#3576
Sahih
It was narrated that 'Urwah said that he heard the Messenger of Allah say:"Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”گھوڑے کی پیشانی سے قیامت تک کے لیے خیر وابستہ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت بھی“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ " .
#3577
Sahih
It was narrated from 'Urwah bin Abi Al-Ja'd that the Prophet said:"Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war
عروہ بن ابی الجعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر باندھ دیا گیا ہے ( اور خیر سے مراد کیا ہے؟ ) ثواب اور مال غنیمت“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ " .
#3578
Daif
It was narrated that Khalid bin Yazid Al-Juhani said:"Uqbah bin 'Amir used to pass by me and say: 'O Khalid, let us go out and shoot arrows.' One day I came late and he said: 'O Khalid, come and I will tell you what the Messenger of Allah said.' So I went to him and he said: 'The Messenger of Allah said: Allah will admit three people to Paradise because of one arrow: The one who makes it seeking good thereby, the one who shoots it and the one who hands it to him. So shoot and ride, and if you shoot that is dearer to me than if you ride. And play is only in three things: A man training his horse, and playing with his wife, and shooting with his bow and arrow. Whoever gives up shooting after learning it because he is no longer interested in it, that is a blessing for which he is ungrateful -or that he has rejected
خالد بن یزید جہنی کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہمارے قریب سے گزرا کرتے تھے، کہتے تھے: اے خالد! ہمارے ساتھ آؤ، چل کر تیر اندازی کرتے ہیں، پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں سستی سے ان کے ساتھ نکلنے میں دیر کر دی تو انہوں نے آواز لگائی: خالد! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی ایک بات بتاتا ہوں، چنانچہ میں ان کے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا: ( ایک ) بھلائی حاصل کرنے کے ارادہ سے تیر بنانے والا، ( دوسرا ) تیر چلانے والا، ( تیسرا ) تیر پکڑنے والا، اٹھا اٹھا کر دینے والا، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) تیر اندازی کرو، گھوڑ سواری کرو اور تمہاری تیر اندازی مجھے تمہاری گھوڑ سواری سے زیادہ محبوب ہے۔ ( مباح و مندوب ) لہو و لذت یابی، تفریح و مزہ تو صرف تین چیزوں میں ہے: ( ایک ) اپنے گھوڑے کو میدان میں کار آمد بنانے کے لیے سدھانے میں، ( دوسرے ) اپنی بیوی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، کھیل کود میں اور ( تیسرے ) اپنی کمان و تیر سے تیر اندازی کرنے میں اور جو شخص تیر اندازی جاننے ( و سیکھنے ) کے بعد اس سے نفرت و بیزاری کے باعث اسے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کی ( جو اسے حاصل تھی ) ناشکری ( و ناقدری ) کی۔ راوی کو شبہ ہو گیا ہے کہ آپ نے اس موقع پر «کفرہا» کہا یا «کفر بہا» کہا۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلاَّمٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَمُرُّ بِي فَيَقُولُ يَا خَالِدُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي . فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ فَقَالَ يَا خَالِدُ تَعَالَ أُخْبِرْكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلاَثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَمُنَبِّلَهُ وَارْمُوا وَارْكَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا وَلَيْسَ اللَّهْوُ إِلاَّ فِي ثَلاَثَةٍ تَأْدِيبِ الرَّجُلِ فَرَسَهُ وَمُلاَعَبَتِهِ امْرَأَتَهُ وَرَمْيِهِ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْىَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا " . أَوْ قَالَ " كَفَرَ بِهَا " .
#3579
Sahih
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah said: 'There is no Arabian horse but it is allowed to offer two supplications every Sahar (end of the night): O Allah, You have caused me to be owned by whoever You wanted among the sons of Adam, and you have made me belong to him. Make me the dearest of his family and wealth to him, or among the dearest of his family and wealth to him
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر عربی گھوڑے کو ( یہاں مخاطب عرب تھے ) ( اس لیے آپ نے عربی گھوڑا کہا، لیکن مقصود راہ جہاد میں کام آنے والے گھوڑے ہیں، اس لیے ہر اس عمدہ گھوڑے کو خواہ کسی بھی ملک کا ہو جو جہاد کی نیت سے رکھا جائے اس دعا کی اجازت ہونی چاہیئے ) ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ( وہ کہتا ہے ) اے اللہ! اولاد آدم میں سے جس کی بھی سپردگی میں مجھے دے اور جس کو بھی مجھے عطا کرے مجھے اس کے گھر والوں اور اس کے مالوں میں سب سے زیادہ محبوب و عزیز بنا دے یا مجھے اس کے محبوب گھر والوں اور پسندیدہ مالوں میں سے کر دے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيِّ إِلاَّ يُؤْذَنُ لَهُ عِنْدَ كُلِّ سَحَرٍ بِدَعْوَتَيْنِ اللَّهُمَّ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ وَجَعَلْتَنِي لَهُ فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ أَوْ مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ " .
#3580
Sahih
It was narrated that Ali bin Abi Talib, may Allah be pleased with him, said:"A mule was given as a gift to the Messenger of Allah and he rode it." 'Ali said: "If we mate a donkey with a horse, we will have one like this." The Messenger of Allah said: "That is only done by those who do not know
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ میں خچر دیا گیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کی۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھا ( کر جفتی کرا ) دیں تو ہمارے پاس اس جیسے ( بہت سے خچر ) ہو جائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو نادان و ناسمجھ ہوتے ہیں“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه قَالَ أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ لَكَانَتْ لَنَا مِثْلَ هَذِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ " .
#3581
Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin 'Ubaidullah bin 'Abbas said:I was with Ibn 'Abbas and a man asked him: "Did the Messenger of Allah recite during Zuhr and 'Asr?" He said: "No." He said: "Perhaps he used to recite to himself?" He said: "May your face be scratched! This question is worse than the first one. The Messenger of Allah was a slave whose Lord commanded him and he conveyed (the message). By Allah, the Messenger of Allah did not specify anything for us above the people, except for three things: He commanded us to perform Wudu' properly, not to consume charity, and not to mate donkeys with horses
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اس وقت ان سے کسی نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں کچھ پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا ہو سکتا ہے اپنے من ہی من میں پڑھتے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم پر پتھر لگیں گے یہ تو پہلے سے بھی خراب بات تم نے کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے تھے، اللہ نے آپ کو اپنا پیغام دے کر بھیجا، آپ نے اسے پہنچا دیا۔ قسم اللہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامۃ الناس سے ہٹ کر ہم اہل بیت سے تین باتوں کے سوا اور کوئی خصوصیت نہیں برتی۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم مکمل وضو کریں، ہم صدقہ کا مال نہ کھائیں اور نہ ہی گدھوں کو گھوڑیوں پر کدائیں ( جفتی کرائیں ) ۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ لاَ . قَالَ فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ قَالَ خَمْشًا هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الأُولَى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدٌ أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِأَمْرِهِ فَبَلَّغَهُ وَاللَّهِ مَا اخْتَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلاَّ بِثَلاَثَةٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لاَ نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلاَ نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ .
#3582
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Whoever keeps a horse for the cause of Allah out of faith in Allah and believing the promise of Allah, its feed, water, urine and dung will all count as Hasanat in the balance of his deeds
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے گھوڑا پالے اور اللہ پر اس کا پورا ایمان ہو اور اللہ کے وعدوں پر اسے پختہ یقین ہو تو اس گھوڑے کی آسودگی، اس کی سیرابی، اس کا پیشاب اور اس کا گوبر سب نیکیاں بنا کر اس کے میزان میں رکھ دی جائیں گی“۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِوَعْدِ اللَّهِ كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ " .
#3583
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah organized a horse race and sent them from Al-Hafya' and its finish line was Thaniyyat Al-Wada'; and he organized a race for horses that had not been made lean, and the course stretched from Ath-Thaniyyah to the Masjid of Banu Zuraiq
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک ) گھوڑوں کی دوڑ کرائی ( کہ کون گھوڑا آگے نکلتا ہے ) ۱؎ حفیاء سے روانہ کرتے ( دوڑاتے ) اور ثنیۃ الوداع آخری حد تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں میں بھی دوڑ کرائی جو محنت و مشقت کے عادی نہ تھے ( جو سدھائے اور تربیت یافتہ نہ تھے ) اور ان کے دوڑ کی حد ثنیۃ سے مسجد بنی زریق تک تھی ۲؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ يُرْسِلُهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ وَكَانَ أَمَدُهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ .
#3584
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah organized a race for horses that had been made lean, from Al-Hafya' and its finish line was Thaniyyat Al-Wada', and he organized another race for horses that had not been made lean, from Ath-Thaniyyah to the Masjid of Banu Zuraiq, and 'Abdullah was among those who took part in the race
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدھائے ہوئے گھوڑوں کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ کرایا، ( دوڑ کی ) آخری حد حفیاء سے شروع ہو کر ثنیۃ الوداع تک تھی، ( ایسے ہی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کے درمیان بھی ثنیۃ سے لے کر مسجد بنی زریق کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرایا جو، غیر تربیت یافتہ تھے ( جو مشقت اور بھوک و تکلیف کے عادی نہ تھے ) ۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اس مقابلے کے دوڑ میں حصہ لیا تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا .
#3585
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"There should be no awards (for victory in a competition) except for arrows, camels or horses
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف تین چیزوں میں ( انعام و اکرام کی ) شرط لگانا جائز ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ سَبَقَ إِلاَّ فِي نَصْلٍ أَوْ حَافِرٍ أَوْ خُفٍّ " .
#3586
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"There should be no awards (for victory in a competition) except on arrows, camels or horses
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے بڑھنے کی شرط صرف تین چیزوں میں لگانا درست ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں“۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ سَبَقَ إِلاَّ فِي نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ " .
#3587
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"No award (for victory in a competition) is permissible except over camels or horses
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ شرط حلال نہیں ہے سوائے اونٹ میں اور گھوڑے میں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى الْجُنْدَعِيِّينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ لاَ يَحِلُّ سَبَقٌ إِلاَّ عَلَى خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ .
#3588
Sahih
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah had a she-camel called Al-'Adba' which could not be beaten. One day a Bedouin came on a riding-camel and beat her (in a race). The Muslims were upset by that, and when he saw the expressions on their faces they said: 'O Messenger of Allah, Al-'Adba' has been beaten.' He said: 'It is a right upon Allah that nothing is raised in this world except He lowers it
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عضباء نامی ایک اونٹنی تھی وہ ہارتی نہ تھی، اتفاقاً ایک اعرابی ( دیہاتی ) اپنے جوان اونٹ پر آیا اور وہ مقابلے میں عضباء سے بازی لے گیا، یہ بات ( ہار ) مسلمانوں کو بڑی ناگوار گزری۔ جب آپ نے لوگوں کے چہروں کی ناگواری و رنجیدگی دیکھی تو لوگ خود بول پڑے: اللہ کے رسول! عضباء شکست کھا گئی ( اور ہمیں اس کا رنج ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ کے حق ( و اختیار ) کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بہت بلند ہو جاتی اور بڑھ جاتی ہے تو اللہ اسے پست کر دیتا اور نیچے گرا دیتا ہے“ ( اس لیے کبیدہ خاطر ہونا ٹھیک نہیں ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ لاَ تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا فَشَقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ . قَالَ " إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يَرْتَفِعَ مِنَ الدُّنْيَا شَىْءٌ إِلاَّ وَضَعَهُ " .
#3589
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"There should be no awards (for victory in a competition) except over camels or horses
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں اور گھوڑوں کے آگے بڑھنے کے مقابلوں کے سوا اور کہیں شرط لگانا درست نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، - مَوْلًى لِبَنِي لَيْثٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ سَبَقَ إِلاَّ فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ " .
#3590
Sahih
It was narrated from 'Imran bin Husain that the Messenger of Allah said:"There is no 'bringing', no 'avoidance' and no Shighar in Islam, and whoever robs is not one of us
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں نہ تو جلب ہے اور نہ جنب ہے اور نہ ہی شغار ہے اور جس نے لوٹ کھسوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ شِغَارَ فِي الإِسْلاَمِ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا " .
#3591
Sahih
It was narrated from 'Imran bin Husain that the Messenger of Allah said:"There is no 'bringing', no 'avoidance' and no Shighar in Islam
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں نہ جلب ہے نہ جنب اور نہ ہی شغار ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ شِغَارَ فِي الإِسْلاَمِ " .
#3592
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah raced with a Bedouin and (the latter) won. It was as if the Companions of the Messenger of Allah were upset by this, so he said: 'It is a right upon Allah that there is nothing that raises itself in this world except that He lowers it
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اونٹنی کی ) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا، اس سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز ( رنج و ملال ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے“۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَى شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَابَقَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْرَابِيٌّ فَسَبَقَهُ فَكَأَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يَرْفَعَ شَىْءٌ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ اللَّهُ " .
#3593
Hasan Isnaad
It was narrated from Yahya bin 'Abbad bin 'Abdullah bin Az-Zubair, from his grandfather, that he used to say:"In the year of Khaibar, the Messenger of Allah allocated four shares to Az-Zubair bin Al-'Awwam: A share of Az-Zubair, a share for the relatives of Safiyyah bint 'Abdul-Muttalib, the mother of Az-Zubair, and two shares for the horse
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ ۔ ( فتح ) خیبر کے سال زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت میں ) چار حصے لگائے۔ ایک حصہ ان کا اپنا اور ایک حصہ قرابت داری کا لحاظ کر کے کیونکہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی ماں تھیں اور دو حصے گھوڑے کے۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَرْبَعَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لِلزُّبَيْرِ وَسَهْمًا لِذِي الْقُرْبَى لِصَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُمِّ الزُّبَيْرِ وَسَهْمَيْنِ لِلْفَرَسِ .
#3594
Sahih
It was narrated that 'Amr bin Al-Harith said:"The Messenger of Allah did not leave behind a Dinar nor a Dirham, or any slave, male or female; except his white mule which he used to ride, his weapon and some land which he left to be used for the cause of Allah." (One of the narrators) Qutaibah said on one occasion: "In charity
عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے ) اور انتقال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر سوار ہوا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار کے اور زمین کے جسے اللہ کے راستہ میں دے دیا تھا کچھ نہ چھوڑا تھا نہ دینار نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی، ( مصنف ) کہتے ہیں ( میرے استاذ ) قتیبہ نے دوسری بار یہ بتایا کہ زمین کو صدقہ کر دیا تھا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا وَلاَ عَبْدًا وَلاَ أَمَةً إِلاَّ بَغْلَتَهُ الشَّهْبَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا وَسِلاَحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . وَقَالَ قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى صَدَقَةً .
#3595
Sahih
Abu Ishaq narrated:"I heard 'Amr bin Al-Harith say: 'The Messenger of Allah did not leave behind anything except his white mule, his weapon and some land which he left as a charity
عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اپنے سفید خچر، ہتھیار اور زمین کے جسے آپ صدقہ کر گئے تھے کچھ چھوڑ کر نہ گئے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ، يَقُولُ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسِلاَحَهُ وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً .
#3596
Sahih
Yunus bin Abi Ishaq narrated that his father said:"I heard 'Amr bin Al-Harith say: 'I saw the Messenger of Allah and he left nothing behind except his white mule, his weapon and some land which he left as a charity
عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( آپ نے اپنے انتقال کے موقع پر ) اپنے «شہباء» خچر، ہتھیار اور اپنی زمین کے علاوہ جسے آپ صدقہ کر گئے تھے کچھ نہ چھوڑ کر گئے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ، يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا تَرَكَ إِلاَّ بَغْلَتَهُ الشَّهْبَاءَ وَسِلاَحَهُ وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً .
#3597
Sahih
It was narrated from Sufyan Ath-Thawri, from Ibn 'Awn, from Nafi', from Ibn 'Umar, from 'Umar, that he said:"I was allocated some land of Khaibar. I came to the Messenger of Allah and said: 'I have acquired some land and I have never acquired any wealth that is dearer to me or more precious than it.' He said: 'If you wish, you can give it in charity.'" So he gave it in charity on condition that it would not be bought or given away, for the poor, relatives, slaves, guests and wayfarers. And there is no sin on the administrator if he eats from it or feeds others on a reasonable basis, with no intention of becoming wealthy from it
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے خیبر میں ( حصہ میں ) ایک زمین ملی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے کہا: مجھے بہت اچھی زمین ملی ہے، مجھے اس سے زیادہ محبوب و پسندیدہ مال ( کبھی ) نہ ملا تھا، آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو صدقہ کر سکتے ہو تو انہوں نے اسے بایں طور صدقہ کر دیا کہ وہ زمین نہ تو بیچی جائے گی اور نہ ہی کسی کو ہبہ کی جائے گی اور اس کی پیداوار فقیروں، محتاجوں اور قرابت داروں میں، گردن چھڑانے ( یعنی غلام آزاد کرانے میں ) ، مہمانوں کو کھلانے پلانے اور مسافروں کی مدد و امداد میں صرف کی جائے گی اور کچھ حرج نہیں اگر اس کا ولی، نگراں، محافظ و مہتمم اس میں سے کھائے مگر شرط یہ ہے کہ وہ معروف طریقے ( انصاف و اعتدال ) سے کھائے ( کھانے کے نام پر لے کر ) مالدار بننے کا خواہشمند نہ ہو اور دوسروں ( دوستوں ) کو کھلائے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالاً أَحَبَّ إِلَىَّ وَلاَ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهَا . قَالَ " إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا " . فَتَصَدَّقَ بِهَا - عَلَى أَنْ لاَ تُبَاعَ وَلاَ تُوهَبَ - فِي الْفُقَرَاءِ وَذِي الْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالاً وَيُطْعِمَ .
#3598
Daif
A similar report was narrated from Abu Ishaq Al-Fazari, from (Ayyub) bin 'Awn, from Nafi', from Ibn 'Umar, from 'Umar, may Allah be pleased with him, from the Prophet
عمر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
#3599
Sahih
It was narrated that Yazid -Ibn Ruzaiq- said:"Ibn 'Awn narrated to us, from Nafi', from Ibn 'Umar, from 'Umar, who said: 'I acquired some land at Khaibar. He came to the Prophet and said: I have acquired some land at Khaibar, and I have never been given any wealth that is more precious to me than it. What do you command me to do with it? He said: If you wish, you can 'freeze' it and give it in charity. So he gave it in charity on condition that it would not be sold, given away or inherited, to the poor, relatives, slaves, for the cause of Allah, guests and wayfarers. There is no sin on the one who administers it if he eats from it on a reasonable basis and feeds his friend, with no intention of becoming wealthy from it
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ( بعد فتح خیبر تقسیم غنیمت میں ) ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے جس سے بہتر مال میرے نزدیک مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ ہمیں بتائیں میں اسے کیا کروں، آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس سے حاصل پیداوار کو تقسیم ( خیرات ) کر دو، تو انہوں نے اس زمین کو بایں طور صدقہ کر دیا کہ وہ نہ بیچی جائے گی نہ وہ بخشش میں دی جائے گی اور نہ وہ ورثہ میں دی جائے گی، اس کی آمدنی تقسیم ہو گی فقراء میں، جملہ رشتہ ناطہٰ والوں میں، غلام آزاد کرنے میں، اللہ کی راہ ( جہاد ) میں، مہمان نوازی میں، مسافروں کی امداد میں، اس زمین کے متولی ( نگران و مہتمم ) کے اس کی آمدنی میں سے معروف طریقے سے کھانے پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور نہ ہی دوست واحباب کو کھلانے میں کوئی حرج ہے لیکن ( اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر ) مالدار بننے کی کوشش نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي فَكَيْفَ تَأْمُرُ بِهِ قَالَ " إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا " . فَتَصَدَّقَ بِهَا - عَلَى أَنْ لاَ تُبَاعَ وَلاَ تُوهَبَ وَلاَ تُورَثَ - فِي الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ .
#3600
Sahih
It was narrated from Bishr, from Ibn 'Awn, from Nafi', from Ibn 'Umar who said:"Umar acquired some land at Khaibar. He came to the Prophet and consulted him about it. He said: 'I have acquired a great deal of land, and I have never acquired any wealth that is more precious to me than it. What do you command me to do with it?' He said: 'If you wish, you may freeze it and give it in charity.' So he gave it in charity on condition that it would not be sold or given away, and he gave it in charity to the poor, relatives, to emancipate slaves, for the cause of Allah, for wayfarers and guests. There is no sin -on the administrator- if he eats (from it) or feeds a friend, with no intention of becoming wealthy from it.'" These are the wordings of Isma'il
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کے بارے میں صلاح و مشورہ کرنے کے لیے آئے اور کہا: مجھے ایک ایسی بڑی زمین ملی ہے جس سے میری نظروں میں زیادہ قیمتی مال مجھے کبھی نہیں ملا تو آپ مجھے اس زمین کے بارے میں کیا حکم و مشورہ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو اصل زمین کو روک کر وقف کر دو اور اس کی آمدنی کو صدقہ کر دو“۔ تو انہوں نے اس طرح صدقہ کر دیا کہ وہ بیچی نہ جا سکے گی اور نہ ھبہ کی جا سکے گی اور اس کی پیداوار اور آمدنی کو صدقہ کر دیا فقراء، قرابت داروں، غلاموں کو آزاد کرنے، اللہ کی راہ، مسافروں ( کی امداد ) میں اور مہمانوں ( کے تواضع ) میں۔ اور اس کے ولی ( نگراں و مہتمم ) کے اس میں سے کھانے اور اپنے دوست کو کھلانے میں کوئی حرج و مضائقہ نہیں ہے لیکن ( اس کے ذریعہ سے ) مالدار بننے کی کوشش نہ ہو، حدیث کے الفاظ راوی حدیث اسماعیل مسعود کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ وَأَنْبَأَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْمَرَهُ فِيهَا فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا كَثِيرًا لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُ فِيهَا قَالَ " إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا " . فَتَصَدَّقَ بِهَا - عَلَى أَنَّهُ لاَ تُبَاعُ وَلاَ تُوهَبُ - فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ - يَعْنِي - عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ اللَّفْظُ لإِسْمَاعِيلَ .