العربية
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذِهِ الآيَةِ: (قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ) فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمَا إِنَّهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
English
Narrated Sa'd bin Abi Waqqas:from the Prophet (ﷺ), regarding this Ayah "Say: He has the power to send torment on you from above or from under your feet...' the Prophet (ﷺ) said "Indeed they shall be, even though they have not occurred as of yet اردو
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم» ”کہہ دو ( اے محمد! ) وہ ( اللہ ) قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے“ ( الانعام: ۶۵ ) ، کے متعلق فرمایا: ”آگاہ رہو یہ تو ہو کر رہنے والی بات ہے اور ابھی تک اس کا وقوع و ظہور نہیں ہوا ہے“ ( یعنی یہ عذاب نہیں آیا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔