Sunan an-Nasai

Hadith #3533

العربية
وَقَالَتْ زَيْنَبُ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا أَفَأَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلاَ شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَىْءٍ إِلاَّ مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا وَتُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ تَفْتَضُّ تَمْسَحُ بِهِ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الْحِفْشُ الْخُصُّ ‏.‏
English
Zainab said:"I heard Umm Salamah say: 'A woman came to the Messenger of Allah and said: O Messenger of Allah, my daughter's husband has died and she has a problem in her eye; can I put kohl on her? The Messenger of Allah said: No. Then he said: It is four months and ten days. During the Jahiliyyah one of you would throw a piece of dung at the end of the year.'" Humaid said: "I said to Zainab: 'What is this throwing a piece of dung at the end of the year?' She said: 'If a woman's husband died, she would enter a small room (Hifsh) and wear her worst clothes, and she would not put on perfume or anything until a year. Then an animal would be brought, a donkey or sheep or bird, and she would end her 'Iddah with it (clean herself with it), and usually any animal used for that purpose would die. Then she would come out and would be given a piece of dung which she would throw, then she would go back to whatever she wanted of perfume, etc.'" In the narration of Muhammad (bin Salamah) Malik said: Hifsh means hut
اردو
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ ( آنے والی ) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس ( تعزیت میں ) گئی، ( میں نے دیکھا کہ ) انہوں نے خوشبو منگوائی، ( پہلے ) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت اور خواہش نہ تھی مگر ( میں نے یہ بتانے کے لیے لگائی ہے کہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے انتقال کرنے پر، کہ اس پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ( اس لیے میں اپنے والد کے مر جانے پر تین دن کے بعد سوگ نہیں منا رہی ہوں ) ۔ ۲- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ) کہتی ہیں: جب ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی کا انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے خود لگایا پھر ( مسئلہ بتانے کے لیے ) کہا: قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ( و اعلان کرتے ) ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ۳- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ ) کہتی ہیں: میں نے ( ام المؤمنین ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر انتقال کر گیا ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”ارے یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں ( جاہلیت میں کیا ہوتا تھا وہ بھی دھیان میں رہے ) زمانہ جاہلیت میں تمہاری ( بیوہ ) عورت ( سوگ کا ) سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا عورت کا شوہر جب انتقال کر جاتا تھا تو اس کی بیوی تنگ و تاریک جگہ ( چھوٹی کوٹھری ) میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی چیز کو ہاتھ لگاتی۔ ( سال پورا ہو جانے کے بعد ) پھر کوئی جانور گدھا، بکری یا چڑیا اس کے پاس لائی جاتی اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے بھی وہ رگڑتی ( دبوچتی ) وہ ( مر کر ہی چھٹی پاتا ) مر جاتا، پھر وہ اس تنگ تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی ( اس طرح وہ گویا اپنی نحوست دور کرتی ) ، اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ جو چاہے استعمال کی اجازت ملتی۔ مالک کہتے ہیں: «تفتض» کا مطلب «تمسح به» کے ہیں ( یعنی اس سے رگڑتی ) ۔ محمد بن سلمہ مالک کہتے ہیں: «حفش»،‏‏‏‏ «خص» کو کہتے ہیں ( یعنی بانس یا لکڑی کا جھونپڑا ) ۔

Find a Hadith