#1951
Sahih Isnaad
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: 'Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَوْلاَدِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " خَلَقَهُمُ اللَّهُ حِينَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ يَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
#1952
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about he children of the idolators and he said: 'Allah knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے“۔
أَخْبَرَنِي مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
#1953
Sahih
It was narrated from Shaddad bin Al-Had that:a man from among the Bedouins came to the Prophet and believed in him and followed him, then he said: "I will emigrate with you." The Prophet told one of his Companions to look after him. During one battle the Prophet got some prisoners as spoils of war, and he distributed them, giving him (that Bedouin) a share. His Companions gave him what had been allocated to him. He had been looking after some livestock for them, and when he came they gave him his share. He said: "What is this?" They said: "A share that the Prophet has allocated to you." He took it and brought it to the Prophet and said: "What is this?" He said: "I allocated it to your." He said: "It is not for this that I follwed you. Rather I followed you so that I might be shot her - and he pointed to his throat - with an arrow and die and enter Paradise." He said: "If you are sincere toward Allah, Allah will fulfill your wish." Shortly after that they got up to fight the enemy, then he was brought to the Prophet; he had pointed to. The Prophet said: "Is it him?" They said: "yes." He said: "He was sincere toward Allah and Allah fulfilled his wish." Then the Prophet shrouded him in his own cloak and out him in front of him and offered the (funeral) prayer for him. During his supplication he said: "O allah, this is Your sloave who went out as a emigrant (Muhajir) for your sake and was killed as a martyr; I am a witness to that.: (Sahih)
شداد بن ہاد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک بادیہ نشین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ پر ایمان لے آیا، اور آپ کے ساتھ ہو گیا، پھر اس نے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ ہجرت کروں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب کو اس کا خیال رکھنے کی وصیت کی، جب ایک غزوہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں ملیں، تو آپ نے انہیں تقسیم کیا، اور اس کا ( بھی ) حصہ لگایا، چنانچہ اس کا حصہ اپنے ان اصحاب کو دے دیا جن کے سپرد اسے کیا گیا تھا، وہ ان کی سواریاں چراتا تھا، جب وہ آیا تو انہوں نے ( اس کا حصہ ) اس کے حوالے کیا، اس نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے لگایا تھا، تو اس نے اسے لے لیا، ( اور ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، اور عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہارا حصہ دیا ہے“، تو اس نے کہا: میں نے اس ( حقیر بدلے ) کے لیے آپ کی پیروی نہیں کی ہے، بلکہ میں نے اس بات پر آپ کی پیروی کی ہے کہ میں تیر سے یہاں مارا جاؤں، ( اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا ) پھر میں مروں اور جنت میں داخل ہو جاؤں، تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا وعدہ سچ کر دکھائے گا“، پھر وہ لوگ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے، پھر دشمنوں سے لڑنے کے لیے اٹھے، تو انہیں ( کچھ دیر کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا، اور انہیں ایسی جگہ تیر لگا تھا جہاں انہوں نے اشارہ کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ وہی شخص ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”اس نے اللہ تعالیٰ سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تو ( اللہ تعالیٰ ) نے ( بھی ) اپنا وعدہ اسے سچ کر دکھایا“ ۱؎ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جبّے ( قمیص ) میں اسے کفنایا، پھر اسے اپنے سامنے رکھا، اور اس کی جنازے کی نماز پڑھی ۲؎ آپ کی نماز میں سے جو چیز لوگوں کو سنائی دی وہ یہ دعا تھی: «اللہم هذا عبدك خرج مهاجرا في سبيلك فقتل شهيدا أنا شهيد على ذلك» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے، یہ تیری راہ میں ہجرت کر کے نکلا، اور شہید ہو گیا، میں اس بات پر گواہ ہوں“۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ ابْنَ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَعْرَابِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ ثُمَّ قَالَ أُهَاجِرُ مَعَكَ . فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةٌ غَنِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَبْيًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ فَأَعْطَى أَصْحَابَهُ مَا قَسَمَ لَهُ وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهُمْ فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوهُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا قِسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ " قَسَمْتُهُ لَكَ " . قَالَ مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعْتُكَ وَلَكِنِّي اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَنْ أُرْمَى إِلَى هَا هُنَا - وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ بِسَهْمٍ - فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ . فَقَالَ " إِنْ تَصْدُقِ اللَّهَ يَصْدُقْكَ " . فَلَبِثُوا قَلِيلاً ثُمَّ نَهَضُوا فِي قِتَالِ الْعَدُوِّ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحْمَلُ قَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ حَيْثُ أَشَارَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَهُوَ هُوَ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " صَدَقَ اللَّهَ فَصَدَقَهُ " . ثُمَّ كَفَّنَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي جُبَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَدَّمَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَكَانَ فِيمَا ظَهَرَ مِنْ صَلاَتِهِ " اللَّهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ فَقُتِلَ شَهِيدًا أَنَا شَهِيدٌ عَلَى ذَلِكَ " .
#1954
Sahih
It was narrated from 'Upbah that:the Messenger of Allah went out one day and offered the funeral prayer for the people f Uhd, then he went to the Minbar and said: "I am your predecessor and I am a witness over your
عقبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے باہر ) نکلے، اور غزوہ احد کے شہیدوں پر نماز ( جنازہ ) پڑھی ۱؎ جیسے میت کی نماز جنازہ پڑھتے تھے، پھر منبر کی طرف پلٹے اور فرمایا: ”میں ( قیامت میں ) تمہارا پیش رو ہوں، اور تم پر گواہ ( بھی ) ہوں“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلاَتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ " .
#1955
Sahih
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Ka 'b bin Malik that Jabir bin 'Abdullah told him that:the Messenger of Allah put two men from those who had been slain in Uhud in one shrud, then he would ask which of them had learned more Qur'an and when one of them was pointed out, he would put him in the Lahd (grave) first. He said: "I am a witness to these." And he ordered that they be buried with their blood, and that the funeral prayer should not be offered, and they should not be washed
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے مقتولین میں سے میں سے دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے، پھر پوچھتے: ”ان دونوں میں کس کو قرآن زیادہ یاد تھا؟“ جب لوگ ان دونوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے تو آپ اسے قبر میں پہلے رکھتے، اور فرماتے: ”میں ان پر گواہ ہوں“، آپ نے انہیں ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا، اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی ۱؎ اور نہ انہیں غسل دیا گیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ " أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ " . فَإِذَا أُشِيرَ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ . قَالَ " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ " . وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا .
#1956
Sahih
It was narrated from Jabir bin Abdullah that:a man from Aslam came to the Prophet and confessed to committing Zina, and he turned away from him. He admitted it again, and he turned away from him. He admitted it again, and he turned away from him. Then when he had testified against himself four times, the Prophet said: "Are your crazy?" He said: "No." He said: "Have you been marred?" he said: "Yes." So the Prophet ordered that he be stoned. When the stones struck him, he ran away, but they caught up with him and stoned him and he died. Then the Prophet spoke well of him but he did not pray for him. (Shih)
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا، تو آپ نے اس کی طرف سے ( اپنا منہ ) پھیر لیا، اس نے دوبارہ اعتراف کیا تو آپ نے ( پھر ) اپنا منہ پھیر لیا، اس نے پھر تیسری دفعہ اعتراف کیا، تو آپ نے ( پھر ) اپنا منہ پھیر لیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہیاں دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے جنون ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کو رجم کر دیا گیا، جب اسے پتھر لگا تو بھاگ کھڑا ہوا، پھر وہ پکڑا گیا تو پتھروں سے مارا گیا، تو اور مر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں اچھی بات کہی، اور اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَنُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَبِكَ جُنُونٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَحْصَنْتَ " . قَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ فَمَاتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ .
#1957
Sahih
It was narrated from "Imran bin Husain that:a woman from Juhainah came to the Messenger of Allah sand said: "I have committed Zina." And she was committed Zina." And She was pregnant. He handed her over to her guardian and said: "Look after her, and when she gave birth, he brought her to him. He ordered that her garment be wrapped around her, then he offered the funeral prayer for her. 'Umar said to him: "Are you praying for her even though she committed Zina?" he said: "She has repented in a manner that, if it were to be shared among seventy of the people of Al-Madinah it would suffice them. Have you ever seen repentance better than the one who sacrificed herself for the sake of Allah, the Mighty and Sublime?
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور کہنے لگی: میں نے زنا کیا ہے، وہ حاملہ تھی، تو آپ نے اسے اس کے ولی کے سپرد کر دیا اور کہا: ”اسے اچھی طرح رکھو، اور جب بچہ جن دے تو میرے پاس لے کر آنا“، چنانچہ جب اس نے بچہ جن دیا تو ولی اسے لے کر آیا، تو آپ نے اسے حکم دیا، اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ نے اسے رجم کیا، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ زنا کر چکی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے، اور اس سے بہتر توبہ اور کیا ہو گی کہ اس نے اللہ تعالیٰ ( کی شریعت کے پاس و لحاظ میں ) اپنی جان ( تک ) قربان کر دی“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي زَنَيْتُ وَهِيَ حُبْلَى فَدَفَعَهَا إِلَى وَلِيِّهَا فَقَالَ " أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَائْتِنِي بِهَا " . فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ فَقَالَ " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
#1958
Sahih
It was narrated from 'Imran bin Husain that:a man freed six slaves of his when he was dying, and he did not have any wealth apart from them. News of that reached the Prophet and he was angry about that. He said: "I was thinking of not offering the funeral prapyer for him." Then he called the slaves and divided them into three groups. He cast lost among them, then freed two and left four as slaves
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے، اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال ( مال و اسباب ) نہ تھا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ اس سے ناراض ہوئے، اور فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھوں“، پھر آپ نے اس کے غلاموں کو بلایا، اور ان کے تین حصے کیے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور دو کو آزاد کر دیا، اور چار کو رہنے دیا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، - وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ - عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ سِتَّةً مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أُصَلِّيَ عَلَيْهِ " . ثُمَّ دَعَا مَمْلُوكِيهِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلاَثَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً .
#1959
Daif
It was narrated that Zaid bin Khalid said:"A man died at Khaibar and the Messenger of Allah said: 'Pray for your companion; he stole from the spoils war.' We inspected his luggage and fund some of the beads of the Jews that were not even worth two Dirhams
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص خیبر میں مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو، اس نے اللہ کی راہ میں چوری کی ہے“، تو ( جب ) ہم نے اس کے اسباب کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہود کے نگینوں میں سے کچھ نگینے ملے، جو دو درہم کے برابر بھی نہیں تھے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ مَاتَ رَجُلٌ بِخَيْبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ إِنَّهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
#1960
Sahih
Abdullah bin Abi Qatadah narrated from his father that:a man was brought to the Prophet for him to offer the funeral prayer, and he said: "Pray for your companion, for he owes a debt." Abu Qatadah said: " I will pay it." The Prophet said: "In full?" He said: "In full." So he prayed for him
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھتا ) کیونکہ اس پر قرض ہے“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے ذمہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اس کی ادائیگی کرو گے؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں میں اس کی ادائیگی کروں گا، تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا " . قَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُوَ عَلَىَّ . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِالْوَفَاءِ " . قَالَ بِالْوَفَاءِ . فَصَلَّى عَلَيْهِ .
#1961
Sahih
Salamah - meaning, bin Al-Akwa' - said:"A Janazah was brought to the Prophet and they said: " O Prophet of Allah, pray for him.' He said: "Did he leave any debt behind?' They said: "Yes.' He said 'Did he leave anything?' They said: No. He said; 'Pray fro your companion.' A man among the Ansar who was called Abu Qatadah said: 'Pray for him and I will pay off his debt.' So he prayed for him
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے نبی! اس کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے، آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے اپنے اوپر کچھ قرض چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو“، تو ابوقتادہ نامی ایک انصاری نے عرض کیا: آپ اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے، اس کا قرض میرے ذمہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ الأَكْوَعِ - قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلِّ عَلَيْهَا . قَالَ " هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " هَلْ تَرَكَ مِنْ شَىْءٍ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَىَّ دَيْنُهُ . فَصَلَّى عَلَيْهِ .
#1962
Sahih
It was narrated that Jabir said:"The Prophet would not pray for a man who owed a debt. A deceased person was brought to him and he said: 'Does he owe any debt?' They said: 'Yes, he owes two Dinars.' He said: 'Pray for your companion.' Abu Qatadah said: 'I will pay them, O Messenger of Alllah, So he prayed for him. Then, when Allah made His Messenger rich though conquest, he said: ' I am closer to each believer than his own self. Whoever leaves behind a debt, I will pay it, and whoever leaves behind wealth, it is for his heirs
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، چنانچہ ایک جنازہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، اس پر دو دینار ( کا قرض ) ہے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں دینار میرے ذمہ ہیں، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتح و نصرت عطا کی، تو آپ نے فرمایا: ”میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں، جو قرض چھوڑ کر مرے ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُومِسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَسَأَلَ " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ " . قَالُوا نَعَمْ عَلَيْهِ دِينَارَانِ . قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . قَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُمَا عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَىَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ " .
#1963
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:if a believer died with debts outstanding, the Messenger of Allah would ask whether he had left behind anything to pay off his debts. If they said yes, he would pray for him, but if they said no, he would say: "Pray for your companion." Then, when Allah made His Messenger rich through conquest, he said: "I am closer to the believers than their own selves. Whoever dies and leaves behind a debt, I will pay it, and whoever leavers behind wealth, it is for his heirs
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ کہتے: ”تم اپنے ساتھی پر نماز ( جنازہ ) پڑھ لو“۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا، تو آپ نے فرمایا: ”میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ سَأَلَ " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ " . فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ صَلَّى عَلَيْهِ وَإِنْ قَالُوا لاَ قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَىَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " .
#1964
Sahih
It was narrated from Jabir bin Samurah that:a man killed himself with an arrowhead and the Messenger of Allah said: "As for me, I will not pray for him
ابن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے تیر کی انی سے خودکشی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا میں تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا أَنَا فَلاَ أُصَلِّي عَلَيْهِ " .
#1965
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"Whoever throws himself, he will be in the Fire of Hell, throwing himself down forever and ever. And whoever kills himself with a piece of iron"- then I missed something ( one of the narrators) Khalid said-"will have his piece of iron in his hand, stabbing himself in the stomach in the Fire of Hell, forever and ever
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے، تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش اپنے آپ کو اوپر سے نیچے گراتا رہے گا، اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالے تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں رہے گا اسے وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں پیتا رہے گا، اور جو شخص کسی دھار دار چیز سے اپنے آپ کو مار ڈالے ( راوی کہتے ہیں: پھر کوئی چیز میرے سننے سے رہ گئی ۱؎، خالد کہہ رہے تھے: ) تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا اسے وہ جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں برابر گھونپتا رہے گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ - ثُمَّ انْقَطَعَ عَلَىَّ شَىْءٌ خَالِدٌ يَقُولُ - كَانَتْ حَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا " .
#1966
Sahih
It was narrated that 'Umar bin Al-Khattab said:"When 'Abdullah bin Ubayy bin Soul died, the Messenger of Allah was called upon to offer the funeral prayer for him. When the Messenger of Allah stood up (to offer the prayer), I got up quickly and said: 'O Messenger of Allah Are you going to pray for Ibn Ubayy when he said such-and-such an occasion?' And I stated to list all the things that he had said. The Messenger of Allah smiled and said: 'Leave me alone, O 'Umar.' When I spoke too much he said: 'I have been given the choice and I have chosen (to offer the prayer for him). If I knew that he could be forgiven by asking Allah's forgiveness more than seventy times, I would have done so.' The Messenger of Allah offered the funeral prayer for him, and then left. A short while later, the two Verses form surah Bara were revealed: 'And never pray (funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave. Certainly they disbelieved in Allah and His Messenger, and died while they were rebellious.' Later I was astonished by my audacity toward the Messenger of Allah on that day. And Allah and His Messenger know best
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافقوں کا سردار ) مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلائے گئے، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑے ہوئے تو میں تیزی سے آپ کی طرف بڑھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ابن ابی پر نماز جنازہ پڑھیں گے؟ حالانکہ فلاں دن وہ ایسا ایسا کہہ رہا تھا، میں اس کی تمام باتیں آپ پر گنانے لگا، تو آپ مسکرائے، اور فرمایا: ”اے عمر! ان باتوں کو جانے دو“۔ جب میں نے کافی اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اختیار ہے ( نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں ) تو میں نے پڑھنا پسند کیا، اگر میں یہ جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت چاہنے پر اس کی مغفرت ہو جائے گی تو میں اس سے زیادہ مغفرت کرتا“ ۱؎ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر لوٹے اور ابھی ذرا سا دم ہی لیا تھا کہ سورۃ برأت کی دونوں آیتیں نازل ہوئیں: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره إنهم كفروا باللہ ورسوله وماتوا وهم فاسقون» ”جب یہ مر جائیں تو تم ان میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پہ کھڑے ہو، اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے، اور گنہگار ہو کر مرے ہیں“، بعد میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنی اس دن کی اس جرات پر حیرت ہوئی، اور اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں کہ یہ جرات میں نے کیوں کی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىِّ ابْنِ سَلُولَ دُعِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَثَبْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَىٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا أُعَدِّدُ عَلَيْهِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ " . فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ " إِنِّي قَدْ خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ فَلَوْ عَلِمْتُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا " . فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ يَمْكُثْ إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الآيَتَانِ مِنْ بَرَاءَةَ { وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ } فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ .
#1967
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah did not ofer gthe funeral prayer for shail bin Baida anywhere but in the Masjid
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلاَّ فِي الْمَسْجِدِ .
#1968
Sahih
It was narrated from 'Abdul-Wahid bin Hamzah that 'Abbad bin 'Abdullah bin Az-Zubair told him that 'Aishah said:"the Messenger of Allah did not offer the funeral prayer for Suhail bin Baida anywhere but inside the Masjid
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء ۱؎ کی نماز جنازہ مسجد کے صحن ہی میں پڑھی تھی۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلاَّ فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ .
#1969
Sahih
Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said:"A poor woman in Al-Awali fell sick and the Prophet used to ask them about her. He said: 'If she dies, do not bury her until I have offered the funeral prayer for her. She died and they brought her to Al-Madinah after dark, and they found that the Messenger of Allah had gone to sleep. They did not like to wake him up, so they offered the funeral prayer for her and buried her in Baqi' Al-Gharqab. The next morning they came and the Messenger of Allah asked them about her. They said: 'She has been buried, O Messenger of Allah. We came to you and found you sleeping, and we did not like to wake you up.' He said: 'let's go.' He set out walking and they went with him and showed him her grave. The Messenger of Allah stood and they formed rows behind him, and he offered the funeral prayer for her, saying the Takbir four times
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ۱؎ بیمار پڑ گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے، اور کہہ رکھا تھا کہ ”اگر یہ مر جائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں“، چنانچہ وہ مر گئی، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، چنانچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو دفنائی جا چکی، ( رات ) ہم آپ کے پاس آئے ( بھی ) تھے، ( لیکن ) ہم نے آپ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا نامناسب سمجھا، آپ نے فرمایا: ”چلو!“ ( اور ) خود بھی چل پڑے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھا، آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ اشْتَكَتِ امْرَأَةٌ بِالْعَوَالِي مِسْكِينَةٌ فَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُمْ عَنْهَا وَقَالَ " إِنْ مَاتَتْ فَلاَ تَدْفِنُوهَا حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهَا " . فَتُوُفِّيَتْ فَجَاءُوا بِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَامَ فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ فَصَلُّوا عَلَيْهَا وَدَفَنُوهَا بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءُوا فَسَأَلَهُمْ عَنْهَا فَقَالُوا قَدْ دُفِنَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ جِئْنَاكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ . قَالَ " فَانْطَلِقُوا " . فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَشَوْا مَعَهُ حَتَّى أَرَوْهُ قَبْرَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفُّوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا .
#1970
Sahih
It was narrated from Jair that:the Messenger of Allah said: "Your brother An-Najashi has died, so get up and offer the funeral prayer for him." He stood up and put us in rows as is done for the funeral prayer, and we prayed for him
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی کی موت ہو گئی ہے، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“، ( پھر ) آپ نے ہماری صف بندی کی جیسے جنازہ پر صف بندی کی جاتی ہے، اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . فَقَامَ فَصَفَّ بِنَا كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْجَنَازَةِ وَصَلَّى عَلَيْهِ .
#1971
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah:That the Prophet announced the death of An-Najashi to the people on the day that he died, then he took them out to the prayer place and put them in rows and offered the funeral prayer for him, saying the Takbir four times
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، پھر آپ لوگوں کو لے کر صلاۃ گاہ کی طرف نکلے، اور ان کی صف بندی کی، ( پھر ) آپ نے ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
#1972
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah announced the death of An-Najashi to his Companions in Al-Madinah, so they formed rows behind him and he offered the funeral prayer for him, saying the Takbir four times
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنے صحابہ کو نجاشی کی موت کی خبر دی، تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ نے ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابن مسیب کا نام جیسا میں سننا چاہتا تھا نہیں سن سکا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَعَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّجَاشِيَّ لأَصْحَابِهِ بِالْمَدِينَةِ فَصَفُّوا خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنِّي لَمْ أَفْهَمْهُ كَمَا أَرَدْتَ .
#1973
Sahih
It was narrated from Jabir that:the Messenger of Allah said: "Your brother has died, so get up and offer the funeral prayer for him." So we formed two rows for him
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی ( نجاشی ) مر گئے ہیں تو تم لوگ اٹھو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“ تو ہم نے ان پر دو صفیں باندھیں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ صَفَّيْنِ .
#1974
Sahih Isnaad
It was narrated that Jabir said:"I was in the second row on the day the Messenger of Allah offered the funeral prayer for An-Najashi
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز ( جنازہ ) پڑھی تھی میں دوسری صف میں تھا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يَقُولُ السَّاعَةَ يَخْرُجُ السَّاعَةَ يَخْرُجُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي يَوْمَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّجَاشِيِّ .
#1975
Sahih
It was narrated that 'Imran bin Husain said:"The Messenger of Allah said to us: 'Your brother An-Najashi has died, so get up and offer the funeral prayer for him.' So we got up and formed row to pray for him, as rows are formed to pray for the dead, and he led us in praying for him as people pray for the dead
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی انتقال کر گئے ہیں تو تم اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“، تو ہم کھڑے ہوئے ( اور ) ہم نے ان پر اسی طرح صف بندی کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے، اور ہم نے ان کی نماز ( جنازہ ) اسی طرح پڑھی جس طرح میت کی پڑھی جاتی ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . قَالَ فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْمَيِّتِ وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ .