العربية
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ " مَا شَأْنُ هَذَا " . فَقِيلَ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ . فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا " . فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ .
English
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah came to a man who was being supported by two others and said: 'What is the matter with him?' It was said: 'He vowed to walk to the Ka'bah.' He said: 'Allah does not benefit from his torturing himself.' And he told him to ride اردو
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ عرض کیا گیا: اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔