#2951
Sahih
It was narrated from Salim that his father said:"The Messenger of Allah did not touch any of the corner of the House except the Black Corner and the one that is next to it, in the direction of the houses of Al-Jumahiyyain
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ارکان میں سے کسی کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور اس رکن کے جو جمحی لوگوں کے گھروں کی طرف حجر اسود سے قریب ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلاَّ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ .
#2952
Sahih
It was narrated that Nafi said:"Abdullah, may Allah be pleased with him, said: "I have not failed to touch these two corners since I saw the Messenger of Allah touching them, the Yemeni Corner and Black Stone, either when it is difficult or when it is easy
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، میں نے ان دونوں رکنوں کا استلام نہیں چھوڑا، نہ سختی میں اور نہ آسانی میں۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَرَكْتُ اسْتِلاَمَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُهُمَا الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ فِي شِدَّةٍ وَلاَ رَخَاءٍ .
#2953
Sahih
It was narrated that Ibn Umar said:"Since I saw the Messenger of Allah touch it, I did not fail to touching the Stone whether it was easy or difficult
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، آسانی اور پریشانی کسی حال میں بھی اس کا استلام نہیں چھوڑا۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَا تَرَكْتُ اسْتِلاَمَ الْحَجَرِ فِي رَخَاءٍ وَلاَ شِدَّةٍ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُهُ .
#2954
Sahih
It was narrated from Abdullah bin Abbas that:the Messenger of Allah circumambulated (the Kabah) during the Farewell Pilgrimage on a camel, touching the Corner with a crook-ended stick
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ ایک خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ .
#2955
Sahih
It was narrated from Abdullah bin Abbas that:the Messenger of Allah used to circumambulate the House on his mount, and when he reached the Corner be pointed to it." (Sahih) Chpater 161. They Saying Of Allah, The Mighty And Sublimse: "Take Your Adornment To Every Masjid
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے جب آپ کے سامنے پہنچے تو آپ نے اس کی طرف اشارہ کیا۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ .
#2956
Sahih
It was narrated from Saeed bin Jubair that Ibn Abbas said:"Women used to circumambulate the Kabah naked, saying: 'Today some, or all of it will appear And whatever appers I don't make is permissible.' Then the following was revealed: 'O Children of Adam! Take your adornment to every Masjid
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ۔ ( ایام جاہلیت میں ) عورت یہ شعر پڑھتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی۔ «اليوم يبدو بعضه أو كله وما بدا منه فلا أحله» ”آج کے دن جسم کا کل یا کچھ حصہ ظاہر ہو رہا ہے اور جو کچھ بھی ظاہر ہو رہا ہے میں اس کو مباح نہیں کر سکتی“ ( کہ لوگ اسے دیکھیں یا ہاتھ لگائیں ) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر یہ آیت اتری: «يا بني آدم خذوا زينتكم عند كل مسجد» ”اے بنی آدم! جس کسی بھی مسجد میں جاؤ اپنا لباس پہن لیا کرو“ ( الأعراف: ۳۱ ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ تَقُولُ الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ وَمَا بَدَا مِنْهُ فَلاَ أُحِلُّهُ قَالَ فَنَزَلَتْ { يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ } .
#2957
Sahih
Abu Hurairah narrated that:Abu Bakr sent him, during the Hajj that the Messenger of Allah appointed him to lead before the Farewell Pilgrimage, with a group of other to announce to the people: "No idolater is to perform Hajj after this year, and no one is to circumambulate the House naked
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس حج میں جس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حجۃ الوداع سے پہلے امیر بنایا تھا، اس جماعت میں شامل کر کے بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر رہی تھی: لوگو! سن لو! اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کر سکے گا اور نہ کوئی ننگا ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ " أَلاَ لاَ يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ " .
#2958
Sahih
It was narrated from Muharrar bin Abi Hurairah that his father said:"I came with Ali bin Abi Talib when the Messenger of Allah sent him to the people of Makkah with news of the dissolution of treaty obligations." He said: "How did you announced that no one would enter Paradise but a believing soul, no one was to circumambulate the House naked: whoever had a treaty with the Messenger of Allah, then for its period, or, it extended to four months, and when four months had passed, and that Allah is free from (all) obligations to the idolaters and so is His Messenger. No idolater was to perform Hajj after this year. I kept on announcing it until my vice grew hoarse
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اہل مکہ کے پاس سورۃ براءت دے کر بھیجا محرر بن ابی ہریرہ نے اپنے والد سے پوچھا: آپ لوگ کیا پکارتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہم اعلان کرتے تھے کہ جنت میں سوائے مومن کے کوئی نہ جائے گا، اور ننگا ہو کر کوئی بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اور جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہد و معاہدہ ہو تو اس کی مدت و مہلت چار مہینے کی ہے، اور جب چار مہینے گزر جائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری ہو گا، اور اس کا رسول بھی، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کر سکے گا۔ میں ( یہ باتیں ) لوگوں کو پکار پکار کر بتا رہا تھا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جِئْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِبَرَاءَةَ قَالَ " مَا كُنْتُمْ تُنَادُونَ " . قَالَ كُنَّا نُنَادِي " إِنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَهْدٌ فَأَجَلُهُ أَوْ أَمَدُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ وَلاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ " . فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي .
#2959
Daif
It was narrated that Al-Muttalib bin Wadaah said:"I saw the Prophet when he had completed his seven (circuits of Tawaf); he came to the edge of the Mataf and prayed two Rakahs, with nothing in between him and people who were circumambulating." (Daif)
مطلب بن ابی وداعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس وقت آپ طواف کے اپنے سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو مطاف کے کنارے آئے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کسی طرح کی آڑ نہ تھی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ فَرَغَ مِنْ سُبُعِهِ جَاءَ حَاشِيَةَ الْمَطَافِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَّافِينَ أَحَدٌ .
#2960
Sahih
It was narrated that Amr - meaning, bin Umar - said:"The Messenger of Allah came and circumambulated the House seven times, then he prayed two Rakahs behind the Maqam and performed Sai between As-Safa and Al-Marwah, and he said: 'Indeed in the Messenger of Allah you have a good example to follow
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے لگائے اور مقام ( ابراہیم ) کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور فرمایا: «لقد كان لكم في رسول اللہ أسوة حسنة» ”رسول اللہ کی ذات میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے“ ( تو اللہ کا رسول جیسا کچھ کرے ویسے ہی تم بھی کرنا ) ( الأحزاب: ۲۱ ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَالَ { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ } .
#2961
Sahih
It was narrated that Bajir said:"The Messenger of Allah circumambulated the House seven times, walking rapidly (Raml) in the three, and walking (at a regular pace) for four. Then he stood near the Maqam and prayed two Rakahs. Then he recited: 'And take you the Maqam (Place) of Ibrahim as a place of prayer, raising his voice, so that the people would hear. Then he went (to perform Sai) and said: 'We will start with that with which Allah started.' So he started with As-Safa, climbing up, until he could see the House, and he said three times: 'La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).' Then exclaimed Allah's greatness, then he supplicated as much as was decreed for him. Then he came down walking until he reached level ground at the bottom of the valley. Then he hastened until the ground began to rise. Then he walked until he came to Al-Marwah and clime dup it, and when he could see the House he said: 'La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).' He said that three times, then he remembered Allah and glorified and praised Him, then he supplicated there for as long as Allah willed. And he did that until he finished Sai
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات پھیرے کئے ان میں سے تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں، پھر آپ نے آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ“ پڑھی اور اپنی آواز بلند کی آپ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ پھر آپ وہاں سے پلٹے اور جا کر حجر اسود کا استلام کیا اور فرمایا: کہ ہم وہیں ( سعی ) شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے ( اپنی کتاب میں ) شروع کی ہے، تو آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین مرتبہ «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا، پھر آپ نے اللہ کی تکبیر اور تحمید کی۔ اور دعا کی جواب آپ کے لیے مقدر تھی، پھر آپ پیدل چل کر نیچے اترے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم وادی کے نشیب میں رہے پھر دوڑے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم بلندی پر چڑھے، پھر عام چال چلے یہاں تک کہ مروہ کے پاس آئے اور اس پر چڑھے پھر خانہ کعبہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار کہا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا اور اس کی تسبیح و تحمید کی۔ اور دعا کی جو اللہ کو منظور تھی ہر بار ایسا ہی کیا یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْبَيْتِ سَبْعًا رَمَلَ مِنْهَا ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَرَأَ { وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى } وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَاسْتَلَمَ ثُمَّ ذَهَبَ فَقَالَ " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ " . فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ فَقَالَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ " . فَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ فَقَالَ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ " . قَالَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ وَسَبَّحَهُ وَحَمِدَهُ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ .
#2962
Sahih
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah performed Tawaf, walking rapidly (Raml) for three circuits, and walking at a normal pace for four. Then he recited:"And take you the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer." And prayed two Rak`ahs with the Maqam between him and the Ka`bah. Then he touched the Corner, then he went out and said: 'As-Safa and Al-Marwah are two of the symbols of Allah. We will start with that with which Allah started
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ: «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا، اسی سے تم بھی شروع کرو“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ سَبْعًا رَمَلَ ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ قَرَأَ { وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى } فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " .
#2963
Sahih
It was narrated from Jabir bin Abdullah that when the Messenger of Allah came to Maqam Ibrahim he recited:"And take you the Maqam (place) of Ihrahim as a place of prayer." Then he prayed two Rakahs reciting the Opening of the Book (Al-Fatihah) said: "Say: O you disbelievers" and "Say: He is Allah, (the) One." Then he went back to the Corner and touched it, then he went out to As-Safa
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام ابراہیم پر پہنچے تو آپ نے آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، تو اس میں آپ نے سورۃ فاتحہ اور «قل يا أيها الكافرون»، اور «قل هو اللہ أحد» پڑھی پھر آپ حجر اسود کے پاس آئے، اور آپ نے اس کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکلے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، عَنِ الْوَلِيدِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا انْتَهَى إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ قَرَأَ { وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى } فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } وَ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } ثُمَّ عَادَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا .
#2964
Sahih
It was narrated from Ibn Abbas that:the Messenger of Allah drank from the water of Zamzam while standing
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، وَمُغِيرَةُ، ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ .
#2965
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"I gave the Messenger of Allah some Zamzam to drink and he drank it while standing
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم ( کا پانی ) پلایا، تو آپ نے اسے پیا اور آپ کھڑے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ .
#2966
Sahih
Ibn Umar said:"When the Messenger of Allah arrived in Makkah he circumambulated the House seven times, then he prayed two Rakahs behind the Maqam. Then, he went out to As-Safa through the gate that is usually used to exit, and performed Sai between As-Safa and Al-Marwah." (One of the narrators Shubah said: Ayub informed me from Amr bin Dinar from Ibn Umar that he said: "A Sunnah)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ صفا کی طرف اس دروازے سے نکلے جس دروازے سے باہر نکلا جاتا ہے، تو صفا و مروہ کی سعی کی۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ سنت ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الَّذِي يُخْرَجُ مِنْهُ فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . قَالَ شُعْبَةُ وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ سُنَّةٌ .
#2967
Sahih
It was narrated that Urwah said:"I recited to Aishah: 'So it is not a sin on him who performs Hajj or Umrah (Pilgrimage) of the House to Perform the going Tawaf) between them (as-Safa and Al-Marwah) "I said: 'I do not care if I do not go between tham?' She said: 'What a bad thing you have said!' People at the time of the Jahiliyyah used not to go between them, but when Islam came and the Quran was revealed: 'Verily, As-Safa and Al-Marwah are of the symols of Allah, the Messenger of Allah went between them, and we did that with him, and thus it became part of Hajj
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے آیت کریمہ: «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» پڑھی اور کہا: میں صفا و مروہ کے درمیان نہ پھروں، تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۱؎، تو انہوں نے کہا: تم نے کتنی بری بات کہی ہے ( صحیح یہ ہے ) کہ لوگ ایام جاہلیت میں صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے ( بلکہ اسے گناہ سمجھتے تھے ) تو جب اسلام آیا، اور قرآن اترا، اور یہ آیت «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کی، اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی کی، تو یہی سنت ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَائِشَةَ { فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا } قُلْتُ مَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَطُوفَ بَيْنَهُمَا . فَقَالَتْ بِئْسَمَا قُلْتَ إِنَّمَا كَانَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لاَ يَطُوفُونَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ } الآيَةَ فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَطُفْنَا مَعَهُ فَكَانَتْ سُنَّةً .
#2968
Sahih
It was narrated that Urwah said:"I asked Aishah about the words of Allah, the Mighty and Sublime: 'So it sin not a sin on him who perform Hajj or Umrah (Pilgrimage) of the House (the Kabah at Makkah) to perform the going (Tawaf) between them (as-Safa and Al-Marwah) and (I said): 'By Allah, there is no sin on anyone if he does not go between As-Safa and Al-Marwa.' Aishah said: 'What a bad thing you said, O son of my brother! If this Ayah was as you have interpreted it, there would be no sin on a person if he did not go between them. But it was revealed concering the Ansar. Before they accepted Islam, they sued to enter Ihram for the false goddess Manat whom they used to worship at Al-Mushallal. Whoever enter Ihram for her would refrain from going between As-Safa and Al-Marwah. When they asked the Messenger of Allah about that, Allah, the Might and Sublime, revealed: 'Verily As-Safa and Al-Marwah (Two mountains in Makkah) are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or Urmrah (Pilgrimage) of the House (the Kabah at Makkah) to perform the going (Tawaf) between them (As-Safa and Al-Marwah). Then the Messenger of Allah enjoined going between them so no one has the right to refrain from going between them
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے متعلق پوچھا ( میں نے کہا کہ اس سے تو پتا چلتا ہے کہ ) کوئی صفا و مروہ کی سعی نہ کرے، تو قسم اللہ کی اس پر کوئی حرج نہیں، اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! تم نے نامناسب بات کہی ہے۔ اس آیت کا مطلب اگر وہی ہوتا جو تم نے نکالا ہے تو یہ آیت اس طرح اترتی «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ”اگر کوئی صفا و مروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں“۔ لیکن یہ آیت انصار کے بارے میں اتری ہے۔ اسلام لانے سے پہلے وہ مشلل ۱؎ کے پاس مناۃ بت کے لیے احرام باندھتے تھے جس کی وہ عبادت کرتے تھے، اور جو مناۃ کے نام سے احرام باندھتا تھا وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج جانتا تھا تو جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ: «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس سے بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں کوئی گناہ نہیں“ اتاری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کی سعی کو مسنون قرار دیا۔ تو کسی کے لیے جائز و درست نہیں کہ ان دونوں کی سعی چھوڑ دے۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ { فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا } فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لاَ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . قَالَتْ عَائِشَةُ بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّ هَذِهِ الآيَةَ لَوْ كَانَتَ كَمَا أَوَّلْتَهَا كَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَكِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا } ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا فَلَيْسَ لأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا .
#2969
Sahih
It was narrated that Jabir said:"When he went tout the Masjid heading for As-Safa, I heard the Messenger of Allah say: We will start with that with which Allah started
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ مسجد ( خانہ کعبہ ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا: ”ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا وَهُوَ يَقُولُ " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " .
#2970
Sahih
Jabir said:"Messenger of Allah went out to As-Safa and said.We will start with that with which Allah started. Then he recited: 'Verifly, as-Safa and Al-Marwah (two Mountains in Makkah) are of the symbols of Allah.'" (Sahih) Chpater 169. Where To Stand On As-Safa
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: ”ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» کی تلاوت کی“۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّفَا وَقَالَ " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " . ثُمَّ قَرَأَ " { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ } " .
#2971
Sahih
Jabir narrated that:the Messenger of Allah climed up As-Safa until he could see the House, then he said Takbir
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے یہاں تک کہ جب آپ نے بیت اللہ کو دیکھا، تو آپ نے تکبیر کہی۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ .
#2972
Sahih
It was narrated from Jabir that:when the Messenger of Allah stood on top of As-Safa, he recited the Takbir three times and said: "La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things)." He did three times, and supplicated, and did the same a top Al-Marwah
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صفا پر کھڑے ہوتے تو تین بار تکبیر کہتے اور «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہتے اور دعا کرتے، اور مروہ پر بھی پہنچ کر ایسا ہی کرتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلاَثًا وَيَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ " . يَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَيَدْعُو وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ .
#2973
Sahih
Jafar bin Muhammad narrated, that he heard his father narrate, that he heard Jabir, speak of the Pilgrimage of the Prophet:"The Prophet stood atop as-Safa proclaiming the Tahlil of Allah (saying Lal ilaha illallah) and supplicating in between that
ابو جعفر بن محمد الباقر کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی اللہ عنہ سے سنا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر رکتے، آپ اس کے درمیان اللہ عزوجل کی تہلیل کرتے، اور دعا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم ثُمَّ وَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّفَا يُهَلِّلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو بَيْنَ ذَلِكَ .
#2974
Sahih
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah circumambulated the House seven times, walking rapidly in three circuits and walking (at a normal pace)b in three. Then he stood at the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer, raising his voice so that the people could hear. Then he went and touched the Black Stone and went (to perform Sai) and said: 'We will start with that with which Allah started.' So he started with As-Safa, climbing up until he could see the House and he said three times: ''La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).' Then exclaimed Allah's greatness and praised Him, then he supplicated as much as was decreed for him. Then he came down walking, until he reached level ground at the bottom of the valley. Then he hastened until the ground began to rise. Then he walked until he came to Al-Marwah and climbed up it, and when he could see the house he said: 'La ilaha illallah, Wahdahu la sharika lah, lahul-mulku wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa huwaala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).' He said that three times, then he remembered Allah, and glorified and praised Him, then he supplicated there for as long as Allah willed. And he did that until he had finished Sai
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا سات پھیرا کیا، جس میں سے تین میں رمل کیا، اور چار میں عام چال چلے۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی، اور آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اور ( پڑھتے وقت ) آواز بلند کی، آپ لوگوں کو سنا رہے تھے پھر آپ پلٹے اور حجر اسود کا استلام کیا پھر ( صفا کی طرف ) گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے اسی سے ہم بھی ( سعی ) شروع کریں گے، پھر آپ نے صفا سے شروع کیا تو آپ اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو تین بار آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير» پڑھا اللہ کی بڑائی بیان کی، اور اس کی تعریف کی اور حسب توفیق دعائیں مانگی۔ پھر پیدل ہی نیچے اترے یہاں تک کہ وادی کے بالکل نشیب میں پہنچ گئے تو آپ دوڑے یہاں تک کہ آپ کے قدم بلندی کی طرف بڑھے پھر آپ عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پہاڑی پر آئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار پڑھا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا، اس کی تسبیح اور تعریف کی اور دعا مانگی جتنی اللہ کو منظور تھیں اسی طرح ( ہر بار ) کرتے رہے یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، { عَبْدِ } الْحَكَمِ عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْبَيْتِ سَبْعًا رَمَلَ مِنْهَا ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَرَأَ { وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى } وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَاسْتَلَمَ ثُمَّ ذَهَبَ فَقَالَ " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " . فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ وَقَالَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ " . وَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ فَقَالَ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ " . قَالَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ وَسَبَّحَهُ وَحَمِدَهُ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ .
#2975
Sahih
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin Abdullah say:During the Farewell Pilgrimage the Prophet circumambulated the House and went between As-Safa and Al-Marwah on his mount so that the people could see him and he could see them, and they could ask him questions, and the people crowded around him
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، ( اور ایسا اس لیے کیا ) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ لوگوں سے اونچائی پر رہیں اور تاکہ لوگ مسئلے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تھا۔
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ طَافَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ إِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ .