#3376
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"When Ali, may Allah be pleased with him, married Fatimah, may Allah be pleased with her, the Messenger of Allah said to him: 'Give her something.' He said: 'I do not have anything.' He said: 'Where is your Hutami armor?
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ ”اسے ( عطیہ ) دو“، انہوں نے کہا: میرے پاس نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے ( وہی دے دو ) “۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ رضى الله عنه فَاطِمَةَ رضى الله عنها قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْطِهَا شَيْئًا " . قَالَ مَا عِنْدِي . قَالَ " فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ " .
#3377
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Prophet married me in Shawwal, and he consummated the marriage with me in Shawwal, and which of his wives find more favor with him than me?
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں شادی کی اور شوال کے مہینے ہی میں میری رخصتی ہوئی، ( لوگ اس مہینے میں شادی بیاہ کو برا سمجھتے ہیں ) لیکن میں پوچھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں مجھ سے زیادہ کون بیوی آپ کو محبوب اور پسندیدہ تھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَىُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي .
#3378
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah married me when I was six, and consummated the marriage with me when I was nine, and I used to play with dolls
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی اس وقت میں چھ برس کی تھی اور جب میری رخصتی ہوئی تو اس وقت میں نو برس کی ہو چکی تھی اور بچیوں ( گڑیوں ) کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا بِنْتُ سِتٍّ وَدَخَلَ عَلَىَّ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَكُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ .
#3379
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah married me when I was six, and consummated the marriage with me when I was nine
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ سال کی عمر میں مجھ سے شادی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ان کی رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ .
#3380
Sahih
It was narrated from Anas:"The Messenger of Allah invaded Khaibar and we prayed Al-Ghadah (Fajr) there (early in the morning) when it was still dark. Then the Prophet rode and Abu Talha rode, and I was riding behind Abu Talha. The Prophet of Allah passed through the lane of Khaibar quickly, and my knee was touching the thigh of the Messenger of Allah, and I could see the whiteness of the thigh of the Prophet. When he entered the town he said: 'Allahu Akbar, Khaibar is destroyed! Whenever we approach a (hostile) nation to fight, evil will be the morning for those who have been warned.' He said this three times. The people came out for their work." (One of the narrators) 'Abdul-'Aziz said: "They said: 'Muhammad (has come)!'" 'Abdul-'Aziz said: "Some of our companions said: 'With his army.'" "We conquered Khaibar and gathered the captives. Dihyah came and said: 'O Prophet of Allah, give me a slave girl from among the captives.' He said: 'Go and take a slave girl.' He took Safiyyah bint Huyayy. Then a man came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah, you gave Dihyah Safiyyah bint Huyayy, and she is the chief mistress of Quraizah and An-Nadir, and she is fit for no one but you.' He said: 'Call him to bring her.' When the Prophet saw her, he said: 'Take any other slave girl from among the captives.'" He said: "The Prophet of Allah set her free and married her." (One of the narrators) Thabit said to him: "O Abu Hamzah, what dowry did he give her?" He (Anas) said: "Herself; he set her free and married her." He said: "While on the road, Umm Sulaim fitted her out and presented her to him in the night, and the following morning he was a bridegroom. He said: 'Whoever has anything, let him bring it.' He spread out a leather cloth and men came with cottage cheese, dates, and ghee, and they made Hais, and that was the Walimah (wedding feast) of the Messenger of Allah
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرنے کے ارادے سے نکلے، ہم نے نماز فجر خیبر کے قریب اندھیرے ہی میں پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے تنگ راستے سے گزرنے لگے تو میرا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھونے اور ٹکرانے لگا، ( اور یہ واقعہ میری نظروں میں اس طرح تازہ ہے گویا کہ ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی ( و چمک ) دیکھ رہا ہوں، جب آپ بستی میں داخل ہوئے تو تین بار کہا: «اللہ أكبر خربت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين» ”اللہ بہت بڑا ہے، خیبر کی بربادی آئی، جب ہم کسی قوم کی آبادی ( و حدود ) میں داخل ہو جاتے ہیں تو اس پر ڈرائی گئی قوم کی بدبختی کی صبح نمودار ہو جاتی ہے ۱؎۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( جب ہم خیبر میں داخل ہوئے ) لوگ اپنے کاموں پر جانے کے لیے نکل رہے تھے۔ ( عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں: ) لوگ کہنے لگے: محمد ( آ گئے ) ہیں ( اور بعض کی روایت میں «الخمیس» ۲؎ کا لفظ آیا ہے ) یعنی لشکر آ گیا ہے۔ ( بہرحال ) ہم نے خیبر طاقت کے زور پر فتح کر لیا، قیدی اکٹھا کئے گئے، دحیہ کلبی نے آ کر کہا: اللہ کے نبی! ایک قیدی لونڈی مجھے دے دیجئیے؟ آپ نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو، تو انہوں نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے لیا۔ ( ان کے لے لینے کے بعد ) ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے دحیہ کو صفیہ بنت حیی کو دے دیا، وہ بنو قریظہ اور بنو نضیر گھرانے کی سیدہ ( شہزادی ) ہے، وہ تو صرف آپ کے لیے موزوں و مناسب ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے ( دحیہ کو ) بلاؤ، اسے ( صفیہ کو ) لے کر آئیں“، جب وہ انہیں لے کر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک نظر دیکھا تو فرمایا: ”تم انہیں چھوڑ کر کوئی دوسری باندی لے لو“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے شادی کر لی، ثابت نے ان سے ( یعنی انس سے ) پوچھا: اے ابوحمزہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کتنا مہر دیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ نے انہیں آزاد کر دیا اور ان سے شادی کر لی ( یہی آزادی ان کا مہر تھا ) ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ راستے ہی میں تھے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے صفیہ کو آراستہ و پیراستہ کر کے رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا دیا۔ آپ نے صبح ایک دولہے کی حیثیت سے کی اور فرمایا: ”جس کے پاس جو کچھ ( کھانے کی چیز ) ہو وہ لے آئے“، چمڑا ( دستر خوان ) بچھا یا گیا۔ کوئی پنیر لایا، کوئی کھجور اور کوئی گھی لایا اور لوگوں نے سب کو ملا کر ایک کر دیا ( اور سب نے مل کر کھایا ) یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا الْغَدَاةَ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنِّي لأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . قَالَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَ وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ - قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ - فَقَالُوا مُحَمَّدٌ - قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَالْخَمِيسُ - وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجَمَعَ السَّبْىَ فَجَاءَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ . قَالَ " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً " . فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ مَا تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ . قَالَ " ادْعُوهُ بِهَا " . فَجَاءَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا " . قَالَ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا . فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا - قَالَ - حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا إِلَيْهِ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ عَرُوسًا قَالَ " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ " . قَالَ وَبَسَطَ نِطَعًا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ فَحَاسُوا حَيْسَةً فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#3381
Sahih
It was narrated from Humaid that he heard Anas say:"The Messenger of Allah stayed with Safiyyah bint Huyayy bin Akhtab on the way (back from) Khaibar for three days when he married her, then she was among those who were commanded to observe Hijab
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے ساتھ خیبر کے راستے میں تین دن گزارے، پھر ان کا شمار ان عورتوں میں ہو گیا جن پر پردہ فرض ہو گیا یعنی صفیہ آپ کی ازواج مطہرات میں ہو گئیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَامَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ بِطَرِيقِ خَيْبَرَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ حِينَ عَرَّسَ بِهَا ثُمَّ كَانَتْ فِيمَنْ ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ .
#3382
Sahih
It was narrated that Anas said:"The Prophet stayed between Khaibar and Al-Madinah for three days when he consummated his marriage to Safiyyah bint Huyayy, and I invited the Muslims to his Walimah, in which there was no bread or meat. He commanded that a leather cloth (be spread) and dates, cottage cheese and ghee were placed on it, and that was his Walimah. The Muslims said: '(Will she be) one of the Mothers of the Believers, or a female slave whom his right hand possesses?' They said: 'If he has a Hijab for her, then she will be one of the Mothers of the Believers and if she does not have a Hijab then she will be a female slave whom his right hand possesses.' When he rode on, he set aside a plate for her behind him and extended a Hijab between her and the people
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ طیبہ کے درمیان صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کے ساتھ تین ( عروسی ) دن گزارے، میں نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کے لیے بلایا، اس ولیمے میں روٹی گوشت نہیں تھا، آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس ( چمڑے کے ) دستر خوان پر کھجوریں، پنیر اور گھی ڈالے گئے ( اور انہیں ملا کر پیش کر دیا گیا ) یہی آپ کا ولیمہ تھا۔ لوگوں نے کہا: صفیہ امہات المؤمنین میں سے ایک ہو گئیں یا ابھی آپ کی لونڈی ہی رہیں؟ پھر لوگ کہنے لگے: اگر آپ نے انہیں پردے میں رکھا تو سمجھو کہ یہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہ بٹھایا تو سمجھو کہ یہ آپ کی باندی ہیں۔ پھر جب آپ نے کوچ فرمایا تو ان کے لیے کجاوے پر آپ کے پیچھے بچھونا بچھایا گیا اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ تان دیا گیا ( کہ دوسرے لوگ انہیں نہ دیکھ سکیں ) ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلاَثًا يَبْنِي بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلاَ لَحْمٍ أَمَرَ بِالأَنْطَاعِ وَأَلْقَى عَلَيْهَا مِنَ التَّمْرِ وَالأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَكَانَتْ وَلِيِمَتَهُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَقَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ .
#3383
Hasan
It was narrated that 'Amir bin Sa'd said:"I entered upon Qurazah bin Ka'b and Abu Mas'ud Al-Ansari during a wedding and there were some young girls singing. I said: 'You are two of the Companions of the Messenger of Allah who were present at Badr, and this is being done in your presence!' They said: 'Sit down if you want and listen with us, or if you want you can go away. We were granted a concession allowing entertainment at weddings
عامر بن سعد ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں ایک شادی میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، اتفاق سے وہاں لڑکیاں گا رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: آپ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور بدری بھی ہیں، آپ کے سامنے یہ سب کیا جا رہا ہے ( اور آپ لوگ روکتے نہیں ہیں ) ؟ انہوں نے ( جواب میں ) کہا: آپ چاہیں تو بیٹھیں جیسے ہم سن رہے ہیں آپ بھی سنیں اور چاہیں تو یہاں سے ڈول جائیں، شادی کے موقع پر ہمیں گانے بجانے کی اجازت دی گئی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ فِي عُرْسٍ وَإِذَا جَوَارٍ يُغَنِّينَ فَقُلْتُ أَنْتُمَا صَاحِبَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمِنْ أَهْلِ بَدْرٍ يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَكُمْ . فَقَالاَ اجْلِسْ إِنْ شِئْتَ فَاسْمَعْ مَعَنَا وَإِنْ شِئْتَ اذْهَبْ قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِي اللَّهْوِ عِنْدَ الْعُرْسِ .
#3384
Daif Isnaad
It was narrated that 'Ali, may Allah be pleased with him, said:"The Messenger of Allah fitted out Fatimah with a velvet dress, a water-skin and a pillow stuffed with Idhkhar
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں روئیں دار چادر، مشک، اذخر ( گھاس ) بھری ہوئی تکیہ دیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ .
#3385
Sahih
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah said:"A bed for a man, a bed for his wife, a third for his guest and the fourth is for the Shaitan
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بچھونا مرد کے لیے ہو، ایک بیوی کے لیے ہو اور تیسرا مہمان کے لیے اور ( اگر چوتھا ہو گا تو ) چوتھا شیطان کے لیے ہو گا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لأَهْلِهِ وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ " .
#3386
Sahih
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah said to me: 'Have you got married?' I said: 'Yes.' He said: 'Have you got any Anmat?' I said: 'How can we afford Anmat?' He said: 'You will be able to
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے گدے و غالیچے بھی بنائے ہیں؟“ میں نے کہا: ہمیں کہاں یہ گدے اور غالیچے میسر ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے پاس یہ ہوں گے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ تَزَوَّجْتَ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " هَلِ اتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا " . قُلْتُ وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ قَالَ " إِنَّهَا سَتَكُونُ " .
#3387
Sahih
It was narrated from Al-Ja'd bin Abi 'Uthman, that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah got married and consummated the marriage with his wife." He said: "My mother Umm Sulaim made some Hais, and I brought it to the Messenger of Allah and said: 'My mother sends you greetings of Salam, and says to you: 'This is a little from us.'' He said: 'Put it down.' Then he said: 'Go and call so-and-so, and so-and-so, and whoever you meet,' and he named some men. So I called those whom he named and those whom I met." I said to Anas: "How many were they?" He said: "About three hundred. Then the Messenger of Allah said: 'Let them sit around the dish of food in groups of ten, one after the other, and let each person eat from what is closest to him.' They ate until they were full, then one group went out and another group came in. He said to me: 'O Anas, clear it away.' So I cleared it away, and I do not know whether there was more when I cleared it away, or when I put it down
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی کے پاس گئے اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس بنایا، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے عرض کیا: میری والدہ ماجدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا تحفہ ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو اور جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ، آپ نے ان کے نام لیے اور ( راستے میں ) جو بھی ملے اسے بھی بلا لو“۔ راوی جعد کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ لوگ کتنے رہے ہوں گے؟ کہا: تقریباً تین سو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کا حلقہ ( دائرہ ) بنا کر کھاؤ، اور ہر شخص اپنے قریب ( یعنی سامنے ) سے کھائے“، تو ان لوگوں نے ( ایسے ہی کر کے ) کھایا اور سب آسودہ ہو گئے، ( دس آدمیوں کی ) ایک جماعت کھا کر نکلی تو ( دس آدمیوں کی ) دوسری جماعت آئی ( اور اس نے کھایا اور وہ آسودہ ہوئی، اس طرح لوگ آتے گئے اور پیٹ بھر کر کھاتے اور نکلتے گئے، جب سب کھا چکے تو ) مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انس! اٹھا لو ( وہ کھانا جو لائے تھے ) تو میں نے اٹھا لیا۔ مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ جب میں نے لا کر رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب اٹھایا تب ( زیادہ تھا ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، - وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ - قَالَ - وَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا - قَالَ - فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَتَقُولُ لَكَ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ . قَالَ " ضَعْهُ - ثُمَّ قَالَ - اذْهَبْ فَادْعُ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَمَنْ لَقِيتَ " . وَسَمَّى رِجَالاً فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُهُ قُلْتُ لأَنَسٍ عِدَّةُ كَمْ كَانُوا قَالَ يَعْنِي زُهَاءَ ثَلاَثِمِائَةٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ فَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ " . فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ قَالَ لِي " يَا أَنَسُ ارْفَعْ " . فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ رَفَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ وَضَعْتُ .
#3388
Sahih
It was narrated from Humaid At-Tawil that he heard Anas say:"The Messenger of Allah established the bond of brotherhood between (some of) the Quraish and (some of) the Ansar, and he established the bond of brotherhood between Sa'd bin Ar-Rabi' and 'Abdur-Rahman bin 'Awf. Sa'd said to him: 'I have wealth, which I will share equally between you and me. And I have two wives, so look and see which one you like better, and I will divorce her, and when her 'Iddah is over you can marry her.' He said: 'May Allah bless your family and your wealth for you. Show me -i.e., where the market is.' And he did not come back until he brought some ghee, and cottage cheese that he had left over. He said: 'The Messenger of Allah saw traces of yellow perfume on me and he said: 'What is this for?' I said: 'I have married a woman from among the Ansar.' He said: 'Give a Walimah (wedding feast) even if it is with one sheep
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کر دیا، تو سعد بن ربیع اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔ سعد ( انصاری ) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس مال ہے اس کا آدھا تمہارا ہے اور آدھا میرا اور میری دو بیویاں ہیں تو دیکھو ان میں سے جو تمہیں زیادہ اچھی لگے اسے میں طلاق دے دیتا ہوں، جب وہ عدت گزار کر پاک و صاف ہو جائے تو تم اس سے شادی کر لو۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: اللہ تمہاری بیویوں اور تمہارے مال میں تمہیں برکت عطا کرے۔ مجھے تو تم بازار کی راہ دکھا دو، ( پھر وہ بازار گئے ) اور گھی اور پنیر نفع میں کما کر لائے بغیر نہ لوٹے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زردی کا نشان دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے ایک انصاری لڑکی سے شادی کی ہے تو آپ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا سہی“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالأَنْصَارِ فَآخَى بَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ إِنَّ لِي مَالاً فَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَانِ وَلِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ فَأَنَا أُطَلِّقُهَا فَإِذَا حَلَّتْ فَتَزَوَّجْهَا . قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي - أَىْ - عَلَى السُّوقِ . فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى رَجَعَ بِسَمْنٍ وَأَقِطٍ قَدْ أَفْضَلَهُ . قَالَ وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَىَّ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ " مَهْيَمْ " . فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ . فَقَالَ " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
#3389
Sahih
Nafi' narrated from 'Abdullah, that he divorced his wife while she was menstruating. 'Umar asked the Messenger of Allah about that and said:"Abdullah has divorced his wife while she was menstruating." He said: "Tell 'Abdullah to take her back, then leave her until she becomes pure from this menstrual period, then menstruates again, then when she becomes pure again, if he wishes he may separate from her before having intercourse with her, or if he wishes he may keep her. This is the time when Allah, the Mighty and Sublime, has stated that women may be divorced
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہہ کر کہ عبداللہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے مسئلہ پوچھا ( کہ کیا اس کی طلاق صحیح ہوئی ہے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو ( طلاق ختم کر کے ) اسے لوٹا لے ( یعنی اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے اپنے اس حیض سے پاک ہو لینے دے، پھر جب وہ دوبارہ حائضہ ہو اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو وہ اگر اسے چھوڑ دینا چاہے تو اسے جماع کرنے سے پہلے چھوڑ دے اور اگر اسے رکھنا چاہے تو اسے رکھ لے ( اور اس سے اپنی ازدواجی زندگی بحال کرے ) یہ ہے وہ عدت جس کے مطابق اللہ عزوجل نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ السَّرَخْسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ " مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يَدَعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى فَإِذَا طَهُرَتْ فَإِنْ شَاءَ فَلْيُفَارِقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا وَإِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
#3390
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife while she was menstruating, during the time of the Messenger of Allah. 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, asked the Messenger of Allah about that, and the Messenger of Allah said:"Tell him to take her back and keep her until she becomes pure, then menstruates again and becomes pure again. Then if he wishes he may keep her, or if he wishes, he may divorce her before he touches (has intercourse with) her. This is the time when Allah, the Mighty and Sublime, has stated that women may be divorced
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے ( یعنی طلاق ختم کر کے اسے اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے روکے رکھے جب تک کہ وہ حیض سے پاک نہ ہو جائے پھر اسے حیض آئے پھر پاک ہو ( جب وہ دوبارہ حیض سے پاک ہو جائے ) تو چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو اسے چھونے ( اس کے پاس جانے اور اس سے صحبت کرنے ) سے پہلے اسے طلاق دیدے۔ یہی وہ عدت ہے جسے ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورت کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
#3391
Sahih
Salim bin 'Abdullah bin 'Umar narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:"I divorced my wife during the lifetime of the Messenger of Allah while she was menstruating. 'Umar mentioned that to the Messenger of Allah, and the Messenger of Allah got angry about that and said: 'Let him take her back, then keep her until she has menstruated again and become pure again. Then if he wants to divorce her when she is pure and before he touches her (has intercourse with her), then that is divorce at the prescribed time as Allah, the Mighty and Sublime, has revealed.'" 'Abdullah bin 'Umar said: "So I took her back, but I still counted the divorce that I had issued to her
زبیدی کہتے ہیں امام زہری سے پوچھا گیا: عدت والی طلاق کس طرح ہوتی ہے؟ ( اشارہ ہے قرآن کریم کی آیت: «فطلقوهن لعدتهن» ( الطلاق: 1 ) کی طرف ) تو انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ بن عمر نے انہیں بتایا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی، اس بات کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصہ ہوئے اور فرمایا: ”اسے رجوع کر لینا چاہیئے، پھر اسے روکے رکھے رہنا چاہیئے یہاں تک کہ ( پھر ) اسے حیض آئے اور وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر اگر اسے طلاق دے دینا ہی مناسب سمجھے تو طہارت کے ایام میں طلاق دیدے ہاتھ لگانے سے پہلے“۔ عدت والی طلاق کا یہی طریقہ ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے آیت نازل فرمائی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اسے لوٹا لیا اور جو طلاق میں اسے دے چکا تھا اسے بھی شمار کر لیا ( کیونکہ ان کے خیال میں وہ طلاق اگرچہ سنت کے خلاف اور حرام تھی پروہ پڑ گئی تھی ) ۔
أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ سُئِلَ الزُّهْرِيُّ كَيْفَ الطَّلاَقُ لِلْعِدَّةِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حَائِضٌ . فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَالَ " لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً وَتَطْهُرَ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَذَاكَ الطَّلاَقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَاجَعْتُهَا وَحَسِبْتُ لَهَا التَّطْلِيقَةَ الَّتِي طَلَّقْتُهَا .
#3392
Sahih
Abdullah bin Ayman asked Ibn 'Umar while Abu Az-Zubair was listening:"What did you think about a man who divorces his wife when she is menstruating?" He said to him: "Abdullah bin 'Umar divorced his wife when she was menstruating during the time of the Messenger of Allah. 'Umar asked the Messenger of Allah (about that) and said: 'Abdullah bin 'Umar has divorced his wife while she was menstruating.' The Messenger of Allah said: 'Let him take her back.' So he made me take her back. He said: 'When she becomes pure, let him divorce her or keep her.' Ibn 'Umar said: 'The Prophet said: 'O Prophet! When you divorce women, divorce them before their 'Iddah (prescribed period) elapses
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ایمن کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے سنا: آپ کی کیا رائے ہے ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟ انہوں نے جواب دیا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس وقت طلاق دی جب وہ حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھا کہ عبداللہ بن عمر کی بیوی حالت حیض میں تھی اس نے اسے اسی حالت میں طلاق دے دی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ کو چاہیئے کہ وہ اس سے رجوع کرے“، اور پھر آپ نے میری بیوی میرے پاس بھیج دی اور فرمایا: ”جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو جائے تب اسے یا تو طلاق دیدے یا اسے روک لے“ ( اسے دونوں کا اختیار ہے جیسی اس کی مرضی و پسند ہو ) ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ( اس کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ”اے نبی! ( اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت ( کے دنوں کے آغاز ) میں انہیں طلاق دو“ ( الطلاق: ۱ ) ۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ، يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ لَهُ طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَ هِيَ حَائِضٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيُرَاجِعْهَا " . فَرَدَّهَا عَلَىَّ قَالَ " إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ } فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ .
#3393
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas, concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime:"O Prophet! When you divorce women, divorce them at their 'Iddah (prescribed periods)." Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, said: "Before their 'Iddah elapses
مجاہد (اپنے استاذ) ابن عباس رضی الله عنہما سے اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» یعنی ”جب عورت حیض سے پاک ہو جائے اور اس سے اس طہر میں صحبت بھی نہ کی جائے تب طلاق دینی چاہیئے“ کے سلسلے میں روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «لعدتهن» کی جگہ «قبل عدتهن» پڑھا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ } قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنه قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ .
#3394
Sahih
It was narrated from 'Abdullah that he said:"The Sunnah divorce is a divorce issued when she is pure (not menstruating) without having had intercourse with her. If she menstruates and becomes pure again, give her another divorce, and if she menstruates and becomes pure again, give her another divorce, then after that, she should wait for another menstrual cycle." (One of the narrators) Al-A'mash said: "I asked Ibrahim, and he said something similar
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنت اس طرح ہے کہ جب عورت پاک ہو اور اس پاکی کے دنوں میں عورت سے جماع نہ کیا ہو تو اسے ایک طلاق دے، پھر جب دوبارہ اسے حیض آئے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے دوسری طلاق دے پھر جب ( تیسری بار ) حیض سے ہو جائے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے ایک اور طلاق دے۔ پھر اس کے بعد عورت ایک حیض کی عدت گزارے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح بتایا ۲؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ طَلاَقُ السُّنَّةِ تَطْلِيقَةٌ وَهِيَ طَاهِرٌ فِي غَيْرِ جِمَاعٍ فَإِذَا حَاضَتْ وَطَهُرَتْ طَلَّقَهَا أُخْرَى فَإِذَا حَاضَتْ وَطَهُرَتْ طَلَّقَهَا أُخْرَى ثُمَّ تَعْتَدُّ بَعْدَ ذَلِكَ بِحَيْضَةٍ . قَالَ الأَعْمَشُ سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ .
#3395
Sahih
It was narrated that 'Abdullah said:"The Sunnah divorce is to divorce her when she is pure (not menstruating) without having had intercourse with her
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو طہر کی حالت میں بغیر جماع کیے ہوئے طلاق دے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ طَلاَقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا فِي غَيْرِ جِمَاعٍ .
#3396
Sahih
It was narrated from 'Abdullah that he issued a divorce to his wife when she was menstruating. So 'Umar went to inform the Prophet about that. The Prophet said to him:"Tell 'Abdullah to take her back, then, when she has performed Ghusl, let him leave her alone, until she menstruates (again). Then, when she performs Ghusl following that second period, he should not touch her until he divorces her. And if he wants to keep her, then let him keep her. That is the time when Allah has stated that women may be divorced
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ عبداللہ کو حکم دو کہ اسے لوٹا لے۔ پھر جب ( حیض سے فارغ ہو کر ) وہ غسل کر لے تو اسے چھوڑے رکھے پھر جب حیض آئے اور اس دوسرے حیض سے فارغ ہو کر غسل کر لے تو اسے نہ چھوئے یعنی ( صحبت نہ کرے ) یہاں تک کہ اسے طلاق دیدے پھر اسے روک لینا چاہے تو روک لے ( اور طلاق نہ دے ) یہی وہ عدت ہے جس کا لحاظ کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا اغْتَسَلَتْ فَلْيَتْرُكْهَا حَتَّى تَحِيضَ فَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا الأُخْرَى فَلاَ يَمَسَّهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا فَإِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
#3397
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife while she was menstruating. He mentioned that to the Prophet and he said:"Tell him to take her back, then divorce her while she is pure (not menstruating) or pregnant
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے، پھر جب وہ ( حیض سے ) پاک ہو جائے یا حاملہ ہو جائے تب اس کو طلاق دے“ ( اگر دینا چاہے ) ۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى طَلْحَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ " .
#3398
Sahih
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife when she was menstruating, but the Messenger of Allah told him to take her back, and divorce her when she was pure (not menstruating)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس طلاق کو باطل قرار دے کر ) اس عورت کو انہیں لوٹا دیا۔ پھر جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو گئی تو انہوں نے اسے طلاق دی ( اور وہ طلاق نافذ ہوئی ) ۔
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى طَلَّقَهَا وَهِيَ طَاهِرٌ .
#3399
Sahih
It was narrated that Yunus bin Jubair said:"I asked Ibn 'Umar about a man who divorced his wife while she was menstruating. He said: 'Do you know 'Abdullah bin 'Umar?' He divorced his wife while she was menstruating, and 'Umar asked the Prophet about that, and he told him to take her back, then wait for the right time. I said to him: 'Was that divorce counted?' He said: 'Be quiet! What do you think if some becomes helpless and behaves foolishly?
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مرد کے متعلق ( مسئلہ ) پوچھا جس کی بیوی حیض سے ہو اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہو؟ انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ ( اس وقت ) حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر کو حکم دیا کہ اسے لوٹا لے اور اس کی عدت کا انتظار کرے۔ ( یونس بن جبیر کہتے ہیں ) میں نے ان سے کہا: یہ طلاق جو وہ دے چکا ہے کیا وہ اس کا شمار کرے گا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تم کیا سمجھتے ہو اگر وہ عاجز ہو جاتا ( اور رجوع نہ کرتا یا رجوع کرنے سے پہلے مر جاتا ) اور وہ حماقت کر گزرتا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ هَلْ تَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا . فَقُلْتُ لَهُ فَيَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ فَقَالَ مَهْ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ .
#3400
Sahih
It was narrated that Yunus bin Jubair said:"I said to Ibn 'Umar: 'A man divorced his wife while she was menstruating.' He said: 'Do you know 'Abdullah bin 'Umar? He divorced his wife when she was menstruating, and 'Umar went to the Prophet and asked him about that, and he told him to take her back then wait for the right time.' I said to him: 'Was that divorce counted?' He said: 'Be quiet! What do you think if some becomes helpless and behaves foolishly?
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو جب کہ وہ حیض سے تھی طلاق دے دی ( تو اس کا مسئلہ کیا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو، انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اور وہ اس وقت حالت حیض میں تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو لوٹا لے، پھر اس کی عدت کا انتظار کرے۔ میں نے ان سے پوچھا: جب آدمی اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدے تو کیا وہ اس طلاق کو شمار کرے گا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اگر وہ رجوع نہ کرتا اور حماقت کرتا۔ ( تو کیا وہ شمار نہ ہوتی؟ ہوتی، اس لیے ہو گی ) ۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا قُلْتُ لَهُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ أَيَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ فَقَالَ مَهْ وَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ .