#3076
Hasan Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When Allah created Adam He wiped his back and every person that He created among his offspring until the Day of Resurrection fell out of his back. He placed a ray of light between the eyes of every person. Then He showed them to Adam and he said: 'O Lord! Who are these people?' He said: 'These are your offspring.' He saw one of them whose ray between his eyes amazed him, so he said: 'O Lord! Who is this?' He said: 'This is a man from the latter nations of your offspring called Dawud.' He said: 'Lord! How long did You make his lifespan?' He said: 'Sixty years.' He said: 'O Lord! Add forty years from my life to his.' So at the end of Adam's life, the Angel of death of came to him, and he said: 'Do I not have forty years remaining?' He said: 'Did you not give them to your son Dawud?'" He said: "Adam denied, so his offspring denied, and Adam forgot and his offspring forgot, and Adam sinned, so his offspring sinned
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔ پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا: میرے رب! کون ہیں یہ لوگ؟ اللہ نے کہا: یہ تمہاری ذریت ( اولاد ) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ نے فرمایا: تمہاری اولاد کی آخری امتوں میں سے ایک فرد ہے۔ اسے داود کہتے ہیں: انہوں نے کہا: میرے رب! اس کی عمر کتنی رکھی ہے؟ اللہ نے کہا: ساٹھ سال، انہوں نے کہا: میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر اس کی عمر میں اضافہ فرما دے، پھر جب آدم کی عمر پوری ہو گئی، ملک الموت ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی نہیں ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو نے اپنے بیٹے داود کو دے نہیں دیئے تھے؟ آپ نے فرمایا: تو آدم نے انکار کیا، چنانچہ ان کی اولاد بھی انکاری بن گئی۔ آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ آدم نے غلطی کی تو ان کی اولاد بھی خطاکار بن گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَىْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ فَقَالَ أَىْ رَبِّ مَنْ هَؤُلاَءِ قَالَ هَؤُلاَءِ ذُرِّيَّتُكَ فَرَأَى رَجُلاً مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ فَقَالَ أَىْ رَبِّ مَنْ هَذَا فَقَالَ هَذَا رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ يُقَالُ لَهُ دَاوُدُ . فَقَالَ رَبِّ كَمْ جَعَلْتَ عُمْرَهُ قَالَ سِتِّينَ سَنَةً قَالَ أَىْ رَبِّ زِدْهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً . فَلَمَّا انْقَضَى عُمْرُ آدَمَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ أَوَلَمْ يَبْقَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أَوَلَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ قَالَ فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ آدَمُ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَخَطِئَ آدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#3077
Daif
Narrated Samurah bin Jundab:that the Prophet (ﷺ) said: "When Hawwa became pregnant, Iblis came to her - and her children would not live (after birth) - so he said: 'Name him 'Abdul-Harith.' So she named him 'Abdul-Harith and he lived. So that is among the inspirations of Ash-Shaitan and his commands
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حواء حاملہ ہوئیں تو ان کے پاس شیطان آیا، ان کے بچے جیتے نہ تھے، تو اس نے کہا: ( اب جب تیرا بچہ پیدا ہو ) تو اس کا نام عبدالحارث رکھ، چنانچہ حواء نے اس کا نام عبدالحارث ہی رکھا تو وہ جیتا رہا۔ ایسا انہوں نے شیطانی وسوسے اور اس کے مشورے سے کیا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے مرفوع صرف عمر بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- بعض راویوں نے یہ حدیث عبدالصمد سے روایت کی ہے، لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- عمر بن ابراہیم بصریٰ شیخ ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَمَّا حَمَلَتْ حَوَّاءُ طَافَ بِهَا إِبْلِيسُ وَكَانَ لاَ يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ فَقَالَ سَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ . فَسَمَّتْهُ عَبْدَ الْحَارِثِ فَعَاشَ وَكَانَ ذَلِكَ مِنْ وَحْىِ الشَّيْطَانِ وَأَمْرِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ قَتَادَةَ . وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ .
#3078
Isnaad Hasan
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When Allah created Adam" (and he mentioned) the Hadith
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدم پیدا کئے گئے …“ ( آگے ) پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَمَّا خُلِقَ آدَمُ " . الْحَدِيثَ .
#3079
Hasan Sahih
Narrated Mus'ab bin Sa'd:from his father who said: "On the Day of Badr I brought a sword so I said: 'O Messenger of Allah! Indeed Allah has satisfied my breast (i.e. my desire) on the idolaters - or something like that - give me this sword.' So he said: 'This is not for me, nor is it for you.' I said: 'Perhaps he will give this to someone who did not go through some struggle I went through (fighting).' So the Messenger of Allah (ﷺ) came to me [and he said:] 'You asked me, but it was not up to me. But now it has occurred that it is up to me, so it is yours.'" He said: "So (the following) was revealed: They ask you about the spoils of war (8:)
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) پہنچا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے میرا سینہ مشرکین سے ٹھنڈا کر دیا ( یعنی انہیں خوب مارا ) یہ کہا یا ایسا ہی کوئی اور جملہ کہا ( راوی کو شک ہو گیا ) آپ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ میری ہے اور نہ تیری ۱؎، میں نے ( جی میں ) کہا ہو سکتا ہے یہ ایسے شخص کو مل جائے جس نے میرے جیسا کارنامہ جنگ میں نہ انجام دیا ہو، ( میں حسرت و یاس میں ڈوبا ہوا آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا آیا ) تو ( میرے پیچھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آیا اور اس نے ( آپ کی طرف سے ) کہا: تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی، تب وہ میری نہ تھی اور اب وہ ( بحکم الٰہی ) میرے اختیار میں آ گئی ہے ۲؎، تو اب وہ تمہاری ہے ( میں اسے تمہیں دیتا ہوں ) راوی کہتے ہیں، اسی موقع پر «يسألونك عن الأنفال» ۳؎ والی آیت نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو سماک بن حرب نے بھی مصعب سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ جِئْتُ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ شَفَى صَدْرِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَوْ نَحْوَ هَذَا هَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ . فَقَالَ " هَذَا لَيْسَ لِي وَلاَ لَكَ " . فَقُلْتُ عَسَى أَنْ يُعْطَى هَذَا مَنْ لاَ يُبْلِي بَلاَئِي فَجَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ " إِنَّكَ سَأَلْتَنِي وَلَيْسَ لِي وَقَدْ صَارَ لِي وَهُوَ لَكَ " . قَالَ فَنَزَلَتْ : ( يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ ) الآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ أَيْضًا . وَفِي الْبَابِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ .
#3080
Daif Isnaad
Narrated Ibn 'Abbas:"When the Messenger of Allah (ﷺ) was finished at Badr, it was said to him: 'You have to get the caravan, you can not settle for less than that.' Al-'Abbas called out while he was bound up: 'There is no use.' He said: 'For Allah, Most High, has promised you one of the two parties, and He gave you what He promised you.' He said: 'He has said the truth
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر سے نمٹ چکے تو آپ سے کہا گیا ( شام سے آتا ہوا ) قافلہ آپ کی زد اور نشانے پر ہے، اس پر غالب آنے میں کوئی چیز مانع اور رکاوٹ نہیں ہے۔ تو عباس نے آپ کو پکارا، اس وقت وہ ( قیدی تھے ) زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، اور کہا: آپ کا یہ اقدام ( اگر آپ نے ایسا کیا ) تو درست نہ ہو گا، اور درست اس لیے نہ ہو گا کہ اللہ نے آپ سے دونوں گروہوں ( قافلہ یا لشکر ) میں سے کسی ایک پر فتح و غلبہ کا وعدہ کیا تھا ۱؎ اور اللہ نے آپ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم سچ کہتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ۱؎: یہ اللہ تعالیٰ کا قول: «وإذ يعدكم الله إحدى الطائفتين أنها لكم» ( الانفال: ۷ ) کی طرف اشارہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَدْرٍ قِيلَ لَهُ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ فِي وَثَاقِهِ لاَ يَصْلُحُ وَقَالَ لأَنَّ اللَّهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ قَالَ " صَدَقْتَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3081
Hasan
Narrated Ibn 'Abbas:from 'Umar bin Al-Khattab, who said: "The Prophet (ﷺ) looked over the idolaters, and there were a thousand of them, while his Companions were three-hundred and ten and some odd number of men. So the Prophet of Allah (ﷺ) faced the Qiblah, stretched forth his hands and began beseeching his Lord: 'O Allah! Fulfill what You promised for me. [O Allah! Bring about what You promised for me] O Allah! If you destroy this band of adherents to Islam, you will not be worshiped upon the earth,' He continued beseeching his Lord with his hands stretched, facing the Qiblah until his Rida fell from his shoulders. Abu Bakr came to him, took his Rida and placed it back upon his shoulders, then embraced him from behind and said: 'O Prophet of Allah! You have sufficiently beseeched your Lord, indeed He shall fulfill what He promised you.' So Allah, Blessed and Most High, revealed: When you sought help of your Lord and He answered you (saying): 'I will help you with a thousand of the angels in succession (8:9).' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib. We do not know of it as a Hadith of 'Umar, except through the narration of 'Ikrimah bin 'Ammar, from Abu Zumail, and Abu Zumail's name is Simãk Al-Hanafi. And this was on the Day of Badr
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( جنگ بدر کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مشرکین مکہ پر ) ایک نظر ڈالی، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے صحابہ تین سو دس اور کچھ ( کل ۳۱۳ ) تھے۔ پھر آپ قبلہ رخ ہو گئے اور اپنے دونوں ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا دیئے اور اپنے رب کو پکارنے لگے: ”اے میرے رب! مجھ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا فرما دے، جو کچھ تو نے مجھے دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اسے عطا فرما دے، اے میرے رب! اگر اہل اسلام کی اس مختصر جماعت کو تو نے ہلاک کر دیا تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جا سکے گی“۔ آپ قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے رہے یہاں تک کہ آپ کی چادر آپ کے دونوں کندھوں پر سے گر پڑی۔ پھر ابوبکر رضی الله عنہ نے آ کر آپ کی چادر اٹھائی اور آپ کے کندھوں پر ڈال کر پیچھے ہی سے آپ سے لپٹ کر کہنے لگے۔ اللہ کے نبی! بس، کافی ہے آپ کی اپنے رب سے اتنی ہی دعا۔ اللہ نے آپ سے جو وعدہ کر کھا ہے وہ اسے پورا کرے گا ( ان شاءاللہ ) پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «إذ تستغيثون ربكم فاستجاب لكم أني ممدكم بألف من الملائكة مردفين» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- عمر رضی الله عنہ کی اس حدیث کو صرف عکرمہ بن عمار کی روایت سے جانتے ہیں۔ جسے وہ ابوزمیل سے روایت کرتے ہیں۔ ابوزمیل کا نام سماک حنفی ہے۔ ایسا بدر کے دن ہوا ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ نَظَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلاَثُمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلاً فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ " اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ آتِنِي مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلاَمِ لاَ تُعْبَدُ فِي الأَرْضِ " . فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ مِنْ مَنْكِبَيْهِ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : (إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ مُرْدِفِينَ ) فَأَمَدَّهُمُ اللَّهُ بِالْمَلاَئِكَةِ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا يَوْمَ بَدْرٍ .
#3082
Daif Isnaad
Narrated Abu Burdah bin Abi Musa:from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah sent down two guarantees of safety for the benefit of my Ummah: And Allah would not punish them while you are among them, nor will He punish them while they seek forgiveness (8:33). So when I pass, I leave seeking forgiveness among them until the Day of Resurrection
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لیے اللہ نے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں ( ایک ) «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم» ”تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، ( دوسرا ) «وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون» ”دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے تو بھی ان پر اللہ عذاب نازل نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، اور جب میں ( اس دنیا سے ) چلا جاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا امان استغفار قیامت تک چھوڑ جاؤں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اسماعیل بن مہاجر حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَىَّ أَمَانَيْنِ لأُمَّتِي : ( وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ ) ( وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ) إِذَا مَضَيْتُ تَرَكْتُ فِيهِمْ الاِسْتِغْفَارَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ .
#3083
Hasan Sahih
Narrated 'Uqbah bin 'Amir:that the Messenger of Allah (ﷺ) recited this Ayah upon the Minbar: And make ready against them all you can of power (8:60). He said: "Verily! Power is shooting" - three times - "Verily! Allah will open the earth for you and suffice you with supplies, so let none of you forsake practicing with his arrows
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر آیت: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ”تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو“ ( الانفال: ۶۰ ) پڑھی، اور فرمایا: «قوة» سے مراد تیر اندازی ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار کہی، سنو عنقریب اللہ تمہیں زمین پر فتح دیدے گا۔ اور تمہیں مستغنی اور بے نیاز کر دے گا۔ تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میں سے کوئی بھی ( نیزہ بازی اور ) تیر اندازی سے عاجز و غافل ہو جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بعض نے یہ حدیث اسامہ بن زید سے روایت کی ہے اور اسامہ نے صالح بن کیسان سے روایت کی ہے، ۲- ابواسامہ نے اور کئی لوگوں نے اسے عقبہ بن عامر سے روایت کیا ہے، ۳- وکیع کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۴- صالح بن کیسان کی ملاقات عقبہ بن عامر سے نہیں ہے، ہاں ان کی ملاقات ابن عمر سے ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ رَجُلٍ، لَمْ يُسَمِّهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ : ( وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ) قَالَ " أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْىُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ أَلاَ إِنَّ اللَّهَ سَيَفْتَحُ لَكُمُ الأَرْضَ وَسَتُكْفَوْنَ الْمُؤْنَةَ فَلاَ يَعْجِزَنَّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ وَحَدِيثُ وَكِيعٍ أَصَحُّ . وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ لَمْ يُدْرِكْ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ وَقَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ .
#3084
Daif
Narrated 'Amr bin Murrah:that Abu 'Ubaidah bin 'Abdullah narrated from 'Abdullah bin Mas'ud who said: "On the Day of Badr, when the captives were brought, the Messenger of Allah (ﷺ) said 'What do you say about these captives?' So he mentioned the story. And the Messenger of Allah (ﷺ) said 'Not one of them should be released without a ransom, or a blow to the neck.'" So 'Abdullah bin Mas'ud said: "O Messenger of Allah! With the exception of Suhail bin Baidam for indeed I heard him mentioning Islam." He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) was silent." He said: "I have not seen a day upon which I was more fearful of stones falling from the heavens upon my head that the day." [He said:] "Until the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Except for Suhail bin Al-Baida.'" He said: "And the Qur'an was revealed in accordance with the view of 'Umar. 'It is not (fitting) for a Prophet that he should have prisoners of war until he has fought (his enemies thoroughly) in the land...' until the end of the Ayat
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب بدر کی لڑائی ہوئی اور قیدی پکڑ کر لائے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیدیوں کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو؟ پھر راوی نے حدیث میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشوروں کا طویل قصہ بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغیر فدیہ کے کسی کو نہ چھوڑا جائے، یا اس کی گردن اڑا دی جائے“۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! سہیل بن بیضاء کو چھوڑ کر، اس لیے کہ میں نے انہیں اسلام کی باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، ( مجھے توقع ہے کہ وہ ایمان لے آئیں گے ) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تو میں نے اس دن اتنا خوف محسوس کیا کہ کہیں مجھ پر پتھر نہ برس پڑیں، اس سے زیادہ کسی دن بھی میں نے اپنے کو خوف زدہ نہ پایا ۱؎، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سہیل بن بیضاء کو چھوڑ کر“، اور عمر رضی الله عنہ کی تائید میں «ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض» ”کسی نبی کے لیے یہ مناسب اور سزاوار نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ پورے طور پر خوں ریزی نہ کر لے“ ( الأنفال: ۶۷ ) ، والی آیت آخر تک نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود سے سنا نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَجِيءَ بِالأُسَارَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلاَءِ الأُسَارَى " . فَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قِصَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْفَلِتَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلاَّ بِفِدَاءٍ أَوْ ضَرْبِ عُنُقٍ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الإِسْلاَمَ . قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَىَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ مِنِّي فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ حَتَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِلاَّ سُهَيْلَ ابْنَ بَيْضَاءَ " . قَالَ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ بِقَوْلِ عُمَرَ : ( مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ ) إِلَى آخِرِ الآيَاتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ .
#3085
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "None of the black heads (meaning the Children of Adam since (most of) their heads are black) before you partook of spoils of war, but fire from the heavens would be sent down upon them, consuming them." Sulaiman (one of the narrators) said "No one says this except for Abu Hurairah now. "So on the day of Badr when they had the spoils of war before it was made lawful for them, Allah [Most High] revealed: Were it not a previous ordainment from Allah, a severe torment would have touched you for what you took
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلمانوں سے پہلے کسی کالے بالوں والے ( مراد ہے انسان ) کے لیے اموال غنیمت حلال نہ تھے، آسمان سے ایک آگ آتی اور غنائم کو کھا جاتی ( بھسم کر دیتی ) سلیمان اعمش کہتے ہیں: اسے ابوہریرہ کے سوا اور کون کہہ سکتا ہے اس وقت؟ بدر کی لڑائی کے وقت مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ قبل اس کے کہ اموال غنیمت تقسیم کر کے ہر ایک کو دے کر ان کے لیے حلال کر دی جاتیں وہ لوگ اموال غنیمت پر ٹوٹ پڑے۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت «لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم» ”اگر پہلے سے تمہارے حق میں اللہ کی جانب سے لکھا نہ جا چکا ہو تاکہ تمہیں غنائم ملیں گے تو تمہیں تمہارے اس کے لینے کے سبب سے بڑا عذاب پہنچتا“ ( الأنفال: ۶۸ ) نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لأَحَدٍ سُودِ الرُّءُوسِ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانَتْ تَنْزِلُ نَارٌ مِنَ السَّمَاءِ فَتَأْكُلُهَا " . قَالَ سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ فَمَنْ يَقُولُ هَذَا إِلاَّ أَبُو هُرَيْرَةَ الآنَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَقَعُوا فِي الْغَنَائِمِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : (لَوْلاَ كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الأَعْمَشِ .
#3086
Daif
Narrated Ibn 'Abbas:"I said to 'Uthman bin 'Affan: 'What was your reasoning with Al-Anfal - while it is from the Muthani (Surah with less than one-hundred Ayat), and Bara'ah while it is from the Mi'in (Surah with about one-hundred Ayat), then you put them together, without writing the line Bismillahir-Rahmanir-Rahim between them, and you placed them with the seven long (Surah) - why did you do that?' So 'Uthman said: 'A long time might pass upon the Messenger of Allah (ﷺ) without anything being revealed to him, and then sometimes a Surah with numerous (Ayat) might be revealed. So when something was revealed, he would call for someone who could write, and say: "Put these Ayat in the Surah which mentions this and that in it." When an Ayah was revealed, he would say: "Put this Ayah in the Surah which mentions this and that in it." Now Al-Anfal was among the first of those revealed in Al-Madinah, and Bara'ah among the last of those revealed of the Qur'an, and its narrations (those of Bara'ah) resembled its narrations (those of Al-Anfal), so we thought that it was part of it. Then the Messenger of Allah (ﷺ) died, and it was not made clear to us whether it was part of it. So it is for this reason that we put them together without writing Bismillahir-Rahmanir-Rahim between them, and we put that with the seven long (Surahs)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے کہا کہ کس چیز نے آپ کو آمادہ کیا کہ سورۃ الانفال کو جو «مثانی» میں سے ہے اور سورۃ برأۃ کو جو «مئین» میں سے ہے دونوں کو ایک ساتھ ملا دیا، اور ان دونوں سورتوں کے بیچ میں «بسم الله الرحمن الرحيم» کی سطر بھی نہ لکھی۔ اور ان دونوں کو «سبع طوال» ( سات لمبی سورتوں ) میں شامل کر دیا۔ کس سبب سے آپ نے ایسا کیا؟ عثمان رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر زمانہ آتا جا رہا تھا اور آپ پر متعدد سورتیں نازل ہو رہی تھیں، تو جب آپ پر کوئی آیت نازل ہوتی تو وحی لکھنے والوں میں سے آپ کسی کو بلاتے اور کہتے کہ ان آیات کو اس سورۃ میں شامل کر دو جس میں ایسا ایسا مذکور ہے۔ اور پھر جب آپ پر کوئی آیت اترتی تو آپ فرماتے اس آیت کو اس سورۃ میں رکھ دو جس میں اس اس طرح کا ذکر ہے۔ سورۃ الانفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ میں آنے کے بعد شروع شروع میں نازل ہوئی ہیں۔ اور سورۃ برأت قرآن کے آخر میں نازل ہوئی ہے۔ اور دونوں کے قصوں میں ایک دوسرے سے مشابہت تھی تو ہمیں خیال ہوا کہ یہ اس کا ایک حصہ ( و تکملہ ) ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتائے بغیر کہ یہ سورۃ اسی سورۃ کا جزو حصہ ہے اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ اس سبب سے ہم نے ان دونوں سورتوں کو ایک ساتھ ملا دیا اور ان دونوں سورتوں کے درمیان ہم نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھا اور ہم نے اسے «سبع طوال» میں رکھ دیا ( شامل کر دیا ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ہم صرف عوف کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ یزید فارسی کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کرتے ہیں، اور یزید فارسی تابعین میں سے ہیں، انہوں نے ابن عباس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ وہ یزید بن ہرمز ہیں۔ اور یزید رقاشی یہ یزید بن ابان رقاشی ہیں، یہ تابعین میں سے ہیں اور ان کی ملاقات ابن عباس سے نہیں ہے۔ انہوں نے صرف انس بن مالک سے روایت کی ہے، اور یہ دونوں ہی بصرہ والوں میں سے ہیں۔ اور یزید فارسی، یزید رقاشی سے متقدم ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَارِسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ، إِلَى الأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي وَإِلَى بَرَاءَةَ وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَوَضَعْتُمُوهُمَا فِي السَّبْعِ الطُّوَلِ مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ عُثْمَانُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ وَهُوَ تَنْزِلُ عَلَيْهِ السُّوَرُ ذَوَاتُ الْعَدَدِ فَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الشَّىْءُ دَعَا بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُ فَيَقُولُ ضَعُوا هَؤُلاَءِ الآيَاتِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا وَإِذَا نَزَلَتْ عَلَيْهِ الآيَةُ فَيَقُولُ ضَعُوا هَذِهِ الآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا وَكَانَتِ الأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا أُنْزِلَتْ بِالْمَدِينَةِ وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ وَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهَةً بِقِصَّتِهَا فَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطُّوَلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَوْفٍ عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَيَزِيدُ الْفَارِسِيُّ قَدْ رَوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ غَيْرَ حَدِيثٍ وَيُقَالُ هُوَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ وَيَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ هُوَ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ الرَّقَاشِيُّ وَلَمْ يُدْرِكِ ابْنَ عَبَّاسٍ إِنَّمَا رَوَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَكِلاَهُمَا مِنَ التَّابِعِينَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَيَزِيدُ الْفَارِسِيُّ أَقْدَمُ مِنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ .
#3087
Hasan
Narrated Sulaiman bin 'Amr bin Al-Ahwas:"My father narrated to me that he attended the Farewell Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ). He (ﷺ) expressed his gratitude to Allah and praised Him, and reminded and exhorted, then he said: 'Which day is most sacred? Which day is most sacred? Which day is most sacred?' He said: "So the people said: 'The day of Al-Hajj Al-Akbar O Messenger of Allah!' So he said: 'Indeed, your blood, your wealth, your honor, is as sacred for you as the sacredness of this day of yours, in this city of yours, in this month of yours. Behold! None commits a crime but against himself, none offends a father for a son, nor a son for a father. Behold! Indeed the Muslim is the brother of the Muslim, so it is not lawful for the Muslim to do anything to his brother, which is not lawful to be done to himself. Behold! All Riba from Jahiliyyah is invalid, for you is the principle of your wealth, but your are not to wrong nor be wronged - except in the case of Riba of Al-'Abbas bin 'Abdul-Muttalib - otherwise it is all invalid. Behold! All retribution regarding cases of blood during Jahiliyyah are invalid. The first case of blood retribution invalidated among those of Jahiliyyah, is the blood of Al-Harith bin 'Abdul-Muttalib who was nursed among Banu Laith and killed by Hudhail. Behold! I order you to treat women well, for they are but like captives with you, you have no sovereignty beyond this over them, unless they manifest lewdness. If they do that, then abandon their beds, and beat them with a beating that is not painful. Then if they obey you, then there is no cause for you against them beyond that. Behold! There are rights for you upon your women, and rights for your women upon you. As for your rights upon them,then they are not to allow anyone on your bedding whom you dislike, nor to permit anyone whom you dislike in your homes. Behold! Indeed their rights upon you are that you treat them well in clothing them and feeding them
سلیمان بن عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف اور ثنا کی، اور وعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر فرمایا: ”کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! حج اکبر کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں سب تم پر حرام ہیں جیسے کہ تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے، تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں، سن لو! کوئی انسان کوئی جرم نہیں کرے گا مگر اس کا وبال اسی پر آئے گا، کوئی باپ قصور نہیں کرے گا کہ جس کی سزا اس کے بیٹے کو ملے۔ اور نہ ہی کوئی بیٹا کوئی قصور کرے گا کہ اس کی سزا اس کے باپ کو ملے۔ آگاہ رہو! مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی کی کوئی چیز حلال نہیں ہے سوائے اس چیز کے جو اسے اس کا بھائی خود سے دیدے۔ سن لو! جاہلیت کا ہر سود باطل ہے تم صرف اپنا اصل مال ( اصل پونجی ) لے سکتے ہو، نہ تم کسی پر ظلم و زیادتی کرو گے اور نہ تمہارے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے گی۔ سوائے عباس بن عبدالمطلب کے سود کے کہ اس کا سارا کا سارا معاف ہے۔ خبردار! جاہلیت کا ہر خون ختم کر دیا گیا ہے ۱؎ اور جاہلیت میں ہوئے خونوں میں سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے، وہ قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیتے تھے، تو انہیں قبیلہ ہذیل نے قتل کر دیا تھا، سنو! عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک ( و برتاؤ ) کرو۔ کیونکہ وہ تمہارے پاس بے کس و لاچار بن کر ہیں اور تم اس کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی ہوئی بدکاری کر بیٹھیں، اگر وہ کوئی قبیح گناہ کر بیٹھیں تو ان کے بستر الگ کر دو اور انہیں مارو مگر ایسی مار نہ لگاؤ کہ ان کی ہڈی پسلی توڑ بیٹھو، پھر اگر وہ تمہارے کہے میں آ جائیں تو ان پر ظلم و زیادتی کے راستے نہ ڈھونڈو، خبردار ہو جاؤ! تمہارے لیے تمہاری بیویوں پر حقوق ہیں، اور تمہاری بیویوں کے تم پر حقوق ہیں، تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ جنہیں تم ناپسند کرتے ہو انہیں وہ تمہارے بستروں پر نہ آنے دیں، اور نہ ہی ان لوگوں کو گھروں میں آنے کی اجازت دیں جنہیں تم برا جانتے ہو، اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور انہیں اچھا پہناؤ اور اچھا کھلاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ابوالا ٔحوص نے شبیب بن غرقدہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبِي أَنَّهُ، شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَذَكَّرَ وَوَعَظَ ثُمَّ قَالَ " أَىُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ أَىُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ أَىُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ " . قَالَ فَقَالَ النَّاسُ يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا أَلاَ لاَ يَجْنِي جَانٍ إِلاَّ عَلَى نَفْسِهِ وَلاَ يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ وَلاَ وَلَدٌ عَلَى وَالِدِهِ أَلاَ إِنَّ الْمُسْلِمَ أَخُو الْمُسْلِمِ فَلَيْسَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلاَّ مَا أَحَلَّ مِنْ نَفْسِهِ أَلاَ وَإِنَّ كُلَّ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لاَ تَظْلِمُونَ وَلاَ تُظْلَمُونَ غَيْرَ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ أَلاَ وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ أَلاَ وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ إِلاَّ أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً أَلاَ إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ فَلاَ يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ وَلاَ يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ أَلاَ وَإِنَّ حَقَّهُنَّ عَلَيْكُمْ أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ .
#3088
Sahih
Narrated 'Ali:"I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the day of Al-Hajj Al-Akbar, and he said: "The day of An-Nahr
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نحر ( قربانی ) کا دن ہے“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ يَوْمِ الْحَجِّ الأَكْبَرِ فَقَالَ " يَوْمُ النَّحْرِ " .
#3089
Sahih
Narrated 'Ali:"The day of Al-Hajj Al-Akbar is the day of An-Nahr
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حج اکبر کا دن یوم النحر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ روایت محمد بن اسحاق کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ حدیث کئی سندوں سے ابواسحاق سے مروی ہے، اور ابواسحاق حارث کے واسطہ سے علی رضی الله عنہ سے موقوفاً روایت کرتے ہیں۔ اور ہم کسی کو محمد بن اسحاق کے سوا نہیں جانتے کہ انہوں نے اسے مرفوع کیا ہو، ۲- شعبہ نے اس حدیث کو ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عبداللہ بن مرہ سے، اور عبداللہ نے حارث کے واسطہ سے علی رضی الله عنہ سے موقوفا ہی روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ . قَالَ هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ لأَنَّهُ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ إِلاَّ مَا رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا .
#3090
Hasan Isnaad
Narrated Anas bin Malik:"The Prophet (ﷺ) sent Abu Bakr with the (announcement of) Bara'ah (the declaration to publicize the disavowal of the idolaters). Then he summoned him and said: 'It is not right for anyone to convey this except a man among my family.'"So he called for 'Ali and gave it to him
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ برأۃ ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ بھیجی ۱؎ پھر آپ نے انہیں بلا لیا، فرمایا: ”میرے خاندان کے کسی فرد کے سوا کسی اور کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جا کر یہ پیغام وہاں پہنچائے ( اس لیے تم اسے لے کر نہ جاؤ ) پھر آپ نے علی رضی الله عنہ کو بلایا اور انہیں سورۃ برأۃ دے کر ( مکہ ) بھیجا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث انس بن مالک کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِبَرَاءَةَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ " لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يُبَلِّغَ هَذَا إِلاَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِي " . فَدَعَا عَلِيًّا فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
#3091
Sahih Isnaad
Narrated Ibn 'Abbas:"The Messenger of Allah (ﷺ) dispatched Abu Bakr ordering him to announce these statements. Then 'Ali followed him. When Abu Bakr was at a particular road, he heard the heavy breathing of Al-Qiswa, the she camel of the Messenger of Allah (ﷺ), so Abu Bakr appeared frightened because he thought that it was the Messenger of Allah (ﷺ). When he saw that it was 'Ali, he gave him the letter of the Messenger of Allah (ﷺ), and told 'Ali to announce the statements. So he left to perform Hajj. During the day of At-Tashriq 'Ali stood to announce: 'The protection of Allah and His Messenger is removed from every idolater. So travel in the land for four months. There is to be no idolater performing Hajj after this year, nor may anyone perform Tawaf around the House while naked. None shall enter Paradise but a believer.' 'Ali was making the announcement, so when he became exhausted Abu Bakr would announce it
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ کو ( مکہ ) بھیجا کہ وہاں پہنچ کر لوگوں میں ان کلمات ( سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات ) کی منادی کر دیں۔ پھر ( ان کے بھیجنے کے فوراً بعد ہی ) ان کے پیچھے آپ نے علی رضی الله عنہ کو بھیجا۔ ابوبکر رضی الله عنہ بھی کسی جگہ راستہ ہی میں تھے کہ انہوں نے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ کی بلبلاہٹ سنی، گھبرا کر ( خیمہ ) سے باہر آئے، انہیں خیال ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، لیکن وہ آپ کے بجائے علی رضی الله عنہ تھے۔ علی رضی الله عنہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خط انہیں پکڑا دیا، اور ( آپ نے ) علی رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کلمات کا ( بزبان خود ) اعلان کر دیں۔ پھر یہ دونوں حضرات ساتھ چلے، ( دونوں نے حج کیا، اور علی رضی الله عنہ نے ایام تشریق میں کھڑے ہو کر اعلان کیا: اللہ اور اس کے رسول ہر مشرک و کافر سے بری الذمہ ہیں، صرف چار مہینے ( سر زمین مکہ میں ) گھوم پھر لو، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، کوئی شخص بیت اللہ کا ننگا ہو کر طواف نہ کرے، جنت میں صرف مومن ہی جائے گا، علی رضی الله عنہ اعلان کرتے رہے جب وہ تھک جاتے تو انہیں کلمات کا ابوبکر رضی الله عنہ اعلان کرنے لگتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ عَلِيًّا فَبَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ إِذْ سَمِعَ رُغَاءَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقَصْوَاءَ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَزِعًا فَظَنَّ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَدَفَعَ إِلَيْهِ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ فَانْطَلَقَا فَحَجَّا فَقَامَ عَلِيٌّ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَنَادَى ذِمَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بَرِيئَةٌ مِنْ كُلِّ مُشْرِكٍ فَسِيحُوا فِي الأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَلاَ يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَلاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَكَانَ عَلِيٌّ يُنَادِي فَإِذَا عَيِيَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَادَى بِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
#3092
Sahih
Narrated Zaid bin Yuthai':"We asked 'Ali what he had been dispatched with during the Hajj. He said: 'I was sent with four: That there shall be no Tawaf around the House while naked, that if there is a treaty between someone and the Prophet (ﷺ), then the treaty remains until its expiration, and whoever does not have a treaty, then he has the span of four months, none shall enter Paradise except a believer, and the idolaters and Muslims shall not congregate (for Hajj) after this year.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It is the narration of [Sufyan] bin 'Uyainah from Abu Ishaq. Sufyan Ath-Thawri reported it from Abu Ishaq, from some of his companions, from 'Ali, and there is something about it from Abü Hurairah. (Another chain) from Zaid bin Yuthai' from 'Ali with similar wordings. (Another chain) Zaid bin Uthal' from 'Ali with similar wordings. [Abu 'Eisa said:] Both narrations have been reported from Ibn 'Uyainah; from Ibn Uthai' and from Ibn Yuthai'. What is correct is that he is Zaid bin Yuthai'. Shu'bah reported a different narration from Abu Ishaq [from Zaid], and he was mistaken in it, he said: "From Zaid bin Uthail" and no one corroborated him in that. [There is something on this topic from Abu Hurairah]
زید بن یثیع کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ حج میں کیا پیغام لے کر بھیجے گئے تھے؟ کہا: میں چار چیزوں کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا ( ایک یہ کہ ) کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف ( آئندہ ) نہیں کرے گا۔ ( دوسرے ) یہ کہ جس کافر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی معاہدہ ہے وہ معاہدہ مدت ختم ہونے تک قائم رہے گا اور جن کا کوئی معاہدہ نہیں ان کے لیے چار ماہ کی مدت ہو گی ۱؎ ( تیسرے ) یہ کہ جنت میں صرف ایمان والا ( مسلمان ) ہی داخل ہو سکے گا۔ ( چوتھے یہ کہ ) اس سال کے بعد مسلم و مشرک دونوں حج نہ کر سکیں گے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سفیان بن عیینہ کی روایت سے جسے وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح ہے، ۲- اسے سفیان ثوری نے ابواسحاق کے بعض اصحاب سے روایت کی ہے اور انہوں نے علی رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا بِأَىِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ فِي الْحَجَّةِ قَالَ بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ أَنْ لاَ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَهْدٌ فَهُوَ إِلَى مُدَّتِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَلاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ وَلاَ يَجْتَمِعُ الْمُشْرِكُونَ وَالْمُسْلِمُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ حَدِيثُ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ عَلِيٍّ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، نَحْوَهُ . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، كِلْتَا الرِّوَايَتَيْنِ يُقَالُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ أُثَيْعٍ، وَعَنِ ابْنِ يُثَيْعٍ، وَالصَّحِيحُ، هُوَ زَيْدُ بْنُ أُثَيْعٍ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدٍ، غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ فَوَهِمَ فِيهِ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أُثَيْلٍ وَلاَ يُتَابَعُ عَلَيْهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
#3093
Daif
Narrated Abu Sa'eed:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you see a man frequenting the Masjid, then testify to his faith. Indeed Allah, Most High, said: The Masjid shall be maintained by those who believe in Allah and the Last day (9:18)." (Another chain) from Abu Sa'eed from the Prophet (ﷺ) with similar wording except that he said: "Yata'ahadul Masjid
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ مسجد کا عادی ہے ( یعنی برابر مسجد میں نمازیں پڑھنے جاتا ہے ) تو اس کے مومن ہونے کی گواہی دو“، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر» ”اللہ کی مسجدیں وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں“ ( التوبہ: ۱۸ ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالإِيمَانِ . قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : ( إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ) . " . حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " يَتَعَاهَدُ الْمَسْجِدَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَأَبُو الْهَيْثَمِ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيُّ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حَجْرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ .
#3094
Sahih
Narrated Thawban:"When (the following) was revealed: And those who hoard up gold and silver... (9:34)" He said: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) during one of his journeys, so some of his Companions said: (This) has been revealed about gold and silver, if we knew which wealth was better then we would use it. So he (ﷺ) said: 'The most virtuous of it is a remembering tongue, a grateful heart, and a believing wife that helps him with his faith
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «والذين يكنزون الذهب والفضة» ”اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئیے“ ( التوبہ: ۳۴ ) ، نازل ہوئی، اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے بعض صحابہ نے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں جو اترا سو اترا ( یعنی اس کی مذمت آئی ) اگر ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو اسی کو اپناتے۔ آپ نے فرمایا: ”بہترین مال یہ ہے کہ آدمی کے پاس اللہ کو یاد کرنے والی زبان ہو، شکر گزار دل ہو، اور اس کی بیوی ایسی مومنہ عورت ہو جو اس کے ایمان کو پختہ تر بنانے میں مددگار ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا کہ کیا سالم بن ابی الجعد نے ثوبان سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے ان سے کہا: پھر انہوں نے کسی صحابی سے سنا ہے؟ کہا: انہوں نے جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے سنا ہے اور انہوں نے ان کے علاوہ کئی اور صحابہ کا ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ : ( وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ ) قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ أُنْزِلَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَا أُنْزِلَ . لَوْ عَلِمْنَا أَىُّ الْمَالِ خَيْرٌ فَنَتَّخِذَهُ فَقَالَ " أَفْضَلُهُ لِسَانٌ ذَاكِرٌ وَقَلْبٌ شَاكِرٌ وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنَةٌ تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ فَقُلْتَ لَهُ سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ سَمِعَ مِنْ ثَوْبَانَ فَقَالَ لاَ . فَقُلْتُ لَهُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعَ مِنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَذَكَرَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
#3095
Hasan
Narrated 'Adi bin Hatim:"I came to the Prophet (ﷺ) while I had a cross of gold around my neck. He said: 'O 'Adi! Remove this idol from yourself!' And I heard him reciting from Surah Bara'ah: They took their rabbis and monks as lords besides Allah (9:31). He said: 'As for them, they did not worship them, but when they made something lawful for them, they considered it lawful, and when they made something unlawful for them, they considered it unlawful
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، آپ نے فرمایا: ”عدی! اس بت کو نکال کر پھینک دو، میں نے آپ کو سورۃ برأۃ کی آیت: «اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله» ”انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو معبود بنا لیا ہے“ ( التوبہ: 31 ) ، پڑھتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے، لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے، اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالسلام بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- غطیف بن اعین حدیث میں معروف نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ غُطَيْفِ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ . فَقَالَ " يَا عَدِيُّ اطْرَحْ عَنْكَ هَذَا الْوَثَنَ " . وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةََ : ( اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ) قَالَ " أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ . وَغُطَيْفُ بْنُ أَعْيَنَ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ فِي الْحَدِيثِ .
#3096
Sahih
Narrated Anas:that Abu Bakr narrated to him, he said: "While were in the cave, I said to the Prophet (ﷺ): 'If one of them were to look down at his feet, then he would see us under his feet.' So he said: 'O Abu Bakr! What do you think about two, the third of whom is Allah?
ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جب غار میں تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ان ( کافروں ) میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں اپنے قدموں کے نیچے ( غار میں ) دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہمام کی حدیث مشہور ہے اور ہمام اس روایت میں منفرد ہیں، ۳- اس حدیث کو حبان بن ہلال اور کئی لوگوں نے اسی کے مانند ہمام سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، حَدَّثَهُ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي الْغَارِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَنْظُرُ إِلَى قَدَمَيْهِ لأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ . فَقَالَ " يَا أَبَا بَكْرٍ! مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا؟ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ تَفَرَّدَ بِهِ . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ هَمَّامٍ نَحْوَ هَذَا .
#3097
Sahih
Narrated Ibn 'Abbas:"I heard 'Umar bin Al-Khattab saying: 'When 'Abdullah bin Ubayy died, the Messenger of Allah (ﷺ) was called to perform the funeral prayer over him. The Messenger of Allah (ﷺ) came to him, and when he stood over him, about to perform the prayer, he turned until he was standing at his chest. I said: "O Messenger of Allah! (You pray) for Allah's enemy 'Abdullah bin Ubayy, who on this day said this and that" - mentioning different days. He said: "The Messenger of Allah (ﷺ) was smiling until I had said too much to him and he said: 'Leave me O 'Umar! Indeed I have been given the choice, so I chose. I was told: Whether you ask forgiveness for them, or do not ask for forgiveness for them. Even though you ask for their forgiveness seventy times, Allah will not forgive them (9:80). If I knew that were I to ask more than seventy times that he would be forgiven, then I would do so." He said: "Then he performed the Salat for him and walked with him (his funeral procession) and he stood at his grave until it was finished. I was amazed at myself and my daring to talk like that to the Messenger of Allah (ﷺ), while Allah and His Messenger (ﷺ) know better. But by Allah! It was not long until these two Ayat were revealed: 'And never pray for any of them who dies nor stand at his grave... (9:84) until the end of the Ayah. He said: "So afterwards the Messenger of Allah (ﷺ) did not perform the Salat for a hypocrite, nor would he stand at his grave until Allah took him
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافقوں کا سردار ) مرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے بلائے گئے، آپ کھڑے ہو کر اس کی طرف بڑھے اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ میں لپک کر آپ کے سینے کے سامنے جا کھڑا ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ اللہ کے دشمن عبداللہ بن ابی کی نماز پڑھنے جا رہے ہیں جس نے فلاں فلاں دن ایسا اور ایسا کہا تھا؟ وہ اس کے بےادبی و بدتمیزی کے دن گن گن کر بیان کرنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے یہاں تک کہ جب میں بہت کچھ کہہ گیا ( حد سے تجاوز کر گیا ) تو آپ نے فرمایا: ” ( بس بس ) مجھ سے ذرا پرے جاؤ عمر! مجھے اختیار دیا گیا ہے تو میں نے اس کے لیے مغفرت طلبی کو ترجیح دی ہے۔ کیونکہ مجھ سے کہا گیا ہے: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم» ”ان ( منافقوں ) کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اگر تم ان کے لیے ستر بار بھی مغفرت طلب کرو گے تو بھی وہ انہیں معاف نہ کرے گا“ ( التوبہ: ۸۰ ) ، اگر میں جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت طلب کرنے سے وہ معاف کر دیا جائے گا تو ستر بار سے بھی زیادہ میں اس کے لیے مغفرت مانگتا۔ پھر آپ نے عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھی اور جنازہ کے ساتھ چلے اور اس کی قبر پر کھڑے رہے، یہاں تک کہ اس کے کفن دفن سے فارغ ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اپنی جرات و جسارت پر مجھے حیرت ہوئی۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۱؎، قسم اللہ کی! بس تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ”ان میں سے کسی ( منافق ) کی جو مر جائے نماز جنازہ کبھی بھی نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو“ ( التوبہ: ۸۴ ) ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرنے تک کبھی بھی کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہو کر دعا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلصَّلاَةِ عَلَيْهِ فَقَامَ إِلَيْهِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ يُرِيدُ الصَّلاَةَ تَحَوَّلْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي صَدْرِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى عَدُوِّ اللَّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا يَعُدُّ أَيَّامَهُ . قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَبَسَّمُ حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ " أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ . إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ قَدْ قِيلَ لِي : ( اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ) لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ " . قَالَ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَشَى مَعَهُ فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ قَالَ فَعَجَبٌ لِي وَجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَوَاللَّهِ مَا كَانَ إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ هَاتَانِ الآيَتَانِ : (وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ قَالَ فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَهُ عَلَى مُنَافِقٍ وَلاَ قَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
#3098
Sahih
Narrated Ibn 'Umar:"'Abdullah bin 'Abdullah bin Ubayy came to the Messenger of Allah (ﷺ) when his father died, and said: 'Give me your shirt to shroud him in and perform the Salat upon him, and seek forgiveness for him.' So he (ﷺ) gave him his shirt, and said: 'When you are finished then inform me.' So when he wanted to perform the Salat, 'Umar tugged at him and said: 'Has not Allah prohibited that you perform Salat over the hypocrites?' He said: 'I have been given the choice between two: 'Whether you seek forgiveness for them or you do not seek forgiveness for them.... (9:80)' So he performed the Salat for him. Then Allah revealed: 'And never pray for any of them who dies, nor stand at his grave... (9:84)' So he abandoned praying for them
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی کے باپ کا جب انتقال ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ اپنی قمیص ہمیں عنایت فرما دیں، میں انہیں ( عبداللہ بن ابی ) اس میں کفن دوں گا۔ اور ان کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے اور ان کے لیے استغفار فرما دیجئیے۔ تو آپ نے عبداللہ کو اپنی قمیص دے دی۔ اور فرمایا: ”جب تم ( غسل و غیرہ سے ) فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دو۔ پھر جب آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو عمر رضی الله عنہ نے آپ کو کھینچ لیا، اور کہا: کیا اللہ نے آپ کو منافقین کی نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے دو چیزوں «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ”ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو“ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا۔ چنانچہ آپ نے اس کی نماز پڑھی۔ جس پر اللہ نے آیت «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» نازل فرمائی۔ تو آپ نے ان ( منافقوں ) پر نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ مَاتَ أَبُوهُ فَقَالَ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ . فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ " إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي " . فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ جَذَبَهُ عُمَرُ وَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ نَهَى اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ : (اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ) " . فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: (وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ ) فَتَرَكَ الصَّلاَةَ عَلَيْهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
#3099
Sahih
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:"Two men disagreed over the Masjid whose foundation was laid upon Taqwa from the first day (9:108). A man said: 'It is Masjid Quba' and the other said: 'It is the Masjid of the Messenger of Allah (ﷺ).' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is this Masjid of mine
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس مسجد کے بارے میں اختلاف کر بیٹھے جس کی تاسیس و تعمیر پہلے دن سے تقویٰ پر ہوئی ہے ۱؎ ( کہ وہ کون سی ہے؟ ) ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے اور دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ تب آپ نے فرمایا: ”وہ میری یہی مسجد ( مسجد نبوی ) ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران بن ابی انس کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابو سعید خدری سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۳- اسے انیس بن ابی یحییٰ نے اپنے والد سے اور ان کے والد ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ تَمَارَى رَجُلاَنِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ وَقَالَ الآخَرُ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ مَسْجِدِي هَذَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ رَوَاهُ أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رضى الله عنه .
#3100
Sahih
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "This Ayah was revealed about the people of Quba: In it are men who love to purify themselves. And Allah loves those who make themselves pure (9:108)." He said: "They used water to perform Istinja so this Ayah was revealed about them
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آیت «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» ”اس میں ( قباء میں ) وہ لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو محبوب رکھتا ہے“ ( التوبہ: ۱۰۸ ) ، اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کی عادت تھی کہ وہ استنجاء پانی سے کرتے تھے، تو ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوایوب، انس بن مالک اور محمد بن عبداللہ بن سلام سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي أَهْلِ قُبَاء : (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ) " . قَالَ كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيهِمْ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ .