#2425
This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ .
#2426
Amr b. al-'As reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He Is successful who has accepted Islam, who has been provided with sufficient for his want and been made contented by Allah with what He has given him
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " وہ انسان کا میاب و بامراد ہو گیا جو مسلمان ہو گیا اور اسے گزر بسر کے بقدر روزی ملی اور اللہ تعا لیٰ نے اسے جو دیا اس پر قناعت کی تو فیق بخشی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي، أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ شَرِيكٍ - عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ " .
#2427
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:O Allah, make the provision of Muhammad's family sufficient just to sustain life
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ( دعا فر ما ئی ) : " اے اللہ ! آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روزی کم سے کم کھانے جتنی کر دے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، كِلاَهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا " .
#2428
Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) distributed something. Upon this I said:Messenger of Allah, I swear by God, the others besides them were more deserving than these (to whom you gave charity). He said: They had in fact left no other alternative for me. but (that they should) either beg importunately from me or they would regard me as a miser, but I am not a miser
حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ کی قسم !ان کے علاوہ ( جنھیں آپ نے عطا فر ما یا ) دوسرے لو گ اس کے زیادہ حقدار تھے ۔ آپ نے فر ما یا : " انھوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے ( بے جا اصرار ) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنا دیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ سَلْمَانَ، بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسْمًا فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلاَءِ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ . قَالَ " إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِي فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ " .
#2429
Anas b. Malik reported:I was walking with the Messenger of Allah (ﷺ) and he had put on a mantle of Najran with a thick border. A bedouin met him and pulled the mantle so violently that I saw this violent pulling leaving marks of the border of the mantle on the skin of the neck of the Messenger of Allah (ﷺ). And he (the bedouin) said: Muhammad, issue command that I should be given out of the wealth of Allah which is at your disposal. The Messenger of Allah (ﷺ) turned his attention to him and smiled, and then ordered for him a gift (provision)
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا آپ ( کے کندھوں ) پر خاصے موٹے کنا رے کی ایک نجرانی چادرتھی اتنے میں ایک بدوی آپ کے پا س آگیا اور آپ کی چا در سے ( پکڑ کر ) آپ کو زور سے کھنچا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کی ایک جا نب کی طرف نظر کی جس پر اس کے زور سے کھنچنے کے با عث چا در کے کنا رے نے گہرا نشان ڈا ل دیا تھا پھر اس نے کہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہو ئے ہنس پڑے اور اسے کچھ دینے کا حکم دیا ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا، ح وَحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكُ، بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ . فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ .
#2430
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters. And In the hadith transmitted by Ikrima b. 'Ammir there is an addition:" He (the bedouin) pulled his (mantle) so violently that the Messenger of Allah (ﷺ) was drifted very close to the bedouin." And in the hadith transmitted by Hammam, (the words are):" He pulled it so violently that the mantle was torn and the border was left around the neck of the Messenger of Allah (ﷺ)
ہمام عکرمہ بن عماراور اوزاعی سب نے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روا یت کی ۔ عکرمہ بن عمار کی حدیث میں یہ اضافہ ہے پھر اس نے آپ کو زور سے اپنی طرف کھنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بدوی کے سینے سے جا ٹکرا ئے ۔ اور ہمام کی حدیث میں ہے اس نے آپ کے ساتھ کھنچا تا نی شروع کردی یہاں تک کہ چا در پھٹ گئی اور یہاں تک کہ اس کا کنارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں رہ گیا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ . وَفِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ مِنَ الزِّيَادَةِ قَالَ ثُمَّ جَبَذَهُ إِلَيْهِ جَبْذَةً رَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَحْرِ الأَعْرَابِيِّ . وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ فَجَاذَبَهُ حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ وَحَتَّى بَقِيَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#2431
Miswar b. Makhrama reported that the Messenger of Allah (ﷺ) distributed some cloaks but did not bestow one upon Makhrama. Upon this Makhrama said:O my son, come along with me to the Messenger of Allah (ﷺ). So I went with him. He said: Enter the house and call him (to come out) for me. So I called him and he (the Holy Prophet) came out, and there was a cloak (from those already distributed) on him. He (the Holy Prophet) said: I had kept it for you. He (Makhrama), looked at it and was pleased
لیث نے ( عبد اللہ ) بن ابی ملیکہ سے اور انھوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا ئیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کو چیز نہ دی تو مخرمہ نے کہا : میرے بیٹے !مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا ؤ تو میں ان کے ساتھ گیا انھوں نے کہا : اندر جا ؤ اور میری خاطر آپ کو بلالا ؤ میں نے ان کی خا طر آپ کو بلا یا تو آپ اس طرح اس کی طرف آئے کہ آپ ( کے کندھے ) پر ان ( قباؤں ) میں سے ایک قباء تھی آپ نے فر ما یا : " یہ میں نے تمھا رے لیے چھپا کر رکھی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر اٹھا کر فر ما یا : " مخرمہ راضی ہو گیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا بُنَىَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي . قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا فَقَالَ " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ " . قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ " رَضِيَ مَخْرَمَةُ " .
#2432
Miswar b. Makhrama reported:Some cloaks were presented to the Messenger of Allah (ﷺ). My father Makhrama said to me: Come along with me to him; perhaps we may be able to get anything out of that (stock of cloaks). My father stood at the door and began to talk. The Apostle of Allah (ﷺ) recognised him by his voice and came out and there was a cloak with him, and he was showing its beauties and saying: I kept it for you, I kept it for you
ایو ب سختیا نی نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے اور انھوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو مجھے میرے والد مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے آپ کے پاس لے چلو امید ہے آپ ہمیں بھی ان میں سے ( کو ئی قباء ) عنا یت فر ما ئیں گے ۔ میرے والد نے دروازے پر کھڑے ہو کر گفتگو کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچا ن لی ۔ آپ باہر نکلے تو قباء آپ کے ساتھ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اس کی خوبیاں دکھا رہے تھے اور فر ما رہے تھے : " میں نے یہ تمھا رے لیے چھپا کر رکھی تھی میں نے تمھا رے لیے چھپا کر رکھی تھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا . قَالَ فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَوْتَهُ فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ وَهُوَ يَقُولُ " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ " .
#2433
Sa'd reported that the Messenger of Allah (ﷺ) bestowed (some gifts) upon a group of people and I was sitting amongst them. The Messenger of Allah (ﷺ), however, left a person and he did not give him anything. and he seemed to me the most excellent among them (and thus deserved the gifts more than anyone else). So I stood up before the Messenger of Allah (ﷺ) and said to him in undertone:Messenger of Allah, what about so and so? By Allah, I find him a believer. He (the Messenger of Allah) said: He may be a Muslim. I kept quiet for a short while, and then what I knew of him urged me (to plead his case again) and I said: Messenger of Allah, what about so and so? By Allah, I find him a believer. Upon this he (the Holy Prophet) said: He may be a Muslim. I again remained quiet for a short while, and what I knew of him again urged me (to plead his case so I) said: Messenger of Allah, what about so and so? By Allah, I find him a believer. Upon this he (the Holy Prophet) said: He may be a Muslim. I often bestow (something) upon a person, whereas someone else is dearer to me than he, because of the fear that he may fall headlong into the fire. And in the hadith transmitted by Hulwani this statement was repeated twice
حسن بن علی حلوانی اور عبدبن حمید نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابرا ہیم بن سعد نے حدیث سنا ئی کہا میرے والد نے ہمیں صالح سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن شہاب سے روایت کی انھوں نے کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا جبکہ میں بھی ان میں بٹھا ہوا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اس کو نہ دیا ۔ وہ میرے لیے ان سب کی نسبت زیادہ پسندیدہ تھا میں اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور ازداری کے ساتھ آپ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا وجہ ہے آپ فلا ں سے اعراض فر ما رہے ہیں ؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مو من سمجھتا ہوں آپ نے فر ما یا : " یا مسلمان ۔ میں کچھ دیر کے لیے چپ رہا پھر جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بات مجھ پر گالب آگئی اور میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا وجہ ہے کہ فلا ں کو نہیں دے رہے ؟اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فر ما یا مسلمان ۔ " اس کے بعد میں تھوڑی دیر چپ رہا پھر جو میں اسکے بارے میں جا نتا تھا وہ بات مجھ پر غالب آگئی میں نے پھر عرض کی : فلاں سے آپ کے اعراض کا سبب کیا ہے اللہ کی قسم! میں تو اسے مو من سمجھتا ہوں آپ نے فر ما یا : " مسلما ۔ " ( پھر ) آپ نے فر ما یا : " میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوبہو تا ہے اس ڈر سے ( دیتا ہوں ) کہ وہ اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دیا جا ئے اور حلوانی کی حدیث میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فر ما ن " یا مسلمان کا ) تکرا ر دوبارہے ( تین بار نہیں ۔)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَعْدٍ أَنَّهُ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ رَجُلاً لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا . قَالَ " أَوْ مُسْلِمًا " . فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا . قَالَ " أَوْ مُسْلِمًا " . فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا . قَالَ " أَوْ مُسْلِمًا " . قَالَ " إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ . وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ " . وَفِي حَدِيثِ الْحُلْوَانِيِّ تَكْرَارُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ .
#2434
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
سفیان ثوری ابن شہاب ( زہری ) کے بھتیجے ( محمد بن عبد اللہ بن شہاب ) اور معمر سب نے ( زہری ) سے اسی سند کے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ، بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَلَى مَعْنَى حَدِيثِ صَالِحٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ .
#2435
This hadith has been narrated on the authority of Muhammad b. Sa'd through another chain of transmitters (and the words are):" The Messenger of Allah (ﷺ) struck between my neck and shoulder with his hand and said: Do you wrangle, O Sa'd, because I bestow (some gifts) upon a person?
محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں یعنی زہری مذکورہ با لا حدیث انھوں نے اپنی حدیث میں کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے در میان اپنا ہا تھ مارا اور فر ما یا : " جنگ کر رہے ہو؟ اے سعد !میں ایک شخص کو دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ( آگے اسی طرح ہے جس طرح پہلی روایت میں ہے)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ - يَعْنِي حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَا - فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ثُمَّ قَالَ " أَقِتَالاً أَىْ سَعْدُ إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ " .
#2436
Anas b. Malik reported that when on the Day of Hunain Allah conferred upon His Apostle (ﷺ) the riches of Hawazin (without armed encounter), the Messenger of Allah (ﷺ) set about distributing to some persons of Quraish one hundred camels Upon this they (the young people from the Ansar) said:May Allah grant pardon to the Messenger of Allah (ﷺ) that he bestowed (these camels) upon the people of Quraish, and he ignored us, whereas our swords are still dripping blood. Anas b. Malik said: Their statement was conveyed to the Messenger of Allah (ﷺ) and he sent (someone) to the Ansar and gathered them under a tent of leather. When they had assembled, the Messenger of Allah (ﷺ) came to them and said: What is this news that has reached me from you? The wise people of the Ansar said: Messenger of Allah, so far as the sagacious amongst us are concerned they have said nothing, but we have amongst us persons of immature age; they said: May Allah grant pardon to the Messenger of Allah (ﷺ) that he gave to the Quraish and ignored us (despite the fact) that our swords are besmeared with their blood. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: I give (at times material gifts) to persons who were quite recently in the state of unbelief, so that I may incline them to truth Don't you feel delighted that people should go with riches, and you should go back to your places with the Messenger of Allah? By Allah, that with which you would return is better than that with which they would return. They said: Yes, Messenger of Allah, we are pleased. The Prophet said too: You would find marked preference (in conferring of the material gifts) in future, so you should show patience till you meet Allah and His Messenger and I would he at the Haud Kauthar. They said: We would show patience
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ حنین کےدن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور فے ( قبیلہ ) ہوازن کے وہ اموال عطا کیے جو عطا کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو سوسو اونٹ دینے شروع کیے تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے!آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں ، حالانکہ ہماری تلواریں ( ابھی تک ) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ان کی باتوں میں سے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئیں تو آپ نے انصار کو بلوا بھیجا اور انھیں چمڑے کے ایک ( بڑے ) سائبان ( کے سائے ) میں جمع کیا ، جب وہ سب اکھٹے ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : "" یہ کیا بات ہے جو مجھے تم لوگوں کی طرف سے پہنچی ہے؟ "" انصار کے سمجھدار لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے اہل رائے تو کچھ نہیں کہا ، البتہ ہم میں سے ان لوگوں نے ، جو نو عمر ہیں ، یہ بات کہی ہے کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے ، وہ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کررہے ہیں ، حالانکہ ہماری تلواریں ( ابھی تک ) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں ان کو دے رہاہوں جو کچھ عرصہ قبل تک کفر پر تھے ، ایسے لوگوں کی تالیف قلب کرناچاہتا ہوں ، کیا تم اس پر راضی نہیں ہوکہ لوگ مال ودولت لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھروں کی طرف لوٹو؟اللہ کی قسم! جو کچھ تم لے کر واپس جارہے ہو وہ اس سے بہت بہتر ہے جسے وہ لوگ لے کر لوٹ رہے ہیں ۔ "" تو ( انصار ) کہنے لگے : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ( بالکل ) راضی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بے شک تم ( اپنی نسبت دوسروں کو ) بہت زیادہ ترجیح ملتی دیکھو گے تو تم ( اس پر ) صبرکرنا یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آملو ۔ میں حوض پرہوں گا ( وہیں ملاقات ہوگی ۔ ) "" انصار نے کہا : ہم ( ہر صورت میں صبر ) صبر کریں گے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أُنَاسًا، مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِي رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الإِبِلِ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ . قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَحُدِّثَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ قَوْلِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ " . فَقَالَ لَهُ فُقَهَاءُ الأَنْصَارِ أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالاً حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَفَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ " . فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا . قَالَ " فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ " . قَالُوا سَنَصْبِرُ .
#2437
Anas b. Malik reported that when Allah conferred upon His Messenger (ﷺ) the riches of Hawazin (without armed encounter) ; the rest of the hadith is the same except some variation (of words):" Anas said: We could not tolerate it and he also said: The people were immature in age
صالح نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، کہا : مجھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیا ن کی کہ انھوں نے کہا : جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ( قبیلہ ) ہوازن کے اموال میں سے بطور فے عطا فرمایا جو عطا فرمایا ۔ ۔ ۔ اور اس ( پچھلی حدیث کے ) مانند حدیث بیا ن کی ، اس کے سوا کہ انھوں ( صالح ) نے کہا ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم نے صبر نہ کیا ۔ اور انہوں نے ( اور ہم میں سے ان لوگوں نے جو نوعمر ہیں ، کے بجائے " نوعمر لوگوں نے " کہا ۔)
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ . وَقَالَ فَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ .
#2438
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters
ابن شہاب کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ ) نے اپنے چچا سے خبر دی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ۔ اور اسی طرح حدیث بیان کی ، سوائے اس بات کےکہ انھوں نے کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں ( انصار ) نے کہا : ہم صبر کریں گے ۔ جس طرح یونس نے زہری سے روایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ . إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالُوا نَصْبِرُ . كَرِوَايَةِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ .
#2439
Anas b. Malik reported that the Messenger of Allah (ﷺ) gathered the Ansar and said:Is there someone alien among you? They said: No, but only the son of our sister. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: The son of the sister of the people is included among the tribe, and (farther) said: The Quraish have recently abandoned Jahillyya and have just been delivered from distress; I, therefore, intend to help them and conciliate them. Don't you feel happy that the people should return with worldly riches and you return with the Messenger of Allah to your houses? (So far as my love for you is concerned I should say) if the people were to tread a valley and the Ansar tread a narraw path (in a mountain) I would tread the narrow path of the Ansar
قتادہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو جمع فرمایااور پوچھا : " کیا تم میں تمھارے سواکوئی اور بھی ہے؟ " انھوں نے جواب دیا : نہیں ، ہمارے بھانجے کے سوا کوئی اور نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قوم کا بھانجا ان میں سے ہے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قریش تھوڑے دن قبل جاہلیت اور ( گمراہی ) کی مصیبت میں تھے اور میں نے چاہا کہ ان کو ( اسلام پر ) پکا کروں اور ان کی دلجوئی کروں ، کیا توم اس پر خوش نہیں ہوگے کہ لوگ دنیاواپس لے کرجائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹو؟اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَنْصَارَ فَقَالَ " أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ " . فَقَالُوا لاَ إِلاَّ ابْنُ أُخْتٍ لَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " . فَقَالَ " إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَ الأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ " .
#2440
Anas b. Malik reported:When Mecca was conquered, he (the Holy Prophet) distributed the spoils among the Quraish. Upon this the Ansar said: It is strange that our swords are dripping with their blood, whereas our spoils have been given to them (to the Quraish). This (remark) reached the Messenger of Allah (ﷺ), and so he gathered them and said: What is this that has been conveyed to me about you? They said: (Yes) it is that very thing that, has reached you and they were not (the people) to speak a lie. Upon this he said: Don't you like that the people should return to their houses along with worldly riches, whereas you should return to your houses with the Messenger of Allah? If the people were to tread a valley or a narrow path, and the Ansar were also to tread a valley or a narrow path, I would tread the valley (along with the) Ansar or the narrow path (along with the) Ansar
ابوتیاح سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : جب مکہ فتح ہوگیااور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی ) غنیمتیں قریش میں تقسیم کیں تو انصار نے کہا : یہ بڑے تعجب کی بات ہے ، ہماری تلواروں سے ان لوگوں کے خون ٹپک رہے ہیں اور ہمارے اموال غنیمت انھی کو دیے جارہے ہیں!یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جمع کیا اور فرمایا : " وہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ " انھوں نے کہا : بات وہی ہے جو آ پ تک پہنچ چکی ہےوہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم ( اس پر ) خوش نہ ہوگے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کراپنے گھروں کو لوٹو ۔ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار د وسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ۔ " ( انصار سے بھی یہی توقع ہے ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَسَمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ . فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ " مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ " . قَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ . وَكَانُوا لاَ يَكْذِبُونَ . قَالَ " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا إِلَى بُيُوتِهِمْ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الأَنْصَارِ " .
#2441
Anas b. Malik reported that when it was the Day of Hunain there came the tribes of Hawazin, Ghatafan and others along with their children and animals, and there were with the Messenger of Allah (ﷺ) that day ten thousand (soldiers), and newly freed men (of Mecca after its conquest). All these men (once) turned their backs, till he (the Holy Prophet) was left alone. He (the Messenger of Allah) on that day called twice and he did not interpose anything between these two (announcements). He turned towards his right and said:O people of Ansar! They said: At thy beck and call (are we), Messenger of Allah. Be glad we are with thee. He then turned towards his left and said: O people of Ansar. They said: At thy beck and call (are we). Be glad we are with thee. He (the Holy Prophet) was riding a white mule. He dismounted and said: I am the servant of Allah and His Apostle. The polytheists suffered defeat and the Messenger of Allah (may peace he upon him) acquired a large quantity of spoils, and he distributed them among the refugees and the people recently delivered (of Mecca) but did not give anything to the Ansar. The Ansar said: In the hour of distress it is we who are called (for help). but the spoils are given to other people besides us. This (remark) reached him (the Holy Prophet). and he gathered them In a tent. and said: What is this news that has reached me on your behalf? They kept silence. Upon this he said: O people of Ansar, don't you like that people should go away with worldly (riches), and you go away with Muhammad taking him to your houses? They said: Yes, happy we are. Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: If the people were to tread a valley, and the Ansar were to tread a narrow path, I would take the narrow path of the Ansar. Hisham said: I asked Abu Hamza if he was present there. He said: How could I be absent from him?
ہشام بن زید بن انس نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب حنین کی جنگ ہوئی تو حوازن اور غطفان اور دوسرے لوگ اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کو لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس روز دس ہزار ( اپنے ساتھی ) تھے اور وہ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جنھیں ( فتح مکہ کے موقع پر غلام بنانے کی بجائے ) آزاد کیاگیا تھا ۔ یہ آپ کو چھوڑ کر پیچھے بھاگ گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے ، کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ( مہاجرین کے بعد انصار کو ) دودفعہ پکارا ، ان دونوں کو آپس میں زرہ برابر گڈ مڈ نہ کیا ، آپ دائیں طرف متوجہ ہوئے اور آواز دی : "" اے جماعت انصار! "" انھوں نے کہا : لبیک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوجائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف متوجہ ہوئےاور فرمایا : "" اے جماعت انصار! "" انھوں نے کہا : لبیک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوجائیے ، ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ آپ ( اس وقت ) سفید خچر پر سوار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور فرمایا : "" میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں ۔ "" چنانچہ مشرک شکست کھا گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کے بہت سے اموال حاصل کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ( فتح مکہ سے زرا قبل ) ہجرت کرنے والوں اور ( فتح مکہ کے موقع پر ) آزاد رکھے جانے والوں میں تقسیم کردیا اور انصارکو کچھ نہ دیا ، اس پر انصار نے کہا : جب سختی اورشدت کا موقع ہوتوہمیں بلایا جاتا ہے ۔ اور غنیمتیں دوسروں کو دی جاتی ہیں!یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی ، اس پر آپ نے انھیں سائبان میں جمع کیا اور فرمایا : "" اے انصار کی جماعت! وہ کیا بات ہے جو مجھے تمھارے بارے میں پہنچی ہے؟ "" وہ خاموش رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اے انصار کی جماعت!کیا تم اس بات پر راضی نہ ہوگے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جمعیت میں شامل کرکے اپنے ساتھ گھروں کو لے جاؤ ۔ "" وہ کہہ اٹھے : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ( اس پر ) راضی ہیں ۔ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں ، تو میں انصار کی وادی کو اختیار کروں گا ۔ "" ہشام نے کہا میں نے پوچھا : ابوحمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ) آپ اس کے ( عینی ) شاہد تھے؟انھوں نے کہا : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کہاں غائب ہوسکتاتھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، - يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الآخَرِ الْحَرْفَ بَعْدَ الْحَرْفِ - قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَمَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ عَشَرَةُ آلاَفٍ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ - قَالَ - فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا - قَالَ - فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ " . فَقَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ - قَالَ - ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ " . قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ - قَالَ - وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ فَنَزَلَ فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ . فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنَائِمَ كَثِيرَةً فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا فَقَالَتِ الأَنْصَارُ إِذَا كَانَتِ الشِّدَّةُ فَنَحْنُ نُدْعَى وَتُعْطَى الْغَنَائِمُ غَيْرَنَا . فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ " . فَسَكَتُوا فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا . قَالَ فَقَالَ " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لأَخَذْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ " . قَالَ هِشَامٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَنْتَ شَاهِدٌ ذَاكَ قَالَ وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ
#2442
Anas b. Malik reported:We conquered Mecca and then we went on an expedition to Hunain. The polytheists came, forming themselves into the best rows that I have seen. They first formed the rows of cavalry, then those of infantry, and then those of women behind them. Then there were formed the rows of sheep and goats and then of other animals. We were also people large in number, and our (number) had reached six thousand. And on one side Khalid b. Walid was in charge of the cavalry. And our horses at once turned back from our rear. And we could hardly hold our own when our horses were exposed, and the bedouins and the people whom we knew took to their heels. (Seeing this) the Messenger of Allah (ﷺ) called thus: O emigrants, O emigrants. He then. said: O Ansar, O Ansar. (Anas said: This hadith is transmitted by a group of eminent persons.) We said: At thy beck and call are we, Messenger of Allah. The Messenger of Allah (ﷺ) then advanced and he (Anas) said: By Allah, we had not yet reached them when Allah defeated them. and we took possession of the wealth and we then marched towards Ta'if, and we besieged them for forty nights. and then came back to Mecca and encamped (at a place), and the Messenger of Allah (ﷺ) began to bestow a hundred camels upon each individual. The rest of the hadith is the same
سمیط نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے مکہ فتح کرلیا ، پھر ہم نے حنین میں جنگ کی ، میرے مشاہدے کے مطابق مشرک بہترین صف بندی کرکے ( مقابلہ میں ) آئے ۔ پہلے گھڑ سواروں کی صف بنائی گئی ، پھر جنگجوؤں ( لڑنے والوں ) کی ، پھر اس کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی گئی ، پھر بکریوں کی قطاریں کھڑی کی گئیں ، پھر اونٹوں کی قطاریں ۔ کہا : اور ہم ( انصار ) بہت لوگ تھے ، ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ گئی تھی اور ہمارے پہلو کے سواروں پر خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ ہمارے گھڑ سوار ہماری پشتوں کی طرف مڑنے لگے اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے سوار بکھر گئے اور بدو بھی بھاگ گئے اور وہ لوگ بھی جن کو ہم جانتے ہیں ( مکہ کے نو مسلم ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آوازدی : " اے مہاجرین!اے مہاجرین! " پھر فرمایا : " اے انصار! اے انصار!کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ ( میرے اپنے مشاہدے کے علاوہ جنگ میں شریک لوگوں کی ) جماعت کی روایت ہے ۔ کہا : ہم نے کہا : لبیک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ، اور ہم اللہ کی قسم!ان تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ نے ان کو شکست سے دو چار کردیا ، اس پر ہم نے اس سارے مال پر قبضہ کرلیا ، پھر ہم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور چالیس دن تک ان کا محاصرہ کیا ، پھر ہم مکہ واپس آئے اوروہاں پڑاؤکیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سواونٹ ( کے حساب سے ) دینے کا آغاز فرمایا ۔ ۔ ۔ پھرحدیث کا باقی حصہ اسی طرح بیان کیا جس طرح ( اوپر کی روایات میں ) قتادہ ، ابو تیاح اور ہشام بن زیدکی روایت ہے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنِي السُّمَيْطُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ افْتَتَحْنَا مَكَّةَ ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ - قَالَ - فَصُفَّتِ الْخَيْلُ ثُمَّ صُفَّتِ الْمُقَاتِلَةُ ثُمَّ صُفَّتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ثُمَّ صُفَّتِ الْغَنَمُ ثُمَّ صُفَّتِ النَّعَمُ - قَالَ - وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلاَفٍ وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ - قَالَ - فَجَعَلَتْ خَيْلُنَا تَلْوِي خَلْفَ ظُهُورِنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنِ انْكَشَفَتْ خَيْلُنَا وَفَرَّتِ الأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ - قَالَ - فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا لَلْمُهَاجِرِينَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ " . ثُمَّ قَالَ " يَا لَلأَنْصَارِ يَا لَلأَنْصَارِ " . قَالَ قَالَ أَنَسٌ هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ . قَالَ قُلْنَا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ - قَالَ - فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَايْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ - قَالَ - فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ فَنَزَلْنَا - قَالَ - فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ مِنَ الإِبِلِ . ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ قَتَادَةَ وَأَبِي التَّيَّاحِ وَهِشَامِ بْنِ زَيْدٍ .
#2443
Rafi' b. Khadij reported that the Messenger of Allah; (ﷺ) gave to Abu Sufyan b. Harb and Safwan. b. Umayya and 'Uyaina b. Hisn and Aqra' b. Habis, i.e. to every one of these persons, one hundred camels, and gave to 'Abbas b. Mirdas less than this number. Upon this 'Abbas b. Mirdis said:You allot the share of my booty and that of my horse between 'Uyaina and Aqra'. Both Uyaina and Aqra' are in no way more eminent than Mirdas (my father) in the assembly. I am in no way inferior to any one of these persons. And he who is let down today would not be elevated. He (the narrator) said: The Messenger of Allah (ﷺ) then completed one hundred camels for him
محمد بن ابی عمر مکی نے کہا : سفیان ( بن عینیہ ) نے ہمیں عمر بن سعید بن مسروق سےحدیث بیان کی ، انہوں نےاپنے والد ( سعید بن مسروق ) سے ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ سے اور انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان بن حرب ، صفوان بن امیہ ، عینیہ بن حصین اور اقرع بن جابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیئے اور عباس بن مرداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس سے کم دیے تو عباس بن مرد اس نے ( اشعار میں ) کہا : کیا آپ میری اور میرے گھوڑے عبید کی غنیمت عینیہ ( بن حصین بن حذیفہ بن بدر سید بن غطفان ) اور اقرع ( بن حابس رئیس تمیم ) کے درمیان قرار دیتے ہیں ، حالانکہ ( عینیہ کے پردادا ) بدر اور ( اقرع کے والد ) حابس کسی ( بڑوں کے ) مجمع میں ( میرے والد ) سے فوقیت نہیں رکھتے تھے اور میں ان دونوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں اور جس کو پست قراردیا جائے گا اس کو بلند نہیں کیا جاسکے گا ۔ کہا : اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھی سو پورے کردیے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ وَالأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ وَأَعْطَى عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ . فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَتَجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعُبَيْدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالأَقْرَعِ فَمَا كَانَ بَدْرٌ وَلاَ حَابِسٌ يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ وَمَا كُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا وَمَنْ تَخْفِضِ الْيَوْمَ لاَ يُرْفَعِ قَالَ فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِائَةً .
#2444
This hadith has been narrated by Sa'id b. Masruq with the same chain of transmitters (with the words):" The Apostle of Allah (ﷺ) distributed the spoils of Hunain, and he (the Holy Prophet) gave one hundred camels to Abu Sufyan b. Harb. The rest of the hadith is the same, but with this addition:" He bestowed upon" Alqama b. 'Ulatha one hundred (camels)
(احمد بن عبدہ ضبی نے کہا : ہمیں ) سفیان ( بن عینیہ نے عمر بن سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے غنائم تقیسم کیے تو ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سواونٹ دیے ۔ ۔ ۔ اورپچھلی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن علاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی سو اونٹ دیئے ۔)
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فَأَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ وَأَعْطَى عَلْقَمَةَ بْنَ عُلاَثَةَ مِائَةً .
#2445
This hadith has been narrated by Sa'id with the same chain of transmitters, but no mention has been made of Alqama b. 'Ulatha, nor of safwin b. Umayya, and he did not mention the verse in his hadith
مخلد بن خالد شعیری نے کہا : ہمیں سفیان ( بن عینیہ ) نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عمر بن سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور اس میں نہ علقمہ بن علاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا نہ صفوان بن امیہ کا اور نہ اپنی حدیث میں اشعار ہی ذکر کیے ۔
وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنَ عُلاَثَةَ وَلاَ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَلَمْ يَذْكُرِ الشِّعْرَ فِي حَدِيثِهِ.
#2446
Abdullah b. Zaid reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) conquered Hunain he distributed the booty, and he bestowed upon those whose hearts it was intended to win. It was conveyed to him (the Holy Prophet) that the Ansar cherished a desire that they should be given (that very portion) which the people (of Quraish) had got. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) stood up and, after having praised Allah and lauded Him, addressed them thus:O people of Ansar, did I not find you erring and Allah guided you aright through me, and (in the state of) being destitute and Allah made you free from want through me, and in a state of disunity and Allah united you through me, and they (the Ansar) said: Allah and His Messenger are most benevolent. He (again) said: Why do you not answer me? They said: Allah and His Messenger are the most benevolent. He said, If you wish you should say so and so, and the event (should take) such and such course (and in this connection he made a mention) of so many things. 'Amr is under the impression that he has not been able to remember them. He (the Holy Prophet) further said: Don't you feel happy (over this state of affairs) that the people should go away with goats and camels, and you go to your places along with the Messenger of Allah? The Ansar are inner garments (more close to me) and (other) people are outer garments. Had there not been migration, I would have been a man from among the Ansar. If the people were to tread a valley or a narrow path, I would tread the valley (chosen) by the Ansar or narrow path (trodden) by them. And you would soon find after me preferences (over you in getting material benefits). So you should show patience till you meet me at the Haud (Kauthar)
عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے عباد بن تمیم سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین فتح کیا ، غنائم تقسیم کیے تو جن کی تالیف قلب مقصودتھی ان کو ( بہت زیادہ ) عطافرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی اتنا لیناچاہتے ہیں جتنا دوسرے لوگوں کو ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو خطاب فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " ا ے گروہ انصار!کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمھیں ہدایت نصیب فرمائی!اور تمھیں محتاج وضرورت مند نہ پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے زریعے سےتمھیں غنی کردیا!کیا تمھیں منتشر نہ پایا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمھیں متحد کردیا! " ان سب نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر احسان فرمانے والے ہیں ۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم مجھے جواب نہیں دو گے؟ " انھوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ احسان کرنے والے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم بھی ، اگرچاہو توکہہ سکتے ہو ایساتھا ایساتھا اور معاملہ ایسے ہوا ، ایسےہوا " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں گنوائیں ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارےپاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلاچھوڑ دیاگیاتھا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیاگیاتھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانہ مہیاکیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذمہ داریوں کابوجھ تھا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی ) عمرو ( بن یحییٰ ) کا خیال ہے وہ انھیں یاد نہیں رکھ سکے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " کیا تم اس پر راضی نہیں ہوتے کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا پنے ساتھ لے کر گھروں کو جاؤ؟انصار قریب تر ہیں اور لوگ ان کے بعد ہیں ( شعار وہ کپڑے جو سب سے پہلے جسم پر پہنے جاتے ہیں ، دثار وہ کپڑے جو بعد میں اوڑھے جاتے ہیں ) اور اگر ہجرت ( کا فرق ) نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا ، بلاشبہ تم میرے بعد ( خود پر دوسروں کو ) ترجیح ملتی پاؤگے تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر آملو ۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ فَأَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ فَبَلَغَهُ أَنَّ الأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلاَّلاً فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمُ اللَّهُ بِي " . وَيَقُولُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ . فَقَالَ " أَلاَ تُجِيبُونِي " . فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ . فَقَالَ " أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَذَا وَكَذَا وَكَانَ مِنَ الأَمْرِ كَذَا وَكَذَا " . لأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا . زَعَمَ عَمْرٌو أَنْ لاَ يَحْفَظُهَا فَقَالَ " أَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالإِبِلِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمُ الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ " .
#2447
Abdullah reported:On the day of Hunain, the Messenger of Allah (ﷺ) showed preference (to some) people in the distribution of the spoils. He bestowed on Aqra' b. Habis one hundred camels, and bestowed an equal (number) upon 'Uyaina, and bestowed on people among the elites of Arabia, and preferred them (to others) on that day, in the distribution (of spoils). Upon this a person said: By Allah, neither justice has been done in this distribution (of spoils), nor has the pleasure of Allah been sought in it. I (the narrator ) said: By Allah, I will certainly inform the Messenger of Allah (ﷺ) about it. I came to him and informed him about what he had said. The colour of his (the Prophet's) face changed red like blood and he then said: "Who would do justice, if Allah and His Messenger do not do justice?" He further said: "May Allah have mercy upon Moses; he was tormented more than this, but he showed patience." I said: Never would I convey him (the Holy Prophet) after this (unpleasant) narration
منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب حنین کی جنگ ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں ترجیح دی ۔ آپ نے اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ دیے ، عینیہ کو بھی اتنے ہی ( اونٹ ) دیے اور عرب کے دوسرے اشراف کو بھی عطا کیا اور اس دن ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں نہ عدل کیا گیا اور نہ اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھاگیا ہے ۔ کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم!میں ( اس بات سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی اطلاع دی جو اس نے کہی تھی ۔ ( غصے سے ) آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا یہاں تک کہ وہ سرخ رنگ کی طرح ہوگیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر کون عدل کرے گا! "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے!انھیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انھوں نے صبر کیا ۔ "" ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نےدل میں سوچا آئندہ کبھی ( اس قسم کی ) کوئی بات آپ کے سامنے پیش نہیں کروں گا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ . قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ - قَالَ - فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّى كَانَ كَالصِّرْفِ ثُمَّ قَالَ " فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ ثُمَّ قَالَ " يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " . قَالَ قُلْتُ لاَ جَرَمَ لاَ أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا .
#2448
Abdullah reported:The Messenger of Allah (ﷺ) distributed spoils (of war). Upon this a person said: This is a distribution In which the pleasure of Allah has not been sought. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and informed him in an undertone. He (the Holy Prophet) was deeply angry at this and his face became red till I wished that I had not made a mention of it to him. He (the Holy Prophet) then said: Moses was tormented more than this, but he showed patience
اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے اور ا نھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ( مال ) تقسیم کیا توع ایک آدمی نے کہا : اس تقسیم میں اللہ کی رضا کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ۔ کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے چپکے سے آپ کو بتادیا ، اس سے آپ انتہائی غصے میں آگئے ، آپ کاچہرہ سرخ ہوگیا حتیٰ کہ میں نے خواہش کی ، کاش!یہ بات میں آپ کو نہ بتاتا ، کہا : پھر آپ نے فرمایا : " موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انھوں نے صبر کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ - قَالَ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْهُ لَهُ - قَالَ - ثُمَّ قَالَ " قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " .
#2449
Jabir b. Abdullah reported that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) at Jirana on his way back from Hunain, and there was in the clothes of Bilal some silver. The Messenger of Allah (ﷺ) took a handful out of that and bestowed it upon the people. He (the person who had met the Prophet at Ji'rana) said to him:Muhammad, do justice. He (the Holy Prophet) said: Woe be upon thee, who would do justice if I do not do justice, and you would be very unfortunate and a loser if I do not do justice. Upon this Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) said: Permit me to kill this hypocrite. Upon this he (the Holy Prophet) said: May there be protection of Allah! People would say that I kill my companions. This man and his companions would recite the Qur'an but it would not go beyond their throat, and they swerve from it just as the arrow goes through the prey
لیث نے یحییٰ بن سعید سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابو زبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حنین سے واپسی کے وقت جعرانہ میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں چاندی تھی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹھی بھر بھر کے لوگوں کو دے رہے تھے ۔ تو اس نے کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عدل کیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تیرے لئے ویل ( ہلاکت یاجہنم ) ہو!اگر میں عدل نہیں کررہا تو کون عدل کرے گا؟ اگر میں عدل نہیں کررہا تو میں ناکام ہوگیا اور خسارے میں پڑ گیا ۔ " اس پر حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کو قتل کردوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( میں اس بات سے ) اللہ کی پناہ ( مانگتا ہوں ) !کہ لوگ ایسی باتیں کریں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں ۔ یہ شک یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے ، وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا ، ( یہ لوگ ) اس طرح اس ( دین اسلام ) سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے ( آگے ) نکل جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْجِعْرَانَةِ مُنْصَرَفَهُ مِنْ حُنَيْنٍ وَفِي ثَوْبِ بِلاَلٍ فِضَّةٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْبِضُ مِنْهَا يُعْطِي النَّاسَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ . قَالَ " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ . فَقَالَ " مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْهُ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .