#3701
Hasan
Narrated 'Abdur-Rahman bin Samurah:that 'Uthman went to the Prophet (ﷺ) with one-thousand Dinar" - Al-Hasan bin Waqi (one of the narrators) said: "And in another place in my book: 'In his garment when the 'army of distress' was being prepared. So he poured them into his lap.'" - 'Abdur-Rahman said: "So I saw the Prophet (ﷺ) turning them over in his lap, saying: 'Whatever 'Uthman does after today will not harm him,' two times
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے، ( حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں: دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے ) ، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا، اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا“، ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ كَثِيرٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ سَمُرَةَ، قَالَ جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِأَلْفِ دِينَارٍ - قَالَ الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ كِتَابِي فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَنَثَرَهَا فِي حِجْرِهِ . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ " مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ " . مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3702
Daif
Narrated Anas bin Malik:that when the Messenger of Allah (ﷺ) ordered the pledge of Ridwan, 'Uthman bin 'Affan was the messenger of the Messenger of Allah (ﷺ) to the people of Makkah. He said: "So the people gave the pledge." He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed 'Uthman is busy with the affair of Allah and the affair of His Messenger' then he (ﷺ) put one of his hands on the other. The hand of the Messenger of Allah (ﷺ) on behalf of 'Uthman, was better than their own hands for themselves
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیعت رضوان ۱؎ کا حکم دیا گیا تو عثمان بن عفان رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر اہل مکہ کے پاس گئے ہوئے تھے، جب آپ نے لوگوں سے بیعت لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ جسے آپ نے عثمان کے لیے استعمال کیا لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ فَبَايَعَ النَّاسَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ " . فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لأَنْفُسِهِمْ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#3703
Hasan
Narrated Thumamah bin Hazn Al-Qushairi:"I was present at the house when 'Uthman appeared above them saying: 'Bring me your two companions who have gathered you against me.'" He said: "So they were brought as if they were two camels, or as if they were two donkeys." He said: "'Uthman appeared above them and said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) came to Al-Madinah and there was no water in it that was sweet except the well of Rumah, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who will purchase the well of Rumah and place his bucket alongside the buckets of the Muslims, in exchange for better than that in Paradise?' So I bought it with the core of my wealth, and today you prevent me from drinking from it, so that I would have to drink from the water of the sea?' They said: 'O Allah! Yes!' He said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Masjid, was insufficient for its people, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who will purchase the land of the family of so-and-so, and add it to the Masjid in exchange for better than that in Paradise?' So I bought it with the core of my wealth, and today you prevent me from praying two Rak'ah in it?' They said: 'O Allah! Yes.' He said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that I prepared the 'army of distress' from my wealth?' They said: 'O Allah! Yes!' Then he said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) was on (mount) Thabir of Makkah, and with him was Abu Bakr, and 'Umar, and myself. The mountain began shaking until its rocks fell to its bottom.' He said: 'So he (ﷺ) stomped it with his foot and said: "Be still O Thabir! For there is none upon except a Prophet, a Siddiq and two martyrs?"' They said: 'O Allah! Yes!' He said: 'Allah is Great! Bear witness by the Lord of the Ka'bah that I am a martyr!' - three times
ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب عثمان رضی الله عنہ نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا: تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو عثمان رضی الله عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا؟“، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا ( کھارا ) پانی پی رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا؟“، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا: ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر رضی الله عنہما تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا: ”ٹھہر اے ثبیر! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں“، لوگوں نے کہا: ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر! قسم ہے رب کعبہ کی! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ ائْتُونِي بِصَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَىَّ . قَالَ فَجِيءَ بِهِمَا فَكَأَنَّهُمَا جَمَلاَنِ أَوْ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ . قَالَ فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلاَمِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ " مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ مَعَ دِلاَءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ " . فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ . قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلاَمِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلاَنٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ " . فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ . قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلاَمِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلاَمِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ قَالَ فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ " اسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ " . قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ ثَلاَثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُثْمَانَ .
#3704
Sahih
Narrated Abu Al-Ash'ath As-Sana'ani:"Some people were delivering Khutbah in Ash-Sham, and among them were Companions of the Prophet (ﷺ). So the last of them, a man called Murrah bin Ka'b, stood, and he said: 'If it were not for a Hadith I heard from the Messenger of Allah (ﷺ), I would not have stood (to address you). He (ﷺ) mentioned the tribulations, and that they would be coming soon. Then a man who was concealed by a garment passed by. So he said: "This one will be upon guidance that day." So I went towards him, and it was 'Uthman bin 'Affan. I turned, facing him, and I said: "This one?" He said: "Yes
ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے، پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے مرہ بن کعب رضی الله عنہ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا: ”یہ اس دن ہدایت پر ہو گا“، تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان بن عفان رضی الله عنہ ہیں، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا: وہ یہی ہیں، انہوں نے کہا: ہاں وہ یہی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اس باب میں ابن عمر، عبداللہ بن حوالہ اور کعب بن عجرۃ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ خُطَبَاءَ، قَامَتْ بِالشَّامِ وَفِيهِمْ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ لَوْلاَ حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا قُمْتُ . وَذَكَرَ الْفِتَنَ فَقَرَّبَهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ . قَالَ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ فَقُلْتُ هَذَا قَالَ نَعَمْ .هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ .
#3705
Sahih
Narrated 'Aishah:that the Prophet (ﷺ) said: "O 'Uthman! Indeed Allah may give you a shirt, and if they wish that you take it off, do not take it off for them
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! شاید اللہ تمہیں کوئی کرتا ۱؎ پہنائے، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا“، اس میں حدیث ایک طویل قصہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلاَ تَخْلَعْهُ لَهُمْ " . وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3706
Sahih
Narrated 'Uthman bin 'Abdullah bin Mawhab:"A man among the people of Egypt performed Hajj to the House, and saw a group sitting, so he said: 'Who are these?' They said: 'The Quraish.' He said: 'So who is this old man?' They said: 'Ibn 'Umar.' So he went to him and said: 'I will ask you about something, so inform me. I ask you by Allah! By the sanctity of this House! Do you know that 'Uthman fled on the Day of (the battle of) Uhud?' He said: 'Yes.' He said: 'Do you know that he was absent from the Pledge of Ar-Ridwan, that he did not witness it?' He said: 'Yes.' He said: 'Do you know that he was absent on the Day of (the battle of) Badr and did not participate in it?' He said: 'Yes.' So he said: 'Allah is Great' So Ibn 'Umar said to him: 'Come, so I can clarify to you what you have asked about. As for his fleeing on the Day of (the battle of) Uhud, then I bear witness that Allah has pardoned him and forgiven him. As for his being absent on the Day of (the battle of) Badr, then he was married to the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ). So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "You have the reward of a man who participated in (the battle of) Badr, and his share (spoils of war)." [And he ordered him to stay behind with her, as she was ill]. As for his being absent from the Pledge of Ar-Ridwan, then if there was anyone more revered in Makkah than 'Uthman, then the Messenger of Allah (ﷺ) would have sent him instead of 'Uthman. The Messenger of Allah (ﷺ) sent 'Uthman [to Makkah], and the Pledge of Ar-Ridwan was after 'Uthman had departed for Makkah." He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) said with his right hand: "This is the hand of 'Uthman," and he put it upon his own hand, and said: "This is for 'Uthman."' He said to him: "Go now, and take this (clarification) with you
عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص نے بیت اللہ کا حج کیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ قبیلہ قریش کے لوگ ہیں، اس نے کہا: یہ کون شیخ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما ہیں تو وہ ان کے پاس آیا اور بولا: میں آپ سے ایک چیز پوچھ رہا ہوں آپ مجھے بتائیے، میں آپ سے اس گھر کی حرمت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان رضی الله عنہ احد کے دن بھاگے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان کے وقت موجود نہیں تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر میں موجود نہیں تھے، تمہارے انہوں نے کہا: ہاں، اس مصری نے ازراہ تعجب اللہ اکبر کہا ۱؎، اس پر ابن عمر رضی الله عنہما نے اس سے کہا: آؤ میں تیرے سوالوں کو تم پر واضح کر دوں: رہا ان ( عثمان ) کا احد کے دن بھاگنا ۲؎ تو تو گواہ رہ کہ اللہ نے اسے معاف کر دیا اور بخش دیا ہے ۳؎ اور رہی بدر کے دن، ان کی غیر حاضری تو ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ”تمہیں اس آدمی کے برابر ثواب اور اس کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا، جو بدر میں حاضر ہو گا“، اور رہی ان کی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عثمان سے بڑھ کر وادی مکہ میں کوئی باعزت ہوتا تو عثمان رضی الله عنہ کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو بھیجتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان کو مکہ بھیجا اور بیعت رضوان عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ عثمان کا ہاتھ ہے“، اور اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے“، تو ابن عمر رضی الله عنہما نے اس سے کہا: اب یہ جواب تو اپنے ساتھ لیتا جا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلاَءِ قَالُوا قُرَيْشٌ . قَالَ فَمَنْ هَذَا الشَّيْخُ قَالُوا ابْنُ عُمَرَ . فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي أَنْشُدُكَ اللَّهَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ . قَالَ أَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ . قَالَ أَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْ قَالَ نَعَمْ . قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ . فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ مَا سَأَلْتَ عَنْهُ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ - أَوْ تَحْتَهُ - ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَكَ أَجْرُ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمُهُ " . وَأَمَرَهُ أَنْ يَخْلُفَ عَلَيْهَا وَكَانَتْ عَلِيلَةً وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَانَ عُثْمَانَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُثْمَانَ إِلَى مَكَّةَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ الْيُمْنَى " هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ " . وَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ فَقَالَ " هَذِهِ لِعُثْمَانَ "رضى الله عنه . قَالَ لَهُ اذْهَبْ بِهَذَا الآنَ مَعَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3707
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was alive, we used to say: 'Abu Bakr, and (then) 'Umar, and (then) 'Uthman
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کہتے تھے: ”ابوبکر، عمر، اور عثمان ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَىٌّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
#3708
Hasan Isnaad
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned the Fitnah and said: "This one will be wrongfully killed during it," about 'Uthman bin 'Affan [may Allah be pleased with him]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا تو فرمایا: ”اس فتنہ میں یہ عثمان بھی مظلوم قتل کیا جائے گا“ ( یہ بات آپ نے عثمان رضی الله عنہ کے متعلق کہی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شَاذَانُ الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ هَارُونَ الْبُرْجُمِيِّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِتْنَةً فَقَالَ " يُقْتَلُ فِيهَا هَذَا مَظْلُومًا " . لِعُثْمَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ .
#3709
Mawdu
Narrated Jabir:that the Prophet (ﷺ) was brought the body of a deceased man, to perform Salat for him, but he did not pray over him. It was said: "O Messenger of Allah! We have not seen you avoiding prayer over anyone before this?" He said: "He used to hate 'Uthman, so Allah hates him
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نماز جنازہ پڑھیں تو آپ نے اس پر نماز نہیں پڑھی، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس سے پہلے ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پر جنازہ کی نماز نہ پڑھی ہو؟ آپ نے فرمایا: ”یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا، تو اللہ نے اسے مبغوض کر دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میمون بن مہران کے شاگرد محمد بن زیادہ حدیث میں بہت ضعیف گردانے جاتے ہیں ۱؎، اور محمد بن زیاد جو ابوہریرہ رضی الله عنہ کے شاگرد ہیں یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوحارث ہے اور محمد بن زیاد الہانی جو ابوامامہ کے شاگرد ہیں، ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوسفیان ہے، یہ شامی ہیں۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِجَنَازَةِ رَجُلٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَاكَ تَرَكْتَ الصَّلاَةَ عَلَى أَحَدٍ قَبْلَ هَذَا قَالَ " إِنَّهُ كَانَ يَبْغَضُ عُثْمَانَ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ جِدًّا وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ هُوَ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ وَيُكْنَى أَبَا الْحَارِثِ وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الأَلْهَانِيُّ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ ثِقَةٌ يُكْنَى أَبَا سُفْيَانَ شَامِيٌّ .
#3710
Sahih
Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:"I went with the Prophet (ﷺ) and he entered a garden of the Ansar, and he relieved himself. He said to me: 'O Abu Musa! Watch the gate for me, and do not let anyone enter except with permission.' Then a man came and knocked at the gate, so I said: 'Who is it?' He said: 'Abu Bakr.' So I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! It is Abu Bakr asking permission?' He said: 'Give him permission and give him the glad tidings of Paradise.' So he entered, and I gave him the glad tidings of Paradise. Another man came and knocked at the gate. I said: 'Who is it?' He said: "'Umar.' So I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! It is 'Umar asking permission?' He said: 'Open it for him, and give him the glad tidings of Paradise.' I opened [the gate], he entered, and I gave him the glad tidings of Paradise. Then another man knocked at the gate. I said: 'Who is it?' So he said: ''Uthman.' I said: 'O Messenger of Allah! It is 'Uthman asking permission.' He said: 'Open it for him, and give him the glad tidings of Paradise due to a calamity that will befall him
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ”ابوموسیٰ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے“، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”انہیں آنے دو، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمر ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عمر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ میں نے دروازہ کھول دیا، وہ اندر آ گئے، اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دے دی، پھر ایک تیسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: عثمان ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عثمان اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے بھی دروازہ کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو، ساتھ ہی ایک آزمائش کی جو انہیں پہنچ کر رہے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی ابوعثمان نہدی سے آئی ہے، ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ حَائِطًا لِلأَنْصَارِ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَقَالَ لِي " يَا أَبَا مُوسَى أَمْلِكْ عَلَىَّ الْبَابَ فَلاَ يَدْخُلَنَّ عَلَىَّ أَحَدٌ إِلاَّ بِإِذْنٍ " . فَجَاءَ رَجُلٌ يَضْرِبُ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ . قَالَ " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ . قَالَ " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ فَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عُثْمَانُ . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ . قَالَ " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ .
#3711
Sahih
Narrated Abu Sahlah:"The day of the house (when he was besieged), 'Uthman said: 'Indeed the Messenger of Allah (ﷺ) took a covenant from me, and I will abide by it
ابوسہلہ کا بیان ہے کہ عثمان رضی الله عنہ نے مجھ سے جس دن وہ گھر میں محصور تھے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا تھا اور میں اس عہد پر صابر یعنی قائم ہوں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ، قَالَ قَالَ لِي عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ عَهِدَ إِلَىَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ .
#3712
Sahih
Narrated 'Imran bin Husain:that the Messenger of Allah (ﷺ) dispatched an army and he put 'Ali bin Abi Talib in charge of it. He left on the expedition and he entered upon a female slave. So four of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) scolded him, and they made a pact saying: "[If] we meet the Messenger of Allah (ﷺ) we will inform him of what 'Ali did." When the Muslims returned from the journey, they would begin with the Messenger of Allah (ﷺ) and give him Salam, then they would go to their homes. So when the expedition arrived, they gave Salam to the Prophet (ﷺ), and one of the four stood saying: "O Messenger of Allah! Do you see that 'Ali bin Abi Talib did such and such." The Messenger of Allah (ﷺ) turned away from him. Then the second one stood and said as he said, and he turned away from him. Then the third stood before him, and said as he said, and he turned away from him. Then the fourth stood and said as they had said. The Messenger of Allah (ﷺ) faced him, and the anger was visible on his face, he said: "What do you want from 'Ali?! What do you want from 'Ali?! What do you want from 'Ali?! Indeed 'Ali is from me, and I am from him, and he is the ally of every believer after me
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( لشکر ) روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر علی رضی الله عنہ کو مقرر کیا، چنانچہ وہ اس سریہ ( لشکر ) میں گئے، پھر ایک لونڈی سے انہوں نے جماع کر لیا ۱؎ لوگوں نے ان پر نکیر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار آدمیوں نے طے کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ہم ملیں گے تو علی نے جو کچھ کیا ہے اسے ہم آپ کو بتائیں گے، اور مسلمان جب سفر سے لوٹتے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے اور آپ کو سلام کرتے تھے، پھر اپنے گھروں کو جاتے، چنانچہ جب یہ سریہ واپس لوٹ کر آیا اور لوگوں نے آپ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی تو آپ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیر لیا، پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی ظاہر تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ۱؎ اور وہ دوست ہیں ہر اس مومن کا جو میرے بعد آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَيْشًا وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَمَضَى فِي السَّرِيَّةِ فَأَصَابَ جَارِيَةً فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ وَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا رَجَعُوا مِنَ السَّفَرِ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى رِحَالِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ أَحَدُ الأَرْبَعَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَنَعَ كَذَا وَكَذَا . فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ الثَّالِثُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالُوا فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ " مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ بَعْدِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ .
#3713
Sahih
Narrated Abu Sarihah, or Zaid bin Arqam - Shu'bah had doubt:from the Prophet (ﷺ): "For whomever I am his Mawla then 'Ali is his Mawla
ابوسریحہ یا زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث میمون ابوعبداللہ سے اور میمون نے زید بن ارقم سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور ابوسریحہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن اسید غفاری ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيْحَةَ، أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ شَكَّ شُعْبَةُ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَأَبُو سَرِيحَةَ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#3714
Very Daif
Narrated 'Ali bin Abi Talib:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "May Allah have mercy upon Abu Bakr, he married me to his daughter, and he carried me to the land of Hijrah, and he freed Bilal with his wealth. May Allah have mercy upon 'Umar, he says the truth even if it is sour. The truth caused him to be left without a friend. May Allah have mercy upon 'Uthman, the angels are shy of him. May Allah have mercy upon 'Ali. O Allah! Place the truth with him wherever he turns
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی لڑکی سے میری شادی کر دی اور مجھے دارلہجرۃ ( مدینہ ) لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے ( خرید کر ) آزاد کیا، اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے وہ حق بات کہتے ہیں، اگرچہ وہ کڑوی ہو، حق نے انہیں ایسے حال میں چھوڑا ہے کہ ( اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ) ان کا کوئی دوست نہیں، اللہ عثمان پر رحم کرے ان سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں، اللہ علی پر رحم فرمائے، اے اللہ! حق کو ان کے ساتھ پھیر جہاں وہ پھریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- مختار بن نافع کثیر الغرائب اور بصریٰ شیخ ہیں، ۳- ابوحیان تیمی کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان تیمی ہے اور یہ کوفی ہیں اور ثقہ ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِي ابْنَتَهُ وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ وَأَعْتَقَ بِلاَلاً مِنْ مَالِهِ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الْحَقُّ وَمَالَهُ صَدِيقٌ رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلاَئِكَةُ رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَالْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ وَأَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ كُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ .
#3715
Daif Isnaad
Narrated Rib'i bin Hirash:"At Ar-Rahbah, 'Ali narrated to us: 'On the Day of (the Pledge of) Hudaibiyah, some people from the idolaters came out to us. Among them was Suhail bin 'Amr, and some people among the heads of the idolaters. They said: "O Messenger of Allah! People among our fathers, brothers, and slaves have come to you, and they have no knowledge of the religion, rather they came fleeing from our wealth and property, so return them to us. If they do not have knowledge of the religion, then we will teach them." So the Prophet (ﷺ) said: "O people of Quraish, you will desist, or Allah will send upon you one who will chop your necks with the sword over the religion. Allah has tested their hearts regarding faith." They said: "Who is he O Messenger of Allah?" Abu Bakr said to him: "Who is he O Messenger of Allah?" 'Umar said to him: "Who is he O Messenger of Allah?" He said: "He is the one repairing the sandals." - And he had given 'Ali his sandals to repair them. - He said: "Then 'Ali turned to us and said: 'Indeed the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever lies upon me intentionally, then let him take his seat in the Fire
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ہم سے علی بن ابوطالب رضی الله عنہ نے «رحبیہ» ( مخصوص بیٹھک ) میں بیان کیا، حدیبیہ کے دن مشرکین میں سے کچھ لوگ ہماری طرف نکلے، ان میں سہیل بن عمرو اور مشرکین کے کچھ اور سردار بھی تھے یہ سب آ کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے بیٹوں، بھائیوں اور غلاموں میں سے کچھ آپ کی طرف نکل کر آ گئے ہیں، انہیں دین کی سمجھ نہیں وہ ہمارے مال اور سامانوں کے درمیان سے بھاگ آئے ہیں، آپ انہیں واپس کر دیجئیے اگر انہیں دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں سمجھا دیں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ قریش! تم اپنی نفسیانیت سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو بھیجے گا جو تمہاری گردنیں اسی دین کی خاطر تلوار سے اڑائے گا، اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے جانچ لیا ہے، لوگوں نے عرض کیا: وہ کون شخص ہے؟ اللہ کے رسول! اور آپ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی پوچھا: وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ اور عمر رضی الله عنہ نے بھی کہ وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”وہ جوتی ٹانکنے والا ہے، اور آپ نے علی رضی الله عنہ کو اپنا جوتا دے رکھا تھا، وہ اسے ٹانک رہے تھے، ( راوی کہتے ہیں ) پھر علی رضی الله عنہ ہماری جانب متوجہ ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو میرے اوپر جھوٹ باندھے اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ربعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- میں نے جارود سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے وکیع کو کہتے ہوئے سنا کہ ربعی بن حراش نے اسلام میں کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا، ۳- اور مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی اور وہ عبداللہ بن ابی اسود سے روایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی کو کہتے سنا: منصور بن معتمر اہل کوفہ میں سب سے ثقہ آدمی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، بِالرَّحَبَةِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ خَرَجَ إِلَيْنَا نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَأُنَاسٌ مِنْ رُؤَسَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ إِلَيْكَ نَاسٌ مِنْ أَبْنَائِنَا وَإِخْوَانِنَا وَأَرِقَّائِنَا وَلَيْسَ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا خَرَجُوا فِرَارًا مِنْ أَمْوَالِنَا وَضِيَاعِنَا فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا . " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ سَنُفَقِّهُهُمْ " . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ بِالسَّيْفِ عَلَى الدِّينِ قَدِ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ عَلَى الإِيمَانِ " . قَالُوا مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَالَ عُمَرُ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " هُوَ خَاصِفُ النَّعْلِ " . وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا عَلِيٌّ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ . وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ لَمْ يَكْذِبْ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ فِي الإِسْلاَمِ كِذْبَةً . وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَثْبَتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ .
#3716
Hasan Sahih
Narrated Al-Bara bin 'Azib:that the Prophet (ﷺ) said to 'Ali bin Abi Talib: "You are from me, and I am from you." And there is a story along with this Hadith
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اس حدیث میں ایک واقعہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ " أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ " . وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3717
Very Daif Isnaad
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم گروہ انصار، منافقوں کو علی رضی الله عنہ سے ان کے بغض رکھنے کی وجہ سے خوب پہچانتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور شعبہ نے ابوہارون کے سلسلہ میں کلام کیا ہے، ۲- یہ حدیث اعمش سے بھی روایت کی گئی ہے، جسے انہوں نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے۔
#3718
Daif
Narrated Buraidah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah has ordered me to love four, and He informed me that He loves them." It was said: "O Messenger of Allah! Name them for us." He said: "'Ali is among them," saying that three times, "And Abu Dharr, Al-Miqdad, and Salman. And He ordered me to love them, and He informed me that He loves them
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہمیں ان کا نام بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”علی انہیں میں سے ہیں“، آپ اس جملہ کو تین بار دہرا رہے تھے ”اور باقی تین: ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں، مجھے اللہ نے ان لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے اس نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا . قَالَ " عَلِيٌّ مِنْهُمْ يَقُولُ ذَلِكَ ثَلاَثًا وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ وَسَلْمَانُ أَمَرَنِي بِحُبِّهِمْ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ " .هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ .
#3719
Hasan
Narrated Hubshi bin Junadah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "'Ali is from me and I am from 'Ali. And none should represent me except myself or 'Ali
حبشی بن جنادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور میری جانب سے نقض عہد کی بات میرے یا علی کے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کرے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ وَلاَ يُؤَدِّي عَنِّي إِلاَّ أَنَا أَوْ عَلِيٌّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
#3720
Daif
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) made bonds of brotherhood among his Companions. So 'Ali came crying saying: "O Messenger of Allah! You have made a bond of brotherhood among your Companions, but you have not made a bond of brotherhood with me and anyone." So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "I am your brother, in this life and the next
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی رضی الله عنہ روتے ہوئے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں زید بن ابی اوفی سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَىٍّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى .
#3721
Daif
Narrated Anas bin Malik:"There was a bird with the Prophet (ﷺ), so he said: 'O Allah, send to me the most beloved of Your creatures to eat this bird with me.' So 'Ali came and ate with him
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ تھا، آپ نے دعا فرمائی کہ ”اے للہ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں ۴- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَيْرٌ فَقَالَ " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ " . فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ . وَعِيسَى بْنُ عُمَرَ هُوَ كُوفِيٌّ وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزَائِدَةُ وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ .
#3722
Daif
Narrated 'Ali:"When I would ask the Messenger of Allah (ﷺ), he would give me, and when I would be silent, he would initiate (speech or giving) with me
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي .هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3723
Daif
Narrated 'Ali:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I am the house of wisdom, and 'Ali is its door
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب، اور منکر ہے، ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس میں صنابحی کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی کے واسطہ سے شریک سے آئی ہو، اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مُنْكَرٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ وَلاَ نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ احِدٍ مِنَ الثِّقَاتِ غير شَرِيكٍ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
#3724
Sahih
Narrated 'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas:from his father, saying "Mu'awiyah bin Abu Sufyan ordered Sa'd, saying 'What prevented you from reviling Abu Turab?' He said: 'Three things that I remember from the Messenger of Allah (ﷺ) prevent me from reviling him. That I should have even one those things is more beloved to me than red camels. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) speaking to 'Ali, and he had left him behind in one of his battles. So 'Ali said to him: "O Messenger of Allah! You leave me behind with women and children?" So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Are you not pleased that you should be in the position with me that Harun was with Musa? Except that there is no Prophethood after me?" And on the Day of (the battle of) Khaibar, I heard him saying: "I shall give the banner to a man who loves Allah and His Messenger, and Allah and His Messenger love him." So we all waited for that, then he said: "Call 'Ali for me." He said: 'So he came to him, and he had been suffering from Ramad (an eye condition), so he (ﷺ) put spittle in his eye and gave the banner to him, then Allah granted him victory. And when this Ayah was revealed: 'Let us call our sons and your sons, our women and your women...' (3:61) the Messenger of Allah (ﷺ) called 'Ali, Fatimah, Hasan, and Husain and said: "O Allah, these are my family
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ نے ان کو امیر بنایا تو پوچھا کہ تم ابوتراب ( علی ) کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے؟ انہوں نے کہا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد رہیں گی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں انہیں ہرگز برا نہیں کہہ سکتا، اور ان میں سے ایک کا بھی میرے لیے ہونا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی رضی الله عنہ سے فرماتے ہوئے سنا ہے ( آپ نے انہیں اپنے کسی غزوہ میں مدینہ میں اپنا جانشیں مقرر کیا تھا تو آپ سے علی رضی الله عنہ نے کہا تھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں ) ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم میرے لیے اسی طرح ہو جس طرح ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں“ ۱؎، اور دوسری یہ کہ میں نے آپ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ آج میں پرچم ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے اللہ اور اس کے رسول بھی محبت کرتے ہیں، سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں تو ہم سب نے اس کے لیے اپنی گردنیں بلند کیں، یعنی ہم سب کو اس کی خواہش ہوئی، آپ نے فرمایا: ”علی کو بلاؤ“، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی تو آپ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھ میں لگایا اور پرچم انہیں دے دیا چنانچہ اللہ نے انہیں فتح دی، تیسری بات یہ ہے کہ جب آیت کریمہ «ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم» اتری۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَّرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَابٍ قَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِعَلِيٍّ وَخَلَفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُخَلِّفُنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لاَ نُبُوَّةَ بَعْدِي " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ " لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ " ادْعُ لِي عَلِيًّا " . فَأَتَاهُ وَبِهِ رَمَدٌ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ فَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ . وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( فَقلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ ) الآيَةَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ " اللَّهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3725
Daif Isnaad
Narrated Al-Bara:"The Prophet (ﷺ) dispatched two armies and put 'Ali bin Abi Talib in charge of one of them, and Khalid bin Al-Walid in charge of the other. He said: "When there is fighting, then (the leader is) 'Ali." He said: "So 'Ali conquered a fortress and took a slave girl. So Khalid sent me with a letter to the Prophet (ﷺ) complaining about him. So I came to the Prophet (ﷺ) and he read the letter and his color changed, then he said: 'What is your view concerning one who loves Allah and His Messenger, and Allah and His Messenger love him.'" He said: "I said: 'I seek refuge in Allah from the wrath of Allah and the anger of His Messenger, and I am but a Messenger.' So he became silent
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر بھیجے اور ان دونوں میں سے ایک کا امیر علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو اور دوسرے کا خالد بن ولید رضی الله عنہ کو بنایا اور فرمایا: ”جب لڑائی ہو تو علی امیر رہیں گے چنانچہ علی رضی الله عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس سے ( مال غنیمت میں سے ) ایک لونڈی لے لی، تو میرے ساتھ خالد رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھ کر بھیجا جس میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علی رضی الله عنہ کی شکایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہو گیا پھر آپ نے فرمایا: ”تم کیا چاہتے ہو ایک ایسے شخص کے سلسلے میں جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں تو صرف ایک قاصد ہوں، پھر آپ خاموش ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَيْشَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَلَى الآخَرِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَقَالَ " إِذَا كَانَ الْقِتَالُ فَعَلِيٌّ " . قَالَ فَافْتَتَحَ عَلِيٌّ حِصْنًا فَأَخَذَ مِنْهُ جَارِيَةً فَكَتَبَ مَعِي خَالِدٌ كِتَابًا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَشِي بِهِ . قَالَ فَقَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَ الْكِتَابَ فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ ثُمَّ قَالَ " مَا تَرَى فِي رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَ مِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ وَإِنَّمَا أَنَا رَسُولٌ فَسَكَتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .