العربية
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي أَنْ يَجْمَعُوا حُزَمَ الْحَطَبِ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى أَقْوَامٍ لاَ يَشْهَدُونَ الصَّلاَةَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَمُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَالُوا مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ فَلاَ صَلاَةَ لَهُ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا عَلَى التَّغْلِيظِ وَالتَّشْدِيدِ وَلاَ رُخْصَةَ لأَحَدٍ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ إِلاَّ مِنْ عُذْرٍ .
English
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "I was about to order my boys to collect bundles of firewood, then order Salat to be held, then burn (the homes) of the people who did not attend the Salat اردو
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اپنے کچھ نوجوانوں کو میں لکڑی کے گٹھر اکٹھا کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں تو کھڑی کی جائے، پھر میں ان لوگوں ( کے گھروں ) کو آگ لگا دوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابو الدرداء، ابن عباس، معاذ بن انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ جو اذان سنے اور نماز میں نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہوتی، ۴- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ یہ برسبیل تغلیظ ہے ( لیکن ) ، کسی کو بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں۔