العربية
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَالْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُولاَ لَهُ اسْتَعْمِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الصَّدَقَاتِ . فَأَتَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَالَ لَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَسْتَعْمِلُ مِنْكُمْ أَحَدًا عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَنَا " إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلاَ لآلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم " .
English
Abu Rabiah binAl-Harith said to 'Abdul-Muttalib bin Rabi'ah bin Al-Harith and Al-Fadl bin 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib:"Go to the Messenger of Allah and say to him: 'O Messenger of Allah, appoint us to collect the Sadaqat!' 'Ali bin Abi Talib came along when we were like that, and he said to them: "The Messenger of Allah will not appoint any of you to collect the Sadaqah."' 'Abdul-Muttalib said: "So I went with Al-Fadl until we came to the Messenger of Allah and he said to us: "This Zakah is the dirt of the people, and it is not permissible for Muhammad or for the family of Muhammad اردو
عبدالمطلب بن ربیعہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، اور آپ سے کہو کہ اللہ کے رسول! آپ ہمیں صدقہ پر عامل بنا دیں، ہم اسی حال میں تھے کہ علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں میں سے کسی کو بھی صدقہ پر عامل مقرر نہیں فرمائیں گے۔ عبدالمطلب کہتے ہیں: ( ان کے ایسا کہنے کے باوجود بھی ) میں اور فضل دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو آپ نے ہم سے فرمایا: ”یہ صدقہ جو ہے یہ لوگوں کا میل ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل کے لیے جائز نہیں“۔