#2801
Sahih
It was narrated from Anas that the Prophet saw a man driving a Badanah and he was exhausted from walking. He said:"Ride it." He said: "It "It is Badanah." He said: "Ride it even if it is a Badanah
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کا اونٹ لے جاتے دیکھا اور وہ تھک کر چور ہو چکا تھا آپ نے اس سے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“ وہ کہنے لگا ہدی کا اونٹ ہے، آپ نے فرمایا: ”وار ہو جاؤ اگرچہ وہ ہدی کا اونٹ ہو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً وَقَدْ جَهَدَهُ الْمَشْىُ قَالَ " ارْكَبْهَا " . قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ . قَالَ " ارْكَبْهَا وَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً " .
#2802
Sahih
Abu Az-Zuhair said:"I heard Jabir bin Abdullah being asked about riding a Badanah. He said about riding a Badanah. He said: "I heard the Messenger of Allah say: Ride it in a reasonable manner if necessary, until you find another mount
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ان سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دستور کے مطابق اس کی سواری کر جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ یہاں تک کہ دوسری سواری پا لو۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
#2803
Sahih
It was narrated that Aishah said:"We went out with the Messenger of Allah not thinking of anything but Hajj. When we came to Makkah we circumambulated the house, then the Messenger of Allah told those who have not brought a Hadi to exit Ihram. So those who have not brought a Hadi exited Ihram. His wives had not brought a HIad so They exited Ihram too." Aishah said: "My menses came so I did not circumambulate the Hous. On the night of Al-Hasbab (the twelfth night of Dhul-Hajjah) I said" "O Messenger of Allah, the people are going back having done Umrah and Hajj, But I am going back having done only Hajj. He said: 'Did you not perform Tawaf when we came to Makkah?' I said: 'No.' He said: 'Then go with your brother to At-Tanim and enter Ihram for Umrah then we will meet you and such and such a place
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لوگ ہدی لے کر نہیں آئے تھے انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا تو جو ہدی نہیں لائے تھے حلال ہو گئے، آپ کی بیویاں بھی ہدی لے کر نہیں آئیں تھیں تو وہ بھی حلال ہو گئیں، تو مجھے حیض آ گیا ( جس کی وجہ سے ) میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی، جب محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ حج و عمرہ دونوں کر کے اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی، آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے ان راتوں میں جن میں ہم مکہ آئے تھے طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم جاؤ، وہاں عمرے کا تلبیہ پکارو، ( اور طواف وغیرہ کر کے ) واپس آ کر فلاں فلاں جگہ ہم سے ملو“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نُرَى إِلاَّ الْحَجَّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يَحِلَّ فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ . قَالَ " أَوَمَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ " . قُلْتُ لاَ . قَالَ " فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانُ كَذَا وَكَذَا " .
#2804
Sahih
It was narrated that Aishah said:"We went out with the Messenger of Allah not thinking of anything but Hajj. When we drew close to Makkah, the Messenger of Allah ordered: 'Whoever has a Hadi with him should remain in Ihram, and whoever does not have a Hadi with him, he should exit Ihram
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، تو جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کے ساتھ ہدی تھی انہیں اپنے احرام پر قائم رہنے کا حکم دیا، اور جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نُرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ أَنْ يَحِلَّ .
#2805
Sahih
It was narrated that Jabir said:"We, the Companions of the Prophet, entered Ihram for Hajj only, and nothing else. We came to Makkah on the morning of the fourth of Dhul-Hajjah, and the Prophet commanded us: "Exit Ihram and make it Umrah. He heard that we were saying: 'when there are only five days between us and 'Arafat he commands us to exit Ihram and we will go out to Mina with our male members dripping with semen (because of recent intimacy with our wives)?' the Prophet stood up and addressed us, saying: 'I have heard what you said. I am the most righteous and the most pious of you, and were it not for the Hadi I would have exited Ihram. If I had known what I know now, I would not have from Yemen and he said: 'for what did you enter Ihram?' He said: 'For that for which the Messenger of Allah entered Ihram.' Suraq bin Malik bin Jushum said: 'O Messenger of Allah, do you think that this Umrah of ours is for this year only or for all time?' He said: 'It is for all time
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے خالص حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ اور کسی چیز کی نیت نہ تھی۔ تو ہم ۴ ذی الحجہ کی صبح کو مکہ پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ”احرام کھول ڈالو اور اسے ( حج کے بجائے ) عمرہ بنا لو“، تو آپ کو ہمارے متعلق یہ اطلاع پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے احرام کھول کر حلال ہو جائیں تو ہم منیٰ کو جائیں گے، اور ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”جو بات تم لوگوں نے کہی ہے وہ مجھے معلوم ہو چکی ہے، میں تم سے زیادہ نیک اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو گیا ہوتا، اگر جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے پہلے معلوم ہو گئی ہوتی تو میں ہدی ساتھ لے کر نہ آتا“۔ ( اسی دوران ) علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے، تو آپ نے ان سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ہدی دو اور احرام باندھے رہو، جس طرح تم ہو“۔ اور سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے ہمارا یہ عمرہ اسی سال کے لیے ہے، یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے ہے“۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً " . فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلاَّ خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ فَنَرُوحَ إِلَى مِنًى وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنَ الْمَنِيِّ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَخَطَبَنَا فَقَالَ " قَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لأَبَرُّكُمْ وَأَتْقَاكُمْ وَلَوْلاَ الْهَدْىُ لَحَلَلْتُ وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ " . قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ " بِمَا أَهْلَلْتَ " . قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ " . قَالَ وَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِلأَبَدِ قَالَ " هِيَ لِلأَبَدِ " .
#2806
Sahih
It was narrated from Surqah bin Malik bin Jushum said :"O Messenger of Allah, do you think that this Umrah of ours is for this year only, or for all time?" The Messenger of Allah said: "It is for all time
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا أَمْ لأَبَدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هِيَ لأَبَدٍ " .
#2807
Sahih Isnaad
Surqah said:'The Messenger of Allah joined Hajj and Umrah and we did so with him. We said: "Is it just for us, or for all time?" He said: "No, it is for all time
سراقہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ۱؎ اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا۔ تو ہم نے عرض کیا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ قَالَ سُرَاقَةُ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ فَقُلْنَا أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لأَبَدٍ قَالَ " بَلْ لأَبَدٍ " .
#2808
Daif
It was narrated from Al-Harith bin Bilal that his father said:"I said: 'O Messenger of Allah, is this annulment of Hajj just for us or is it for all the people?' He said: 'No, it is just for us." (Daif)
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ۱؎“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً قَالَ " بَلْ لَنَا خَاصَّةً " .
#2809
Sahih Muquf
It was narrated that Abu Dharr said concerning Tamattu" in Hajj:it was only for us
ابوذر رضی الله عنہ سے حج کے متعہ کے سلسلہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے رخصت تھی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَعَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ قَالَ كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً .
#2810
Sahih Muquf
It was narrated that Abu Dharr said concerning Tamattu' in Hajj:it is not for you, and you have nothing to do with it; it was only for us, the Companions of Muhammad
ابوذر رضی الله عنہ حج کے متعہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تمہارے لیے نہیں ہے، اور نہ تمہارا اس سے کوئی واسطہ ہے، یہ رخصت صرف ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَارِثِ بْنَ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ لَيْسَتْ لَكُمْ وَلَسْتُمْ مِنْهَا فِي شَىْءٍ إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً لَنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم .
#2811
Sahih Muquf
It was narrated that Abu Dharr said:Tamattu was just for us
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ متعہ کی رخصت ہمارے لیے خاص تھی۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ كَانَتِ الْمُتْعَةُ رُخْصَةً لَنَا .
#2812
Sahih Muquf
It was narrated that Abdur-Rahman bin Abi Ash-Shatha Said:"I was with Ibrahm An-Nakha'i and Ibrahim At-taimi, and I said: 'I wanted to combine Hajj and 'Umrah this year,' but Ibrahim said: 'If you father were alive, he would not do that.' And Ibrahim At-Taimi said, (narrating) from his father, that Abu Dharr said: 'Tamattu' was only for us". (Sahib)
عبدالرحمٰن بن ابی الشعثاء کہتے ہیں کہ میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے ساتھ تھا، تو میں نے کہا: میں نے اس سال حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس پر ابراہیم نے کہا: اگر تمہارے والد ہوتے تو ایسا ارادہ نہ کرتے، وہ کہتے ہیں: ابراہیم تیمی نے اپنے باپ کے واسطہ سے روایت بیان کی، اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: متعہ ہمارے لیے خاص تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ فَقُلْتُ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَجْمَعَ الْعَامَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ . فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ لَوْ كَانَ أَبُوكَ لَمْ يَهُمَّ بِذَلِكَ . قَالَ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ لَنَا خَاصَّةً .
#2813
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"They used to think that performing 'Umrah during the months of Hajj was one of the worst of evil actions on Earth, and they used to call Muharram 'Safar,' and say: 'When the sore on the backs of the camels have healed and when their hair grows back and when Safar is over' - or he said: 'When Safar beings - then 'Umrah becomes permissible for whoever wants to do it.' Then the Prophet and his companions came on the morning of the fourth of Dhul-Hijjah, reciting the Talbiyah for Hajj, He told them to make it 'Umrah, and they found it too difficult to do that. They said: 'O Messenger of Allah, to what degree should we exit Ihram?' He said: 'Completely
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ) لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کر لینے کو زمین میں ایک بہت بڑا گناہ تصور کرتے تھے، اور محرم ( کے مہینے ) کو صفر کا ( مہینہ ) بنا لیتے تھے، اور کہتے تھے: جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم اچھا ہو جائے، اور اس کے بال بڑھ جائیں اور صفر کا مہینہ گزر جائے یا کہا صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہو گیا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو ( مکہ میں ) حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا لیں، تو انہیں یہ بات بڑی گراں لگی ۱؎، چنانچہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون کون سی چیزیں حلال ہوں گی؟ تو آپ نے فرمایا: ”احرام سے جتنی بھی چیزیں حرام ہوئی تھیں وہ ساری چیزیں حلال ہو جائیں گی“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ، فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرَ وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْوَبَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ - أَوْ قَالَ دَخَلَ صَفَرْ - فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْحِلِّ قَالَ " الْحِلُّ كُلُّهُ " .
#2814
Sahih
Ibn Abbas said:"The Messenger of Allah enter Ihram for 'Umrah and his companions enter Ihrahm for Hajj. He told those who did not have a Hadi with them to exit Ihram. Among those who did not have a Hadi with them was Tallah bin 'Ubaidullah and another man, so they exited Ihram
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا اور آپ کے اصحاب نے حج کا، اور آپ نے جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے انہیں حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہو جائیں، تو جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے ان میں طلحہ بن عبیداللہ اور ایک اور شخص تھے، یہ دونوں احرام کھول کر حلال ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ، - وَهُوَ الْقُرِّيُّ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْىُ أَنْ يَحِلَّ وَكَانَ فِيمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْىُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلاَّ .
#2815
Sahih
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet said:This is 'Umrah that we have benefited from. Whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram completely. Now 'Umrah is permissible during the months of Hajj
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے، تو جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پورے طور پر حلال ہو جائے، کیونکہ عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَاهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْىٌ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ " .
#2816
Sahih
It was narrated from Abu Qatadah that:he was with Messenger of Allah. When they were partway to Makkah, he lagged behind with some companions of his whowere in Ihram, but he was not in Ihram. He saw an onager, so he mounted his horse, then he asked his companions to hand him his whip, but they refused. He asked them to hand him his spear, but they refused. He took it, then chased the onager and killed it. Some of the Companions of the Messenger of Allah ate from it but others refused. The caught up with the Messenger of Allah and asked him about that, and he said: "That is food that Allah, the Might and Sublime, gave to you
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ( حج کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ مکہ کے راستہ میں احرام باندھے ہوئے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے، اور وہ خود محرم نہیں تھے ( وہاں ) انہوں نے ایک نیل گائے دیکھی، تو وہ اپنے گھوڑے پر جم کر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے درخواست کی وہ انہیں ان کا کوڑا دے دیں، تو ان لوگوں نے انکار کیا تو انہوں نے خود ہی لے لیا، پھر تیزی سے اس پر جھپٹے، اور اسے مار گرایا، تو اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے کھایا، اور بعض نے کھانے سے انکار کیا۔ پھر ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا تو آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایسی غذا ہے جسے اللہ عزوجل نے تمہیں کھلایا ہے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ وَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ ثُمَّ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
#2817
Sahih
It was narrated from Mu'adh bin Abdur-Rahman At-Taimi that his father said:"we were with Talhah bin Ubaidullah and we were Ihram. A birth was given to him when he was asleep, and some of us at from it and others refrained. Talhah woke up and agreed with those who had eaten it, and said: 'We ate it with Messenger of Allah
عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ہم طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ہم احرام باندھے ہوئے تھے، تو انہیں ( شکار کی ہوئی ) ایک چڑیا ہدیہ کی گئی اور وہ سوئے ہوئے تھے تو ہم میں سے بعض نے کھایا اور بعض نے احتیاط برتی تو جب طلحہ رضی اللہ عنہ جاگے، تو انہوں نے کھانے والوں کی موافقت کی، اور کہا کہ ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَهُوَ رَاقِدٌ فَأَكَلَ بَعْضُنَا وَتَوَرَّعَ بَعْضُنَا فَاسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ فَوَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2818
Sahih Isnaad
It was narrated from Al-Bahzi that:the Messenger of Allah set out for Makkah and was in Ihram. When they were in Ar-Rawha, they saw a wounded onager. Mention of that was made to the messenger of Allah and he said: "Leave it, for soon its owner will come." Then Al-Bahzi, who was its owner, came to the Messenger of Allah, it is up to you what you want to do with this onager." The Messenger of Allah Commanded Abu Bakr to share it out among the company then he moved on, and when he was in Al-Uthayah, between Ar-Ruwaythah and Al-Arj, They was a gazelle sleeping in the Shade with an arrow in it. It was said that the Messenger of Allah told a man to stand by it and not let anyone disturb it until everyone had passed by
زید بن کعب بہزی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ مکہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے یہاں تک کہ جب آپ روحاء پہنچے تو اچانک ایک زخمی نیل گائے دکھائی پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے پڑا رہنے دو، ہو سکتا ہے اس کا مالک ( شکاری ) آ جائے“ ( اور اپنا شکار لے جائے ) اتنے میں بہزی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور وہی اس کے مالک ( شکاری ) تھے انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ گور نیل گائے آپ کے پیش خدمت ہے ۱؎ آپ جس طرح چاہیں اسے استعمال کریں۔ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے اس کا گوشت تمام ساتھیوں میں تقسیم کر دیا، پھر آپ آگے بڑھے، جب اثایہ پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ہرن اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کے درمیان کئے ہوئے ہے، ایک سایہ میں کھڑا ہے اس کے جسم میں ایک تیر پیوست ہے، تو ان کا ( یعنی بہزی کا ) گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ وہاں کھڑا ہو جائے تاکہ کوئی شخص اسے چھیڑنے نہ پائے یہاں تک کہ آپ ( مع اپنے اصحاب کے ) آگے بڑھ جائیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنِ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِيرٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " دَعُوهُ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ " . فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالأُثَايَةِ بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ وَالْعَرْجِ إِذَا ظَبْىٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً يَقِفُ عِنْدَهُ لاَ يُرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ .
#2819
Sahih
It was narrated from As-Sab bin Jaththamah that:he gave the Messenger of Allah an onager when he was in Al-Abwa or in Waddan, but the Messenger of Allah gave it back to him. "And when the Messenger of Allah saw the expression on my face he said: "We only gave it back to you because we are in Ihram
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا اور آپ ابواء یا ودان میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہیں واپس کر دیا۔ پھر جب آپ نے میرے چہرے پر جو کیفیت تھی دیکھی تو فرمایا: ”ہم نے صرف اس وجہ سے اسے تمہیں واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا فِي وَجْهِي قَالَ " أَمَّا إِنَّهُ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنَّا حُرُمٌ " .
#2820
Sahih
It was narrated from As-Sab bin Jaththamah that:the Prophet came, and when he was in Waddan, he saw an onager, but he gave it back to him and said: "'We are in Ihram, we cannot eat game
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ جب ودان پہنچے تو ایک نیل گائے دیکھا ( جسے کسی نے شکار کر کے پیش کیا تھا ) تو آپ نے اسے پیش کرنے والے کو لوٹا دیا، اور فرمایا: ”ہم احرام باندھے ہوئے ہیں، شکار نہیں کھا سکتے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِوَدَّانَ رَأَى حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ " إِنَّا حُرُمٌ لاَ نَأْكُلُ الصَّيْدَ " .
#2821
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Zaid bin Arqam came and Ibn Abbas said to him, reminding him: "What did you tell me about the game meat that was given to the Messenger of Allah when he was in Ihram?" He said: "Yes, a man gave him a piece of game meat but he returned it and said: 'We cannot eat it, we are in Ihram
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا گیا تھا اور آپ محرم تھے کیا بتایا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص شکار کے گوشت کا ایک پارچہ ( عضو ) بطور ہدیہ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوٹا دیا اور فرمایا: ”ہم نہیں کھا سکتے، ہم احرام باندھے ہوئے ہیں“۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، وَسَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ، صَيْدٍ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ حَرَامٌ قَالَ نَعَمْ أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ وَقَالَ " إِنَّا لاَ نَأْكُلُ إِنَّا حُرُمٌ " .
#2822
Sahih
It was narrated that Ibn Abbas said:"As-Sab bin Jaththamah gave the Messenger of Allah the leg of an onager that was dripping with blood when he was in Ihram, at Qudaid, and he returned it to him
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نیل گائے کی ٹانگ بھیجی جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے، اور آپ احرام باندھے ہوئے مقام قدید میں تھے۔ تو آپ نے اسے انہیں واپس لوٹا دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ تَقْطُرُ دَمًا وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ بِقُدَيْدٍ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ .
#2823
Sahih
It was narrated from Ibn Abbas:That As-Sab bin Jaththamah gave the Prophet some onager (meat) when he was in Ihram and he returned it to him
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نیل گائے ہدیہ میں بھیجا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، تو آپ نے اسے انہیں واپس کر دیا۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَبِيبٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ، أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِمَارًا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ .
#2824
Sahih
It was narrated that Abdullah bin Abi Qatadah said:"My father set out with the Messenger of Allah in the year of Al-Hudaybiyah, and his companions entered Ihram, but he did not. (He said:) 'While I was with my companions, some of them laughed at others. I looked and saw an onager. I stabbed it then asked them to help, but they refused to help me. We ate from its meat, and we were afraid that we would be intercepted (by the enemy) so I followed the Messenger of Allah, sometimes making my horse gallop and sometimes traveling at a regular place. I met a man from Ghifar at midnight and said: Where did you leave the Messenger of Allah? He said: I left him when he was napping in As-Suqya. I caught up with him and said: O messenger of Allah! Your Companions convey their greetings of Salam to you, and the mercy of Allah and His blessings. They were afraid that they may be intercepted and cut off from you, so wait for them. Then I said: O Messenger of Allah, I caught an onager and I have some of it. He said to the People: Eat, and they were I Ihram
عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ میرے والد صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا لیکن انہوں نے نہیں باندھا، ( ان کا بیان ہے ) کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ تھا کہ اسی دوران ہمارے اصحاب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسے، میں نے نظر اٹھائی تو اچانک ایک نیل گائے مجھے دکھائی پڑا، میں نے اسے نیزہ مارا اور ( اسے پکڑنے اور ذبح کرنے کے لیے ) ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کیا پھر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا، اور ہمیں ڈر ہوا کہ ہم کہیں لوٹ نہ لیے جائیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ پکڑنا چاہا کبھی میں اپنا گھوڑا تیز بھگاتا اور کبھی عام رفتار سے چلتا تو میری ملاقات کافی رات گئے قبیلہ غفار کے ایک شخص سے ہوئی میں نے اس سے پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو مقام سقیا میں قیلولہ کرتے ہوئے چھوڑا ہے، چنانچہ میں جا کر آپ سے مل گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور آپ کے لیے اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہیں کہ وہ کہیں آپ سے پیچھے رہ جانے پر لوٹ نہ لیے جائیں، تو آپ ذرا ٹھہر کر ان کا انتظار کر لیجئیے تو آپ نے ان کا انتظار کیا۔ پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( راستے میں ) میں نے ایک نیل گائے کا شکار کیا اور میرے پاس اس کا کچھ گوشت موجود ہے، تو آپ نے لوگوں سے کہا: ”کھاؤ“ اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِي ضَحِكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ فَطَعَنْتُهُ فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ فَطَلَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرَفِّعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا فَلَقِيتُ رَجُلاً مِنْ غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ تَرَكْتُهُ وَهُوَ قَائِلٌ بِالسُّقْيَا . فَلَحِقْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ فَانْتَظَرَهُمْ . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ فَقَالَ لِلْقَوْمِ " كُلُوا " . وَهُمْ مُحْرِمُونَ .
#2825
Sahih
It was narrated that Yahya bin Abi Kathir said:"Abdullah bin Abu Qatadah said that his father told him, that he went out with the Messenger of Allah on the campaign of Al-Hudaybiyah. He said: 'They entered Ihram for 'Umrah apart from me. I hunted an onager and fed my companions with it, when they were in Ihram. Then, I went to the Messenger of Allah and told him that we had some of it meat left over. HE said: Eat, and they were in Ihram
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ غزوہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا ہے تھا۔ تو میں نے ( راستہ میں ) ایک نیل گائے کا شکار کیا اور اس کا گوشت اپنے ساتھیوں کو کھلایا، اور وہ محرم تھے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو میں نے بتایا کہ ہمارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے، تو آپ نے ( لوگوں سے ) فرمایا: ”کھاؤ“، اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّسَائِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ - قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ - قَالَ - فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي مِنْهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً فَقَالَ " كُلُوهُ " . وَهُمْ مُحْرِمُونَ .