دعاؤں کی برکت کی ) وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ابْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1703
Sahih
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The angels do no accompany a group among whom there is a dog or a bell." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Umar, Umm Habibah, and Umm Salamah. This Hadith is Hasan Sahih
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے مسافروں کی اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس میں کتا یا گھنٹی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، عائشہ، ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ وَلاَ جَرَسٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَعَائِشَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1704
Daif Isnaad
Narrated Al-Bara' : "The Prophet (ﷺ) sent two armies, place 'Ali bin Abi Talib as the commanded of one of them, and Khalid bin Al-Walid over the other. He said: 'Where there is fighting, then 'Ali (is in command).'" He said: "So 'Ali conquered a fortress and took a slave girl. Khalid [bin Al-Walid] wrote a letter and sent me with it to the Prophet (ﷺ), to speak against him for it. So I arrived to the Prophet (ﷺ) to read the letter. The color of his face changed, the he said: 'What do you think about a man who loves Allah and His Messenger, and Allah and His Messenger love him?'" He said: "I said: 'I seek refuge from angering Allah and angering His Messenger, I am only the Messenger.' So he was silent. [Abu 'Eisa said:] There is something about this from Ibn 'Umar. This Hadith is Hasan Gharib, we do not know of it except from the narration of Al-Ahwas bin Jawwab. And his saying: "To speak against him for that." refers to An-Namimah
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر روانہ کیا ۱؎، ایک پر علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو اور دوسرے پر خالد بن ولید رضی الله عنہ کو امیر مقرر کیا اور فرمایا: ”جب جنگ ہو تو علی امیر ہوں گے ۲؎“، علی رضی الله عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس میں سے ایک لونڈی لے لی، خالد بن ولید رضی الله عنہ نے مجھ کو خط کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”اس آدمی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں میں تو صرف قاصد ہوں، لہٰذا آپ خاموش ہو گئے ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف احوص بن جواب کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابن عمر سے بھی حدیث مروی ہے، ۳- «يشي به» کا معنی چغل خوری ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ الْجَوَّابِ أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ جَيْشَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَلَى الآخَرِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَقَالَ " إِذَا كَانَ الْقِتَالُ فَعَلِيٌّ " . قَالَ فَافْتَتَحَ عَلِيٌّ حِصْنًا فَأَخَذَ مِنْهُ جَارِيَةً فَكَتَبَ مَعِي خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَشِي بِهِ فَقَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَ الْكِتَابَ فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ ثُمَّ قَالَ " مَا تَرَى فِي رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ وَإِنَّمَا أَنَا رَسُولٌ . فَسَكَتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ . مَعْنَى قَوْلِهِ يَشِي بِهِ يَعْنِي النَّمِيمَةَ .
#1705
Sahih
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر آدمی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے، چنانچہ لوگوں کا امیر ان کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے، اسی طرح مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے، غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوموسیٰ کی حدیث غیر محفوظ ہے، اور انس کی حدیث بھی غیر محفوظ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن بشار رمادی نے بسند «سفيان بن عيينة عن بريد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس حدیث کو کئی لوگوں نے بسند «سفيان عن بريد عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، مگر یہ مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اسحاق بن ابراہیم نے بسند «معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر نگہبان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس کی نگہبانی کے لیے اس کو رکھا ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ روایت غیر محفوظ ہے، صحیح وہی ہے جو «عن معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
#1706
Sahih
Narrated Umm Al-Husain Al-Ahmasiyyah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) delivering Khutbah during the farewell Hajj, and he was wearing a Burd which he had wrapped from under his armpit." She said: "I was look at muscle of his upper arm quivering and I heard him saying: O you people! Have Taqwa of Allah. If a mutilated Ethiopian slave is put in command over you, then listen to him and obey him, as long as he upholds the Book of Allah among you.'" [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Abu Hurairah and 'Irbad bin Sariyah. This Hadith is Hasan Sahih, it has been reported through other routes from Umm Husain
ام حصین احمسیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے، ( گویا میں ) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے“ ( یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ( یہ حدیث ) دوسری سندوں سے بھی ام حصین سے مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عرباض بن ساریہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ الأَحْمَسِيَّةِ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ قَدِ الْتَفَعَ بِهِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ قَالَتْ فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى عَضَلَةِ عَضُدِهِ تَرْتَجُّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا مَا أَقَامَ لَكُمْ كِتَابَ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أُمِّ حُصَيْنٍ .
#1707
Sahih
Narrated Ibn 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Hearing and obeying is required from every Muslim man - in what he like and what he dislikes - as long as he is not ordered with disobedience. If he is ordered with disobedience, then no hearing or obeying is required of him." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Ali, 'Imran bin Husain, and Al-Hakam bin 'Amr Al-Ghifari. This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عمران بن حصین اور حکم بن عمر و غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ عَلَيْهِ وَلاَ طَاعَةَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1708
Daif
Narrated Abu Yahya:From Mujahid from Ibn 'Abbas who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited instigating fights between beasts
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ .
#1709
مجاہد سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند میں راوی نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- کہا جاتا ہے، قطبہ کی ( اگلی ) حدیث سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، اس حدیث کو شریک نے بطریق «مجاهد عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں ابویحییٰ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- اور ابومعاویہ نے اس کو بطریق «الأعمش عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے، ابویحییٰ سے مراد ابویحییٰ قتات کوفی ہیں، کہا جاتا ہے ان کا نام زاذان ہے، ۴- اس باب میں طلحہ، جابر، ابوسعید اور عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
#1710
Sahih
Narrated Jabir: "The Prophet (ﷺ) prohibited branding on the face and striking (it)." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1711
Sahih
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک لشکر میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، میں چودہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے ( جہاد میں لڑنے کے لیے ) قبول نہیں کیا، پھر مجھے آپ کے سامنے آئندہ سال ایک لشکر میں پیش کیا گیا اور میں پندرہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے ( لشکر میں ) قبول کر لیا، نافع کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: چھوٹے اور بڑے کے درمیان یہی حد ہے، پھر انہوں نے فرمان جاری کیا کہ جو پندرہ سال کا ہو جائے اسے مال غنیمت سے حصہ دیا جائے ۱؎۔
#1712
Sahih
Narrated 'Abdullah bin Abi Qatadah: That he heard is father, narating a Hadith, which he heard from the Messenger of Allah (ﷺ) in which he stood among them, mentioning to them that Jihad in the cause of Allah and faith in Allah were the most virtuous of deeds. Then a man stood and said: "O Messenger of Allah! If I were killed in the cause of Allah, would my sins forgiven ?" So the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Yes, If you are killed in Allah's cause, and you are patient, seeking the reward, advancing, not fleeing." Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What was it that you said?" So he replied: "If I were killed in the cause of Allah, would my sins be removed (forgiven)?" So the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Yes, If you are patient, seeking the reward, advancing, not fleeing - except debt. For Jibril said that to me." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Anas, Muhammad bin Jahsh, And Abu Hurairah. This Hadith is Hasan Sahih. Some of them reported this Hadith from Sa'eed Al-Maqburi, from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ) similar to this. Yahya bin Sa'eed Al-Ansari and more than one narrator reported this from Sa'eed Al-Maqburi from 'Abdullah bin Abi Qatadah, from his fahter, from the Prophet (ﷺ). This is more correct than the narration of Sa'eed Al-Maqburi from Abu Hurairah
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے بیچ کھڑے ہو کر ان سے بیان کیا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے“ ۱؎، ( یہ سن کر ) ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں، تو کیا میرے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو، آگے بڑھنے والے ہو، پیچھے مڑنے والے نہ ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کیسے کہا ہے؟“ عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو اور آگے بڑھنے والے ہو پیچھے مڑنے والے نہ ہو، سوائے قرض کے ۲؎، یہ مجھ سے جبرائیل نے ( ابھی ) کہا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بسند «سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، یحییٰ بن سعید انصاری اور کئی لوگوں نے اس کو بسند «سعيد المقبري عن عبد الله ابن أبي قتادة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے، یہ روایت سعید مقبری کی روایت سے جو بواسطہ ابوہریرہ آئی ہے، زیادہ صحیح ہے، ۴- اس باب میں انس، محمد بن جحش اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَيُكَفِّرُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ قُلْتَ " . قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَيُكَفِّرُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلاَّ الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِي ذَلِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ نَحْوَ هَذَا عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#1713
Sahih
Narrated Hisham bin 'Amr: "On the day of Uhud, the wounded complained to the Messenger of Allah, so he said: 'Dig, and make it wide, and appropriate, and bury two and three in one grave. And advance the one who knew the most Qu'ran.' My father had died so he placed before two men." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Khabbab, Jabir, and Anas. This Hadith is Hasan Sahih Sufyan Ath-Thawri and others reported this Hadith from Ayyub, from Humaid bin Hilal, from Hisham bin 'Amir. And Abu Ad-Dahma's (a narrator in the chain) name is Qirfah bin Buhais or Baihas
ہشام بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زخموں کی شکایت کی گئی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”قبر کھودو اور اسے کشادہ اور اچھی بناؤ، ایک قبر میں دو یا تین آدمیوں کو دفن کرو، اور جسے زیادہ قرآن یاد ہو اسے ( قبلہ کی طرف ) آگے کرو“، ہشام بن عامر کہتے ہیں: میرے والد بھی وفات پائے تھے، چنانچہ ان کو ان کے دو ساتھیوں پر مقدم ( یعنی قبلہ کی طرف آگے ) کیا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری اور دوسرے لوگوں نے اس حدیث کو بسند «أيوب عن حميد بن هلال عن هشام بن عامر» روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں خباب، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ شُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجِرَاحَاتُ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الاِثْنَيْنِ وَالثَّلاَثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا " . فَمَاتَ أَبِي فَقُدِّمَ بَيْنَ يَدَىْ رَجُلَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ خَبَّابٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ . وَأَبُو الدَّهْمَاءِ اسْمُهُ قِرْفَةُ بْنُ بُهَيْسٍ أَوْ بَيْهَسٍ .
#1714
Daif
Narrated Abu 'Ubaidah: That 'Abdullah said: "On the Day of Badr when the captives were gathered, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'What do you (people) say about these captives?'" Then he mentioned the story in the lengthy Hadith. [Abu 'Eisa said:] There are narrations of this topic from 'Umar, Abu Ayyub, Anas, and Abu Hurairah This Hadith is Hasan, and Abu 'Ubaidah did not hear from his father. It has been reported that Abu Hurairah said: "None was more apt to seek council of his Companions than the Messenger of Allah (ﷺ)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب بدر کے دن قیدیوں کو لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو“، پھر راوی نے اس حدیث میں ایک طویل قصہ بیان کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعبیدہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا جو اپنے ساتھیوں سے زیادہ مشورہ لیتا ہو ۲؎، ۴- اس حدیث میں عمر، ابوایوب، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَجِيءَ بِالأُسَارَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلاَءِ الأُسَارَى " . فَذَكَرَ قِصَّةً فِي هَذَا الْحَدِيثِ طَوِيلَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . وَيُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ مَشُورَةً لأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#1715
Daif Isnaad
Narrated Ibn 'Abbas: "The idolaters wanted to purchase the body of a man who was from the idolaters. But the Prophet (ﷺ) refused to trade with them [for him]." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib, we do not know of it except from a narration of Al-Hakam. Al-Hajjaj bin Artah also reported it from Al-Ahkam. Ahmad bin Al-Hasan said: "I heard Ahmad bin Hanbal saying: 'Ibn Abi Laila's narrations are not used as proof." Muhammad bin Isma'il said: "Ibn Abi Laila is truthful, but his correct Ahadith are not recognizable from his weak ones. And I do not report anything from him." Ibn Abi Laila is truthful, and Faqih, the problem is only in the chain. Nasr bin 'Ali narrated to us, [he said:] "Abdullah bin Dawud narrated us, from Sufyan Ath-Thawri who said: 'Our Fuqaha' are Ibn Abi Laila and 'Abdullah bin Shubrumah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ مشرکین نے ایک مشرک کی لاش کو خریدنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچنے سے انکار کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حکم کی روایت سے جانتے ہیں، اس کو حجاج بن ارطاۃ نے بھی حکم سے روایت کیا ہے، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ کی حدیث قابل حجت نہیں ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں لیکن ہم کو ان کی صحیح حدیثیں ان کی ضعیف حدیثوں سے پہچان نہیں پاتے، میں ان سے کچھ نہیں روایت کرتا ہوں، ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں فقیہ ہیں، لیکن بسا اوقات ان سے سندوں میں وہم ہو جاتا ہے، ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: ہمارے فقہاء ابن ابی لیلیٰ اور عبداللہ بن شبرمہ ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْمُشْرِكِينَ، أَرَادُوا أَنْ يَشْتَرُوا، جَسَدَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَبَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبِيعَهُمْ إِيَّاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ . وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ أَيْضًا عَنِ الْحَكَمِ . وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى لاَ يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى صَدُوقٌ وَلَكِنْ لاَ يُعْرَفُ صَحِيحُ حَدِيثِهِ مِنْ سَقِيمِهِ وَلاَ أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا . وَابْنُ أَبِي لَيْلَى صَدُوقٌ فَقِيهٌ وَإِنَّمَا يَهِمُ فِي الإِسْنَادِ . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ فُقَهَاؤُنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شُبْرُمَةَ .
#1716
Daif
Narrated Ibn 'Umar: "The Messenger of Allah sent us on a military expedition, and the people turned to escape. So we arrived in Al-Madinah and concealed ourselves in it and we said: 'We are ruined.' Then we went to the Messenger of Allah (ﷺ) and we said: 'O Messenger of Allah! We are those who fled.' He said: 'Rather you are Al-'Akkarun (those who are regrouping) and I am your reinforcement. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. We do not know of it except as a narration of Yazid bin Abi Ziyad. And the meaning of his saying: "The people turned to escape" is that they fled from the fighting. As for the meaning of his saying: "Rather you are Al-'Akkarun," the 'Akkar is the one who flees to his Imam in order that he may help him, it does not mean fleeing from the advancing army
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں روانہ کیا، ( پھر ہم ) لوگ لڑائی سے بھاگ کھڑے ہوئے، مدینہ آئے تو شرم کی وجہ سے چھپ گئے اور ہم نے کہا: ہلاک ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم بھگوڑے ہیں، آپ نے فرمایا: ”بلکہ تم لوگ پیچھے ہٹ کر حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف یزید بن ابی زیاد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- «فحاص الناس حيصة» کا معنی یہ ہے کہ لوگ لڑائی سے فرار ہو گئے، ۳- اور «بل أنتم العكارون» اس کو کہتے ہیں: جو فرار ہو کر اپنے امام ( کمانڈر ) کے پاس آ جائے تاکہ وہ اس کی مدد کرے نہ کہ لڑائی سے فرار ہونے کا ارادہ رکھتا ہو۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاخْتَبَيْنَا بِهَا وَقُلْنَا هَلَكْنَا ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ الْفَرَّارُونَ . قَالَ " بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ وَأَنَا فِئَتُكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ . وَمَعْنَى قَوْلِهِ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً يَعْنِي أَنَّهُمْ فَرُّوا مِنَ الْقِتَالِ . وَمَعْنَى قَوْلِهِ " بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ " . وَالْعَكَّارُ الَّذِي يَفِرُّ إِلَى إِمَامِهِ لِيَنْصُرَهُ لَيْسَ يُرِيدُ الْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ .
#1717
Sahih
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : "On the day of Uhud, my father's sister came with my father to bury him in a cemetery of ours. So one of the callers of the Messenger of Allah (ﷺ) called out: 'Return those killed to where they were lying." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. And (one of the narrators) Nubaih is trustworthy
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن میری پھوپھی میرے باپ کو لے کر آئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک منادی نے پکارا: مقتولوں کو ان کی قتل گاہوں میں لوٹا دو ( دفن کرو ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور نبیح ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ نُبَيْحًا الْعَنَزِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي لِتَدْفِنَهُ فِي مَقَابِرِنَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رُدُّوا الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَنُبَيْحٌ ثِقَةٌ .
#1718
Sahih
Narrated As-Sa'ib bin Yazid: "When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived from Tabuk, the people went out to Thaniyyah Al-Wada' to meet him." As-Sa'ib said: "I went out with the people, and I was a boy." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو لوگ آپ کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع تک نکلے: میں بھی لوگوں کے ساتھ نکلا حالانکہ میں کم عمر تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ تَبُوكَ خَرَجَ النَّاسُ يَتَلَقَّوْنَهُ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ . قَالَ السَّائِبُ فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ وَأَنَا غُلاَمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1719
Sahih
Narrated 'Umar bin Al-Khattab: "The wealth of Banu An-Nadir was among the spoils of war which Allah granted upon His Messenger (ﷺ) which the Muslims did not gain with the rush of their horses nor camel. So it was purely for the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) would set aside a year's worth of expenditure for his family, then he would use what remained of it for horses and weapons to be used in Allah's cause." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Sufyan bin 'Uyainah reported this Hadith from Ma'mar, from Ibn Shihab
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسود کے قبیلہ بنی نضیر کے اموال ان میں سے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور «فے» ۱؎ عطا کیا تھا، اس کے لیے مسلمانوں نے نہ تو گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ ہی اونٹ، یہ پورے کا پورا مال خالص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے لیے اس میں سے ایک سال کا خرچ الگ کر لیتے، پھر جو باقی بچتا اسے جہاد کی تیاری کے لیے گھوڑوں اور ہتھیاروں میں خرچ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان بن عیینہ نے اس حدیث کو معمر کے واسطہ سے ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ وَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَالِصًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْزِلُ نَفَقَةَ أَهْلِهِ سَنَةً ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلاَحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ .
#1720
Sahih
Narrated Abu Musa Al-Ash'ari: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Wearing silk and gold has made unlawful for the males of my Ummah and lawful for its females. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Umar, 'Ali, 'Uqbah bin 'Amir, Anas, Umm Hani, Hudhaifah, 'Abdullah bin 'Amr, 'Imran bin Husain, 'Abdullah bin Az-Zubair, Jabir, Abu Raihanah, Ibn 'Umar, Al-Bara', and Wathilah bin Al-Asqa', and this Hadith is Hasan Sahih
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، عقبہ بن عامر، انس، حذیفہ، ام ہانی، عبداللہ بن عمرو، عمران بن حصین، عبداللہ بن زبیر، جابر، ابوریحان، ابن عمر، براء، اور واثلہ بن اسقع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي وَأُحِلَّ لإِنَاثِهِمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَنَسٍ وَحُذَيْفَةَ وَأُمِّ هَانِئٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَجَابِرٍ وَأَبِي رَيْحَانَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَوَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ . وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1721
Sahih
Narrated Suwaid bin Ghafalah: That 'Umar gave a Khutbah at Al-Jabiyah and he said: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited silk except for two finger's worth of space, or three, or four." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
سوید بن غفلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا سوائے دو، یا تین، یا چار انگشت کے برابر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحَرِيرِ إِلاَّ مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ أَوْ أَرْبَعٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1722
Sahih
Narrated Anas bin Malik: That 'Abdur Rahman bin 'Awf and Az-Zubair bin Al-'Awwam complained of lice to the Prophet (ﷺ) during a battle that they participated in. So he permitted them to wear silk shirts. He (Anas) said: "I saw them wearing them." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی الله عنہما نے ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، تو آپ نے انہیں ریشم کی قمیص کی اجازت دے دی، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے ان کے بدن پر ریشم کی قمیص دیکھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، شَكَيَا الْقَمْلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ لَهُمَا فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ قَالَ وَرَأَيْتُهُ عَلَيْهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1723
Sahih
Narrated Waqid bin 'Amr bin Sa'd bin Mu'adh: "Anas bin Malik arrived. So I went to him and he said: 'Who are you ?' I said: 'I am Waqid bin 'Amr [bin Sa'd bin Ma'adh].'" He said: "So he began to cry and he said: 'You resemble Sa'd. Sa'd was one of the greatest people, and of the tallest. The Messenger of Allah (ﷺ) was sent a cloak of Dibaj with gold woven into it. The Messenger of Allah (ﷺ) wore it and ascended the Minbar. Then he stood, or sat, and the people began touching it, and they said: 'We never saw a garment like this before today.' So he said: 'Are you amazed at this ? The handkerchiefs of Sa'd in Paradise are better than what you see.'" He said: There is something on this topic from Asma' bint Abu Bakr. This Hadith is Sahih
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی الله عنہ ( ہمارے پاس ) آئے تو میں ان کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہوں، انس رضی الله عنہ رو پڑے اور بولے: تم سعد کی شکل کے ہو، سعد بڑے دراز قد اور لمبے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا گیا جس میں زری کا کام کیا ہوا تھا ۱؎ آپ اسے پہن کر منبر پر چڑھے، کھڑے ہوئے یا بیٹھے تو لوگ اسے چھو کر کہنے لگے: ہم نے آج کی طرح کبھی کوئی کپڑا نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ جنت میں سعد کے رومال اس سے کہیں بہتر ہیں جو تم دیکھ رہے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ مَنْ أَنْتَ فَقُلْتُ أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، . قَالَ فَبَكَى وَقَالَ إِنَّكَ لَشَبِيهٌ بِسَعْدٍ وَإِنَّ سَعْدًا كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جُبَّةً مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٌ فِيهَا الذَّهَبُ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَامَ أَوْ قَعَدَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمُسُونَهَا فَقَالُوا مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ ثَوْبًا قَطُّ . فَقَالَ " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا تَرَوْنَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
#1724
Sahih
Narrated Al-Bara' : "I have not seen anyone with hair past his shoulders in a red Hullah more handsome than the Messenger of Allah (ﷺ). He had hair that would flow on his shoulders, (and he had) broad shoulders (and he was) not too short and not too long." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Jabir bin Samurah, Abu Rimthah, and Abu Juhaifah. This Hadith is Hasan Sahih
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سرخ جوڑے میں کسی لمبے بال والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ کے شانوں کے درمیان دوری تھی، آپ نہ کوتاہ قد تھے اور نہ لمبے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، ابورمثہ اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلاَ بِالطَّوِيلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأَبِي رِمْثَةَ وَأَبِي جُحَيْفَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#1725
Sahih
Narrated 'Ali: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited wearing Al-Qassi and what was dyed with 'Usfur." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Anas and 'Abdullah bin 'Amr
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی کے بنے ہوئے ریشمی اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَحَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .