#526
Sahih
Jabir bin 'Abdullah said:"Jibril, peace be upon him, came to the Prophet (ﷺ) when the sun had passed its zenith and said: 'Get up, O Muhammad, and pray Zuhr when the sun has passed its zenith.' Then he waited until a man's shadow was equal to his height. Then he came to him for 'Asr and said: 'Get up, O Muhammad, and pray 'Asr.' Then he waited until the sunset, then he came to him and said: 'Get up, O Muhammad, and pray Maghrib.' So he got up and prayed it when the sun had set. Then he waited until the twilight disappeared, then he came to him and said: 'Get up, O Muhammad, and pray 'Isha'.' So he got up and prayed it. Then he came to him when dawn broke and said: 'Get up, O Muhammad, and pray.' So he got up and prayed Subh.' So he got up and prayed Subh. Then he came to him the next day when a man's shadow was equal to his height, and said: 'Get up, O Muhammad, and pray.' So he prayed Zuhr. Then Jibril came to him when a man's shadow was equal to twice his length and said: 'Get up, O Muhammad, and pray.' So he prayed 'Asr. Then he came to him for Maghrib when the sun set, at exactly the same time as the day before, and said: 'Get up, O Muhammad, and pray.' So he prayed Maghrib. Then he came to him for 'Isha' when the first third of the night had passed, and said: 'Get up and pray.' So he prayed 'Isha'. Then he came to him for Subh when it had become very bright, and said: 'Get up and pray.' So he prayed Subh. Then he said: 'The times of prayer one between those two (limits)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل گیا، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور جا کر جس وقت سورج ڈھل جائے ظہر پڑھیں، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب آدمی کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، تو وہ آپ کے پاس عصر کے لیے آئے اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور عصر پڑھیں، پھر وہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا، تو پھر آپ کے پاس آئے اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور مغرب پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر جس وقت سورج اچھی طرح ڈوب گیا مغرب پڑھی، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب شفق ختم ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: اٹھیں اور عشاء پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر عشاء کی نماز پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس صبح میں آئے جس وقت فجر روشن ہو گئی، اور کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا فرمائی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، اور کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز پڑھیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کے لیے اس وقت آئے جس وقت سورج ڈوب گیا جس وقت پہلے روز آئے تھے، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس عشاء کے لیے آئے جس وقت رات کا پہلا تہائی حصہ ختم ہو گیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس آئے جس وقت خوب اجالا ہو گیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا کی، پھر انہوں نے کہا: ان دونوں کے بیچ میں پورا وقت ہے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ حِينَ مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ فَىْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ جَاءَهُ لِلْعَصْرِ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ . ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ جَاءَهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلاَّهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ الشَّفَقُ جَاءَهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ . فَقَامَ فَصَلاَّهَا ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ فِي الصُّبْحِ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ . فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَىْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ . فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ حِينَ كَانَ فَىْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ فَقَالَ قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ . فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزُلْ عَنْهُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ . فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ . فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ . فَصَلَّى الصُّبْحَ فَقَالَ " مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ كُلُّهُ " .
#527
Sahih
It was narrated that Muhammad bin 'Amr bin Hasan said:"Al-Hajjaj arrived, and we asked Jabir bin 'Abdullah, who said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Zuhr at the time of intense heat, [1] and 'Asr when the sun was white and clear, and Maghrib when the sun set, and with 'Isha' it would depend - if he saw that the people had gathered, he would pray early, and if he saw that they had not come yet, he would delay it.'" [1] Meaning, at the earliest time
محمد بن عمرو بن حسن کہتے ہیں کہ حجاج آئے تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر میں ( سورج ڈھلتے ہی ) پڑھتے تھے، اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور صاف ہوتا، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے، اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر کر رہے ہیں تو مؤخر کرتے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، قَالَ قَدِمَ الْحَجَّاجُ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ .
#528
Sahih
It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said:"I am the most knowledgeable of people about the time of the 'Isha' prayer. The Prophet (ﷺ) used to pray it when the moon set on the third night of the month
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اس نماز یعنی عشاء آخرہ کا وقت لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ، بِمِيقَاتِ هَذِهِ الصَّلاَةِ عِشَاءِ الآخِرَةِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ .
#529
Sahih
It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said:"By Allah, I am the most knowledgeable of people about the time of the 'Isha' prayers. The Prophet (ﷺ) used to pray it when the moon set on the third night of the month
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں اس نماز یعنی عشاء کا وقت لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلاَةِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ .
#530
Sahih
Sayyar bin Salamah said:"My father and I entered upon Abu Barzah, and my father said to him: 'How did the Messenger of Allah (ﷺ) pray the prescribed prayers?' He said: He used to pray Zuhr, which you call Al-Uala (the first) when the sun passed its zenith; he used to pray 'Asr then one of us could go back to his home in the farthest part of Al-Madinah when the sun was still bright.'" - He said: "I forgot what he said to me about Maghrib." - "And he used to like to delay 'Isha', which you call Al-'Atamah, and he did not like to sleep before it nor speak after it. And he used to finish the Al-Ghadah (Fajr) prayer when a man could recognize his neighbor, and he used to recite between sixty and one hundred verses
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد دونوں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا: ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے ( یعنی کب ) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی ( نماز پڑھ کر ) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا، اور سورج تیز اور بلند ہوتا، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں ( اسے ) بھول گیا، اور کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي، عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي أَخْبِرْنَا كَيْفَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ قَالَ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ قَالَ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ تُؤَخَّرَ صَلاَةُ الْعِشَاءِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ قَالَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ .
#531
Sahih
It was narrated that Ibn Juraij said:"I said to 'Ata': 'What is the best time you think I should pray Al-'Atamah, either in congregation or on my own?' He said: 'I heard Ibn 'Abbas say: "The Messenger of Allah (ﷺ) delayed Al-'Atamah one night until the people had slept and woken up, then slept and woken up again. Then 'Umar got up and said: 'The prayer, the prayer!'" 'Ata' said: 'Ibn 'Abbas said: "The Messenger of Allah (ﷺ) came out, and it is as if I can see him now, with water dripping from his head, putting his hand on the side of his head. [He said: "And he indicated (how)"].'" I checked with 'Ata' how the Prophet (ﷺ) put his hand on his head, and he showed me the same way as Ibn 'Abbas had done. 'Ata' spread his fingers a little, then placed them with the tips of his fingers on his forehead, then he drew his fingers together on his head until his thumb touched the edge of the ear that is next to the face, then moved it to his temple and forehead, then he said: 'Were it not that I would impose too much difficulty for my Ummah, I would have commanded them to offer this prayer only at this time
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: عشاء کی امامت کرنے یا تنہا پڑھنے کے لیے کون سا وقت آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم کو کہتے سنا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء مؤخر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے، ( پھر ) بیدار ہوئے ( پھر ) سو گئے، ( پھر ) بیدار ہوئے، تو عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے: صلاۃ! صلاۃ! تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ اپنا ہاتھ سر کے ایک حصہ پر رکھے ہوئے تھے۔ راوی ( ابن جریج ) کہتے ہیں: میں نے عطاء سے جاننا چاہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر کیسے رکھا؟ تو انہوں نے مجھے اشارہ کے ذریعہ بتایا جیسا کہ ابن عباس نے انہیں اشارہ سے بتایا تھا، عطاء نے اپنی انگلیوں کے درمیان تھوڑا فاصلہ کیا، پھر اسے رکھا یہاں تک کہ ان کی انگلیوں کے سرے سر کے اگلے حصہ تک پہنچ گئے، پھر انہیں ملا کر سر پر اس طرح گزارتے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے کان کے کناروں کو جو چہرہ سے ملا ہوتا ہے چھو لیتے، پھر کنپٹی اور پیشانی کے کناروں پر پھیرتے، نہ دیر کرتے نہ جلدی سوائے اتنی تاخیر کے – پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے دشوار نہیں سمجھتا تو انہیں حکم دیتا کہ وہ اسی قدر تاخیر سے عشاء پڑھیں ۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَىُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَتَمَةَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ الصَّلاَةَ الصَّلاَةَ قَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ قَالَ وَأَشَارَ فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَأَوْمَأَ إِلَىَّ كَمَا أَشَارَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ بِشَىْءٍ مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَهَا فَانْتَهَى أَطْرَافُ أَصَابِعِهِ إِلَى مُقَدَّمِ الرَّأْسِ ثُمَّ ضَمَّهَا يَمُرُّ بِهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامَاهُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصَّدْغِ وَنَاحِيَةِ الْجَبِينِ لاَ يَقْصُرُ وَلاَ يَبْطُشُ شَيْئًا إِلاَّ كَذَلِكَ ثُمَّ قَالَ " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ لاَ يُصَلُّوهَا إِلاَّ هَكَذَا " .
#532
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Prophet (ﷺ) delayed 'Isha' one night until part of the night had passed. Then 'Umar, may Allah be pleased with him, got up and called out: 'The prayer, O Messenger of Allah! The women and children have gone to sleep.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) came out with water dripping from his head, saying: 'This is (the best) time (for 'Isha'), were it not that this would be too difficult for my Ummah
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا ( ایک حصہ ) گزر گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اور آواز دی: اللہ کے رسول! صلاۃ! عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ فرما رہے تھے: یہی ( مناسب اور پسندیدہ ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا ( تو اسے انہیں اسی وقت پڑھنے کا حکم دیتا ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخَّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَامَ عُمَرُ - رضى الله عنه - فَنَادَى الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ رَأْسِهِ وَهُوَ يَقُولُ " إِنَّهُ الْوَقْتُ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي " .
#533
Sahih
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to delay the later 'Isha'."[1] [1] It is described as the later 'Isha' prayer because the Maghrib prayer is sometimes called 'Isha' prayer, but it is the first 'Isha'. Some scholars are of the opinion that it is disliked to call Maghrib 'Isha' without qualifying it as the first 'Isha'. See Fath Al-Bari
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو مؤخر کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ .
#534
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah, I would have commanded them to delay 'Isha' and to use the Siwak for every prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے شاق نہ سمجھتا تو انہیں عشاء کو مؤخر کرنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ " .
#535
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) delayed A;-'Atamah one night, and 'Umar, may Allah be pleased with him, called out to him: 'The women and children have gone to sleep.' The Messenger of Allah (ﷺ) came out and said: 'No one is waiting for it except you.' At that time no prayer was offered except in Al-Madinah. Then he said: 'Pray it between the time when the twilight disappears and when one-third of the night has passed
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء میں تاخیر کی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، اور فرمایا: تمہارے سوا اس نماز کا کوئی انتظار نہیں کر رہا ہے ۱؎، اور ( اس وقت ) صرف مدینہ ہی میں نماز پڑھی جا رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شفق غائب ہونے سے لے کر تہائی رات تک پڑھو ۔ اور اس حدیث کے الفاظ ابن حمیر کے ہیں۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً بِالْعَتَمَةِ فَنَادَاهُ عُمَرُ رضى الله عنه نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " مَا يَنْتَظِرُهَا غَيْرُكُمْ " . وَلَمْ يَكُنْ يُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِالْمَدِينَةِ ثُمَّ قَالَ " صَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ " . وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حِمْيَرَ .
#536
Sahih
It was narrated that 'Aishah the Mother of the Believers said:"The Prophet (ﷺ) delayed the prayer one night until most of the night had passed and the people in the Masjid had gone home to sleep, then he went out and prayed, and said: 'This is indeed its (prayer) time, were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا بہت سا حصہ گزر گیا، اور مسجد کے لوگ سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور نماز پڑھائی، اور فرمایا: یہی ( اس نماز کا پسندیدہ ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا ( تو اسے اس کا حکم دیتا ) ۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى وَقَالَ " إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي " .
#537
Sahih
It was narrated that Ibn 'Umar said:"We stayed in the Masjid one night waiting for the Messenger of Allah (ﷺ) to pray 'Isha'. He came out to us when one-third of the night or more had passed, and he said when he came out: 'You are waiting for a prayer for which the followers of no other religion are waiting. Were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah, I would have led them in prayer at this time.' Then he commanded the Mu'adhdhin to say the Iqamah and he prayed
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، جب تہائی یا اس سے کچھ زیادہ رات گزر گئی تو آپ نکل کر ہمارے پاس آئے، اور جس وقت نکل کر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایک ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے سوا کسی اور دین کا ماننے والا اس کا انتظار نہیں کر رہا ہے، اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو انہیں اسی وقت نماز پڑھاتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعِشَاءِ الآخِرَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ " إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلاَةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلاَ أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ " . ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى .
#538
Sahih
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in Maghrib prayer, then he did not come out to us until half the night had passed. Then he came out and led them in prayer, then he said: 'The people have prayed and gone to sleep, but you are still in a state of prayer so long as you are waiting for the prayer. Were it not for the weakness of the weak and, the sickness of the sick, I would have commanded that this prayer be delayed until halfway through the night
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو مغرب پڑھائی، پھر آپ نہیں نکلے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، پھر نکلے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر فرمایا: لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہیں، اور تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے نماز ہی میں تھے، اگر کمزور کی کمزوری، اور بیمار کی بیماری نہ ہوتی تو میں حکم دیتا کہ اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کیا جائے ۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْمَغْرِبِ ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ وَلَوْلاَ ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسُقْمُ السَّقِيمِ لأَمَرْتُ بِهَذِهِ الصَّلاَةِ أَنْ تُؤَخَّرَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " .
#539
Sahih
Humaid said:"Anas was asked: 'Did the Prophet (ﷺ) use a ring?' He said: 'Yes. One night he delayed the later 'Isha' prayer, until almost halfway through the night. When he prayed the Prophet (ﷺ) turned his face toward us and said: 'You are still in a state of prayer so long as you waiting for it.'" Anas said: 'It is as if I can see the luster of his ring.' According to the narration of 'Ali - that is, Ibn Hujr - "until halfway through the night
حمید کہتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پہنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، ایک رات آپ نے آدھی رات کے قریب تک عشاء مؤخر کی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا: جب تک تم لوگ نماز کا انتظار کرتے رہے برابر نماز میں رہے ۔ انس کہتے ہیں: گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَاتَمًا قَالَ نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً صَلاَةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَلَمَّا أَنْ صَلَّى أَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " . قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ . فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ .
#540
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"If the people knew what (virtue) there was in the call to prayer and the first row, and they not find any way to get to do that [1] other than by drawing lots, they would do that. If they knew what (virtue) there was in coming early to prayer, they would compete to be first in the Masjid. If they knew what (virtue) there was in Al-'Atamah and Subh, they would come to them even if they had to crawl." [1] Indicating the two mentioned items: that is the call to prayer and praying in the first row
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ اس ثواب کو جو اذان دینے اور پہلی صف میں کھڑے ہونے میں ہے جان لیتے پھر اس کے لیے سوائے قرعہ اندازی کے کوئی اور راہ نہ پاتے، تو ضرور قرعہ ڈالتے، اور اگر لوگ جان لیتے کہ اول وقت نماز پڑھنے میں کتنا ثواب ہے، تو ضرور اس کی طرف سبقت کرتے، اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ عتمہ ( عشاء ) اور فجر میں آنے میں کیا ثواب ہے، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آتے خواہ انہیں گھٹنے یا سرین کے بل گھِسٹ کر آنا پڑتا ۔
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا وَلَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
#541
Sahih
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do not let the Bedouin make you change the name of this prayer of yours, for they delay the prayer until it is very dark because of their preoccupation with camels and milking them. Verily, it is 'Isha
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں ۱؎ وہ لوگ اپنی اونٹنیوں کو دوہنے کے لیے دیر کرتے ہیں ( اسی بنا پر دیر سے پڑھی جانے والی اس نماز کو عتمہ کہتے ہیں ) حالانکہ یہ عشاء ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، - هُوَ الْحَفَرِيُّ - عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عن أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَلَى الإِبِلِ وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ " .
#542
Sahih
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say on the Minbar: 'Do not let the Bedouin make you change the name of your prayer; verily, it is 'Isha
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں، جان لو اس کا نام عشاء ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ " لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمْ أَلاَ إِنَّهَا الْعِشَاءُ " .
#543
Sahih
Ja'far bin Muhammad bin 'Ali bin Al-Husain narrated from his father, that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Subh as soon as he was certain the dawn had appeared
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی جس وقت صبح ( صادق ) آپ پر واضح ہو گئی۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ .
#544
Sahih Isnaad
Humaid narrated from Ans that a man came to the Prophet (ﷺ) and asked him about the time of the Subh prayer. The following morning he commanded that the Iqamah for prayer be said when dawn broke, and he led us in prayer. The next day when there was light he commanded that the Iqamah for prayer be said and he led us in prayer. Then he said:"Where is the one who was asking about the time for prayer? (It is) between these two times
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے فجر کے وقت کے بارے میں پوچھا، تو جب ہم نے دوسرے دن صبح کی تو آپ نے ہمیں جس وقت فجر کی پو پھٹی نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر جب دوسرا دن آیا، اور خوب اجالا ہو گیا تو حکم دیا تو نماز کھڑی کی گئی، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ انہی دونوں کے درمیان ( فجر کا ) وقت ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ صَلاَةِ الْغَدَاةِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا مِنَ الْغَدِ أَمَرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ أَنْ تُقَامَ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِنَا فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَسْفَرَ ثُمَّ أَمَرَ فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِنَا ثُمَّ قَالَ " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ " .
#545
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) has prayed Subh, the women would depart, wrapped in their wrappers, unrecognizable because of the darkness
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تھے ( آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر ) عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی لوٹتی تھیں، تو وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ .
#546
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The women used to pray Subh with the Messenger of Allah (ﷺ), wrapped in their wrappers, then they would return, and no one would recognize them because of the darkness
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی فجر پڑھتی تھیں، پھر وہ لوٹتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی انہیں پہچان نہیں پاتا تھا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ فَيَرْجِعْنَ فَمَا يَعْرِفْهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ .
#547
Sahih
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Fajr on the day of Khaibar during the time it was still dark, when he was near the enemy. Then he attacked them and said: 'Allahu Akbar! Khaibar is destroyed!' Twice. 'Then, when it descends in their courtyard, evil will be the morning for those who had been warned!'" [1] [1] As-Saffat 37:
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فجر غلس ( اندھیرے ) میں پڑھی، ( آپ خیبر والوں کے قریب ہی تھے ) پھر آپ نے ان پر حملہ کیا، اور دو بار کہا: «اللہ أكبر» اللہ سب سے بڑا ہے خیبر ویران و برباد ہوا، جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ صَلاَةَ الصُّبْحِ بِغَلَسٍ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْهُمْ فَأَغَارَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ - مَرَّتَيْنِ - إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " .
#548
Hasan Sahih
It was narrated from Rafi' bin Khadij that the Prophet (ﷺ) said:"Pray Fajr when the dawn shines
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر اسفار میں پڑھو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ " .
#549
Sahih Isnaad
It was narrated from Mahmud bin Labid, from some men among his people who were of the Ansar, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The more you delay Fajr, the greater the reward
محمود بن لبید اپنی قوم کے کچھ انصاری لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنا تم فجر اجالے میں پڑھو گے، اتنا ہی ثواب زیادہ ہو گا ۱؎۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رِجَالٍ، مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا أَسْفَرْتُمْ بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ بِالأَجْرِ " .
#550
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever catches up with a prostration of Subh before the sun rises, then he has caught up with it; and whoever catches up with a prostration of 'Asr before the sun sets, then he has caught up with it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے نماز فجر کا ایک سجدہ پا لیا اس نے نماز فجر پالی ۱؎ اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کا ایک سجدہ پا لیا اس نے نماز عصر پالی ۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا وَمَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا " .