#601
Hasan
Urwah narrated that Aishah said:"I came while the Messenger of Allah was praying in the house and the door was closed. So he walked until he opened the door for me, then he returned to his place." And she described the door to be in the direction of the Qiblah
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں گھر آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند تھا، تو آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھولا۔ پھر اپنی جگہ لوٹ گئے، اور انہوں نے بیان کیا کہ دروازہ قبلے کی طرف تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ . وَوَصَفَتِ الْبَابَ فِي الْقِبْلَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#602
Sahih
Abu Wa'il said:"A man asked Abdullah bin Mas'ud about this phrase: 'Ghairi asin' or is it Yasin? So he said: 'You can recite all of the Quran besides this [phrase]?' He said: 'Yes.' He said: 'Indeed a people recite it, disbursing it like Ad-Daqqa are dispersed, without it passing their throats. Indeed I am aware of the surahs that are comparable which the Messenger of Allah would recite together.'" He said: "So we told Alqamah to ask him (what they were). He said: "Twenty surahs from the Mufassal from which the Prophet would combine, reciting every two Surah in a Rak'ah
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے لفظ «غَيْرِ آسِنٍ» یا «يَاسِنٍ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کیا تم نے اس کے علاوہ پورا قرآن پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: ایک قوم اسے ایسے پڑھتی ہے جیسے کوئی خراب کھجور جھاڑ رہا ہو، یہ ان کے گلے سے آگے نہیں بڑھتا، میں ان متشابہ سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھتے تھے۔ ابووائل کہتے ہیں: ہم نے علقمہ سے پوچھنے کے لیے کہا تو انہوں نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے پوچھا: انہوں نے بتایا کہ یہ مفصل کی بیس سورتیں ہیں ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: يَاسِنٍ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذَا الْحَرْفِ (غَيرِ آسِنٍ) أَوْ يَاسِنٍ قَالَ كُلَّ الْقُرْآنِ قَرَأْتَ غَيْرَ هَذَا الْحَرْفِ قَالَ نَعَمْ . قَالَ إِنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَهُ يَنْثُرُونَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ إِنِّي لأَعْرِفُ السُّوَرَ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرِنُ بَيْنَهُنَّ . قَالَ فَأَمَرْنَا عَلْقَمَةَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرِنُ بَيْنَ كُلِّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#603
Sahih
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "When a man performs Wudu and he performs his Wudu well, then he leaves to the Salat, and he did not leave - or he said: He had no urge - except for it, then there is not one step that he takes except that Allah raises him a degree from it, or removes a sin from him for it
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر نماز کے لیے نکلے، اور اسے صرف نماز ہی نے نکالا، یا کہا اٹھایا ہو، تو جو بھی قدم وہ چلے گا، اللہ اس کے بدلے اس کا درجہ بڑھائے گا، یا اس کے بدلے اس کا ایک گناہ کم کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، سَمِعَ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ لاَ يُخْرِجُهُ أَوْ قَالَ لاَ يَنْهَزُهُ إِلاَّ إِيَّاهَا لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#604
Hasan
Sa'd bin Ishaq bin Ka'b bin Ujrah narrated from his father from his grandfather who said:"The Prophet prayed Maghrib in the Masjid of Banu Abdul-Ashbal, and some people stood to offer voluntary prayers, so the Prophet said: 'This Salat is to be performed by you in your homes
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبدالاشہل کی مسجد میں مغرب پڑھی، کچھ لوگ نفل پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس نماز کو گھروں میں پڑھنے کو لازم پکڑو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث کعب بن عجرہ کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اور صحیح وہ ہے جو ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے، ۳- حذیفہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی تو آپ برابر مسجد میں نماز ہی پڑھتے رہے جب تک کہ آپ نے عشاء نہیں پڑھ لی۔ اس حدیث میں اس بات کی دلالت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کے بعد دو رکعت مسجد میں پڑھی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ الْبَصْرِيُّ، ثِقَةٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ الْمَغْرِبَ فَقَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلاَةِ فِي الْبُيُوتِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْمَغْرِبَ فَمَا زَالَ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ . فَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دِلاَلَةٌ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدِ .
#605
Sahih
Qais bin Asim narrated that:he accepted Islam and the Prophet ordered him to perform Ghusl with water and Sidr
قیس بن عاصم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی اور بیری سے غسل کرنے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ آدمی جب اسلام قبول کرے تو غسل کرے اور اپنے کپڑے دھوئے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ لِلرَّجُلِ إِذَا أَسْلَمَ أَنْ يَغْتَسِلَ وَيَغْسِلَ ثِيَابَهُ .
#606
Sahih
Ali bin Abi Talid (may Allah be pleased with him) narrated that :the Messenger of Allah said: "The screen between the eyes of the jinns and nakedness of the children of Adam when one of you enters the area of relieving oneself is saying: 'Bismillah
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنوں کی آنکھوں اور انسان کی شرمگاہوں کے درمیان کا پردہ یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی پاخانہ جائے تو وہ بسم اللہ کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- اس سلسلہ کی بہت سی چیزیں انس رضی الله عنہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، حَدَّثَنَا خَلاَّدٌ الصَّفَّارُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُهُمُ الْخَلاَءَ أَنْ يَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَشْيَاءُ فِي هَذَا .
#607
Sahih
Abdullah bin Busr narrated that :the Prophet said: "On the day of Resurrection, my nation will be radiant from prostrating and shining from Wudu
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میری امت کی پیشانی سجدے سے اور ہاتھ پاؤں وضو سے چمک رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ قَالَ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ .
#608
Sahih
Aishah narrated:"The Messenger of Allah would love to start with the right side when he purified himself, and when he combed, and when putting his sandals on
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو اپنی وضو میں اور جب کنگھی کرتے تو کنگھی کرنے میں اور جب جوتا پہنتے تو جوتا پہنے میں داہنے ( سے شروع کرنے ) کو پسند فرماتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ إِذَا تَطَهَّرَ وَفِي تَرَجُّلِهِ إِذَا تَرَجَّلَ وَفِي انْتِعَالِهِ إِذَا انْتَعَلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ أَسْوَدَ الْمُحَارِبِيُّ .
#609
Sahih
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: The acceptable Wudu is with two Ratils of water
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو میں دو رطل پانی کافی ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ غریب ہے، ہم یہ حدیث صرف شریک ہی کی سند سے جانتے ہیں، ۲- شعبہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن جبر سے اور انہوں نے انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکوک ۳؎ سے وضو، اور پانچ مکوک سے غسل کرتے تھے ۴؎، ۳- سفیان ثوری نے بسند «عبداللہ بن عیسیٰ عن عبداللہ بن جبر عن انس» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد ۵؎ سے وضو اور ایک صاع ۶؎ سے غسل کرتے تھے، ۴- یہ شریک کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنِ ابْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُجْزِئُ فِي الْوُضُوءِ رِطْلاَنِ مِنْ مَاءٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ . وَرَوَى شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ . وَرُوِيَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ .
#610
Sahih
Ali bin Abi Talib (may Allah be pleased with him) narrated that :the Messenger of Allah said, about urine of a male child that suckles: "The urine of the boy is sprinkled, and the girl's urine is washed." Qatadah (one of the narrators) said: "This is so, as long as they do not eat, when they eat, then both of them are washed
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کے بارے میں فرمایا: ”بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے گا“۔ قتادہ کہتے ہیں: یہ اس وقت تک ہے جب تک دونوں کھانا نہ کھائیں، جب وہ کھانے لگیں تو دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہشام دستوائی نے یہ حدیث قتادہ سے روایت کی ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے اسے قتادہ سے موقوفاً روایت کیا ہے، انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي بَوْلِ الْغُلاَمِ الرَّضِيعِ " يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلاَمِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ " . قَالَ قَتَادَةُ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا فَإِذَا طَعِمَا غُسِلاَ جَمِيعًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . رَفَعَ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ وَأَوْقَفَهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
#611
Isnaad Hasan
Shahr bin Hawshab said:"I saw Jarir bin Abdullah performing Wudu and wiping over his Khuff." He said: "So I asked him: 'What is that?' He said: 'I saw the Prophet performing Wudu and he wiped over his Khuff.' So I said to him: 'Before Al-Ma'idah or after Al-Ma'idah?' He said: 'I did not accept Islam until after Al-Ma'idah
شہر بن حوشب کہتے ہیں میں نے جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ چنانچہ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ میں نے ان سے پوچھا: یہ سورۃ المائدہ کے نزدول سے پہلے کی بات ہے یا مائدہ کے بعد کی؟ تو انہوں نے کہا: میں نے مائدہ کے بعد ہی اسلام قبول کیا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . فَقُلْتُ لَهُ أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ أَمْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ قَالَ مَا أَسْلَمْتُ إِلاَّ بَعْدَ الْمَائِدَةِ .
#612
Hasan
Shahr bin Hawshab said:(Another chain) from Khalid bin Ziyad with similar
اس سند سے بھی خالد بن زیاد سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اس طرح مقاتل بن حیان کی سند سے جانتے ہیں انہوں نے اسے شہر بن حوشب سے روایت کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ مَيْسَرَةَ النَّحْوِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زِيَادٍ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ .
#613
Daif
Ammar narrated:"The Prophet permitted the Junub when he wanted to eat, drink, or sleep, to perform Wudu like the Wudu for Salat
عمار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو جب وہ کھانا، پینا اور سونا چاہے اس بات کی رخصت دی کہ وہ اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#614
Sahih
Ka'b bin Ujrah narrated:"The Messenger of Allah said to me: 'I seek refuge in Allah for you O Ka'b bin Ujrah from leader that will be after me. Whoever comes to their doors to approve of their lies and supports them in their oppression, then he is not of me and I am not of him, and he will not meet me at the Hawd. And whoever comes to their doors, or he does not come, and he does not approve of their lies and he does not support them in their oppression, then he is from me and I am from him, and he will meet me at the Hawd. Ka'ab bin Ujrah! Salat is clear proof, and Sawm (fasting) is an impregnable shield, and Sadaqah (charity) extinguishes sins just as water extinguishes fire. O Ka'b bin Ujrah! There is no flesh raised that sprouts from the unlawful except that the Fire is more appropriate for it
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں ایسے امراء و حکام سے جو میرے بعد ہوں گے، جو ان کے دروازے پر گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی، اور ان کے ظلم پر ان کا تعاون کیا، تو وہ نہ مجھ سے ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ حوض پر میرے پاس آئے گا۔ اور جو کوئی ان کے دروازے پر گیا یا نہیں گیا لیکن نہ جھوٹ میں ان کی تصدیق کی، اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ وہ عنقریب حوض کوثر پر میرے پاس آئے گا۔ اے کعب بن عجرہ! صلاۃ دلیل ہے، صوم مضبوط ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اے کعب بن عجرہ! جو گوشت بھی حرام سے پروان چڑھے گا، آگ ہی اس کے لیے زیادہ مناسب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ہم اسے عبیداللہ بن موسیٰ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- ایوب بن عائذ طائی ضعیف گردانے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ مرجئہ جیسے خیالات رکھتے تھے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے صرف عبیداللہ بن موسیٰ ہی کی سند سے جانتے تھے اور انہوں نے اسے بہت غریب حدیث جانا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا غَالِبٌ أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ الطَّائِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُعِيذُكَ بِاللَّهِ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ مِنْ أُمَرَاءَ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي فَمَنْ غَشِيَ أَبْوَابَهُمْ فَصَدَّقَهُمْ فِي كَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلاَ يَرِدُ عَلَىَّ الْحَوْضَ وَمَنْ غَشِيَ أَبْوَابَهُمْ أَوْ لَمْ يَغْشَ فَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ فِي كَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَىَّ الْحَوْضَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلاَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ . يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لاَ يَرْبُو لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ إِلاَّ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى . وَأَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ يُضَعَّفُ وَيُقَالُ كَانَ يَرَى رَأْىَ الإِرْجَاءِ . وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى وَاسْتَغْرَبَهُ جِدًّا .
#615
Isnaad Hasan
Muhammad said:"Ibn Numair narrated to us from Ubaidullah bin Musa, from Ghalib" with this (Hadith)
محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں ہم سے اسے ابن نمیر نے بیان کیا انہوں نے اسے عبیداللہ بن موسیٰ سے روایت کی ہے اور عبیداللہ نے غالب سے۔
وَقَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ غَالِبٍ، بِهَذَا .
#616
Sahih
Sulaim bin Amir narrated:"I heard Abu Umamah saying: I heard the Messenger of Allah giving a Khutbah during the Farewell Hajj, and he said: 'Have Taqwa of your Lord, and pray your five (prayers), and fast your month, and pay the Zakat on your wealth, and obey thosewho are in charge of you, you will enter the Paradise of your Lord.'" He said: "I said to Abu Umamah: 'How old were you when you heard this Hadith (from the Messenger of Allah)?' He said: 'I heard it when I was thirty years old
سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی الله عنہ کو کہتے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے سنا، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے رب اللہ سے ڈرو، پانچ وقت کی نماز پڑھو، ماہ رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکاۃ ادا کرو، اور امیر کی اطاعت کرو، اس سے تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے“۔ میں نے ابوامامہ رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ نے کتنے برس کی عمر میں یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپ سے یہ حدیث اس وقت سنی جب میں تیس برس کا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ " اتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ " . قَالَ فَقُلْتُ لأَبِي أُمَامَةَ مُنْذُ كَمْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ سَمِعْتُهُ وَأَنَا ابْنُ ثَلاَثِينَ سَنَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#617
Sahih
Abu Dharr narrated:"I came to the Messenger of Allah while he was sitting in the shade of the Ka'bah." He said: "He saw me approaching and he said: 'They are lost on the Day of Judgment! By the Lord of the Ka'bah!'" He said: "I said t myself: Woe is me! Perhaps something has been revealed about me!'" He said: "So I said: 'Who are they, and may my father and mother be ransomed for you.' So the Messenger of Allah said: 'They are those who have much, except for who says like this, and this, and this and motioned with his hand to his front, and t his right, and to his left.' Then he said: 'By the One in Whose Hand is my soul! No man will die, leaving a camel or a cow that he did not pay Zakat on, except that it will come on the Day of Judgment larger and fatter than it was, they will tread him under their hooves and butt him with their horns, all of them; such that when the last of them has had a turn, the first returns to him, until he is judged before the people
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے آپ نے مجھے آتا دیکھا تو فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! قیامت کے دن یہی لوگ خسارے میں ہوں گے“ ۲؎ میں نے اپنے جی میں کہا: شاید کوئی چیز میرے بارے میں نازل کی گئی ہو۔ میں نے عرض کیا: کون لوگ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی لوگ جو بہت مال والے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایسا ایسا کرے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سے لپ بھر کر اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور اپنے بائیں طرف اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو بھی آدمی اونٹ اور گائے چھوڑ کر مرا اور اس نے اس کی زکاۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے دن وہ اس سے زیادہ بھاری اور موٹے ہو کر آئیں گے جتنا وہ تھے ۳؎ اور اسے اپنی کھروں سے روندیں گے، اور اپنی سینگوں سے ماریں گے، جب ان کا آخری جانور بھی گزر چکے گا تو پھر پہلا لوٹا دیا جائے گا ۴؎ یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی اسی کے مثل روایت ہے، ۳- علی رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ زکاۃ روک لینے والے پر لعنت کی گئی ہے ۵؎، ۴- ( یہ حدیث ) قبیصہ بن ہلب نے اپنے والد ہلب سے روایت کی ہے، نیز جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۵- ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ «الأكثرون» سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس دس ہزار ( درہم یا دینار ) ہوں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ التَّمِيمِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ . قَالَ فَرَآنِي مُقْبِلاً فَقَالَ " هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ فَقُلْتُ مَا لِي لَعَلَّهُ أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ . قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُمُ الأَكْثَرُونَ إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . فَحَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ . ثُمَّ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلاً أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا إِلاَّ جَاءَتْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلُهُ . وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه قَالَ لُعِنَ مَانِعُ الصَّدَقَةِ . وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَاسْمُ أَبِي ذَرٍّ جُنْدُبُ بْنُ السَّكَنِ وَيُقَالُ ابْنُ جُنَادَةَ . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ الأَكْثَرُونَ أَصْحَابُ عَشَرَةِ آلاَفٍ . قَالَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ مَرْوَزِيٌّ رَجُلٌ صَالِحٌ .
#618
Daif
Abu Hurairah narrated :that the Prophet said: "When you pay the Zakat you have fulfilled what is required of you
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی تو جو تمہارے ذمہ فریضہ تھا اسے تم نے ادا کر دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری اور سندوں سے بھی مروی ہے کہ آپ نے زکاۃ کا ذکر کیا، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل کچھ دو“ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُجَيْرَةَ الْمِصْرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَنَّهُ ذَكَرَ الزَّكَاةَ . فَقَالَ رَجَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا فَقَالَ " لاَ إِلاَّ أَنْ تَتَطَوَّعَ " .
#619
Sahih
Anas narrated:"We used to hope that an intelligent Bedouin would show up to question the Prophet while we were with him. So one while we were with him, a Bedouin came, kneeling in front of the Prophet, and he said: 'O Muhammad, your messenger came to us and told us that you say that Allah sent you.' So the Prophet say: 'Yes.' He said, 'So, (swear) by the One who raised the heaves, and spread out the earth, and erected the mountains; has Allah sent you?' The Prophet said, 'Yes.' He said: 'Your messenger told us that you say that there are five prayers required from us in a day and a night.' The Prophet said, 'Yes.' He said, 'By the One Who sent you, has Allah ordered that you you?' He said, 'Yes.' He said, 'Your messenger told us that you say that we are required to fast for a month out of the year.' He said, 'He told the truth.' He said, 'By the One Who sent you, has Allah ordered that you?' The Prophet said, 'Yes.' He said, 'Your messenger told us that Zakat is required from our wealth.' The Prophet said, 'He told the truth.' He said, 'By the One Who sent you, has Allah ordered you that?' The Prophet said, 'Yes.' He said, 'Your messenger told us that you say that we are required to perform Hajj to Allah's House if able to undertake the journey.' The Prophet said, 'Yes.' He said, 'By the One Who sent you, has Allah Commanded you that?' (The Prophet said:) 'Yes.' So he said: 'By the One Who sent you with the Truth, I will not leave any of them, nor surpass them.' Then he got up quickly (leaving). The Prophet said: 'If the Bedouin told the truth, then he will enter Paradise
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کی خواہش ہوتی تھی کہ کوئی عقلمند اعرابی ( دیہاتی ) آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھے اور ہم آپ کے پاس ہوں ۱؎ ہم آپ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ کے پاس ایک اعرابی آیا ۲؎ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔ اور پوچھا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ آپ کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ( کیا یہ صحیح ہے؟ ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہ صحیح ہے“، اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان بلند کیا، زمین اور پہاڑ نصب کئے۔ کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا: آپ کا قاصد ہم سے کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: ہم پر دن اور رات میں پانچ صلاۃ فرض ہیں ( کیا ایسا ہے؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی، جس نے آپ کو رسول بنایا ہے! کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا: آپ کا قاصد کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: ہم پر سال میں ایک ماہ کے صیام فرض ہیں ( کیا یہ صحیح ہے؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وہ ( سچ کہہ رہا ہے ) “ اعرابی نے مزید کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ( دیا ہے ) “، اس نے کہا: آپ کا قاصد کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: ہم پر ہمارے مالوں میں زکاۃ واجب ہے ( کیا یہ صحیح ہے؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ( اس نے سچ کہا ) “۔ اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی، جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں،“ ( دیا ہے ) اس نے کہا: آپ کا قاصد کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: ہم میں سے ہر اس شخص پر بیت اللہ کا حج فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو ( کیا یہ سچ ہے؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ( حج فرض ہے ) “ اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ( دیا ہے ) “ تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا: میں ان میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑوں گا اور نہ میں اس میں کسی چیز کا اضافہ کروں گا ۳؎، پھر یہ کہہ کر وہ واپس چل دیا تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اعرابی نے سچ کہا ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی یہ حدیث انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو سنا: وہ کہہ رہے تھے کہ بعض اہل علم فرماتے ہیں: اس حدیث سے یہ بات نکلتی ہے کہ شاگرد کا استاذ کو پڑھ کر سنانا استاذ سے سننے ہی کی طرح ہے ۴؎ انہوں نے استدلال اس طرح سے کیا ہے کہ اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلومات پیش کیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنَّا نَتَمَنَّى أَنْ يَأْتِيَ، الأَعْرَابِيُّ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ أَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَثَا بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَسُولَكَ أَتَانَا فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . قَالَ فَبِالَّذِي رَفَعَ السَّمَاءَ وَبَسَطَ الأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . قَالَ فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . قَالَ فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرٍ فِي السَّنَةِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَدَقَ " . قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . قَالَ فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا فِي أَمْوَالِنَا الزَّكَاةَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَدَقَ " . قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . قَالَ فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ إِلَى الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ أَدَعُ مِنْهُنَّ شَيْئًا وَلاَ أُجَاوِزُهُنَّ . ثُمَّ وَثَبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ صَدَقَ الأَعْرَابِيُّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الْقِرَاءَةَ عَلَى الْعَالِمِ وَالْعَرْضَ عَلَيْهِ جَائِزٌ مِثْلُ السَّمَاعِ . وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الأَعْرَابِيَّ عَرَضَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَقَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
#620
Sahih
Ali narrated that :the Messenger of Allah said: "I have exempted charity on horses and slaves. So bring charity for silver, one Dirham for every forty Dirham. There is nothing for me (to collect) on one hundred and ninety Dirham, so when it reaches two hundred, then five Dirham of it (are due)
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے ۱؎ تو اب تم چاندی کی زکاۃ ادا کرو ۲؎، ہر چالیس درہم پر ایک درہم، ایک سو نوے درہم میں کچھ نہیں ہے، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان میں پانچ درہم ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اعمش اور ابو عوانہ، وغیرہم نے بھی یہ حدیث بطریق: «أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي» روایت کی ہے، اور سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے بھی بطریق: «أبي إسحاق عن الحارث عن علي» روایت کی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ابواسحاق سبیعی سے مروی یہ دونوں حدیثیں میرے نزدیک صحیح ہیں، احتمال ہے کہ یہ حارث اور عاصم دونوں سے ایک ساتھ روایت کی گئی ہو ( تو ابواسحاق نے اسے دونوں سے روایت کیا ہو ) ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق اور عمرو بن حزم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ عَفَوْتُ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ الدَّرَاهِمِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الأَعْمَشُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمَا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ . قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ كِلاَهُمَا عِنْدِي صَحِيحٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ رُوِيَ عَنْهُمَا جَمِيعًا .
#621
Sahih
Az-Zuhri narrated from Salim from his father:"The Messenger of Allah had a letter written about charity, but he had not dispatched it to his governors until he died; he kept it with him along with his sword. When he died, Abu Bakr implemented it until he died, as did Umar until he died. In it was: 'A sheep (is due) on five camels, two sheeps on ten, three sheeps on fifteen, four sheeps for twenty, a Bint Makhad on twenty-five to thirty-five. When it is more than that, then a Bint Labun, (is due, till the number of the camels reaches) forty-five. When it is more than that, then a Hiqqah until sixty. When it is more than that, then a Jadhah until seventy-five. When it is more than one hundred and twenty, then a Hiqqah on every fifty, and a Bint Labun on every forty. For sheep; one sheep (is due) for every forty sheeps until one hundred and twenty. When it is more than that, then two sheeps until two hundred. When it is more than that, then three sheeps until three hundred sheep. When it is more than three hundred sheep, then a sheep on every hundred sheep. Then there is nothing until it reaches four hundred. There is no combining the (property of) individuals nor separating the collective (property) fearing Sadaqah. And fr whatever is mixed together that two own, then they are to refer to the total. Neither an old or defective (animal) may be taken for charity
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کی دستاویز تحریر کرائی، ابھی اسے عمال کے پاس روانہ بھی نہیں کر سکے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی، اور اسے آپ نے اپنی تلوار کے پاس رکھ دیا ۱؎، آپ وفات فرما گئے تو ابوبکر رضی الله عنہ اس پر عمل پیرا رہے یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گئے، ان کے بعد عمر رضی الله عنہ بھی اسی پر عمل پیرا رہے، یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گئے، اس کتاب میں تحریر تھا: ”پانچ اونٹوں میں، ایک بکری زکاۃ ہے۔ دس میں دو بکریاں، پندرہ میں تین بکریاں اور بیس میں چار بکریاں ہیں۔ پچیس سے لے کر پینتیس تک میں ایک سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے، جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پینتالیس تک میں دو سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ساٹھ تک میں تین سال کی ایک اونٹنی کی زکاۃ ہے۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پچہتر تک میں چار سال کی ایک اونٹنی کی زکاۃ ہے اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو نوے تک میں دو سال کی دو اونٹوں کی زکاۃ ہے۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک سو بیس تک تین سال کی دو اونٹوں کی زکاۃ ہے۔ جب ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو ہر پچاس میں تین سال کی ایک اونٹنی اور ہر چالیس میں دو سال کی ایک اونٹنی زکاۃ میں دینی ہو گی۔ اور بکریوں کے سلسلہ میں اس طرح تھا: چالیس بکریوں میں ایک بکری کی زکاۃ ہے، ایک سو بیس تک، اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو دو سو تک میں دو بکریوں کی زکاۃ ہے، اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو تک میں تین بکریوں کی زکاۃ ہے۔ اور جب تین سو سے زیادہ ہو جائیں تو پھر ہر سو پر ایک بکری کی زکاۃ ہے۔ پھر اس میں کچھ نہیں یہاں تک کہ وہ چار سو کو پہنچ جائیں، اور ( زکاۃ والے ) متفرق ( مال ) کو جمع نہیں کیا جائے گا ۲؎ اور جو مال جمع ہو اسے صدقے کے خوف سے متفرق نہیں کیا جائے گا ۳؎ اور جن میں دو ساجھی دار ہوں ۴؎ تو وہ اپنے اپنے حصہ کی شراکت کے حساب سے دیں گے۔ صدقے میں کوئی بوڑھا اور عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا“۔ زہری کہتے ہیں: جب صدقہ وصول کرنے والا آئے تو وہ بکریوں کو تین حصوں میں تقسیم کرے، پہلی تہائی بہتر قسم کی ہو گی، دوسری تہائی اوسط درجے کی اور تیسری تہائی خراب قسم کی ہو گی، پھر صدقہ وصول کرنے والا اوسط درجے والی بکریوں میں سے لے۔ زہری نے گائے کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن ہے، ۲- یونس بن یزید اور دیگر کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث زہری سے، اور زہری نے سالم سے روایت کی ہے، اور ان لوگوں نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ صرف سفیان بن حسین ہی نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، ۳- اور اسی پر عام فقہاء کا عمل ہے، ۴- اس باب میں ابوبکر صدیق بہز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ معاویۃ بن حیدۃ قشیری ہے ابوذر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ فَلَمَّا قُبِضَ عَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَعُمَرُ حَتَّى قُبِضَ وَكَانَ فِيهِ " فِي خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلاَثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ . وَفِي الشَّاءِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَشَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ فَثَلاَثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاَثِمِائَةِ شَاةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاَثِمِائَةِ شَاةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ ثُمَّ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةٍ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ وَلاَ يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَيْبٍ " . وَقَالَ الزُّهْرِيُّ إِذَا جَاءَ الْمُصَدِّقُ قَسَّمَ الشَّاءَ أَثْلاَثًا ثُلُثٌ خِيَارٌ وَثُلُثٌ أَوْسَاطٌ وَثُلُثٌ شِرَارٌ وَأَخَذَ الْمُصَدِّقُ مِنَ الْوَسَطِ . وَلَمْ يَذْكُرِ الزُّهْرِيُّ الْبَقَرَ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَبَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ . وَأَبِي ذَرٍّ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ . وَقَدْ رَوَى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ وَإِنَّمَا رَفَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ .
#622
Sahih
Abdullah bin Mas'ud narrated that :the Prophet said: "A Tabi or a Tabi'ah (is due) on thirty cows, and a Musinnah (is due) on every forty
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیس گائے میں ایک سال کا بچھوا، یا ایک سال کی بچھیا کی زکاۃ ہے اور چالیس گایوں میں دو سال کی بچھیا کی زکاۃ ہے ( دانتی یعنی دو دانت والی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبدالسلام بن حرب نے اسی طرح یہ حدیث خصیف سے روایت کی ہے، اور عبدالسلام ثقہ ہیں حافظ ہیں، ۲- شریک نے بھی یہ حدیث بطریق: «خصيف عن أبي عبيدة عن أمه عن عبد الله» روایت کی ہے، ۳- اور ابوعبیدہ بن عبداللہ کا سماع اپنے والد عبداللہ سے نہیں ہے۔ ۴- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فِي ثَلاَثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ خُصَيْفٍ وَعَبْدُ السَّلاَمِ ثِقَةٌ حَافِظٌ . وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ .
#623
Sahih
Mu'adh bin Jabal narrated:"The Prophet sent me to Yemen and ordered me to collect a Tabi or a Tabi'ah on every thirty cows, a Musinnah on every forty, a Dinar for every Halim, or its equivalent of Ma'afir."Abu Eisa said: This Hadith is Hasan. Some of them reported this Hadith from Sufyan, from Al-A'mash, from Abu Wa'il, from Masruq: "The Prophet sent Mu'adh to Yemen and ordered him to take..." and this is more authentic
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور حکم دیا کہ میں ہر تیس گائے پر ایک سال کا بچھوا یا بچھیا زکاۃ میں لوں اور ہر چالیس پر دو سال کی بچھیا زکاۃ میں لوں، اور ہر ( ذمّی ) بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری ۱؎ کپڑے بطور جزیہ لوں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «سفيان، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن مسروق» مرسلاً روایت کی ہے ۳؎ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا اور اس میں «فأمرني أن آخذ» کے بجائے «فأمره أن يأخذ» ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے ۴؎۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاَثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ . وَهَذَا أَصَحُّ .
#624
Sahih Isnaad
Muhammad bin Bash-shar (Al-Abdi) narrated to us, :Muhammad bin Ja'far narrated to us, from Shu'bah, from Amr bin Murrah who said: "I asked Abu Ubaidah bin Abdullah: 'Did you remember anything from Abdullah?' He said, 'No
عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبیدہ بن عبداللہ سے پوچھا: کیا وہ ( اپنے والد ) عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کوئی چیز یاد رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ هَلْ تَذْكُرُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ لاَ .
#625
Sahih
Ibn Abbas narrated that :the Messenger of Allah sent Mu'adh to Yemen and said to him: "You are going to a people from the People of the Book, so invite them to testify that none has the right to be worshipped but Allah, and that I am the Messenger of Allah. If they comply with that, then inform them that Allah has made five prayers obligatory upon them in a day and a night. If they comply with that, then inform then that Allah has ordained a charity upon their wealth, which is to be taken from the rich among them and given to the poor among them. If they comply with that, then beware of their most precious wealth, and protect yourself from the supplication of the oppressed, for there is no barrier between it and Allah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی الله عنہ کو یمن ( کی طرف اپنا عامل بنا کر ) بھیجا اور ان سے فرمایا: ”تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو، تم انہیں دعوت دینا کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ اس کو مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر رات اور دن میں پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے، اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان کے مال میں زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے فقراء و مساکین کو لوٹا دی جائے گی ۱؎، اگر وہ اسے مان لیں تو تم ان کے عمدہ مال لینے سے اپنے آپ کو بچانا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں صنابحی رضی الله عنہ ۲؎ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ اسْمُهُ نَافِذٌ .