#2375
Asma', daughter of Abu Bakr (Allah be pleased with him), reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Spend, and do not calculate, or otherwise Allah would also calculate in your case
حفص بن غیا ث نے ہشام سے انھوں نے فا طمہ بنت منذر سے اور انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " ( مال کو ) خرچ ۔ ۔ ۔ یا ہر طرف پھیلاؤ یا ( پانی کی طرح ) بہاؤ ۔ ۔ ۔ اور گنو نہیں ورنہ اللہ بھی تمھیں گن گن کر دے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنْفِقِي - أَوِ انْضَحِي أَوِ انْفَحِي - وَلاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
#2376
Asma' reported Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying (to her):Spend and do not calculate, (for) Allah would calculate in your case; and do not hoard, otherwise Allah would be withholding from you
محمد بن خازم نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے عبادبن حمزہ اور فا طمہ بنت منذر حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( مال کو ) ہر طرف خرچ کرو ۔ ۔ یا ( پانی کی طرح بہاؤ یا خرچ کرو ۔ ۔ ۔ اور شمار نہ کرو ورنہ اللہ بھی تمھیں شمار کر کر کے دے گا اور سنبھا ل کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے سنبھا ل کر رکھے گا ۔)
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي، مُعَاوِيَةَ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْفَحِي - أَوِ انْضَحِي أَوْ أَنْفِقِي - وَلاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَلاَ تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
#2377
This hadith has been narrated on the authority of Asma' through another chain of transmitters
محمد بن بشر نے کہا : ہمیں ہشا م نے عبا د بن حمزہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسما رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا ۔ ۔ ۔ ان ( مذکورہ با لا راویوں ) کی حدیث کے ما نند ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
#2378
Asma', daughter of Abu Bakr, reported that abe came to the Messenger of Allah (may peace he upon him) and said:Apostle of Allah, I have nothing with me, but only, that which is given to me by Zubair (for household expenses). Is there any sin for me if I spend out of that which is given to me (by Zabair)? Upon this he (the Holy Prophet) said: Spend according to your means; and do not hoard, for Allah will withhold from you
عباد بن عبد اللہ بن زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہو ئیں اور عرض کی ، اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !جو کچھ زبیر مجھے دے اس کے سوا میرے پا س کو ئی چیز نہیں ہو تی تو کیا مجھ پر کو ئی گنا ہ تو نہیں کہ جو وہ مجھے دے اس میں سے تھوڑا سا صدقہ کر دوں ؟آپ نے فر ما یا : اپنی طا قت کے مطا بق تھوڑا بھی خرچ کرو اور برتن میں سنبھا ل کر نہ رکھو ورنہ اللہ تعا لیٰ بھی تم سے سنبھا ل کر رکھے گا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَسْمَاءَ، بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَىْءٌ إِلاَّ مَا أَدْخَلَ عَلَىَّ الزُّبَيْرُ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَىَّ فَقَالَ " ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ وَلاَ تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
#2379
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Seven are (the persons) whom Allah would give protection with His Shade on the Day when there would be no shade but that of Him (i. e. on the Day of Judgment, and they are): a just ruler, a youth who grew up with the worship of Allah; a person whose heart is attached to the mosques; two persons who love and meet each other and depart from each other for the sake of Allah; a man whom a beautiful woman of high rank seduces (for illicit relation), but he (rejects this offer by saying):" I fear Allah" ; a person who gives charity and conceals it (to such an extent) that the right hand does not know what the left has given: and a person who remembered Allah in privacy and his eyes shed tears
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما یا کرتے تھے : " اے مسلما ن عورتو! کو ئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے ( تحفےکو ) حقیر نہ سمجھے چا ہے وہ بکری کا ایک کھر ہو ۔ ( جو میسر ہے بھیج دو)
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ الإِمَامُ الْعَادِلُ وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ . وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لاَ تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ " .
#2380
This hadith has been narrated, on the authority, of Abu Huraira (with this change of words)." A person whose heart is attached to the mosque when he goes out of it till he returns to it
عبید اللہ سے روایت ہے کہا : مجھے خبیب بن عبد الرحمٰن نے حفص بن عاصم سے خبردی انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سات قسم کے لو گو ں کو اللہ تعا لیٰ اس دن اپنے سائے میں سایہ مہیا کرے گا جس دن کے سائے کے سوا کو ئی سایہ نہیں ہو گا عدل کرنے والا حکمران اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت کے ساتھ پروان چڑھا اور وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہواہے اور ایسے دو آدمی جنھوں نے اللہ کی خا طر ایک دوسرے سے محبت کی اسی پر اکٹھے ہو ئے اور اسی پر جدا ہو ئے اور ایسا آدمی جسے مرتبے اور حسن والی عورت نے ( گناہ کی ) دعوت دی تو اس ( آدمی ) نے کہا : میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کا با یا ں ہا تھ جو کچھ خرچ کر رہا ہے اسے دایاں نہیں جا نتا اور وہ آدمی جس نے تنہا ئی میں اللہ کو یا د کیا تو اس کی آنکھیں بہنے لگیں
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ . وَقَالَ " وَرَجُلٌ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ " .
#2381
امام ما لک نے خبیب بن عبد الرحمٰن سے انھوں نے حفص بن عاصم سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ۔ ۔ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ۔ ۔ سے روایت ک ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) جس طرح عبید اللہ کی حدیث ہے اور انھوں نے ( ایسا آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے کے بجا ئے ) کہا : رجل معلق بالمسجد اذا خرج منه حتي يعود اليه " وہ آدمی جب مسجد سے نکلتا ہے تو اسی کے ساتھ معلق رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں لوٹ آئے ۔
#2382
Abu Huraira reported that there came a person to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:Messenger of Allah, which charity is the best? Upon this he said: That you should give charity (in a state when you are) healthy and close-fisted, one haunted by the fear of poverty, hoping to become rich (charity in such a state of health and mind is the best). And you must not defer (charity to such a length) that you are about to die and would he saying: This is for so and so, and this is for so and so. Lo, it has already come into (the possession of so and so)
جریر نے عمارہ بن قعقاع سے انھوں نے ابو زرعہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ا نھوں نے کہا : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کو ن سا صدقہ ( اجر میں ) بڑا ہے؟آپ نے فر ما یا : " تم ( اس وقت ) صدقہ کرو جب تم تند رست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو فقر سے ڈرتے ہو اور تونگری کی امید رکھتے ہو اور اس قدر تا خیر نہ کرو کہ جب ( تمھا ری جا ن ) حلق تک پہنچ جائے ( پھر ) تم کہو : اتنا فلا ں کا ہے اور اتنا فلا ں کا ۔ اب تو وہ فلا ں ( وارث ) کا ہو ہی چکا ہے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ فَقَالَ " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا وَلِفُلاَنٍ كَذَا أَلاَ وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ " .
#2383
Abu Huraira reported that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:Messenger of Allah, which charity is the greatest in reward? (The Prophet said): By your father, beware, you should give charity (in a state when you are) healthy and close-fisted, haunted by the fear of poverty, and still hoping to live (as rich). And you must not defer charity (to the time) when you are about to die, and would then say:" This is for so and so, and this for so and so." It has already become the possession of so and so
ابن فضیل نے عمارہ سے انھوں نے ابو زرعہ سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ اجر میں برا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " ہاں تمھا رے باپ کا بھلا ہو تمھیں اس بات سے آگا ہ کیا جا ئے گا وہ یہ کہ تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو فقر سے ڈرتے ہو اور لمبی زندگی کی امید رکھتے ہو اور ( خود کو ) اس قدر مہلت نہ دو کہ جب تمھا ری جان حلق تک پہنچ جا ئے تو پھر ( وصیت کرتے ہوئے ) کہو فلا ں کا اتنا ہے اور فلا ں کا اتنا ہے وہ تو فلا ں کا ہو ہی چکا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا فَقَالَ " أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا وَلِفُلاَنٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ " .
#2384
This hadith has been narrated with the same chain of transmitters except with this change (of words):" Which charity is most excellent?
عبد الو حد نے کہا : ہم سے عمارہ بن قعقاع نے ( باقی ماند ہ ) اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی البتہ کہا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ .
#2385
Abdullah b. Umar reported that as Allah's Messenger (ﷺ) was sitting on the pulpit and talking about Sadaqa and abstention from begging, he said:The upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower one which begs
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا جبکہ آپ منبر پر تھے اور صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے : " اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہا تھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ " .
#2386
Hakim b. Hizam reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:The most excellent Sadaqa or the best of Sadaqa is that after giving which the (giver) remains rich and the upper hand is better than the lower hand, and begin from the members of your household
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سب سے افضل صدقہ ۔ ۔ ۔ یا سب سے اچھا صدقہ ۔ ۔ وہ ہے جس کے پیچھے ( دل کی ) تو نگری ہو اور اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے اور ( دینے کی ) ابتدا اس سے کرو جس کی تم کفا لت کرتے ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، - قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ - أَوْ خَيْرُ الصَّدَقَةِ - عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ".
#2387
Hakim b. Hizam reported:I begged the Messenger of Allah (ﷺ), and he gave me. I again begged, he again gave me. I again begged, he again gave me, and then said: This property is green and sweet; he who receives it with a cheerful heart is blessed in it, and he who receives it with an avaricious mind would not be blessed in it, he being like one who eats without being satished, and the upper hand is better thad the lower hand
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ما نگا تو آپ نے مجھے عطا فر ما یا میں نے ( دوبارہ ) مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا میں نے پھر آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا پھر فر ما یا : " یہ ما ل شاداب ( آنکھوں کو لبھا نے والا ) اور شیریں ہے جو تو اسے حرص و طمع کے بغیر لے گا اس کے لیے اس میں برکت عطا کی جا ئے گی اور جو دل کے حرص سے لے گا ، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جا ئے گی ، وہ اس انسان کی طرح ہو گا جو کھا تا ہے لیکن سیر نہیں ہو تا اور اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
#2388
Abu Umama reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:O son of Adam, it is better for you if you spend your surplus (wealth), but if you withhold it, it is evil for you. There is (however) no reproach for you (if you withhold means necessary) for a living. And begin (charity) with your dependents; and the upper hand is better than the lower hand
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " آدم کے بیٹے!بے شک تو ( ضرورت سے ) زائد مال خرچ کر دے یہ تیرے لیے بہتر ہے اور تو اسے رو ک رکھے تو یہ تیرے لیے برا ہے اور گزر بسر جتنا رکھنے پر تمھیں کو ئی ملا مت نہیں کی جا ئے گی اور خرچ کا آغاز ان سے کرو جن کے ( کےخرچ ) تم ذمہ دار ہو اور اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ وَأَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ وَلاَ تُلاَمُ عَلَى كَفَافٍ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى "
#2389
Mu'awiya said:Be cautious about ahadith except those which were current during the reign of Umar, for he exhorted people to fear Allah, the Exalted and mMajestic. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: He upon whom Allah intends to bestow goodness, He confers upon him an insight in religion; and I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: I am the treasurer. To one whom I give out of (my own) sweet will, he would be blessed in that, but he whom I give (yielding to) his constant begging and for his covetousness is like one who would eat, but would not be satisfied
عبد اللہ بن عامر یحصبی نے کہا میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا : تم اس حدیث کے سوا جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ( بیان کی جا تی ) تھی دوسری احادیث بیان کرنے سے بچو کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لو گوں کو ( روایا ت کے سلسلے میں بھی ) اللہ کا خوف دلا یا کرتےتھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے " اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلا ئی کرنا چا ہتا ہے اسے دین میں گہرا فہم عطا فر ما دیتا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے بھی سنا : " میں تو بس خزانچی ہوں جس کو میں خوش دلی سے دوں اس کے لیے اس میں برکت ڈا ل دی جا ئے گی اور جس کو میں مانگنے پر اور ( اس کے ) حرص کے سبب سے دو ں اس کی حا لت اس نسان جیسی ہو گی جو کھا تا ہے اور سیر نہیں ہو تا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ إِلاَّ حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ " . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ وَشَرَهٍ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ " .
#2390
Mu'awiya reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not press in a matter, for I swear by Allah, none of you who asks me for anything and manages to get his request while I disdain it, will he be blessed in that which I give him
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث بیا ن کی انھوں نے وہب بن منبہ سے انھوں نے اپنے بھا ئی ہمام سے اور انھوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مانگنے میں اصرار نہ کرو اللہ کی قسم !ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم میں سے کو ئی شخص مجھ سے کچھ مانگے میں اسے ناپسند کرتا ہوں پھر بھی اس کا سوال مجھ سے کچھ نکلوالے تو جو میں اس کو دوں اس میں بر کت ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، هَمَّامٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ لاَ يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ " .
#2391
Amr b. Dinar reported from Wahb b. Munabbih:I went to his house in San'a' and he offered me nuts grown in his house to eat. And his brother said: I heard Mu'awiya b. Abu Sufyan saying that he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying, and then he made a mention (of a hadith) like one mentioned above
ابن ابی عمر مکی نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو بن دینار سے حدیث سنا ئی کہا : مجھے وہب بن منبہ نے ۔ ۔ ۔ جب میں صنعاء میں ان کے پا س ان کے گھر گیا اور انھوں نے مجھے اپنے گھر کے درخت سے اخروٹ کھلا ئے ۔ ۔ ۔ اپنے بھا ئی سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے کہا : میں نے معاویہ بن ابی سفیان کو یہ کہتے ہو ئے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( پچھلی ) حدیث کے مطا بق بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ، مُنَبِّهٍ - وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي دَارِهِ بِصَنْعَاءَ فَأَطْعَمَنِي مِنْ جَوْزَةٍ فِي دَارِهِ - عَنْ أَخِيهِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
#2392
Abd al-Rahman b. Auf reported:I heard Mu'awiya b. Abu Sufyan saying in an address that he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: He to whom Allah intends to do good, He gives him insight into religion. And I am only the distributor while Allah is the Bestower
حمید بن عبد الرحمٰن بن عوف نے کہا : میں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ خطبہ دیتے ہو ئے کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے اللہ جس کے ساتھ بھلا ئی کا ارادہ فر ما تا ہے اسے دین کا گہرا فہم عطا فر ما دیتا ہے اور میں تو بس تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ " .
#2393
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The poor man (miskin) is not the one who goes round to the people and is dismissed with one or two morsels. and one or two dates. They (the Prophet's Companions) said: Messenger of Allah, then who is miskin? He said: He who does not get enough to satisfy him, and he is not considered so (as to elicit the attention of the benevolent people), so that charity way be given to him. and he does not beg anything from people
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( اصل ) مسکین یہ گھومنے والا نہیں جو لو گوں کے پاس چکر لگا تا ہے پھر ایک دو لقمے یا ایک دوکھجور یں اسے واپس لوٹا دیتی ہیں ۔ " ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو مسکین کون ہے؟آپ نے فرمایا : " جو اتنی تونگری نہیں پاتا جو اسے ( سوال سے ) مستغنی کردے ، نہ ہی اس ( کے ضرورت مند ہونے ) کا پتہ چلتا ہے کہ اس کو صدقہ دیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے کوئی چیز مانگتا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ " . قَالُوا فَمَا الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلاَ يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلاَ يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا " .
#2394
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Miskin is not he who is dismissed with one or two dates, and with one morsel or two morsels. (In fact) miskin is he who abstains (from begging). Read if you so desire (the verse):" They beg not of men importunately)" (ii)
اسماعیل نے جو ابن جعفر ( بن ابی کثیر ) ہیں ، کہا : مجھے شریک نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے خبردی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اصل ) مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیتے ہیں ، اصل مسکین سوال سے بچنے والا ہے ، چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : " وہ لوگوں سے چمٹ کر ( اصرار سے ) نہیں مانگتے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلاَ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ { لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا} " .
#2395
This hadith has been narrated through another chain of transmitters
محمد بن جعفر ( بن ابی کثیر ) نے کہا : مجھے شریک نے خبر دی ، کہا : مجھے عطاء بن یسار اور عبدالرحمان بن ابی عمرہ نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ( آگےمحمد کے بھائی ) اسماعیل کی روایت کے مانند ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ .
#2396
Hamza. son of 'Abdullah, reported on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When a man is always begging from people. he would meet Allah (in a state) that there would be no flesh on his face
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے معمر سے ، انھوں نے ( امام زہری کے بھائی ) عبداللہ بن مسلم سے ، انھوں نے حمزہ بن عبداللہ ( بن عمر ) سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کے ساتھ سوال چمٹا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملے گا تو اس کے چہرے پرگوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ " .
#2397
This hadith has been narrated on the authority of the brother of Zuhri with the same chain of transmitters, but no mention has been made of the word" muz'a" (piece)
اسماعیل بن ابراہیم نے معمر سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور اس میں ( گوشت کے ) ٹکڑے کے الفاظ نہیں ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَخِي الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ " مُزْعَةُ " .
#2398
Hamza b. 'Abdullah b. Umar heard his father say that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:The person would continue begging from people till he would come on the Day of Resurrection and there would be no flesh on his face
عبیداللہ بن ابی جعفر نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت کی کہ انھوں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے ( مانگنا اس کی عادت بن جاتا ہے ) یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ " .
#2399
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who begs the riches of others to increase his own is asking only for live coals, so let him ask a little or much
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے ، کم ( اکھٹے ) کرلے یا زیادہ کرلے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ، الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ " .