#926
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "When the reciter says Amin, then say: "Amin" too, for the angels say Amin and if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, Allah will forgive his previous sins
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری ( امام ) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#927
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the Imam says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray, say: 'Amin' for the angels say Amin and the Imam says Amin, and if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمين کہو، کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور امام آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا " قَالَ الإِمَامُ { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ } فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَقُولُ آمِينَ وَإِنَّ الإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#928
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the Imam says Amin, say Amin, for if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#929
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the Imam says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray, say: 'Amin,' for if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ الإِمَامُ { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ } فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#930
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If any one of you says: 'Amin' and the angels in Heaven say Amin, and the one coincides with the other, his previous sins will be forgiven
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے بھی آسمان پر آمین کہیں اور ان دونوں میں سے ایک کی آمین دوسرے کے موافق ہو جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ وَقَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#931
Hasan
It was narrated from Mu'adh bin Rifa'ah bin Rafi' that :His father said: "I prayed behind the Prophet (ﷺ) and I sneezed and said: 'Al-hamdu lillahi, hamdan kathiran tayiban mubarakan fih, mubarakan'alaihi, kama yuhibbu rabbuna wa yarda (Praise be to Allah, much good and blessed praise as our Lord loves and is pleased with.)' When he finished praying, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who is the one who spoke during the prayer?' But no one said anything. Then he said it a second time: 'Who is the one who spoke during the prayer?' So Rifa'ah bin Rafi bin Afrah said: 'It was me, O Messenger of Allah.' He said: 'I said: "Praise be to Allah, much good and blessed praise as our Lord loves and is pleased with.'" The Prophet (ﷺ) said: 'By the One in Whose hand is my soul, thirty-odd angels hastened to see which of them would take it up
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو مجھے چھینک آ گئی، تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے کہا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے، اور سلام پھیر کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے دوسری بار پوچھا: نماز میں کون بول رہا تھا؟ تو رفاعہ بن رافع بن عفراء رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیسے کہا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا تھا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے لے کر کون اوپر چڑھے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّ، أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى . فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ فَقَالَ " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ " . فَلَمْ يُكَلِّمْهُ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ " . فَقَالَ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ بْنِ عَفْرَاءَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " كَيْفَ قُلْتَ " . قَالَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلاَثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا " .
#932
Sahih Lighairihi
It was narrated from Abdul-Jabbar bin Wa'il that :His father said: "I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) and when he said the takbir, he raised his hands to the bottom of his ears. When he recited: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray), he said: 'Amin,' and I could hear him although I was behind him. The Messenger of Allah (ﷺ) heard a man saying: 'Al-hamdu lillahi, hamdan kathiran tayiban mubarakan fih, (Praise be to Allah, much good and blessed praise.)' When the Prophet (ﷺ) said the salam and finished his prayer, he said: 'Who spoke those words during the prayer?' The man said: 'I did, O Messenger of Allah, but I did not mean anything bad thereby.' The Prophet (ﷺ) said: "Twelve angels hastened (to take it) and nothing is stopping it going all the way to the Throne
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے تک اٹھایا، پھر جب آپ نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہا تو آپ نے آمین کہی جسے میں نے سنا، اور میں آپ کے پیچھے تھا ۱؎، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے سنا، تو جب آپ اپنی نماز سے سلام پھیر لیا تو پوچھا: نماز میں کس نے یہ کلمہ کہا تھا؟ تو اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کے رسول! اور اس سے میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر بارہ فرشتے جھپٹے تو اسے عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز روک نہیں سکی ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ أَسْفَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ فَلَمَّا قَرَأَ { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ } قَالَ " آمِينَ " . فَسَمِعْتُهُ وَأَنَا خَلْفَهُ . قَالَ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ صَلاَتِهِ قَالَ " مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ فِي الصَّلاَةِ " . فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا أَرَدْتُ بِهَا بَأْسًا . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا فَمَا نَهْنَهَهَا شَىْءٌ دُونَ الْعَرْشِ " .
#933
Sahih
It was narrated that Aishah said:"Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'How does the Revelation come to you?' He said: 'Like the ringing of a bell, and when it departs I remember what he (the Angel) said, and this is the hardest on me. And sometimes he (the Angel) comes to me in the form of a man and gives it to me
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: گھنٹی کی آواز کی طرح، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، اور کبھی وحی کا فرشتہ میرے پاس نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور وہ مجھ سے کہہ جاتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْىُ قَالَ " فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَىَّ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صُورَةِ الْفَتَى فَيَنْبِذُهُ إِلَىَّ " .
#934
Sahih
It was narrated from Aishah that:Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'How does the Revelation come to you?' He said: 'Like the ringing of a bell, and this is the hardest on me. When it departs I remember what he said. And sometimes the Angel appears to me in the form of a man and speaks to me, and I remember what he said." Aishah said: "I saw him when the Revelation came to him on a very cold day, and his forhead was dripping with sweat
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے ۱؎ اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کڑکڑاتے جاڑے میں آپ پر وحی اترتے دیکھا، پھر وہ بند ہوتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْىُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَىَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا .
#935
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:Concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "Move not your tongue concerning to make haste therewith. It is for Us to collect it and to give you the ability to recite it- "The Prophet (ﷺ) used to suffer a great deal of hardship when the Revelation came to him, and he used to move his lips. Allah said: Move not your tongue concerning to make haste therewith. It is for Us to collect it and to give you the ability to recite it." He said: " (This means) He will gather it in your heart, then you will recite it," And when We have recited it to you, then follow the recitation. He said: "So listen to it and remain silent. So when Jibril came to him, the Messenger of Allah (ﷺ) listened, and when he left, he would recite it as he had taught him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے اللہ تعالیٰ کے قول: «لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه» ( القیامۃ: ۱۶- ۱۷ ) کی تفسیر میں مروی ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی اترتے وقت بڑی تکلیف برداشت کرتے تھے، اپنے ہونٹ ہلاتے رہتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے نبی! آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، کیونکہ اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے ۱؎، ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ «جمعه» کے معنی: اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں بیٹھا دینا ہے، اور «قرآنه» کے معنی اسے اس طرح پڑھوا دینا ہے کہ جب آپ چاہیں اسے پڑھنے لگ جائیں «فإذا قرأناه فاتبع قرآنه» میں «فاتبع قرآنه» کے معنی ہیں: آپ اسے غور سے سنیں، اور چپ رہیں، چنانچہ جب جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ بغور سنتے تھے، اور جب روانہ ہو جاتے تو آپ اسے پڑھتے جس طرح انہوں نے پڑھایا ہوتا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ } قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً وَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ } قَالَ جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ تَقْرَأَهُ { فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ } قَالَ فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ قَرَأَهُ كَمَا أَقْرَأَهُ .
#936
Sahih
It was narrated from Ibn Makhramah that:Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, said: "I heard Hisham bin Hakim bin Hizam reciting: Surat Al-Furqan, in a way that the Prophet of Allah (ﷺ) had not taught me. I said: 'Who taught you this Surah?' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ).' I said: 'You are lying; the Messenger of Allah (ﷺ) did not teach you like that. 'I took him by the hand and brought him to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, you taught me Surat Al-Furqan, but I heard this man reciting it in a way that you did not teach me.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Recite, O Hisham.' So he recited it as he had recited it (before). The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It was revealed like this.' Then he said: 'Recite, O Umar.' So I recited it, and he said: 'It was revealed like this.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Quran was revealed to be recited in seven different modes
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، انہوں نے اس میں کچھ الفاظ اس طرح پڑھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح نہیں پڑھائے تھے تو میں نے پوچھا: یہ سورت آپ کو کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، میں نے کہا: آپ غلط کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس طرح کبھی نہیں پڑھائی ہو گی! چنانچہ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، اور انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھائی ہے، اور میں نے انہیں اس میں کچھ ایسے الفاظ پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہشام! ذرا پڑھو تو ، تو انہوں نے ویسے ہی پڑھا جس طرح پہلے پڑھا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح اتری ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اب تم پڑھو تو ، تو میں نے پڑھا، تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اتری ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ ابْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَرَأَ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ يَكُنْ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْرَأَنِيهَا قُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قُلْتُ كَذَبْتَ مَا هَكَذَا أَقْرَأَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ وَإِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ تَكُنْ أَقْرَأْتَنِيهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ يَا هِشَامُ " . فَقَرَأَ كَمَا كَانَ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . ثُمَّ قَالَ " اقْرَأْ يَا عُمَرُ " . فَقَرَأْتُ فَقَالَ " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " .
#937
Sahih
It was narrated that AbdurRahman bin Abdul-Qari said:"I heard Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, say: 'I heard Hisham bin Hakim bin Hizam reciting Surat Al-Furqan, in a way that I had not been taught, and the Messenger of Allah (ﷺ) had taught me. I was about to interrupt him (in his prayer), but I left him alone until he had finished. Then I grabbed him by his garment and brought him to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, I heard this man reciting Surat Al-Furqan in a way that you did not teach me.' The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'Recite.' So he recited it in the way that I had heard him recite. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It was revealed like this.' Then he said to me: 'Recite.' So I recited it and he said: 'It was revealed like this. This Quran has been revealed in seven different modes, so recite as much of the Quran as may be easy for you
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، جس طرح میں پڑھ رہا تھا وہ اس کے خلاف پڑھ رہے تھے، جبکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا، تو قریب تھا کہ میں ان کے خلاف جلد بازی میں کچھ کر بیٹھوں ۱؎، لیکن میں نے انہیں مہلت دی یہاں تک کہ وہ پڑھ کر فارغ ہو گئے، پھر میں نے ان کی چادر سمیت ان کا گریبان پکڑ کر انہیں کھینچا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان ایسے طریقہ پر پڑھتے سنا ہے جو اس طریقہ کے خلاف ہے جس طریقہ پر آپ نے مجھے یہ سورت پڑھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ( اچھا ) تم پڑھو! ، انہوں نے اسی طریقہ پر پڑھا جس پر میں نے ان کو پڑھتے ہوئے سنا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے ، پھر مجھ سے فرمایا: تم پڑھو! تو میں نے بھی پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے، یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، ان میں سے جو آسان ہو تم اسی طرح پڑھو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا عَلَيْهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ " . فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . ثُمَّ قَالَ لِي " اقْرَأْ " . فَقَرَأْتُ فَقَالَ " هَكَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ { فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ } " .
#938
Sahih
Urwah bin Az-Zubair narrated that Al-Miswar bin Makhramah and AbdurRahman bin Abdul-Qari told him that:They heard Umar bin Al-Khattab say: "I heard Hisham bin Hakim bin Hizam reciting Surat Al-Furqan during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ), so I listened to his recitation and he was reciting it in a way that the Messenger of Allah (ﷺ) had not taught me. I was about to jump on him while he was praying, but I waited patiently until he said the Salam (at the end of the prayer). When he had said the Salam I grabbed him by his garment and said: 'Who taught you this Surah that I heard you reciting?' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) taught me it. I said: 'You are lying, by Allah! The Messenger of Allah (ﷺ) is the one who taught me this Surah that I heard you reciting.' I took him to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, I heard this man reciting Surat Al-Furqan in a way that you did not teach me, but you taught me Surat Al-Furqan.' The Messenger of Allah (ﷺ) said:' Let him go, O Umar. Recite, O Hisham.' So I recited it to him in the way that I had heard him recite. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It was revealed like this.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Recite, O Umar.' So I recited it in the way that he had taught me. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It was revealed like this.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This Quran has been revealed to be recited in seven different modes, so recite as much of the Quran as may be easy for you
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا تو میں ان کی قرآت غور سے سننے لگا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کچھ الفاظ ایسے طریقے پر پڑھ رہے ہیں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھایا تھا، چنانچہ قریب تھا کہ میں ان پر نماز میں ہی جھپٹ پڑوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا، یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیر دیا، جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کی چادر سمیت ان کا گریبان پکڑا، اور پوچھا: یہ سورت جو میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے سنی ہے آپ کو کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، میں نے کہا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو: اللہ کی قسم یہی سورت جو میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے سنی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے پڑھائی ہے، بالآخر میں انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان کے کچھ الفاظ پڑھتے سنا ہے کہ اس طرح آپ نے مجھے نہیں پڑھایا ہے، حالانکہ سورۃ الفرقان آپ نے ہی مجھ کو پڑھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو، اور ہشام! تم پڑھو! تو انہوں نے اسے اسی طرح پر پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے سنا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اب تم پڑھو! تو میں نے اس طرح پڑھا جیسے آپ نے مجھے پڑھایا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، ان میں سے جو آسان ہو اسی پر پڑھو ۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلاَةِ فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا فَقَالَ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقُلْتُ كَذَبْتَ . فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا فَانْطَلَقْتُ بِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ اقْرَأْ يَا هِشَامُ " . فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ يَا عُمَرُ " . فَقَرَأْتُ الْقِرَاءَةَ الَّتِي أَقْرَأَنِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ { فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ } " .
#939
Sahih
It was narrated from Ubayy bin Ka'b that:The Messenger of Allah (ﷺ) was by a pond belonging to Banu Ghifar when Jibril, peace be upon him, came to him and said: "Allah commands you to teach your Ummah the Quran with one way of recitation." He said: "I ask my Lord for protection and forgiveness, my Ummah cannot bear that." Then he came to him a second time and said: "Allah commands you to teach your Ummah the Quran with two ways of recitation." He said: ""I ask my Lord for protection and forgiveness, my Ummah cannot bear that." Then he came to him a third time and said: "Allah commands you to teach your Ummah the Quran with three ways of recitation." He said: "I ask my Lord for protection and forgiveness, my Ummah cannot bear that." Then he came to him a fourth time and said: "Allah commands you to teach your Ummah the Quran with seven ways of recitation, and whichever the way they recite it will be correct
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے، اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک ہی حرف پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ، پھر دوسری بار جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ سے عفو و مغفرت کا طلب گار ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ، پھر جبرائیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور انہوں کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن تین حرفوں پر قرآن پڑھائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے رب سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ہے ، پھر وہ آپ کے پاس چوتھی بار آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن پڑھائیں، تو وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے صحیح پڑھیں گے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اس حدیث میں حکم کی مخالفت کی گئی ہے، منصور بن معتمر نے ان کی مخالفت کی ہے، اسے «مجاهد عن عبيد بن عمير» کے طریق سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . قَالَ " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ " . ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ " . ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلاَثَةِ أَحْرُفٍ . قَالَ " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ " . ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثُ خُولِفَ فِيهِ الْحَكَمُ خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ رَوَاهُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ مُرْسَلاً .
#940
Hasan Sahih
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said:"The Messenger of Allah (ﷺ) taught me a surah, and when I was sitting in the masjid I heard a man reciting it in a way that was different from mine. I said to him: 'Who taught you this surah?' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ).' I said: 'Stay with me until we go to the Messenger of Allah (ﷺ).' So we came to him and I said: 'O Messenger of Allah, this man recites a surah that you taught me differently.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Recite, O Ubayy.' So I recited it, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'You have done well.' Then he said to the man: 'Recite.' So he recited it and it was different to my recitation. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'You have done well.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'O Ubayy, the Quran has been revealed with seven different modes of reciation, all of which are good and sound
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سورت پڑھائی تھی، میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اسی سورت کو پڑھ رہا ہے، اور میری قرآت کے خلاف پڑھ رہا ہے، تو میں نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، میں نے کہا: تم مجھ سے جدا نہ ہونا جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آ جائیں، میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ شخص وہ سورت جسے آپ نے مجھے سکھائی ہے میرے طریقے کے خلاف پڑھ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی! تم پڑھو تو میں نے وہ سورت پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: تم پڑھو! تو اس نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی! قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، اور ہر ایک درست اور کافی ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: معقل بن عبیداللہ ( زیادہ ) قوی نہیں ہیں ۱؎۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ نُفَيْلٍ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُورَةً فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ جَالِسٌ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلاً يَقْرَؤُهَا يُخَالِفُ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ لَهُ مَنْ عَلَّمَكَ هَذِهِ السُّورَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقُلْتُ لاَ تُفَارِقْنِي حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا خَالَفَ قِرَاءَتِي فِي السُّورَةِ الَّتِي عَلَّمْتَنِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ يَا أُبَىُّ " . فَقَرَأْتُهَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحْسَنْتَ " . ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ " اقْرَأْ " . فَقَرَأَ فَخَالَفَ قِرَاءَتِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحْسَنْتَ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أُبَىُّ إِنَّهُ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهُنَّ شَافٍ كَافٍ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ .
#941
Sahih
It was narrated that Ubayy said:"I had no confusion in my mind from that time I embraced Islam, except when I recited a verse and another man recited it differently. I said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) taught me this.' And the other man said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) taught me too.' So I went to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Prophet of Allah, did you not teach me such and such a verse?' He said: 'Yes.' The other man said: 'Did you not teach me such and such a verse?' He said: 'Yes. Jibril and Mika'il, peace be upon them, came to me, and Jibril sat on my right and Mika'il on my left. Jibril, peace be upon him, said: "Recite the Quran with one way of recitation.' Mika'il said: 'Teach him more, teach him more- until there were seven modes of recitation, each of which is good and sound
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو میرے دل میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ میں نے ایک آیت پڑھی، اور دوسرے شخص نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو میں نے کہا: مجھے یہ آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے، تو دوسرے نے بھی کہا: مجھے بھی یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی پڑھائی ہے، بالآخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، اور دوسرے شخص نے کہا: کیا آپ نے مجھے ایسے ایسے نہیں پڑھایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام دونوں میرے پاس آئے، جبرائیل میرے داہنے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ قرآن ایک حرف پر پڑھا کریں، تو میکائیل نے کہا: آپ اسے ( اللہ سے ) زیادہ کرا دیجئیے یہاں تک کہ وہ سات حرفوں تک پہنچے، ( اور کہا کہ ) ہر حرف شافی و کافی ہے ۔
أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُبَىٍّ، قَالَ مَا حَاكَ فِي صَدْرِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلاَّ أَنِّي قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَهَا آخَرُ غَيْرَ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَ الآخَرُ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَقْرَأْتَنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ " نَعَمْ " . وَقَالَ الآخَرُ أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ " نَعَمْ إِنَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ أَتَيَانِي فَقَعَدَ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِي وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِي فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . قَالَ مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ اسْتَزِدْهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ فَكُلُّ حَرْفٍ شَافٍ كَافٍ " .
#942
Sahih
It was narrated from Ibn Umar that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The one who learns the Quran is like the owner of a hobbled camel. If he pays attention to it, he will keep it, but if he releases it, it will go away
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صاحب قرآن ۱؎ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے اونٹ رسی سے بندھے ہوں، جب تک وہ ان کی نگرانی کرتا رہتا ہے تو وہ بندھے رہتے ہیں، اور جب انہیں چھوڑ دیتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِذَا عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ " .
#943
Sahih
It was narrated from Abdullah that:The Prophet (ﷺ) said: "It is not right for any one of you to say: 'I have forgotten such and such a verse.' Rather, he has been caused to forget. Study the Qur'an, for it escapes from the heart of man faster than a camel escapes from its fetter
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنی بری بات ہے کہ کوئی کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ۱؎، بلکہ اسے کہنا چاہیئے کہ وہ بھلا دیا گیا، تم لوگ قرآن یاد کرتے رہو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں سے رسی سے کھل جانے والے اونٹ سے بھی زیادہ جلدی نکل جاتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بِئْسَمَا لأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ ".
#944
Sahih
Ibn Abbad narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in teh first rak'ah of Fajr "Say: We believe in Allah and that which has been sent down to us" to the end verse, and in the second rak'ah, "We believe in Allah, and bear witness that we are Muslims
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دونوں رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں آیت کریمہ: «قولوا آمنا باللہ وما أنزل إلينا» ( البقرہ: ۱۳۶ ) اخیر آیت تک، اور دوسری رکعت میں «آمنا باللہ واشهد بأنا مسلمون» ( آل عمران: ۵۲ ) پڑھتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ فِي الأُولَى مِنْهُمَا الآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ { قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا } إِلَى آخِرِ الآيَةِ وَفِي الأُخْرَى { آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ }.
#945
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) recited: "Say: O you disbelievers" and "Say: He is Allah, (the) One" in the two rak'ahs of Fajr
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد»پڑھی۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، دُحَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } وَ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ }
#946
Sahih
It was narrated that Aishah said:"I would see the Messenger of Allah (ﷺ) praying two rak'ahs of Fajr and making them so brief that I said: 'Did he recite the Umm Al-Kitab in them?
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی سنتیں پڑھتے دیکھتی، آپ انہیں اتنی ہلکی پڑھتے کہ میں ( اپنے جی میں ) کہتی تھی: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے ( یا نہیں ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كُنْتُ لأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ فَيُخَفِّفُهُمَا حَتَّى أَقُولَ أَقَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْكِتَابِ
#947
Daif
It was narrated from Shabib Abi Rawh, from a man among the companions of the Prophet (ﷺ), that:He prayed Subh and recited Ar-Rum, but he stumbled in his recitation. When he had finished praying he said: 'What is the matter with people who pray with us without purifying themselves properly? Those people make us stumble in reciting Quran
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، اس میں آپ نے سورۃ الروم کی تلاوت فرمائی، تو آپ کو شک ہو گیا، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، اور ٹھیک سے طہارت حاصل نہیں کرتے، یہی لوگ ہمیں قرآت میں شک میں ڈال دیتے ہیں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى صَلاَةَ الصُّبْحِ فَقَرَأَ الرُّومَ فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُصَلُّونَ مَعَنَا لاَ يُحْسِنُونَ الطُّهُورَ فَإِنَّمَا يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أُولَئِكَ " .
#948
Sahih
It was narrated from Abu Barzah that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite between sixty and one hundred verses in Al-Ghadah (Subh) prayer
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ سَيَّارٍ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَمَةَ - عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ .
#949
Shadh
It was narrated that Umm Hisham bint Harithah bin An-Nu'man said:"I only learned :Qaf. By the Glorious Quran.' Behind the Messenger of Allah (ﷺ); he used to recite it in Subh
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے «ق، والقرآن المجيد» کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( سن سن کر ) یاد کیا ہے، آپ اسے فجر میں ( بکثرت ) پڑھا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ مَا أَخَذْتُ { ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ } إِلاَّ مِنْ وَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ .
#950
Sahih
It was narrated that Ziyad bin Ilaqah said:"I heard my paternal uncle say: 'I prayed Subh with the Messenger of Allah (ﷺ), and in one of the rak'ahs he recited: "And tall date palms, with ranged clusters
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، تو آپ نے ایک رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھی ۱؎، شعبہ کہتے ہیں: میں نے زیاد سے پر ہجوم بازار میں ملاقات کی تو انہوں نے کہا: سورۃ «ق» پڑھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمِّي، يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ { وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ } قَالَ شُعْبَةُ فَلَقِيتُهُ فِي السُّوقِ فِي الزِّحَامِ فَقَالَ { ق } .