#2426
Hasan Lighairihi
It was narrated from Abu Dharr:That the Prophet commanded a man to fast on the thirteenth, fourteenth and fifteenth
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلاَنِ، مُحَمَّدٌ وَحَكِيمٌ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً بِصِيَامِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ .
#2427
Daif
It was narrated that Ibn Al-Hawtakiyyah said:"Ubayy said: 'A Bedouin came to the Messenger of Allah, and he had a rabbit that he had grilled and some bread. He placed it before the Prophet then he said: "I found it bleeding." The Messenger of Allah said to his Companions: "It doesn't matter; eat." And he said to the Bedouin: "Eat," He said: "I am fasting." He said: "If you want to fast then you should fast the shining days of Al-Bid: The thirteenth, fourteenth and fifteenth
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس کے ساتھ ایک بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی، اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے لا کر رکھا۔ پھر اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اسے حیض آتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں تم سب کھاؤ“، اور آپ نے اعرابی ( دیہاتی ) سے فرمایا: تم بھی کھاؤ، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے پوچھا: ”کیسا روزے؟“ اس نے کہا: ہر مہینے میں تین دن کا روزے، آپ نے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ روزے رکھنے ہیں تو روشن اور چمکدار راتوں والے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو لازم پکڑو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: صحیح «عن ابی ذر» ہے، قرین قیاس یہ ہے کہ «ذر» کاتبوں سے چھوٹ گیا۔ اس طرح وہ «ابی بن کعب» ہو گیا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ قَالَ أُبَىٌّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ أَرْنَبٌ قَدْ شَوَاهَا وَخُبْزٌ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ إِنِّي وَجَدْتُهَا تَدْمَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ " لاَ يَضُرُّ كُلُوا " . وَقَالَ لِلأَعْرَابِيِّ " كُلْ " . قَالَ إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ " صَوْمُ مَاذَا " . قَالَ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ . قَالَ " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَعَلَيْكَ بِالْغُرِّ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّوَابُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ مِنَ الْكُتَّابِ ذَرٌّ فَقِيلَ أُبَىٌّ .
#2428
Daif
It was narrated from Musa bin Talhah that:a man brought a rabbit to the Prophet, and the prophet stretched out his hand toward it, then the one who had brought it said: "I saw some blood on it," So the Prophet drew his hand back, but he told the people to eat. Among the people there was a man who held back. The Prophet said: "What is the matter with you?" He said: "I am fasting." The Prophet said to him: "Why don't you fast on the three days of Al-Bid, the thirteenth, fourteenth and fifteenth?
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا: میں نے اس کے ساتھ خون ( حیض ) دیکھا تھا ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا بات ہے، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو؟“ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”پھر تم ایام بیض: تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے؟“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَرْنَبٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا . فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا لَكَ " . قَالَ إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَهَلاَّ ثَلاَثَ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ " .
#2429
Daif
It was narrated that Musa bin Talhah said:"A rabbit that a man had grilled was brought to the Prophet and when he offered it to him he said: 'O Messenger of Allah, I saw some blood on it." The Messenger of Allah did not eat it, but he said to those who were with him: "Eat; if I felt like it, I would have eaten it.' There was a man sitting, and the Messenger of Allah said: 'Come and eat with the people.' He said: 'O Messenger of Allah, I am fasting.' He said: 'Why don't you fast Al-Bid?' He said: 'What are they?' He said: "The thirteenth, fourteenth and fifteenth?
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھون رکھا تھا، جب اس نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا تو کہا: میں نے دیکھا اسے خون ( حیض ) آ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، نہیں کھایا، اور ان لوگوں سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا: ”تم کھاؤ، اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی میں بھی کھاتا“، اور وہ شخص ( جو اسے لایا تھا ) بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”قریب آ جاؤ، اور تم بھی لوگوں کے ساتھ کھاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تم نے بیض کے روزے کیوں نہیں رکھے؟“ اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا رَجُلٌ فَلَمَّا قَدَّمَهَا إِلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ بِهَا دَمًا فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَقَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ " كُلُوا فَإِنِّي لَوِ اشْتَهَيْتُهَا أَكَلْتُهَا " . وَرَجُلٌ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ادْنُ فَكُلْ مَعَ الْقَوْمِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ " فَهَلاَّ صُمْتَ الْبِيضَ " . قَالَ وَمَا هُنَّ قَالَ " ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ " .
#2430
Daif
It was narrated that a man called 'Abdul-Malik narrated from his father, that:the Messenger of Allah used to enjoin (fasting) these days of Al-Bid and he said: "That is (equivalent to) fasting for the whole month
قتادہ بن ملحان (ابن منہال) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیض کے ان تینوں دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے، اور فرماتے تھے: ”یہ مہینے بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِهَذِهِ الأَيَّامِ الثَّلاَثِ الْبِيضِ وَيَقُولُ " هُنَّ صِيَامُ الشَّهْرِ " .
#2431
Daif
Abdul-Malik bin Abi Al-Minhai narrated from his father that:the Prophet commanded them to fast the three days of Al-Bid. He said: "That is (equivalent to) fasting for the whole month
ابوالمنہال قتادہ بن ملحان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام بیض کے تین روزے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ مہینہ بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي الْمِنْهَالِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامِ الْبِيضِ قَالَ " هِيَ صَوْمُ الشَّهْرِ " .
#2432
Daif
Abdul-Malik bin Qudamah bin Milhan narrated that his father said:"The Messenger of Allah used to command us to fast the three days with the shining bright nights (Al-Ayam Al-Bid), the thirteenth, fourteenth and fifteenth
قدامہ (قتادہ بن ملحان) بن ملحان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روشن چاندنی راتوں کے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ مِلْحَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا بِصَوْمِ أَيَّامِ اللَّيَالِي الْغُرِّ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ .
#2433
Sahih Isnaad
It was narrated from Abu Nawfal bin Abi 'Aqrab that his father said:"I asked the Messenger of Allah about fasting and he said: 'Fast one day of the month.' I said: 'Fast one day of the month.' I said: 'O Messenger of Allah, let me do more, let me do more.' He said: 'Let me do more, let mo do more; I am able for it.' Then the Messenger of Allah fell silent until I thought that he was going to refuse my request. Then he said: 'fast three days of each month
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم کہتے ہو: اللہ کے رسول! کچھ بڑھا دیجئیے، کچھ بڑھا دیجئیے، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، اس پر آپ نے میری بات ”کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی پھر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ اب آپ مجھے لوٹا دیں گے، پھر آپ نے فرمایا: ”ہر مہینے تین دن رکھ لیا کرو“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، مِنْ خِيَارِ الْخَلْقِ قَالَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فَقَالَ " صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي زِدْنِي . قَالَ " تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي زِدْنِي يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي زِدْنِي إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا . فَقَالَ " زِدْنِي زِدْنِي أَجِدُنِي قَوِيًّا " . فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيَرُدُّنِي قَالَ " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
#2434
Sahih Isnaad
It was narrated from Abu Nawfal bin Abi 'Aqrab, from his father, that he asked the Prophet about fasting and he said:"Fast one day of each month." He asked him for more, saying: "May my father and mother be ransomed for you, I am able." He said: "Fast two days of each month." He said" May my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah, I am able." The Messenger of Allah said: "I am able, I am able." He did not want to increase it, but when I insisted, the Messenger of Allah said: "Fast three days of each month." (Sahih) The end of what the Shaikh had about fasting, all praise is due to Allah the Lord of the worlds
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، انہوں نے مزید کی درخواست کی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو آپ نے اس میں اضافہ فرما دیا، فرمایا: ”ہر مہینہ دو دن رکھ لیا کرو“، تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری بات ) ”میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی، آپ اضافہ کرنے والے نہ تھے، مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ تین دن رکھ لیا کرو“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فَقَالَ " صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " . وَاسْتَزَادَهُ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا فَزَادَهُ قَالَ " صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " . فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا " . فَمَا كَادَ أَنْ يَزِيدَهُ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
#2435
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said to Mu'adh when he sent him to Yemen: 'You are going to some of the People of the book. When you come to them, call them to testify that there is none worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. If they obey you in that, then tell them that Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined on them a charity (Zakah) to be taken from their rich and given to their poor. If they obey you in that, then beware of the supplication of the oppressed person
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: ”تم اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) کے پاس جا رہے ہو، تو جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن و رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر ( زکاۃ ) فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں بانٹ دیا جائے گا، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر مظلوم کی بد دعا سے بچو“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنِ الْمُعَافَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُعَاذٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ - يَعْنِي أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ - فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ فَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ " .
#2436
Hasan Isnaad
Bahz bin Hakim narrated from his father, that his grandfather said:"I said: 'O Prophet of Allah, I did not come to you until I had sworn more than this many times" the number of fingers on his hands "that I would never come to you or follow your religion. I am a man who does not know anything except that which Allah, the Mighty and Sublime, and His Messenger teach me. I ask you by the Revelation of Allah, with what has your Lord sent your to us? He said: "With Islam.' I said: 'What are the signs of Islam?' He said: 'To say, I submit my face to Allah and give up Shirk, and to establish the Salah and to pay the Zakah
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ بار یہ قسم کھائی کہ نہ میں آپ کے قریب اور نہ آپ کے دین کے قریب آؤں گا۔ اور اب میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں ہوں سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دی ہے، اور میں اللہ کی وحی کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز دے کر آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام کے ساتھ“، میں نے پوچھا: اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ ہیں کہ تم کہو کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا، اور شرک اور اس کی تمام آلائشوں سے کٹ کر صرف اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہو گیا، اور نماز قائم کرو، اور زکاۃ دو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ - لأَصَابِعِ يَدَيْهِ - أَنْ لاَ آتِيَكَ وَلاَ آتِيَ دِينَكَ وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لاَ أَعْقِلُ شَيْئًا إِلاَّ مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَحْىِ اللَّهِ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا قَالَ " بِالإِسْلاَمِ " . قُلْتُ وَمَا آيَاتُ الإِسْلاَمِ قَالَ " أَنْ تَقُولَ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ إِلَى اللَّهِ وَتَخَلَّيْتُ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ " .
#2437
Sahih
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Ghanm that Abu Malik Al-Ash'ari told him that the Messenger of Allah said:"Isbagh Al-Wudu is half of faith; Alhamdu lillah (praise be to Allah) fills the balance; the Tasbih and the Takbir fill the heavens and Earth; the Salah is light; the Zakah is a sign (of sincerity); patience is an illuminating torch; and the Qur'an is proof, either for you or against you
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامل وضو کرنا آدھا ایمان ہے، الحمدللہ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ اور سبحان اللہ اور اللہ اکبر آسمانوں اور زمین کو ( ثواب ) سے بھر دیتے ہیں۔ اور نماز نور ہے، اور زکاۃ دلیل ہے، اور صبر روشنی ہے، اور قرآن حجت ( دلیل ) ہے تیرے حق میں بھی، اور تیرے خلاف بھی“۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ، عَنْ أَخِيهِ، زَيْدِ بْنِ سَلاَّمٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الأَشْعَرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلأُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَالصَّلاَةُ نُورٌ وَالزَّكَاةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ " .
#2438
Daif
Suhaib narrated that he heard Abu Hurairah and Abu Sa'eed say:"The Messenger of Allah addressed us one day and said: 'By the One in Whose hand is my sould' three times then he lowered his head, and each of us lowered his head, weeping, and we did not know what he had sworn that oath about. Then he raised his head with joy on his face, and that was dearer to us than red camels. Then he said: 'There is no one who offers the five (daily) prayers, fasts Ramadan, pays Zakah and avoid the seven major sins, but the gates of Paradise will be opened to him, and it will be said to him: Enter in peace
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا۔ آپ نے تین بار فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے“، پھر آپ نے سر جھکا لیا تو ہم سے ہر شخص سر جھکا کر رونے لگا، ہم نہیں جان سکے آپ نے کس بات پر قسم کھائی ہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، آپ کے چہرے پر بشارت تھی جو ہمیں سرخ اونٹ پانے کی خوشی سے زیادہ محبوب تھی، پھر آپ نے فرمایا: ”جو بندہ بھی پانچوں وقت کی نماز پڑھے، روزے رمضان رکھے، اور زکاۃ ادا کرے، اور ساتوں کبائر ۱؎ سے بچے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اور اس سے کہا جائے گا: سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي صُهَيْبٌ، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمِنْ أَبِي سَعِيدٍ يَقُولاَنِ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَكَبَّ فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي لاَ نَدْرِي عَلَى مَاذَا حَلَفَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فِي وَجْهِهِ الْبُشْرَى فَكَانَتْ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ثُمَّ قَالَ " مَا مِنْ عَبْدٍ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيُخْرِجُ الزَّكَاةَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ إِلاَّ فُتِّحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَقِيلَ لَهُ ادْخُلْ بِسَلاَمٍ " .
#2439
Sahih
Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah say" 'Whoever spends on a pair of things in the cause of Allah, he will be called from the gates of Paradise: O slave of Allah, this is good for you. Paradise had (several) gates. Whoever is one of the people of Salah, he will be called from the gate of prayer. Whoever is one of the people of Jihad, will be called from the gate of Jihad. Whoever is one of the people of charity will be called from the gate of charity. And whoever is one of the people of fasting will be called from the gate of Ar-Rayyan." Abu Bakr said: "Is there any need for anyone to be called from all of these gates? Will anyone be called from all of them, O Messenger of Allah?" He said: "Yes, and I hope that you will be among them
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں چیزوں میں سے کسی چیز کے جوڑے دے تو وہ جنت کے دروازے سے یہ کہتے ہوئے بلایا جائے گا کہ اللہ کے بندے! آ جا یہ دروازہ تیرے لیے بہتر ہے، تو جو شخص اہل صلاۃ میں سے ہو گا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جو شخص مجاہدین میں سے ہو گا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو اہل صدقہ ( و زکاۃ ) میں سے ہوں گے تو وہ صدقہ ( زکاۃ ) کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزے رکھنے والوں میں سے ہو گا وہ باب الریان ( ریان کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جو کوئی ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے بلا لیا جائے اسے مزید کسی اور دروازے سے بلائے جانے کی ضرورت نہیں، لیکن اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا بھی ہے جو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے“۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَىْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ لَكَ وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ هَلْ عَلَى مَنْ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَعَمْ وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " . يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ .
#2440
Sahih
It was narrated that Abu Dharr said:"I come to the Prophet while he was sitting in the shade of the Ka'bah. When he saw me coming he said: 'They are the losers, by the Lord of the Ka'bah!' I said: 'what's happening? Perhaps something has been revealed concerning me.' I said: 'Who are they, may my father said mother be ransomed for you?' He said: "those who have a lot of wealth, except one who does like this, and like this, and like this,' (motioning) in front of him, and to his right, and to his left. Then he said: 'By the One in Whose hand is my soul, no man dies leaving camels, or cattle, or sheep on which he did not pay the Zakah, but they will come on the Day of Resurrection as big and fat as they ever were, trampling him with their hooves and goring him with their horns. Every time the last of them runs over him, the first of them will come back, until judgment is passed among the people
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ خانہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے، جب آپ نے ہمیں آتے دیکھا تو فرمایا: ”وہ بہت خسارے والے لوگ ہیں، رب کعبہ کی قسم“! میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: کیا بات ہے؟ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے، میں نے عرض کیا: کون لوگ ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”بہت مال والے، مگر جو اس طرح کرے، اس طرح کرے“ یہاں تک کہ آپ اپنے سامنے، اپنے دائیں، اور اپنے بائیں دونوں ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص کوئی اونٹ یا بیل چھوڑ کر مرے گا جس کی اس نے زکاۃ نہ دی ہو گی تو وہ ( اونٹ یا بیل ) ( دنیا میں ) جیسا کچھ وہ تھا قیامت کے دن اس سے بڑا اور موٹا تازہ ہو کر اس کے سامنے آئے گا، اور اسے اپنے کھروں سے روندے گا اور سینگوں سے مارے گا، جب آخری جانور روند اور مار چکے گا تو پھر ان کا پہلا لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلاً قَالَ " هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . فَقُلْتُ مَا لِي لَعَلِّي أُنْزِلَ فِيَّ شَىْءٌ قُلْتُ مَنْ هُمْ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ " الأَكْثَرُونَ أَمْوَالاً إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا حَتَّى بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " . ثُمَّ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلاً أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ أُولاَهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " .
#2441
Sahih
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'There is no man who has wealth and does not pay the dues of his wealth, but a baldheaded Shuja'a will be made to encircle his neck, and he will run away from the Book of Allah: 'And let not those who covetously withhold of that which Allah has bestowed on them of His Bounty (wealth)' think that it is good for them (and so they do not pay the obligatory Zakah). Nay, it will be worse for them; the things which they covetously withheld, shall be tied toothier necks like a collar on the Day of Resurrection
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اپنے مال کا حق ادا نہ کرے ( یعنی زکاۃ نہ دے ) تو وہ مال ایک گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی گردن کا ہار بنا دیا جائے گا، وہ اس سے بھاگے گا، اور وہ ( سانپ ) اس کے ساتھ ہو گا“، پھر اس کی تصدیق کے لیے آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی «ولا تحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ”تم یہ مت سمجھو کہ جو لوگ اس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے بخیلی کرتے ہیں ان کے حق میں بہتر ہے، یہ بہت برا ہے ان کے لیے۔ عنقریب جس مال کے ساتھ انہوں نے بخل کیا ہو گا وہ قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا“ ( آل عمران: ۱۸ ) ۔
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ لاَ يُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ إِلاَّ جُعِلَ لَهُ طَوْقًا فِي عُنُقِهِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ " . ثُمَّ قَرَأَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ } الآيَةَ .
#2442
Sahih
Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Any man who has camels and does not pay what is due on them in its Najdah or its Risl mean?' He said: 'In times of hardship or in times of ease; they will come on the Day of Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He will be laid face down in a flat arena for them and they will trample him with their hooves. When the last of them has passed, the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until judgment is passed among the people, and he realizes his end. Any man who has cattle and does not pay what is due on them in drought or in plenty, they will come on the Day of Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He will be laid face down in a flat arena for them, and they will trample him with their cloven hooves. When the last of them has passed the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until judgment is passed among the people and he realizes his end. Any man who has sheep and does not pay what is due on them in drought or in plenty, they will come on the Day or Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He will be laid face down in a flat arena for them and they will trample him with their cloven hooves, and each horned one will gore him with its horn, and there will be none among them with twisted or broken horns. When the last of them has passed, the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until judgment is passed among the people, and he realizes his end
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کی تنگی اور خوشحالی میں ان کا حق ادا نہ کرے ( لوگوں نے ) عرض کیا: اللہ کے رسول! «نجدتها ورسلها» سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: تنگی اور آسانی ۱؎ تو وہ اونٹ جیسے کچھ تھے قیامت کے دن اس سے زیادہ چست، فربہ اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے۔ اور یہ ایک کشادہ اور ہموار چٹیل میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ روند چکے گا تو پھر پہلا اونٹ روندنے کے لیے لوٹایا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، اور یہ سلسلہ برابر اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دیا جائے گا، اور وہ اپنا راستہ دیکھ نہ لے گا، جن کے پاس گائے بیل ہوں اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے یعنی ان کی زکاۃ نہ دے، ان کی تنگی اور ان کی کشادگی کے زمانہ میں، تو وہ گائے بیل قیامت کے دن پہلے سے زیادہ مستی و نشاط میں موٹے تازے اور تیز رفتار ہو کر آئیں گے، اور اسے ایک کشادہ میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا اور ہر سینگ والا اسے سینگوں سے مارے گا، اور ہر کھر والا اپنی کھروں سے اسے روندے گا، جب آخری جانور روند چکے گا، تو پھر پہلا پھر لوٹا دیا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے، اور جس شخص کے پاس بکریاں ہوں اور وہ ان کی تنگی اور آسانی میں ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ بکریاں اس سے زیادہ چست فربہ اور موٹی تازی ہو کر آئیں گی جتنی وہ ( دنیا میں ) تھیں، پھر وہ ایک کشادہ ہموار میدان میں منہ کے بل لٹا دیا جائے، تو ہر کھر والی اسے اپنے کھر سے روندیں گی، اور ہر سینگ والی اسے اپنی سینگ سے مارے گی، ان میں کوئی مڑی ہوئی اور ٹوٹی ہوئی سینگ کی نہ ہو گی، جب آخری بکری مار چکے گی تو پھر پہلی بکری لوٹا دی جائے گی، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْغُدَانِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ لاَ يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجْدَتُهَا وَرِسْلُهَا قَالَ " فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنِهِ وَآشَرِهِ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا إِذَا جَاءَتْ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ بَقَرٌ لاَ يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَغَذَّ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ وَآشَرَهُ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا وَتَطَؤُهُ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ لاَ يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَكْثَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَآشَرِهِ ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلاَ عَضْبَاءُ إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ " .
#2443
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah died, and Abu Bakr became the Khalifah after him, and some of the 'Arabs reverted to disbelief. 'umar said to Abu Bakr: 'How can you fight the people when the Messenger of allah said: "I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship but Allah). Whoever says La ilaha illah, his wealth and his life safe from me, unless he deserves a legal punishment justly, and his reckoning will be with Allah?"' Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: 'I will fight anyone who separates prayer and Zakah; Zakah is the compulsory right to be taken from wealth. By Allah, if they withhold from me a rope that they used to give to the Messenger of Allah, I will fight them for wiholding it.' 'Umar, may Allah be pleased with him, said: 'By Allah, it was as if I saw that Allah has opened the heart of Abu Bakr for fighting, and I knew that I was the truth
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، اور عربوں میں سے جنہیں کافر مرتد ہونا تھا کافر ہو گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تو جس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیا، اس نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو سوائے اسلام کے حق ۱؎ کے مجھے سے محفوظ کر لیا۔ اور اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے“ ۲؎ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا ( یعنی نماز تو پڑھے اور زکاۃ دینے سے منع کرے ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی، اگر یہ اونٹ باندھنے کی رسی بھی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے مجھ سے روکیں گے، تو میں ان سے ان کے روکنے پر لڑوں گا، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! زیادہ دیر نہیں ہوئی مگر مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے سلسلے میں شرح صدر عطا کر دیا ہے، اور میں نے جان لیا کہ یہ ( یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے ) حق ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ . قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
#2444
Hasan
Bahz bin Hakim said:"My father told, me that my grandfather said: 'I heard the Prophet say: With regard to grazing camels, for every forty a Bint Labbun (a two-year old female camel). No differentiation is to be made between camels when calculating them. Whoever gives it seeking reward, he will be rewarded for it. Whoever refuses, we will take it, and half of his camels, as one of the rights of our Lord. And it is not permissible for the family of Muhammad to have any of them
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”چرائے جانے والے ہر چالیس اونٹ میں ایک بنت لبون ۱؎ ہے، اونٹوں کو ( زکاۃ سے بچنے کے لیے ) ان کے حساب ( ریوڑ ) سے جدا نہ کیا جائے۔ جو شخص ثواب کی نیت سے زکاۃ دے گا تو اسے اس کا ثواب ملے گا، اور جو شخص زکاۃ دینے سے انکار کرے گا تو ہم زکاۃ بھی لیں گے اور بطور سزا اس کے آدھے اونٹ بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے۔ اس میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لیے کوئی چیز جائز نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ لاَ يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ أَبَى فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا لاَ يَحِلُّ لآلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا شَىْءٌ " .
#2445
Sahih
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah said:"No Sadaqah is due on less than five Awsuq,[1] and no Sadaqah is due on less than five Dhawd (head of camel), and no Sadaqah is due on less than five Awaq
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، وَمَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ " .
#2446
Sahih
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah said:"No Sadaqah is due on less than five Dhawd (head of camel), and no Sadaqah is due on less than five Awaq, and no Sadaqah is due on less than five Awsuq
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ " .
#2447
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that Abu Bakar wrote to them:"This is the obligation of Sadaqah which the Messenger of Allah enjoined upon the Muslims, as Allah , the Mighty and Sublime, commanded the Messenger of Allah .Whoever is asked for it in the manner explained (in the letter of Abu Bakar), let him give it, and whoever is asked for more than that, let him not give it. When there are less than twenty-five camels, for every five camels, one sheep (is to be given). If the number reaches twenty five, then a Bint Makhad (a one-year old she-camel) is due, up to thirty-five. If a Bint Makhad is not available, then a Bin Labun (a two-year old male camel). If the number reaches thirty-six, then a Bint Labun (a two-yer-old she-camel) is due, up to forty-five. If the number reaches forty-six, then a Hiqqqah (a three-year-old she-camel) that has been bred from a stallion camel is due, up to sixty. If the number reaches sixty-one, then a Jadhah (a four-year-old she-camel) is due, up to seventy-six, then two Bint Labuns (two-year-old she-camels0 are due, up to ninety. If the number reaches ninety-one, then two Hiqqahs (three-year-old she-camels) that have been bred from stallion camels are due, up to one hundred and twenty. If there are more than one hundred and twenty, then for every forty a Bint Labun, and for every fifty a Hiqqah. In the event that a person does not have a camel of the age specified according to the Hiaqah regulations, then if a person owes a Jadhah as Sadaqah but he does not have a Jadhah, then a Hiqqah should be accepted from him, and he should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams, If he owes a Hiqqah as Sadaqah and he does not have Hiqqah but he has a Jadhah, then if should be accepted from him, and the Zakah collector should give him twenty Dirhams, or two sheep if they are available. If a person owes a Hiqqah as Sadaqah and he does not have one, but he has a Bint Labun, it should be accepted from him, and he should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Bint Labun as Sadaqah but he only has a Hiqaah, then it should be accepted from him and the Zakah collector should give him twenty Dirhams, or two sheep. If a person owes a Bint Labun as Sadaqah but he only has a Bint Makhad, then it should be accepted from him, and he should be accepted from him, and he should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Bint Makhad as Sadaqah but he only has a Bint Labun, a male; it should be accepted from him, and he does not have to give anything else along with it. If a person has only four camels he does not have to give anything unless their owner wants to. With regard to the Sadaqah on grazing sheep, if there are forty, then one sheep is due upon them, up to one hundred and twenty. If there is one more, then two sheep are due, up to two hundred. If there is one more, then three sheep are due, up to three hundred. If there are more than that, then for every hundred, one sheep is due. No feeble, defective or male sheep should be taken as Sadaqah unless the Zakah collector wishes. Do not combine separate flocks or separate combined flocks for fear of Sadaqah. Each partner (who has a share in a combined flock) should pay the Sadaqah in proportion to his shares. If a man's flock is one less than forty sheep, then nothing is due from them, unless their owner wishes. With regard to silver, one-quarter of one-tenth, and if there are only one hundred and ninety Dirhams, no Zakah is due unless the owner wishes
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ( عاملین صدقہ کو ) یہ لکھا کہ یہ صدقہ کے وہ فرائض ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض ٹھہرائے ہیں، جن کا اللہ عزوجل نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے، تو جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے تو وہ دے، اور جس سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو وہ نہ دے: پچیس اونٹوں سے کم میں ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے، اور جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو اس میں پینتیس اونٹوں تک ایک برس کی اونٹنی ہے، اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ( نر ) ہے، اور جب چھتیس اونٹ ہو جائیں تو چھتیس سے پینتالیس تک دو برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھیالیس اونٹ ہو جائیں تو چھیالیس سے ساٹھ اونٹ تک میں تین برس کی اونٹنی ( یعنی جو ان اونٹنی جو نر کودانے کے لائق ہو گئی ہو ) ہے، اور جب اکسٹھ اونٹ ہو جائیں تو اکسٹھ سے پچہتر اونٹوں تک میں چار برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھہتر اونٹ ہو جائیں تو چھہتر سے نوے اونٹوں تک میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں ہیں، اور جب اکیانوے ہو جائیں تو ایک سو بیس اونٹوں تک میں تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو نر کے کودانے کے قابل ہو گئی ہوں۔ اور جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو گئی ہوں تو ہر چالیس اونٹ میں دو برس کی ایک اونٹنی۔ اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی ایک اونٹنی ہے، اگر اونٹوں کی عمروں میں اختلاف ہو ( یعنی زکاۃ کے لائق اونٹ نہ ہو، اس سے بڑا یا چھوٹا ہو ) مثلاً جس شخص پر چار برس کی اونٹنی لازم ہو اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو، تین برس کی اونٹنی ہو۔ تو تین برس کی اونٹنی ہی اس سے قبول کر لی جائے گی اور وہ ساتھ میں دو بکریاں بھی دے۔ اگر اسے بکریاں دینے میں آسانی و سہولت ہو، اور اگر دو بکریاں نہ دے سکتا ہو تو بیس درہم دے۔ اور جس شخص کو تین برس کی اونٹنی دینی پڑ رہی ہو، اور اس کے پاس تین برس کی اونٹنی نہ ہو، چار برس کی اونٹنی ہو تو چار برس کی اونٹنی ہی قبول کر لی جائے گی۔ اور عامل صدقہ ( یعنی زکاۃ وصول کرنے والا ) اسے بیس درہم واپس کرے گا۔ یا اسے بکریاں دینے میں آسانی ہو تو دو بکریاں دے۔ اور جس کو تین برس کی اونٹنی دینی ہو اور تین برس کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو اس کے پاس دو برس کی اونٹنی ہو تو وہ اس سے قبول کر لی جائے، اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں اور دے، اگر یہ اس کے لیے آسان ہو، یا بیس درہم دے، اور جس کو دو برس کی اونٹنی دینی ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو تین برس کی اونٹنی ہو تو وہ اس سے قبول کر لی جائے، اور عامل صدقہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے، اور جسے دو سال کی اونٹنی زکاۃ میں دینی ہو، اور دو سال کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو ایک سال کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے، اور اس کے ساتھ وہ دو بکریاں دے اگر یہ اس کے لیے آسان ہو، یا بیس درہم دے، اور جس کے اوپر ایک برس کی اونٹنی دینی لازم ہو، اور اس کے پاس ایک برس کی اونٹنی نہ ہو۔ دو برس کا ( نر ) اونٹ ہو، تو دو برس کا اونٹ قبول کر لیا جائے۔ ( اس کے ساتھ کچھ مزید لینا دینا نہیں ہو گا ) اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور جنگل میں چرائی جانے والی بکریاں جب چالیس ہوں تو ان میں ایک سو بیس بکریوں تک میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور ایک سو بیس سے جو ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو بکریوں تک میں دو بکریاں ہیں۔ اور دو سو سے ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو سے تین سو تک میں تین بکریاں ہیں اور جب تین سو سے بھی بڑھ جائیں تو پھر ہر ایک سو میں ایک بکری زکاۃ ہے۔ زکاۃ میں کوئی بوڑھا، کانا اور عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا، اور نہ بکریوں کا نر جانور لیا جائے گا مگر یہ کہ صدقہ وصول کرنے والا کوئی ضرورت و مصلحت سے مجھے تو لے سکتا ہے، زکاۃ کے ڈر سے دو جدا مالوں کو یکجا نہیں کیا جا سکتا ۱؎ اور نہ یکجا مال کو جدا جدا ۲؎ اور جب آدمی کی چرائی جانے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ ہاں ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تودے سکتا ہے، اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے، اور اگر ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکاۃ نہیں۔ ہاں مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ أَبُو كَامِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَخَذْتُ هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُمْ إِنَّ هَذِهِ فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِ وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلاَ يُعْطِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاَثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلاَّ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ مَخَاضٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلاَّ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَىْءٌ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلاَّ أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلاَ يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ وَلاَ تَيْسُ الْغَنَمِ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةٌ وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعُشْرِ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلاَّ تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا " .
#2448
Sahih
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: '(On the Day of Resurrection) camels will come to their owner in the best state of health that they ever had (in this world) and if he did not pay what was due on them, they will trample him with their hooves. Sheep willcome to their owner in the best state of health that they ever had (in this world) and if he did not pay what was due on them, they will trample him with their cloven hooves and gore him with their horns. And among their rights are that they should be milked with water in the front of them. I do not want any one of you to come on the Day of Resurrection with a groaning camel on his neck, saying , O Muhammad, and I will say: I cannot do anything for you, I conveyed the message. I do not want any one of you to come on the Day of Resurrection with a bleating sheep on his neck, saying, "O Muhammad," and I will say: "I cannot do anything for you, I conveyed the message." And on the Day of Resurrection the hoarded treasure of one of you will be a blad-headed Shujaa[1]from which its owner will flee, but it will chase him (saying), I am your hoarded treasure, and it will keep (chasing him) until he gives it his finger to swallow
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا اس سے بہتر حالت میں آئیں گے جس میں وہ ( دنیا میں ) تھے، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، اور بکریاں اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا، اس سے بہتر حالت میں آئیں گی جس حالت میں وہ ( دنیا میں ) تھیں۔ وہ اسے اپنی کھروں سے روندیں گی، اور اپنی سینگوں سے ماریں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا حق یہ بھی ہے کہ انہیں اسی جگہ دوہا جائے جہاں انہیں پانی پلانے کا نظم ہو ۱؎، سن لو، قیامت کے دن تم میں کا کوئی اپنے اونٹ کو اپنی گردن پر لادے ہوئے نہ لائے وہ بلبلا رہا ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! ( بچائیے مجھ کو اس عذاب سے ) کہ میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے بتا چکا تھا، سن لو! قیامت کے دن کوئی اپنی گردن پر بکری کو لادے ہوئے نہ آئے کہ وہ ممیا رہی ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! ( مجھے اس عذاب سے بچائیے ) کہ اس وقت میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے پہلے ہی بتا چکا ہوں“۔ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا خزانہ ۲؎ قیامت کے دن گنجا سانپ بن کر سامنے آئے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا برابر پیچھا کرتا رہے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں یہاں تک کہ وہ اس کی انگلی کو اپنے منہ میں داخل کر لے گا“۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ بِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَأْتِي الإِبِلُ عَلَى رَبِّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ إِذَا هِيَ لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَأْتِي الْغَنَمُ عَلَى رَبِّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ إِذَا لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَظْلاَفِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا - قَالَ - وَمِنْ حَقِّهَا أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ أَلاَ لاَ يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ لَهُ رُغَاءٌ فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ . أَلاَ لاَ يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِشَاةٍ يَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ لَهَا يُعَارٌ فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ - قَالَ - وَيَكُونُ كَنْزُ أَحَدِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ وَيَطْلُبُهُ أَنَا كَنْزُكَ فَلاَ يَزَالُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أُصْبُعَهُ " .
#2449
Hasan
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said:"I heard the Messenger of Allah say: 'With regard to grazing camels, for every forty a Bint Labun. No differentiation is to be made between camels when calculating them. Whoever gives it seeking reward will be rewarded for it. Whoever refuses, we will take it and half of his camels, as one of the rights of our Lord. And it is not permissible for the family of Muhammad to have any of them
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ہر چرنے والے چالیس اونٹوں میں دو برس کی اونٹنی ہے۔ اونٹ اپنے حساب ( ریوڑ ) سے جدا نہ کئے جائیں، جو ثواب کی امید رکھ کر انہیں دے گا تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور جو دینے سے انکار کرے گا تو ہم اس سے اسے لے کر رہیں گے، مزید اس کے آدھے اونٹ اور لے لیں گے، یہ ہمارے رب کے تاکیدی حکموں میں سے ایک حکم ہے، محمد کے آل کے لیے اس میں سے کوئی چیز حلال نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ لاَ تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا لَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا لاَ يَحِلُّ لآلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا شَىْءٌ " .
#2450
Sahih
It was narrated from Muadh:That the Messenger of Allah sent him to Yemen, and he commanded him to take a Dinar, or its equivalent in Maafr,[1] from each person who had reached the age of puberty. And with regard to cattle, from every thirty a male or female Tabi '(two-year-old). And from every forty a Musinnah (three-year-old). (Daif)
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا اور حکم دیا کہ ہر بالغ شخص سے ایک دینار ( جزیہ ) لیں یا اتنی قیمت کی یمنی چادریں، اور ہر تیس گائے بیل میں ایک برس کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے اور بیل میں دو برس کی ایک گائے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ وَمِنَ الْبَقَرِ مِنْ ثَلاَثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً " .