#2050
Ata' reported that Ibn 'Abbas sent (him) to Ibn Zubair at the commencement of the oath of allegiance to him (for Caliphate saying):As there is no Adhan on 'Id-ul-Fitr, so you should not pronounce it. Ibn Zubair did not pronounce Adhan on that day. He (Ibn 'Abbas) also sent him (with this message) that sermon (is to be delivered) after the prayer, and thus it was done. So lbn Zubair observed prayer before Khutba
۔ محمد بن رافع نے کہا : ہمیں عبد الرزاق نے حدیث سنا ئی کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے عطاء نے خبر دی کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کے آغاز ہی میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ عید الفطرکے دن نماز ( عید کے لیے اذان نہیں دی جا تی تھی لہذا آپ اس کے لیے اذان نہ کہلوائیں ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس اذان نہ کہلوائی اور اس کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہے اور ( عہد نبوی اور خلا فت راشدہ میں ) ایسے ہی کیا جا تا تھا ( عطاء نے ) کہا : تو ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز خطبے سے پہلے پڑھا ئی ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ أَوَّلَ مَا بُويِعَ لَهُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِلصَّلاَةِ يَوْمَ الْفِطْرِ فَلاَ تُؤَذِّنْ لَهَا - قَالَ - فَلَمْ يُؤَذِّنْ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَعَ ذَلِكَ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلاَةِ وَإِنَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يُفْعَلُ - قَالَ - فَصَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ .
#2051
Jabir b. Samura said:I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) prayers on two I'ds wore than once or twice without there being Adhan and Iqama
حضرت جا بر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید ین کی نماز ایک یا دو دفعہ پڑھی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ، سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ .
#2052
Ibn 'Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr and 'Umar used to observe the two 'Id prayers before the sermon
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عید ین کی نماز خطبے سے پہلے پڑھتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ .
#2053
Abu Sa'id al-Khudri reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to go out on the day of Adha and on the day of Fitr and commenced the prayer. And after having observed his prayer and pronounced the salutation, he stood up facing people as they were seated at their places of worship. And if he intended to send out an army he made mention of it to the people, and if he intended any other thing besides it, he commanded them (to do that). He used to say (to the people):Give alms, give alms, give alms, and the majority that gave alms was of women. He then returned and this (practice) remained (in vogue) till Marwan b. al- Hakam (came into power). I went out hand in hand with Marwan till we came to the place of worship and there Kathir b. Salt had built a pulpit of clay and brick. Marwan began to tug me with his hand as though he were pulling me towards the pulpit, while I was pulling him towards the prayer. When I saw him doing that I said: What has happened to the practice of beginning with prayer? He said: No, Abu Sa'id, what you are familiar with has been abandoned. I thereupon said (three times and went back): By no means, by Him in Whose hand my life is, you are not doing anything better than what I am familiar with
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن تشریف لا تے تو نماز سے آغاز فرماتے اور جب اپنی نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیر تے تو کھڑے ہو جا تے لوگوں کی طرف رخ فر ما تے جبکہ لو گ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں بیٹھے ہو تے اگر آپ کو کو ئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہو تی تو اس کا لو گو ں کے سامنے ذکر فر ما تے اور اگر آپ کو اس کے سوا کو ئی اور ضرورت ہوتی تو انھیں اس کا حکم دیتے اور فر ما یا کرتے " صدقہ کرو صدقہ کرو صدقہ کرو زیادہ صدقہ عورتیں دیا کرتی تھیں پھر آپ واپس ہو جا تے اور یہی معمول چلتا رہا حتیٰ کہ مردان بن حکم کا دور آگیا میں اس کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نکلا حتیٰ کہ ہم عید گا ہ میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ کثیر بن صلت نے وہاں مٹی ( کے گا رے ) اور اینٹوں سے منبر بنا یا ہو اتھا تو اچانک مردان کا ہا تھ مجھ سے کھنچا تا نی کرنے لگا جیسے وہ مجھے منبر کی طرف کھنچ رہا ہو اور میں اسے نماز کی طرف کھنچ رہا ہوں جب میں نے اس کی طرف سے یہ بات دیکھی تو میں نے کہا : نماز سے آغاز ( کا مسنون کا طریقہ ) کہاں ہے؟ اس نے کہا : اے ابو سعید !نہیں جو آپ جا نتے ہیں اسے ترک کر دیا گیا ہے میں نے کہا : ہر گز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو میں جانتا ہوں تم اس سے بہتر طریقہ نہیں لاسکتے ۔ ۔ ۔ ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین دفہ کہا ، پھر چل دئیے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلاَةِ فَإِذَا صَلَّى صَلاَتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلاَّهُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ " تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا " . وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلاَةِ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ قُلْتُ أَيْنَ الاِبْتِدَاءُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ لاَ يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ . قُلْتُ كَلاَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ . ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ .
#2054
Umm 'Atiyya said:He (the Messenger of Allah) commanded us that we should take out unmarried women and the screened away ladies for 'Id prayers, and he commanded the menstruating women to remain away from the place of worship of the Muslims
محمد ( بن سیرین ) نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : آپ نے ہمیں حکم دیا ۔ ۔ ۔ ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ۔ ۔ ۔ کہ ہم عیدین میں بالغہ اور پردہ نشین عورتوں کو لے جایا کریں اور آپ نے حیض والی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے ہٹ کر بیٹھیں ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَمَرَنَا - تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ وَأَمَرَ الْحُيَّضَ أَنْ يَعْتَزِلْنَ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ .
#2055
Umm Atiyya reported:We were commanded to go out as well as the hidden away ladies and those unmarried. She said menstruating women were to come out amongst you, but remain behind people and pronounce takbir (Allah-o-Akbar) along with them
عاصم احول نے حفصہ بنت سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : " ہمیں عیدین میں نکلنے کا حکم دیاجاتاتھا ، پردہ نشین اوردوشیزہ کو بھی ۔ " انھوں نے کہا : حیض والی عورتیں بھی نکلیں گی اور لوگوں کے پیچھے رہیں گی اور لوگوں کے ساتھ تکبیر کہیں گی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ، سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ كُنَّا نُؤْمَرُ بِالْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْمُخَبَّأَةُ وَالْبِكْرُ قَالَتِ الْحُيَّضُ يَخْرُجْنَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ يُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ .
#2056
Umm 'Atiyya reported:The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to bring out on'Id-ul-Fitr and 'Id-ul-Adha young women, menstruating women and screened away ladies, menstruating women kept back from prayer, but participated in goodness and supplication of the Muslims. I said: Messenger of Allah, one of us does not have an outer garment (to cover her face and body). He said: Let her sister cover her with her outer garment
۔ ہشام نے حفصہ بن سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اورعید الاضحیٰ میں عورتوں کو باہر نکالیں ، دوشیزہ ، حائضہ اور پردہ نشیں عورتوں کو باہر نکالیں ، دوشیزہ اور حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو ، لیکن حائضہ نمازسےدور رہیں ۔ وہ خیروبرکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کی ( کوئی مسلمانک ) بہن اس کو اپنی چادر کا ایک حصہ پہنا دے ۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ، سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلاَةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لاَ يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ قَالَ " لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا " .
#2057
Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) went out on the day of Adha or Fitr and observed two rak'ahs, and did not observe prayer (at that place) before and after that. He then came to the women along with Bilal and commanded them to give alms and the women began to give their rings and necklaces. This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
معاذ عنبری نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے عدی سے روایت کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن باہر نکلے اوردو رکعتیں پڑھائیں ، اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی ۔ پھر عورتوں کے پاس آئے جبکہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو صدقے کا حکم دیا تو کوئی عورت اپنی بالیاں ( بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں ) ڈالتی تھیں اور کوئی اپنا ( لونگ وغیرہ کا خوشبودار ) ہار ڈالتی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَتُلْقِي سِخَابَهَا . وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ، بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#2058
Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) went out on the day of Adha or Fitr and observed two rak'ahs, and did not observe prayer (at that place) before and after that. He then came to the women along with Bilal and commanded them to give alms and the women began to give their rings and necklaces. This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters
معاذ عنبری نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے عدی سے روایت کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن باہر نکلے اوردو رکعتیں پڑھائیں ، اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی ۔ پھر عورتوں کے پاس آئے جبکہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو صدقے کا حکم دیا تو کوئی عورت اپنی بالیاں ( بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں ) ڈالتی تھیں اور کوئی اپنا ( لونگ وغیرہ کا خوشبودار ) ہار ڈالتی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَتُلْقِي سِخَابَهَا . وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ، بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
#2059
Abdullah b. 'Umar reported that (his father) 'Umar b. Khattab asked Abu Waqid al-Laithi what the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite on 'Id-ul-Adha and 'Id-ul-Fitr. He said:He used to recite in them:" Qaf. By the Glorious Qur'an" (Surah 1)," The Hour drew near, and the moon was rent asunder" (Surah liv)
مالک نے ضمرہ بن سعید مازنی سے اور انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو واقدلیثی سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر میں کون سی سورت قراءت فرماتے تھے؟توانھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں میں سورہ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ اور سورہ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ پڑھا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الأَضْحَى وَالْفِطْرِ فَقَالَ كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِـ { ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَ { اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}
#2060
Utba reported that his father Waqid al-Laithi said:'Umar b. Khattab asked me what the Messenger of Allah (ﷺ) recited on 'Id day. I said:" The Hour drew near" and Qaf. By the Glorious Qur'an
فلیح نے ضمر ہ بن سعید سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور انھوں نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے اس بارے میں پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں کیا پڑھا؟تو میں نے کہا : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ اور ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ ضَمْرَةَ، بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ سَأَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَمَّا قَرَأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمِ الْعِيدِ فَقُلْتُ بِـ { اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ} وَ { ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ}
#2061
A'isha reported:Abu Bakr came to see me and I had two girls with me from among the girls of the Ansar and they were singing what the Ansar recited to one another at the Battle of Bu'ath. They were not, however, singing girls. Upon this Abu Bakr said: What I (the playing of) this wind instrument of Satan in the house of the Messenger of Allah (ﷺ) and this too on 'Id day? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Abu Bakr, every people have a festival and it is our festival (so let them play on)
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو بکر میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس انصار کی دو بچیاں تھیں ۔ اور انصار نے جنگ بعاث میں جو اشعار ایک دوسرے کے مقابلے میں کہےتھے ، انھیں گارہی تھیں ۔ کہا : وہ کوئی گانے والیاں نہ تھیں ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( انھیں دیکھ کر ) کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کی آواز ( بلند ہورہی ) ہے؟اور یہ عید کے دن ہوا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابو بکر!ہر قوم کے لئے ایک عید ہے اور یہ ہماری عید ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ قَالَتْ وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَبِمُزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا " .
#2062
This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters, but there the words are:" Two girls were playing upon a tambourine
ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت کی اور اس میں ہے دو بچیاں دف سے کھیل ہی تھیں ( دف بجارہیں تھیں)
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِيهِ جَارِيَتَانِ تَلْعَبَانِ بِدُفٍّ .
#2063
A'isha reported that Abu Bakr came to her and there were with her two girls on Adha days who were singing and beating the tambourine and the Messenger of Allah (ﷺ) had wrapped himself with his mantle. Abu Bakr scolded them. The Messenger of Allah (may peace he upon him) uncovered (his face) and said:Abu Bakr, leave them alone for these are the days of 'Id. And 'A'isha said: I recapitulate to my mind the fact that once the Messenger of Allah (ﷺ) screened me with his mantle and I saw the sports of the Abyssinians, and I was only a girl, and so you can well imagine how a girl of tender age is fond of watching the sport
عمرو نے کہا کہ ابن شہاب نے انھیں عروہ سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ( انھوں نے کہا ) کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ منیٰ کے ایام میں میرے پاس دو بچیاں گارہی تھیں ۔ اور دف بجا رہی تھیں ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے ، ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں کو ڈانٹا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا : " ابو بکر!انھیں چھوڑیئے کہ یہ عید کے دن ہیں ۔ " اور ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھےاپنی چادر سے چھپائے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ کھیل رہے تھے اور میں کم سن لڑکی تھی ، ذرا اندازہ لگاؤ اس لڑکی کو شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین ، نو عمر تھی ( وہ کتنی دیر کھیل دیکھے گی؟)
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُسَجًّى بِثَوْبِهِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ وَقَالَ " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ " . وَقَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ .
#2064
A'isha reported:BY Allah, I remember the Messenger of Allah (ﷺ) standing on the door of my apartment screening me with his mantle enabling me to see the sport of the Abyssinians as they played with their daggers in the mosque of the Messenger of Allah (may peace be upom him). He (the Holy Prophet) kept standing for my sake till I was satiated and then I went back; and thus you can well imagine how long a girl tender of age who is fond of sports (could have watched it)
یونس نے ابن شہاب سے او انھوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہیں اور حبشی اپنے چھوٹے نیزوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں کھیل ( مشقین کر رہے ) رہے تھے ۔ اور آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے ہیں تاکہ میں ان کے کرتب دیکھ سکوں ، پھر آپ میری خاطر کھڑے رہے حتیٰ کہ میں ہی ہوں جو واپس پلٹی ، اندازہ کرو ایک نو عمر لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین ہو ( کتنی دیر تک کھڑی رہی ہوگی ۔)
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي - وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَىْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ . فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ حَرِيصَةً عَلَى اللَّهْوِ .
#2065
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) came (to my apartment) while there were two girls with me singing the song of the Battle of Bu`ath. He lay down on the bed and turned away his face. Then came Abu Bakr and he scolded me and said: Oh! this musical instrument of the devil in the house of the Messenger of Allah (ﷺ)! The Messenger of Allah (ﷺ) turned towards him and said: Leave them alone. And when he (the Holy Prophet) became unattentive, I hinted them and they went out, and it was the day of `Id and the black men were playing with shields and spears. (I do not remember) whether I asked the Messenger of Allah (ﷺ) or whether he said to me if I desired to see (that sport). I said: Yes. I stood behind him with his face parallel to my face, and he said: O Banu Arfada, be busy (in your sports) till I was satiated. He said (to me): Is that enough? I said: Yes. Upon this he asked me to go
محمد بن عبد الرحمان نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر میں ) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس دو بچیاں جنگ بعاث کے اشعار بلندآواز سے سنارہی تھیں ۔ آپ بستر پرلیٹ گئے اور اپنا چہرہ ( دوسری سمیت ) پھیر لیا ۔ اس کے بعدحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے ۔ تو انھوں نے مجھے سرزنش کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شیطان کی آواز؟اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا : " انھیں چھوڑیئے " جب ان ( ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی توجہ ہٹی تو میں ان کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں ۔ اورعید کا ایک دن تھا ، کالے لوگ ڈھالوں اور بھالوں کےکرتب دکھا رہے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے د رخواست کی یا آپ نے خود ہی فرمایا : " دیکھنے کی خواہش رکھتی ہو؟ " میں نے کہا : جی ہاں ۔ آ پ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑاکرلیا ، میرا رخسار آپ کے رخسار پر ( لگ رہا ) تھا اور آ پ فرمارہے تھے : " اے ارفدہ کے بیٹو! ( اپنا مظاہرہ ) جاری رکھو ۔ " حتیٰ کہ جب میں اکتا گئی ( تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھارےلئے کافی ہے؟ " میں نے کہا : جی ہاں ۔ فرمایا : " توچلی جاؤ ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، - وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " دَعْهُمَا " فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِمَّا قَالَ " تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ " . فَقُلْتُ نَعَمْ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ وَهُوَ يَقُولُ " دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفَدَةَ " . حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ قَالَ " حَسْبُكِ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَاذْهَبِي " .
#2066
A'isha reported that some Abyssinians came and gave a demonstration of armed fight on the 'Id day in the mosque. The Apostle of Allah (ﷺ) invited me (to see that fight). I placed my head on his shoulder and began to see their sport till it was I who turned away from watching them
جریر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حبشی آکر عید کے دن مسجد میں ہتھیاروں کے ساتھ اچھل کود رہے تھے ، ( ہتھیاروں کا مظاہرہ کررہے تھے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ، میں نے اپنا سر آپ کے کندھے پر رکھا اور ان کا کھیل ( کرتب ) دیکھنے لگی ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے ) یہاں تک کہ میں نے خود ہی ان کے کھیل کے نظارے سے واپسی اختیار کی ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَ حَبَشٌ يَزْفِنُونَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي الْمَسْجِدِ فَدَعَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى مَنْكِبِهِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهِمْ
#2067
This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters but (the narrators) did not make mention of the mosque
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور محمد بن بشر دونوں نے ہشام سے اسی سندکے ساتھ ( سابقہ حدیث کی طرح ) روایت کی اور انھوں نےفي المسجد ( مسجد میں ) کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْمَسْجِدِ .
#2068
A'isha said that she sent a message to the players (of this armed fight) saying:I like to see them (fighting). She further said: The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and I stood at the door (behind him) and saw (this fight) between his ears and his shoulders they played in the mosque. 'Ata' (one of the narra- tors) said: Were they persians or Abyssinians? Ibn 'Atiq told me they were Abyssinians
عطاء نے بتایا کہ مجھے عبید بن عمیر نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ انھوں نے کھیلنے والوں کے بارے میں کہا : میں ان کاکھیل دیکھناچاہتی ہوں ۔ کہا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور میں دروازے پر کھڑی ہوکر آپ کے کانوں اور کندھوں کےدرمیان سے دیکھنے لگی اور وہ لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے ۔ عطاء نے کہا : وہ ایرانی تھے یا حبشی ۔ اور کہا : مجھے ابن عتیق یعنی عبید بن عمیر نے بتایا کہ وہ حبشی تھے ۔
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي، عَاصِمٍ - وَاللَّفْظُ لِعُقْبَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلَعَّابِينَ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقُمْتُ عَلَى الْبَابِ أَنْظُرُ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ . قَالَ عَطَاءٌ فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ . قَالَ وَقَالَ لِي ابْنُ عَتِيقٍ بَلْ حَبَشٌ .
#2069
Abu Huraira reported:While the Abyssinians were busy playing with their arms in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) 'Umar b. Khattab came there. He bent down to take up pebbles to throw at them (in order to make them go off). The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'Umar, leave them alone
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : جبکہ حبشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے بھالوں سے کھیل رہے تھے توحضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہنچ گئے اور کنکریاں اٹھانے کے لئے جھکے تاکہ وہ انھیں کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " عمر!انھیں چھوڑ دو ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحِرَابِهِمْ إِذْ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ
#2070
Abdullah b. Zaid b. Mazini reported:The Messenger of Allah (ﷺ) went to the place of prayer and prayed for rain and turned round his mantle while facing the Qibla
امام مالکؒ نے عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کی ، انھوں نے عباد بن تمیم سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے ) باہر نکل کرعیدگاہ گئے ، بارش مانگی اور جب آپ قبلہ رخ ہوئے تواپنی چادر کو پلٹا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْمَازِنِيَّ، يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ .
#2071
Ibn Tamim narrated on the authority of his uncle ('Abdullah b. Zaid) that the Messenger of Allah (ﷺ) went out to the place of prayer and prayed for rain and faced towards Qibla, and turned round his mantle and prayed two rak'ahs
سفیان بن عینیہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے ، انھوں نے عباد بن تمیم سے اور انھوں نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے ) نکل کر عیدگاہ تشریف لے گئے اور بارش کی دعاکی ، آپ نے قبلے کی طرف رخ کیا ، اپنی چادرپلٹی اوردو رکعت نماز پڑھی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
#2072
Abdullah b. Zaid al-Ansari reported that the Messenger of Allah (ﷺ) went out to the place of prayer in order to offer prayer for rainfall. And when he intended to make supplication he faced Qibla and turned round his mantle
ابو بکربن محمد بن عمرو نے بتایا کہ ان کو عبادبن تمیم نے خبر دی ، ان کوحضرت عبداللہ بن زیدانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعاکرنے کےلئے عید گاہ گئے اور جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ فرمایا تو قبلہ کی طرف رخ کرلیا اور اپنی چادر کو پلٹ دیا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي وَأَنَّهُ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ .
#2073
Abbad b. Tamim Mazini heard his uncle, who was one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), as saying:The Messenger of Allah (ﷺ) went out one day in order to pray for rain. He turned his back towards people, supplicated before Allah, facing towards Qibla, and turned his mantle round and then observed two rak'ahs of prayer
ابن شہاب نے کہا : مجھےعباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ، انھوں نے اپنے چچاسے سنا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے تھے وہ کہہ رہے تھے : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا مانگنےکے لئے نکلے ، اللہ سے دعاکرتے ہوئے اپنی پشت لوگوں کی طرف کی ، منہ قبلہ کی طرف کیا اوراپنی چادر پلٹی ، پھر دو رکعت نمازادا کی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا يَسْتَسْقِي فَجَعَلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
#2074
Anas reported:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) raising his hands (high enough) in supplication (for rain) that the whiteness of his armpits became visible
شعبہ نے ثابت سے اورانھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ دعا کے لئے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ .