#2526
Sahih
It was narrated from 'Abudullah bin Hubshi Al-Khath 'ami that the Prophet was asked:"Which deed is best?" He said: "Faith in which there is no doubt, Jihad in which there is no stealing of the spoils of war, and Hjijatun Mabrurah."[1] It was said: "Which prayer is best? He said:"That in which there is ling Qunut (standing)." It was said: "Which charity is best?" He said: "The poor's night." It was said: "Which Hijrah (emigration) is best?" He said: "One who shuns (Hahara) that which Allah has forbidden." It was said: "One who strives against the idolaters with his life and his wealth. "It was said: "Which death is best?" He said: "One who sheds his blood while his horse's feet are cut with swords
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے کام افضل ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا ایمان جس میں شبہ نہ ہو، جہاد جس میں خیانت نہ ہو، اور حج مبرور“، پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”لمبے قیام والی نماز“، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ صدقہ جو کم مال والا اپنی محنت کی کمائی سے دے“، پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایسی ہجرت جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے“، پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے، آپ نے فرمایا: ”اس شخص کا جہاد جو مشرکین سے اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرے“، پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس میں آدمی کا خون بہا دیا گیا ہو، اور اس کا گھوڑا ہلاک کر دیا گیا ہو“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ " إِيمَانٌ لاَ شَكَّ فِيهِ وَجِهَادٌ لاَ غُلُولَ فِيهِ وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ " . قِيلَ فَأَىُّ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ قَالَ " طُولُ الْقُنُوتِ " . قِيلَ فَأَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ " جَهْدُ الْمُقِلِّ " . قِيلَ فَأَىُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ " مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . قِيلَ فَأَىُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ " مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ " . قِيلَ فَأَىُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ قَالَ " مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ " .
#2527
Hasan
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"A Dirham surpassed a hundred thousand Dirhams." They said: "How?" He said: "A man had two Dirhams and gave one in charity, and another man went part of his wealth and took out a hundred thousand Dirhams and gave them in charity
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ گیا“، لوگوں نے ( حیرت سے ) پوچھا: یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دو درہم تھے، ان دو میں سے اس نے ایک صدقہ کر دیا، اور دوسرا شخص اپنی دولت ( کے انبار کے ) ایک گوشے کی طرف گیا اور اس ( ڈھیر ) میں سے ایک لاکھ درہم لیا، اور اسے صدقہ کر دیا“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَالْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ " . قَالُوا وَكَيْفَ قَالَ " كَانَ لِرَجُلٍ دِرْهَمَانِ تَصَدَّقَ بِأَحَدِهِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُرْضِ مَالِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا " .
#2528
Hasan
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'A Dirham was better than a hundred thousand Dirhams.' They said: 'O Messenger of Allah, how?' He said: 'A man had two Dirhams and gave one in charity, and another man went to part of his wealth and took out a hundred thousand Dirhams and gave them in charity
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم ایک لاکھ درہم سے آگے نکل گیا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دو درہم ہیں، اس نے ان دونوں میں سے ایک لیا اور اسے صدقہ کر دیا۔ دوسرا وہ آدمی ہے جس کے پاس بہت زیادہ مال ہے، اس نے اپنے مال ( خزانے ) کے ایک کنارے سے ایک لاکھ درہم نکالے، اور انہیں صدقہ میں دیدے“۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ قَالَ " رَجُلٌ لَهُ دِرْهَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ وَرَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَخَذَ مِنْ عُرْضِ مَالِهِ مِائَةَ أَلْفٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا " .
#2529
Sahih
It was narrated that Abu Mas'ud said:"The Messenger of Allah used to tell us to give in charity, and one of us could not find anything to give until he went to the market place and hired himself out to carry loads for people. Then he would bring a Mudd and give it to the Messenger of Allah. I know a man who has a hundred thousand now, but on that day he had (only) one Dirham
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تھے، اور ہم میں بعض ایسے ہوتے تھے جن کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ وہ بازار جاتا اور اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتا، اور ایک مد لے کر آتا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتا۔ میں آج ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کے پاس ایک لاکھ درہم ہے، اور اس وقت اس کے پاس ایک درہم بھی نہ تھا۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ فَمَا يَجِدُ أَحَدُنَا شَيْئًا يَتَصَدَّقُ بِهِ حَتَّى يَنْطَلِقَ إِلَى السُّوقِ فَيَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَجِيءَ بِالْمُدِّ فَيُعْطِيَهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي لأَعْرِفُ الْيَوْمَ رَجُلاً لَهُ مِائَةُ أَلْفٍ مَا كَانَ لَهُ يَوْمَئِذٍ دِرْهَمٌ .
#2530
Sahih
It was narrated that Abu Mas 'ud said:"When the Messenger of Allah commanded us to give in charity, Abu 'Aqil give half a Sa', and another man brought much more than that. The hypocrites said: 'Allah has no need of the charity of the former, and the latter only did it to show off. Then the following was revealed: 'Those who defame such of the believers who give charity voluntarily, and such who could not find to give charity except what is available to them
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا تو ابوعقیل رضی اللہ عنہ نے آدھا صاع صدقہ دیا، اور ایک اور شخص اس سے زیادہ لے کر آیا، تو منافقین اس ( پہلے شخص ) کے صدقہ کے بارے میں کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ایسے صدقے سے بے نیاز ہے، اور اس دوسرے نے محض دکھاوے کے لیے دیا ہے، تو ( اس موقع پر ) آیت کریمہ: «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم» ”جو لوگ دل کھول کر خیرات کرنے والے مومنین پر اور ان لوگوں پر جو صرف اپنی محنت و مزدوری سے حاصل کر کے صدقہ دیتے ہیں طعن زنی کرتے ہیں“ ( التوبہ: ۷۹ ) نازل ہوئی۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ لَمَّا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالصَّدَقَةِ فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَىْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الآخَرُ إِلاَّ رِيَاءً فَنَزَلَتِ { الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ } .
#2531
Sahih
Sa'eed and 'Urwah narrated that they heard Hakim bin Hizam say:"I asked the Messenger of Allah and he gave me, then I asked him and he gave me, then I asked him and he gave me. Then he said: "This wealth is attractive and sweet. Whoever takes it without insisting, it will be blessed for him, and whoever takes it with avarice, it will not be blessed for him. He is like one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا پھر آپ نے دیا، پھر مانگا، تو فرمایا: ”یہ مال سرسبز و شیریں چیز ہے، جو شخص اسے فیاضی نفس کے ساتھ لے گا تو اس میں برکت دی جائے گی، اور جو شخص اسے حرص و طمع کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہ ملے گی، اور اس شخص کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے مگر آسودہ نہیں ہوتا ( یعنی مانگنے والے کا پیٹ نہیں بھرتا ) ۔ اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، وَعُرْوَةُ، سَمِعَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
#2532
Sahih
It was narrated that Tariq Al-Muharibi said:"We came to Al-Madinah and the Messenger of Allah was standing on the Minbar addressing the people and saying: 'The hand which gives is the upper hand. Start with those for whom you are responsible; your mother, your father, your sister, your brother, then the next closest, and the next closet
طارق محاربی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے ہیں آپ فرما رہے ہیں: دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہے، اور پہلے انہیں دو جن کی کفالت و نگہداشت کی ذمہ داری تم پر ہو: پہلے اپنی ماں کو، پھر اپنے باپ کو، پھر اپنی بہن کو، پھر اپنے بھائی کو، پھر اپنے قریبی کو، پھر اس کے بعد کے قریبی کو۔ یہ حدیث ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ - عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " . مُخْتَصَرٌ .
#2533
Sahih
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that:the Messenger of Allah said, when mentioning charity and those who refrain from asking. "The upper hand is better than the lower hand; the upper hand is that which gives and the lower hand is that which asks
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اس وقت آپ صدقہ و خیرات اور مانگنے سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے ) : اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالْيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ " .
#2534
Hasan Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"The best of charity is that which is given when you are self-sufficient, and the upper hand is better than the lower hand, and start with those for whom you are responsible
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر صدقہ وہ ہے جو مالداری کی برقراری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے۔ اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی کفالت و نگرانی تمہارے ذمہ ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
#2535
Hasan Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Give charity.' A man said: 'O Messenger of Allah, I have a Dinar.' He said: 'Spend it on yourself.' He said: 'I have another.' He said: 'Spend it on your wife.' He said: 'I have another.' He said: 'Spend it on your son.' He said: 'I have another.' He said: 'Spend it on your servant.' He said: 'I have another.' He said: 'You know best (what to do with it)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دو“، ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے اپنی ذات پر صدقہ کرو“ ۱؎ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اپنی بیوی پر صدقہ کرو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنے بیٹے پر صدقہ کرو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے خادم پر صدقہ کر دو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: آپ بہتر سمجھنے والے ہیں ( جیسی ضرورت سمجھو ویسا کرو“ ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَدَّقُوا " . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي دِينَارٌ . قَالَ " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ " . قَالَ عِنْدِي آخَرُ . قَالَ " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ " . قَالَ عِنْدِي آخَرُ . قَالَ " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ " . قَالَ عِنْدِي آخَرُ . قَالَ " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ " . قَالَ عِنْدِي آخَرُ . قَالَ " أَنْتَ أَبْصَرُ " .
#2536
Hasan Isnaad
It was narrated from Abu Sa'eed that:a man entered the Msjid on a Friday when the Messenger of Allah was delivering the Khutbah, and he said: "Pray two Rak'ahs." Then he came on the following Friday, when the Prophet was delivering the Khutbah and he said: "Pray two Rak'ahs." Then he came on the third Friday, when the Prophet was delivering Khutbah and he said: "Pray two Rak'ahs." Then he said: "Give in charity." So they gave in charity, and he gave him (that man) two garments. Then he said: "Give in charity" and (that man) threw one of his two garments. The Messenger of Allah said: "Have you not seen this man? He entered the Masjid in scruffy clothes and I hoped that you would notice him, and give charity to him, but you did not do that, So I said, 'Give in charity.' You gave in charity, and I gave him two garments, then I said; 'Give in charity' and he threw one of his two garments. Take your garment." And he rebuked him
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”تم دو رکعتیں پڑھو“، پھر وہ شخص دوسرے جمعہ کو بھی آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”تم دو رکعتیں پڑھو“، پھر وہ تیسرے جمعہ کو ( بھی ) آیا، آپ نے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھو“، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”صدقہ دو“، تو لوگوں نے صدقہ دیا، تو آپ نے اس شخص کو دو کپڑے دئیے، پھر آپ نے پھر فرمایا: ”لوگو صدقہ دو“، تو اس شخص نے اپنے ان دونوں کپڑوں میں سے ایک کو آپ کے سامنے ڈال دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے اس شخص کو نہیں دیکھا؟ یہ خستہ حالت میں مسجد میں آیا، میں نے امید کی کہ تم لوگ اسے دیکھ کر اس کی خستہ حالی کو تاڑ لو گے اور اسے صدقہ دو گے، لیکن تم لوگوں نے ایسا نہیں کیا، تو مجھ ہی کو کہنا پڑا کہ تم صدقہ دو، تو تم لوگوں نے صدقہ دیا تو میں نے اسے دو کپڑے دئیے، پھر لوگوں سے کہا: ”صدقہ دو“، تو اس نے ان کپڑوں میں سے ( جو ہم نے اسے دیے تھے ) ایک ( ہمارے آگے ) ڈال دیا، ( ارے بیوقوف ) تم اپنا کپڑا لے لو، آپ نے اسے ڈانٹا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " . ثُمَّ جَاءَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " . ثُمَّ جَاءَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " . ثُمَّ قَالَ " تَصَدَّقُوا " . فَتَصَدَّقُوا فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ ثُمَّ قَالَ " تَصَدَّقُوا " . فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا إِنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطُنُوا لَهُ فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَلَمْ تَفْعَلُوا فَقُلْتُ تَصَدَّقُوا . فَتَصَدَّقْتُمْ فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ ثُمَّ قُلْتُ تَصَدَّقُوا . فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ خُذْ ثَوْبَكَ " . وَانْتَهَرَهُ .
#2537
Sahih
Narrated:'Umair, the freed slave of commanded me to cut up some meat, then a poor man came so I gave him some. When my master fund out about that, he beat me, so I went to the Messenger of Allah and he came to him and said: 'Do not beat him.' He said: 'He gave away my food without me telling him to.' He said: 'The reward will be shared between you both
عمیر مولی آبی اللحم کہتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھے گوشت بھوننے کا حکم دیا، اتنے میں ایک مسکین آیا، میں نے اس میں سے تھوڑا سا اسے کھلا دیا، میرے مالک کو اس بات کی خبر ہو گئی تو اس نے مجھے مارا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے اسے بلوایا اور پوچھا: تم نے اسے کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا کھانا ( دوسروں کو ) بغیر اس کے کہ میں اسے حکم دوں کھلا دیتا ہے۔ اور دوسری بار راوی نے کہا: بغیر میرے حکم کے کھلا دیتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس کا ثواب تم دونوں ہی کو ملے گا“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ أَمَرَنِي مَوْلاَىَ أَنْ أُقَدِّدَ، لَحْمًا فَجَاءَ مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلاَىَ فَضَرَبَنِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَاهُ فَقَالَ " لِمَ ضَرَبْتَهُ " . فَقَالَ يُطْعِمُ طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى بِغَيْرِ أَمْرِي قَالَ " الأَجْرُ بَيْنَكُمَا " .
#2538
Sahih
It was narrated from Abu Musa that the Prophet said:"Every Muslim must give charity." It was said: "What if he cannot find (anything to give)? "He said: "Let him work with his hands and benefit himself and give in charity." It was said: "What if he cannot do that?" He said: "Let him help someone who is in desperate need." It was said: "What if he cannot do that?" He said: "Let him enjoin good." It was said: "What if he cannot do that? He said: "Let him refrain from doing evil, for that is an act of charity
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر صدقہ ہے“، عرض کیا گیا: اگر کسی کو ایسی چیز نہ ہو جسے صدقہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے ہاتھوں سے کام کرے اور اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے، اور صدقہ کرے“، کہا گیا: اگر ایسا بھی نہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا: ”محتاج و پریشان حال کی مدد کرے“، کہا گیا: اگر ایسا بھی نہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا: ”بھلائی اور نیک باتوں کا حکم کرے“، کہا گیا: اگر یہ بھی نہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا: ”برائیوں سے باز رہے“، یہ بھی ایک صدقہ ہے۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ " . قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْهَا قَالَ " يَعْتَمِلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ " . قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ " يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ " . قِيلَ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ " يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ " . قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ " يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ " .
#2539
Sahih
It was narrated from 'Aishah that the Prophet said:"When a woman give charity from her husband's house, she will have a reward, and her husband will have a similar reward, and the storekeeper will have a similar reward, without the reward of any of them detracting from the reward of the others in the slightest. The husband will be rewarded for what he earned and she will be rewarded for what she spent
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دے تو اسے ثواب ملے گا، اور اس کے شوہر کو بھی۔ اور خازن کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا، اور ان میں سے کوئی دوسرے کا ثواب کم نہ کرے گا، شوہر کو اس کے کمانے کی وجہ سے ثواب ملے گا، اور بیوی کو اس کے خرچ کرنے کی وجہ سے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا كَانَ لَهَا أَجْرٌ وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلاَ يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا لِلزَّوْجِ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ " .
#2540
Hasan Sahih
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"When the Messenger of Allah conquered Makkah, he stood up to address the people and said in his Khutbah; 'It is not permissible for a woman to give anything without her husband's permission."' (He narrated it) in abridged from
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا، تو تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے ( منجملہ اور باتوں کے ) اپنی تقریر میں فرمایا: ”کسی عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں“، یہ حدیث مختصر ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ " لاَ يَجُوزُ لاِمْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا " . مُخْتَصَرٌ .
#2541
Sahih
It was narrated from 'Aishah, may Allah be pleased with her, that the wives of the Prophet "gathered around him and said:"Which of us will be the first to following you (in death)?" He said: "The one of you who has the longest arms." They took a stick and started to measure their arms. But Sawdah was the first one to follow him. She was the one who had the longest arms, because she used to give in charity a great deal
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محترم بیویاں ( ازواج مطہرات ) آپ کے پاس اکٹھا ہوئیں، اور پوچھنے لگیں کہ ہم میں کون آپ سے پہلے ملے گی؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سب سے لمبے ہاتھ والی“، ازواج مطہرات ایک بانس کی کھپچی لے کر ایک دوسرے کا ہاتھ ناپنے لگیں، تو وہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا تھیں جو سب سے پہلے آپ سے ملیں، وہی سب میں لمبے ہاتھ والی تھیں، یہ ان کے بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے کی وجہ سے تھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ أَزْوَاجَ، النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اجْتَمَعْنَ عِنْدَهُ فَقُلْنَ أَيَّتُنَا بِكَ أَسْرَعُ لُحُوقًا فَقَالَ " أَطْوَلُكُنَّ يَدًا " . فَأَخَذْنَ قَصَبَةً فَجَعَلْنَ يَذْرَعْنَهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَسْرَعَهُنَّ بِهِ لُحُوقًا فَكَانَتْ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا فَكَانَ ذَلِكَ مِنْ كَثْرَةِ الصَّدَقَةِ .
#2542
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man said: 'O Messenger of Allah, which kind of charity is best? He said: 'Giving charity when you are in good health, and feeling stingy, hoping for a long life and fearing poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا اس وقت کا صدقہ دینا افضل ہے جب تم تندرست ہو اور تمہیں دولت کی حرص ہو اور تم عیش و راحت کی آرزو رکھتے ہو اور محتاجی سے ڈرتے ہو۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ " .
#2543
Sahih
Hakim bin Hizam said:"The Messenger of Allah said: "The best kind of charity is that which is given when you are rich, and the upper hand is better than the lower hand, and start with those for whom you are responsible
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو ( یعنی مالداری باقی رکھتے ہوئے ہو ) ، اور اوپر والا ہاتھ ( دینے والا ہاتھ ) نیچے والے ہاتھ ( لینے والا ہاتھ ) سے بہتر ہے، اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی تم کفالت کرتے ہو“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، حَدَّثَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
#2544
Sahih
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: "The best of charity is that which is given when you are self-sufficient, and start with those for whom you are responsible
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو ۱؎، اور ان سے شروع کرو جن کی کفالت تمہارے ذمہ ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
#2545
Sahih
It was narrated from Abu Mas'ud that the Prophet said:"When a man spends on his family, seeking reward for that, that is an act of charity on his part
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی پر خرچ کرے اور اس سے ثواب کی امید رکھتا ہو تو یہ اس کے لیے صدقہ ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً " .
#2546
Sahih
It was narrated that Jabir said:"A man from Banu 'Udhrah declared that a slave of his would become free after he died. News of that reached the Messenger of Allah and he said: 'Do you have any property besides him?' He said: 'No.' The Messenger of Allah said: 'Who will buy him from me?' Nu'aim bin 'Abdullah Al-Adawi bought him for eight hundred Dirhams. The Messenger of Allah brought it (the money) and gave it to him, then he said: 'Start with yourself and if there is anything left, give it to our family. If there is anything left after your family (has been taken care of), then give it to your relatives. If there is anything left after your relatives (have been taken care of), then (give it) to such and such, saying: 'In front of you and to your right and to your left."' (Shih)
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا ۱؎، یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس شخص سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس غلام کے علاوہ بھی کوئی مال ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مجھ سے کون خرید رہا ہے؟“ تو نعیم بن عبداللہ عدوی نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان درہموں کو لے کر آئے اور انہیں اس کے حوالہ کر دیا، اور فرمایا: ”پہلے خود سے شروع کرو اسے اپنے اوپر صدقہ کرو اگر کچھ بچ رہے تو تمہاری بیوی کے لیے ہے، اور اگر تمہاری بیوی سے بھی بچ رہے تو تمہارے قرابت داروں کے لیے ہے، اور اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی بچ رہے تو اس طرح اور اس طرح کرو، اور آپ اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کر رہے تھے“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ " . قَالَ لاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي " . فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَجَاءَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَىْءٌ فَلأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ شَىْءٌ عَنْ أَهْلِكَ فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَىْءٌ فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ " .
#2547
Sahih
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: "The parable of the one who spends and give in charity, and the one who is miserly, is that of two men wearing coats of mail, with their hands pressed closely to their breasts and their collarbones. When the one who spends wants to give charity, the (coat of mail) expends so much that it covers his fingertips and obliterates his traces. But when the miser wants to give, the (coat of mail) contracts and every ring grips the place where it is, and his hands are tied up to his collarbone."' Abu Hurairah says: 'I swear that he saw the Messenger trying to expand it but it did not." Tawus said: "I heard Abu Hurairah said: "I heard Abu Hurairah illustrating with his hand trying to expand it but it did not." (Sahaih)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرنے والے فیاض اور بخیل کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن پر لوہے کے دو کرتے یا دو ڈھال ان دونوں کی چھاتیوں سے لے کر ان کی ہنسلی کی ہڈیوں تک ہوں، جب فیاض خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ اس کے بدن پر کشادہ ہو جاتی ہے، پھیل کر اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے، اور اس کے نشان قدم کو مٹا دیتی ہے، اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے اور اس کی کڑیاں اپنی جگ ہوں پر چمٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ اس کی ہنسلی یا اس کی گردن پکڑ لیتی ہے“۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسے کشادہ کر رہے تھے، اور وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔ طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ آپ اپنے ہاتھ سے کشادہ کرنے کے لیے اشارہ کر رہے تھے، اور وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مَثَلَ الْمُنْفِقِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِيلِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ أَوْ مَرَّتْ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ وَلَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا حَتَّى أَخَذَتْهُ بِتَرْقُوَتِهِ أَوْ بِرَقَبَتِهِ " . يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُوَسِّعُهَا فَلاَ تَتَّسِعُ . قَالَ طَاوُسٌ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِيَدِهِ وَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلاَ تَتَوَسَّعُ .
#2548
Sahih
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"The parable of the miser and the one who gives in charity is that of two men wearing coats of mail with their hands tied to their collarbones. Every time the one who gives thinks of giving in charity, the (coat of mail) expands until it obliterates his traces, and every time the miser thinks of giving charity, every circle (of the coat of mail) contracts and sticks to him, and his hand is tied up to his collarbones." I heard the Messenger of Allah say: "He tries to expand it, but he cannot
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخیل اور صدقہ دینے والے ( سخی ) کی مثال ان دو شخصوں کی ہے جن پر لوہے کی زرہیں ہوں، اور ان کے ہاتھ ان کی ہنسلیوں کے ساتھ چمٹا دیئے گئے ہوں، تو جب جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ اس کے لیے وسیع و کشادہ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اتنی بڑی ہو جاتی ہے کہ چلتے وقت اس کے پیر کے نشانات کو مٹا دیتی ہے، اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ہر کڑی دوسرے کے ساتھ پیوست ہو جاتی اور سکڑ جاتی ہے، اور اس کے ہاتھ اس کی ہنسلی سے مل جاتے ہیں“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”وہ ( بخیل ) کوشش کرتا ہے کہ اسے کشادہ کرے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطَرَّتْ أَيْدِيَهُمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ تَقَبَّضَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ إِلَى صَاحِبَتِهَا وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَى تَرَاقِيهِ " . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " فَيَجْتَهِدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلاَ تَتَّسِعُ " .
#2549
Hasan
It was narrated that Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said:"One day we were sitting in the Masjid with a group of the Muhajirin and Ansar, We sent a man to 'Aishah to ask permission to come to her. She said: 'A beggar came in to me one day when the Messenger of Allah was present, and I ordered that he be given something, then I called for it and looked at it. The Messenger of Allah said: Do you want that nothing should enter or leave your house without your knowledge? I said: 'Yes.' He said: "Don't be hasty, O 'Aishah. Do not count what you give, otherwise Allah will count what He gives to you
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ کچھ مہاجرین و انصار بھی تھے، ہم نے ایک شخص کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھیجا، ( انہوں نے اجازت دے دی، ہم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا: ایک بار میرے پاس ایک مانگنے والا آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ( خادمہ کو ) اسے کچھ دینے کا حکم دیا، پھر میں نے اسے بلایا اسے دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ چاہتی ہیں کہ بغیر آپ کے علم میں آئے تمہارے گھر میں کچھ نہ آئے اور تمہارے گھر سے کچھ نہ جائے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! ٹھہر جاؤ، گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں بھی گن کر دے“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ كُنَّا يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسًا وَنَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فَأَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَى عَائِشَةَ لِيَسْتَأْذِنَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ سَائِلٌ مَرَّةً وَعِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرْتُ لَهُ بِشَىْءٍ ثُمَّ دَعَوْتُ بِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا تُرِيدِينَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ بَيْتَكِ شَىْءٌ وَلاَ يَخْرُجَ إِلاَّ بِعِلْمِكِ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " مَهْلاً يَا عَائِشَةُ لاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ " .
#2550
Sahih
It was narrated from Asma' bint Abi Bakr that the Prophet said to her:"Do not count what you give, otherwise Allah, the Mighty and Sublime, will count what He gives to you
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں گن کر دے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا " لاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ " .