#1501
Daif
It was narrated from Samurah that:The Prophet (ﷺ) delivered a Khutbah when the sun eclipsed and he said: 'Amma ba'd (to proceed)
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا خطبہ دیا تو آپ نے ( حمد و ثنا کے بعد ) «أما بعد» کہا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ " أَمَّا بَعْدُ " .
#1502
Sahih
It was narrated that Abu Bakrah said:"We were with the Prophet (ﷺ) and the sun became eclipsed. He got up and went to the masjid, dragging his garment in haste. The people stood with him and he prayed two rak'ahs as they usually prayed. When the eclipse ended he addressed us and said 'The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT), with which He strikes fear into His slaves. They do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see either of them being eclipsed, then pray and supplicate until it removed it from you
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگ گیا، تو آپ جلدی سے اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف بڑھے، تو لوگ بھی آپ کے ساتھ ہو لیے، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح جیسے لوگ پڑھتے ہیں، پھر جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اور ان دونوں کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا، تو جب تم ان دونوں میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھو، اور دعا کرو یہاں تک کہ جو تمہیں لاحق ہوا ہے چھٹ جائے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَجُرُّ رِدَاءَهُ مِنَ الْعَجَلَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلُّونَ فَلَمَّا انْجَلَتْ خَطَبَنَا فَقَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ وَإِنَّهُمَا لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفَ أَحَدِهِمَا فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يَنْكَشِفَ مَا بِكُمْ " .
#1503
Sahih
It was narrated that Abu Musa said:"There was an eclipse of the sun, and the Messenger of Allah (ﷺ) got up in a rush, fearing that it might be the Hour. He went to the masjid, where he stood and prayed, standing, bowing and prostrating for the longest time that I ever saw him do in prayer. Then he said: 'These signs that Allah (SWT) sends do not occur for the death or birth of anyone, but Allah (SWT) sends them to strike fear into His slaves. If you see any of these things, then hasten to remember Him, call upon Him supplicate and ask for His forgiveness
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوئے، آپ ڈر رہے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آ گئی ہے، چنانچہ آپ اٹھے یہاں تک کہ مسجد آئے، پھر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو آپ نے اتنے لمبے لمبے قیام، رکوع اور سجدے کیے کہ اتنے لمبے میں نے آپ کو کسی نماز میں کرتے نہیں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، یہ نہ کسی کے مرنے سے ہوتے ہیں نہ کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے بندوں کو ڈرانے کے لیے بھیجتا ہے، تو جب تم ان میں سے کچھ دیکھو تو اللہ کو یاد کرنے اور اس سے دعا اور استغفار کرنے کے لیے دوڑ پڑو ۔
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ فَقَامَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلاَتِهِ قَطُّ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لاَ تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ " .
#1504
Hasan Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:"A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, the livestock have died and the routes have been cut off; pray to Allah (SWT), the Mighty and Sublime.' So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed to Allah (SWT) and it rained from that Friday until the next. Then a man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'The houses have been destroyed, the routes have been cut off and the livestock have died.' He said: 'O Allah, on the tops of the mountains and hills, in the bottom of the valleys and where the trees grow.' So (the rain) was lifted from Al-Madinah like a garment being removed
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے ہلاک ہو گئے، ( اور پانی نہ ہونے سے ) راستے ( سفر ) ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، تو جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، تو پھر ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر منہدم ہو گئے، راستے ( سیلاب کی وجہ سے ) کٹ گئے، اور جانور مر گئے، تو آپ نے دعا کی: «اللہم على رءوس الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر» اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں، ٹیلوں، نالوں اور درختوں پر برسا تو اسی وقت بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گئے جیسے کپڑا ( اپنے پہننے والے سے اتار دینے پر الگ ہو جاتا ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي . فَقَالَ " اللَّهُمَّ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ وَالآكَامِ وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ " . فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ .
#1505
Sahih
It was narrated from 'Abbad bin Tamim:"Sufyan said: 'I asked 'Abdullah bin Abi Bakr who said: I heard it from Abbad bin Tamim who narrated it from his father, that 'Abdullah bin Zaid, who was shown the call to prayer (in a dream) said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out to the prayer place to pray for rain. He faced the kiblah and turned his cloak around and prayed two rak'ahs
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے۔ تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اور اپنی چادر پلٹی، اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کی غلطی ہے ۱؎ عبداللہ بن زید جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ہیں، اور یہ جو استسقا کی حدیث روایت کر رہے ہیں عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہیں۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، - قَالَ سُفْيَانُ فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ يُحَدِّثُ أَبِي - أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الَّذِي، أُرِيَ النِّدَاءَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا غَلَطٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ وَهَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ .
#1506
Hasan
It was narrated from Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah that :His father said: "So and so sent me to ask him how the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for rain (Istisqa')." He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out beseeching and humble, (dressed) in a state of humility. He did not give a Khutbah like this Khutbah of yours, and he prayed two rak'ahs
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( استسقاء کی نماز کے لیے ) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَرْسَلَنِي فُلاَنٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الاِسْتِسْقَاءِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلاً فَلَمْ يَخْطُبْ نَحْوَ خُطْبَتِكُمْ هَذِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
#1507
Sahih
It was narrated from Abdullah bin Zaid that:The Messenger of Allah (ﷺ) prayed for rain wearing a black khamisah
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور آپ کے جسم مبارک پر ایک سیاہ چادر تھی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَسْقَى وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ .
#1508
Hasan
It was narrated from Hisham binIshaq bin Abdullah bin Kinanah that:His father said: "I asked Ibn 'Abbas how the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for rain. He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) went out (dressed) in a state of humility, beseeching and humble. He sat on the minbar but he did not deliver a Khutbah like this Khutbah of yours, rather he kept supplicating, beseeching and saying the takbir, and he prayed two rak'ahs as he used to do during the two 'Eids
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استسقاء کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے کپڑوں میں عاجزی اور گریہ وزاری کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، اور منبر پر بیٹھے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا اور عاجزی کرتے رہے، اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے آپ عیدین میں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الاِسْتِسْقَاءِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَبَذِّلاً مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ .
#1509
Sahih
It was narrated from Abbad bin Tamim that :His paternal uncle had told him that he went out with the Messenger of Allah (ﷺ) to pray for rain. He turned his rida' around, and turned his back to the people, then he prayed two rak'ahs and recited loudly
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استسقاء کی نماز کے لیے نکلے تو آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور دعا کی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قرآت کی تو بلند آواز سے قرآت کی۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عَمَّهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَحَوَّلَ لِلنَّاسِ ظَهْرَهُ وَدَعَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَرَأَ فَجَهَرَ .
#1510
Sahih
It was narrated from 'Abbad bin Tamim, from his paternal uncle that:The Prophet (ﷺ) prayed for rain, and prayed two rak'ahs, and turned his rida' around
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اپنی چادر پلٹی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَسْقَى وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ .
#1511
Sahih
It was narrated from Abdullah bin Abi Bakr that:He heard Abbad bin Tamim said: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out and prayed for rain, and he turned his rida' around when he turned to the Qiblah
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جائے نماز کی طرف ) نکلے، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ .
#1512
Sahih
It was narrated from 'Abbad bin Tamim, from his paternal uncle, that:He saw the Messenger of Allah (ﷺ), when he prayed for rain, turn to face the Qiblah, turning his cloak around and raising his hands
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استسقاء میں دیکھا کہ آپ قبلہ رخ ہوئے، آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور ( دعا مانگنے کے لیے ) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو تَقِيٍّ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الاِسْتِسْقَاءِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ الرِّدَاءَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ .
#1513
Sahih
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) did not raise his hands during any supplication except when praying for rain, when he used to raise his hands so high that the whiteness of his armpits could be seen
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَىْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلاَّ فِي الاِسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ .
#1514
Sahih
It was narrated from Abi Al-Lahm that:He saw the Messenger of Allah at Ahjar Az-Zait praying for rain and raising his hands, making supplications
آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ عَنْ آبِي اللَّحْمِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ يَسْتَسْقِي وَهُوَ مُقْنِعٌ بِكَفَّيْهِ يَدْعُو .
#1515
Hasan Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that he said:"While we were in the masjid on Friday and the Messenger of Allah (ﷺ) was addressing the people, a man stood up and said: 'O Messenger of Allah, the routes have been cut off, our wealth has been destroyed and prices have gone up. Pray to Allah (SWT) to give us rain.' So the Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands in level with his face and said: 'O Allah, give us rain.' By Allah (SWT), the Messenger of Allah (ﷺ) had not come down from the minbar before it started to pour with rain, and it rained from that day until the following Friday. Then a man stood up- I do not know if he was the same man who had asked the Messenger of Allah (ﷺ) to pray for rain for us or not- and said: 'O Messenger of Allah, the routes have been cut off, and our wealth has been destroyed because there is too much water. Pray to Allah (SWT ) to stop the rain for us.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'O Allah, around us and not on us, rather on the mountains and places where trees grow.' By Allah, hardly had the Messenger of Allah (ﷺ) spoken these words than the clouds split apart (and vanished) until we could not see anything of them
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جمعہ کے روز مسجد میں تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! راستے ( سفر ) ٹھپ ہو گئے، جانور ہلاک ہو گئے، اور علاقے خشک سالی کا شکار ہو گئے، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کے بالمقابل اٹھایا، پھر آپ نے دعا کی: «اللہم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب کر تو قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر سے اترے بھی نہ تھے کہ زور دار بارش ہونے لگی، اور اس دن سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ چنانچہ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا ( مجھے یاد نہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کے لیے دعا کرنے کے لیے کہا تھا یا کوئی دوسرا شخص تھا ) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پانی کی زیادتی کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ( اب ) ہم سے بارش روک لے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا ولكن على الجبال ومنابت الشجر» اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا، ہم پر نہ برسا، اور پہاڑوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ بادل پھٹ پھٹ کر ( آسمان صاف ہو گیا ) یہاں تک کہ ہمیں اس میں سے کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، - وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ - عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَقَطَّعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَأَجْدَبَ الْبِلاَدُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا . فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ حِذَاءَ وَجْهِهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ اسْقِنَا " . فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى أُوسِعْنَا مَطَرًا وَأُمْطِرْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى فَقَامَ رَجُلٌ - لاَ أَدْرِي هُوَ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَسْقِ لَنَا أَمْ لاَ - فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الأَمْوَالُ مِنْ كَثْرَةِ الْمَاءِ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُمْسِكَ عَنَّا الْمَاءَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا وَلَكِنْ عَلَى الْجِبَالِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ " . قَالَ وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ تَمَزَّقَ السَّحَابُ حَتَّى مَا نَرَى مِنْهُ شَيْئًا .
#1516
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that:The Prophet (ﷺ) said: "Allahumma sqina (O Allah, give us rain)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللہم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب فرما ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اللَّهُمَّ اسْقِنَا " .
#1517
Sahih
It was narrated from Thabit that Anas said:"The Prophet (ﷺ) was delivering the Khutbah one Friday when the people stood up and shouted: 'O Prophet of Allah! There has been no rain and the animals have died. Pray to Allah (SWT) to send us rain.' He said: 'O Allah, send us rain; O Allah, send us rain.' By Allah (SWT), we could not see even a wisp of a cloud in the sky, then a cloud appeared and grew, and it rained. The Messenger of Allah (ﷺ) came down and prayed, and the people departed, and it continued to rain until the following Friday. When the Messenger of Allah (ﷺ) stood up to deliver the Khutbah, they called out to him and said: 'O Prophet of Allah, the houses are destroyed and the routes are cut off. Pray to Allah to take it away from us.' The Messenger of Allah (ﷺ) smiled and said: 'O Allah, around us and not on us!' Then is dispersed from Al-Madinah and rain fell around Al-Madinah but not a single drop fell on Al-Madinah. I looked, and it was in something like a ring
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ کی طرف اٹھ کر بڑھے، اور چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! بارش نہیں ہو رہی ہے، اور جانور ہلاک ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ تو آپ نے دعا کی: «اللہم اسقنا اللہم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اس وقت ہم کو آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا ( مگر آپ کے دعا کرتے ہی ) بدلی اٹھی، اور پھیل گئی، پھر برسنے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، اور آپ نے نماز پڑھی، اور لوگ فارغ ہو کر پلٹے تو دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی۔ تو دوسرے جمعہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے، تو لوگ پھر چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! گھر گر گئے، راستے ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ اب اسے ہم سے روک لے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور آپ نے دعا فرمائی: «اللہم حوالينا ولا علينا» اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا ہم پر نہ برسا تو بادل مدینہ سے چھٹ گئے، اور اس کے اطراف میں برسنے لگے، اور مدینہ میں ایک بوند بارش کی نہیں پڑ رہی تھی۔ میں نے مدینہ کو دیکھا کہ وہ ایسا لگ رہا تھا گویا وہ تاج پہنے ہوئے ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، - وَهُوَ الْعُمَرِيُّ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قُحِطَتِ الْمَطَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا . قَالَ " اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا " . قَالَ وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ - قَالَ - فَأَنْشَأَتْ سَحَابَةٌ فَانْتَشَرَتْ ثُمَّ إِنَّهَا أُمْطِرَتْ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى وَانْصَرَفَ النَّاسُ فَلَمْ تَزَلْ تَمْطُرُ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ صَاحُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا . فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا " . فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تَمْطُرُ حَوْلَهَا وَمَا تَمْطُرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الإِكْلِيلِ .
#1518
Hasan Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that:A man entered the masjid when the Messenger of Allah (ﷺ) was standing and delivering the Khutbah. He turned to face the Messenger of Allah (ﷺ) standing and said: 'O Messenger of Allah, our wealth has been destroyed and the routes have been cut off. Pray to Allah (SWT) to send us rain.' The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands then said: "O Allah, send us rain." Anas said: "By Allah, we had not seen even a wisp of a cloud in the sky and there were no houses or buildings between us and (the mountain of ) Sal'. Then a cloud like a shield appeared, and when it reached the middle of the sky it spread and it began to rain." Anas said: "By Allah, we did not see the sun for a week. Then a man entered through that door on the following Friday, when the Messenger of Allah (ﷺ) was standing and delivering the Khutbah. He turned to face him standing and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), may Allah (SWT) send blessings upon you. Our wealth has been destroyed and the routes have been cut off. Pray to Allah (SWT) to withold (the rain) from us.' The Messenger of Allah (ﷺ) raised his hands and said: 'O Allah, around us and not on us.; O Allah, on the hills and mountains, the bottoms of the valleys and where the trees grow.' Then it stopped raining and we went out walking in the sun." Sharik said: 'I asked Anas: 'Was he the same man?' He said: 'No
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو گیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! مال ( جانور ) ہلاک ہو گئے، اور راستے بند ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور دعا کی: «اللہم أغثنا اللہم أغثنا» اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! ہم کو آسمان میں کہیں بادل یا بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا، اور ہمارے اور سلع پہاڑی کے بیچ کسی گھر یا مکان کی آڑ نہ تھی، اتنے میں ڈھال کے مانند بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا، پھر جب وہ آسمان کے درمیان میں پہنچا تو پھیل گیا، اور برسنے لگا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اگلے جمعہ میں اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، تو وہ آپ کی طرف چہرہ کر کے کھڑا ہو گیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کا سلام و صلاۃ ( درود و رحمت ) ہو آپ پر! مال ہلاک ہو گئے ( جانور مر گئے ) ، اور راستے بند ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہم سے اسے روک لے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، اور دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا اللہم على الآكام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر» اے اللہ! ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہ برسا، اے اللہ! ٹیلوں، چوٹیوں، گھاٹیوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا یہ کہنا تھا کہ بادل چھٹ گئے، اور ہم نکل کر دھوپ میں چل رہے تھے۔ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا، تو انہوں نے کہا: نہیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُغِيثَنَا . فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا " . قَالَ أَنَسٌ وَلاَ وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابَةٍ وَلاَ قَزَعَةٍ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلاَ دَارٍ فَطَلَعَتْ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ وَأَمْطَرَتْ . قَالَ أَنَسٌ وَلاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا . قَالَ ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُمْسِكَهَا عَنَّا . فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ " . قَالَ فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ . قَالَ شَرِيكٌ سَأَلْتُ أَنَسًا أَهُوَ الرَّجُلُ الأَوَّلُ قَالَ لاَ .
#1519
Sahih
It was narrated that Ibn Shihab said:"Abbad bin Tamim told me that he heard his paternal uncle, who was one of the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) say: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out one day to pray for rain. He turned his back toward the people, praying to Allah (SWT), and he turned to face the Qiblah. He turned his rida' around, then he prayed two rak'ahs." (One of the narrators) Ibn Abi Dhi'b said in the hadith: "And he recited in them both
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی غرض سے نکلے، تو آپ نے لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کی، اور اپنی چادر الٹی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ ابن ابی ذئب کہتے ہیں: حدیث میں یہ بھی ہے: «وقرأ فيهما» اور ان دونوں میں قرأت کی ۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ . قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي الْحَدِيثِ وَقَرَأَ فِيهِمَا .
#1520
Sahih
It was narrated from Abdullah bin Zaid that:The Prophet (ﷺ) went out to pray for rain, and he prayed two rak'ahs facing the Qiblah. (Sahih)
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قبلہ کی طرف منہ کیا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَسْتَسْقِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ .
#1521
Hasan
It was narrated from Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah that:His father said: "One of the governors sent me to Ibn Abbas to ask him about the prayer for rain. He said: 'What kept him from asking me? The Messenger of Allah (ﷺ) went out humbly, (dressed) in a state of humility, submissiveness and beseeching, and he prayed two rak'ahs as in the Eid prayer, but he did not deliver a Khutbah like this Khutbah of yours
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: وہ مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی و انکساری کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑوں میں گریہ وزاری کرتے ہوئے نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح جیسی آپ عیدین میں پڑھتے تھے، اور آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ الاِسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلاً مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ .
#1522
Sahih
It was narrated from 'Abbad bin Tamim from his paternal uncle that:The Prophet (ﷺ) went out and prayed for rain, then he prayed two rak'ahs in which he recited loudly
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فَاسْتَسْقَى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ .
#1523
Sahih
It was narrated from 'Aishah that:When it rained the Messenger of Allah would say: "Allahummaj'alhu Sayyiban nafi`a. (O Allah, make it beneficial rain)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتی تو کہتے: «اللہم اجعله صيبا نافعا» اے اللہ! خوب برسا اور اسے فائدہ مند بنا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أُمْطِرَ قَالَ " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا نَافِعًا " .
#1524
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah, the Mighty and Sublime, said: I have never sent down My favor to My slaves but a group of them became disbelievers who say; "The stars and by stars
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب بھی میں نے اپنے بندوں کو بارش کی نعمت سے نوازا تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ لوگ کہتے رہے: فلاں ستارے نے ایسا کیا ہے، اور فلاں ستارے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلاَّ أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ " .
#1525
Sahih
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said:"It rained during the time of the Prophet (ﷺ) and he said: 'Have you nt heard what your Lord said this night? He said: I have never sent down any blessing upon My slaves but some of them become disbelievers thereby, saying: 'We have been given rain by such and such a star.' As for the one who believes in Me and praises Me for giving rain, that is the one who believes in Me and disbelieves in the stars. But the one who says: 'We have been given rain by such and such a star' he has disbelieved in Me and believed in the stars
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ کہتا رہا: فلاں و فلاں نچھتر کے سبب ہم پر بارش ہوئی، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا، اور ستاروں کا انکار کیا، اور جس نے کہا: ہم فلاں فلاں نچھتر کے سبب بارش دیئے گئے، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا، اور ستاروں پر ایمان رکھا ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَلَمْ تَسْمَعُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ قَالَ مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلاَّ أَصْبَحَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَاىَ فَذَلِكَ الَّذِي آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ وَمَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ الَّذِي كَفَرَ بِي وَآمَنَ بِالْكَوْكَبِ " .