#2726
Sahih
Imran bin Husain said:"The Messenger of Allah combined Hajj and "Umrah, then he passed away before he could forbid that, and before Qur'an was revealed forbidding it
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سے پہلے کہ آپ اس سے منع فرماتے یا اس کے حرام ہونے کے سلسلے میں آپ پر کوئی آیت اترتی آپ کی وفات ہو گئی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يَقُولُ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ تُوُفِّيَ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنْهَا وَقَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْقُرْآنُ بِتَحْرِيمِهِ .
#2727
Sahih
It was narrated from 'Imran:That the Messenger of Allah combined Hajj and "Umrah, then no Qur'an was revealed concerning that, and the Prophet did not forbid it, regardless of what one man may say
عمران رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سلسلے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان دونوں کو جمع کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، لیکن ایک شخص نے ان دونوں کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِيهِمَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ .
#2728
Sahih
It was narrated that Mutarrif bin `Abdullah said:"`Imran bin Husain said to me: 'We performed Tamattu` with the Messenger of Allah (ﷺ).'" Abu Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: There are three (named) Isma`il bin Muslim; this is one of them, and there is no harm in him. And Shaikh Isma`il bin Muslim who reports from Abu Tufail, there is no harm in him. And Isma`il bin Muslim who reports from Az-Zuhri and Al-Hasan, he is abandoned in Hadith
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج ) تمتع کیا، ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم نام کے تین لوگ ہیں، یہ اسماعیل بن مسلم ( جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں ) انہیں تینوں میں سے ایک ہیں، ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ( دوسرے ) اسماعیل بن مسلم ایک شیخ ہیں جو ابوالطفیل سے روایت کرتے ہیں ان سے بھی حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تیسرے اسماعیل بن مسلم ہیں جو زہری اور حسن سے روایت کرتے ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ثَلاَثَةٌ هَذَا أَحَدُهُمْ لاَ بَأْسَ بِهِ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ شَيْخٌ يَرْوِي عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ لاَ بَأْسَ بِهِ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ يَرْوِي عَنِ الزُّهْرِيِّ وَالْحَسَنِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ .
#2729
Sahih
It was narrated that Anas said:"I heard the Messenger of Allah 'Labbaika 'Umratan wa Hajjan ma'an, Iabbaika 'Umratan wa Hajjan ma'an (Here I am (O Allah) for "Umrah and Hajj together, here I am (O Allah) for "Umrah and Hajj together
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» کہتے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسٍ، سَمِعُوهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا " .
#2730
Sahih
It was narrated that Anas said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting the Talbiyah for them both
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( حج و عمرہ ) دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي بِهِمَا .
#2731
Sahih
Bakr bin 'Abdullah Al-Muzani said:"Anas said: 'I heard the Prophet reciting the Talbiyah for 'Umrah and Hajj together. I told Ibn 'Umar about that and he said: "He recited the Talbiyah for Hajj only. I met Anas and told him what Ibn 'Umar had said, and Anas said: "do you think of us as no more than children? I heard the Messenger of Allah say: 'Labbaika 'Umratan wa Hajjan ma'an (Here I am (O allah) for 'Umrah and Hajj together) (sahih)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ہے تو میں نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر میری ملاقات انس سے ہوئی تو میں نے ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات بیان کی، اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ساتھ «لبيك عمرة وحجا» کہتے ہوئے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، قَالَ أَنْبَأَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ جَمِيعًا فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ . فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ أَنَسٌ مَا تَعُدُّونَا إِلاَّ صِبْيَانًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا مَعًا " .
#2732
Shadh
It was narrated from Salim bin 'Abdullah that 'Abdullah bin 'Umar said; "during the Farewell Pilgrimage, the Messenger of Allah benefited from performing 'Umrah and then Hajj, and he brought a Hadi (sacrificial animal )with him from dhul-Hulaifah. The Messenger of Allah entered Ihram for 'Umrah frist, them for Hajj, and the people also benefited by entering Ihram for 'Umrah first, then for Hajj. Some of the people brought the Hadi and carried it along with them, and other s did not. When the Messenger of Allah came to Makkah, he said to the people:'Whoever among you has brought a Hadi, nothing is permissible for him that became forbidden when he entered Ihram, until he has finished his Hajj, Whoever did not find a Hadi, let him fast for three days during the Hajj, and for seven when he returns to his family, the Messenger of Allah performed Tawaf when he came to Makkah and touched the corner (where the Black Stone is) first of all, then he walked rapidly during the first three of the seven circles, and walked daring the last four. After he finished circumambulating the House he prayed two Rak'ahs at Maqam Ibrahim. Then he went to As-Safa and walked seven rounds between As-Safa and Al-Marwah. And he did not do any action that was forbidden because of Ihram until he had completed his Hajj and slaughtered his Hadi on the Day of sacrifice. Then he hastened onward (toard Makkah) and circumambulated the House. Then everything that had been forbidden because of Ihram became permissible. And those who had brought the Hadi with them did the same as the Messenger of Allah did
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا ۱؎ یعنی پہلے عمرہ کیا پھر حج کیا اور ہدی بھیجی، بلکہ اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے ( وہاں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر حج کا تلبیہ پکارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تمتع کیا، یعنی عمرے کا احرام باندھا پھر حج کا۔ البتہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہدی بھیجی اور اپنے ساتھ بھی لیے گئے، اور کچھ لوگ ایسے تھے جو ہدی نہیں لے گئے تھے۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر آئے ہیں وہ جب تک حج پورا نہ کر لیں کسی بھی چیز سے جو ان پر حرام ہیں حلال نہ ہو ) اور جو ہدی ساتھ لے کر نہیں آئے ہیں تو وہ خانہ کعبہ کا طواف کریں اور صفا و مروہ کی سعی کریں، اور بال کتروائیں اور احرام کھول ڈالیں۔ پھر ( اٹھویں ذی الحجہ کو ) حج کا احرام باندھے پھر ہدی دے اور جسے ہدی میسر نہ ہو تو وہ حج میں تین دن روزے رکھے، اور سات دن اپنے گھر واپس پہنچ جائیں تب رکھیں“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پہنچ کر طواف کیا، اور سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دوڑ کر چلے ۲؎، باقی چار پھیرے عام رفتار سے چلے۔ پھر جس وقت بیت اللہ کا طواف پورا کر لیا، تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر صفا آئے اور صفا اور مروہ کے درمیان سات پھیرے کیے۔ پھر جو چیزیں حرام ہو گئی تھیں ان میں سے کسی چیز سے بھی حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ اپنے حج کو مکمل کیا اور یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنے ہدی کی نحر کی ( جانور ذبح کئے ) اور منیٰ سے لوٹ کر مکہ آئے، پھر خانہ کعبہ کا طواف کیا پھر جو چیزیں حرام ہو گئی تھیں ان سب سے حلال ہو گئے، اور لوگوں میں سے جو ہدی ( کا جانور ) لے کر گئے تھے، انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لْيُهِلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ لْيُهْدِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " . فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ فَصَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ .
#2733
Sahih
Sa'ced bin Al-Musayyab said:"Ali and 'Uthman performed Hajj, and when we were partway there, 'Uthman forbade Tamattu, 'Ali said 'When you see him setting out, set out with him (saying the Talbiyah for 'Umrah)So 'Ali and his companions recited the Talbiyah for 'Umrah, and 'Uthman did not forbid them. 'Ali said: 'Have I not been told that you did.' Ali said to him: 'Did you not hear that the Messenger of Allah did Tamattu? He said: 'Of course
سعید بن مسیب کہتے ہیں علی اور عثمان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تو جب ہم راستے میں تھے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے تمتع سے منع کیا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم لوگ انہیں دیکھو کہ وہ ( عثمان ) کوچ کر گئے ہیں تو تم لوگ بھی کوچ کرو، علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ( یعنی تمتع کیا ) تو عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں منع نہیں کیا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا مجھے یہ اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ آپ تمتع سے روکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ( صحیح اطلاع دی ہے ) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ حَجَّ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ نَهَى عُثْمَانُ عَنِ التَّمَتُّعِ فَقَالَ عَلِيٌّ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدِ ارْتَحَلَ فَارْتَحِلُوا . فَلَبَّى عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِالْعُمْرَةِ فَلَمْ يَنْهَهُمْ عُثْمَانُ فَقَالَ عَلِيٌّ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ التَّمَتُّعِ قَالَ بَلَى . قَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَمَتَّعَ قَالَ بَلَى .
#2734
Daif Isnaad
It was narrated from Muhammad bin 'Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal bin Al-Harith bin 'Abdul-Muttalib that:during the year that Mu'awiyah bin abi sufyan performed Hajj, he heard Sa'd bin Abi Waqqas and Ad-Dahhak bin Qais talking about joining 'Umrah to Hajj (Tamattu) Ad-Dahhak said: "none does that but one who is ignorant of the ruling of Allah." Sa'd said: "What a bad thing to say, O son of my brother!" Ad-Dahhak said: "Umar bin Al-Khattab forbade that." Sa'd daid: "The Messenger of Allah did that and we did it with him
محمد بن عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما کو جس سال معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تمتع کا یعنی عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حج کرنے کا ذکر کرتے سنا، ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے وہی کرے گا، جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو گا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! بری بات ہے، جو تم نے کہی، تو ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تو اس سے روکا ہے اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم لوگوں نے بھی کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، - عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ - وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَقَالَ الضَّحَّاكُ لاَ يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلاَّ مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ تَعَالَى . فَقَالَ سَعْدٌ بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي . قَالَ الضَّحَّاكُ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَهَى عَنْ ذَلِكَ . قَالَ سَعْدٌ قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ .
#2735
Sahih
It was narrated that Abu Musa said that:he used to issue Fatwas concerning Tamattu' Then a man said to him: "Withhold some of your Fatwas ,for you do not know what the commander of the Believers introduced into the rites subsequently." Then when I met him, I asked him. 'Umar said: "I know that the Messenger of Allah and his companions did it, but I did not like that people should lay with their wives in the shade of the Arak trees, and then go out for Hajj with their heads dripping
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ تمتع کا فتویٰ دیتے تھے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتاوے کو ملتوی رکھیں ۱؎ آپ کو امیر المؤمنین ( عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ) نے اس کے بعد حج کے سلسلے میں جو نیا حکم جاری کیا ہے وہ معلوم نہیں، یہاں تک کہ میں ان سے ملا، اور میں نے ان سے پوچھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے، لیکن میں یہ اچھا نہیں سمجھتا کہ لوگ «اراک» میں اپنی بیویوں سے ہمبستر ہوں، پھر وہ صبح ہی حج کے لیے اس حال میں نکلیں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ . حَتَّى لَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ فَعَلَهُ وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعَرِّسِينَ بِهِنَّ فِي الأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ .
#2736
Sahih Isnaad
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"I heard 'Umar say" 'By Allah, I forbid you to forbid you to perform Tamattur,' but it is mentioned in the Book of Allah and the Messenger of Allah did it" meaning 'Umrah with Hajj
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: قسم اللہ کی! میں تمہیں متعہ سے یعنی حج میں عمرہ کرنے سے روک رہا ہوں، حالانکہ وہ کتاب اللہ میں موجود ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُتْعَةِ، وَإِنَّهَا، لَفِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَقَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي الْعُمْرَةَ فِي الْحَجِّ .
#2737
Sahih
It was narrated that Tawus said:"Mu'awiyah saide to Ibmn 'Abbas: "do you know that I cut the hair of the Messenger of Allah at Al-Marwah?" He said: "No." Ibn 'Abbas said: "This Mu'awiyah forbids the people to perform Tamattu' but the Prophet performed Tamattue
طاؤس کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ مروہ کے پاس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کترے تھے ( میں یہ اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ ) ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ معاویہ ہیں جو لوگوں کو تمتع سے روکتے ہیں حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ الْمَرْوَةِ قَالَ لاَ . يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذَا مُعَاوِيَةُ يَنْهَى النَّاسَ عَنِ الْمُتْعَةِ وَقَدْ تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
#2738
Sahih
It was narrated that Abu Musa said:"I came to the Messenger of Allah when he was in Al-Batha', and he said: 'For what have you entered Ihram?' I said: 'I have entered Ihram for that for which the Proper had entered Ihram,' He said: 'Have you brought a hadi (sacrifical animal)?' I said: 'No.' He said: 'Then circumambulate the House and (perform Sa) between As-Safa and Al-Marwah, then exit Ihram, so I circumambulated the House and (performed Sa i) between As-Safa and Al-Marwah, then went to a woman of my people and she combed and washed my hair, I used to issue Fatwas to the people based on that, during the Khilafah of Abu Bakr and 'Umar. Then one day during Hajj season a man came to me and said: 'You do not know what the commander of the Believers has introduced concerning the rites. I said: O people, whoever heard our heard our Fatwa, let him not rush to follow it, for the commander of the Believers! Is coming to you, and you should follow him. When he came, I said: O Commander of the Believers! What is this that you have introduced concerning the rites? He said: If we follow the Book of Allah, then Allah, the Mighty and Sublime, says: 'And complete the Hajj and 'Umrah for Allah. And if we follow the sunnah of our Prophet then our Prophet did not exit Ihram until he had slaughtered the Hadi (sacrificial animal) (sahih)
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ بطحاء میں تھے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ پر تلبیہ پکارا ہے، پوچھا: ”کیا تم کوئی ہدی لے کر آئے ہو“، میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: خانہ کعبہ کا طواف کرو اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرو پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ“، تو میں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر میں اپنے خاندان کی ایک عورت کے پاس آیا تو اس نے میرے بالوں میں کنگھی کی اور میرا سر دھویا۔ چنانچہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو اسی کا فتویٰ دیتا رہا۔ ( ایک بار ایسا ہوا کہ ) میں حج کے موسم میں کھڑا تھا کہ یکایک ایک شخص میرے پاس آ کر کہنے لگا: آپ اس چیز کو نہیں جانتے جو امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں نیا حکم دیا ہے؟ تو میں نے کہا: لوگو! میں نے جس کسی کو بھی کوئی فتویٰ دیا ہو وہ اس پر عمل کرنے میں ذرا توقف کرے، کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں، تو وہ جو فرمائیں اس کی پیروی کرو۔ تو جب وہ آئے تو میں نے کہا: امیر المؤمنین! یہ کیا ہے جو حج کے سلسلے میں آپ نے نئی بدعت نکالی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ہم کتاب اللہ پر عمل کریں تو اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: «وأتموا الحج والعمرة لله» اور اگر ہم اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کریں، تو آپ حلال نہیں ہوئے جب تک کہ آپ نے ہدی کی قربانی نہیں کر لی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسٍ، وَهُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ " بِمَا أَهْلَلْتَ " . قُلْتُ أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْىٍ " . قُلْتُ لاَ . قَالَ " فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ " . فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي وَغَسَلَتْ رَأْسِي فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ فِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ وَإِمَارَةِ عُمَرَ وَإِنِّي لَقَائِمٌ بِالْمَوْسِمِ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ . قُلْتُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَىْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَائْتَمُّوا بِهِ فَلَمَّا قَدِمَ قُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هَذَا الَّذِي أَحْدَثْتَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ قَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ { وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ } وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ نَبِيَّنَا صلى الله عليه وسلم لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْىَ .
#2739
Sahih
It was narrated that Mutarrif said:"Imran bin Husain said to me; 'The Messenger of Allah performed 'Umrah and Hajj together, and we performed 'Umrah and Hajj together with him, and whoever says anything different, that is his own personal opinion
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج ) تمتع کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ ( حج ) تمتع کیا ( لیکن ) کہنے والے نے اس سلسلے میں اپنی رائے سے کہا ۱؎۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ تَمَتَّعَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ قَالَ فِيهَا قَائِلٌ بِرَأْيِهِ .
#2740
Sahih
Ja`far bin Muhammad said:"My father told me: 'We came to Jabir bin `Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet (ﷺ). He told us: The Messenger of Allah (ﷺ) stayed in al-Madinah for nine years of Hajj, then it was announced to the people that the Messenger of Allah (ﷺ) was going to perform Hajj this year. Many people came to al-Madinah, all of them hoping to learn from the Messenger of Allah (ﷺ) and to do as he did. The Messenger of Allah (ﷺ) set out when there were five days left of Dhul-Qa`dah, and we set out with him,: Jabir said; "And the Messenger of Allah was among us; the Qur'an was being revealed to him, and he knew what it meant. Whatever he did based on it (the Qur'an), we did, and we set out with no intention other than Hajj
ابو جعفر محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک مدینہ میں رہے پھر لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ امسال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں، تو بہت سارے لوگ مدینہ آ گئے، سب یہ چاہتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں اور وہی کریں جو آپ کرتے ہیں۔ تو جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے آپ پر قرآن اتر رہا تھا اور آپ اس کی تاویل ( تفسیر ) جانتے تھے اور جو چیز بھی آپ نے کی ہم نے بھی کی۔ چنانچہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ حِجَجٍ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجِّ هَذَا الْعَامِ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيَفْعَلُ مَا يَفْعَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ قَالَ جَابِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَىْءٍ عَمِلْنَا فَخَرَجْنَا لاَ نَنْوِي إِلاَّ الْحَجَّ .
#2741
Sahih
It was narrated that 'Aishah said:"We set out with no intention other than Hajj. And when we were in Sarif, my menses came. The Messenger of Allah entered upon me while I was weeping, and he said: 'Have your menses come?' I said; 'Yes.' He said; 'That is something that Allah, the Mightily and Sublime, has decreed for the daughters of Adam. Do everything that the pilgrim in Ihram does, but do not circumambulate the House
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: ”کیا تجھے حیض آ گیا ہے“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں ( عورتوں ) پر لکھ دی ہے، تم وہ سب کام کرو جو احرام باندھنے والے کرتے ہیں، البتہ بیت اللہ طواف نہ کرنا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا لاَ نَنْوِي إِلاَّ الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ " أَحِضْتِ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " إِنَّ هَذَا شَىْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْمُحْرِمُ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " .
#2742
Sahih
Abu Musa said:"I came from Yemen and the Prophet had stopped in Al-Batha at the time to Hajj. He asked: 'Have you performed Hajj?' I said: 'Yes, He said: 'What did you say?' I said; 'Labbaika bi ihlal ka ihlal in-nabiy (Here I am (O Allah, entering Ihram for that for which the Prophet entered Ihram). He said 'Circumambulate the House and (perform Sa) between As-Safa and Al-Marwah, and exit Ihram.' Then I went to a woman who combed my hair. I started to issue Fatwas to the people based on that. Then during the Khilafah of 'Umar, a man said to me: 'O abu Musa, withhold some of our Fatwas from us, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced into the rites after you.''' Abu Musa said: "O people, O people, whoever heard our Fatwa,let him not rush to follow it, for the Commander of the Believers is coming to your and you should follow him.: 'Umar said: "If we follow the Book of Allah, then indeed He commands us to complete Hajj and 'Umrah, and the Messenger of Allah did not exit Ihram until the Hadi had reached its place
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں یمن سے آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جہاں کہ آپ نے حج کیا تھا اونٹ بٹھائے ہوئے تھے، آپ نے ( مجھ سے ) پوچھا: ”کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”تم نے کیسے کہا؟“ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا: «لبيك بإهلال كإهلال النبي صلى اللہ عليه وسلم» ”میں حاضر ہوں اس تلبیہ کے ساتھ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے“ آپ نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف کر لو، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لو، پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ“، میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ تو میں اسی کے مطابق لوگوں کو فتویٰ دینے لگا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مجھ سے ایک شخص کہنے لگا: ابوموسیٰ! تم اپنے بعض فتوے دینے بند کر دو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے بعد امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے۔ ( یہ سن کر ) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! جس کو بھی میں نے فتویٰ دیا ہو وہ توقف کرے کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں ( وہ جیسا بتائیں ) ان کی پیروی کرو۔ ( اور جب عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات آئی تو ) انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب ( قرآن ) کو لیں تو وہ ( حج اور عمرہ کو ) پورا کرنے کا حکم دے رہی ہے اور اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیں تو آپ کی سنت یہ رہی ہے کہ آپ نے اپنا احرام نہیں کھولا جب تک کہ ہدی اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچ گئی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلْتُ مِنَ الْيَمَنِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ حَيْثُ حَجَّ فَقَالَ " أَحَجَجْتَ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " كَيْفَ قُلْتَ " . قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَحِلَّ " . فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً فَفَلَتْ رَأْسِي فَجَعَلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ حَتَّى كَانَ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا مُوسَى رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ . قَالَ أَبُو مُوسَى يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَائْتَمُّوا بِهِ . وَقَالَ عُمَرُ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ .
#2743
Sahih
It was narrated that Ja'far bin Muhammad said:"My father told us: 'we came to Jabir bin'Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet, He told us: "Ali came from Yemen with a Hadi, and the Messenger of Allah brought a Hadi from al-Madinah. He said to ail; 'For what have you entered Ihram?' He said: I 'I said: "O Allah, I am entering Ihram for that for which the Messenger of Allah entered Ihram," and I have the Hadi with me.' He said: 'Do not exit Ihram
جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ یمن سے ہدی لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی لے کر گئے۔ آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا ہے: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے۔ اور میرے ساتھ ہدی بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو تم احرام نہ کھولو“ ( جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤ ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثَنَا أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ بِهَدْىٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ هَدْيًا قَالَ لِعَلِيٍّ " بِمَا أَهْلَلْتَ " . قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعِيَ الْهَدْىُ . قَالَ " فَلاَ تَحِلَّ " .
#2744
Sahih
Jabir said:"Ali came from collecting Zakah and the Prophet said to him: "For what have you entered Ihram, O 'Ali?' he said: 'For that for which the Messenger of Allah entered Ihram.' He said: 'Then offer the Hadi and remain in Ihram as you are.' So 'Ali offered a Hadi
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ زکاۃ کی وصولی کا کام کر کے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس چیز کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”ہدی دو اور احرام باندھے رہو جیسا کہ تم اس وقت باندھے ہو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ قَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَاهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ " . قَالَ وَأَهْدَى عَلِيٌّ لَهُ هَدْيًا .
#2745
Sahih
It was narrated that Al-Bara' said:"I was with 'Ali when the Messenger of Allah appointed him as governor of Yemen. When 'Ali came to the Messenger of Allah, 'Ali said: 'I found that Fatimah had perfumed the house with perfume.' He said: 'I tried to avoid it, and she said to me: what is the matter with you? The messenger of Allah told his Companions to exit Ihram.' He said: 'I said: I have entered Ihram for that for which the Prophet entered Ihram."" He said: 'So I went to the Prophet and he said to me: "What did you do?" I said: "I entered Ihram for that for which you entered Ihram." He said: "I have brought the Hadi and am performing Qiran
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا گورنر ( امیر ) بنایا تو مجھے ان کے ساتھ کئی اوقیے ملے جب علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، میں نے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے گھر میں خوشبو پھیلا رکھی ہے، تو میں گھر سے نکل کر باہر آ گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے احرام کھول دیا، میں نے کہا: میں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے پوچھا: ”تو تم نے کیسے کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نے آپ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے“۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْيَمَنِ فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِيَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ عَلِيٌّ وَجَدْتُ فَاطِمَةَ قَدْ نَضَحَتِ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ قَالَ فَتَخَطَّيْتُهُ فَقَالَتْ لِي مَا لَكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي " كَيْفَ صَنَعْتَ " . قُلْتُ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ . قَالَ " فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْىَ وَقَرَنْتُ " .
#2746
Sahih
It was narrated from Nafi that:Ibn 'Umar wanted to perform Hajj in the year when Al-Hajjaj was besieging Ibn Az-Zubair, and it was said to him: "It seems that there will be fighting between them, and I am afraid that you will prevented from performing Hajj." He said: "In the messenger of Allah you have a good example. I am going to do what the Messenger of Allah did. I bear witness to you that I have resolved to perform 'Umrah." Then he set out, and when he was in Zahir Al-Baida, he said: "Hajj and Umrah are the same thing; I bear witness to you that I have resolved to perform Hajj with my 'Umrah." And he brought along a Hadi (sacrificial animal) that he had bought in Qudaid. Then he set out and entered Ihram for them both. When he came to Makkah he circumambulated the House and (did sa'i) between As-Safa and Al-Marwah. Then he did not do any thing more than that, and he did not offer a sacrifice, or shave his head, or cut his hair; he remained in Ihram until the Day of Sacrifice. Then he slaughtered his Hadi and shaved his head, and he thought that he had completed the Tawaf of Hajj and 'Umrah in the first Tawaf. Ibn 'Umar said: "That is what the Messenger of Allah did
نافع سے روایت ہے کہ جس سال حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ ان کے درمیان جنگ ہونے والی ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ آپ کو ( حج سے ) روک دیں گے تو انہوں نے کہا: ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیش آئی تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کر لیا ہے پھر چلے، جب بیداء کے پاس پہنچے تو کہا: حج و عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، اور ہدی بھی ساتھ لے لی جسے قدید میں خریدا تھا پھر کچھ راستے دونوں ( حج و عمرہ ) کا تلبیہ پکارتے ہوئے چلے یہاں تک کہ مکہ آ گئے، تو بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی اس سے زیادہ کچھ نہ کیا، نہ قربانی کی، نہ سر منڈایا، نہ بال کتروائے، اور نہ ان چیزوں سے حلال ہوئے جو اس کی وجہ سے ان پر حرام ہوئی تھیں یہاں تک کہ جب ذی الحجہ کی دسویں تاریخ آئی تو انہوں نے نحر کیا ( قربانی کیا ) سر منڈوایا اور یہ خیال کیا کہ پہلے ہی طواف سے حج و عمرہ دونوں کا طواف ہو گیا ہے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ . قَالَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ إِذًا أَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أُ��ْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً . ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي . وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ فَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الأَوَّلِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2747
Sahih
It was narrated that Ibn Shihab said:"Salim told me that his father said: "I heard the Messenger of Allah say the Talbiyah: "Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika La sharika laka Labbaik. Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner)." 'Abdullah bin 'Umar used to say: "The Messenger of Allah used to pray two Rak'ahs in Dhul-Hulaifah, then when his she-camel stood up straight with him at the Masjid of Dhul-Hulaifah, he would enter Ihram saying these words
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پکارتے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں اے رب! حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک و ساجھی دار نہیں، حاضر ہوں میں، تمام تعریفیں تجھی کو سزاوار ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی عطا کردہ ہیں، تیری ہی سلطنت ہے، تیرا کوئی ساجھی و شریک نہیں“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر جب اونٹنی آپ کو مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لے کر پوری طرح کھڑی ہوئی تو آپ نے ان کلمات کو بلند آواز سے کہا۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ إِنَّ سَالِمًا أَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَاهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ يَقُولُ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ " . وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ .
#2748
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Prophet used to say:"Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدًا، وَأَبَا، بَكْرٍ ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ " .
#2749
Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:"The Talbiyah of the Messenger of Allah was: "Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ " .
#2750
Sahih
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Umar that his father said:"The Talbiyah of the Messenger of Allah was: "Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner)." And Ibn 'Umar added: "Labbaika Labbaika wasa'daika wal-khayr fi yadika, warraghba' ilaika wal-'aml (Here I am, here I am, and at Your service; all good is in Your hands, seeking Your pleasure and striving for Your sake)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یوں تھا: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» اور اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اتنا اضافہ کیا ہے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك والرغباء إليك والعمل» یعنی ”میں حاضر ہوں، تیری خدمت میں، میری سعادت ہے تیرے پاس آنے میں، بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، رغبت تیری ہی طرف ہے، اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ " . وَزَادَ فِيهِ ابْنُ عُمَرَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ .