#3176
Hasan
It was narrated from Abu Sukainah, a man from among the Muharririn,[1] that a man among the Companions of the the Prophet (ﷺ) said:"When the Prophet (ﷺ) commanded them to dig the trench (Al-Khandaq), there was a rock in their way preventing them from digging. The Messenger of Allah (ﷺ) stood, picked up a pickaxe, put his Rida' (upper garment) at the edge of the ditch and said: 'And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower.' [1] One-third of the rock broke off while Salman Al-Farisi was standing there watching, and there was a flash of light when the Messenger of Allah (ﷺ)struck (the rock). Then he struck it again and said: 'And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. Nonce can change His Words. Ans He is the All-Hearer, the All-Knower' And another third of the rock broke off and there was another flash of light, which Salman saw. Then he struck (the rock) a third time and said: 'And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower.' The last third fell, and the Messenger of Allah (ﷺ) came out, picked up his Rida' and sat down. Salman said: 'O Messenger of Allah, Each time you struck the rock there was a flash of light.' The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'O Salman, did you see that?' He said: 'Yes, by the One Who sent you with the truth, O Messenger of Allah.' He said: 'When I struck the first blow, the cities of Kisra and their environs were shown to me, and many other cities, and I saw them with my own eyes.' Those of his Companions who were present said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to grant us victory and to give us their land as spoils of war, and to destroy their lands at our hands.' So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for that. (Then he said:) 'Then I struck the second blow and the cities of Caesar and their environs were shown to me, and I saw them with my own eyes.' They said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to grant us victory and to give us their lands as spoils of war, and to destroy their lands at our hands.' So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for that. (Then he said:) 'Then I struck the third blow and the cities of Ethiopia were shown to me, and the villages around them, and I saw them with my own eyes.' But the Messenger of Allah (ﷺ) said at that point: 'Leave the Ethiopians alone so long as they leave you alone, and leave the Turks alone so long as they leave you alone.'" [1] An-An'am 6:
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک چٹان نمودار ہوئی جو ان کی کھدائی میں رکاوٹ بن گئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، کدال پکڑی اپنی چادر خندق کے ایک کنارے رکھی، اور آیت «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر کدال چلائی تو ایک تہائی پتھر ٹوٹ کر گر گیا، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کدال چلائی، ایک چمک پیدا ہوئی پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر دوبارہ کدال چلائی تو دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا پھر دوبارہ چمک پیدا ہوئی، سلمان نے پھر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو باقی تیسرا تہائی حصہ بھی الگ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے نکل آئے، اپنی چادر لی اور تشریف فرما ہوئے، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب آپ نے ضرب لگائی تو میں نے آپ کو دیکھا، جب بھی آپ نے ضرب لگائی آپ کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: سلمان! تم نے یہ دیکھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول جی ہاں! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ( میں نے ایسا ہی دیکھا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے ( پردے اٹھا کر ) فارس کے شہر اور اس کے اطراف کے دیہات اور دوسرے بہت سے شہر دکھائے گئے میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے خود دیکھا“، اس وقت آپ کے جو صحابہ وہاں موجود تھے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیں فتح نصیب فرمائے اور ان کا ملک ہمیں بطور غنیمت عطا کرے، اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں ویران و برباد کرے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرما دی، پھر جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو پردے اٹھا کر مجھے قیصر کے شہر اور اس کے اطراف ( کے قصبات و دیہات ) دکھائے گئے ( کہ یہ سب تمہیں ملنے والے ہیں ) میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ ان ممالک کو فتح کرنے میں وہ ہماری مدد فرمائے اور وہ علاقے ہمیں غنیمت میں ملیں اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی دعا فرمائی، پھر جب میں نے تیسری ضرب لگائی، تو مجھے ملک حبشہ کے شہر اور گاؤں دکھائے گئے، میں نے فی الحقیقت انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس موقع پر آپ نے یوں فرمایا: ”حبشہ کو چھوڑ دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور ترک کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں“ ( لیکن اگر وہ تم سے ٹکرائیں تو تم بھی ان سے ٹکراؤ اور انہیں شکست دو ) ۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ، - رَجُلٌ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ - عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ عَرَضَتْ لَهُمْ صَخْرَةٌ حَالَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْحَفْرِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ نَاحِيَةَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ " { تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ } " . فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَائِمٌ يَنْظُرُ فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرْقَةٌ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِيَةَ وَقَالَ " { تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ } " . فَنَدَرَ الثُّلُثُ الآخَرُ فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَرَآهَا سَلْمَانُ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَةَ وَقَالَ " { تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ } " . فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِي وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ رِدَاءَهُ وَجَلَسَ . قَالَ سَلْمَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ حِينَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَةً إِلاَّ كَانَتْ مَعَهَا بَرْقَةٌ . قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا سَلْمَانُ رَأَيْتَ ذَلِكَ " . فَقَالَ إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنِّي حِينَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الأُولَى رُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ كِسْرَى وَمَا حَوْلَهَا وَمَدَائِنُ كَثِيرَةٌ حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَىَّ " . قَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلاَدَهُمْ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ " ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الثَّانِيَةَ فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ قَيْصَرَ وَمَا حَوْلَهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَىَّ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلاَدَهُمْ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ " ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَةَ فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ الْحَبَشَةِ . وَمَا حَوْلَهَا مِنَ الْقُرَى حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَىَّ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ " دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ " .
#3177
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The Hour will not begin until the Muslims fight the Turks, a people with faces like hammered shields who wear clothes made of hair and shoes made of hair
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے، بالوں کے لباس پہنیں گے ۱؎ اور بالوں میں چلیں گے“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطَرَّقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ " .
#3178
Sahih
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd, from his father, that he thought he was better than other Companions of the Prophet (ﷺ). The Prophet of Allah (ﷺ) said:"Rather, Allah support this Ummah because of their supplication, their Salah, and their sincerity
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ، فَضْلاً عَلَى مَنْ دُونَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلاَتِهِمْ وَإِخْلاَصِهِمْ " .
#3179
Sahih
It was narrated from Jubair bin Nufair Al-Hadrami that he heard Abu Ad-Darda' say:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Bring me the weak, for you only receive provision and Divine support by virtue of your weak ones
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی دعاؤں کی وجہ سے روزی ملتی ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ابْغُونِي الضَّعِيفَ فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ " .
#3180
Sahih
It was narrated from Zaid bin Khalid that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Whoever equips a warrior in the cause of Allah has fought, and whoever looks after his family in his absence has fought
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں کسی لڑنے والے کو اسلحہ اور دیگر سامان جنگ سے لیس کیا۔ اس نے ( گویا کہ ) خود جنگ میں شرکت کی، اور جس نے مجاہد کے جہاد پر نکلنے کے بعد اس کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی ۱؎ تو وہ بھی ( گویا کہ ) جنگ میں شریک ہوا“۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا " .
#3181
Sahih
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever equips a warrior has fought, and whoever looks after his family in his absence has fought
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مجاہد کو مسلح کر کے بھیجا، تو گویا اس نے خود جہاد کیا۔ اور جس نے مجاہد کے پیچھے ( یعنی اس کی غیر موجودگی میں ) اس کے گھر والوں کی حفاظت و نگہداشت کی تو اس نے ( گویا ) خود جہاد کیا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا " .
#3182
Daif
It was narrated that Al-Ahnaf bin Qais said:"We set out as pilgrims and came to Al-Madinah intending to perform Hajj. While we were in our camping place unloading our mounts, someone came to us and said: 'The people have gathered in the Masjid and there is panis.' So we set out and found the people gathered around a group in the middle of the Masjid, among whom were 'Ali, Zubayr, Talhah and Sa'd bin Abi Waqas. While we were like that, 'Uthman, may Allah be pleased with him, came, wearing a yellow cloak with which he had covered his head. He said: 'Is Talhah here? Is Az-Zubair here? Is Sa'd here?' They said: 'Yes.' He said: 'I adjure you be the One beside Whom there is none worthy of worship, din't the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever buys the Mirbad [1] of Banu so-and so, Allah will forgive him, and I bought it for twenty or twenty-five thousand, then I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him, and he said: Add it to our Masjid and the reward for it will be yours?' They said: 'By Allah, yes.' He said: 'I adjure you by the One beside Whom there is none worthy of worship, didn't the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever buys the well of Rumah, Allah will forgive him, so I bought it for such and such and amount, then I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him, and he said: Give it to provide water for the Muslims, and the reward for it will be yours?' They said: 'By Allah, yes.' He said: 'I adjure you by the One beside Whom there is none worthy of worship, didn't the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever equips these (men)- meaning the army of Al-'Usrah (Tabuk) - Allah will forgive him, so I equipped them until they were not lacking even a rope or a bridle?' They said: 'By Allah, yes.' He said: 'O Allah, bear witness, O Allah, bear witness, O Allah, bear witness.'" [1] Mirbad: A place for drying dates
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم حاجی لوگ نکلے، اور مدینہ پہنچے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا ہم ابھی اپنا سامان اتار کر اپنے ڈیروں میں رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والا ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں، اور گھبرائے ہوئے ہیں، ہم بھی وہاں پہنچے دیکھا کہ لوگ بیچ مسجد میں کچھ ( اکابر ) صحابہ کو گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص ( رضی اللہ عنہم ) ہیں، ہم ابھی یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان رضی اللہ عنہ پیلی چادر پہنے ہوئے اور اسی سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تشریف لائے ۱؎، اور کہا: کیا یہاں طلحہ ہیں؟ کیا یہاں زبیر ہیں؟ کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہیں، تو انہوں نے کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص بنی فلاں کا کھلیان ( مسجد نبوی کے قریب کی زمین ) خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا“ تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ”اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو، اس کا ثواب تمہیں ملے گا“ ( چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا ) لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں یہ سچ ہے۔ انہوں نے ( پھر ) کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے اتنے اور اتنے میں خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اتنے اور اتنے میں اسے خرید لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے ( وقف ) کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا“، ( تو میں نے اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے عام کر دیا ) ، لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں ( یہ سچ ہے ) ، انہوں نے پھر کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈال کر کہا تھا جو کوئی انہیں ( تنگی و محتاجی والی فوج کو ) ضروریات جنگ سے مسلح کر دے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا، میں نے اس لشکر کو ہر طرح سے مسلح کر دیا یہاں تک کہ رسی اور نکیل کی بھی انہیں ضرورت نہ رہی۔ لوگوں نے کہا اے ہمارے رب! ہاں ( یہ سچ ہے ) ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْحَجَّ فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ وَفَزِعُوا . فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ وَفِيهِمْ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَإِنَّا لَكَذَلِكَ إِذْ جَاءَ عُثْمَانُ رضى الله عنه عَلَيْهِ مُلاَءَةٌ صَفْرَاءُ قَدْ قَنَّعَ بِهَا رَأْسَهُ فَقَالَ أَهَا هُنَا طَلْحَةُ أَهَا هُنَا الزُّبَيْرُ أَهَا هُنَا سَعْدٌ قَالُوا نَعَمْ . قَالَ فَإِنِّي أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلاَنٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ " . قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ ابْتَاعَ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ قَدِ ابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا قَالَ " اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ " . قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ " مَنْ يُجَهِّزْ هَؤُلاَءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . يَعْنِي جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى لَمْ يَفْقِدُوا عِقَالاً وَلاَ خِطَامًا . فَقَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدِ اللَّهُمَّ اشْهَدِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ .
#3183
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the prophet (ﷺ) said:"Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah will be called in Paradise: 'O slave of Allah, here is prosperity.' Whoever is one of the people of Salah, he will be called from the gate of Paradise, Whoever is one of the people of jihad, he will be called from the gate of paradise. Whoever is one of the people of charity, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of the people who fast, he will be called from the gate of Ar-Rayyan." Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: "O Messenger of Allah, no distress or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates?" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Yes, and I hope that you will be one of them
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کے راستے ( جہاد ) میں جوڑا جوڑا دیا ۱؎ جنت میں اس سے کہا جائے گا: اللہ کے بندے یہ ہے ( تیری ) بہتر چیز، تو جو کوئی نمازی ہو گا اسے باب صلاۃ ( صلاۃ کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا اور جو کوئی مجاہد ہو گا اسے باب جہاد ( جہاد کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی خیرات دینے والا ہو گا اسے باب صدقہ ( صدقہ و خیرات والے دروازہ ) سے پکارا جائے گا، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہو گا اسے باب ریان ( سیراب و شاداب دروازے ) سے بلایا جائے گا“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ( اللہ کے نبی! ) اس کی کوئی ضرورت و حاجت تو نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ۲؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه هَلْ عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ هَذِهِ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ " نَعَمْ ��َأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " .
#3184
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, the gatekeepers of Paradise will call him from the gates of Paradise (saying): O So-and-so, come and enter!' Abu Bakr said: 'O Messenger of Allah, such a person will never perish or be miserable.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I hope that you will be one of them
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کے راستے میں جوڑا جوڑا صدقہ دیا اسے جنت کے سبھی دروازوں کے دربان بلائیں گے: اے فلاں ادھر آؤ ( ادھر سے ) جنت میں داخل ہو“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس میں آپ اس شخص کا کوئی نقصان تو نہیں سمجھتے ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نہیں ) میں تو توقع رکھتا ہوں کہ تم ان ہی ( خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہو گے“ ( جنہیں جنت کے سبھی دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کے لیے بلایا جائے گا ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا فُلاَنُ هَلُمَّ فَادْخُلْ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَاكَ الَّذِي لاَ تَوَى عَلَيْهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " .
#3185
Sahih
It was narrated that Sa'sa'ah bin Mu'awiyah said:"I met Abu Dharr and said: 'Tell me a Hadith.' He said. Yes, the Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no Muslim worshiper who spends from each type of his wealth on a pair (of things) in the cause of Allah, but the keepers of Paradise will welcome him, all of them calling him to what they have (of reward).' I said: "How is that?" He said: "If it is camels, he gives two, and if it is cows, he gives two
صعصہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو میں نے ان سے کہا: مجھ سے آپ کوئی حدیث بیان کیجئے، تو انہوں نے کہا: اچھا ( پھر کہا: ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں اپنا ہر مال جوڑا جوڑا کر کے خرچ کرتا ہے تو جنت کے سبھی دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر ایک کے پاس جو کچھ ہو گا انہیں دینے کے لیے اسے بلائیں گے“، ( صعصعہ کہتے ہیں ) میں نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ تو انہوں نے کہا: اگر اونٹ رکھتا ہو تو دو اونٹ دیئے ہوں، اور گائیں رکھتا ہو تو دو گائیں دی ہوں۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ حَدِّثْنِي . قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ " . قُلْتُ وَكَيْفَ ذَلِكَ قَالَ " إِنْ كَانَتْ إِبِلاً فَبَعِيرَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ " .
#3186
Sahih
It was narrated that Khuraim bin Fatik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever spends in the cause of Allah, it will be recorded for him seven hundred fold
خریم بن فاتک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں سات سو گنا بڑھا کر لکھا گیا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الرُّكَيْنِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُتِبَتْ لَهُ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ " .
#3187
Sahih
It was narrated from Abu Mas'ud that a man gave a bridled camel in charity in the cause of Allah. The Messenger of Allah (ﷺ) said:"On the Day of Resurrection seven hundred bridled camels will come to you
ابومسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ کے راستے میں صدقہ میں دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ( اس ایک اونٹنی کے بدلہ میں ) سات سو مہار والی اونٹنیوں کے ( ثواب ) کے ساتھ آئے گا“۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيَأْتِيَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَبْعِمِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ " .
#3188
Hasan
It was narrated from Mu'adh bin Jabal that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Campaigns are of two types. As for the one who seek the Face of Allah, obeys the imam, spends what is precious to him, is easy-going with his companion and avoids mischief, when he is asleep and when he is awake, it will all bring reward. But as for the one who fights to show off, and he disobeys the imam and does mischief in the land, he will not come back the same as when he left." [1] [1] It was not simply be the case that he comes back with no good deeds to his credit, rather he will have a number of evil deeds on his record
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد دو طرح کے ہیں: ایک جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا اللہ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہو، امام ( سردار ) کی اطاعت کرے، اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں خرچ کرے، اپنے شریک کو سہولت پہنچائے، اور فساد سے بچے تو اس کا سونا، و جاگنا سب کچھ باعث اجر ہو گا۔ دوسرا جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا ریاکاری اور شہرت کے لیے جہاد کرے، امیر ( سردار و سپہ سالار ) کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد پھیلائے تو وہ برابر سرابر نہیں لوٹے گا ۱؎“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ وَأَطَاعَ الإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ كَانَ نَوْمُهُ وَنُبْهُهُ أَجْرًا كُلُّهُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا رِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الأَرْضِ فَإِنَّهُ لاَ يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ " .
#3189
Sahih
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The sanctity of the wives of the Mujahidin to those who stay behind is like the sanctity of their mothers. There is no man who takes on the responsibility of looking after the wife of one of the Mujahidin and betrays him with her but he (the betrayer) will be made to stand before him on the Day of Resurrection and he will take whatever he wants of his (good) deeds. So what do you think?
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں جانے والوں کی بیویوں کی عزت و حرمت جہاد میں نہ جانے والوں کے لیے ان کی ماؤں کی عزت و حرمت جیسی ہے ۱؎ جو شخص مجاہدین کی بیویوں کی حفاظت و نگہداشت کے لیے گھر پر رہا اور اس نے کسی مجاہد کی بیوی کے ساتھ خیانت کی تو اسے قیامت کے دن روک رکھا جائے گا، ( یعنی اس کا حساب و کتاب اس وقت تک چکتا نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ) وہ مجاہد اس خائن کے اعمال کا ثواب جس قدر چاہے گا لے ( نہ ) لے گا۔ تو تمہارا کیا خیال ہے؟“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، - وَاللَّفْظُ لِحُسَيْنٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَخْلُفُ فِي امْرَأَةِ رَجُلٍ مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فَيَخُونُهُ فِيهَا إِلاَّ وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَخَذَ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ فَمَا ظَنُّكُمْ " .
#3190
Sahih
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The sanctity of the wive of the Mujahidin to those who stay behind is like the sanctity of their mothers. If he takes on the responsibility of looking after his wife then betrays him, it will be said to him on the Day of Resurrection: 'This one betrayed you with your wife, so take whatever you want of his good deeds.' So what do you think?
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجاہدین کی بیویاں گھروں پر بیٹھ رہنے والوں کے لیے ویسی ہی حرام ہیں جیسی ان کی مائیں ان کے حق میں حرام ہیں۔ اگر وہ ( مجاہد ) کسی کو گھر پر ( دیکھ بھال کے لیے ) چھوڑ گیا اور اس نے اس کی ( امانت میں ) خیانت کی۔ تو قیامت کے دن اس ( مجاہد ) سے کہا جائے گا ( یہ ہے تیرا مجرم ) یہ ہے جس نے تیری بیوی کے تعلق سے تیرے ساتھ خیانت کی ہے۔ تو تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) تمہارا کیا گمان ہے“ ( کیا وہ کچھ باقی چھوڑے گا؟ ) ۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَإِذَا خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ فَخَانَهُ قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَا خَانَكَ فِي أَهْلِكَ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ فَمَا ظَنُّكُمْ " .
#3191
Sahih
It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The sanctity of the wives of the Mujahidin to those who stay behind is like the sanctity of their mothers. There is no man among those who stay behind who takes on the responsibility of looking after the wife of one of the Mujahidin (and betrays him) but he (the betrayer) will be made to stand before him on the Day Resurrection and it will be said: 'O So-and-so, this is so-and-so, take whatever you want from his good deeds.'" Then the Prophet (ﷺ) turned to his Companions and said: "What do you think: Will he leave him any of his good deeds?
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجاہدین کی بیویوں کی حرمت گھر پر بیٹھ رہنے والوں پر ویسی ہی ہے جیسی ان کی ماؤں کی حرمت ان پر ہے، اگر گھر پر بیٹھ رہنے والے کسی شخص کو کسی مجاہد نے اپنی غیر موجودگی میں اپنی بیوی بچوں کی دیکھ بھال سونپ دی، ( اور اس نے اس کے ساتھ خیانت کی ) تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور پکار کر کہا جائے گا: اے فلاں! یہ فلاں ہے ( تمہارا مجرم آؤ اور ) اس کی نیکیوں میں سے جتنا چاہو لے لو“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اس کی نیکیوں میں سے کچھ باقی چھوڑے گا؟“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا قَعْنَبٌ، - كُوفِيٌّ - عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ فِي الْحُرْمَةِ كَأُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلاً مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ إِلاَّ نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ يَا فُلاَنُ هَذَا فُلاَنٌ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ " . ثُمَّ الْتَفَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ " مَا ظَنُّكُمْ تُرَوْنَ يَدَعُ لَهُ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْئًا " .
#3192
Sahih
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Strive in Jihad with your hands, your tongues and your wealth.'" [1] [1] See
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کرو اپنے ہاتھوں سے، اپنی زبانوں سے، اور اپنے مالوں کے ذریعہ“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " جَاهِدُوا بِأَيْدِيكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ " .
#3193
Sahih
It was narrated from 'Abdullah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded that snakes be killed and he said:"Whoever fears their vengeance is not one of us
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”جو ان کے بدلے ( اور انتقام و قصاص ) سے ڈرے ( اور ان کو نہ مارے ) وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ - هُوَ الشَّامِيُّ - قَالَ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ الأَصْبَغِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَقَالَ " مَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنَّا " .
#3194
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abdullah bin Jabr, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) visited Jabr (when he was sick). When he entered he heard the women crying and saying:"We thought that your death would come when fighting in the cause of Allah." He said: "You think that martyrdom only comes when one is killed in the cause of Allah. In that case your martyrs would be few. Being killed in the cause of Allah is martyrdom, dying of an abdominal complaint is martyrdom, being burned to death is martyrdom, drowning is martyrdom, being crushed beneath a falling wall is martyrdom, dying of pleurisy is martyrdom, and the woman who dies along with her fetus is a martyr." A man said: "Are you weeping when the Messenger of Allah (ﷺ) is sitting here?" He said: "Let them be, but if he dies on one should weep for him
عبداللہ بن جبر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبر رضی اللہ عنہ کی عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے، جب گھر میں ( اندر ) پہنچے تو آپ نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی۔ وہ کہہ رہی تھیں: ہم جہاد میں آپ کی شہادت کی تمنا کر رہے تھے ( لیکن وہ آپ کو نصیب نہ ہوئی ) ۔ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شہید صرف اسی کو سمجھتے ہو جو جہاد میں قتل کر دیا جائے؟ اگر ایسی بات ہو تو پھر تو تمہارے شہداء کی تعداد بہت تھوڑی ہو گی۔ ( سنو ) اللہ کے راستے میں مارا جانا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنا شہادت ہے، جل کر مرنا شہادت ہے، ڈوب کر مرنا شہادت ہے، ( دیوار وغیرہ کے نیچے ) دب کر مرنا شہادت ہے، ذات الجنب یعنی نمونیہ میں مبتلا ہو کر مرنا شہادت ہے، حالت حمل میں مر جانے والی عورت شہید ہے“، ایک شخص نے کہا: تم سب رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑ دو انہیں کچھ نہ کہو۔ ( انہیں رونے دو کیونکہ مرنے سے پہلے رونا منع نہیں ہے ) البتہ جب انتقال ہو جائے تو کوئی رونے والی اس پر ( زور زور سے ) نہ روئے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَادَ جَبْرًا فَلَمَّا دَخَلَ سَمِعَ النِّسَاءَ يَبْكِينَ وَيَقُلْنَ كُنَّا نَحْسُبُ وَفَاتَكَ قَتْلاً فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقَالَ " وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ إِلاَّ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ شُهَدَاءَكُمْ إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالْحَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْمَغْمُومُ - يَعْنِي الْهَدِمَ - شَهَادَةٌ وَالْمَجْنُوبُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ " . قَالَ رَجُلٌ أَتَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ قَالَ " دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلاَ تَبْكِيَنَّ عَلَيْهِ بَاكِيَةٌ " .
#3195
Sahih
It was narrated from Jabr that he entered with the Messenger of Allah (ﷺ) upon someone who was dying, and the women were weeping. Jabr said:"Are you weeping when the Messenger of Allah (ﷺ) is sitting here?" He said: "Let them weep so long as he is among them, but if he dies no one should weep for him
جبر بن عتیک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک میت کے یہاں پہنچے تو عورتیں رونے لگیں تو انہوں نے کہا: تم رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو انہیں رونے دو جب تک کہ وہ ان میں موجود ہے۔ پھر جب وہ انتقال کر جائے تو کوئی عورت ( چیخ چیخ کر ) نہ روئے“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، - يَعْنِي الطَّائِيَّ - عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَبْرٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَيِّتٍ فَبَكَى النِّسَاءُ فَقَالَ جَبْرٌ أَتَبْكِينَ مَا دَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا قَالَ " دَعْهُنَّ يَبْكِينَ مَا دَامَ بَيْنَهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلاَ تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ " .
#3196
Sahih
Narrated 'Ata':It was narrated that 'Ata' said: "We attended the funeral of Maimunah, the wife of the Prophet, with Ibn 'Abbas in Sarif. Ibn 'Abbas said: 'This is Maimunah; when you lift up her bier, do not rock it nor shake it. The Messenger of Allah had nine wives and he used to give a share of his time to eight of them and not to one
عطا کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں گئے، تو آپ نے کہا: یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، تم ان کا جنازہ نہایت سہولت کے ساتھ اٹھانا، اسے ہلانا نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں۔ آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے، اور ایک کے لیے نہیں کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ جَنَازَتَهَا فَلاَ تُزَعْزِعُوهَا وَلاَ تُزَلْزِلُوهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا .
#3197
Sahih Isnaad
Narrated Ibn 'Abbas:It was narrated that Ibn 'Abbas said: "When the Messenger of Allah died he had nine wives; he used to be intimate with all of them except one, who had given her day and night to 'Aishah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس حال میں کہ آپ کے پاس نو بیویاں تھیں، آپ ان کے پاس ان کی باری کے موافق جایا کرتے تھے سوائے سودہ کے کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے وقف کر دیا تھا۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ يُصِيبُهُنَّ إِلاَّ سَوْدَةَ فَإِنَّهَا وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ .
#3198
Sahih
Narrated Anas:Anas narrated that the Prophet used to go around to his wives in a single night, and at that time he had nine wives
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ہی رات میں جایا کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ .
#3199
Sahih
Narrated 'Aishah:It was narrated that 'Aishah said: "I used to feel jealous of those (women) who offered themselves (in marriage) to the Prophet and I said: 'Would a free woman offer herself?' Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: 'You can postpone whom you will of them, and you may receive whom you will.' I said: 'By Allah, I see that your Lord is quick to respond to your wishes
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں ان عورتوں سے شرم کرتی تھی ۱؎ جو اپنی جان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیتی تھیں چنانچہ میں کہتی تھی: کیا آزاد عورت اپنی جان ( مفت میں ) ہبہ کر دیتی ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» ”ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے، اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے“ ( الاحزاب: ۵۱ ) اس وقت میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا رب آپ کی خواہش کو جلد پورا کرتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللاَّتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَقُولُ أَوَتَهَبُ الْحُرَّةُ نَفْسَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ } قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلاَّ يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ .
#3200
Sahih
Narrated Sahl bin Sa'd:It was narrated that Sahl bin Sa'd said: "I was among the people when a woman said: 'I offer myself (in marriage) to you, O Messenger of Allah, see what you think of me.' A man stood up and said: 'Marry me to her.' He said: 'Go and find (something), even if it is an iron ring.' So he went, but he could not find anything, not even an iron ring. So the Messenger of Allah said: 'Do you have (memorized) any surahs of the Qur'an?' He said: 'Yes.' So he married him to her on the basis of what he knew of surahs of the Qur'an
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قوم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کرتی ہوں، میرے متعلق آپ کی جیسی رائے ہو کریں، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا ( اللہ کے رسول! ) اس عورت سے میرا نکاح کرا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ ( بطور مہر ) کوئی چیز ڈھونڈھ کر لے آؤ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“، تو وہ گیا لیکن کوئی چیز نہ پایا حتیٰ کہ ( معمولی چیز ) لوہے کی انگوٹھی بھی اسے نہ ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کیا تمہیں قرآن کی سورتوں میں سے کچھ یا دہے؟“ اس نے کہا: ہاں، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح اس عورت سے قرآن کی ان سورتوں کے عوض کرا دی جو اسے یاد تھیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَنَا فِي الْقَوْمِ، إِذْ قَالَتِ امْرَأَةٌ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَأْ فِيَّ رَأْيَكَ . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ زَوِّجْنِيهَا . فَقَالَ " اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " . فَذَهَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَعَكَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ شَىْءٌ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَزَوَّجَهُ بِمَا مَعَهُ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ .