#3776
Sahih
Narrated Anas bin Malik:"None of them used to resemble the Messenger of Allah (ﷺ) more than Al-Hasan bin 'Ali
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول کے مشابہ کوئی نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3777
Sahih
Narrated Abu Juhaifah:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ), and Al-Hasan bin 'Ali used to resemble him
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حسن بن علی رضی الله عنہما ان سے مشابہت رکھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ الزُّبَيْرِ .
#3778
Sahih
Narrated Anas bin Malik:"I was with Ibn Ziyad and the head of Al-Husain was brought. He began to poke it in the nose with a stick that he had, saying: 'I do not see the like of this as beautiful, why is he mentioned as such?'" He said: "I said: 'Behold, he was of the closest of them in resemblance to the Messenger of Allah (ﷺ)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین رضی الله عنہ کا سر لایا گیا تو وہ ان کی ناک میں اپنی چھڑی مار کر کہنے لگا میں نے اس جیسا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا کیوں ان کا ذکر حسن سے کیا جاتا ہے ( جب کہ وہ حسین نہیں ہے ) ۱؎۔ تو میں نے کہا: سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ لَهُ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا لَمْ يُذْكَرْ . قَالَ قُلْتُ أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#3779
Daif
Narrated 'Ali:said: "Al-Hasan is greater in resemblance to the Messenger of Allah (ﷺ) with regards to what is between the chest and the head, and Al-Husain is greater in resemblance to the Messenger of Allah (ﷺ) with regards to what is below that
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حسن رضی الله عنہ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حسین رضی الله عنہ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3780
Sahih Isnaad
Narrated 'Umarah bin 'Umair:"When the heads of 'Ubaidullah bin Ziyad and his companions were brought, they were stacked in the Masjid at Ar-Rahbah. So I came to them and they were saying: 'It has come, it has come." And behold, there was a snake going between the heads, until it entered the nostrils of 'Ubaidullah bin Ziyad, and it remained there momentarily, then left and went until it had disappeared. Then they said: 'It has come, it has come.' So it did that two or three times
عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے ۱؎ اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے: آیا آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہو گیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا، یہاں تک کہ غائب ہو گیا، پھر لوگ کہنے لگے: آیا آیا، اس طرح دو یا تین بار ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَأَصْحَابِهِ نُضِّدَتْ فِي الْمَسْجِدِ فِي الرَّحَبَةِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ . فَإِذَا حَيَّةٌ قَدْ جَاءَتْ تَخَلَّلُ الرُّءُوسَ حَتَّى دَخَلَتْ فِي مَنْخَرَىْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَمَكَثَتْ هُنَيْهَةً ثُمَّ خَرَجَتْ فَذَهَبَتْ حَتَّى تَغَيَّبَتْ ثُمَّ قَالُوا قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ . فَفَعَلَتْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3781
Sahih
Narrated Hudhaifah :"My mother asked me: 'When is your planned time - meaning with the Prophet (ﷺ)?' So I said: 'I have not had a planned time to see him since such and such time.' She rebuked me, so I said to her: 'Let me go to the Prophet (ﷺ) so that I may perform Maghrib (prayer) with him, and ask him to seek forgiveness for you and I.' So I came to the Prophet (ﷺ), and I prayed Maghrib with him, then he prayed until he prayed Al-'Isha. Then he turned, and I followed him, and he heard my voice, and said: 'Who is this? Hudhaifah?' I said: 'Yes.' He said: "What is your need, may Allah forgive you and your mother?' He said: 'Indeed, this is an angel that never descended to the earth ever before tonight. He sought permission from his Lord to greet me with peace and to give me the glad tidings that Fatimah is the chief of the women of Paradise, and that Al-Hasan and Al-Husain are the chiefs of the youths of the people of Paradise
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے؟ میں نے کہا: اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جا سکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا: اب مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ ( نوافل ) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا: ”کون ہو؟ حذیفہ؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا: «ما حاجتك غفر الله لك ولأمك» ”کیا بات ہے؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو“ ( پھر ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں ( یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان ) کے سردار ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ سَأَلَتْنِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ - تَعْنِي - بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَقُلْتُ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا . فَنَالَتْ مِنِّي فَقُلْتُ لَهَا دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأُصَلِّيَ مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ " مَنْ هَذَا حُذَيْفَةُ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " مَا حَاجَتُكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلأُمِّكَ " . قَالَ " إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَىَّ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ .
#3782
Sahih
Narrated Al-Bara:that the Prophet (ﷺ) saw Hasan and Husain, so he said: "O Allah, I love them, so love them
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: «اللهم إني أحبهما فأحبهما» ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَبْصَرَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3783
Sahih
Narrated Al-Bara bin 'Azib:"I saw the Prophet (ﷺ) placing Al-Hasan bin 'Ali upon his shoulder while saying: 'O Allah, I love him, so love him
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے کندھے پر حسن بن علی رضی الله عنہما کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: «اللهم إني أحبه فأحبه» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ فضیل بن مرزوق کی ( مذکورہ ) روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْفُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ .
#3784
Daif
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) was carrying Al-Hasan bin 'Ali upon his shoulder, so a man said: "What an excellent mount you are riding, O child." So the Prophet (ﷺ) said: "And what an excellent rider he is
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسین بن علی رضی الله عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا: بیٹے! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- زمعہ بن صالح کی بعض محدثین نے ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَامِلَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ فَقَالَ رَجُلٌ نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلاَمُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
#3785
Daif
Narrated Al-Musayyab bin Najabah:"'Ali bin Abi Talib said: 'The Prophet SAW said: "Indeed every Prophet is given seven select attendants" - or he said: "guards" - "and I was given fourteen." We said: "Who are they?" He said: 'Myself, my two sons (Al-Hasan and Al-Husain), Ja'far, Hamzah, Abu Bakr, 'Umar, Mus'ab bin 'Umair, Bilal, Salman, 'Ammar, Al-Miqdad, Hudhaifah, Abu Dharr, and 'Abdullah bin Mas'ud
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو اللہ نے سات نقیب عنایت فرمائے ہیں، اور مجھے چودہ“، ہم نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں، میرے دونوں نواسے، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، مقداد، حذیفہ، عمار اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ نَجْبَةَ، قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ أَوْ نُقَبَاءَ وَأُعْطِيتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عَشَرَ " . قُلْنَا مَنْ هُمَ قَالَ أَنَا وَابْنَاىَ وَجَعْفَرٌ وَحَمْزَةُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَبِلاَلٌ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَالْمِقْدَادُ وَ حُذَيْفَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا .
#3786
Sahih
Narrated Jabir bin 'Abdullah:"I saw the Messenger of Allah during his Hajj, on the Day of 'Arafah. He was upon his camel Al-Qaswa, giving a Khutbah, so he said: 'O people! Indeed, I have left among you, that which if you hold fast to it, you shall not go astray: The Book of Allah and my family, the people of my house
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری «عترت» یعنی اہل بیت ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- زید بن حسن سے سعید بن سلیمان اور متعدد اہل علم نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوذر، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ، هُوَ الأَنْمَاطِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي " .وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَزَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ قَدْ رَوَى عَنْهُ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ .
#3787
Sahih
Narrated 'Umar bin Abi Salamah - the step-son of the Prophet (ﷺ):"When these Ayat were revealed to the Prophet (ﷺ): 'Allah only wishes to remove the Rijs from you, O members of the family, and to purify you with a thorough purification...' (33:33) in the home of Umm Salamah, he called for Fatimah, Hasan, Husain, and wrapped them in a cloak, and 'Ali was behind him, so he wrapped him in the cloak, then he said: 'O Allah! These are the people of my house, so remove the Rijs from them, and purify them with a thorough purification.' So Umm Salamah said: 'And am I with them O Messenger of Allah?' He said: 'You are in your place, and you are more virtuous to me
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے «ربيب» (پروردہ) عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اے اہل بیت النبوۃ! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ( کفر و شرک ) کی گندگی دور کر دے، اور تمہاری خوب تطہیر کر دے“ ( الاحزاب: ۳۳ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اتریں تو آپ نے فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور آپ نے انہیں ایک چادر میں ڈھانپ لیا اور علی رضی الله عنہ آپ کی پشت مبارک کے پیچھے تھے تو آپ نے انہیں بھی چادر میں چھپا لیا، پھر فرمایا: «اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان کی ناپاکی کو دور فرما دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر دے“، ام سلمہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنی جگہ پر رہ اور تو بھی نیکی پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، معقل بن یسار، ابوحمراء اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَّ : ( إنمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا " . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ " أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ إِلَيَّ خَيْرٍ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَأَبِي الْحَمْرَاءِ وَأَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3788
Sahih
Narrated Zaid bin Arqam, may Allah be pleased with both of them:that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Indeed, I am leaving among you, that which if you hold fast to them, you shall not be misguided after me. One of them is greater than the other: The Book of Allah is a rope extended from the sky to the earth, and my family - the people of my house - and they shall not split until they meet at the Hawd, so look at how you deal with them after me
زید بن ارقم رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اور دوسری میری «عترت» یعنی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، - الْكُوفِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَالأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الآخَرِ كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَىَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3789
Daif
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Love Allah for what He nourishes you with of His Blessings, love me due to the love of Allah, and love the people of my house due to love of me
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ الأَشْعَثِ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا ��َدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3790
Sahih
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The most merciful of my nation to my nation is Abu Bakr, and the most severe of them concerning the order of Allah is 'Umar, and the most truly modest of them is 'Uthman bin 'Affan. The most knowledgeable of them concerning the lawful and unlawful is Mu'adh Bin Jabal, the most knowledgeable of them concerning (the laws of) inheritance is Zaid bin Thabit, the best reciter (of the Qur'an) among them is Ubayy bin Ka'b, and every nation has a trustworthy one, and the trustworthy one of this nation is Abu 'Ubaidah Bin Al-Jarrah
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض ( میراث ) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ۲- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ دَاوُدَ الْعَطَّارِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو قِلاَبَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَالْمَشْهُورُ حَدِيثُ أَبِي قِلاَبَةَ .
#3791
Hasan Sahih
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The most merciful of my nation to my nation is Abu Bakr, and the most severe of them concerning the order of Allah is 'Umar, and the most truly modest of them is 'Uthman bin 'Affan. The best reciter (of the Qur'an) among them is Ubayy bin Ka'b, the most knowledgeable of them concerning (the laws of) inheritance is Zaid bin Thabit, the most knowledgeable of them concerning the lawful and the unlawful is Mu'adh bin Jabal. Truly, every nation has a trustworthy one, and the trustworthy one of this nation is Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور فرائض ( میراث ) کے سب سے بڑے جانکار زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سنو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3792
Sahih
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to Ubayy bin Ka'b: "Indeed Allah ordered me to recite to you: Those who disbelieve were not going to... (98:1) He said: "And He named me?" He said: "Yes." So he wept
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں «لم يكن الذين كفروا» ۱؎ پڑھ کر سناؤں، انہوں نے عرض کیا: کیا اس نے میرا نام لیا ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں ( یہ سن کر ) وہ رو پڑے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ : ( لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا ) " . قَالَ وَسَمَّانِي قَالَ " نَعَمْ " . فَبَكَى . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
#3793
Hasan Sahih
Narrated Ubayy bin Ka'b:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Indeed, Allah ordered me to recite to you, so he recited in it: "Those who disbelieve from amongst the People of the Book were not going to...'" (And he) also recited in it, "Indeed, the religion with Allah is Al-Hanafiyyah, the Muslim, not Judaism, nor Christianity, whoever does good, it shall not be rejected from him." And he recited to him: "And if the son of Adam had a valley-full of wealth, he would seek a second, and if he had a second, he would seek a third, and nothing fills the belly of the son of Adam except for dirt. And Allah pardons those who repent
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں“، پھر آپ نے انہیں «لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب» پڑھ کر سنایا، اور اس میں یہ بھی پڑھا ۱؎ «إن ذات الدين عند الله الحنيفية المسلمة لا اليهودية ولا النصرانية من يعمل خيرا فلن يكفره» ”بیشک دین والی ۲؎ اللہ کے نزدیک تمام ادیان و ملل سے رشتہ کاٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہو جانے والی مسلمان عورت ہے نہ کہ یہودی اور نصرانی عورت جو کوئی نیکی کا کام کرے تو وہ ہرگز اس کی ناقدری نہ کرے“، اور آپ نے ان کے سامنے یہ بھی پڑھا: ۳؎ «ولو أن لابن آدم واديا من مال لابتغى إليه ثانيا ولو كان له ثانيا لابتغى إليه ثالثا ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب» ”اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی خواہش کرے گا اور اگر اسے دوسری بھی مل جائے تو وہ تیسری چاہے گا، اور آدم زادہ کا پیٹ صرف خاک ہی بھر سکے گی ۴؎، اور جو توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۳- اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور انہوں نے ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں“، ۴- قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے فرمایا کہ ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں“۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ " . فَقَرَأَ عَلَيْهِ: ( لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ) فَقَرَأَ فِيهَا " إِنَّ ذَاتَ الدِّينِ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ الْمُسْلِمَةُ لاَ الْيَهُودِيَّةُ وَلاَ النَّصْرَانِيَّةُ مَنْ يَعْمَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ " . وَقَرَأَ عَلَيْهِ " وَلَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا وَلَوْ كَانَ لَهُ ثَانِيًا لاَبْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا وَلاَ يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " . وَقَدْ رَوَى قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُبَىٍّ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " .
#3794
Sahih
Narrated Qatadah:that Anas bin Malik said: "Four gathered the Qur'an during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), all of them are from the Ansar: Ubayy bin Ka'b, Mu'adh bin Jabal, Zaid bin Thabit, and Abu Zaid." I said to Anas: "Who is Abu Zaid?" He said: "One of my uncles
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قرآن کو چار آدمیوں نے جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے ہیں: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ . قُلْتُ لأَنَسٍ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3795
Sahih
Narrated Abu Hurairah:narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What an excellent man is Abu Bakr, what an excellent man is 'Umar, what an excellent man is Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah, what an excellent man is Usaid bin Hudair, what an excellent man is Thabit bin Qais bin Shammas, what an excellent man is Mua'dh bin Jabal, and what an excellent man is Mu'adh bin 'Amr bin Al-Jamuh
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے لوگ ہیں ابوبکر، عمر، ابوعبیدہ بن جراح، اسید بن حضیر، ثابت بن قیس بن شماس، معاذ بن جبل اور معاذ بن عمرو بن جموح“ ( رضی الله عنہم ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ .
#3796
Sahih
Narrated Hudhaifah bin Al-Yaman:that Al-'Aqib and As-Sayyid (two of the leaders of the Christians of Najran) came to the Prophet (ﷺ) and said: "Send with us your trustworthy one." He said: "I shall send with you a trustworthy one who is truly a trustworthy one." So the people desired that, and he sent Abu 'Ubaidah, may Allah be pleased with him
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک قوم کا نائب اور سردار دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دونوں نے عرض کیا: ہمارے ساتھ آپ اپنا کوئی امین روانہ فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ ایک ایسا امین بھیجوں گا جو حق امانت بخوبی ادا کرے گا“، تو اس کے لیے لوگوں کی نظریں اٹھ گئیں اور پھر آپ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو روانہ فرمایا۔ راوی حدیث ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں: جب وہ اس حدیث کو صلہ سے روایت کرتے تو کہتے ساٹھ سال ہوئے یہ حدیث میں نے ان سے سنی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابن عمر اور انس رضی الله عنہما کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالاَ ابْعَثْ مَعَنَا أَمِينًا . فَقَالَ " فَإِنِّي سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ " . فَأَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رضى الله عنه . قَالَ وَكَانَ أَبُو إِسْحَاقَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ صِلَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ أَخْبَرَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ قَلْبُ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ مِنْ ذَهَبٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَأَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .
#3797
Daif
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed, Paradise longs for three: 'Ali, 'Ammar, and Salman
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے: علی، عمار، اور سلمان رضی الله عنہم کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسن بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الإِيَادِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلاَثَةٍ عَلِيٍّ وَعَمَّارٍ وَسَلْمَانَ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ .
#3798
Sahih
Narrated 'Ali:that 'Ammar bin Yasir came seeking permission to enter upon the Prophet (ﷺ) so he said: 'Permit him, greetings to the pure one, the purified
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمار نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو، مرحبا مرد پاک ذات و پاک صفات کو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِىءِ بْنِ هَانِىءٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ جَاءَ عَمَّارٌ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3799
Sahih
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار کو جب بھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے اسی کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سب سے بہتر اور حق سے زیادہ قریب ہوتی تھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبدالعزیز بن سیاہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور یہ ایک کوفی شیخ ہیں اور ان سے لوگوں نے روایت کی ہے، ان کا ایک لڑکا تھا جسے یزید بن عبدالعزیز کہا جاتا تھا، ان سے یحییٰ بن آدم نے روایت کی ہے۔
#3800
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Rejoice, 'Ammar, the transgressing party shall kill you
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، عبدالرحمٰن بن عمرو، ابویسر اور حذیفہ رضی الله عنہم احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْشِرْ عَمَّارُ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي الْيَسَرِ وَحُذَيْفَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ .