#3651
Shadh
Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-five years old
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ،قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ،قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ،قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنُ الإِسْنَادِ صَحِيحٌ .
#3652
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) stayed in Makkah for thirteen years - meaning while he was receiving Revelation - and he died when he was sixty-three years old
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ ( ۱۳ ) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کی عمر میں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، انس اور دغفل بن حنظلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور دغفل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَكَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ - يَعْنِي يُوحَى إِلَيْهِ وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَدَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَلاَ يَصِحُّ لِدَغْفَلٍ سَمَاعٌ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ رُؤْيَةٌ . وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ .
#3653
Sahih
Narrated Jabir [bin 'Abdullah]:that he heard Mu'awiyah bin Abi Sufyan giving a Khutbah, saying: "The Messenger of Allah (ﷺ) died when he was sixty-three years old, and so did Abu Bakr and 'Umar, and I am sixty-three years old
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی ( اس وقت ) ترسٹھ سال کا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ، يَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3654
Sahih
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]:"The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-three years old
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے زہری کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ بن مسلم ) نے بھی زہری سے اور زہری نے عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، فِي حَدِيثِهِ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ هَذَا .
#3655
Sahih
Narrated 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I free myself of the friendship of every Khalil, and if I were to take a Khalil then I would have taken Ibn Abi Quhafah as a Khalil. And indeed your companion is Allah's Khalil
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر خلیل کی «خلت» ( دوستی ) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل ( دوست ) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو، یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کو خلیل بناتا، اور تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلاً وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ عَبَّاسٍ .
#3656
Hasan
Narrated 'Umar bin Al-Khattab:"Abu Bakr is our chief, and the best of us, and the most beloved of us to the Messenger of Allah (ﷺ)
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں اور وہ ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#3657
Sahih
Narrated 'Abdullah bin Shaqiq:"I said to 'Aishah: 'Which of the Companions of the Prophet (ﷺ) were the most beloved to the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'Abu Bakr.' I said: 'Then who?' She said: ''Umar.' I said: "Then who?' She said: 'Then Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah.'" He said: "I said: 'Then who?''" He said: "Then she was silent
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: صحابہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ انہوں نے کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا: پھر کون؟ تو وہ خاموش رہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَىُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ قَالَتْ أَبُو بَكْرٍ . قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَتْ عُمَرُ . قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَتْ ثُمَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ . قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ فَسَكَتَتْ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3658
Sahih
Narrated Abu Sa'eed:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed the people of the higher levels, will be seen by those who are beneath them like the stars which appear far off in the sky. And indeed Abu Bakr and 'Umar are among them, and they have done well
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند درجات والوں کو ( جنت میں ) جو ان کے نیچے ہوں گے، ایسے ہی دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما دونوں انہیں میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عطیہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، وَالأَعْمَشِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُهْبَانَ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَكَثِيرٍ النَّوَّاءِ، كُلِّهِمْ عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ .
#3659
Daif Isnaad
Narrated Ibn Abi Mu'alla:from his father: "The Messenger of Allah (ﷺ) gave a Khutbah one day and said: 'Indeed there is a man whose Lord has given him the choice between living in this life as long as he wishes to live, and eating from this life as much as he wishes to eat, and between meeting his Lord.'" He said: "So Abu Bakr cried. The Companions of the Prophet (ﷺ) said: 'Are you not amazed at this old man, when the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned a righteous man whose Lord gave him the choice between this life or meeting his Lord, and he chose meeting his Lord.'" He said: "But Abu Bakr was the most knowledgeable one of them regarding what the Messenger of Allah (ﷺ) had said. So Abu Bakr said: 'Rather we will ransom our fathers and wealth for you.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is no one among people more beneficial to us (Amanna Ilaina) in his companionship, or generous with his wealth than Ibn Abi Quhafah. And, if I were to take a Khalil, I would have taken Ibn Abi Quhafah as a Khalil. But rather love and the brotherhood of faith' - saying that two or three times - 'Indeed your companion is the Khalil of Allah
ابومعلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا تو فرمایا: ”ایک شخص کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دینا میں جتنا رہنا چاہے رہے اور جتنا کھانا چاہے کھا لے یا اپنے رب سے ملنے کو ( ترجیح دے ) تو اس نے اپنے رب سے ملنے کو پسند کیا، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابوبکر رضی الله عنہ رو پڑے، تو صحابہ نے کہا: کیا تمہیں اس بوڑھے کے رونے پر تعجب نہیں ہوتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا کہ اس کے رب نے دو باتوں میں سے ایک کا اسے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اپنے رب سے ملے، تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا۔ ابوبکر رضی الله عنہ ان میں سب سے زیادہ ان باتوں کو جاننے والے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر ) ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: بلکہ ہم اپنے باپ دادا، اپنے مال سب کو آپ پر قربان کر دیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی ایسا نہیں جو ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والا ہو اور میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والا ہو، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو دوست بناتا، لیکن ( ہمارے اور ان کے درمیان ) ایمان کی دوستی موجود ہے“۔ یہ کلمہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا، پھر فرمایا: ”تمہارا یہ ساتھی ( یعنی خود ) اللہ کا خلیل ( دوست ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابو عوانہ کے واسطہ سے عبدالملک بن عمیر سے ایک دوسری سند سے بھی آئی ہے، اور «أمن إلينا» میں «إلى»، «على» کے معنی میں ہے، یعنی مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ " إِنَّ رَجُلاً خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ وَيَأْكُلَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ " . قَالَ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلاَ تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ إِذْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ . قَالَ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأَمْوَالِنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ إِلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلاً وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ " وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا . وَمَعْنَى قَوْلِهِ أَمَنَّ إِلَيْنَا يَعْنِي أَمَنَّ عَلَيْنَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3660
Sahih
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:"The Messenger of Allah (ﷺ) sat upon the Minbar and said: 'Indeed a worshiper has been given a choice by Allah, between Him giving him from the bounty of this life as much as he wishes, and between what is with Him. So he chose what is with Him.' So Abu Bakr said: 'We will ransom our fathers and mothers for you O Messenger of Allah!'" He said: "So we were amazed. Then the people said: 'Look at this old man. The Messenger of Allah (ﷺ) informs about a worshiper whom Allah gave the choice, between Him giving him from the bounty of this life as much as he wishes, and between that which is with Allah, and he says: 'We will ransom our fathers and mothers for you?' But the Messenger of Allah (ﷺ) was the one given the choice, and Abu Bakr was the most knowledgeable of it among them. So the Prophet (ﷺ) said: 'From those who were most beneficial to me among the people in their companionship and their wealth was Abu Bakr. And if I were to take a Khalil, I would would have taken Abu Bakr as a Khalil. But rather, the brotherhood of Islam. Let there not remain a door in the Masjid except the door of Abu Bakr
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: ”ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا کی رنگینی کو پسند کرے یا ان چیزوں کو جو اللہ کے پاس ہیں“، تو اس نے ان چیزوں کو اختیار کیا جو اللہ کے پاس ہیں، اسے سنا تو ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کو آپ پر قربان کیا ۱؎ ہمیں تعجب ہوا، لوگوں نے کہا: اس بوڑھے کو دیکھو! اللہ کے رسول ایک ایسے بندے کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جسے اللہ نے یہ اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی رنگینی کو اپنا لے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اپنا لے، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد اور ماؤں کو آپ پر قربان کیا، جس بندے کو اللہ نے اختیار دیا وہ خود اللہ کے رسول تھے، اور ابوبکر رضی الله عنہ اسے ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، ابوبکر رضی الله عنہ کی بات سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والے اور سب سے زیادہ میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والے ابوبکر ہیں، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بناتا، تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت ہی کافی ہے اور مسجد میں ( یعنی مسجد کی طرف ) کوئی کھڑکی باقی نہ رہے سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَدَيْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا . قَالَ فَعَجِبْنَا فَقَالَ النَّاسُ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ وَهُوَ يَقُولُ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا . قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ هُوَ الْمُخَيَّرَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَىَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلاً وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الإِسْلاَمِ لاَ تَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلاَّ خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3661
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no favor due upon us from anyone, except that we have repaid him, with the exception of Abu Bakr. Verily upon us, there is a favor due to him, which Allah will repay him on the Day of Judgement. No one's wealth has benefited me as Abu Bakr's wealth has benefited me. And if I were to take a Khalil, then I would have taken Abu Bakr as a Khalil, and indeed your companion is Allah's Khalil
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کا ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جسے میں نے چکا نہ دیا ہو سوائے ابوبکر کے، کیونکہ ان کا ہمارے اوپر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن انہیں اللہ ہی دے گا، کسی کے مال سے کبھی بھی مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، سن لو تمہارا یہ ساتھی ( یعنی خود ) اللہ کا خلیل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ،قَالَ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ الْقَوَارِيرِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلاَّ وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلاَ أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِئُهُ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلاً أَلاَ وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3662
Sahih
Narrated Hudhaifah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Stick to the two after me, Abu Bakr and 'Umar
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اقتداء کرو ان دونوں کی جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر و عمر کی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے، ۳- سفیان ثوری نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ربعی کے آزاد کردہ غلام کے واسطہ سے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، وَهُوَ ابْنُ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ نَحْوَهُ وَكَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُدَلِّسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَرُبَّمَا ذَكَرَهُ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ زَائِدَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَفِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَاهُ سَالِمٌ الأَنْعُمِيُّ كُوفِيٌّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشَ عَنْ حُذَيْفَةَ
#3663
Sahih
Narrated Hudhaifah [may Allah be pleased with him]:"We were sitting with the Prophet (ﷺ) and he said: 'I do not know how long I will be with you, so stick to the two after me,' and he signaled towards Abu Bakr and 'Umar
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی جانب اشارہ کیا“۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْعَلاَءِ الْمُرَادِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، رضى الله عنه قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنِّي لاَ أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي " . وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ .
#3664
Sahih
Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said about Abu Bakr and 'Umar: "These two are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise. From the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. But do not inform them O 'Ali
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سلسلہ میں فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے، ( آپ نے فرمایا: ) ”علی ان دونوں کو اس بات کی خبر مت دینا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ " هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ إِلاَّ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
#3665
Sahih
Narrated 'Ali bin Abi Talib:"I was with the Messenger of Allah (ﷺ), and Abu Bakr and 'Umar came up (in discussion), so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'These two are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise. From the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. But do not inform them O 'Ali
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر رضی الله عنہما نمودار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے، ۳- علی رضی الله عنہ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۴- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ إِلاَّ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ يَا عَلِيُّ لاَ تُخْبِرْهُمَا " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَلَمْ يَسْمَعْ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ .
#3666
Sahih
Narrated 'Ali:that the Prophet (ﷺ) said: "Abu Bakr and 'Umar are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise, from the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. Do not inform them O 'Ali
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ ذَكَرَ دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ مَا خَلاَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ لاَ تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ " .
#3667
Sahih
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:that Abu Bakr said: "Am I not the most deserving of it among the people, am I not the first to become Muslim, am I not the person of such and such, am I not the person of such and such
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیا میں وہ شخص نہیں ہوں جو سب سے پہلے اسلام لایا؟ کیا میں ایسی ایسی خوبیوں کا مالک نہیں ہوں؟ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض نے یہ حدیث شعبہ سے، شعبہ نے جریری سے، جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: ابوبکر نے کہا، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَلَسْتُ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَا أَلَسْتُ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . قَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَهَذَا أَصَحُّ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهَذَا أَصَحُّ .
#3668
Daif
Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) used to go out to his Companions from The Muhajirin and the Ansar while they were sitting, and Abu Bakr and 'Umar would be with them. No one would lift their sight towards him except Abu Bakr and 'Umar, because they used to look at him, and he would look at them, and they would smile at him, and he would smile at them
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْرُجُ عَلَى أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلاَ يَرْفَعُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَصَرَهُ إِلاَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَإِنَّهُمَا كَانَا يَنْظُرَانِ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِمَا وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ .
#3669
Daif
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) departed one day and entered the Masjid, along with Abu Bakr and 'Umar. One was on his right and the other was on his left, and he was holding their hands, and he said: "This is how we will be resurrected on the Day of Judgement
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھے اور دوسرے بائیں جانب، اور آپ ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ”اسی طرح ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- سعید بن مسلمہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا وَقَالَ " هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَسَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْقَوِيِّ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
#3670
Daif
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr: "You are my companion at the Hawd, and my companion in the cave
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم حوض کوثر پر میرے رفیق ہو گے جیسا کہ غار میں میرے رفیق تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، صحیح، غریب ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي بَكْرٍ " أَنْتَ صَاحِبِي عَلَى الْحَوْضِ وَصَاحِبِي فِي الْغَارِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#3671
Sahih
Narrated 'Abdullah bin Hantab:that the Prophet (ﷺ) saw Abu Bakr and 'Umar and said: "These two are the hearing and the seeing
عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: ”یہ دونوں ( اسلام کے ) کان اور آنکھ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے عبداللہ بن حنطب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ " هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ " .وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْطَبٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
#3672
Sahih
Narrated 'Aishah:that the Prophet (ﷺ) said: "Order Abu Bakr to lead the people in Salat." 'Aishah said: "O Messenger of Allah! If Abu Bakr takes your place, the people will not be able to hear due to his crying, so order 'Umar to lead the people in Salat." She said: "So he said: 'Order Abu Bakr to lead the people in Salat.'" 'Aishah said: "So I said to Hafsah: 'Tell him that if Abu Bakr takes your place, then the people will not be able to hear due to his crying, so order 'Umar to lead the people in Salat.'" Upon this Hafsah did it. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed you are but like the companions of Yusuf! Order Abu Bakr to lead the people in Salat." So Hafsah said to 'Aishah: "I never received any good from you
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر جب آپ کی جگہ ( نماز پڑھانے ) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ۱؎، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں، پھر آپ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: تو میں نے حفصہ سے کہا: تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے ( ایسا ہی ) کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف علیہ السلام کو تنگ کیا، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے عائشہ سے ( بطور شکایت ) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ . قَالَتْ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ مَا كُنْتُ لأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مُوسَى وَابْنِ عَبَّاسٍ وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ .
#3673
Very Daif
Narrated 'Aishah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "It is not befitting that a group, among whom is Abu Bakr, be led by other than him
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
#3674
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever spends a pair of things in the path of Allah, he will be called in Paradise: 'O Worshiper of Allah, this is good.' And whoever is among the people of Salat, he will be called from the gate of Salat, and whoever was among from the people of Jihad, he will be called from the gate of Jihad. And whoever was among the people of charity, then he will be called from the gate of charity, and whoever was from the people of fasting, then he will be called from the gate of Ar-Rayyan." So Abu Bakr said: "May my father and mother be ransomed for you! The one who is called from these gates will be free of all worries. But will anyone be called from all of those gates?" He (ﷺ) said: "Yes, and I hope that you are among them
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ وہ خیر ہے ( جسے تیرے لیے تیار کیا گیا ہے ) تو جو اہل صلاۃ میں سے ہو گا اسے صلاۃ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل جہاد میں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صیام میں سے ہو گا، وہ باب ریان سے پکارا جائے گا، اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کو ان سارے دروازوں سے پکارا جائے ( اس لیے کہ ایک دروازے سے داخل ہو جانا کافی ہے ) مگر کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جو ان سبھی دروازوں سے پکارا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ هَذِهِ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ " نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3675
Hasan
Narrated Zaid bin Aslam:"I heard 'Umar bin Al-Khattab saying: 'We were ordered by the Messenger of Allah (ﷺ) to give in charity, and that coincided with a time in which I had some wealth, so I said, "Today I will beat Abu Bakr, if ever I beat him."' So I came with half of my wealth, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What did you leave for your family?" I said: "The like of it." And Abu Bakr came with everything he had, so he said: "O Abu Bakr! What did you leave for your family?" He said: "I left Allah and His Messenger for them." I said: '[By Allah] I will never be able to beat him to something
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے ( دل میں ) کہا: اگر میں ابوبکر رضی الله عنہ سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اتنا ہی ( ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں ) اور ابوبکر رضی الله عنہ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا: ”ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالاً فَقُلْتُ الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا قَالَ فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ " . قُلْتُ مِثْلَهُ وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ " . قَالَ أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .