#3951
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The people used to try to bring their gifts (to the Prophet) on 'Aishah's day, hoping thereby to earn the pleasure of the Messenger of Allah
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ ہدیے اور تحفے بھیجتے جس دن عائشہ کی باری ہوتی، وہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی چاہتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#3952
Daif Isnaad
It was narrated that 'Aishah said:"Allah sent Revelation to the Prophet when I was with him, so I got up and closed the door between him and I. When it was taken off him, he said to me: 'O 'Aishah, Jibril sends greetings of Salam to you
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی، میں آپ کے ساتھ تھی، میں اٹھی اور اپنے اور آپ کے درمیان دروازہ بند کر دیا، جب وحی ختم ہو گئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”عائشہ! جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هُدَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ فَقُمْتُ فَأَجَفْتُ الْبَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَلَمَّا رُفِّهَ عَنْهُ قَالَ لِي " يَا عَائِشَةُ إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ " .
#3953
Sahih
It was narrated from 'Aishah that the Prophet said to her:"Jibril sends greetings of Salam to you." She said: "And upon him be peace and the mercy of Allah and His blessings; you see what we do not
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“، انہوں نے کہا: «وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ» ( جبرائیل کو عائشہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا: ) آپ تو وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا " إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ " . قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لاَ نَرَى .
#3954
Daif
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah said: 'O 'Aishah, this is Jibril and he is sending greetings of Salam to you.'" The same
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ اور آگے ویسے ہی ہے جیسے اوپر گزرا“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ روایت ٹھیک ہے، پہلی والی غلط ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ " . مِثْلَهُ سَوَاءٌ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الصَّوَابُ وَالَّذِي قَبْلَهُ خَطَأٌ .
#3955
Sahih
Anas said:"The Prophet was with one of the Mothers of the Believers when another one sent a wooden bowl in which was some food. She struck the hand of the Prophet and the bowl fell and broke. The Prophet picked up the two pieces and put them together, then he started to gather up the food and said: 'Your mother got jealous; eat.' So they ate. He waited until she brought the wooden bowl that was in her house, then he gave the sound bowl to the messenger and left the broken bowl in the house of the one who had broken it
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک پیالہ کھانا بھیجا، پہلی بیوی نے ( غصہ سے کھانا لانے والے ) کے ہاتھ پر مارا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ( کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا ) ، تم لوگ کھانا کھاؤ۔ لوگوں نے کھایا، پھر قاصد کو آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ جن کے گھر میں آپ تھے اپنا پیالہ لائیں تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا ۱؎ اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَتْ أُخْرَى بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ فَسَقَطَتِ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ " غَارَتْ أُمُّكُمْ كُلُوا " . فَأَكَلُوا فَأَمْسَكَ حَتَّى جَاءَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْهَا .
#3956
Sahih
It was narrated from Umm Salamah that she brought some food in a dish of hers to the Messenger of Allah and his Companions, then 'Aishah came, wrapped up in a garment, with a stone pestle and broke the dish. The Prophet gathered the broken pieces of the dish and said:"Eat; your mother got jealous," twice. Then the Messenger of Allah took the dish of 'Aishah and sent it to Umm Salamah and he gave the dish of Umm Salamah to 'Aishah
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک پیالے میں کھانا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آئیں۔ اتنے میں عائشہ رضی اللہ عنہا ایک چادر پہنے ہوئے آئیں، ان کے پاس ایک پتھر تھا، جس سے انہوں نے وہ پیالا مار کر دو ٹکرے کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے کے دونوں ٹکڑے جوڑنے لگے اور کہہ رہے تھے: تم لوگ کھاؤ، تمہاری ماں کو غیرت آ گئی، آپ نے دو بار کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا پیالا لیا اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بھجوا دیا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا پیالا عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا - يَعْنِي - أَتَتْ بِطَعَامٍ فِي صَحْفَةٍ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ فَجَاءَتْ عَائِشَةُ مُتَّزِرَةً بِكِسَاءٍ وَمَعَهَا فِهْرٌ فَفَلَقَتْ بِهِ الصَّحْفَةَ فَجَمَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ فِلْقَتَىِ الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ " كُلُوا غَارَتْ أُمُّكُمْ " . مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَحْفَةَ عَائِشَةَ فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَأَعْطَى صَحْفَةَ أُمِّ سَلَمَةَ عَائِشَةَ .
#3957
Daif
It was narrated that 'Aishah said:"I never saw any woman who made food like Safiyyah. She sent a dish to the Prophet in which was some food, and I could not keep myself from breaking it. I asked the Prophet what the expiation was for that, and he said: 'A dish like that dish, and food like that food
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے جیسی کھانا بنانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکی اور میں نے برتن توڑ دیا پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے کفارے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”برتن کے جیسا برتن اور کھانے کے جیسا کھانا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فُلَيْتٍ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دِجَاجَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ كَفَّارَتِهِ فَقَالَ " إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ " .
#3958
Sahih
Aishah said that the Messenger of Allah used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet entered upon either of us, she would say:"I perceive the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?" He came in to one of them, and she said that to him. He said: "No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again." Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you)' about 'Aishah and Hafsah, 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his wives' refers to him saying: "No, rather I drank honey
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا“۔ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“۔ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی کی دونوں بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) “۔ ( التحریم: ۴ ) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی“ ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " لاَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَتْ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ { وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا } لِقَوْلِهِ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً " .
#3959
Sahih Isnaad
It was narrated from Anas, that the Messenger of Allah had a female slave with whom he had intercourse, but 'Aishah and Hafsah would not leave him alone until he said that she was forbidden for him. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed:"O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' until the end of the Verse
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی تھی، آپ اس سے مجامعت فرماتے تھے۔ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا ایک دن آپ کے پاس بیٹھی رہیں یہاں تک کہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کر لی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» إِلَى آخِرِ الآيَةِ ”اے نبی! آپ اس چیز کو اپنے لیے کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال رکھا ہے“۔ ( التحریم: ۱ ) مکمل آیت نازل فرمائی ۱؎۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَرَمِيٌّ - هُوَ لَقَبُهُ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَلَمْ تَزَلْ بِهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ حَتَّى حَرَّمَهَا عَلَى نَفْسِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
#3960
Sahih Isnaad
It was narrated from 'Ubadah bin Al-Walid bin 'Ubadah bin As-Samit that 'Aishah said:"I looked for the Messenger of Allah and I put my hand on his hair." He said: "Your Shaitan has come to you." I said: "Don't you have a Shaitan?" He said: "Yes, but Allah helped me with him, so he submitted
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفتیش کر رہی تھی چنانچہ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے بالوں میں داخل کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس تمہارا شیطان آ گیا ہے“۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ کا شیطان نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اللہ کی قسم، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے محفوظ رکھا ہے لہٰذا میں اس سے محفوظ رہتا ہوں“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، - هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتِ الْتَمَسْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَدْخَلْتُ يَدِي فى شَعْرِهِ فَقَالَ " قَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ " . فَقُلْتُ أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ فَقَالَ " بَلَى وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ " .
#3961
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"I noticed that the Messenger of Allah was not there one night, and I thought that he had gone to one of his other wives, so I reached out for him, and found him bowing or prostrating, and saying: 'Subhanaka wa bi hamdika la ilaha illa anta (Glory and praise be to You, there is none worthy of worship but You).' I said: 'May my father and mother be sacrificed for you; you were doing one thing, and I was thinking of something else
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، مجھے گمان ہوا کہ آپ کسی بیوی کے پاس گئے ہوں گے۔ میں آپ کو تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ آپ رکوع یا سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں: «سبحانك و بحمدك لا إله إلا أنت» ”پاک ہے تیری ذات، تیری ہی تعریف ہے اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں“۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کچھ کر رہے ہیں اور میں کچھ اور ہی گمان کر رہی تھی۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَجَسَّسْتُهُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ " . فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ وَإِنِّي لَفِي شَأْنٍ آخَرَ .
#3962
Sahih
Aishah said:"I noticed that the Messenger of Allah was not there one night, and I thought that he had gone to one of his other wives. I looked for him then I came back, and there he was, bowing or prostrating and saying: 'Subhanaka wa bi hamdika la ilaha illa anta (Glory and praise be to You, there is none worthy of worship but You).' I said: 'May my father and mother be sacrificed for you; you were doing one thing and I was thinking of something else
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، مجھے گمان ہوا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے پاس گئے ہوں گے، میں آپ کو تلاش کرنے لگی پھر میں لوٹی تو دیکھا کہ آپ رکوع یا سجدے میں ہیں، آپ کہہ رہے ہیں: «سبحانك و بحمدك لا إله إلا أنت» میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کچھ کر رہے ہیں اور میں کچھ اور ہی گمان کر رہی تھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، { عَنْ عَطَاءٍ، } قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتِ افْتَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَجَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ " . فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ وَإِنِّي لَفِي آخَرَ .
#3963
Sahih
Aishah said:"Shall I not tell you about the Prophet and I?" We said: "Yes." She said: "When it was my night, he came in, placed his shoes by his feet, lay down his Rida' (upper garment), and spread his Izar (lower garment) on his bed. As soon as he thought that I had gone to sleep, he put his shoes on slowly and picked up his Rida' slowly. Then he opened the door slowly, went out and shut it slowly. I put my garment over my head, covered myself and put on my Izar (lower garment), and I set out after him until he came to Al-Baqi', raised his hands three times and stood there for a long time. Then he left and I left, he hurried and I hurried, he ran and I ran, and I got there before him and entered (the house). I had only just laid down when he came in and said: 'O 'Aishah, why are you out of breath?' (one of the reporters) Sulaiman said: I thought he (Ibn Wahb) said: 'short of breath.' He said: 'Either you tell me or the All-Aware, All-Knowing will tell me.' I said: 'O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you;' and I told him the story. He said: 'You were the black shape I saw in front of me?' I said: 'Yes.'" She said: "He gave me a shove in the chest that hurt me and said: 'You thought that Allah and His Messenger would be unfair to you.' She said: 'Whatever people conceal, Allah, the Mighty and Sublime, knows it.' He said: 'Yes.' He said: 'Jibril came to me when you saw (me leave) but he did not enter upon you because you have taken off your garments. So he called me but he concealed himself from you, and I answered him but I concealed it from you. I thought that you had gone to sleep and I did not want to wake you and I was afraid that you would feel lonely. He told me to go to Al-Baqi' and pray for forgiveness for them.'" Hajjaj bin Muhammad contradicted him (Ibn Wahb), he said: "From Ibn Juraij, from Ibn Abi Mulaikah, from Muhammad bin Qais
محمد بن قیس سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ وہ بولیں: جس رات میری باری تھی، آپ عشاء سے لوٹے اور جوتے اپنے پیروں کے پاس رکھ لیے، اپنی چادر رکھی اور بستر پر اپنا تہبند بچھایا، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی، جب آپ کو اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، تو آپ نے آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے چادر لی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دھیرے سے بند کر دیا۔ میں نے بھی اوڑھنی اپنے سر پر ڈالی، چادر اوڑھی اور پھر تہبند پہن کر آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، تو آپ نے اپنے ہاتھ تین بار اٹھائے، قیام کو طویل کیا پھر پلٹے تو میں بھی پلٹی، اور تیزی سے چلے، میں بھی تیزی سے چلی، پھر آپ نے رفتار کچھ اور تیز کر دی تو میں نے بھی تیز کر دی پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی، میں آپ سے آگے نکل گئی اور اندر داخل ہو گئی اور اب میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آ گئے اور فرمایا: ”کیا بات ہے عائشہ! سانس کیوں پھولی ہے؟ ( سلیمان بن داود نے کہا: میرا خیال ہے کہ میرے شیخ نے یوں فرمایا: «حشیا»، یعنی ) تمہاری سانسیں کیوں پھول رہی ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر یعنی اللہ بتا دے گا“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر انہوں نے آپ کو پورا واقعہ بتایا، آپ نے فرمایا: ”تو تمہارا ہی سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے دیکھا؟“ میں نے کہا: ہاں، پھر آپ نے میرے سینے پر ایک ایسی تھپکی ماری کہ مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا: ”کیا تم سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی بات چاہے لوگوں سے کتنی ہی مخفی رہے، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے بخوبی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، پھر فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے جب تم نے مجھے دیکھا، لیکن وہ اندر تمہارے سامنے نہیں آ سکتے تھے کہ تم اپنے کپڑے اتار چکی تھیں، انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا اور میں نے اسے تم سے چھپایا ( یعنی دھیرے سے کہا ) اور میں سمجھا کہ تم سو چکی ہو، تو میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ تمہیں جگاؤں۔ اور مجھے ڈر تھا کہ تم تنہائی میں وحشت نہ کھاؤ، تو انہوں ( جبرائیل ) نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے استغفار کروں“۔ حجاج بن محمد نے سند اس کے برعکس یوں بیان کی «عن ابن جریج، عن ابن ابی ملیکۃ، عن محمد بن قیس» ۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَنِّي قُلْنَا بَلَى . قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَبَسَطَ إِزَارَهُ عَلَى فِرَاشِهِ وَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي فَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ انْحَرَفَ وَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ وَلَيْسَ إِلاَّ أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ " مَا لَكِ يَا عَائِشُ رَابِيَةً " . قَالَ سُلَيْمَانُ حَسِبْتُهُ قَالَ حَشْيَا قَالَ " لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ قَالَ " أَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي " . قُلْتُ نَعَمْ - قَالَتْ - فَلَهَدَنِي لَهْدَةً فِي صَدْرِي أَوْجَعَتْنِي . قَالَ " أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ " . قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ " نَعَمْ - قَالَ - فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ وَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ " . خَالَفَهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَقَالَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ .
#3964
Sahih
Aishah said:"Shall I not tell you about the Prophet and I?" We said: "Yes." She said: "When it was my night when he" -meaning the Prophet- "was with me, he came in, placed his shoes by his feet, lay down his Rida' (upper garment), and spread the edge of his Izar (lower garment) on his bed. As soon as he thought that I had gone to sleep, he put his shoes on slowly, and picked up his Rida' slowly. Then he opened the door slowly, went out and shut it slowly. I put my garment over my head, covered myself and put on my Izar (lower garment), and I set out after him until he came to Al-Baqi', raised his hands three times and stood there for a long time. Then he left and I left, he hurried and I hurried, he ran and I ran, and I got there before him and entered (the house). I had only just laid down when he came in and said: 'O 'Aishah, why are you out of breath?' She said: 'No.' He said: 'Either you tell me or Allah, the All-Aware, All-Knowing, will tell me.' I said: 'O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you;' and I told him the story. He said: 'You were the black shape I saw in front of me?' I said: 'Yes.'" She said: "He gave me a shove in the chest that hurt me and said: 'You thought that Allah and His Messenger would be unfair to you.' She said: 'Whatever people conceal, Allah knows it.' He said: 'Yes.' He said: 'Jibril came to me when you saw (me leave) but he did not enter upon you because you have taken off your garments. So he called me but he concealed himself from you, and I answered him, but I concealed it from you. I thought that you had gone to sleep and I did not want to wake you, and I was afraid that you would feel lonely. He told me to go to Al-Baqi' and pray for forgiveness for them.'" 'Asim reported it from 'Abdullah bin 'Amir, from 'Aishah, with a wording different from this
محمد بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: کیا میں تم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ وہ بولیں: جس رات میری باری تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تھے، آپ عشاء سے لوٹے اور جوتے اپنے پیروں کے پاس رکھ لیے، اپنی چادر رکھی اور بستر پر تہبند بچھایا، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی جب آپ کو اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، آپ نے آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے چادر لی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دھیرے سے بھیڑ دیا، میں نے بھی اوڑھنی اپنے سر پر ڈالی، چادر اوڑھی، پھر تہبند پہن کر آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، تو آپ نے اپنے ہاتھ تین بار اٹھائے، قیام کو طویل کیا پھر پلٹے تو میں بھی پلٹی، اور تیزی سے چلے، میں بھی تیزی سے چلی، پھر آپ نے رفتار کچھ اور تیز کر دی تو میں نے بھی رفتار تیز کر دی پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی اور میں آپ سے آگے نکل گئی اور اندر داخل ہو گئی اور اب میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آ گئے اور فرمایا: ”کیا بات ہے عائشہ! پیٹ کیسا پھولا ہے، تمہاری سانسیں کیوں پھول رہی ہیں؟ بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر یعنی اللہ تعالیٰ بتا دے گا“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر انہوں نے آپ کو پورا واقعہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہارا ہی سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے دیکھا؟“ میں نے کہا: ہاں، پھر آپ نے میرے سینے پر ایک ایسی تھپکی ماری کہ مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا: ”کیا تم سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا؟“ انہوں نے کہا: کوئی بات چاہے لوگوں سے کتنی ہی مخفی رہے، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے جان ہی لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ( اور ) کہا: جبرائیل میرے پاس آئے جب تم نے مجھے دیکھا، لیکن وہ اندر تمہارے سامنے نہیں آ سکتے تھے کہ تم اپنے کپڑے اتار چکی تھیں۔ انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا اور میں نے اسے تم سے چھپایا ( یعنی دھیرے سے کہا ) اور میں سمجھا کہ تم سو چکی ہو، اور مجھے ڈر تھا کہ تم تنہائی میں وحشت نہ کھاؤ، تو انہوں ( جبرائیل ) نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے استغفار کروں۔ عاصم نے یہ حدیث دوسرے الفاظ کے ساتھ عبداللہ بن عامر سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلَّمٍ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تُحَدِّثُ قَالَتْ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا بَلَى . قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي هُوَ عِنْدِي تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي فَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلاَّ أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ حَشْيَا رَابِيَةً " . قَالَتْ لاَ . قَالَ " لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ . قَالَ " فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُهُ أَمَامِي " . قَالَتْ نَعَمْ - قَالَتْ - فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي ثُمَّ قَالَ " أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ " . قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ . قَالَ " نَعَمْ - قَالَ - فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُ مِنْكِ فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ " . رَوَاهُ عَاصِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَائِشَةَ عَلَى غَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ .
#3965
Daif
It was narrated that 'Aishah said:"I noticed that he was not there one night" and he quoted the rest of the Hadith
اس سند سے بھی عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غائب پایا اور پھر پوری حدیث بیان کی۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
#3966
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that:The Prophet [SAW] said: "I have been commanded to fight the idolators until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that Muhammad is His slave and Messenger. If they bear witness to La ilaha illallah and that Muhammad is His slave and Messenger, and they pray as we pray and face our Qiblah, and eat our slaughtered animals, then their blood and wealth becomes forbidden to us except for a right that is due
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، - وَهُوَ ابْنُ سُمَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَصَلَّوْا صَلاَتَنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبَائِحَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا " .
#3967
Sahih
It was narrated from Anas bin Malik that :The Messenger of Allah [SAW] said: "I have been commanded to fight the idolators until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that Muhammad is the Messenger of Allah [SAW]. If they bear witness to La ilaha illallah and that Muhammad is the Messenger of Allah [SAW], and they face our Qiblah, eat our slaughtered animals, and pray as we do, then their blood and wealth become forbidden except for a right that is due, and they will have the same rights and obligations as the Muslims
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلاَتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ " .
#3968
Sahih
Maimun bin Siyah asked Anas bin Malik:"O Abu Hamzah, what makes the blood and wealth of a Muslim forbidden?" He said: "Whoever bears witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that Muhammad is the Messenger of Allah [SAW], faces our Qiblah, prays as we pray, and eats our slaughtered animals, he is a Muslim, and has the same rights and obligations as the Muslims
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ سَأَلَ مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمُسْلِمِ وَمَالَهُ فَقَالَ مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَصَلَّى صَلاَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَهُوَ مُسْلِمٌ لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ .
#3969
Hasan Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:"When the Messenger of Allah [SAW] died, the 'Arabs apostatized, so 'Umar said: 'O Abu Bakr, how can you fight the 'Arabs?' Abu Bakr said: 'The Messenger of Allah [SAW] said: "I have been commanded to fight the people until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that I am the Messenger of Allah, and they establish Salah and pay Zakah." By Allah, if they withhold from me a young goat that they used to give to the Messenger of Allah [SAW], I will fight them for it.' 'Umar said: 'By Allah, as soon as I realized how certain Abu Bakr was, I knew that it was the truth
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو الْعَوَّامِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ فَقَالَ عُمَرُ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ الْعَرَبَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ " . وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ . قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا رَأَيْتُ رَأْىَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ شُرِحَ عَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
#3970
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah [SAW] died and Abu Bakr became the Khalifah after him, and some of the 'Arabs reverted to Kufr, 'Umar said to Abu Bakr: 'How can you fight the people when the Messenger of Allah [SAW] said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship but Allah). Whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah.?' Abu Bakr said: 'By Allah, I will fight whoever separates Salah and Zakah, for Zakah is the compulsory right to be taken from wealth. By Allah, if they withhold from me a rope that they used to give to the Messenger of Allah [SAW], I will fight them for withholding it.' 'Umar, may Allah be pleased with him, said: 'By Allah, as soon as I realized that Allah has expanded the chest of Abu Bakr for fighting, I knew that it was the truth
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنِّي رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
#3971
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah. If they say it then their blood and their wealth are safe from me, except for a right that is due, and their reckoning will be with Allah.' When the people apostatized, 'Umar said to Abu Bakr: 'Will you fight them when you heard the Messenger of Allah [SAW] say such and such?' He said: 'By Allah, I do not separate Salah and Zakah, and I will fight whoever separates them.' So we fought alongside him, and we realized that that was the right thing
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " . فَلَمَّا كَانَتِ الرِّدَّةُ قَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ أَتُقَاتِلُهُمْ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ . وَلأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا . فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رُشْدًا . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سُفْيَانُ فِي الزُّهْرِيِّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ .
#3972
Sahih Mutawatir
Abu Hurairah narrated that :The Messenger of Allah [SAW] said: "I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship but Allah). Whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . جَمَعَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا .
#3973
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah [SAW] died, and Abu Bakr (became Khalifah) after him, and the 'Arabs reverted to Kufr, 'Umar said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah [SAW] said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me, except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah, the Mighty and Sublime?' Abu Bakr said: 'I will fight whoever separates Salah and Zakah, for Zakah is the compulsory right to be taken from wealth. By Allah, if they withhold from me a young goat that they used to give to the Messenger of Allah [SAW], I will fight them for withholding it.' 'Umar said: 'By Allah, as soon as I saw that Allah has expanded the chest of Abu Bakr to fighting, I knew that it was the truth
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ فَوَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا . قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
#3974
Sahih
Abu Hurairah narrated that :The Messenger of Allah [SAW] said: "I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and whoever says it, his life and his wealth are safe from me, except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . خَالَفَهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ .
#3975
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"So Abu Bakr decided to fight them, then 'Umar said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah [SAW] said: "I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and if they say it, their blood and their wealth will be safe from me except for a right that is due.?' Abu Bakr said: 'I will fight whoever separates prayer and Zakah. By Allah, if they withhold from me a young goat that they used to give to the Messenger of Allah [SAW], I will fight them for withholding it.' 'Umar said: 'By Allah, as soon as I realized that Allah has expanded the chest of Abu Bakr to fight them, I knew that it was the truth
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَذَكَرَ، آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ فَأَجْمَعَ أَبُو بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ فَقَالَ عُمَرُ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا . قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .