#576
Sahih
It was narrated that Abu Ishaq said:"I heard Masruq and Al-Aswad say: We bear witness that 'Aishah said: 'When the Messenger of Allah (ﷺ) was with me after 'Asr, he would pray them (these two Rak'ahs)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کے بعد میرے پاس ہوتے تو ان دونوں رکعتوں کو پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، وَالأَسْوَدَ، قَالاَ نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ عِنْدِي بَعْدَ الْعَصْرِ صَلاَّهُمَا .
#577
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"There are two prayers that the Messenger of Allah (ﷺ) never neglected to pray them in my house secretly nor publicly: Two Rak'ahs before Fajr and two Rak'ahs after 'Asr
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں فجر کے پہلے کی دو رکعتوں اور عصر کے بعد کی دو رکعتوں کو چھپے اور کھلے کبھی نہیں چھوڑا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ صَلاَتَانِ مَا تَرَكَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِي سِرًّا وَلاَ عَلاَنِيَةً رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ .
#578
Sahih
It was narrated from Abu Salamah that he asked 'Aishah about the two prostrations (Rak'ahs) that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray after 'Asr. She said:"He used to pray them before 'Asr, but if he got distracted or forgot them, he would pray them after 'Asr, and if he did a prayer he would be constant in it
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دونوں رکعتوں کے متعلق سوال کیا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ کسی کام میں مشغول ہو گئے یا بھول گئے تو انہیں عصر کے بعد ادا کیا، اور آپ جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے برقرار رکھتے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلاَّهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَثْبَتَهَا .
#579
Sahih
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet (ﷺ) once prayed two Rak'ahs after 'Asr in her house. She asked him about that and he said:"They are two Rak'ahs that I used to pray after Zuhr, but I got distracted and forgot them until I prayed 'Asr
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھی تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دو رکعتیں ہیں جنہیں میں ظہر کے بعد پڑھتا تھا تو میں انہیں نہیں پڑھ سکا، یہاں تک کہ میں نے عصر پڑھ لی ، ( تو میں نے اب عصر کے بعد پڑھی ہے ) ۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي بَيْتِهَا بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ مَرَّةً وَاحِدَةً وَأَنَّهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " هُمَا رَكْعَتَانِ كُنْتُ أُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَشُغِلْتُ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّيْتُ الْعَصْرَ " .
#580
Hasan Sahih
It was narrated that Umm Salamah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) got distracted and did not pray the two Rak'ahs before 'Asr so he prayed them after 'Asr
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے والی دو رکعت نہیں پڑھ سکے، تو انہیں عصر کے بعد پڑھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شُغِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَصَلاَّهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ .
#581
Sahih Isnaad
Imran bin Hudair said:"I asked Lahiq about the two Rak'ahs before sunset. He said: "Abdullah bin Az-Zubair used to pray them, and Mu'awiyah sent word to him asking: 'What are these two Rak'ahs at sunset?' He had to refer to Umm Salamah, and Umm Salamah said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray two Rak'ahs before 'Asr, then he was distracted and did not pray them, so he prayed them when the sun set, and I never saw him pray them before or after that
عمران بن حدیر کہتے ہیں: میں نے لاحق ( لاحق بن حمید ابومجلز ) سے سورج ڈوبنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پچھوا بھیجا کہ سورج ڈوبنے کے وقت کی یہ دونوں رکعتیں کیسی ہیں؟ تو انہوں نے بات ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا دی، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے تو ( ایک مرتبہ ) آپ انہیں نہیں پڑھ سکے، تو انہیں سورج ڈوبنے کے وقت ۱؎ پڑھی، پھر میں نے آپ کو انہیں نہ تو پہلے پڑھتے دیکھا اور نہ بعد میں۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ لاَحِقًا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ، قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُصَلِّيهِمَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَاضْطَرَّ الْحَدِيثَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَشُغِلَ عَنْهُمَا فَرَكَعَهُمَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ فَلَمْ أَرَهُ يُصَلِّيهِمَا قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ .
#582
Sahih
It was narrated from Yazid bin Abi Habib that Abu Al-Khair told him:"Abu Tamim Al-Jaishani stood up to pray two Rak'ahs before Maghrib, and I said to 'Uqbah bin 'Amir: 'Look at this man, what prayer is he praying?' He turned and looked at him, and said: 'This is a prayer that we used to pray at the time of the Messenger of Allah (ﷺ)
ابوالخیر کہتے ہیں کہ ابوتمیم جیشانی مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں دیکھئیے! یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیکھ کر بولے: یہ وہی نماز ہے جسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ قَامَ لِيَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ فَقُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ انْظُرْ إِلَى هَذَا أَىَّ صَلاَةٍ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَرَآهُ فَقَالَ هَذِهِ صَلاَةٌ كُنَّا نُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#583
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that Hafsah said:"When the dawn appears, the Messenger of Allah (ﷺ) would only pray two short Rak'ahs
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر طلوع ہونے کے بعد صرف دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لاَ يُصَلِّي إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ .
#584
Sahih
It was narrated that 'Amr bin 'Abasah said:"I came to the Messenger of Allah, who became Muslim with you?' He said: 'Free men and slaves.' I said: 'Is there any moment which brings one closer to Allah than another?' He said: 'Yes, the last part of the night, so pray as much as you want until you pray Subh, then stop until the sun has risen until and it looks like a shield and (its shinning)spreads. Then pray as much as you want until an object's shadow is at its shortest, then stop until the sun passes its zenith, for Hell is stoked at midday. Then pray 'Asr, then stop until you pray 'Asr, then stop until the sun has set, for it sets between the horns of a Shaitan and rises between the horns of a Shaitan.'" [1] [1] Similar has been recorded by Muslim
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کون اسلام لایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام ۱؎ میں نے عرض کیا: کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ حاصل ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، رات کا آخری حصہ ہے، اس میں فجر پڑھنے تک جتنی نماز چاہو پڑھو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور اسی طرح اس وقت تک رکے رہو جب تک سورج ڈھال کی طرح رہے ( ایوب کی روایت میں «وما دامت» کے بجائے «فما دامت» ہے ) یہاں تک کہ روشنی پھیل جائے، پھر جتنی چاہو پڑھو یہاں تک کہ ستون اپنے سایہ پر کھڑا ہو جائے ۲؎ پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اس لیے کہ نصف النہار ( کھڑی دوپہر ) میں جہنم سلگائی جاتی ہے، پھر جتنا مناسب سمجھو نماز پڑھو یہاں تک کہ عصر پڑھ لو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے، اور دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔
أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَيُّوبُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَسَنٌ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَسْلَمَ مَعَكَ قَالَ " حُرٌّ وَعَبْدٌ " . قُلْتُ هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أُخْرَى قَالَ " نَعَمْ جَوْفُ اللَّيْلِ الآخِرُ فَصَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَمَا دَامَتْ " . وَقَالَ أَيُّوبُ فَمَا دَامَتْ " كَأَنَّهَا حَجَفَةٌ حَتَّى تَنْتَشِرَ ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى يَقُومَ الْعَمُودُ عَلَى ظِلِّهِ ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ نِصْفَ النَّهَارِ ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَىْ شَيْطَانٍ وَتَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَىْ شَيْطَانٍ " .
#585
Sahih
It was narrated from Jubair bin Mut'im that the Prophet (ﷺ) said:"O Banu 'Abd Manaf, do not prevent anyone from circumambulating this House and praying at any time he wants of night or day
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! تم کسی کو رات یا دن کسی بھی وقت اس گھر کا طواف کرنے، اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهْ، يُحَدِّثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " .
#586
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:"If the Messenger of Allah (ﷺ) was setting out on a journey before the sun passed its zenith, he would delay Zuhr until the time of 'Asr, then he would stop and combine the prayer. If the sun passed its zenith before he set out, he would pray Zuhr and then set off
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرتے تو عصر تک ظہر کو مؤخر کر دیتے، پھر سواری سے نیچے اترتے اور جمع بین الصلاتین کرتے یعنی دونوں صلاتوں کو ایک ساتھ پڑھتے ۱؎، اور اگر سفر کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ .
#587
Sahih
It was narrated from Abu At-Tufail 'Amir bin Wathilah that Mu'adh bin Jabal told him that they went out with the Messenger of Allah (ﷺ) in the year of Tabuk, and the Messenger of Allah (ﷺ) was joining Zuhr and 'Asr, and Maghrib and 'Isha'. He delayed the prayer one day then he went out and prayed Zuhr and 'Asr together, then he went in and came out again and prayed Maghrib and 'Isha
ابوالطفیل عامر بن واثلۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے سال نکلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے رہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز کو مؤخر کیا، پھر نکلے اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ ادا کیا، پھر اندر داخل ہوئے، پھر نکلے تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ، خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ تَبُوكَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَأَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ .
#588
Hasan
Kathir bin Qarawanda said:"I asked Salim bin 'Abdullah about how his father prayed when traveling. We asked him: 'Did he combine any of his prayers when traveling?' He said that Safiyyah bint Abi 'Ubaid was married to him, and she wrote to him, when he was at some farmland of his, saying: 'This is the last of my days in this world, and the first day of the Hereafter." [1] He rode quickly to go to her, and when the time for Zuhr came, the Mu'adhdhin said to him: "The prayer, O Abu 'Abdur-Rahman!" But he paid no attention to him until it was between the time for the two prayers, then he stopped and said: "Say the Iqamah and when I say the Taslim, say the Iqamah." Then he rode on again, and when the sun set the Mu'adhdhin said to him; "The prayer!" He said: "Do as you did for Zuhr and 'Asr." When the stars had appeared, he stopped and said to the Mu'adhdhin: "Say the Iqamah and when I say the Taslim, say the Iqamah." He prayed, then when he had finished he turned to us and said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If any one of you has an urgent need that he fears he may miss, let him pray like this.'" [1] Meaning that she was dying
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ) کی نماز کے بارے میں پوچھا، نیز ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سفر کے دوران کسی نماز کو جمع کرتے تھے؟ تو انہوں نے ذکر کیا کہ صفیہ بنت ابی عبید ( جو ان کے عقد میں تھیں ) نے انہیں لکھا، اور وہ اپنے ایک کھیت میں تھے کہ میرا دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن ہے ( یعنی قریب المرگ ہوں آپ تشریف لائیے ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم سوار ہوئے، اور ان تک پہنچنے کے لیے انہوں نے بڑی تیزی دکھائی یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت ہوا تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئیے، لیکن انہوں نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی یہاں تک کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہو گیا، تو سواری سے اترے اور بولے: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو ( پھر ) تکبیر کہو، ۲؎ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا تو ان سے مؤذن نے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، انہوں نے کہا: جیسے ظہر اور عصر میں کیا گیا ویسے ہی کرو، پھر چل پڑے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے، تو سواری سے اترے، پھر مؤذن سے کہا: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو پھر تکبیر کہو، تو انہوں نے نماز پڑھی، پھر پلٹے اور ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کسی کو ایسا معاملہ پیش آ جائے جس کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ اسی طرح ( جمع کر کے ) نماز پڑھے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ قَارَوَنْدَا، قَالَ سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَلاَةِ، أَبِيهِ فِي السَّفَرِ وَسَأَلْنَاهُ هَلْ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ شَىْءٍ مِنْ صَلاَتِهِ فِي سَفَرِهِ فَذَكَرَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ كَانَتْ تَحْتَهُ فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي زَرَّاعَةٍ لَهُ أَنِّي فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الآخِرَةِ . فَرَكِبَ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ إِلَيْهَا حَتَّى إِذَا حَانَتْ صَلاَةُ الظُّهْرِ قَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاَةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ . فَلَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ نَزَلَ فَقَالَ أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ . فَصَلَّى ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاَةَ . فَقَالَ كَفِعْلِكَ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ . ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا اشْتَبَكَتِ النُّجُومُ نَزَلَ ثُمَّ قَالَ لِلْمُؤَذِّنِ أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ . فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الأَمْرُ الَّذِي يَخَافُ فَوْتَهُ فَلْيُصَلِّ هَذِهِ الصَّلاَةَ " .
#589
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"I prayed with the Prophet (ﷺ) in Al-Madinah, eight together and seven together. He delayed Zuhr and brought 'Asr forward, and he delayed Maghrib and brought 'Isha' forward
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ایک ساتھ آٹھ رکعت، اور سات رکعت نماز پڑھی، آپ نے ظہر کو مؤخر کیا، اور عصر میں جلدی کی، اور مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء میں جلدی کی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ .
#590
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that he prayed Al-Uula (Zuhr) and 'Asr together in Al-Basrah with nothing in between them, and he prayed Maghrib and 'Isha' together with nothing in between them. He did that because he was busy and Ibn 'Abbas said that he had prayed Zuhr and 'Isha' together with the Messenger of Allah (ﷺ) in Al-Madinah, eight Rak'ahs with nothing in between
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے بصرہ میں پہلی نماز ۱؎ ( ظہر ) اور عصر ایک ساتھ پڑھی، ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، اور مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، انہوں نے ایسا کسی مشغولیت کی بناء پر کیا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا کہنا ہے کہ انہوں نے مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی نماز ( ظہر ) اور عصر آٹھ رکعتیں پڑھی، ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز فاصل نہیں تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ صَلَّى بِالْبَصْرَةِ الأُولَى وَالْعَصْرَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا شَىْءٌ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا شَىْءٌ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْ شُغْلٍ وَزَعَمَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ الأُولَى وَالْعَصْرَ ثَمَانِ سَجَدَاتٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا شَىْءٌ .
#591
Sahih
It was narrated that Isma'il bin 'Abdur-Rahman, a Shaikh of the Quraish, said:"I accompanied Ibn 'Umar to Al-Hima. [1] When the sun set I felt too nervous to remind him of the prayer, so he went on until the light on the horizon had disappeared and it was getting dark, then he stopped and prayed Maghrib, three Rak'ahs, then he prayed two Rak'ahs immediately afterwards, then he said: 'This what I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do.'" [1] A place near Madinah
قریش کے ایک شیخ اسماعیل بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں حمی ۱؎ تک ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہا، جب سورج ڈوب گیا تو میں ڈرا کہ ان سے یہ کہوں کہ نماز پڑھ لیجئیے، چنانچہ وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ افق کی سفیدی اور ابتدائی رات کی تاریکی ختم ہو گئی، پھر وہ اترے اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ - قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هِبْتُ أَنْ أَقُولَ لَهُ الصَّلاَةَ فَسَارَ حَتَّى ذَهَبَ بَيَاضُ الأُفُقِ وَفَحْمَةُ الْعِشَاءِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاَثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ عَلَى إِثْرِهَا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ .
#592
Sahih
It was narrated that Az-Zuhri said:"Salim told me that his father said: 'I saw the Messenger of Allah (ﷺ), when he was in a hurry to travel, delaying Maghrib so that he could combine it with 'Isha
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کو سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب مؤخر کرتے یہاں تک کہ اس کو اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ صَلاَةَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ .
#593
Daif Isnaad
It was narrated that Jabir said:"The sun set when the Messenger of Allah (ﷺ) was in Makkah, and he joined the two prayers in Sarif.: [1] [1] A valley about 12 km northeast of Makkah on the way to Al-Madinah
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، تو آپ نے مقام سرف ۱؎ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بِسَرِفَ .
#594
Sahih
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"If the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to travel quickly, he would delay Zuhr until the time of 'Asr and combine them, and he would delay Maghrib until he combined it with 'Isha' when the twilight had disappeared
انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کرتے، پھر دونوں کو ایک ساتھ جمع کرتے، اور مغرب کو شفق کے ڈوب جانے تک مؤخر کرتے، اور پھر اسے اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ .
#595
Sahih
Nafi' said:"I went out with 'Abdullah bin 'Umar on a journey to some of his land. Then someone came to him and said: 'Safiyyah bint Abi 'Ubaid is sick, try to get there before it is too late.' He set out quickly, accompanied by a man of the Quraish. The sun set but he did not pray, although I knew him to be very careful about praying on time. When he slowed down I said: 'The prayer, may Allah have mercy on you.' He turned to me but carried on until the twilight was almost gone, then he stopped and prayed Maghrib, then he said the Iqamah for 'Isha', at that time the twilight had totally disappeared and led us in prayer. Then he turned to us and said: 'If the Messenger of Allah (ﷺ) was in a hurry to travel he would do this
نافع کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، وہ اپنی زمین ( کھیتی ) کا ارادہ کر رہے تھے، اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آپ کی بیوی صفیہ بنت ابو عبید سخت بیمار ہیں تو آپ جا کر ان سے مل لیجئے، چنانچہ وہ بڑی تیز رفتاری سے چلے اور ان کے ساتھ ایک قریشی تھا وہ بھی ساتھ جا رہا تھا، آفتاب غروب ہوا تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ نماز کی بڑی محافظت کرتے ہیں، تو جب انہوں نے تاخیر کی تو میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ جب شفق ڈوبنے لگی تو اترے، اور مغرب پڑھی، پھر عشاء کی تکبیر کہی، اس وقت شفق غائب ہو گئی تھی، انہوں نے ہمیں ( عشاء کی ) نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ يُرِيدُ أَرْضًا لَهُ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ لَمَا بِهَا فَانْظُرْ أَنْ تُدْرِكَهَا . فَخَرَجَ مُسْرِعًا وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُسَايِرُهُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَلَمْ يُصَلِّ الصَّلاَةَ وَكَانَ عَهْدِي بِهِ وَهُوَ يُحَافِظُ عَلَى الصَّلاَةِ فَلَمَّا أَبْطَأَ قُلْتُ الصَّلاَةَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ . فَالْتَفَتَ إِلَىَّ وَمَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ وَقَدْ تَوَارَى الشَّفَقُ فَصَلَّى بِنَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ صَنَعَ هَكَذَا .
#596
Sahih
It was narrated that Nafi' said:"We came back with Ibn 'Umar from Makkah. One night he kept on travelling until evening came, and we thought that he had forgotten the prayer!' But he kept quiet and kept going until the twilight had almost disappeared, then he stopped and prayed, and when the twilight disappeared he prayed 'Isha'. Then he turned to us and said: This is what we used to do with the Messenger of Allah (ﷺ) if he was in a hurry to travel
نافع کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے آئے، تو جب وہ رات آئی تو وہ ہمیں لے کر چلے ( اور برابر چلتے رہے ) یہاں تک کہ ہم نے شام کر لی، اور ہم نے گمان کیا کہ وہ نماز بھول گئے ہیں، چنانچہ ہم نے ان سے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ خاموش رہے اور چلتے رہے یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی ۱؎ پھر وہ اترے اور انہوں نے نماز پڑھی، اور جب شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: جب چلنے کی جلدی ہوتی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ تِلْكَ اللَّيْلَةُ سَارَ بِنَا حَتَّى أَمْسَيْنَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ نَسِيَ الصَّلاَةَ فَقُلْنَا لَهُ الصَّلاَةَ . فَسَكَتَ وَسَارَ حَتَّى كَادَ الشَّفَقُ أَنْ يَغِيبَ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى وَغَابَ الشَّفَقُ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ هَكَذَا كُنَّا نَصْنَعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ .
#597
Hasan
Kathir bin Qarawanda said:"We asked Salim bin 'Abdullah about prayer while traveling. We said: 'Did 'Abdullah combine any of his prayer while traveling?' He said: 'No, except at Jam'.'[1] Then he paused, and said: 'Safiyyah was married to him, and she sent word to him that she was in her last day in this world and the first day in the Hereafter. So he ride off in a hurry, and I was with him. The time for prayer came and the Mu'adhdhin said to him: 'The prayer, O Abu 'Abdur-Rahman! But he kept going until it was between the time for the two prayer. Then he stopped and said to the Mu'adhdhin: "Say the Iqamah, and when I say the Taslim at the end of Zuhr, say the Iqamah (again) straight away." So he said the Iqamah and he prayed Zuhr, two Rak'ahs, then he said the Iqamah (again) straight away, and he prayed 'Asr, two Rak'ahs. Then he rode off quickly until the sun set and the Mu'adhdhin said to him: "The prayer, O Abu 'Abdur-Rahman!" He said: "Do what you did before." He rode on until the starts appeared, then he stopped and said: "Say the Iqamah, then when I say the Taslim, say the Iqamah. So he said the Iqamah and he prayed Maghrib, three Rak'ahs, then he said the Iqamah (again) straight away and he prayed 'Isha', then he said one Taslim, turning his face. Then he said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If any one of you has urgent need that he fears he may miss, let him pray like this
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، سوائے مزدلفہ کے، پھر چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ تھیں، انہوں نے انہیں کہلوا بھیجا کہ میں دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں ۱؎ ( اس لیے آپ آ کر آخری ملاقات کر لیجئے ) ، تو وہ سوار ہوئے، اور میں اس ان کے ساتھ تھا، وہ تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا، تو ان سے مؤذن نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئے، لیکن وہ چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں نمازوں کا درمیانی وقت آ گیا، تو اترے اور مؤذن سے کہا: اقامت کہو، اور جب میں ظہر پڑھ لوں تو اپنی جگہ پر ( دوبارہ ) اقامت کہنا، چنانچہ اس نے اقامت کہی، تو انہوں نے ظہر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر تو ( مؤذن نے ) اپنی اسی جگہ پر پھر اقامت کہی، تو انہوں نے عصر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سوار ہوئے اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن نماز پڑھ لیجئے، تو انہوں نے کہا جیسے پہلے کیا تھا، اسی طرح کرو اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے تو اترے، اور کہنے لگے: اقامت کہو، اور جب سلام پھیر چکوں تو دوبارہ اقامت کہنا، پھر انہوں نے مغرب کی تین رکعت پڑھائی، پھر اپنی اسی جگہ پر اس نے پھر تکبیر کہی تو انہوں نے عشاء پڑھائی، اور اپنے چہرہ کے سامنے ایک ہی سلام پھیرا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اسی طرح نماز پڑھے ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ قَارَوَنْدَا، قَالَ سَأَلْنَا سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الصَّلاَةِ، فِي السَّفَرِ فَقُلْنَا أَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ شَىْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لاَ إِلاَّ بِجَمْعٍ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ كَانَتْ عِنْدَهُ صَفِيَّةُ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنِّي فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الآخِرَةِ . فَرَكِبَ وَأَنَا مَعَهُ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى حَانَتِ الصَّلاَةُ فَقَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاَةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ . فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ نَزَلَ فَقَالَ لِلْمُؤَذِّنِ أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ مِنَ الظُّهْرِ فَأَقِمْ مَكَانَكَ . فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقَامَ مَكَانَهُ فَصَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ لَهُ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاَةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ . فَقَالَ كَفِعْلِكَ الأَوَّلِ . فَسَارَ حَتَّى إِذَا اشْتَبَكَتِ النُّجُومُ نَزَلَ فَقَالَ أَقِمْ فَإِذَا سَلَّمْتُ فَأَقِمْ . فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا ثُمَّ أَقَامَ مَكَانَهُ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ ثُمَّ سَلَّمَ وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمْ أَمْرٌ يَخْشَى فَوْتَهُ فَلْيُصَلِّ هَذِهِ الصَّلاَةَ " .
#598
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that if the Messenger of Allah (ﷺ) was in a hurry to travel, he would combine Maghrib and 'Isha
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ .
#599
Sahih Isnaad
It was narrated that Ibn 'Umar said:"If the Messenger of Allah (ﷺ) was in a hurry to travel, or some emergency arose, he would combine Maghrib and 'Isha
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی یا کوئی معاملہ درپیش ہوتا، تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَوْ حَزَبَهُ أَمْرٌ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ .
#600
Sahih
Sufyan said:"I heard Az-Zuhri say: 'Salim told me that his father said: 'I saw the Prophet (ﷺ), if he was in a hurry to travel, joining Maghrib and 'Isha
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ .