#726
Sahih
It was narrated that Tariq bin 'Abdullah Al-Muharibi said:'When you are praying, do not spit to the front or to your right. Spit behind you or to your left if there is no one there, otherwise do this.' And he spat beneath his foot and rubbed it
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اپنے سامنے اور اپنے داہنے ہرگز نہ تھوکو، بلکہ اپنے پیچھے تھوکو، یا اپنے بائیں تھوکو، بشرطیکہ بائیں طرف کوئی نہ ہو، ورنہ اس طرح کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیر کے نیچے تھوک کر اسے مل دیا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي فَلاَ تَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلاَ عَنْ يَمِينِكَ وَابْصُقْ خَلْفَكَ أَوْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا وَإِلاَّ فَهَكَذَا " . وَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ وَدَلَكَهُ .
#727
Sahih
It was narrated from Abu Al-'Ala' bin Ash-Shikhir that his father said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) spit and then rub it with his left foot
شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے کھکھار کر تھوکا، پھر اسے اپنے بائیں پیر سے رگڑ دیا۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَنَخَّعَ فَدَلَكَهُ بِرِجْلِهِ الْيُسْرَى .
#728
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) saw some sputum in the Qiblah of the Masjid, and he became so angry that his face turned red. Then a woman from the Ansar went and scratched off, and put some perfume in its place. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'How good this is
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کر دیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کیا ہی اچھا کیا ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَحْسَنَ هَذَا " .
#729
Sahih
It was narrated that 'Abdul-Malik bin Sa'eed said:"I heard Abu Humaid and Abu Usaid say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When any one of you enters the Masjid, let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of your mercy). And when he leaves let him say: Allahumma inni as'aluka min fadlik (O Allah, I ask You of Your bounty)
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں پڑھے ۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلاَنِيُّ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ، وَأَبَا، أُسَيْدٍ يَقُولاَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ " .
#730
Sahih
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"When any one of you enters the Masjid, let him pray two Rak'ahs before he sits down
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ " .
#731
Sahih
Abdullah bin Ka'b said:"I heard Ka'b bin Malik telling the story of when he stayed behind from going out on the campaign of Tabuk with the Messenger of Allah (ﷺ). He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) came back in the morning, and when he came back from a journey he would go to the Masjid first and pray two Rak'ahs there, then he would sit to (meet with) the people. When he did that, those who had stayed behind came to him and started giving their excuses, swearing by Allah. There were eighty-odd men, and the Messenger of Allah (ﷺ) accepted what they declared and accepted their oaths of allegiance; he prayed for forgiveness for them and left whatever was in their hearts to Allah. Then when I came and greeted him, he smiled as one who is angry, then he said: 'Come here.' So I came and sat in front of him, [1] and he said: 'What kept you behind? Did you not buy a mount?' I said: 'O Messenger of Allah, if I were to sit before anyone other than you of those who hold high positions in this world, I would find a way to avoid his anger. I am an eloquent man but, by Allah, I know that if I were to tell you a lie today to make you pleased with me, Allah would soon make you angry with me, but if I tell you the truth, it will make you angry with me, but I will still have the hope that Allah may forgive me. I have never been in a better position, physically or financially, than the time when I stayed behind and did not join you.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This man has spoken the truth. Go away until Allah decides concerning you.' So I got up and went away." This is an abridged version of narration. [1] It is this which the author cited the narration for. While the absence of the mention of a thing - in this case prayer - is not a proof that it does not exist
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو تشریف لائے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے، آپ سے معذرت کرنے لگے، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کر لیا، اور ان سے بیعت کر لی، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دیا، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے، پھر فرمایا: آ جاؤ! چنانچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ۱؎، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتوراور زیادہ مال والا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے ، چنانچہ میں اٹھ کر چلا آیا، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَادِمًا وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعًا وَثَمَانِينَ رَجُلاً فَقَبِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلاَنِيَتَهُمْ وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ " تَعَالَ " . فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لِي " مَا خَلَّفَكَ أَلَمْ تَكُنِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلاً وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ لِتَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشَكُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُسْخِطُكَ عَلَىَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَىَّ فِيهِ إِنِّي لأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ " . فَقُمْتُ فَمَضَيْتُ . مُخْتَصَرٌ .
#732
Daif
It was narrated that Abu Sa'eed bin Al-Mu'alla said:"We used to go to the marketplace in the morning at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and we would pass through the Masjid and pray there
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بازار جاتے تو مسجد سے گزرتے، تو اس میں نماز پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ كُنَّا نَغْدُو إِلَى السُّوقِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَمُرُّ عَلَى الْمَسْجِدِ فَنُصَلِّي فِيهِ .
#733
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The angels send Salah upon any one of you so long as he is in the place where he prays, and so long as he does not invalidate his ablution, (saying): 'O Allah, forgive him, O Allah, have mercy on him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور وضو نہ توڑا ہو، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اور اے اللہ! تو اس پر رحم فرما ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلاَّهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
#734
Sahih
Sahl As-Sa'idi, may Allah be pleased with him, said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever is in the Masjid waiting for the prayer, he is in a state of prayer
سہل ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز ہی میں رہتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَيْمُونٍ، حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلاً السَّاعِدِيَّ، - رضى الله عنه - يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فَهُوَ فى الصَّلاَةِ " .
#735
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade praying in the camel pens. [1] A'tan:Kneeling places, or, where they kneel to drink water
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے روکا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ .
#736
Sahih
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The earth has been made for me a place of prostration and a means of purification, so wherever a man of my Ummah is when the time for prayer comes, let him pray
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پوری روئے زمین ۱؎ میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، میری امت کا کوئی بھی آدمی جہاں نماز کا وقت پائے نماز پڑھ لے ۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " جُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا أَيْنَمَا أَدْرَكَ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي الصَّلاَةَ صَلَّى " .
#737
Sahih Isnaad
It was narrated from Anas bin Malik that Umm Sulaim asked the Messenger of Allah (ﷺ) to come to her and pray in her house so that she could take (the place where he prayed) as a Musalla (prayer place). So he came to her and she went and got a reed mat and sprinkled it with water, and he prayed on it, and they prayed with him
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کے پاس تشریف لا کر ان کے گھر میں نماز پڑھ دیں تاکہ وہ اسی کو اپنی نماز گاہ بنا لیں ۱؎، چنانچہ آپ ان کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے چٹائی لی اور اس پر پانی چھڑکا، پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی، اور آپ کے ساتھ گھر والوں نے بھی نماز پڑھی۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَهَا فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهَا فَتَتَّخِذَهُ مُصَلًّى فَأَتَاهَا فَعَمَدَتْ إِلَى حَصِيرٍ فَنَضَحَتْهُ بِمَاءٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَلَّوْا مَعَهُ .
#738
Sahih
It was narrated from Maimunah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray on a mat
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، - يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ .
#739
Sahih
Abu Hazim bin Dinar narrated that some men came to Sahl bin Sa'd As-Sa'idi. They were wondering what kind of wood the Minbar was made of, so they asked him about that. He said:"By Allah, I know what it is made of. I saw it the first day it was set up and the first day the Messenger of Allah (ﷺ) sat on it. The Messenger of Allah (ﷺ) sent word to so-and-so" - a woman whose name Sahl mentioned - "telling her: 'Tell your carpenter slave to make me something of wood that I can sit on when I speak to the people.' So she told him, and he made it from tamarisk wood from Al-Ghabah (a place near Al-Madinah). Then he brought it and it was sent to the Messenger of Allah (ﷺ), who commanded that it be set up here. Then I saw the Messenger of Allah (ﷺ) ascend it and praying on it, and saying the Takbir while he was on top of it, then he bowed when he was on top of it, then he came down backward and prostrated at the base of the Minbar, then he went back. When he had finished he turned to face the people and said: 'O people, I only did this so that you can follow me in prayer and learn how I pray
ابوحازم بن دینار کہتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ لوگ منبر کی لکڑی کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کی تھی؟ ان لوگوں نے سہیل رضی اللہ عنہ اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ یہ منبر کس لکڑی کا تھا، میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا تھا جس دن وہ رکھا گیا، اور جس دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پہل اس پر بیٹھے ( ہوا یوں تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت ( سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام لیا تھا ) کو کہلوا بھیجا کہ آپ اپنے غلام سے جو بڑھئی ہے کہیں کہ وہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو اس طرح بنا دے کہ جب میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کروں تو اس پر بیٹھ سکوں، تو اس عورت نے غلام سے منبر بنانے کے لیے کہہ دیا، چنانچہ غلام نے جنگل کے جھاؤ سے اسے تیار کیا، پھر اسے اس عورت کے پاس لے کر آیا تو اس نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے یہاں رکھا گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر چڑھے، اور اس پر نماز پڑھی، آپ نے اللہ اکبر کہا، آپ اسی پر تھے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور آپ اسی پر تھے، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کے پایوں کے پاس سجدہ کیا، پھر آپ نے دوبارہ اسی طرح کیا، تو جب آپ فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تاکہ تم لوگ میری پیروی کر سکو، اور ( مجھ سے ) میری نماز سیکھ سکو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالاً، أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِمَّ هُوَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى فُلاَنَةَ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ " أَنْ مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ " . فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقِيَ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّمُوا صَلاَتِي " .
#740
Sahih
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying on a donkey, when he was heading toward Khaibar
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور آپ کا رخ خیبر کی طرف تھا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ .
#741
Hasan Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that he saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying on a donkey while he was riding, praying toward Khaibar with the Qiblah behind him. Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said:We do not know of anyone who reported anything to support what 'Amr bin Yahya said about praying on a donkey. As for the Hadith of Yahya bin Sa'eed from Anas, what is correct is that it is Mawquf. [1] And Allah knows best. [1] That is a saying or action of a Companion of the Prophet (ﷺ)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ سوار ہو کر خیبر کی طرف جا رہے تھے، اور قبلہ آپ کے پیچھے تھا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے کہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن یحییٰ کی ان کے قول «يصلي على حمار» میں متابعت کی ہو ۱؎اور یحییٰ بن سعید کی حدیث جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ موقوف ہے ۲؎ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ رَاكِبٌ إِلَى خَيْبَرَ وَالْقِبْلَةُ خَلْفَهُ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى عَلَى قَوْلِهِ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسٍ الصَّوَابُ مَوْقُوفٌ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
#742
Sahih
Narrated Al Bara bin Azib:Al Bara bin Azib said: The messenger of Allah (peace be upon him) came to Al-Madinah and prayed toward Bait-al-Maqdis for sixteen months, then he was commanded to pray toward the Ka'bah. A man who had prayed with the prophet (peace be upon him)passed by some of the Ansar and said: "I bear witness that the messenger of Allah (peace be upon him) has been commanded to face toward the Ka'bah. So they turned to face the Ka'bah
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سولہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب نماز پڑھی، پھر آپ خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیئے گئے، ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے، وہ لوگ ( یہ سنتے ہی نماز کی حالت میں ) کعبہ کی طرف پھر گئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَمَرَّ رَجُلٌ قَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ . فَانْحَرَفُوا إِلَى الْكَعْبَةِ .
#743
Sahih
It was narrated that Ibn Umar said:"The messenger of Allah (peace be upon him) used to pray atop his mount while travelling, facing whatever direction it was facing." (One of the narrators) Malik said: "Abdullah bin Dinar said: and Ibn Umar used to do likewise
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے خواہ وہ کسی بھی طرف متوجہ ہو جاتی۔ مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار کا کہنا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ . قَالَ مَالِكٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
#744
Sahih
It was narrated that Abdullah said:"The messenger of Allah (peace be upon him) used to pray atop his mount while traveling, facing whatever direction it was facing, and he would pray witr atop it, but he did not pray the prescribed prayers atop it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نماز پڑھتے خواہ وہ کسی بھی طرف آپ کو لے کر متوجہ ہوتی، وتر بھی اسی پر پڑھتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَىِّ وَجْهٍ تَوَجَّهُ بِهِ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ .
#745
Sahih
It was narrated that Ibn Umar said:"While the people were in Quba praying Subh prayer, someone came to them and said that revelation had come to Messenger of Allah(ﷺ) the night before, and he had been commanded to face Ka'bah. So face toward it. They had been facing toward Ash-Sham, so they turned to face toward Ka'bah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ لوگ مسجد قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرآن نازل ہوا ہے، اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ قبلہ ( کعبہ ) کی طرف رخ کریں، تو ان لوگوں نے کعبہ کی طرف رخ کر لیا، اور حال یہ تھا کہ ان کے چہرے شام کی طرف تھے تو وہ کعبہ کی طرف ( جنوب کی طرف ) گھوم گئے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ . فَاسْتَقْبَلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ .
#746
Sahih
It was narrated that Aisha(ra) said:"The messenger of Allah(ﷺ) was asked during the campaign of Tabuk about the Sutra of one who is praying. He said: "Something as high as the back of a camel saddle
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ تبوک میں نمازی کے سترہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی طرح کی بھی کوئی چیز ہو سکتی ہے ۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ " مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ " .
#747
Sahih
Narrated Ibn Umar:It was narrated from Ibn Umar concerning the Messenger of Allah (ﷺ) he said: "He used to set up a short spear then pray facing toward it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے سامنے ) نیزہ گاڑتے تھے، پھر اس کی طرف ( رخ کر کے ) نماز پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ يَرْكُزُ الْحَرْبَةَ ثُمَّ يُصَلِّي إِلَيْهَا .
#748
Sahih
It was narrated that Sahl bin Abi Hathmah said:"When anyone of you prays toward a Sutra, let him get close to it and not allow the Shaitan to sever his prayer for him
سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سترہ کی طرف ( رخ کر کے ) نماز پڑھے، تو اس سے قریب رہے کہ شیطان اس کی نماز باطل نہ کر سکے ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لاَ يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلاَتَهُ " .
#749
Sahih
Narrated Abdullah bin Umar:It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) entered the Ka'bah with Usamah bin Zaid, Bilal and Uthman bin Talha al Hajabi, and locked the door behind him. Abdullah bin Umar said: "I asked Bilal when he came out: " What did the Messenger of Allah (ﷺ) do?" He said: "He stood with one pillar to his left, two pillars to his right and three pillars behind him - at that time the House stood on six pillars - and he prayed with approximately three forearm's length between him and the wall
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم چاروں خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کر لیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کعبہ کے اندر ) کیا کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھمبا ( ستون ) اپنے بائیں طرف کیا، دو کھمبے اپنے دائیں طرف، اور تین کھمبے اپنے پیچھے، ( ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر تھا ) پھر آپ نے نماز پڑھی، اور اپنے اور دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رکھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ - وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - ثُمَّ صَلَّى وَجَعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ نَحْوًا مِنْ ثَلاَثَةِ أَذْرُعٍ .
#750
Sahih
It was narrated that Abu Dharr said:The messenger of Allah(ﷺ) said: "When anyone of you stands to pray, then he is screened if he has in front of him something as high as the back of a camel saddle. If he does not have something as high as the back of a camel saddle in front of him, then his prayer is nullified by a woman, a donkey or a black dog." I (one of the narrators)said: "What is the difference between a black dog, a yellow one and a red one?" He said: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) just like you and he said:"The black dog is a shaitan
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو جب اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز ہو تو وہ اس کے لیے سترہ ہو جائے گی، اور اگر کجاوہ کی پچھلی لکڑی کی طرح کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا اس کی نماز باطل کر دے گا ۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: پیلے اور لال رنگ کے مقابلہ میں کالے ( کتے ) کی کیا خصوصیت ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جس طرح آپ نے مجھ سے پوچھا ہے میں نے بھی یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ قَائِمًا يُصَلِّي فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلاَتَهُ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ " . قُلْتُ مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَحْمَرِ فَقَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .