العربية
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَنَا شَطْرٌ مِنْ شَعِيرٍ فَأَكَلْنَا مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قُلْتُ لِلْجَارِيَةِ كِيلِيهِ فَكَالَتْهُ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ فَنِيَ . قَالَتْ فَلَوْ كُنَّا تَرَكْنَاهُ لأَكَلْنَا مِنْهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . وَمَعْنَى قَوْلِهَا شَطْرٌ تَعْنِي شَيْئًا .
English
Aishah said :" The Messenger of Allah(s.a.w) died and we had a Shatr of barley. We ate from it as Allah willed, then I said to the slave girl: 'Measure it' so she measured it, and it was not long before it was gone." She said: "If we had left it alone then we could have eaten from it more than that." [Her saying]: "Shatr" means a small quantity of barley اردو
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اس وقت ہمارے پاس تھوڑی سی جو تھی، پھر جتنی مدت تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم نے اسی سے کھایا، پھر ہم نے لونڈی کو جو تولنے کے لیے کہا، تو اس نے تولا، پھر بقیہ جو بھی جلد ہی ختم ہو گئے، لیکن اگر ہم اسے چھوڑ دیتے اور نہ تولتے تو اس میں سے اس سے زیادہ مدت تک کھاتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہاں عائشہ رضی الله عنہا کے قول «شطر» کا معنی قدرے اور تھوڑا ہے۔