#1401
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever says to his companion on Friday, when the imam is delivering the khutbah: 'Listen attentively,' has engaged in idle talk
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے لغو حرکت کی ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَا " .
#1402
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin Ibrahim bin Qariz and Sa'eed bin Al-Musayyab that:Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'If you say to your companion: Listen attentively on a Friday when the Imam is delivering the khutbah, then you have engaged in idle talk
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم اپنے ساتھ والے سے جمعہ کے دن کہو: خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ " .
#1403
Sahih
It was narrated that Salman said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'There is no man who purifies himself on Friday as he is commanded, then comes out of his house to the Friday prayer, and listens attentively until he finishes his prayer, but it will be an expiation for what came before it the week before
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی آدمی پاکی حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا، پھر وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ جمعہ میں آتا ہے، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز ختم کر لے، تو ( اس کا یہ عمل ) اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہو گا جو اس سے پہلے کے جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ، - وَكَانَ مِنَ الْقُرَّاءِ الأَوَّلِينَ - عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرَ ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ وَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلاَتَهُ إِلاَّ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ " .
#1404
Sahih
It was narrated from 'Abdullah:"The Prophet (ﷺ) taught us Khutbat Al-Hajah: Alhamduu lillahi nasta'inuhu wa nastagfiruhu, wa na'udhu billahi min shururi anfusina wa sayi'ati a'malina. Man yahdihillahu fala mudilla lahu wa man yudlil fala hadiya lahu. Wa ashhadu an la ilaha illallahu wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu. (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge in Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allah guides will never be led astray,and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger.) Then he recited the following three verses: O you who believe! Fear Allah as He should be feared, and die not except as Muslims; O Mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person, and from him he created his wife, and from them he created many men and women, and fear Allah through Whom you demand your mutual (rights), and (do not cut the relations of) the wombs (kinship). Surely, Allah is Ever an All-Watcher over you); O you who believe! Keep your duty to Allah and fear Him, and speak (always) the truth
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجة ۱؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، پھر آپ یہ تین آیتیں پڑھتے: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا کہ اس سے ڈرنا چاہیئے، اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا ( آل عمران: ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ كان عليكم رقيبا» اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ( الاحزاب: ۷۰ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صحیح و درست بات کہو ( النساء: ۱ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے، نہ ہی عبدالرحمٰن بن عبداللہ ابن مسعود نے، اور نہ ہی عبدالجبار بن وائل بن حجر نے، ( یعنی ان تینوں کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلاَثَ آيَاتٍ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ } { يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا } { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا } " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا وَلاَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَلاَ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ .
#1405
Sahih
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a khutbah and said: 'When any one of you wants to go to Jumu'ah, let him perform ghusl
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ غسل کر لے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ " .
#1406
Sahih Isnaad
It was narrated from Ibrahim bin Nashit that:He asked Ibn Shihab about ghusl on Friday. He said: "It is a sunnah; Salim bin 'Abdullah told me, narrating from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) spoke about it from the minbar
ابراہیم بن نشیط سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: سنت ہے، اور اسے مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منبر پر بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْغُسْلِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ سُنَّةٌ وَقَدْ حَدَّثَنِي بِهِ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَكَلَّمَ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ .
#1407
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abdullah (from 'Abdullah) Ibn 'Umar that:While he was standing on the minbar, the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever among you comes (to prayer) on a Friday, let him perform ghusl
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے کھڑے فرمایا: جو شخص تم میں سے جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ وہ غسل کر لے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند پر لیث کی متابعت کی ہو سوائے ابن جریج کے، اور زہری کے دیگر تلامذہ «عن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر» کے بدلے «سالم بن عبداللہ عن أبيه» کہتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ " مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ اللَّيْثَ عَلَى هَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ ابْنِ جُرَيْجٍ وَأَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ يَقُولُونَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ بَدَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ .
#1408
Hasan
It was narrated that Iyad bin 'Abdullah said:"I heard Abu Sa'eed Al-Khudri say: 'A man who appeared shabbily came on a Friday, while the Prophet (ﷺ) was delivering the Khutbah. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'Have you prayed?" He said: 'No." He said: 'Pray two rak'ahs.' And he urged the people to give in charity. They gave clothes, and he gave him two garments. The following Friday, he came when the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the khutbah, and he urged the people to give charity. (That man) gave one of his two garments and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This man came last Friday looking shabby, and I commanded the people to give charity and they gave clothes, and I said that he should be given two garments, and now he came and I commanded the people to give charity and he gave one of them. So he chided him and said: Take your garment
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو ایک آدمی خستہ حالت میں ( مسجد میں ) آیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھی؟ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو ، اور آپ نے ( دوران خطبہ ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ( پچھلے ) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا ، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا لو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَصَلَّيْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " . وَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَلْقُوا ثِيَابًا فَأَعْطَاهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ - قَالَ - فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " جَاءَ هَذَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَوا ثِيَابًا فَأَمَرْتُ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ ثُمَّ جَاءَ الآنَ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَى أَحَدَهُمَا " . فَانَتْهَرَهُ وَقَالَ " خُذْ ثَوْبَكَ " .
#1409
Sahih
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah who said:"While the Prophet (ﷺ) was delivering the khutbah on Friday, a man came and the Prophet (ﷺ) said: 'Have you prayed?' He said: 'No.' He said: Stand up and pray
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا ۱؎ ( اور بیٹھ گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تم نے سنت پڑھ لی؟ ، اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ اور ( سنت ) پڑھو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَلَّيْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " قُمْ فَارْكَعْ " .
#1410
Sahih
Abu Bakrah said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) on the Minbar, and Al-Hasan was with him. He would turn to the people sometimes and turn to him (Al-Hasan) sometimes, and he said: 'This son of mine is a leader (Sayyid) and Allah may make peace between two large groups of Muslims through him
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، حسن رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، تو کبھی ان کی طرف، اور آپ فرما رہے تھے: میرا یہ بچہ سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، إِسْرَائِيلُ بْنُ مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ، يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ مَعَهُ وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ مَرَّةً وَيَقُولُ " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ " .
#1411
Sahih
It was narrated from Muhammad bin 'Abdur-Rahman that:The daughter of Harithah bin An-Nu'man said: "I memorized 'Qaf. By the Glorious Qur'an,'" from the mouth of the Messenger of Allah (ﷺ) when he was on the minbar on Friday
حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی (ام ہشام) کہتی ہیں کہ میں نے «ق والقرآن المجيد» کو جمعہ کے دن منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سن سن کر یاد کیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنَةِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ حَفِظْتُ { ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ } مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ .
#1412
Sahih
It was narrated from Sufyan bin Husain that :Bishr bin Marwan raised his hands on Friday on the minbar, and 'Umarah bin Ruwaibah condemned him and said: "The Messenger of Allah (ﷺ) did no more than this,' and he pointed with his forefinger
حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعہ کے دن منبر پر ( خطبہ دیتے ہوئے ) اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، تو اس پر عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں برا بھلا کہا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ نہیں کیا، اور انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ، رَفَعَ يَدَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَبَّهُ عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيُّ وَقَالَ مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى هَذَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ .
#1413
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Prophet (ﷺ) was preaching, then Al-Hasan and Al-Husain came, wearing red shirts and stumbling in them. The Prophet (ﷺ) came down, interrupting himself, and picked them up, then he went back to the minbar and said: 'Allah has spoken the truth: Your wealth and your children are only a trial (At-Taghabun 64:15). I saw these two stumbling in their shirts and I could not continue until I had interrupted myself and picked them up
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہم لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اتر پڑے، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا، پھر منبر پر واپس آ گئے، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو اٹھا لیا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رضى الله عنهما - وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ فِيهِمَا فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَطَعَ كَلاَمَهُ فَحَمَلَهُمَا ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ قَالَ " صَدَقَ اللَّهُ { إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ } رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ كَلاَمِي فَحَمَلْتُهُمَا " .
#1414
Sahih
Abdullah bin Abi Awfa said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite a great deal of remembrance, engage little in idle talk, make the prayer long and keep the khutbah short, and he would not refrain from walking with a widow or poor person and tending to their needs
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکرو اذکار زیادہ کرتے، لایعنی باتوں سے گریز کرتے، نماز لمبی پڑھتے، اور خطبہ مختصر دیتے تھے، اور بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ جانے میں کہ ان کی ضرورت پوری کریں، عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُقَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلاَةَ وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ وَلاَ يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُ الْحَاجَةَ .
#1415
Sahih
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"I sat with the Prophet (ﷺ) and I did not see him deliver the khutbah except standing, and he sat, then he stood up and delivered the second khutbah
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کی، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا، آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ جَالَسْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَا رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ إِلاَّ قَائِمًا وَيَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ الْخُطْبَةَ الآخِرَةَ .
#1416
Sahih
It was narrated from 'Abdullah that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to deliver two khutbahs standing, and he would separate them by sitting
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے تھے، ان دونوں کے بیچ میں بیٹھ کر فصل کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ الْخُطْبَتَيْنِ وَهُوَ قَائِمٌ وَكَانَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجُلُوسٍ .
#1417
Hasan
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) delivering the khutbah on Friday standing, then he sat briefly and did not speak, then he stood up and delivered a second khutbah. So whoever tells you that the Messenger of Allah (ﷺ) used to deliver the khutbah seated, he has lied
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ کچھ دیر چپ چاپ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے، جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو جھوٹا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قِعْدَةً لاَ يَتَكَلَّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خُطْبَةً أُخْرَى فَمَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ .
#1418
Hasan
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"The Prophet (ﷺ) used to deliver the khutbah standing, then he would sit, then he would stand up and recite some Verses and remember Allah, the Mighty and Sublime. His khutbah was moderate in length and his prayer was moderate in length
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور کچھ آیتیں پڑھتے، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ۱؎ اور آپ کا خطبہ درمیانی ہوتا تھا، اور نماز بھی درمیانی ہوتی تھی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا وَصَلاَتُهُ قَصْدًا .
#1419
Shadh
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) would come down from the minbar and a man would come to him and speak to him, then the Prophet (ﷺ) would listen to him until he gave him an answer, then he would go to his place of prayer and pray
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترتے پھر کوئی آدمی آپ کے سامنے آ جاتا تو آپ اس سے گفتگو کرتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری نہ کر لیتا یعنی اپنی بات ختم نہ کر لیتا، پھر آپ اپنی جائے نماز کی طرف بڑھتے، اور نماز پڑھاتے۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ فَيَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ فَيُكَلِّمُهُ فَيَقُومُ مَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى مُصَلاَّهُ فَيُصَلِّي .
#1420
Sahih
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abi Laila that 'Umar said:"Jumu'ah prayer is two rak'ahs, and the prayer of Al-Fitr is two rak'ahs, and the prayer of Al-Adha is two rak'ahs, and the prayer when traveling is two rak'ahs, complete and not shortened, on the tongue of Muhammad (ﷺ)
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جمعہ کی نماز، عید الفطر کی نماز، اور عید الاضحی کی نماز، اور سفر کی نماز، دو دو رکعتیں ہیں، اور یہ بزبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوری ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ قَالَ عُمَرُ صَلاَةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ وَصَلاَةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ وَصَلاَةُ الأَضْحَى رَكْعَتَانِ وَصَلاَةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ .
#1421
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that :During the Subh prayer on Friday, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite: "Alif-Lam-Mim. The Revelation"(As-Sajdah 32) and: "Has there not been over man,"(Al-Insan 76) and in Jumu'ah prayer he would recite Al-Jumu'ah (62) and Al-Munafiqin
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز نماز فجر میں «الم * تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان»پڑھتے، اور جمعہ کی صلاۃ میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقون پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُخَوَّلٌ، قَالَ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ { الم * تَنْزِيلُ } وَ{ هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ } وَفِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ .
#1422
Sahih
It was narrated that Samurah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in Jumu'ah prayer: 'Glorify the Name of your Lord, the Most High'(Al-A'la 87) and: 'Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e. the Day of Resurrection)?"(Al-Ghashiyah)
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَ{ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ } .
#1423
Sahih
Ad-Dahhak bin Qais asked An-Nu'man bin Bashir:"What did the Messenger of Allah (ﷺ) use to recite on Friday after Surat Al-Jumu'ah?" He said: "He used to recite: 'Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e. the Day of Resurrection)?'" (Al-Ghashiyah)
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورۃ الجمعہ کے بعد کون سی سورۃ پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ مَاذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ { هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ } .
#1424
Sahih
It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite 'Glorify the name of your Lord, the Most High'(Al-A'la 87) and 'Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e. the Day of Resurrection)?' (Al-Ghashiyah 88) in the Jumu'ah prayer, and sometimes 'Eid and Jumu'ah would fall on the same day, and he would recite them in both 'Eid and Jumu'ah prayer
حبیب بن سالم نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعہ دونوں جمع ہو جاتے تو ان دونوں میں بھی آپ انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، أَخْبَرَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَ{ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ } وَرُبَّمَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فَيَقْرَأُ بِهِمَا فِيهِمَا جَمِيعًا .
#1425
Shadh
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "Whoever catches up with a rak'ah of Jumu'ah prayer has caught up with it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کی نماز میں سے ایک رکعت پا لی تو اس نے ( جمعہ کی نماز ) پا لی ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ " .