#1975
Abu Burda b. Abu Musa al-Ash'ari reported:'Abdullah b. Umar said to me: Did you hear anything from your father narrating something from the messenger of Allah (ﷺ) about the time on Friday? I said: Yes, I heard him say from the Messenger of Allah (ﷺ) (these words):" It is between the time when the Imam sits down and the end of the prayer
ابو بردہ بن ابی مو سیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہا : مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا تم نے اپنے والد کو جمعے کی گھڑی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ہے ؟کہ کہا : میں نے کہا : جی ہاں میں نے انھیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے : " یہ امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز مکمل ہو نے تک ہے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ، بُكَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ: قُلْتُ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلاَةُ»
#1976
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam was created, on it he was made to enter Paradise, on it he. was expelled from it
ابن شہاب نے کہا : مجھے عبد الرحمٰن اعرج نے خبر دی انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بہترین دن جس پر سورج طلوع ہو تا ہے جمعے کا دن ہے اسی دن آدم ؑپیدا کیے گئے اور اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن اس سے نکا لے گئے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا " .
#1977
Abu Huraira reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam was created. on it he was made to enter Paradise, on it he was expelled from it. And the last hour will take place on no day other than Friday
ابو زناد نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رو یت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے جمعے کا ہے اسی دن آدم ؑکو پیدا کیا گیا تھا اور اسی دن انھیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی میں انھیں اس سے نکا لا گیا ( خلا فت ارضی سونپی گئی ) اور قیامت بھی جمعے کے دن ہی بر پاہو گی ۔ " صالح مومنوں کے لیے یہ انعام عظیم حا صل کرنے کا دن ہو گا ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ إِلاَّ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ " .
#1978
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:We who are the last shall be the first on the Day of Resurrection, except that every Ummah was given the Book before us and we were given it after them. It was this day which Allah prescribed for us and guided us to it and the people came after us with regard to it, the Jews observing the next day and the Christians the day following that
عمر و ناقد نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابو زناد سے حدیث سنا ئی انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حجرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم سب سے آخری ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہو ں گے یہ اس کے باوجود ہے کہ ہر امت کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ( ہماری کتاب ) ان کے بعد دی گئی پھر یہ دن جسے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دیا تھا اللہ تعا لیٰ نے اس کے لیے ہماری رہنما ئی فر ما ئی لو گ اس معاملے میں ہمارے بعد ہیں یہود کل ( جمعے سے اگلا دن یعنی ہفتہ منا ئیں گے ) اور نصاریٰ پرسوں ( ہفتےسے اگلا دن اتوار کا منا ئیں گے ۔)
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ الآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتِ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْنَا هَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
#1979
A hadith like this has been narrated by Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:We are the last and would be the first on the Day of Resurrection
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے ابو زناد سے حدیث سنا ئی انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی نیز ( سفیان نے عبد اللہ ) بن طاوس سے انھوں نے اپنے والد ( طاوس بن کیسان ) سے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم سب کے بعد آنے والے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہو ں گے ۔ ۔ ۔ " اسی ( مذکورہ با لا حدیث ) کے مانند ہے
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ الآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . بِمِثْلِهِ .
#1980
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:We are the last (but) we would be the first on the Day of Resurrection, and we would be the first to enter Paradise, but that they were given the Book before us and we were given after them. They disagreed and Allah guided us aright on whatever they disagreed regarding the truth. And it was this day of theirs about which they disagreed, but Allah guided us to it, and that is Friday for us; the next day is for the Jews and the day following for the Christians
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم آخری ہیں ( پھر بھی ) قیامت کے دن پہلے ہو ں گے اور ہم ہی پہلے جنت میں داخل ہوں گے البتہ انھیں ( انکی ) کتاب ہم سب سے پہلے دی گئی اور ہمیں ( ہماری کتاب ) ان کے بعد دی گئی انھوں نے ( آپس میں ) اختلا ف کیا اور اللہ تعا لیٰ نے ہماری اس حق کی طرف رہنما ئی فر ما ئی جس میں انھوں نے اختلا ف کیا تھا یہ ( جمعہ ) ان کا وہی دن تھا جس کے بارے میں انھوں نے اختلا ف کیا اللہ تعا لیٰ نے ہمیں اس کی طرف رہنما ئی کردی ۔ ۔ ۔ راوی نے کہا : جمعے کا دن مرادہے ۔ ۔ آج کا دن ہمارا ہے اور کل کا دن یہودیوں کا ہے اس سے اگلا دن عیسائیوں کا ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ الآخِرُونَ الأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَاخْتَلَفُوا فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ هَدَانَا اللَّهُ لَهُ - قَالَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ - فَالْيَوْمُ لَنَا وَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى " .
#1981
Abu Huraira reported Muhammad, the Messenger of Allah (ﷺ), as saying:We who are the last would be the first on the Day of Resurrection but they (other Ummahs) were given the Book before us and we were given after them, and this was the day that was prescribed for them but they disagreed on it. And Allah guided us to it. and they came after us with regard to it, the Jews observing the next day and the Christians the day following that
وہب بن منبہ کے بھا ئی ہمام بن منبہ نے کہا : یہ حدیث ہے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ہم آخری ہیں ( مگر ) قیامت کے دن سبقت لے جا نے والے ہو ں گے اس کے باوجود کہ ان کے بعد دی گئی اور یہ ( جمعہ ) ان کا وہی دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا اور وہ اس کے بارے میں اختلاف میں پڑگئے پھر اللہ تعا لیٰ نے اس کے بارے میں ہماری رہنمائی فر ما ئی اس لیے وہ لو گ اس ( عبادت کے دن کے ) معاملے میں ہم سے پیچھے ہیں یہود ( اپنا دن ) کل منا ئیں گے اور عیسا ئی پر سوں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَالْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
#1982
It is narrated by Abu Huraira and Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:It was Friday from which Allah diverted those who were before us. For the Jews (the day set aside for prayer) was Sabt (Saturday), and for the Christians it was Sunday. And Allah turned towards us and guided us to Friday (as the day of prayer) for us. In fact, He (Allah) made Friday, Saturday and Sunday (as days of prayer). In this order would they (Jews and Christians) come after us on the Day of Resurrection. We are the last of (the Ummahs) among the people in this world and the first among the created to be judged on the Day of Resurrection. In one narration it is: ', to be judged among them
ابو کریب اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے کہا : ہم سے ابن فضیل نے ابومالک اشجعی ( سعد بن طارق ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو حازم سے اورانھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز انھوں ( ابو مالک ) نے ربعی بن حراش سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں ( صحابیوں ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو لوگ ہم سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے انھیں جمعہ کی راہ سے ہٹادیا ، اس لئے یہود کے لئے ہفتے کا دن ہوگیا اور نصاریٰ کے لئے اتوار کا دن ۔ پھراللہ تعالیٰ نے ہمیں ( اس دنیا میں لایا ) اور جمعے کے دن کی طرف ہماری راہنمائی فرمادی ۔ اس نے جمعہ پھر ہفتہ پھر اتوار رکھا ( جس طرح وہ عبادت کے دنوں میں ہم سے پیچھے ہیں ) اسی طرح قیامت کے دن بھی ہم سے پیچھے ہوں گے ۔ اہل دنیا میں سے ہم سب کے بعد ہیں اور قیامت کےدن سب سے پہلے ہوں گے ۔ جن کا فیصلہ ( باقی ) مخلوقات سے پہلے کردیا جائے گا ۔ "" واصل کی روایت میں ( المقضي لهم کی جگہ ) المقضي بينهم ( جن کے درمیان فیصلہ ) ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، الأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَضَلَّ اللَّهُ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الأَحَدِ فَجَاءَ اللَّهُ بِنَا فَهَدَانَا اللَّهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالأَحَدَ وَكَذَلِكَ هُمْ تَبَعٌ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَحْنُ الآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلاَئِقِ " . وَفِي رِوَايَةِ وَاصِلٍ الْمَقْضِيُّ بَيْنَهُمْ .
#1983
Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:We were guided aright to Friday (as a day of prayer and meditation), but Allah diverted those who were before us from it. The rest of the hadith is the same
ابن ابی زائدہ نے ( ابومالک ) سعد بن طارق سے خبر دی ، انھوں نے کہا : ربعی بن حراش نے مجھے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہماری راہنمائی جمعے کی طرف کی گئی اور جو لوگ ہم سے پہلے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے ا س سےدوسری راہ پر لگادیا ۔ ۔ ۔ " آگے ابن فضیل کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ، حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُدِينَا إِلَى الْجُمُعَةِ وَأَضَلَّ اللَّهُ عَنْهَا مَنْ كَانَ قَبْلَنَا " . فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ .
#1984
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When it is Friday, the angels stand at every door of the mosque and record the people in the order of their arrival, and when the Imam sits (on the pulpit for delivering the sermon) they fold up their sheets (manuscripts of the Qur'an) and listen to the mention (of Allah). And he who comes early is like one who offers a she-camel as a sacrifice, the next like one who offers a cow, the next a ram, the next a hen, the next an egg
ابوعبداللہ اغر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب جمعے کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں جو ( آنے والوں کی ترتیب کے مطابق ( پہلے پھر پہلے کا نام لکھتے ہیں ، اور جب امام ( منبر پر ) بیٹھ جاتا ہے تو وہ ( ناموں والے ) صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اورآکرذکر ( خطبہ ) سنتے ہیں ۔ اور گرمی میں ( پہلے ) آنے والے کی مثال اس انسان جیسی ہے جو اونٹ قربان کرتا ہےپھر ( جو آیا ) گویا وہ گائے قربان کردیتا ہے ۔ پھر ( جو آیا ) گویا وہ مینڈھا قربان کردیتاہے ، پھر ( جو آیا ) گویا وہ تقرب کے لئے مرغی پیش کرتاہے پھر ( جو آیا ) گویا وہ تقریب کے لئے انڈا پیش کرتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، الأَغَرُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلاَئِكَةٌ يَكْتُبُونَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ فَإِذَا جَلَسَ الإِمَامُ طَوَوُا الصُّحُفَ وَجَاءُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي الْبَدَنَةَ ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الْكَبْشَ ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ»
#1985
This hadith has been narrated by Abu Huraira through another chain of transmitters
سعید ( بن مسیب ) نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
#1986
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is an angel on every door of the mosque recording him first who (comes) first (to the mosque for Friday prayer). And he [the Prophet] likened him to one who offers a camel as a sacrifice and then he went on in the descending order till he reached the point at which the minimum (sacrifice) is that of an egg. And when the Imam sits (on the pulpit) the sheets are folded and they (the angels) attend to the mention of Allah
سہیل کے والد ابو صالح سمان نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتاہے جو پہلے پھر پہلے آنے والے کا نام لکھتا ہے ۔ آپ نے اونٹ کی قربانی کی مثال دی ، پھر بتدریج کم کرتے گئے یہاں تک کہ ( آخر میں ) انڈے جیسے چھوٹے ( صدقے ) کی مثال دی ۔ پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو ( اندراج کے ) صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور ( فرشتے ) ذکر ونصیحت ( سننے ) کے لئے حاضر ہوجاتے ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكٌ يَكْتُبُ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ - مَثَّلَ الْجَزُورَ ثُمَّ نَزَّلَهُمْ حَتَّى صَغَّرَ إِلَى مَثَلِ الْبَيْضَةِ - فَإِذَا جَلَسَ الإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ وَحَضَرُوا الذِّكْرَ "
#1987
Abu-Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who took a bath and then came for Jumu'a prayer and then prayed what was fixed for him, then kept silence till the Imam finished the sermon, and then prayed along with him, his sins between that time and the next Friday would be forgiven, and even of three days more
سہیل نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کہ آپ نے فرمایا : " جس نے غسل کیا ، پھر جمعے کے لئے حاضر ہوا ، پھر اس کے مقدر میں جتنی ( نفل ) نماز تھی پڑھی ، پھر خاموشی سے ( خطبہ ) سنتا رہا حتیٰ کہ خطیب اپنے خطبے سے فارغ ہوگیا ، پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی ، اس کے اس جمعے سے لے کر ایک اور ( پچھلے یا اگلے ) جمعے تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور مزید تین دنوں کے بھی ۔
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَصَلَّى مَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ ثُمَّ يُصَلِّيَ مَعَهُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى وَفَضْلَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ " .
#1988
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who performed ablution well, then came to Friday prayer, listened (to the sermon), kept silence all (his sins) between that time and the next Friday would be forgiven with three days extra, and he who touched pebbles caused an interruption
اعمش نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے وضو کیا اوراچھی طرح وضو کیا ، پھر جمعے کے لئے آیا ، غور کے ساتھ خاموشی سے خطبہ سنا ، اس کے جمعے سے لے کر جمعے تک گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔ اورتین دن زائد کے بھی ۔ اور جو ( بلاوجہ ) کنکریوں کو ہاتھ لگاتا رہا ( ان سے کھیلتا رہا ) ، اس نے لغو اورفضول کام کیا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا " .
#1989
Jabir b. 'Abdullah reported:We used to observe (Jumu'a) prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) and then we returned and gave rest to our camels used for carrying water. Hassan[ (one of the narrators) said: I asked Ja'far what time that was. He said.. It is the time when the sun passes the meridian
حسن بن عیاش نے جعفر بن محمد سے ، انھوں نے اپنے والد ( محمد ) سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، پھر واپس آتے ، پھر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام کا وقت دیتے ، حسن نےکہا : میں نے جعفر سے کہا : یہ ( نماز ) کس وقت ہوتی؟انھوں نے کہا : سورج کے ڈھلنے کے وقت ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا . قَالَ حَسَنٌ فَقُلْتُ لِجَعْفَرٍ فِي أَىِّ سَاعَةٍ تِلْكَ قَالَ زَوَالَ الشَّمْسِ .
#1990
Ja'far reported on the authority of his father:that he asked Jabir b. 'Abdullah when the Messenger of Allah (ﷺ) observed Jumu'a prayer. He said: He used to observe prayer, and we then went (back) to our camels and gave them rest. 'Abdullah made this addition in his narration: "Till the sun passed the meridian. and the camels used for carrying water (took rest)
قاسم بن زکریا نے کہا : ہمیں خالد بن مخلد نے حدیث بیان کی ، نیز عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے کہا : ہمیں یحییٰ بن حسان نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( خالد اوریحییٰ ) نے کہا : ہمیں سلیمان بن بلال نے جعفر سےحدیث بیا ن کی ، انھوں نےاپنے والد ( محمد ) سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت جمعہ پڑھتے تھے؟انھوں نے کہا : آپ جمعہ پڑھاتے ، پھر ہم اونٹوں کے پاس جاتے ، پھر انہیں آرام کا وقت دیتے ۔ عبداللہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : جس وقت سورج ڈھل جاتا ۔ ( جمال سے مراد ) تواضح ، یعنی پانی لانے والے اونٹ ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْجُمُعَةَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ نَذْهَبُ إِلَى جِمَالِنَا فَنُرِيحُهَا . زَادَ عَبْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ يَعْنِي النَّوَاضِحَ .
#1991
Sahl b. Said said:We did not have a siesta or lunch till after the Friday prayer. (Ibn Hajr added: ) "During the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ)
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب ، یحییٰ بن یحییٰ اور علی بن حجر میں سے یحییٰ نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہم سے حدیث بیا ن کی عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد ابوحازم سے ، انھوں نے حضرت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے تھے ۔ ( علی ) ابن حجر نے اضافہ کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ مَا كُنَّا نَقِيلُ وَلاَ نَتَغَدَّى إِلاَّ بَعْدَ الْجُمُعَةِ - زَادَ ابْنُ حُجْرٍ - فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
#1992
Iyas b. Salama b. al-Akwa' reported on the authority of his father:We used to observe the Friday prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) when the sun passed the meridian. and we then returned and tried to find out afternoon shadow (of the walls for protecting themselves from the heat of the sun)
وکیع نے یعلیٰ بن حارث محاربی سے روایت کی ، انھوں نے ایاس بن سلمہ بن اکوع سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب سورج ڈھلتا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے ، پھر ہم سایہ تلاش کرتے ہوئے لوٹتے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ، الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ نَرْجِعُ نَتَتَبَّعُ الْفَىْءَ .
#1993
Iyas b. Salama b. Akwa' reported on the authority of his father, saying:We used to observe the Friday prayer with the Messenger of Allah (ﷺ), and when we returned we did not find the shadow of the walls in which we could take protection (from the heat of the sun)
ہشام بن عبدالملک نے یعلیٰ بن حارث سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے پھر لوٹتے تو ہمیں دیواروں کا اتنا بھی سایہ نہ ملتا کہ ہم ( سورج سے ) اس کی اوٹ لے سکیں ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجُمُعَةَ فَنَرْجِعُ وَمَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ .
#1994
Ibn 'Umar said that the Messenger of Allah (ﷺ) used to deliver the sermon on Friday while standing. He would then sit and then stand (for the second sermon) as they (the Muslims) do nowadays
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے ، پھر ( تھوڑی دیر ) بیٹھ جاتے ، پھر کھڑے ہوجاتے ۔ کہا : جس طرح آجکل ( خطبہ دینے والے ) کرتے ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ خَالِدٍ، - قَالَ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ . قَالَ كَمَا يَفْعَلُونَ الْيَوْمَ .
#1995
Jabir b. Samura said:The Apostle of Allah (ﷺ) gave two sermons between which he sat, recited the Qur'an and exhorted the people
ابو احوص نے سماک سے اور انھوں نے حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے جن کے درمیان آپ بیٹھتے تھے ۔ آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت اور تذکیر فرماتے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ .
#1996
Jabir b. Samura said that the Messenger of Allah (ﷺ) used to deliver the sermon while standing. He would then sit down and then stand up and address in a standing posture; and whoever informed you that he (the Holy Prophet) delivered the sermon while sitting told a lie. By Allah. I prayed with him more than two thousand times
ابو خثیمہ نے سماک سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ دیتے تھے ، پھر بیٹھ جاتے ، پھر کھڑے ہوتے اور کھڑے ہوکر خطبہ دیتے ، اس لئے جس نے تمھیں یہ بتایا کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے ، اس نے جھوٹ بولا ۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کے ساتھ دو ہزار سے زائد نمازیں پڑھی ہیں ۔ ( جن میں بہت سے جمعے بھی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام خطبے کھڑے ہوکر دیے ۔)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ أَنْبَأَنِي جَابِرُ بْنُ، سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَىْ صَلاَةٍ
#1997
Jabir b. Abdullah reported that the Apostle (ﷺ) was delivering the sermon on Friday in a standing posture when a caravan from Syria arrived. The people flocked towards it till no one was left (with the Holy Prophet) but twelve persons, and it was on this occasion that this verse in regard to Jumu'a was revealed." And when they see merchandise or sport. they break away to it and leave thee standing
جریر نے حصین بن عبدالرحمان سے روایت کی ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کےی دن کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آگیا ، لوگوں نے اس کا رخ کرلیا حتیٰ کہ پیچھے بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا تویہ آیت نازل کی گئی جو سورہ جمعہ میں ہے : " اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنَ الشَّامِ فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ { وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا}
#1998
This hadith has been narrated by Husain with the same chain of transmitters but with this alteration that he did not make mention of the standing position
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، کہا : ( جب تجارتی قافلہ آیاتو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ۔ یہ نہیں کہا : کھڑے ہوئے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ . وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا .
#1999
Jabir b. Abdullah reported:I was along with the Messenger of Allah (ﷺ) on Friday when a caravan arrived. The people went to it, and none but twelve persons were left behind and I was one of them; and it was on this occasion that this verse was revealed:" And when they see merchandise or sport away to it, and leave thee standing" (lxii. 1 1). they break
خالد طحان نے حصین سے روایت کی ، انھوں نے سالم اور ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک چھوٹا سا بازار ( سامان بیچنے والوں کا قافلہ ) آگیا تو لوگ اس کی طرف نکل گئے اور ( صرف ) بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا ، میں بھی ان میں تھا ، کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : " اور جب وہ تجارت یاکوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آ پ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں " آیت کے آخر تک ۔
وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمٍ، وَأَبِي، سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ قَالَ فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَبْقَ إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً أَنَا فِيهِمْ - قَالَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ { وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} إِلَى آخِرِ الآيَةِ .