#3301
Sahih
It was narrated from 'Aishah that her paternal uncle through breast-feeding, whose name was Aflah, asked permission to meet her, and she observed Hijab before him. The Messenger of Allah was told about that and he said:"Do not observe Hijab before him, for what becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through lineage
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے رضاعی چچا افلح نے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے ان سے پردہ کیا، اس کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ سے ) فرمایا: ”ان سے پردہ مت کرو، کیونکہ نسب سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، وہی رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحَ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ تَحْتَجِبِي مِنْهُ فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " .
#3302
Sahih
It was narrated from 'Aishah that the Prophet said:"What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through lineage
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " .
#3303
Sahih
It was narrated that 'Amrah said:"I heard 'Aishah say: The Messenger of Allah said: 'What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through birth
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، { عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، } عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ " .
#3304
Sahih
It was narrated that 'Ali, may Allah be pleased with him, said:"I said: 'O Messenger of Allah, why do you choose wives from among Quraish and not from among us?' He said: 'Do you have anyone in mind?' I said: 'Yes, the daughter of Hamzah.' The Messenger of Allah said: 'She is not permissible for me (to marry); she is the daughter of my brother through breast-feeding
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے آپ کی مہربانیاں و دلچسپیاں قریش میں بڑھ رہی ہیں اور ( ہم جو آپ کے خاص الخاص ہیں ) آپ ہمیں چھوڑ رہے ( اور نظر انداز فرما رہے ) ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی ( شادی کے لائق ) ہے؟“ میں نے کہا: ہاں! حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ " وَعِنْدَكَ أَحَدٌ " . قُلْتُ نَعَمْ بِنْتُ حَمْزَةَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
#3305
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Mention was made to the Messenger of Allah of the daughter of Hamzah (as a potential wife). He said: 'She is the daughter of my brother through breast-feeding.'" (One of the narrators) Shu'bah said: "Qatadah heard this from Jabir bin Zaid
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ( سے شادی ) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے“ ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: اس روایت کو قتادہ نے جابر بن زید سے سنا ہے۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنْتُ حَمْزَةَ فَقَالَ " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " . قَالَ شُعْبَةُ هَذَا سَمِعَهُ قَتَادَةُ مِنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ .
#3306
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that the daughter of Hamzah was suggested to Messenger of Allah (as a potential wife). He said:"She is the daughter of my brother through breast-feeding, and what becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is the same as that which becomes unlawful through lineage
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی کر لینے کی ترغیب دی گئی، تو آپ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت ( دودھ پینے ) سے ہر وہ رشتہ، ناطہٰ حرام ہو جاتا ہے جو رشتہ، ناطہٰ نسب سے حرام ہوتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ فَقَالَ " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " .
#3307
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"One of the things that Allah, the Mighty and Sublime, revealed" -(one of the narrators) Al-Harith said (in his narration): "One of the things that were revealed in the Qur'an"- "was that ten known breast-feedings make marriage prohibited, then that was abrogated and changed to five known breast-feedings. Then the Messenger of Allah passed away when this was something that was still being recited in the Qur'an
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں اللہ عزوجل نے جو نازل فرمایا اس میں یہ ( حارث کی روایت میں قرآن میں جو نازل ہوا اس میں تھا ) «عشر رضعات معلومات يحرمن» ( دس ( واضح ) معلوم گھونٹ نکاح کو حرام کر دیں گے ) ، پھر یہ دس گھونٹ منسوخ کر کے پانچ معلوم گھونٹ کر دیا گیا ( یعنی خمس رضعات معلومات ) ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، اور یہ آیت قرآن میں پڑھی جاتی رہی ۱؎۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ - وَقَالَ الْحَارِثُ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ - عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ .
#3308
Sahih
It was narrated from Umm Fadl that the Prophet of Allah was asked about breast-feeding and said:"Suckling (Al-Imlajah) once or twice does not make (marriage) prohibited." And (one of the narrators) Qatadah said (in his narration): "Suckling (Al-Massah) once or twice does not make (marriage) prohibited
ام الفضل رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رضاعت ( یعنی دودھ پلانے ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار کا پلانا ( نکاح کو ) حرام نہیں کرتا“۔ قتادہ اپنی روایت میں «الإملاجة ولا الإملاجتان» کی جگہ «المصة والمصتان» کہتے ہیں، یعنی ”ایک بار یا دو بار چھاتی کا چوسنا نکاح کو حرام نہ کرے گا“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَأَيُّوبَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الرَّضَاعِ فَقَالَ " لاَ تُحَرِّمُ الإِمْلاَجَةُ وَلاَ الإِمْلاَجَتَانِ " . وَقَالَ قَتَادَةُ " الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
#3309
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin Az-Zubair that the Prophet said:"Suckling once or twice does not make (marriage) prohibited
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا“۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
#3310
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah said: 'Suckling once or twice does not make (marriage) prohibited
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا ( نکاح کو ) حرام نہیں کرتا ۱؎“۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
#3311
Sahih Isnaad
Sa'eed narrated from Qatadah:"We wrote to Ibrahim bin Yazid An-Nakha'i asking him about breast-feeding. He wrote back saying that Shuraih had narrated that 'Ali and Ibn Mas'ud used to say: 'A little or a lot of breast-feeding makes marriage prohibited.'" In his book, it said that Abu Ash-Sha'tha' Al-Muharibi narrated that 'Aishah had told him that the Prophet of Allah used to say: "Suckling (Al-Khatfah) once or twice does not make (marriage) prohibited
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم بن یزید نخعی کے پاس ( خط ) لکھ کر رضاعت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے ( جواب میں ) لکھا کہ مجھ سے شریح نے بیان کیا ہے کہ علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں کہتے تھے کہ دودھ تھوڑا پئے یا زیادہ رضاعت سے حرمت ( نکاح ) ثابت ہو جائے گی، اور ان کی کتاب ( تحریر ) میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابوالشعثاء محاربی نے مجھ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ایک بار یا دو بار اچک لینے ( یعنی ایک یا دو گھونٹ پی لینے ) سے نکاح کی حرمت قائم نہیں ہوتی“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ كَتَبْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ نَسْأَلُهُ عَنِ الرَّضَاعِ، فَكَتَبَ أَنَّ شُرَيْحًا، حَدَّثَنَا أَنَّ عَلِيًّا وَابْنَ مَسْعُودٍ كَانَا يَقُولاَنِ يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ . وَكَانَ فِي كِتَابِهِ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيَّ حَدَّثَنَا أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " لاَ تُحَرِّمُ الْخَطْفَةُ وَالْخَطْفَتَانِ " .
#3312
Sahih
It was narrated that Masruq said:"Aishah said: 'The Messenger of Allah entered upon me and there was a man sitting with me. He got upset about that, and I saw the anger in his face.' I said: "O Messenger of Allah, he is my brother through breast-feeding." He said: "Be careful who you count as your brothers" --or: "be careful who you count as your brothers through breast-feeding"-- "for the breast-feeding (which makes marriage prohibited) is from hunger
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ( اس وقت ) میرے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا یہ آپ پر بڑا گراں گزرا، میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی تو کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص میرا رضاعی بھائی ہے، آپ نے فرمایا: ”اچھی طرح دیکھ بھال لیا کرو کہ تمہارے رضاعی بھائی کون ہیں، کیونکہ دودھ پینے کا اعتبار بھوک میں ( جبکہ دودھ ہی غذا ہو ) ہے“
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ . فَقَالَ " انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ - وَمَرَّةً أُخْرَى - انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنَ الْمَجَاعَةِ " .
#3313
Sahih
It was narrated from 'Amrah that 'Aishah told her that the Messenger of Allah was with her, and she heard a man asking permission to enter Hafsah's house. 'Aishah said:"I said: 'O Messenger of Allah, there is a man asking permission to enter your house.' The Messenger of Allah said: 'I think it is so-and-so the paternal uncle of Hafsah through breast-feeding.' 'Aishah said: If so-and-so (her own paternal uncle through breast-feeding) were alive, would he be allowed to enter upon me?' The Messenger of Allah said: 'What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through birth
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے تو انہوں نے سنا کہ ایک آدمی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر میں اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اسے پہچان لیا ہے، وہ حفصہ کا رضاعی چچا ہے“، میں نے کہا: اگر فلاں میرے رضاعی چچا زندہ ہوتے تو میرے یہاں بھی آیا کرتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت ( دودھ کا رشتہ ) ویسے ہی ( نکاح کو ) حرام کرتا ہے جیسے ولادت ( نسل ) میں ہونے سے حرمت ہوتی ہے“۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ رَجُلاً يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُرَاهُ فُلاَنًا " . لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَوْ كَانَ فُلاَنٌ حَيًّا - لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ - دَخَلَ عَلَىَّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يُحَرَّمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ " .
#3314
Sahih
It was narrated from 'Urwah that 'Aishah told him:"My paternal uncle through breast-feeding, Abu Al-Ja'd, came to me, and I sent him away. -He (one of the narrators) said: "Hisham said: 'He was Abu Al-Qu'ais." - "Then the Messenger of Allah came, and I told him. The Messenger of Allah said: 'Give him permission (to enter)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد میرے پاس آئے، تو میں نے انہیں واپس لوٹا دیا ( ہشام کہتے ہیں کہ وہ ابوالقعیس تھے ) ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں ( گھر میں ) آنے کی اجازت دو“۔
أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَ عَمِّي أَبُو الْجَعْدِ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَرَدَدْتُهُ - قَالَ وَقَالَ هِشَامٌ هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ - فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْذَنِي لَهُ " .
#3315
Sahih
It was narrated from 'Aishah that the brother of Abu Al-Qu'ais asked permission to enter upon 'Aishah after the Verse of Hijab had been revealed, and she refused to let him in. Mention of that was made to the Prophet and he said:"Let him in, for he is your paternal uncle." She said: "The woman breast-fed me, not the man." He said: "He is your paternal uncle, so let him visit you
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس کے بھائی نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ تمہارے چچا ہیں وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، { عَنْ أَبِيهِ، } عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ، اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ بَعْدَ آيَةِ الْحِجَابِ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " . فَقُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ . فَقَالَ " إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ " .
#3316
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"Aflah, the brother of Abu Al-Qu'ais, who was my paternal uncle through breast-feeding, used to ask permission to enter upon me, and I refused to let him in until the Messenger of Allah came, and I told him about that. He said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.'" 'Aishah said: "That was after the (Verse of) Hijab had been revealed
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح جو میرے رضاعی چچا ہوتے تھے میرے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے تھے تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ واقعہ پردہ کی آیت کے نزول کے بعد کا ہے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَىَّ وَهُوَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ .
#3317
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"My paternal uncle Aflah asked permission to enter upon me after the (Verse of) Hijab had been revealed, but I did not let him in. The Prophet came to me and I asked him (about that) and he said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.' I said: 'O Messenger of Allah, the woman breast-fed me, not the man.' He said: 'Let him in, may your hands be rubbed with dust, for he is your uncle
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کے اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا ہے ( وہ میرے محرم کیسے ہو گئے ) ، آپ نے فرمایا: ”تم انہیں ( اندر ) آنے کی اجازت دو، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے ( تمہیں نہیں معلوم؟ ) وہ تمہارے چچا ہیں“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامِ بْنِ ع��رْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَأْذَنَ عَلَىَّ عَمِّي أَفْلَحُ بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ " ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ . قَالَ " ائْذَنِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " .
#3318
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"Aflah, the brother of Abu Al-Qu'ais, came and asked permission to enter, and I said: 'I will not let him in until I seek the permission of the Prophet of Allah.' When the Prophet of Allah came, I said to him: 'Aflah, the brother of Abu Al-Qu'ais, came and asked permission to enter, but I refused to let him in.' He said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.' I said: 'The wife of Abu Al-Qu'ais breast-fed me; the man did not breast-feed me.' He said: 'Let him in, for he is your paternal uncle
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح ( میرے پاس گھر میں آنے کی ) اجازت مانگنے آئے، میں نے کہا: میں جب تک خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں انہیں اجازت نہ دوں گی، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے بتایا کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، آپ نے فرمایا: ” ( نہیں ) انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: مجھے تو ابوالقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( بھلے سے مرد نے نہیں پلایا ہے ) تم انہیں آنے دو، وہ تمہارے چچا ہیں“۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ فَقُلْتُ لاَ آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ لَهُ جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ . فَقَالَ " ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " . قُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ . قَالَ " ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " .
#3319
Sahih
Zainab bint Abi Salamah said:"I heard 'Aisha, the wife of the Prophet say: 'Sahlah bint Suhail came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah, I see (displeasure) in the face of Abu Hudhaifah when Salim enters upon me.' The Messenger of Allah said: 'Breast-feed him.' She said: 'He has a beard.' He said: 'Breast-feed him, and that will take away (the displeasure) in the face of Abu Hudhaifah.' She said: 'By Allah, I never saw that on the face of Abu Hudhaifah after that
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! سالم جب میرے پاس آتے ہیں تو میں ( اپنے شوہر ) ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ( ناگواری ) دیکھتی ہوں ( اور ان کا آنا ناگزیر ہے ) ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں دودھ پلا دو“، میں نے کہا: وہ تو ڈاڑھی والے ہیں، ( بچہ تھوڑے ہیں ) ، آپ نے فرمایا: ” ( پھر بھی ) دودھ پلا دو، دودھ پلا دو گی تو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر جو تم ( ناگواری ) دیکھتی ہو وہ ختم ہو جائے گی“، سہلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! دودھ پلا دینے کے بعد پھر میں نے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کبھی کوئی ناگواری نہیں محسوس کی۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَىَّ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْضِعِيهِ " . قُلْتُ إِنَّهُ لَذُو لِحْيَةٍ . فَقَالَ " أَرْضِعِيهِ يَذْهَبْ مَا فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ " . قَالَتْ وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ .
#3320
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"Sahlah bint Suhail came to the Messenger of Allah and said: 'I see (displeasure) in the face of Abu Hudhaifah when Salim enters upon me.' The Messenger of Allah said: 'Breast-feed him.' She said: 'How can I breast-feed him when he is a grown man?' He said: 'Don't I know that he is a grown man?' Then she came after that and said: 'By the One Who sent you with the truth as a Prophet, I have never seen anything I dislike on the face of Abu Hudhaifah after that
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہا: میں سالم کے اپنے پاس آنے جانے سے ( اپنے شوہر ) ابوحذیفہ کے چہرے میں کچھ ( تبدیلی و ناگواری ) دیکھتی ہوں، آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اپنا دودھ پلا دو“، انہوں نے کہا: میں انہیں کیسے دودھ پلا دوں وہ تو بڑے ( عمر والے ) آدمی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں“، اس کے بعد وہ ( دودھ پلا کر پھر ایک دن ) آئیں اور کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبی بنا کر حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس کے بعد ابوحذیفہ کے چہرے پر کوئی ناگواری کی چیز نہیں دیکھی۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْنَاهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَىَّ . قَالَ " فَأَرْضِعِيهِ " . قَالَتْ وَكَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ فَقَالَ " أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ " . ثُمَّ جَاءَتْ بَعْدُ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ شَيْئًا أَكْرَهُ .
#3321
Sahih Isnaad
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah commanded the wife of Abu Hudhaifah to breast-feed Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah, so that the protective jealousy of Abu Hudhaifah would be dispelled. She breast-fed him when he was a man." (One of the narrators) Rabi'ah said: "That was a concession granted to Salim
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوحذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ تم ابوحذیفہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دو تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت ( ناگواری ) ختم ہو جائے۔ تو انہوں نے انہیں دودھ پلا دیا اور وہ ( بچے نہیں ) پورے مرد تھے۔ ربیعہ ( اس حدیث کے راوی ) کہتے ہیں: یہ رخصت صرف سالم کے لیے تھی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، وَرَبِيعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَتَّى تَذْهَبَ غَيْرَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ . قَالَ رَبِيعَةُ فَكَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ .
#3322
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"Sahlah came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah, Salim enters upon us and he understands what men understand, and knows what men know.' He said: 'Breast-feed him, and you will become unlawful to him thereby.' (Ibn Abi Mulaikah, one of the narrators said:) For a year I did not narrate this, then I met Al-Qasim and he said: 'Narrate it and do not worry about it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! سالم ہمارے پاس آتا جاتا ہے ( اب وہ بڑا ہو گیا ہے ) جو باتیں لوگ سمجھتے ہیں وہ بھی سمجھتا ہے اور جو باتیں لوگ جانتے ہیں وہ بھی جان گیا ہے ( اور اس کا آنا جانا بھی ضروری ہے ) آپ نے فرمایا: ”تو اسے اپنا دودھ پلا دے تو اپنے اس عمل سے اس کے لیے حرام ہو جائے گی“۔ ابن ابی ملیکہ ( اس حدیث کے راوی ) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو سال بھر کسی سے بیان نہیں کیا، پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی ( اور اس کا ذکر آیا ) تو انہوں نے کہا: اس حدیث کو بیان کرو اور اس کے بیان کرنے میں ( شرماؤ ) اور ڈرو نہیں۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ سَهْلَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَقَدْ عَقَلَ مَا يَعْقِلُ الرِّجَالُ وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ . قَالَ " أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ بِذَلِكَ " . فَمَكَثْتُ حَوْلاً لاَ أُحَدِّثُ بِهِ وَلَقِيتُ الْقَاسِمَ فَقَالَ حَدِّثْ بِهِ وَلاَ تَهَابُهُ .
#3323
Sahih
It was narrated from 'Aishah that Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah, was with Abu Hudhaifah and his family in their house. The daughter of Suhail came to the Prophet and said:"Salim has reached the age of manhood, and understands what men understand. He enters upon us, and I think that Abu Hudhaifah is not happy about that." The Prophet said: "Breast-feed him, and you will become unlawful to him." So she breast-fed him, and the displeasure of Abu Hudhaifah disappeared. She came back to him and said: "I breast-fed him and the displeasure of Abu Hudhaifah has disappeared
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ابوحذیفہ اور ان کی بیوی ( بچوں ) کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے۔ تو سہیل کی بیٹی ( سہلہ ابوحذیفہ کی بیوی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہا کہ سالم لوگوں کی طرح جوان ہو گیا ہے اور اسے لوگوں کی طرح ہر چیز کی سمجھ آ گئی ہے اور وہ ہمارے پاس آتا جاتا ہے اور میں اس کی وجہ سے ابوحذیفہ کے دل میں کچھ ( کھٹک ) محسوس کرتی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دودھ پلا دو، تو تم اس پر حرام ہو جاؤ گی“ تو انہوں نے اسے دودھ پلا دیا، چنانچہ ابوحذیفہ کے دل میں جو ( خدشہ ) تھا وہ دور ہو گیا، پھر وہ لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( دوبارہ ) آئیں اور ( آپ سے ) کہا: میں نے ( آپ کے مشورہ کے مطابق ) اسے دودھ پلا دیا، اور میرے دودھ پلا دینے سے ابوحذیفہ کے دل میں جو چیز تھی یعنی کبیدگی اور ناگواری وہ ختم ہو گئی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَالِمًا، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ مَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَأَهْلِهِ فِي بَيْتِهِمْ فَأَتَتْ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ سَالِمًا قَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ وَعَقَلَ مَا عَقَلُوهُ وَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَإِنِّي أَظُنُّ فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ " . فَأَرْضَعْتُهُ فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُهُ فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ .
#3324
Sahih
It was narrated that 'Urwah said:"The rest of the wives of the Prophet refused for anyone to enter upon them on the basis of that type of breast-feeding, meaning breast-feeding of an adult. They said to 'Aishah: 'By Allah, we think that what the Messenger of Allah told Sahlah bint Suhail to do was a concession which was granted by the Messenger of Allah only with regard to breast-feeding Salim. By Allah, no one will enter upon us, nor see us on the basis of this type of breast-feeding
زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبھی ازواج مطہرات ۱؎ نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی ان کے پاس اس رضاعت کا سہارا لے کر ( گھر کے اندر ) آئے، مراد اس سے بڑے کی رضاعت ہے اور سب نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: قسم اللہ کی! ہم سمجھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہلہ بنت سہیل کو ( سالم کو دودھ پلانے کا ) جو حکم دیا ہے وہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے سالم کی رضاعت کے سلسلہ میں خاص تھا۔ قسم اللہ کی! اس رضاعت کے ذریعہ کوئی شخص ہمارے پاس آ نہیں سکتا اور نہ ہمیں دیکھ سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَمَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضْعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ - يُرِيدُ رَضَاعَةَ الْكَبِيرِ - وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نُرَى الَّذِي أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلاَّ رُخْصَةً فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهِ لاَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضْعَةِ وَلاَ يَرَانَا .
#3325
Sahih
Zainab bint Abu Salamah narrated that her mother Umm Salamah, the wife of the Prophet, used to say:"The rest of the wives of the Prophet refused for anyone to enter upon them on the basis of that type of breast-feeding, meaning breast-feeding of an adult. They said to 'Aishah: 'By Allah, we think that this is a concession which the Messenger of Allah granted only to Salim. No one will enter upon us, nor see us on the basis of this type of breast-feeding
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی تھیں کہ سبھی ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس رضاعت ( یعنی بڑے کی رضاعت ) کو دلیل بنا کر ان کے پاس ( یعنی کسی بھی عورت کے پاس ) جایا جائے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: قسم اللہ کی! ہم اس رخصت کو عام رخصت نہیں سمجھتے، یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص سالم کے لیے دی تھی، اس رضاعت کو دلیل بنا کر ہم عورتوں کے پاس کوئی آ جا نہیں سکتا اور نہ ہی ہم عورتوں کو دیکھ سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أُمَّهُ، زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُدْخَلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نُرَى هَذِهِ إِلاَّ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً لِسَالِمٍ فَلاَ يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلاَ يَرَانَا .