#3826
Hasan
Narrated Ibn Abi Mulaikah:from 'Aishah, that the Prophet (ﷺ) saw a lamp in the house of Az-Zubair, so he said: "O 'Aishah, I do not think except that Asma has given birth, so do not name him until I should name him." So he named him 'Abdullah, and he (performed Tahnik) with a date that was in his hand
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خواب میں ) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ رضی الله عنہا سے فرمایا: ”عائشہ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ مَا أُرَى أَسْمَاءَ إِلاَّ قَدْ نَفِسَتْ فَلاَ تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ " . فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3827
Sahih
Narrated Anas bin Malik:"The Messenger of Allah (ﷺ) passed by, so my mother, Umm Sulaim, heard his voice and said: 'May my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah. This is Unais.' So the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated for me with three supplications, and I have seem two of them in the world, and I hope for the third in the Hereafter
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں: میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول! یہ انیس ۱؎ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ۲؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ فَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ . قَالَ فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ دَعَوَاتٍ قَدْ رَأَيْتُ مِنْهُنَّ اثْنَيْنِ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الآخِرَةِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#3828
Sahih
Narrated Anas bin Malik:that the Prophet (ﷺ) said to him: "O possessor of two ears!" (One of the narrators) Abu Usamah said: 'He only meant it as a joke
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: ”اے دو کانوں والے“۔ ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رُبَّمَا قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا ذَا الأُذُنَيْنِ " . قَالَ أَبُو أُسَامَةَ يَعْنِي يُمَازِحُهُ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
#3829
Sahih
Narrated Anas bin Malik:from Umm Sulaim, that she said: "O Messenger of Allah, Anas bin Malik is your servant, supplicate to Allah for him." He said: "O Allah, increase his wealth and his children, and bless him in what You have given him
ام سلیم رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! انس آپ کا خادم ہے، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: «اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ . قَالَ " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3830
Daif
Narrated Anas [may Allah be pleased with him]:"The Messenger of Allah (ﷺ) gave me my Kunyah because of a plant that I used to care for
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ایک ساگ ( گھاس ) کے ساتھ رکھی جسے میں چن رہا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف جابر جعفی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ ابونصر سے روایت کرتے ہیں، ۲- ابونصر کا نام خیثمہ بن ابی خیثمہ بصریٰ ہے، انہوں نے انس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ عَنْ أَبِي نَصْرٍ . وَأَبُو نَصْرٍ هُوَ خَيْثَمَةُ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيُّ رَوَى عَنْ أَنَسٍ أَحَادِيثَ .
#3831
Daif Isnaad
Narrated Thabit Al-Bunani:"Anas bin Malik said to me: 'O Thabit, take from me, for indeed you shall not take from one more trustworthy than me. Verily, I took it from the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) took it from Jibra'il, and Jibra'il took it from Allah the Mighty and Sublime
ثابت بنانی کا بیان ہے کہ مجھ سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے، میں نے اسے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَا ثَابِتُ خُذْ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تَأْخُذْ عَنْ أَحَدٍ أَوْثَقَ مِنِّي إِنِّي أَخَذْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ جِبْرِيلَ وَأَخَذَهُ جِبْرِيلُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ .
#3832
Daif
Narrated Thabit:from Anas, similar to the previous narration of Ibrahim bin Ya'qub, and he did not mention in it: "And the Prophet (ﷺ) took it from Jibra'il
اس سند سے بھی انس رضی الله عنہ سے ابراہیم بن یعقوب والی حدیث ہی کی طرح حدیث مروی ہے، لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جبرائیل سے لیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَعْقُوبَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ جِبْرِيلَ .
#3833
Sahih
Narrated Abu Khaldah:"I said to Abu Al-'Aliyah: '(Did) Anas heard from the Prophet (ﷺ)?' He said: 'He served him for ten years, and the Prophet (ﷺ) supplicated for him, and he used to have a garden that would bear fruit twice in the year, and there used to be sweet basil in it, from which could be found the smell of musk
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا: کیا انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے، اور انس رضی الله عنہ کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے انس بن مالک رضی الله عنہ کا زمانہ پایا ہے، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي الْعَالِيَةِ سَمِعَ أَنَسٌ، مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ خَدَمَهُ عَشْرَ سِنِينَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ لَهُ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي السَّنَةِ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ يَجِدُ مِنْهُ رِيحَ الْمِسْكِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَوَى عَنْهُ .
#3834
Hasan Isnaad
Narrated Abu Hurairah:"I came to the Prophet (ﷺ) and spread out my garment next to him, then he took it and gathered it at my heart, so I did not forget after that [any Hadith]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے پاس اپنی چادر پھیلا دی، آپ نے اسے اٹھایا اور سمیٹ کر اسے میرے دل پر رکھ دیا، اس کے بعد سے میں کوئی چیز نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَسَطْتُ ثَوْبِي عِنْدَهُ ثُمَّ أَخَذَهُ فَجَمَعَهُ عَلَى قَلْبِي فَمَا نَسِيتُ بَعْدَهُ حَدِيثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3835
Sahih
Narrated Abu Hurairah:"I said: 'O Messenger of Allah, I hear from you things that I do not remember.' He said: 'Spread your cloak.' So I spread it, then he narrated many Ahadith, and I did not forget a thing that he reported to me
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بہت سی چیزیں آپ سے سنتا ہوں لیکن انہیں یاد نہیں رکھ پاتا، آپ نے فرمایا: ”اپنی چادر پھیلاؤ“، تو میں نے اسے پھیلا دیا، پھر آپ نے بہت سے حدیثیں بیان فرمائیں، تو آپ نے جتنی بھی حدیثیں مجھ سے بیان فرمائیں میں ان میں سے کوئی بھی نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَلاَ أَحْفَظُهَا . قَالَ " ابْسُطْ رِدَاءَكَ " . فَبَسَطْتُ فَحَدَّثَ حَدِيثًا كَثِيرًا فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#3836
Sahih Isnaad
Narrated Al-Walid bin 'Abdur-Rahman:that Ibn 'Umar said to Abu Hurairah: "You used to stick to the Messenger of Allah (ﷺ) most out of all of us, and you used to best memorize his Ahadith out of us
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہا: ابوہریرہ! آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے اور ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں یاد رکھنے والے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ لأَبِي هُرَيْرَةَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ كُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَحْفَظَنَا لِحَدِيثِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
#3837
Daif Isnaad
Narrated Malik bin Abi 'Amir:"A man came to Talhah bin 'Ubaidullah and said: 'O Abu Muhammad, do you see this Yemeni - meaning: Abu Hurairah - is he more knowledgeable of the Ahadith of the Messenger of Allah (ﷺ) than you? We hear from him what we do not hear from you, or does he attribute to the Messenger of Allah (ﷺ) what he did not say?' He said: 'As for his having heard from the Messenger of Allah (ﷺ) what we did not hear from him, then that is because he was poor, having nothing, a guest of the Messenger of Allah (ﷺ), his hand was in the hand of the Messenger of Allah (ﷺ). And we used to be people of houses and wealth, and we used to come to the Messenger of Allah (ﷺ) at the two ends of the day. I do not doubt that he heard from the Messenger of Allah (ﷺ) what we did not hear, and you will not find anyone in whom there is good attributing to the Messenger of Allah (ﷺ) what he did not say
مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا: اے ابو محمد! کیا یہ یمنی شخص یعنی ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بات گھڑ کر کہتا ہے جو آپ نے نہیں فرمائی، تو انہوں نے کہا: نہیں ایسی بات نہیں، واقعی ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان رہتے تھے، ان کا ہاتھ ( کھانے پینے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح میں اور شام ہی میں آ پاتے تھے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں، اور تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جس میں کوئی خیر ہو اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے یونس بن بکیر نے اور ان کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَرَأَيْتَ هَذَا الْيَمَانِيَ يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ نَسْمَعُ مِنْهُ مَا لاَ نَسْمَعُ مِنْكُمْ أَوْ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ يَقُلْ . قَالَ أَمَّا أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ فَلاَ أَشُكُّ إِلاَّ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ وَذَاكَ أَنَّهُ كَانَ مِسْكِينًا لاَ شَىْءَ لَهُ ضَيْفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدُهُ مَعَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنَّا نَحْنُ أَهْلَ بُيُوتَاتٍ وَغِنًى وَكُنَّا نَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَرَفَىِ النَّهَارِ فَلاَ نَشُكُّ إِلاَّ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ وَلاَ نَجِدُ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ يَقُلْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ . وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ .
#3838
Sahih Isnaad
Narrated Abu Hurairah:"The Prophet (ﷺ) said to me: 'Who are you from?' I said: 'From Daws.' He said: 'I did not used think there was anyone from Daws in whom there was good
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس قبیلہ سے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں قبیلہ دوس کا ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو گا جس میں خیر ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مِمَّنْ أَنْتَ " . قَالَ قُلْتُ مِنْ دَوْسٍ . قَالَ " مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ فِي دَوْسٍ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ .
#3839
Hasan Isnaad
Narrated Abu Hurairah:"I came to the Prophet (ﷺ) with some dates and said: 'O Messenger of Allah, supplicate to Allah to bless them.' So he took them and supplicated for me for blessing in them, and then said to me: 'Take them and put them in this bag of yours - or this bag - and whenever you intend to take any from it, then put your hand in it and take it, and do not scatter them all about.' So I carried such and such Wasq of those dates in the cause of Allah. We used to eat from it, and give others to eat, and it (the bag) would not part from my waist until the day 'Uthman was killed, for they had run out
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں برکت کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ نے انہیں اکٹھا کیا پھر ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا: ”انہیں لے جاؤ اور اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور جب تم اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کرو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لو، اسے بکھیرو نہیں چنانچہ ہم نے اس میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں دیئے اور ہم اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ۱؎ اور وہ ( تھیلی ) کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتی تھی، یہاں تک کہ جس دن عثمان رضی الله عنہ قتل کئے گئے تو وہ ٹوٹ کر ( کہیں ) گر گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے دوسری سندوں سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ . فَضَمَّهُنَّ ثُمَّ دَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ فَقَالَ لِي " خُذْهُنَّ وَاجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدِكَ هَذَا أَوْ فِي هَذَا الْمِزْوَدِ كُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَكَ فَخُذْهُ وَلاَ تَنْثُرْهُ نَثْرًا " . فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لاَ يُفَارِقُ حَقْوِي حَتَّى كَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهُ انْقَطَعَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#3840
Hasan Isnaad
Narrated 'Abdullah bin Rafi':"I said to Abu Hurairah: 'Why were you given the Kunyah Abu Hurairah?' He said: 'Do you not fear me?'" He said: "Indeed, I am in awe of you.' He said: 'I used to tend the sheep of my people, and I had a small kitten; so I used to place it in a tree at night, and during the day I would take it with me and play with it. So they named me Abu Hurairah
عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ قسم اللہ کی! میں آپ سے ڈرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا: میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا، اور اس سے کھیلتا، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي هُرَيْرَةَ لِمَ كُنِّيتَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَا تَفْرَقُ مِنِّي قُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لأَهَابُكَ . قَالَ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمَ أَهْلِي فَكَانَتْ لِي هُرَيْرَةٌ صَغِيرَةٌ فَكُنْتُ أَضَعُهَا بِاللَّيْلِ فِي شَجَرَةٍ فَإِذَا كَانَ النَّهَارُ ذَهَبْتُ بِهَا مَعِي فَلَعِبْتُ بِهَا فَكَنَّوْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3841
Sahih
Narrated Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] :"There is none with more Ahadith from the Messenger of Allah (ﷺ) than I, except for 'Abdullah bin 'Amr, for he used to write, (the Ahadith) and I did not used to write
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنِّي إِلاَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لاَ أَكْتُبُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3842
Sahih
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abu 'Umairah - and he was one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ):from the Prophet (ﷺ), that he said to Mu'awiyah: "O Allah, make him a guiding one, and guide (others) by him
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3843
Sahih Lighairihi
Narrated Abu Idris Al-Khawlani:"When 'Umar bin Al-Khattab removed 'Umair bin Sa'd as governor of Hims, he appointed Mu'awiyah. The people said: 'He has removed 'Umair and appointed Mu'awiyah.' So 'Umair said: 'Do not mention Mu'awiyah except with good, for indeed, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "O Allah guide (others) by him
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ رضی الله عنہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا: انہوں نے عمیر کو معزول کر دیا اور معاویہ کو والی بنایا، تو عمیر نے کہا: تم لوگ معاویہ رضی الله عنہ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اهد به» ”اے اللہ! ان کے ذریعہ ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، قَالَ لَمَّا عَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عُمَيْرَ بْنَ سَعِيدٍ عَنْ حِمْصَ، وَلَّى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ النَّاسُ عَزَلَ عُمَيْرًا وَوَلَّى مُعَاوِيَةَ . فَقَالَ عُمَيْرٌ لاَ تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلاَّ بِخَيْرٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ يُضَعَّفُ .
#3844
Hasan
Narrated 'Uqbah bin 'Amir:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The people submitted while 'Amr bin Al-'As believed
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اسلام لائے اور عمرو بن العاص رضی الله عنہ ایمان لائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَسْلَمَ النَّاسُ وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ .
#3845
Daif Isnaad
Narrated Talhah bin 'Ubaidullah:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Indeed, 'Amr bin Al-'As is from among the righteous of the Quraish
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عمرو بن العاص رضی الله عنہ قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم صرف نافع بن عمر جمحی کی روایت سے جانتے ہیں اور نافع ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل نہیں ہے، اور ابن ابی ملیکہ نے طلحہ کو نہیں پایا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِي مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ . وَنَافِعٌ ثِقَةٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكْ طَلْحَةَ .
#3846
Sahih
Narrated Abu Hurairah:"We camped with the Messenger of Allah (ﷺ) at a place, and the people began passing by. The Messenger of Allah (ﷺ) would say: 'Who is this, O Abu Hurairah?' So I would say: 'So-and-so.' So he would say: 'What an excellent slave of Allah this is.' And he would say: 'Who is this?' So I would say: 'So-and-so.' So he would say: 'What a bad slave of Allah this is.' Until Khalid bin Al-Walid passed, so he said: 'Who is this?' So I said: 'This is Khalid bin Al-Walid.' He said: 'What an excellent slave of Allah is Khalid bin Al-Walid, a sword from among the swords of Allah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک منزل پر پڑاؤ کیا، جب لوگ آپ کے سامنے سے گزرتے تو آپ پوچھتے: ”ابوہریرہ! یہ کون ہے؟“ میں کہتا: فلاں ہے، تو آپ فرماتے: ”کیا ہی اچھا بندہ ہے یہ اللہ کا“، پھر آپ فرماتے: ”یہ کون ہے؟“ تو میں کہتا: فلاں ہے تو آپ فرماتے: ”کیا ہی برا بندہ ہے یہ اللہ کا ۱؎“، یہاں تک کہ خالد بن ولید گزرے تو آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ خالد بن ولید ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے بندے ہیں اللہ کے خالد بن ولید، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ زید بن اسلم کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ہے کہ نہیں اور یہ میرے نزدیک مرسل روایت ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْزِلاً فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هَذَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " . فَأَقُولُ فُلاَنٌ . فَيَقُولُ " نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا " . وَيَقُولُ " مَنْ هَذَا " . فَأَقُولُ فُلاَنٌ . فَيَقُولُ " بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا " . حَتَّى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . فَقُلْتُ هَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ . فَقَالَ " نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلاَ نَعْرِفُ لِزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سَمَاعًا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ .
#3847
Sahih
Narrated Al-Bara:"A garment of silk was gifted to the Messenger of Allah (ﷺ) so they began to marvel at its softness, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do you marvel at this? Indeed, the handkerchiefs of Sa'd bin Mu'adh in Paradise are better than this
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی کپڑے ہدیہ میں آئے، ان کی نرمی کو دیکھ کر لوگ تعجب کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے رومال اس سے بہتر ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ بھی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَوْبٌ حَرِيرٌ فَجَعَلُوا يَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3848
Sahih
Narrated Jabir bin 'Abdullah:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ), saying while the funeral of Sa'd bin Mu'adh was in front of them: 'The Throne of Ar-Rahman shook due to it
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اور سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ ( اس وقت لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا ) : ”ان کے لیے رحمن کا عرش ( بھی خوشی سے ) جھوم اٹھا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسید بن حضیر، ابو سعید خدری اور رمیثہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَرُمَيْثَةَ .هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3849
Sahih
Narrated Anas bin Malik:"When the funeral of Sa'd bin Mu'adh was carried, the hypocrites said: 'How light his funeral is.' And this was due to his judgment concerning Banu Quraizah. So this reached the Prophet (ﷺ), and he said: 'Indeed, the angels were carrying him
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہا: کتنا ہلکا ہے ان کا جنازہ؟ اور یہ طعن انہوں نے اس لیے کیا کہ سعد نے بنی قریظہ کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا حُمِلَتْ جَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ مَا أَخَفَّ جَنَازَتَهُ . وَذَلِكَ لِحُكْمِهِ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ كَانَتْ تَحْمِلُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#3850
Sahih
Narrated Anas:"Qais bin Sa'd used to be, to the Prophet (ﷺ), in the position of the head of police for a ruler." (One of the narrators) Al-Ansari said: "That is: Due to his affairs that he takes charge of
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قیس بن سعد رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایسے ہی تھے جیسے امیر ( کی حفاظت ) کے لیے پولیس والا ہوتا ہے۔ راوی حدیث ( محمد بن عبداللہ ) انصاری کہتے ہیں: یعنی وہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے ) آپ کے بہت سے امور انجام دیا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف انصاری کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الأَمِيرِ . قَالَ الأَنْصَارِيُّ يَعْنِي مِمَّا يَلِي مِنْ أُمُورِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الأَنْصَارِيِّ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ قَوْلَ الأَنْصَارِيِّ .