Jami at-Tirmidhi

Hadith #2981

Sahih
العربية
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْمُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ زَوَّجَ أُخْتَهُ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَتْ عِنْدَهُ مَا كَانَتْ ثُمَّ طَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً لَمْ يُرَاجِعْهَا حَتَّى انْقَضَتِ الْعِدَّةُ فَهَوِيَهَا وَهَوِيَتْهُ ثُمَّ خَطَبَهَا مَعَ الْخُطَّابِ فَقَالَ لَهُ يَا لُكَعُ أَكْرَمْتُكَ بِهَا وَزَوَّجْتُكَهَا فَطَلَّقْتَهَا وَاللَّهِ لاَ تَرْجِعُ إِلَيْكَ أَبَدًا آخِرُ مَا عَلَيْكَ قَالَ فَعَلِمَ اللَّهُ حَاجَتَهُ إِلَيْهَا وَحَاجَتَهَا إِلَى بَعْلِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏(‏ وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏‏(‏ وَأَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ‏)‏ فَلَمَّا سَمِعَهَا مَعْقِلٌ قَالَ سَمْعًا لِرَبِّي وَطَاعَةً ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ أُزَوِّجُكَ وَأُكْرِمُكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْحَسَنِ ‏.‏ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلاَلَةٌ عَلَى أَنَّهُ لاَ يَجُوزُ النِّكَاحُ بِغَيْرِ وَلِيٍّ لأَنَّ أُخْتَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ كَانَتْ ثَيِّبًا فَلَوْ كَانَ الأَمْرُ إِلَيْهَا دُونَ وَلِيِّهَا لَزَوَّجَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تَحْتَجْ إِلَى وَلِيِّهَا مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَإِنَّمَا خَاطَبَ اللَّهُ فِي الآيَةِ الأَوْلِيَاءَ فَقَالَ ‏:‏ ‏(‏ولَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ ‏)‏ فَفِي هَذِهِ الآيَةِ دَلاَلَةٌ عَلَى أَنَّ الأَمْرَ إِلَى الأَوْلِيَاءِ فِي التَّزْوِيجِ مَعَ رِضَاهُنَّ ‏.‏
English
Narrated Al-Hasan:from Ma'qil bin Yasar that he married his sister to a man among the Muslims during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). She remained with him as long as she did, then he divorced her once without taking her back until her 'Iddah elapsed, but they desired each other again. He (Ma'qil) said to him: 'You ingrate! I honored you by marrying her to you, then you divorced her. By Allah! She will never be returned to you again.' Allah knew of his heed for her and her need for a husband, so Allah, Blessed and Most High, revealed: 'And when you have divorced women and they have fulfilled the term of their prescribed period...' up to His saying: '... and you do not know (2:232).' So when Ma'qil heard that he said: 'I heard my Lord and obey.' Then he called for him and said: 'I marry you, and honor you.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from AlHasan, and that is reported from Hasan is Gharib. And in this Hadtth, there is proof that marriage is not allowed without a Wali, because Ma'qil bin Yasãr's sister was not a virgin, so if the matter was up to her, not her Wali, then she could have married herself, and she would have had no need for Ma'qil bin Yasãr to act as the Wali for her. And Allah only addressed the Wali in this Ayah, saying: Do not prevent them from marrying their (former) husbands. - so in this Ayah is the evidence that the authority is with the Wali in marrying (women) with their consent
اردو
معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم کے زمانے میں اپنی بہن کی شادی ایک مسلمان شخص سے کر دی۔ وہ اس کے یہاں کچھ عرصے تک رہیں، پھر اس نے انہیں ایسی طلاق دی کہ اس کے بعد ان سے رجوع نہ کیا یہاں تک کہ عدت کی مدت ختم ہو گئی۔ پھر دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی خواہش و چاہت پیدا ہوئی اور ( دوسرے ) پیغام نکاح دینے والوں کے ساتھ اس نے بھی پیغام نکاح دیا۔ معقل رضی الله عنہ نے اس سے کہا: بیوقوف! میں نے تمہاری شادی اس سے کر کے تیری عزت افزائی کی تھی پھر بھی تو اسے طلاق دے بیٹھا، قسم اللہ کی! اب وہ تمہاری طرف زندگی بھر کبھی بھی لوٹ نہیں سکتی، اور اللہ معلوم تھا کہ اس شخص کو اس عورت کی حاجت و خواہش ہے اور اس عورت کو اس شخص کی حاجت و چاہت ہے۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت: «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن» سے «وأنتم لا تعلمون» ۱؎ تک نازل فرمائی۔ جب معقل رضی الله عنہ نے یہ آیت سنی تو کہا: اب اپنے رب کی بات سنتا ہوں اور اطاعت کرتا ہوں ( یہ کہہ کر ) بلایا اور کہا: میں تمہاری شادی ( دوبارہ ) کیے دیتا ہوں اور تجھے عزت بخشتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ کئی سندوں سے حسن بصری سے مروی ہے۔ حسن بصری کے واسطہ سے یہ غریب ہے، ۳- اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ بغیر ولی کے نکاح جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ معقل بن یسار کی بہن ثیبہ تھیں۔ اگر ولی کی بجائے معاملہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ اپنی شادی آپ کر سکتی تھیں اور وہ اپنے ولی معقل بن یسار کی محتاج نہ ہوتیں۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اپنے ( سابق ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ تو اس آیت میں اس بات کا ثبوت ہے کہ نکاح کا معاملہ عورتوں کی رضا مندی کے ساتھ اولیاء کے ہاتھ میں ہے۔

Find a Hadith