#301
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"I remember finding it on the garment of the Messenger of Allah (ﷺ) and scratching it off
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اسے ( یعنی منی کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں پاتی تو اسے رگڑ کر اس سے صاف کر دیتی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَجِدُهُ فِي ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَحُتُّهُ عَنْهُ .
#302
Sahih
It was narrated from Umm Qais bin Mihsan that she brought a small son of hers who has not started eating food to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) took him in his lap and he urinated on his garment, so he called for some water and sprinkled it on it, but he did not wash it
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، تو اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا، اور اس سے کپڑے پر چھینٹا مار، اور اسے دھویا نہیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ .
#303
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"A small boy was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and he urinated on him, so he called for water and poured it on the place where the urine was
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ( دودھ پینے والا ) بچہ لایا گیا، تو اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، تو آپ نے پانی منگایا، اور اسے اس پر بہا دیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ .
#304
Sahih
Abu As-Samh said:"The Prophet (ﷺ) said: 'A girl's urine should be washed away and a boy's urine should be sprinkled with water
ابو سمح رضی اللہ عنہ (خادم النبی) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلاَمِ " .
#305
Sahih
It was narrated that Anas bin Malik narrated that "some people from 'Ukl came to the Messenger of Allah (ﷺ) and spoke about Islam. They said:'O Messenger of Allah, we are nomads who follows the herds, not farmers and growers, and the climate of Al-Madinah does not suit us.' So the Messenger of Allah (ﷺ)told them to go out to a flock of female camels and drink their milk and urine. When they recovered - and they were in the vicinity of Al-Harrah - they apostatized after having become Muslim, killed the camel-herder of the Messenger of Allah (ﷺ) and drove the camels away. News of that reached the Messenger of Allah (ﷺ) and he sent people after them. They were brought back, their eyes were smoldered with heated nails, their hands and feet cut off, then they were left in Al-Harrah in that state until they died
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اپنے اسلام لانے کی بات کی، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم لوگ مویشی والے ہیں ( جن کا گزارہ دودھ پر ہوتا ہے ) ہم کھیتی باڑی والے نہیں ہیں، مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں کچھ اونٹ اور ایک چرواہا دے دیا جائے، اور ان سے کہا کہ وہ جا کر مدینہ سے باہر رہیں، اور ان جانوروں کے دودھ اور پیشاب پئیں۱؎ چنانچہ وہ باہر جا کر حرّہ کے ایک گوشے میں رہنے لگے جب اچھے اور صحت یاب ہو گئے، تو اپنے اسلام لے آنے کے بعد کافر ہو گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے تعاقب کرنے والوں کو ان کے پیچھے بھیجا ( چنانچہ وہ پکڑ لیے گئے اور ) آپ کے پاس لائے گئے، تو لوگوں نے ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائی پھیر دی ۲؎، اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے، پھر اسی حال میں انہیں ( مقام ) حرہ میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ أُنَاسًا أَوْ رِجَالاً مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَكَلَّمُوا بِالإِسْلاَمِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ . وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَوْدٍ وَرَاعٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَلَمَّا صَحُّوا وَكَانُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهْمِ فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَّعُوا أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ثُمَّ تُرِكُوا فِي الْحَرَّةِ عَلَى حَالِهِمْ حَتَّى مَاتُوا .
#306
Sahih Isnaad
It was narrated from Anas bin Malik that some Bedouins from 'Urainah came to the Prophet (ﷺ) and became Muslims, but the climate of Al-Madinah did not suit them; their skin turned yellow and their stomachs became swollen. The Messenger of Allah (ﷺ) sent them to some pregnant camels of his and told them to drink their milk and urine until they recovered. Then they killed the camel-herder and drove the camels away. The Messenger of Allah (ﷺ) sent people after then and they were brought back. their hands and feet were cut off and their eyes were smoldered with burning nails. The Commander of the Believers, 'Abdul-Malik, said to Anas - when he was narrating this Hadith to him - "(Were they being punished) for Kufr or for a sin?" He said:"For Kufr
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی ( دیہاتی ) آئے، اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، یہاں تک کہ ان کے رنگ زرد ہو گئے، اور پیٹ پھول گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی اونٹنیوں کے پاس بھیج دیا ۱؎ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پئیں، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو گئے، تو ان لوگوں نے آپ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ان کے تعاقب میں بھیجا، چنانچہ انہیں پکڑ کر آپ کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَلْوَانُهُمْ وَعَظُمَتْ بُطُونُهُمْ فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى لِقَاحٍ لَهُ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَحُّوا فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَلَبِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ . قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدُ الْمَلِكِ لأَنَسٍ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ بِكُفْرٍ أَمْ بِذَنْبٍ قَالَ بِكُفْرٍ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَنَسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ طَلْحَةَ وَالصَّوَابُ عِنْدِي وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ يَحْيَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلٌ .
#307
Sahih
It was narrated that 'Amr bin Maimun said:"Abdullah told us: 'The Messenger of Allah (ﷺ) was praying at the House (the Ka'bah) and a group of the nobles of Quraish were sitting there. They had just slaughtered a camel and one of them said: "Which of you will take these stomach contents with the blood and wait until he prostrates, then put them on his back?" 'Abdullah said: 'The one who was most doomed got up and took the stomach contents, then went and waited until he prostrated himself, and put it on his back. Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), who was a young girl, was told about that, and she came running and took it off his back. When he had finished praying he said: "O Allah! Punish the Quraish," three times, "O Allah, punish Abu Jahl bin Hisham, Shaibah bin Rabi'ah, 'Utbah bin Rabi'ah, 'Uqbah bin Abi Mu'ait" until he had listed seven men from Quraish.' 'Abdullah said: 'By the One Who revealed the Book to him, I saw them dead on the day of Badr (their corpses) in a single dry well
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، اور قریش کے کچھ شرفاء بیٹھے ہوئے تھے، اور انہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا ۱؎: تم میں سے کون ہے جو یہ خون آلود اوجھڑی لے کر جائے، پھر کچھ صبر کرے حتیٰ کہ جب آپ اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیں، تو وہ اسے ان کی پشت پر رکھ دے، تو ان میں کا سب سے بدبخت ( انسان ) کھڑا ہوا ۲؎، اور اس نے اوجھڑی لی، اور آپ کے پاس لے جا کر انتظار کرتا رہا، جب آپ سجدہ میں چلے گئے تو اس نے اسے آپ کی پشت پر ڈال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمسن بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر ملی، تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اسے ہٹایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے تین مرتبہ کہا: «اللہم عليك بقريش» اے اللہ! قریش کو ہلاک کر دے ، «اللہم عليك بقريش»، «اللہم عليك بأبي جهل بن هشام وشيبة بن ربيعة وعتبة بن ربيعة وعقبة بن أبي معيط» اے اللہ! ابوجہل بن ہشام، شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط سے تو نپٹ لے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سات ۳؎ لوگوں کا گن کر نام لیا، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا، میں نے انہیں بدر کے دن ایک اوندھے کنویں میں مرا ہوا دیکھا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ - قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، فِي بَيْتِ الْمَالِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَمَلأٌ مِنْ قُرَيْشٍ جُلُوسٌ وَقَدْ نَحَرُوا جَزُورًا فَقَالَ بَعْضُهُمْ أَيُّكُمْ يَأْخُذُ هَذَا الْفَرْثَ بِدَمِهِ ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى يَضَعَ وَجْهَهُ سَاجِدًا فَيَضَعُهُ - يَعْنِي - عَلَى ظَهْرِهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَانْبَعَثَ أَشْقَاهَا فَأَخَذَ الْفَرْثَ فَذَهَبَ بِهِ ثُمَّ أَمْهَلَهُ فَلَمَّا خَرَّ سَاجِدًا وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَأُخْبِرَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ جَارِيَةٌ فَجَاءَتْ تَسْعَى فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ قَالَ " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ " . حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً مِنْ قُرَيْشٍ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ فِي قَلِيبٍ وَاحِدٍ .
#308
Sahih
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ took the hem of his garment and spat on it, rubbed it together briefly and let it drop)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا، اور اسے مل دیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ فَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ .
#309
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"When any one of you prays, let him not spit in front of him or to his right, rather let him spit to his left or beneath his feet." Then the Prophet (ﷺ) spat like this on his garment and rubbed it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے، یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں اس طرح تھوکا ہے اور اسے مل دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مِهْرَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلاَ يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ وَإِلاَّ " . فَبَزَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَهُ .
#310
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on one of his journeys, and when we were in Al-Baida' or Dhat Al-Jaish, a necklace of mine broke and fell. The Messenger of Allah (ﷺ) stayed there looking for it and the people stayed with him. There was no water near them, and they did not have water with them. The people came to Abu Bakr, may Allah be pleased with him, and said: 'Do you see what 'Aishah has done? She has made the Messenger of Allah (ﷺ) and the people stop and they are not near any water and they do not have water with them.' Abu Bakr, may Allah be pleased with him, came while the Messenger of Allah (ﷺ) was resting his head on my thigh and had gone to sleep. He said: 'You have detained the Messenger of Allah (ﷺ) and the people, and they are not near any water and they do not have any water with them.'" 'Aishah said: "Abu Bakr rebuked me and said whatever Allah willed he would say. He started poking me on my hip, and the only thing that prevented me from moving was the fact that the Messenger of Allah (ﷺ) was resting on my thigh. The Messenger of Allah (ﷺ) slept until morning when he woke up without any water. Then Allah, the Mighty and Sublime revealed the verse of Tayammum. Usaid bin Hudair said: 'This is not the first time we have been blessed because of you, O family of Abu Bakr!'" She said: "Then we made the camel that I had been riding stand up, and we found the necklace beneath it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، یہاں تک کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے، تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تلاش کرنے کے لیے ٹھہر گئے، آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے، نہ وہاں پانی تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا، تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے کہنے لگے کہ عائشہ نے جو کیا ہے کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں پانی نہیں ہے، اور نہ ان کے پاس ہی پانی ہے، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے، تو وہ کہنے لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا جہاں پانی نہیں ہے، نہ ہی ان کے پاس پانی ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری سرزنش کی، اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کہلوانا چاہا انہوں نے کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، میں صرف اس وجہ سے نہیں ہلی کہ میری ران پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ بغیر پانی کے صبح ہو گئی، پھر اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے آل ابوبکر! یہ آپ کی پہلی ہی برکت نہیں، پھر ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا، تو ہمیں ہار اسی کے نیچے ملا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ ذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ - رضى الله عنه - فَقَالُوا أَلاَ تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ . فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ - رضى الله عنه - وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَمَا مَنَعَنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ . فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ . قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ .
#311
Sahih
It was narrated from 'Umair the freed slave of Ibn 'Abbas that he heard him say:"Abdullah bin Yasar the freed slave of Maimunah, and I came and entered upon Abu Juhaim bin Al-Harith bin Al-Sammah Al-Ansari. Abu Juhaim said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) came back from the direction of Bi'r Al-jamal and was met by a man who greeted him with Salam, but the Messenger of Allah (ﷺ) did not return the greeting until he turned to the wall and wiped his face and hands, then he returned the greeting
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبداللہ بن یسار دونوں آئے یہاں تک کہ ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل کی طرف سے آئے، تو آپ سے ایک آدمی ملا، اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ دیوار کے پاس آئے، اور آپ نے اپنے چہرہ اور دونوں ہاتھ پر مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَحْوِ بِئْرِ الْجَمَلِ وَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ .
#312
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abdur-Rahman bin Abza from his father that a man came to 'Umar and said:"I have become Junub and I do not have any water." 'Umar said: "Do not pray." But 'Ammar bin Yasir said: "O Commander of the Believers! Don't you remember when you and I were on a campaign and we became Junub and could not find water? You did not pray, but I rolled in the dust and prayed. Then we came to the Prophet (ﷺ) and told him about that, and he said: 'It would have been sufficient for you (to do this),' then the Prophet (ﷺ) struck his hands on the ground and blew on them, then wiped his face and hands with them'" - (one of the narrators) Salamah was uncertain and did not know whether that was up to the elbows or just hands. And 'Umar said: "We will let you bear the burden of what you took upon yourself
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا، ( کیا کروں؟ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( غسل کئے بغیر ) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ دونوں ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، اور رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز پڑھ لی، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ہم نے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا – سلمہ کو شک ہے، وہ یہ نہیں جان سکے کہ اس میں مسح کا ذکر دونوں کہنیوں تک ہے یا دونوں ہتھیلیوں تک – ( عمار رضی اللہ عنہ کی بات سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى عُمَرَ فَقَالَ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ . قَالَ عُمَرُ لاَ تُصَلِّ . فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَذْكُرُ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ " . فَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ إِلَى الأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ - وَسَلَمَةُ شَكَّ لاَ يَدْرِي فِيهِ الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ - فَقَالَ عُمَرُ نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ .
#313
Sahih Lighairihi
It was narrated that 'Ammar bin Yasir said:"I became Junub while I was on a camel and I could not find any water, so I rolled in the dust like an animal. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him about that, and he said: 'Tayammum would have been sufficient for you
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ چرا رہا تھا کہ میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس تیمم ہی کافی تھا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ أَجْنَبْتُ وَأَنَا فِي الإِبِلِ، فَلَمْ أَجِدْ مَاءً فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ " إِنَّمَا كَانَ يَجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ التَّيَمُّمُ " .
#314
Sahih
It was narrated that 'Ammar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stopped to rest at the end of the night in Uwlat Al-Jaish. His wife 'Aishah was with him and her necklace of Zifar beads [1] broke and fell. The army was detained looking for that necklace of hers until the break of the light of dawn and the people had no water with them. Abu Bakr got angry with her and said: 'You have detained the people and they do not have any water.' Then Allah the Mighty and Sublime revealed the concession allowing Tayammum with clean earth. So the Muslims got up with the Messenger of Allah (ﷺ) and struck with their hands, then they raised their hands and did not strike them together to knock off any dust, then they wiped their faces and arms up to the shoulders, and from the inner side of their of their arms up to the armpits." [1] Black and white Yemeni beads
عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پچھلے پہر اولات الجیش میں اترے، آپ کے ساتھ آپ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، تو ان کا ظفار کے مونگوں والا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو ان کے اس ہار کی تلاش میں لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی، اور لوگوں کے پاس پانی بالکل نہیں تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہوئے، اور کہنے لگے: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس پانی بالکل نہیں ہے، تو اللہ عزوجل نے مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت نازل فرمائی، عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اور ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر انہیں بغیر جھاڑے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور اپنے ہاتھوں کے نیچے ( کے حصہ پر ) بغل تک مل لیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأُولاَتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدُهَا مِنْ جَزْعِ ظِفَارِ فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا ذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ حَبَسْتِ النَّاسَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رُخْصَةَ التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ قَالَ فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الأَرْضَ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَنْفُضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الآبَاطِ .
#315
Sahih
It was narrated that 'Ammar bin Yasir said:"We did Tayammum with the Messenger of Allah (ﷺ) using dust, and we wiped our faces and our arms up to the shoulders
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مٹی سے تیمم کیا، تو ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مونڈھوں تک مسح کیا۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالتُّرَابِ فَمَسَحْنَا بِوُجُوهِنَا وَأَيْدِينَا إِلَى الْمَنَاكِبِ .
#316
Sahih
It was narrated that 'Abddur-Rahman bin Abza said:"We were with 'Umar when a man came to him and said: 'O Commander of the Believers! sometimes we stay for a month or two without finding any water. Umar said: As if I did not find water, I would not pray until I found water.' 'Ammar bin Yasir said: 'Do you remember, O Commander of the Believer, when you were in such and such a place and we were rearing the camels, and you know that we became Junub?' He said: 'Yes.' 'As for me I rolled in the dust, then we came to the Prophet (ﷺ) and he laughed and said: "Clean earth would have been sufficient for you." And he struck his hands on the earth then blew on them, then he wiped his face and part of his forearms. He ('Umar) said: "Fear Allah, O 'Ammar!'" He said: 'O Commander of the Believers! If you wish I will not mention it.' He said: 'No, we will let you bear the burden of what you took upon yourself
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! بسا اوقات ہمیں ایک ایک دو دو مہینہ بغیر پانی کے رہنا پڑ جاتا ہے، ( تو ہم کیا کریں؟ ) تو آپ نے کہا: رہا میں تو میں جب تک پانی نہ پا لوں نماز نہیں پڑھ سکتا، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے؟ جب آپ اور ہم فلاں اور فلاں جگہ اونٹ چرا رہے تھے، تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم جنبی ہو گئے تھے، کہنے لگے: ہاں، تو رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( اور ہم نے اسے آپ سے بیان کیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: تمہارے لیے مٹی سے اس طرح کر لینا کافی تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری ۱؎، پھر اپنے چہرہ کا اور اپنے دونوں بازووں کے کچھ حصہ کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو، تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں اسے نہ بیان کروں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ جو تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ رُبَّمَا نَمْكُثُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ وَلاَ نَجِدُ الْمَاءَ . فَقَالَ عُمَرُ أَمَّا أَنَا فَإِذَا لَمْ أَجِدِ الْمَاءَ لَمْ أَكُنْ لأُصَلِّيَ حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ . فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ أَتَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَيْثُ كُنْتَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَنَحْنُ نَرْعَى الإِبِلَ فَتَعْلَمُ أَنَّا أَجْنَبْنَا قَالَ نَعَمْ أَمَّا أَنَا فَتَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ " إِنْ كَانَ الصَّعِيدُ لَكَافِيكَ " . وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَبَعْضَ ذِرَاعَيْهِ . فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ . فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْكُرْهُ . قَالَ لاَ وَلَكِنْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ .
#317
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abdur-Rahman bin Abza, from his father, that a man asked 'Umar bin Al-Khattab about Tayammum and he did not know what to say. 'Ammar said:"Do you remember when we were on a campaign, and I became Junub and rolled in the dust, then I came to the Prophet (ﷺ) and he said: 'This would have been sufficient.'" (One of the narrators) Shu'bah struck his hands on his knees and blew into his hands, then he wiped his face and palms with them once
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے تیمم کے متعلق سوال کیا، تو وہ نہیں جان سکے کہ کیا جواب دیں، عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے؟ جب ہم ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، اور میں جنبی ہو گیا تھا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا ، شعبہ نے ( تیمم کا طریقہ بتانے کے لیے ) اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری، اور ان دونوں سے اپنے چہرہ اور اپنے دونوں ہتھیلیوں پر ایک بار مسح کیا ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَقَالَ عَمَّارٌ أَتَذْكُرُ حَيْثُ كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَكَذَا " . وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَخَ فِي يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً .
#318
Sahih
It was narrated that Ibn 'Abdur-Rahman said:"A man became Junub and came to 'Umar, may Allah be pleased with him, and said: 'I have become Junub and I cannot find any water.' He said: 'Do not pray.' 'Ammar said to him: 'Do you not remember when we were on a campaign and became Junub. You did not prayed, then I came to the Prophet (ﷺ) and told him that, and he said: 'This would have been sufficient for you.'" - (One of the narrators) Shu'bah struck his hands once and blew into them, then he rubbed them together, then wiped his face with them - ('Ammar said): "'Umar said something I did not understand." So he said: "If you wish, I shall not narrate it." Salamah mentioned something in this chain from Abu Malik, and Salamah added that he said: "Rather, we will let you bear the burden of what you tool upon yourself
حکم بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا، تو وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ( تو میں کیا کروں؟ ) انہوں نے کہا: ( جب تک پانی نہ ملے ) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب ہم لوگ ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے تھے، تو رہے آپ، تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی، اور رہا میں، تو میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا، پھر نماز پڑھ لی، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، شعبہ نے اپنی ہتھیلی ( گھٹنوں پر ) ایک مرتبہ ماری، اور اس میں پھونک ماری، پھر ایک کو دوسرے سے رگڑا، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ایسی چیز ( سن رہا ہوں ) جو مجھے معلوم نہیں، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں اسے بیان نہ کروں؟ سلمہ نے اس سند میں ابو مالک سے کچھ اور بھی چیزوں کا ذکر کیا ہے، اور سلمہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ اس سلسلہ میں جو کچھ تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، سَمِعْتُ ذَرًّا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ وَقَدْ سَمِعَهُ الْحَكَمُ، مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَجْنَبَ رَجُلٌ فَأَتَى عُمَرَ - رضى الله عنه - فَقَالَ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً . قَالَ لاَ تُصَلِّ . قَالَ لَهُ عَمَّارٌ أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَإِنِّي تَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ " . وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِكَفَّيْهِ ضَرْبَةً وَنَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ دَلَكَ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ . فَقَالَ عُمَرُ شَيْئًا لاَ أَدْرِي مَا هُوَ . فَقَالَ إِنْ شِئْتَ لاَ حَدَّثْتُهُ . وَذَكَرَ شَيْئًا فِي هَذَا الإِسْنَادِ عَنْ أَبِي مَالِكٍ وَزَادَ سَلَمَةُ قَالَ بَلْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ .
#319
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abdur-Rahman bin Abza, from his father, that a man came to 'Umar, may Allah be please with him, and said:"I have become Junub and I cannot find any water." 'Umar said: "Do not pray." 'Ammar said: "Do you not remember, O Commander of the Believers, when you and I were on a campaign and became Junub, and we could not find any water. You did not pray, but I rolled in the dust then prayed. When we came to the Messenger of Allah (ﷺ) I told him about that and he said: 'This would have been sufficient for you,' and then Prophet (ﷺ) struck the earth with his hands then blew on them and wiped his face and hands - (one of the narrators) Salamah was uncertain and said: "I do not know if he said it should be up to the elbows or just the hands." - 'Umar said: "We will let you bear the burden of what you took upon yourself." (One of the narrators) Shu'bah said: "He used to say the hands, face and forearms." (Another) Mansur said to him: "What are you saying? No one mentions the forearms except you." Salamah was not certain and said: "I do not know whether he mentioned the forearms or not
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں، اور مجھے پانی نہیں ملا ( کیا کروں؟ ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( جب تک پانی نہ ملے ) تم نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں؟ جب میں اور آپ دونوں ایک سریہ میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نے نماز پڑھ لی، تو جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مارے، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے شک کیا اور کہا: مجھے نہیں معلوم کہ ( میرے شیخ ذر نے دونوں کہنیوں تک مسح کا ذکر کیا یا دونوں ہتھیلیوں تک ) ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سلسلہ میں جو تم کہہ رہے ہو اس کی ذمہ داری ہم تمہارے ہی سر ڈالتے ہیں شعبہ کہتے ہیں: سلمہ دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور دونوں بازؤوں کا ذکر کر رہے تھے، تو منصور نے ان سے کہا: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کے سوا کسی اور نے بازؤوں کا ذکر نہیں کیا ہے، تو سلمہ شک میں پڑ گئے اور کہنے لگے مجھے نہیں معلوم کہ ( ذر نے ) بازؤوں کا ذکر کیا یا نہیں؟۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى عُمَرَ - رضى الله عنه - فَقَالَ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ . فَقَالَ عُمَرُ لاَ تُصَلِّ . فَقَالَ عَمَّارٌ أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ثُمَّ صَلَّيْتُ فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " إِنَّمَا يَكْفِيكَ " . وَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدَيْهِ إِلَى الأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ - شَكَّ سَلَمَةُ وَقَالَ لاَ أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ - قَالَ عُمَرُ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ قَالَ شُعْبَةُ كَانَ يَقُولُ الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ . فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ مَا تَقُولُ فَإِنَّهُ لاَ يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ أَحَدٌ غَيْرُكَ . فَشَكَّ سَلَمَةُ فَقَالَ لاَ أَدْرِي ذَكَرَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لاَ .
#320
Sahih
It was narrated that Shaqiq said:"I was siting with 'Abdullah and Abu Musa, and Abu Musa said: 'Have you not heard what 'Ammar said to 'Umar: 'The Messenger of Allah (ﷺ) sent me on an errand and I became Junub, and I could not find water, so I rolled in the earth then I came to the Prophet (ﷺ) and told him about.' He said: 'It would have been sufficient for you to do this,' and he struck the earth with his hands, then wiped his hands, then knocked them together to remove the dust, then he wiped his right hand with his left and his left hand with his right, palm to palm, and wiped his face.'" Then 'Abdullah said: "Did you not see that 'Umar was not convinced by what 'Ammar said?
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو ابوموسیٰ نے کہا: ۱؎ آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی بات جو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہی نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ضرورت سے بھیجا، تو میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اس طرح کر لینا ہی کافی تھا ، اور آپ نے اپنا دونوں ہاتھ زمین پر ایک بار مارا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا، پھر انہیں جھاڑا، پھر آپ نے اپنی بائیں ( ہتھیلی ) سے اپنی داہنی ( ہتھیلی ) پر اور داہنی ہتھیلی سے اپنی بائیں ( ہتھیلی ) پر مارا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں اور اپنے چہرے کا مسح کیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ عمار رضی اللہ عنہ کی بات سے مطمئن نہیں ہوئے؟۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَوَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ بِالصَّعِيدِ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا " . وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الأَرْضِ ضَرْبَةً فَمَسَحَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَضَهُمَا ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَبِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى كَفَّيْهِ وَوَجْهِهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ .
#321
Sahih
It was narrated that Abu Raja' said:"I heard 'Imran bin Husain (say) that the Prophet (ﷺ) saw a man who was by himself and did not pray with the people. He said: 'O So and so, what kept you from praying with the people?' He said: 'O Messenger of Allah, I have become Junub and there is no water.' He said: 'You should use earth for that will suffice you
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور پانی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( پانی نہ ملنے پر ) مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً مُعْتَزِلاً لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ " يَا فُلاَنُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلاَ مَاءَ . قَالَ " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ " .
#322
Sahih
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Clean earth is the Wudu' of the Muslim, even if he does not find water for ten years
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ " .
#323
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) sent Usaid bin Hudair and some other people to look for a necklace that 'Aishah had left behind in a place where she had stopped (while traveling). The time for prayer came and they did not have Wudu', and they could not find any water, so they prayed without Wudu'. They mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ), and Allah, the Mighty and Sublime revealed the verse of Tayammum. Usaid bin Hudair said: 'May Allah reward you with good, for by Allah, nothing ever happened to you that you dislike, but Allah makes it good for you and the Muslims
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور کچھ اور لوگوں کو بھیجا، یہ لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار ڈھونڈ رہے تھے جسے وہ اس جگہ بھول گئیں تھیں جہاں وہ ( آرام کرنے کے لیے ) اتری تھیں، ( اسی اثناء میں ) نماز کا وقت ہو گیا، اور یہ لوگ نہ تو باوضو تھے اور نہ ہی انہیں ( کہیں ) پانی ملا، تو انہوں نے بلا وضو نماز پڑھ لی، پھر ان لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا ) اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے بہتری رکھ دی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَنَاسًا يَطْلُبُونَ قِلاَدَةً كَانَتْ لِعَائِشَةَ نَسِيَتْهَا فِي مَنْزِلٍ نَزَلَتْهُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَصَلُّوا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلاَّ جَعَلَ اللَّهُ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا .
#324
Sahih Isnaad
It was narrated from Tariq that a man became Junub and did not pray, then he came to the Prophet (ﷺ) and mentioned that to him. He said:"You did the right thing." Another man became Junub and performed Tayammum and prayed, and he came to him and he said something similar to what he had told the other man - meaning, you did the right thing
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا، اس نے نماز نہیں پڑھی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا، پھر ایک دوسرا آدمی بھی جنبی ہو گیا، تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، اور آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی ایسا ہی فرمایا جیسا کہ دوسرے سے فرمایا تھا، یعنی تم نے بھی ٹھیک کیا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا، أَخْبَرَهُمْ عَنْ طَارِقٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " أَصَبْتَ " . فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرُ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى فَأَتَاهُ فَقَالَ نَحْوَ مَا قَالَ لِلآخَرِ يَعْنِي " أَصَبْتَ " .
#325
Sahih
It was narrated from Ibn 'Abbas that one of the wives of the Prophet (ﷺ) performed Ghusl from Janabah, and the Prophet (ﷺ) performed Wudu' with her leftover water. She mentioned that to him and he said:"Water is not made impure by anything." [1] [1] See the following versions
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی نے غسل جنابت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ بَعْضَ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِفَضْلِهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " إِنَّ الْمَاءَ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ " .