العربية
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةَ حَرَامٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا فَنَزَلَتْ : ( أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ) فَقَالَ الرَّجُلُ أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " لَكَ وَلِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
English
Narrated Ibn Mas'ud:that a man unlawfully kissed a woman. So he came to the Prophet (ﷺ) to ask him about its atonement. So (the following) Ayah was revealed: And perform the Salat, at the two ends of the day and in some hours of the night (11:114). The man said: "Is this for me O Messenger of Allah?" He said: "For you and for whoever does that among my Ummah اردو
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک ( غیر محرم ) عورت کا ناجائز بوسہ لے لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟ اس پر آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات» نازل ہوئی، اس شخص نے پوچھا کیا یہ ( کفارہ ) صرف میرے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ تمہارے لیے ہے اور میری امت کے ہر اس شخص کے لیے جو یہ غلطی کر بیٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔