العربية
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ طَاوُسٍ، لَعَلَّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لاَ رُقْبَى فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ .
English
Zakariyya bin Yahya informed us, he said:"Abdul-Jabbar bin Al-'Ala' narrated to us, he said: 'Sufyan narrated to us from Ibn Abi Najih, from Tawus, and perhaps it is from Ibn 'Abbas, who said: There is no Ruqba, and whoever gives a gift on the basis of Ruqba, it is part of his estate اردو
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ ( مصلحتاً جائز ) نہیں ہے ( لیکن اگر کسی نے کر دیا ہے ) تو جسے رقبیٰ کیا گیا ہے اس کے ورثاء کو میراث میں ملے گا، دینے والے کو واپس نہ ہو گا۔