#2851
Sahih
It was narrated from Kab bin Ujra:That he was with the Messenger of Allah in Ihram and he suffered an infestation of head lice. The Messenger of Allah commanded him to shave his head and told him: "Fast for three days, or fed six poor persons two Mudds earch, or sacrifice a sheep. Whichever one of these you do will be sufficient for you
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ان کے سر کے جوئیں انہیں تکلیف دینے لگیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈا لینے کا حکم دیا اور فرمایا: ” ( اس کے کفارہ کے طور پر ) تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کوفی مسکین دو دو مد کے حساب سے کھانا کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو، ان تینوں میں سے جو بھی کر لو گے تمہاری طرف سے کافی ہو جائے گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحْرِمًا فَآذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَقَالَ " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ أَوِ انْسُكْ شَاةً أَىَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ " .
#2852
Sahih
It was narrated that Kab bin Ujrah said:"I entered Ihram, then I had a severe infestation of head lice. News of that reached Prophet, and he came to me when I was cooking something in a pot for my companions, he touched my head with his finger and said: 'Go and shave it, and give charity to six poor persions
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہو گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا: ”جاؤ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو“۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - وَهُوَ الدَّشْتَكِيُّ - قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ - عَنِ الزُّبَيْرِ، - وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ - عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَحْرَمْتُ فَكَثُرَ قَمْلُ رَأْسِي فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَانِي وَأَنَا أَطْبُخُ قِدْرًا لأَصْحَابِي فَمَسَّ رَأْسِي بِأُصْبُعِهِ فَقَالَ " انْطَلِقْ فَاحْلِقْهُ وَتَصَدَّقْ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ " .
#2853
Sahih
It was narrated from Ibn Abbas:That a man was with the Messenger of Allah, and his she-camel broke his neck when he was in Ihra, and he died. The Messenger of all said, Wash him with water and lote leaves, and shroud him in his two garments, and do not put any perfume on him or cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، اور وہ محرم تھا تو وہ مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے ( احرام کے ) دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
#2854
Sahih
It was narrated from Ibn Abbas:That a man in Ihram was thrown by his she-camel and his neck was broken. It was said that he had died, so the Prophet said: "Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths." Then he said: "Do not put any perfume on him for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah." Shubah said: "Ten years later, I asked him (the narrator Abu Bishr) anbut that, and he narrated the Hadith as he had the first time, except that he said: 'And do not cover his face and head
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو“، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: ”اس کا سر کفن سے باہر رہے“، فرمایا: ”اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ شعبہ ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ان سے ( یعنی اپنے استاد ابوبشر سے ) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے ( اس بار اتنا مزید ) کہا کہ ”اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ، فَأُوقِصَ ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ " . ثُمَّ قَالَ عَلَى إِثْرِهِ " خَارِجًا رَأْسُهُ " . قَالَ " وَلاَ تُمِسُّوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " . قَالَ شُعْبَةُ فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " وَلاَ تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ " .
#2855
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"While a man was standing in Arafat with the Messenger of Allah, he fell from his mount and it killed him. The Messenger of Allah said: 'Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths. Do not apply aromatics to him or cover his head, for Allah, the Might and Sublime, wil raise him on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر گیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ ( راوی کو شک ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «فأقعصه» ( مذکر کے صیغہ کے ساتھ ) کہا یا «فأقعصته» ( مونث کے صیغہ کے ساتھ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْعَصَهُ - أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ تُحَنِّطُوهُ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
#2856
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"The she-Camel of a ma in Ihram broke his neck and killed him. He was brought to the Messenger of Allah and he said 'Wash him and shroud him, and do not cover his head, or bring any perfume near him, for he will be raisd reciting Talbiyah.'" (Sahih) Dies
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے نہلاؤ، اور کفناؤ، ( لیکن ) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ ( قیامت کے دن ) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ وَقَصَتْ رَجُلاً مُحْرِمًا نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ وَلاَ تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلاَ تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ " .
#2857
Sahih
It was narrated from Ibn Abbas that:a man was performing Hajj with the Messenger of Allah and his she-camel threw him and he died. The Messenger of Allah said: "Wash him and shroud him in two garments, and do not cover his head of his face, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting Talbiyah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ، - يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ - عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّهُ لَفَظَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُغَسَّلُ وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ يُغَطَّى رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
#2858
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"A man in Ihram came with the Messenger of Allah and fell from atop his camel, breaking his neck, and he died. The Messenger of Allah said: 'Wash him with water and lotus leaves, and wrap him in his two garments. But do not cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گر پڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں ( احرام کے ) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا“۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " .
#2859
Sahih
It was narrated from Nafi that:Abdulla bin Abdullah and salim bin Abdullah bin Umar when the army besiged Ibn Az-Zubair before he was killed. They said: "It does not matter if you do not perform Hajj this year; we are afraid lest we are prevented from reaching the House." He Sadi: we went out with the Messenger of Allah and the disbelievers of the Quraish prevented us from reaching the House. So the Messenger of Allah slaughtered his Hadi and shave his head. I ask you to bear witness that I have resolved to peform Umrah. If Allah wills I will set out and if I am allowed to reach the House I will circumambulate it, and if I am prevented from reaching the House I will do what the Messenger of Allah did when I was with him." Then he traveled for a while, then he said: "They are both the same. I ask you to bear witness that I have resolved to perform Hajj as well as Umrah. And he did not exit Ihram for either until he exited Ihram on the Day of Sacrifice and offered his Hadi
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر دونوں نے انہیں خبر دی کہ ان دونوں نے جب حجاج بن یوسف کے لشکر نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی تو ان کے قتل کئے جانے سے پہلے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی ان دونوں نے کہا: امسال آپ حج کے لیے نہ جائیں تو کوئی نقصان نہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کر دی جائے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو کفار قریش بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہیں ) اپنی ہدی کا نحر کر لیا اور سر منڈا لیا ( اور حلال ہو گئے ) سنو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ ( اپنے اوپر ) واجب کر لیا ہے۔ ان شاءاللہ میں جاؤں گا اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے سے نہ روکا گیا تو میں طواف کروں گا، اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ پھر کہنے لگے بلاشبہ حج و عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حج و عمرہ دونوں میں سے کسی سے بھی احرام نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو احرام کھولا، اور ہدی کی قربانی کی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ فَقَالاَ لاَ يَضُرُّكَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ إِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ . قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَعَلْتُ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ . ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ فَإِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي . فَلَمْ يَحْلِلْ مِنْهُمَا حَتَّى أَحَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَهْدَى .
#2860
Sahih
It was narrated from Ikrimah, from Al-Hajjaj bin Amr Al-Ansari that:he heard the Messenger of Allah say "Whoever suffers a leg injury of breaks his leg, he has exited Ihram, but he has to perform another Hajj." I asked Ibn Abbas and Abu Hurarirah about that and he said "He spoke the truth
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”جو شخص لنگڑا ہو جائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہو جائے گا، ( اس کا احرام کھل جائے گا ) اور اس پر دوسرا حج ہو گا“، ( عکرمہ کہتے ہیں ) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں ( یعنی حجاج انصاری ) نے سچ کہا۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ عَرِجَ أَوْ كُسِرَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى " . فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالاَ صَدَقَ .
#2861
Sahih
It was narrated from Ikramah, from Al-Hajja bin Amr that the Prophet said:"Whoever breaks his leg or suffers a leg injury, then he has exited Ihram, but he has to perform another Hajj." I asked Ibn 'Abbas and Abu Hurairah and the said: "He spoke the thurth." And in his narration (one of the narrators) shuaib said: "He has to perfom Hajj the following year
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر دوسرا حج ہے“ ( عکرمہ کہتے ہیں ) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں ( حجاج انصاری ) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں «وعليه حجة أخرى» ”ان پر دوسرا حج ہے“ کے بجائے «وعليه الحج من قابل» ”آئندہ سال ان پر حج ہے“ کہا ہے۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الصَّوَّافِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى " . وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالاَ صَدَقَ . وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ .
#2862
Sahih
Ibn Umar narrated that:the Messenger of Allah used to dismount at Dhu Tuwa and stay there overnight unitl he prayed Subh when he was approaching Makkah. The place where the Messenger of Allah prayed was on top of the big hillock and not in the Masjid that was built later on, but it was lower than that, on top of the big hillock
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی طویٰ میں اترتے اور وہیں رات گزارتے، پھر صبح کی نماز پڑھ کر مکہ میں داخل ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک سخت ٹیلے پر تھی نہ کہ مسجد میں جو وہاں بنائی گئی ہے، بلکہ اس مسجد سے نیچے ایک ٹھوس کھردرے ٹیلے پر ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًى يَبِيتُ بِهِ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلاَةَ الصُّبْحِ حِينَ يَقْدَمُ إِلَى مَكَّةَ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ خَشِنَةٍ غَلِيظَةٍ .
#2863
Sahih
It was narrated from Muhaarish Al-Kabi, that:the Prophet went out a night from Al-Jirranah when he set out for Umrah, and came back to Al-Jirranah when he set out for Umrah, and came back to Al-Jirranah in the morning, as if he had stayed there. Then, when the sun had passed its zenith he went out from Al-Jirranah in the valley of Sarif until the road joined the road to Al-Madinah from Sarif
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جعرانہ ۲؎ سے نکلے جس وقت آپ عمرہ کرنے کے لیے چلے پھر آپ رات ہی میں جعرانہ واپس آ گئے اور جعرانہ میں اس طرح صبح کی گویا آپ نے رات وہیں گزاری ہے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ جعرانہ سے چل کر بطن سرف پہنچے، سرف سے مدینہ کی راہ لی۔
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ لَيْلاً مِنَ الْجِعِرَّانَةِ حِينَ مَشَى مُعْتَمِرًا فَأَصْبَحَ بِالْجِعِرَّانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ عَنِ الْجِعِرَّانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى جَامَعَ الطَّرِيقَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ مِنْ سَرِفَ .
#2864
Sahih
It was narrated from Muharrish Al-Kabi that:the Prophet set out from Al-Jirranah at night as if he were an ingot of silver (i.e., in whiteness and purity) and perfomed Umrah, then he came back in the mooring as if he had stayed there overnight
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے رات میں نکلے گویا آپ کھری چاندی کے ڈلے ہوں ( یعنی آپ کا رنگ سفید چاندی کی طرح چمکدار تھا ) آپ نے عمرہ کیا، پھر آپ نے جعرانہ ہی میں صبح کی جیسے آپ نے وہیں رات گزاری ہو۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ لَيْلاً كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ فَاعْتَمَرَ ثُمَّ أَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ .
#2865
Sahih
It was narrated from Ibn Umar that:the Messenger of Allah entered Makkah from the upper valley which is in Al-Batha and he left from the lower valley
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا سے داخل ہوئے جو کہ بطحاء میں ہے، اور ثنیہ سفلی سے واپس نکلے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ وَخَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى .
#2866
Sahih
It was narrated from Jabir that:the Prophet enter Makkah and his standard was white
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ( یعنی فتح مکہ کے دن ) سفید جھنڈا لیے ہوئے داخل ہوئے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ .
#2867
Sahih
It was narrated from Ansas that the Prophet entered Makkah wearing a helmet. It was said that Ibn Katal was haging on to the drapes of the Kabah and he said:"Kill him
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ کے موقع پر ) خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ سے کہا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَقِيلَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ . فَقَالَ " اقْتُلُوهُ " .
#2868
Sahih
It was narrated from Anas that:the Prophet entered Makkah in the year of the Conquest wearing a helmet on his heard
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے سر پر خود تھا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ .
#2869
Sahih
It was narrated from Jabir bin Abdulla that the Prophet entered on the day of the Conquest of Makkah wearing a back Imamah, without being in Ihram
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ .
#2870
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Messenger of Allah and his Companions came on the morning of the fourth day (of Dhul-Hijjah), reciting the Talbiyah for Hajj, and the Messenger of commanded them to exit Ihram
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چار ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ آئے، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ ( عمرہ کر کے ) احرام کھول ڈالیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحِلُّوا .
#2871
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Messenger of Allah came on the fourth day of Dhul-Hijjah having entered Ihram for Hajj. He prayed Subh in Al-Batha and said: 'Whoever wants to make it Umrah, let him do so
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کو ( مکہ ) آئے، آپ نے حج کا احرام باندھ رکھا تھا، تو آپ نے صبح کی نماز بطحاء میں پڑھی، اور فرمایا: ”جو اسے عمرہ بنانا چاہے وہ بنا لے“ ( یعنی طواف کر کے احرام کھول دے، اور حلال ہو جائے ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَقَدْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ وَقَالَ " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ " .
#2872
Sahih
Jabir said:"The Prophet came to Makkah on the morning of the fourth of Dhul-Hijjah
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کی صبح کو مکہ آئے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ .
#2873
Sahih
It was narrated from Anas that:the Prophet entered Makkah during the Umratul-Qada, and Abdullah bin Rawahah was walking in front of him and saying: Get out of his way, you unbelievers, make way. Today we will fight about its revelation With blows that will remove beads from shoulders And make friend unmindful of friends. Umar said to him: "O Ibn Rawahah! In front of the Messenger of Allah and in the Sancturary of Allah, the Might and Sublime, you recite poetry?" The Prophet said: "Let him do so, for what he is saying is more effective than shooting arrows at them
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ قضاء میں مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آگے چل رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے: «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کافروں کی اولاد! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ ( کوئی مزاحمت اور کوئی رکاوٹ نہ ڈالو ) ، ورنہ آج ہم ان پر نازل شدہ حکم کے مطابق تمہیں ایسی مار ماریں گے جو سروں کو ان کی خواب گاہوں سے جدا کر دے گی اور دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دے گی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور اللہ عزوجل کے حرم میں تم شعر پڑھتے ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو ان کو ( پڑھنے دو ) کیونکہ یہ ان پر تیر سے زیادہ اثرانداز ہیں“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَرَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَقُولُ الشِّعْرَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خَلِّ عَنْهُ فَلَهُوَ أَسْرَعُ فِيهِمْ مِنْ نَضْحِ النَّبْلِ " .
#2874
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Messenger of Allah said on the day of the conquest: 'Allah made this land sacred the day He created the Heavens and the Earth, so it is sacred by the Decree of Allah until the day of Resurrection. Its thorny shrubs are not to be cut, or its game disturbed, or its lost property to be picked up, except by the one who will announce it publicly, or is its green grass to be uprooted or cut.' Al-Abbas said: O Messenger of Allah! Except Ikhkhir.'" And he said something that meant: "Except Ikhkhir
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اسی دن سے محترم قرار دیا ہے جس دن اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، لہٰذا یہ اللہ کی حرمت کی سبب سے قیامت تک حرمت والا رہے گا، نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ وہاں کی کوئی گری پڑی چیز اٹھائے گا سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے اور نہ وہاں کی ہری شاخ کاٹی جائے گی“، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے ۱؎ تو آپ نے ایک بات کہی جس کا مفہوم ہے سوائے اذخر کے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ " هَذَا الْبَلَدُ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلاَ يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَهَا وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهُ " . قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ . فَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا " إِلاَّ الإِذْخِرَ " .
#2875
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Messenger of Allah said on the day of the conquest of Makkah: 'Allah, the Might and Sublime, has made this land sacred, and it was not permissible to fight therein for anyone before me. It was permitted for me for a few hours of a day, and it is sacred by the decree of Allah, the Might and Sublime
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”یہ شہر ( مکہ ) حرام ہے اور اسے اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے، اس میں لڑائی مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہوئی۔ صرف میرے لیے ذرا سی دیر کے لیے جائز کی گئی، لہٰذا یہ اللہ عزوجل کے حرام قرار دینے کی وجہ سے حرام ( محترم و مقدس ) ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقِتَالُ لأَحَدٍ قَبْلِي وَأُحِلَّ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .