#3926
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said about Makkah: "How sweet of a land you are and how dear you are to me, and if it were not that my people expelled me from you, I would not have lived in other than you
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”کتنا پاکیزہ شہر ہے تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے، میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَأَبُو الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَكَّةَ " مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَىَّ وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3927
Daif
Narrated Salman:"The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'O Salman! Do not detest me and thereby leave your religion.' I said: 'O Messenger of Allah! How could I detest you while Allah guided us by you.' He said: 'You will detest the Arabs and thereby detest me
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلمان! تم مجھ سے بغض نہ رکھو کہ تمہارا دین ہاتھ سے جاتا رہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے، آپ نے فرمایا: ”تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، شُجَاعُ ابْنُ الْوَلِيدِ عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا سَلْمَانُ لاَ تُبْغِضْنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ قَالَ " تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ . وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ أَبُو ظَبْيَانَ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ مَاتَ سَلْمَانُ قَبْلَ عَلِيٍّ .
#3928
Mawdu
Narrated 'Uthman bin 'Affan:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever cheats the Arabs, he will not be included in my intercession, and my love shall not reach him
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عربوں کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں شامل نہ ہو گا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الأَحْمَسِيِّ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ ابْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الأَحْمَسِيِّ عَنْ مُخَارِقٍ . وَلَيْسَ حُصَيْنٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَاكَ الْقَوِيِّ .
#3929
Daif
Narrated Muhammad bin Abi Razin:that his mother said: "If someone died from the Arabs it would be hard upon Umm Al-Harir so it was said to her: 'We see that if a man from the Arabs dies it is hard upon you.' She said: 'I heard my Mawla say that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "From the (signs of) coming of the Hour is the destruction of the Arabs." Muhammad bin Abi Razin said: "And her Mawla was Talhah bin Malik
محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا تو ام جریر پر اس کی موت بڑی سخت ہو جاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے“۔ محمد بن رزین کہتے ہیں: ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف سلیمان بن حرب کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ كَانَتْ أُمُّ الْحَرِيرِ إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا فَقِيلَ لَهَا إِنَّا نَرَاكِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْكِ . قَالَتْ سَمِعْتُ مَوْلاَىَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلاَكُ الْعَرَبِ " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ وَمَوْلاَهَا طَلْحَةُ بْنُ مَالِكٍ . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ .
#3930
Sahih
Narrated Umm Sharik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The people will flee from the Dajjal such that they will go to the mountains." Umm Sharik said: "O Messenger of Allah! Where will the Arabs be that day?" He said: "They will be few
ام شریک رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ دجال سے بھاگیں گے، یہاں تک کہ پہاڑوں پر جا رہیں گے“، ام شریک رضی الله عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ ( تعداد میں ) تھوڑے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ حَتَّى يَلْحَقُوا بِالْجِبَالِ " . قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ " هُمْ قَلِيلٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#3931
Daif
Narrated Samurah bin Jundab:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Sam was the father of Arabs, Yafith was the father of Romans, and Ham was the father of Ethiopians
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سام» عربوں کے جد امجد ہیں اور «یافث» رومیوں کے اور «حام» حبشیوں کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور «یافث»، «یافِتُ» اور «یَفِتُ» تینوں لغتیں ہیں۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَامٌ أَبُو الْعَرَبِ وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ وَحَامٌ أَبُو الْحَبَشِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَيُقَالُ يَافِثُ وَيَافِتُ وَيَفتُ .
#3932
Daif
Narrated Abu Hurairah:"Al-'Ajam (non-Arabs) were mentioned before the Messenger of Allah (ﷺ) so the Prophet (ﷺ) said: 'I am supported more by them, or, by some of them, than I am by you, or some of you
ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عجم کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مجھے ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف ابوبکر بن عیاش کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور صالح بن ابی صالح کو صالح بن مہران مولی عمرو بن حریث بھی کہا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ ذُكِرَتِ الأَعَاجِمُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ . وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ صَالِحُ بْنُ مِهْرَانَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ .
#3933
Sahih
Narrated Abu Hurairah:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when Surat Al-Jumu'ah was revealed, so he recited it until he reached: 'And others among them who have not yet joined them (62:3).' A man said to him: 'O Messenger of Allah! Who are these people who have not yet joined us?' But he did not say anything to him." He said: "Salman Al-Farisi was among us." He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) placed his hand upon Salman and said: 'By the One Whose Hand is my soul! If faith were on Pleiades then men among these people would reach it
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت سورۃ الجمعہ نازل ہوئی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» پر پہنچے تو آپ سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ہم سے ملے نہیں ہیں تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، وہ کہتے ہیں: اور سلمان فارسی ہم میں موجود تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان کے اوپر رکھا اور فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا پر بھی ہو گا تو بھی اس کے کچھ لوگ اسے حاصل کر لیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور یہ متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَتَلاَهَا فَلَمَّا بَلَغَ : ( وآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ) قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِنَا فَلَمْ يُكَلِّمْهُ . قَالَ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ فِينَا . قَالَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ فَقَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ الإِيمَانُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلاَءِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَأَبُو الْغَيْثِ اسْمُهُ سَالِمٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ مَدَنِيٌّ .
#3934
Hasan Sahih
Narrated Zaid bin Thabit [may Allah be pleased with him]:that the Prophet (ﷺ) looked towards Yemen and said: "O Allah direct their hearts and bless us in our Sa' and our Mudd
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیر دے اور ہمارے صاع اور مد میں ہمیں برکت دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے یعنی زید بن ثابت کی اس حدیث کو صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَظَرَ قِبَلَ الْيَمَنِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ .
#3935
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The people of Yemen have come to you. They are weaker in heart and softer in understanding, faith is Yemeni and wisdom is Yemeni
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اہل یمن آئے وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں، ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3936
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Leadership is among the Quraish, and reasoning and judgment is among the Ansar, and the Adhan is among the Ethiopians, and the trust is among the Al-Azd." meaning Yemen
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلطنت ( حکومت ) قریش میں رہے گی، اور قضاء انصار میں اور اذان حبشہ میں اور امانت قبیلہ ازد میں یعنی یمن میں“۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ وَالْقَضَاءُ فِي الأَنْصَارِ وَالأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ وَالأَمَانَةُ فِي الأَزْدِ " . يَعْنِي الْيَمَنَ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ .
#3937
Daif
Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Azd is Allah's lion upon the earth, the people wish to lower them but Allah refuses except to raise them. A time will come upon the people where a man will say: "I wish my father was Azadi, I wish my mother was Azadi
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ازد» ( اہل یمن ) زمین میں اللہ کے شیر ہیں، لوگ انہیں گرانا چاہتے ہیں اور اللہ انہیں اٹھانا چاہتا ہے، اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی کہے گا، کاش! میرا باپ ازدی ہوتا، کاش میری ماں! ازدیہ ہوتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث اس سند سے انس سے موقوف طریقہ سے آئی ہے، اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي، صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبٍ بْنِ الْحَبْحَابِ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الأَزْدُ أُسْدُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَنْ يَرْفَعَهُمْ وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًّا يَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مَوْقُوفًا وَهُوَ عِنْدَنَا أَصَحُّ .
#3938
Sahih Isnaad Mauquf
Narrated Anas:"If we are not from Al-Azd then we are not from the people
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی ( یعنی قبیلہ ازد کے ) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنْ لَمْ نَكُنْ مِنَ الأَزْدِ فَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#3939
Mawdu
Narrated Mina, the freed slave of 'Abdur-Rahman bin 'Awf that Abu Hurairah said:"We were with the Prophet (ﷺ) and a man came to him who I think was from Qais. So he said: 'O Messenger of Allah! Curse Himyar.' So he turned away from him, then he went to his other side, and he turned away from him. Then he went to his other side, and he turned away from him. Then he went to his other side, and he turned away from him. So the Prophet (ﷺ) said: 'May Allah have mercy upon Himyar! Their mouths are (full of) peace, their hands are (generous with) food, and they are the people of trust and faith
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا ( میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ قیس کا تھا ) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیے، تو آپ نے اس سے چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ کے پاس آیا، آپ نے پھر اس سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے پھر اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور فرمایا: ”اللہ حمیر پر رحم کرے، ان کے منہ میں سلام ہے، ان کے ہاتھ میں کھانا ہے، اور وہ امن و ایمان والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے عبدالرزاق کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اور میناء سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُويَهْ، - بَغْدَادِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مِينَاءَ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ أَحْسِبُهُ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرًا . فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشَّقِّ الآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلاَمٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ . وَيُرْوَى عَنْ مِينَاءَ هَذَا أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ .
#3940
Sahih
Narrated Abu Ayyub Al-Ansari:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Ansar, Muzainah, and Juhainah, Ashja', Ghifar, and whoever is from Banu 'Abdid-Dar are Mawali. They do not have a Mawla other than Allah, and Allah and His Messenger are their Mawla
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو قبیلہ عبدالدار کے ہوں وہ میرے رفیق ہیں، ان کا اللہ کے علاوہ کوئی اور رفیق نہیں، اور اللہ اور اس کے رسول ان کے رفیق ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الأَنْصَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلاَهُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3941
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Aslam, may Allah make them safe: Ghifar, may Allah forgive them, and 'Usayyah has disobeyed Allah and His Messenger
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3942
Daif
Narrated Jabir:"They said: 'O Messenger of Allah! Thaqif are razing us with their arrows, so supplicate to Allah against them!' So he said: 'O Allah! Guide Thaqif
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ثقیف کے تیروں نے ہمیں زخمی کر دیا، تو آپ اللہ سے ان کے لیے بد دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا: «اللهم اهد ثقيفا» ”اے اللہ! ثقیف کو ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ . قَالَ " اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#3943
Daif Isnaad
Narrated 'Imran bin Husain:"The Prophet (ﷺ) died while he was having trouble with three tribes: Thaqif, Banu Hanifah, and Banu Umayyah
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ تین قبیلوں ثقیف، بنی حنیفہ اور بنی امیہ کو ناپسند کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ مَاتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَكْرَهُ ثَلاَثَةَ أَحْيَاءٍ ثَقِيفًا وَبَنِي حَنِيفَةَ وَبَنِي أُمَيَّةَ . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3944
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "In Thaqif there is a liar and a destroyer
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہی مچانے والا ظالم شخص ہو گا“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ " . حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ يُكْنَى أَبَا عُلْوَانَ وَهُوَ كُوفِيٌّ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ . وَشَرِيكٌ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ وَإِسْرَائِيلُ يَرْوِي عَنْ هَذَا الشَّيْخِ وَيَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمَةَ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ .
#3945
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that a Bedouin gave a young female camel as a gift to the Messenger of Allah (ﷺ), so he in turn for that, gave him six young female camels. But he was not satisfied with that, so when that news reached the Prophet (ﷺ), he praised Allah, and expressed gratitude to Him, then said: 'Indeed so-and-so gave a camel to me as a gift, so I reciprocated for that with six young she-camels, yet he became upset. So I decided that I would not accept a gift except from a Quraishi, or Ansari, or Dawsi
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں“، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے، ۲- اور یزید بن ہارون ایوب ابوالعلاء سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ایوب بن مسکین ہیں اور انہیں ابن ابی مسکین بھی کہا جاتا ہے، اور شاید یہی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے ایوب سے اور ایوب نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اور ایوب سے مراد ایوب ابوالعلاء ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرَةً فَعَوَّضَهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ فُلاَنًا أَهْدَى إِلَىَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ " . وَفِي الْحَدِيثِ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا . هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ يَرْوِي عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلاَءِ وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ مِسْكِينٍ وَيُقَالُ ابْنُ أَبِي مِسْكِينٍ وَلَعَلَّ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ هُوَ أَيُّوبُ أَبُو الْعَلاَءِ .
#3946
Sahih
Narrated Abu Hurairah:"A man from Banu Fazarah gave a gift to the Prophet (ﷺ) of she-camel from his camels which they had taken at Al-Ghabah. So he reciprocated for it with something in return, but he was upset with it. So I heard the Messenger of Allah (ﷺ), upon [this] Minbar saying: 'Indeed one of the men from the Bedouins gave me a gift so I reciprocated for it to the extent of what I had. Then he became very upset with me. By Allah! After my experience with this Bedouin man, I shall not accept a gift from anyone except from a Quraishi, Ansari, Thaqafi, or Dawsi
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ ”عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی، انصاری یا ثقفی یا دوسی کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور یہ یزید بن ہارون کی روایت سے جسے وہ ایوب سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَاقَةً مِنْ إِبِلِهِ الَّتِي كَانُوا أَصَابُوا بِالْغَابَةِ فَعَوَّضَهُ مِنْهَا بَعْضَ الْعِوَضِ فَتَسَخَّطَهُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ " إِنَّ رِجَالاً مِنَ الْعَرَبِ يُهْدِي أَحَدُهُمُ الْهَدِيَّةَ فَأُعَوِّضُهُ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا عِنْدِي ثُمَّ يَتَسَخَّطُهُ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُ فِيهِ عَلَىَّ وَايْمُ اللَّهِ لاَ أَقْبَلُ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ أَيُّوبَ .
#3947
Daif
Narrated 'Amir bin Abi 'Amir Al-Ash'ari:from his father who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Blessed are the tribes of Al-Asad and Al-Ash'arun, they flee not from fighting nor do they pilfer the spoils of war. They are from me and I am from them.'" He ('Amir) said: "So I narrated that to Mu'awiyah, and he said: "This is not how the Messenger of Allah (ﷺ) said it, he said: 'They are from me, and for me.' I said, this is not how my father narrated it to me, rather he narrated to me, saying: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "They are from me and I am from them.'" So he said: 'Then you are more knowledgeable of your father's Hadith
ابوعامر اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے ہیں قبیلہ اسد اور قبیلہ اشعر کے لوگ، جو لڑائی سے بھاگتے نہیں اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“، عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے اسے معاویہ رضی الله عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا، بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ ”وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف ہیں“، تو میں نے عرض کیا: میرے باپ نے مجھ سے اس طرح نہیں بیان کیا، بلکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: تو تم اپنے باپ کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف وہب بن جریر کی روایت سے جانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسد قبیلہ اسد ہی کے لوگ ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلاَذٍ، يُحَدِّثُ عَنْ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نِعْمَ الْحَىُّ الأَسْدُ وَالأَشْعَرُونَ لاَ يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلاَ يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ " . قَالَ فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَيْسَ هَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ " هُمْ مِنِّي وَإِلَىَّ " . فَقُلْتُ لَيْسَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبِي وَلَكِنَّهُ حَدَّثَنِي قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ " . قَالَ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيكَ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ . وَيُقَالُ الأَسْدُ هُمُ الأَزْدُ .
#3948
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "Aslam, may Allah make them safe, and Ghifar, may Allah forgive them
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور بنی غفار کو اللہ کو بخشے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر، ابوبرزہ اسلمی اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے ہی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ وَبُرَيْدَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ .
#3949
Sahih
Narrated 'Abdullah bin Dinar:similar to Shu'bah (#3948) and he added: "And 'Usayyah has disobeyed Allah and His Messenger
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَزَادَ فِيهِ " وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3950
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "By the One in Whose Hand is Muhammad's soul! Ghifar, Aslam, Muzainah, and whoever is from Juhainah," or he said: "Juhainah, and whoever is from Muzainah, they are better with Allah on the Day of Judgment than Asad, Tayyi' and Ghatafan
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! غفار، اسلم، مزنیہ اور جو جہنیہ کے لوگ“ یا آپ نے فرمایا: ”جہنیہ اور جو مزنیہ کے لوگ ہیں اللہ کے نزدیک قیامت کے دن اسد، طی اور غطفان سے بہتر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغِفَارُ وَأَسْلَمُ وَمُزَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ قَالَ جُهَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَطَيِّءٍ وَغَطَفَانَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .