#1201
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to turn to his right and left when praying, but he did not twist his neck to look behind him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ۱؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ يَمِينًا وَشِمَالاً وَلاَ يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ .
#1202
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to kill the two black ones (snakes and scorpions) while praying
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ( کی حالت ) میں دو کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَيَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ الأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلاَةِ .
#1203
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined killing the two black ones (snakes and scorpions) while praying
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مارنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ضَمْضَمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلاَةِ .
#1204
Sahih
It was narrated from Abu Qatadah that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray carrying Umamah. When he prostrated he put her down and when he stood up he picked her up again
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اور نماز کی حالت میں ( اپنی نواسی ) امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ سجدہ میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا لیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ رَفَعَهَا .
#1205
Sahih
It was narrated that Abu Qatadah said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) leading the people in prayer, carrying Umamah bint Abi Al-'As on his shoulder. When he bowed he put her down and when he finished prostrating he picked her up again
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کی امامت کر رہے ہیں، اور امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہم کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے ہیں، جب آپ رکوع میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب سجدے سے فارغ ہوئے تو انہیں پھر اٹھا لیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا فَإِذَا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ أَعَادَهَا .
#1206
Hasan
It was narrated that 'Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her, said:"I knocked at the door when the Messenger of Allah (ﷺ) was offering a voluntary prayer. The door was in the direction of the Qiblah so he took a few steps to his right or left and opened the door, then he went back to where he was praying
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے دروازہ کھلوانا چاہا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ قبلہ کی طرف پڑ رہا تھا، آپ اپنے دائیں جانب یا بائیں جانب ( چند قدم ) چلے، اور آپ نے دروازہ کھولا، پھر آپ اپنی جگہ پر واپس لوٹ آئے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانَ أَبُو الْعَلاَءِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتِ اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَى الْقِبْلَةِ فَمَشَى عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلاَّهُ .
#1207
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "The Tasbih is for men, and clapping is for women." Ibn Al-Muthanna added: "During the prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔ ابن مثنیٰ نے «في الصلاة» کا اضافہ کیا ہے ( یعنی نماز میں ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " . زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى " فِي الصَّلاَةِ " .
#1208
Sahih
Sa'eed bin Al-Musayyab and Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said that:They heard Abu Hurairah say: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Tasbih is for men and clapping is for women
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
#1209
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The tasbih is for men and clapping is for women
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ ( کہنا ) مردوں کے لیے ہے، اور دستک دینا عورتوں کے لیے ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَأَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
#1210
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "The tasbih is for men and clapping is for women
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
#1211
Daif Isnaad
It was narrated that 'Ali said:"I had certain times when I used to come to the Messenger of Allah (ﷺ). When I came to him I would ask for permission to enter. If I found him praying he would clear his throat and I would enter, and if I found him free he would give me permission (to enter)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے میرے لیے ایک گھڑی ایسی مقرر تھی کہ میں اس میں آپ کے پاس آیا کرتا تھا، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت مانگتا، اگر میں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تو آپ کھنکھارتے، تو میں اندر داخل ہو جاتا، اگر میں آپ کو خالی پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَىٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاعَةٌ آتِيهِ فِيهَا فَإِذَا أَتَيْتُهُ اسْتَأْذَنْتُ إِنْ وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَتَنَحْنَحَ دَخَلْتُ وَإِنْ وَجَدْتُهُ فَارِغًا أَذِنَ لِي .
#1212
Daif Isnaad
It was narrated that 'Ali said:"I had two times when I would enter upon the Messenger of Allah (ﷺ), one at night and one during the day. When I entered at night he would clear his throat (to tell me to come in)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے آنے کے دو وقت تھے، ایک رات میں اور ایک دن میں، جب میں رات میں آپ کے پاس آتا ( اور آپ نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے ) تو آپ میرے لیے کھنکھارتے ۱؎۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنِ ابْنِ نُجَىٍّ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَدْخَلاَنِ مَدْخَلٌ بِاللَّيْلِ وَمَدْخَلٌ بِالنَّهَارِ فَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ بِاللَّيْلِ تَنَحْنَحَ لِي .
#1213
Daif Isnaad
Abdullah bin Nujayy narrated that his father said:"Ali said to me: 'I was so close to the Messenger of Allah (ﷺ), closer than anyone else. I used to come to him at the end of every night, before dawn, and say: "As-salamu 'alayka ya Nabiyy Allah (Peace be upon you, O Prophet of Allah)." If he cleared his throat I would go back to my family, otherwise I would enter upon him
نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چنانچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا «السلام عليك يا نبي اللہ» اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہو جاتا۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ مُدْرِكٍ - قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ تَكُنْ لأَحَدٍ مِنَ الْخَلاَئِقِ فَكُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ فَأَقُولُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي وَإِلاَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ .
#1214
Sahih
It was narrated from Mutarrif that his father said:"I came to the Prophet (ﷺ) when he was praying, and there was a sound coming from his chest like the sound of water boiling," meaning, he was weeping
عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ کے پیٹ سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے ہانڈی ابل رہی ہو یعنی آپ رو رہے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ يَعْنِي يَبْكِي .
#1215
Sahih
It was narrated that Abu Ad-Darda' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood praying, and we heard him say: 'I seek refuge with Allah from you.' Then he said: 'I curse you with the curse of Allah (SWT),' three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand.' He said: 'The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, he would have been tied up this morning for the children of Al-Madinah to play with him
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار کہا: میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں، پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں، اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان ( علیہ السلام ) کی دعا نہ ہوتی، تو وہ صبح کو اس ( کھمبے ) سے بندھا ہوا ہوتا، اور اس سے اہل مدینہ کے بچے کھیل کرتے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ " . ثُمَّ قَالَ " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ " . ثَلاَثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاَةِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلاَةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ . قَالَ " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قُلْتُ أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ وَاللَّهِ لَوْلاَ دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لأَصْبَحَ مُوثَقًا بِهَا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " .
#1216
Sahih
It was narrated from Abu Salamah that :Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (ﷺ) stood up to pray and we stood up with him. A Bedouin said- while he was praying- 'O Allah, have mercy on me and Muhammad and do not have mercy on anyone else.' When the Messenger of Allah (ﷺ) said the Salam, he said to the Bedouin: 'You have limited something vast," meaning the mercy of Allah (SWT)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ کے ساتھ ہم ( بھی ) کھڑے ہوئے، تو ایک اعرابی نے کہا ( اور وہ نماز میں مشغول تھا ) : «اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» اے اللہ! میرے اوپر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ۱؎جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے اعرابی سے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ، آپ اس سے اللہ کی رحمت مراد لے رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّلاَةِ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلاَ تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا . فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ " لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا " . يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
#1217
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:A Bedouin entered the masjid and prayed two rak'ahs, then he said: "O Allah, have mercy on me and on Muhammad and do not have mercy on anyone else." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "You have limited something vast
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر اس نے ( نماز ہی میں ) کہا: «اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَحْفَظُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلاَ تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا " .
#1218
Sahih
It was narrated that Mu'awiyah bin Al-Hakam As-Sulami said:"I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), we were recently in a state of ignorance, then Allah (SWT) brought Islam. Some men among us follow omens.' He said: 'That is something that they find in their own hearts; it should not deter them from going ahead.' I said: 'And some men among us go to fortune tellers.' He said: 'Do not go to them.' He said: 'Some men among us draw lines.' He said: 'One of the Prophets used to draw lines. So whoever is in accord with his drawing of lines, then so it is.'" He said: "While I was praying with the Messenger of Allah (ﷺ), a man sneezed and I said: 'Yarhamuk-Allah (May Allah have mercy on you).' The people glared at me and I said: 'May my mother be bereft of me, why are you looking at me?' The people struck their hands against their thighs, and when I saw that they were telling me to be quiet, I fell silent. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished, he called me. May my father and mother be ransomed for him, he neither did hit me nor rebuke me nor revile me. I have never seen a better teacher than him, before or after. He said: 'This prayer of ours is not the place for ordinary human speech, rather it is glorification and magnification of Allah (SWT), and reciting Qur'an.' Then I went out to a flock of sheep of mine that was tended by a slave woman of mine beside Uhud and Al-Jawwaniyyah, and I found that the wolf had taken one of the sheep. I am a man from the sons of Adam and I get upset as they get upset. So I slapped her. Then I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him what happened. He regarded that as a serious action on my part. I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), should I set her free?' He said: 'Call her.' The Messenger of Allah (ﷺ) said to her: 'Where is Allah (SWT), the Mighty and Sublime?' She said: 'Above the heavens.' He said: 'And who am I?' She said: 'The Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'She is a believer, set her free
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا جاہلیت کا زمانہ ابھی ابھی گزرا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا، ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو برا شگون لیتے ہیں! آپ نے فرمایا: یہ محض ایک خیال ہے جسے لوگ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، تو یہ ان کے آڑے نہ آئے ۱؎ معاویہ بن حکم نے کہا: اور ہم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں! تو آپ نے فرمایا: تم لوگ ان کے پاس نہ جایا کرو ، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اور ہم میں سے کچھ لوگ ( زمین پر یا کاغذ پر آئندہ کی بات بتانے کے لیے ) لکیریں کھینچتے ہیں! آپ نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے، تو جس شخص کی لکیر ان کے موافق ہو تو وہ صحیح ہے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ ہی رہا تھا کہ اسی دوران اچانک قوم میں سے ایک آدمی کو چھینک آ گئی، تو میں نے ( زور سے ) «يرحمك اللہ» اللہ تجھ پر رحم کرے کہا، تو لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: «واثكل أمياه» میری ماں مجھ پر روئے ، تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم مجھے گھور رہے ہو؟ لوگوں نے ( مجھے خاموش کرنے کے لیے ) اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں کو تھپتھپایا، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کر رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ہی مجھے ڈانٹا، اور نہ ہی برا بھلا کہا، میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ سے اچھا اور بہتر معلم کسی کو نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: ہماری اس نماز میں لوگوں کی گفتگو میں سے کوئی چیز درست نہیں، نماز تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرأت قرآن کا نام ہے ، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف آیا جنہیں میری باندی احد پہاڑ اور جوانیہ ۲؎ میں چرا رہی تھی، میں ( وہاں ) آیا تو میں نے پایا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری اٹھا لے گیا ہے، میں ( بھی ) بنو آدم ہی میں سے ایک فرد ہوں، مجھے ( بھی ) غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، چنانچہ میں نے اسے ایک چانٹا مارا، پھر میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی، تو آپ نے مجھ پر اس کی سنگینی واضح کی، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلاؤ ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: آسمان کے اوپر، آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مومنہ ہے، تو تم اسے آزاد کر دو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلاَمِ وَإِنَّ رِجَالاً مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ . قَالَ " ذَاكَ شَىْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلاَ يَصُدَّنَّهُمْ " . وَرِجَالٌ مِنَّا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ . قَالَ " فَلاَ تَأْتُوهُمْ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ . قَالَ " كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ " . قَالَ وَبَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَىَّ قَالَ فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَانِي بِأَبِي وَأُمِّي هُوَ مَا ضَرَبَنِي وَلاَ كَهَرَنِي وَلاَ سَبَّنِي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلاَ بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ قَالَ " إِنَّ صَلاَتَنَا هَذِهِ لاَ يَصْلُحُ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلاَمِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَتِلاَوَةُ الْقُرْآنِ " . قَالَ ثُمَّ اطَّلَعْتُ إِلَى غُنَيْمَةٍ لِي تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ وَإِنِّي اطَّلَعْتُ فَوَجَدْتُ الذِّئْبَ قَدْ ذَهَبَ مِنْهَا بِشَاةٍ وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ فَصَكَكْتُهَا صَكَّةً ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَىَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أَعْتِقُهَا قَالَ " ادْعُهَا " . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيْنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَتْ فِي السَّمَاءِ . قَالَ " فَمَنْ أَنَا " . قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " إِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ فَاعْتِقْهَا " .
#1219
Sahih
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"We used to speak to each other during the prayer, saying whatever was necessary, at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), until this verse was revealed: Guard strictly (five obligatory) As-Salawat (the prayers) especially the middle Salah (i.e. the best prayer- 'Asr). And stand before Allah with obedience (and do not speak to others during the Salah (prayers)), so we were commanded to be silent
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( شروع میں ) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» محافظت کرو نمازوں کی، اور بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو نازل ہوئی تو ( اس کے بعد سے ) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا ( البقرہ: ۲۳۸ ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلاَةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ } فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ .
#1220
Sahih
It was narrated that Abdullah bin Mas'ud said:"I used to come to the Prophet (ﷺ) when he was praying, and I would greet him with Salam, he would return my greeting. Then I came to him when he was praying, and he did not return my greeting. When he said the Taslim, he pointed to the people and said: "Allah (SWT) has decreed that in the prayer you should not speak except to remember Allah (SWT), and it is not appropriate for you, and that you should stand before Allah (SWT) with obedience
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا، تو آپ مجھے جواب دیتے، ( ایک بار ) میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، جب آپ نے سلام پھیرا، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا، اور فرمایا: اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ ( نماز میں ) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو، اور اللہ کے لیے یکسو ہو کر کھڑے رہا کرو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، - وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ - وَالْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ كُلْثُومٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، - وَهَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ - قَالَ كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَيَرُدُّ عَلَىَّ فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ فَلَمَّا سَلَّمَ أَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ - يَعْنِي - أَحْدَثَ فِي الصَّلاَةِ أَنْ لاَ تَكَلَّمُوا إِلاَّ بِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا يَنْبَغِي لَكُمْ وَأَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ " .
#1221
Hasan Sahih
It was narrated that Ibn Mas'ud said:"We used to greet the Prophet (ﷺ) with salam and he would return our salam, until we came back from the land of Ethiopia. I greeted him with salam and he did not return my greeting,a nd I started to wonder why. So I sat down; and when he finished praying, he said: 'Allah (SWT) decrees what He wills, and He has decreed what we should not speak during the prayer
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم سر زمین حبشہ سے واپس آئے تو میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، تو مجھے نزدیک و دور کی فکر لاحق ہوئی ۱؎ لہٰذا میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب آپ نے نماز ختم کر لی تو فرمایا: اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے نیا حکم دیتا ہے، اب اس نے یہ نیا حکم دیا ہے کہ ( اب ) نماز میں گفتگو نہ کی جائے ۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيَرُدُّ عَلَيْنَا السَّلاَمَ حَتَّى قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لاَ يُتَكَلَّمَ فِي الصَّلاَةِ " .
#1222
Sahih
It was narrated that Abdullah bin Buhainah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in praying two rak'ahs, then he stood up and did not sit, and the people stood up with him. When he finished the prayer, and we were waiting for him to say the taslim, he said the takbir and prostrated twice while sitting, before the taslim. Then he said the taslim
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں، تو لوگ ( بھی ) آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز مکمل کر لی، اور ہم آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر آپ نے سلام پھیرا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ثُمَّ سَلَّمَ .
#1223
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin Buhainah that:The Messenger of Allah (ﷺ) stood up during the prayer when he should have sat, so he prostrated twice while sitting, before the taslim
عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہو گئے حالانکہ آپ کو تشہد کے لیے بیٹھنا چاہیئے تھا، تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَامَ فِي الصَّلاَةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ .
#1224
Sahih
It was narrated that Muhammad bin Sirin said:"Abu Hurairah said: 'The Prophet (ﷺ) led us in one of the nighttime prayers.'" He said: "Abu Hurairah said: 'But I forgot (which one).' He said: 'He led us in praying two rak'ahs, then he said the taslim and went to a piece of wood that was lying in the masjid and leaned his hand on it as if he was angry. Those who were in a hurry left the masjid, and said: "The prayer has been shortened." Among the people were Abu Bakr and 'Umar but they hesitated to ask him for they revere him. Also among the people was a man with long hands who was known as Dhul-Yadain. He said: O Messenger of Allah (ﷺ), did you forget or has the prayer been shortened? He said: I did not forget and the prayer has not been shortened. He said: Is it as Dhul-Yadain says? They said: yes. So he came and prayed what he had missed, then he said the salam, then he said the takbir and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head and said the takbir, and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head and said the takbir
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو شام کی دونوں نمازوں ( ظہر یا عصر ) میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، لیکن میں بھول گیا ( کہ آپ نے کون سی نماز پڑھائی تھی ) تو آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد میں لگی ایک لکڑی کی جانب گئے، اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا آپ غصہ میں ہیں، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازے سے نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم ( بھی ) تھے، لیکن وہ دونوں ڈرے کہ آپ سے اس سلسلہ میں پوچھیں، لوگوں میں ایک شخص تھے جن کے دونوں ہاتھ لمبے تھے، انہیں ذوالیدین ( دو ہاتھوں والا ) کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز ہی کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو میں بھولا ہوں، اور نہ نماز ہی کم کی گئی ہے ، آپ نے ( لوگوں سے ) پوچھا: کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، ( ایسا ہی ہے ) چنانچہ آپ ( مصلے پر واپس آئے ) اور وہ ( دو رکعتیں ) پڑھیں جنہیں آپ نے چھوڑ دیا تھا، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کے جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور اللہ اکبر کہا، اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا پھر اللہ اکبر کہا۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ . قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَكِنِّي نَسِيتُ - قَالَ - فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْطَلَقَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ بِيَدِهِ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالُوا قُصِرَتِ الصَّلاَةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رضى الله عنهما - فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ قَالَ كَانَ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلاَةُ قَالَ " لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلاَةُ " . قَالَ وَقَالَ " أَكَمَا قَالَ ذُو الْيَدَيْنِ " . قَالُوا نَعَمْ . فَجَاءَ فَصَلَّى الَّذِي كَانَ تَرَكَهُ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ .
#1225
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah (ﷺ) finished praying two rak'ahs,and Dhul-Yadain said to him: "Has the prayer been shortened or did you forget, O Messenger of Allah?" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Is Dhul-Yadain speaking the truth?" The people said: "Yes." So the Messenger of Allah (ﷺ) stood up and prayed two, then he said the takbir and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head, then he prostrated as usual or longer than that, then he sat up
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعت پر نماز ختم کر دی، تو آپ سے ذوالیدین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے دو ( رکعت مزید ) پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہہ کر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا دوسرا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ " . فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ .