العربية
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبًا، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَالَ فِيهِ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِينِي وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ . فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ بَلِ اعْتَزِلْهَا وَلاَ تَقْرَبْهَا . وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَىَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ وَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا الأَمْرِ . خَالَفَهُمْ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
English
Abdur-Rahman bin 'Abdullah bin Ka'b bin Malik narrated that 'Abdullah bin Ka'b said:"I heard Ka'b narrate the Hadith about when he stayed behind and did not join the Messenger of Allah on the expedition to Tabuk. He said: 'The envoy of the Messenger of Allah came to me and said: "The Messenger of Allah commands you to keep away from your wife." I said: "Shall I divorce her, or what should I do?" He said: "No, just keep away from her and do not approach her." And he sent similar instructions to my two companions. I said to my wife: "Go to your family and stay with them until Allah, the Mighty and Sublime, decides concerning this matter اردو
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ کو اپنا اس وقت کا قصہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک میں جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے اور شریک نہ ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے ذکر کرنے کے دوران انہوں نے بتایا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی کو چھوڑ دو، میں نے ( اس سے ) کہا: میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: ( طلاق نہ دو ) بلکہ اس سے الگ رہو اس کے قریب نہ جاؤ۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ایسا ہی پیغام دے کر بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور ان لوگوں کے ساتھ رہو اور اس وقت تک رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے میں اپنا فیصلہ نہ سنا دے۔ معقل بن عبیداللہ نے ان سب کے خلاف ذکر کیا ہے ( تفصیل آگے حدیث میں آ رہی ہے ) ۔