#1775
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah descends to the lowest heaven at half of the night or at one-third of the latter part and says: Who is there to supplicate Me so that I answer him? Who is there to ask Me so that I grant him? And then says: Who will lend to One Who is neither indigent nor tyrant? (This hadith has been narrated by Sa'd b. Sa'id with the same chain of transmitters with this addition:" Then the Blessed and the Exalted (Lord) stretches His Hands and says: Who will lend to One Who is neither indigent nor tyrant?
محاضر ابومورع نے کہا : ہم سے سعد بن سعید ( بن قیس انصاری ) نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابن مرجانہ نے خبر دی ، انوں نے کہامیں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آدھی رات یا رات کی آخری تہائی کے وقت اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کون مجھ سے دعا کرے گا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ۔ یامجھ سے سوال کرے میں اسے عطا کرو؟پھر فرماتا ہے : کون اس ( ذات ) کو قرض دےگا جو نہ محتاج ہے اور نہ حق مارنے والی ہے ( اللہ تعالیٰ کو ) ؟ "" امام مسلمؒ نے کہا : ابن مرجانہ سے مراد سعید بن عبداللہ ( ابو العثمان المدنی ) ہیں اور مرجانہ ان کی والدہ ہیں ۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَرْجَانَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَنْزِلُ اللَّهُ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا لِشَطْرِ اللَّيْلِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الآخِرِ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ أَوْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ . ثُمَّ يَقُولُ مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدِيمٍ وَلاَ ظَلُومٍ " . قَالَ مُسْلِمٌ ابْنُ مَرْجَانَةَ هُوَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمَرْجَانَةُ أُمُّهُ . حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ " ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ وَلاَ ظَلُومٍ " .
#1776
Abu Sa'id and Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah waits till when one-third of the first part of the night is over; He descends to the lowest heaven and says: It there any supplicator of forgiveness? Is there any penitant? Is there any petitioner (for mercy and favour)? Is there any solicitor? -till it is daybreak
سلیمان بن بلال نے سعد بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس میں یہ اضافہ ہے : " پھراللہ تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے ۔ : کون اسکو قرض دے گا جو نہ محتاج ہے اور نہ ہی ظالم ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ - وَاللَّفْظُ لاِبْنَىْ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، يَرْوِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ نَزَلَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ هَلْ مِنْ تَائِبٍ هَلْ مِنْ سَائِلٍ هَلْ مِنْ دَاعٍ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ " .
#1777
This hadith is narrated by Ishaq with the same chain uf transmitters except this that the hadith transmitted by Mansur (the above one) is more comprehensive and lengthy
منصور نے ابو اسحاق سے اور انھوں نے اغر ابو مسلم سے روایت کی ، وہ حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ( بندوں کو آرام کی ) مہلت دیتاہے حتیٰ کہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتاہے تو وہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے؟کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟کیاکوئی مانگنے والاہے؟کیاکوئی پکارنے والا ہے؟حتیٰ کہ فجر پھوٹ پڑتی ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ، مَنْصُورٍ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ .
#1778
شعبہ نے ابو اسحاق سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث بیان کی ، البتہ منصور کی روایت مکمل اور زیادہ ( تفصیلات پر محیط ) ہے ۔
#1779
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who observed prayer at night during Ramadan, because of faith and seeking his reward from Allah, his previous sins would be forgiven
حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کے ایمان ( کی حالت میں ) اور اجر طلب کرتے ہوئے رمضان کا قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردیئے گئے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#1780
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to exhort (his Companions) to pray (at night) during Ramadan without commanding them to observe it as an obligatory act, and say: He who observed the night prayer in Ramadan because of faith and seeking his reward (from Allah), all his previous sins would be forgiven. When Allah's Messenger (ﷺ) died, this was the practice, and it continued thus during Abu Bakr's caliphate and the early part of 'Umar's caliphate
امام زہری نے ابو سلمہ ( بن عبدالرحمان ) سے اور انھوں نے ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لازم ٹھہرائے بغیر رمضان کے قیام کی ترغیب دیتے تھے ، آپ فرماتے : " جس نے رمضان کا قیام ایمان ( کی حالت میں ) اوراجر طلب کرتے ہوئے کیا ، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ یہی رہا ، پھر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ اسی طرح رہا ( ترغیب دی جاتی رہی ، اجتماعی طور پر اہتمام نہیں کیاگیا)
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ .
#1781
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who observed the fasts of Ramadan with faith and seeking reward (from Allah), all his previous sins would be forgiven, and he who observed prayer on Lailat-ul- Qadr with faith and seeking reward (from Allah), all his previous sins would be forgiven
حییٰ بن ابی کثیر نے کہا : ہمیں سلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی ۔ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے رمضان کے روزے ایمان ( کی حالت میں ) اور ثواب کے لئے رکھے ، اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور جس نے لیلۃ القدر کا قیام ایمان کے ساتھ اور ثواب کے لئے کیا تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
#1782
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who prayed on the Lailat-ul-Qadr (the Majestic Night) knowing that it is (the same night). I (believe) that he (the Prophet also) said: (He who does) it with faith and seeking reward (from Allah), his sins would be forgiven
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ا نھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص لیلۃ القدر کا قیام کرے گا اور اس کو پالے گا ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا ۔ ایمان کے عالم میں اور احتساب کے لئے ، اسے بخش دیا جائے گا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَيُوَافِقُهَا - أُرَاهُ قَالَ - إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ " .
#1783
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed one night in the mosque and people also prayed along with him. He then prayed on the following night and there were many persons. Then on the third or fourth night (many people) gathered there, but the Messenger of Allah (ﷺ) did not come out to them (for leading the Tarawih prayer). When it was morning he said:I saw what you were doing, but I desisted to come to you (and lead the prayer) for I feared that this prayer might become obligatory for you. (He the narrator) said: It was the month of Ramadan
امام مالکؒ نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ اور لوگوں نے ( بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر آپ نے اس سے اگلی ر ات نماز پڑھی تو لوگوں ( کی تعداد ) میں اضافہ ہوگیا ، پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے ۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو تم نے کیا میں نے دیکھا ، مجھے تمہارے پاس آنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ ( نماز ) تم پر فرض نہ ہوجائے ۔ "" ( عروہ یا ان کے بعد کے کسی راوی نے ) کہا : اور یہ رمضان میں ہوا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ " قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلاَّ أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ " . قَالَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ .
#1784
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) came out during the night and observed prayer in the mosque and some of the people prayed along with him. When it was morning the people talked about this and so a large number of people gathered there. The Messenger of Allah (ﷺ) went out for the second night, and they (the people) prayed along with him. When it was morning the people began to talk about it. So the mosque thronged with people on the third night. He (the Holy Prophet) came out and they prayed along with him. When it was the fourth night, the mosque was filled to its utmost capacity but the Messenger of Allah (ﷺ) did not come out. Some persons among then cried:" Prayer." But the Messenger of Allah (ﷺ) did not come to them till he came out for the morning prayer. When he had completed the morning prayer, he turned his face to the people and recited Tashahhud (I bear testi- mony that there is no god but Allah and I bear testimony that Muhammad is His Messen- ger) and then said: Your affair was not hidden from me in the night, but I was afraid that (my observing prayer continuously) might make the night prayer obligatory for you and you might be unable to perform it
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وسط میں ( گھر سے ) نکلے اور مسجد میں نماز پڑھی ، کچھ لوگوں نے ( بھی ) آپ کی نماز کے ساتھ نماز ادا کی ، صبح کو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، چنانچہ ( دوسری رات ) لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہوگئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم د وسری رات بھی باہر تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کی نماز کے ساتھ ( اقتداء میں ) نماز پڑھی ، صبح اس کا تذکرہ کرتے رہے ، تیسری رات مسجد میں آنے والے اور زیادہ ہوگئے آپ باہر تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھی ، جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد نمازیوں کے لئے تنگ ہوگئی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے حتیٰ کہ آپ صبح کی نماز کے لئے تشریف لائے ۔ جب صبح کی نماز پوری کرلی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، پھر شہادتین پڑھ کر ( یہ خطبے کا حصہ ہیں ) فرمایا : " اما بعد! واقعہ یہ ہے کہ آج رات تمہارا حال مجھ سے مخفی نہ تھا لیکن مجھے خدشہ ہوا کہ رات کی نماز تم پر فرض نہ کردی جائے پر تم اس ( کی ادائیگی ) سے عاجز رہو ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاَتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ ذَلِكَ فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ الصَّلاَةَ . فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى خَرَجَ لِصَلاَةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَىَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاَةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا " .
#1785
Zirr (b. Hubaish) reported:I heard from Ubayy b. Ka'b a statement made by 'Abdullah b. Mas'ud in which he said: He who gets up for prayer (every night) during the year will hit upon Lailat-ul-Qadr. Ubayy said: By Allah I there is no god but He, that (Lailat-ul-Qadr) is in Ramadhan (He swore without reservation: ) By Allah, I know the night; it is the night on which the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to pray. It is that which precedes the morning of twenty-seventy and its indication is that the sun rises bright on that day without rays
اوزاعی نے کہا : مجھ سے عبدہ ( بن ابی لبابہ ) نے زر ( بن جیش ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے جب کہ ان سے کہاگیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں : جس نے سال بھر قیام کیا اس نے شب قدر کو پالیا تو ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!وہ رات ر مضان میں ہے ۔ ۔ ۔ وہ بغیر کسی استثناء کے حلف اٹھاتے تھے ۔ ۔ ۔ اور اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ رات کون سی ہے ، یہ وہی رات ہے جس میں قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ، یہ ستائیسویں صبح کی رات ہے اور ا س کی علامت یہ ہے کہ اس دن کی صبح کو سورج سفید طلوع ہوتا ہے ، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ سَمِعْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ، يَقُولُ - وَقِيلَ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَنْ قَامَ السَّنَةَ أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ - فَقَالَ أُبَىٌّ وَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ - يَحْلِفُ مَا يَسْتَثْنِي - وَوَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ أَىُّ لَيْلَةٍ هِيَ . هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ صَبِيحَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لاَ شُعَاعَ لَهَا .
#1786
Ubayy b Ka'b reported:By Allah, I know about Lailat-ul Qadr and I know it fully well that it is the twenty-seventh night (during Ramadan) on which the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to observe prayer. (Shu'ba was in doubt about these words:" the night on which the Messenger of Allah [may peace be upon him] commanded us to observe the prayer." This has been transmitted to me by a friend of mine
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبدہ بن ابی لبابہ کو زرین حبیش سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( زرنے ) کہا : حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا : اللہ کی قسم!میں اس کے بارے میں جانتا ہوں اور میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ، یہ ستائیسویں رات ہے ۔ شعبہ نے "" یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا "" فقرے کے بارے میں شک کیا ، انھوں نے کہا : مجھے یہ روایت میرے ساتھی نے ان ( عبدہ بن ابی لبابہ کے حوالے ) سے سنائی تھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ أُبَىٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُهَا وَأَكْثَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ - وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ - هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ .
#1787
Shu'ba reported this hadith with the same chain of transmitters, but he made no mention that Shu'ba was in doubt and what follows subsequently
۔ ( عبیداللہ کے والد ) معاذ نے کہا : ہم سے شعبہ نے اسی سند کے ساتھ سابقہ روایت کی مانند حدیث بیان کی لیکن اس میں انما شك شعبة ( شعبہ نے اس کے بارے میں شک کیا ) اور اس کے بعد کی عبارت بیان نہیں کی ۔
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ إِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ . وَمَا بَعْدَهُ .
#1788
Ibn `Abbas reported:I spent a night with my maternal aunt (sister of my mother) Maimuna. The Apostle of Allah (ﷺ) got up during the night and relieved himself, then washed his face and hands and went to sleep. He then got up again, and came to the water skin and loosened its straps, then performed good ablution between the two extremes. He then stood up and observed prayer. I also stood up and stretched my body fearing that he might be under the impression that I was there to find out (what he did at night). So I also performed ablution and stood up to pray, but I stood on his left. He took hold of my hand and made me go around to his right side. The Messenger of Allah (ﷺ) completed thirteen rak`ahs of his night prayer. He then lay down and slept and snored (and it was his habit to snore while asleep). Then Bilal came and he informed him about the prayer. He (the Holy Prophet) then stood up for prayer and did not perform ablution, and his supplication included these words: "O Allah, place light in my heart, light in my sight, light in my hearing, light on my right hand, light on my left hand, light above me, light below me, light in front of me, light behind me, and enhance light for me." Kuraib (the narrator) said: There are seven (words more) which are in my heart (but I cannot recall them) and I met some of the descendants of Al-`Abbas and they narrated these words to me and mentioned in them: (Light) in my sinew, in my flesh, in my blood, in my hair, in my skin, and made a mention of two more things
سلمہ بن کہیل نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور اپنی ضرورت ( کی جگہ ) آئے ، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر سو گئے پھر اٹھے اور مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا بندھن کھولا ، پھر دو ( طرح کے ) وضو ( بہت ہلکا وضو اور بہت زیادہ وضو ) کے درمیان کا وضو کیا اور ( پانی ) زیادہ ( استعمال ) نہیں کیا اور ( وضو ) اچھی طرح کیا ، پھر اٹھے اور نماز شروع کی تو میں اٹھا اور میں نے انگڑائی لی ، اس ڈر سے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ ( کے حالات جاننے ) کی خاطر جاگ رہا تھا ، پھر میں نے وضو کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ تو میں آپ کی دائیں جانب کھڑا ہوگیا ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب ( کھڑا ) کرلیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت رات کی نماز مکمل ہوئی ، پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے حتیٰ کہ آپ کی سانس لینے کی آواز آنے لگی ، آپ جب سوتے تھے تو آواز آتی تھی ۔ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی ، آپ نے نماز پڑھی ( سنت فجر ادا کیں ) اور وضو نہ کیا اور آپ کی دعا میں تھا : "" اےللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری آنکھوں میں اور میرے کانوں میں نور بھردے اورمیری دائیں طرف نور کردے اور میری بائیں طرف نور کردے اور میرے نیچے نور کردے اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کردے اور میرے لئے نور کو عظیم کردے ۔ "" ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ) کریب نے بتایا کہ ( ان کے علاوہ مزید ) سات ( چیزوں کے بارے میں دعا مانگی جن ) کا تعلق جسم کے صندوق ( پسلیوں اور اردگرد کے حصے ) سے ہے ، میر ی ملاقات حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے ہوئی تو انھوں نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ، انھوں نے بتایا کہ میرے پٹھوں ، میرے گوشت ، میرےخون ، میرے بالوں اور میری کھال ( کو نور کردے ) ، دو اور بھی چیزیں بتائیں ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ وَلَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَنْتَبِهُ لَهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَامَّتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ فِي دُعَائِهِ " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَعَظِّمْ لِي نُورًا " . قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعًا فِي التَّابُوتِ فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَكَرَ عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعَرِي وَبَشَرِي وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ .
#1789
Kuraib, the freed slave of Ibn `Abbas, reported that Ibn `Abbas narrated to him that he spent a night in the house of Maimuna, the mother of the believers, who was his mother's sister. I lay down across the cushion, whereas the Messenger of Allah (ﷺ) and his wife lay down on it length-wise. The Messenger of Allah (ﷺ) slept till midnight, or a little before midnight, or a little after midnight, and then got up and began to cast off the effects of sleep from his face by rubbing with his hand, and then recited the ten concluding verses of Surah Al-`Imran. He then stood up near a hanging water-skin and performed ablution well, and then stood up and prayed, Ibn `Abbas said:I also stood up and did the same, as the Messenger of Allah (ﷺ) had done, and then went to him and stood by his side. The Messenger of Allah (ﷺ) placed his right hand upon my head and took hold of my right ear and twisted it, and then observed a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, again a pair of rak`ahs, and then observed Witr and then lay down till the Mu'adhdhin came to him. He (the Holy Prophet) then stood up and observed two short rak`ahs, and then went out (to the mosque) and observed the dawn prayer
امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان سے اور انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ کریب سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ انھوں نے ایک رات ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری جو ان کی خالہ تھیں ، تو میں سرہانے ( بستر ) کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس ( بستر ) کے طول ( لمبائی ) میں لیٹے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ رات آدھی ہوئی ۔ یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدا ر ہوگئے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے چہرے سے نیند زائل کرنے لگے ، ( چہرے پر ہاتھ پھیرا ) پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں ، پھر آپ اٹھ کرایک لٹکے ہوے مشکیزے کے پاس گئے اور اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : "" میں اٹھا اور میں نے بھی وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاتھا ۔ پھر جا کر آپ کے پہلو میں کھڑ ہوگیااس پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دائیاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر ( آہستہ سے ) مروڑنے لگے ۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں ، پھر دورکعتیں پڑھیں ۔ پھر وتر پڑھا ، پھر آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ موذن آپ کے پاس آیا تو آ پ کھڑے ہوئے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں ، پھر تشریف لئے گئے اور صبح کی نماز ادا کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - وَهِيَ خَالَتُهُ - قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ .
#1790
Makhrama b. Sulaiman narrated it with the same chain of narrators and he made this addition:"He then went to the water-skin and brushed his teeth and performed ablution well. He did not pour water but a little. He then awakened me and I stood up," and the rest of the hadith is the same
عیاض بن عبداللہ فہری نے مخرمہ بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور یہ اضافہ کیا : پھر آپ نے پانی کے ایک پرانے مشکیزے کا رخ کیا ، پھر مسواک کی اور وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا ، لیکن پانی بہت ہی کم بہایا ، پھر مجھے ہلایا اور میں کھڑا ہوگیا ۔ ۔ ۔ باقی ساری حدیث مالک کی حدیث کی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى شَجْبٍ مِنْ مَاءٍ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ وَلَمْ يُهْرِقْ مِنَ الْمَاءِ إِلاَّ قَلِيلاً ثُمَّ حَرَّكَنِي فَقُمْتُ . وَسَائِرُ الْحَدِيثِ نَحْوُ حَدِيثِ مَالِكٍ .
#1791
Ibn `Abbas reported:I slept (one night) in the house of Maimuna, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) was with her that night. He (after sleeping for half of the night got up and) then performed ablution and then stood up and observed prayer. I too stood on his left side. He took hold of me and made me stand on his right side. He (the Holy Prophet) observed thirteen rak`ahs on that night. The Messenger of Allah (ﷺ) then slept and snored and it was a habit with him to snore while sleeping. The Mu'adhdhin then came to him (to inform him about the prayer). He then went out and observed prayer without performing ablution. (`Amr said: Bukair b. Ashajj had narrated it to me)
عمرو نے عبدربہ بن سعید سے ، انھوں نے مخرمہ بن سلیمان سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ کریب سے اور انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں سویا اور اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کے پاس تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے ، میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا ۔ اس رات آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ آپ ( کے سانسوں ) کی آواز آنے لگی ، جب آپ سوتے تو سانس لینے کی آوازآتی تھی ۔ پھر آپ کے پاس موذن آیا تو آپ باہر تشریف لے گئے اور نماز ادا کی ، آپ نے ( ازسرنو ) وضو نہیں کیا ۔ عمرو نے کہا میں نے یہ حدیث بکیر بن اشج کو سنائی تو انھوں نے کہا : کریب نے مجھے یہی حدیث سنائی تھی ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قَالَ عَمْرٌو فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ فَقَالَ حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ .
#1792
Ibn `Abbas reported:I spent one night in the house of my mother's sister Maimuna, daughter of Al-Harith, and said to her: Awake me when the Messenger of Allah (ﷺ) stands to pray (at night). (She woke me up when) the Messenger of Allah (ﷺ) stood up for prayer. I stood on his left side. He took hold of my hand and made me stand on his right side, and whenever I dozed off he took hold of my earlobe (and made me alert). He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) observed eleven rak`ahs. He then sat with his legs drawn and wrapped in his garment and slept so that I could hear his breathing while asleep. And when the dawn appeared, he observed two short rak`ahs of (Sunnah) prayer
ضحاک نے مخرمہ بن سلیمان سے ، انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں بسر کی ، میں نے ان سے عرض کی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں تو آ پ مجھے بھی بیدار کردیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف میں کردیا ، جب مجھے جھپکی آنے لگتی تو آپ میرے کان کی لو پکڑ لیتے ، آپ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ نے کمر اور پنڈلیوں کے گرد کپڑا لپیٹ کر اسے سہارا بنا لیا ( اور سوگئے ) یہاں تک کہ میں آپ کے سونے کی حالت میں آپ کے سانس لینے کی آوازسن رہاتھا ۔ تو جب آپ کے سامنے صبح ظاہر ہوئی تو آپ نے ہلکی دو رکعتیں پڑھیں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقُلْتُ لَهَا إِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَيْقِظِينِي . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي مِنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِي - قَالَ - فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ احْتَبَى حَتَّى إِنِّي لأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ .
#1793
Ibn `Abbas reported that he spent a night in the house of his maternal aunt, Maimuna. The Messenger of Allah (ﷺ) got up at night and performed a short ablution (taking water) from the water-skin hanging there. (Giving a description of the ablution Ibn `Abbas said:It was short and performed with a little water.) I also got up and did the same as the Messenger of Allah (ﷺ) had done. I then came (to him) and stood on his left. He then made me go around to his right side. He then observed prayer and went to sleep till he began to snore. Bilal came to him and informed him about the prayer. He (the Holy Prophet) then went out and observed the dawn prayer without performing ablution. Sufyan said: It was a special (prerogative of the) Apostle of Allah (ﷺ) for it has been conveyed to us that the eyes of the Messenger of Allah (ﷺ) sleep, but his heart does not sleep
سفیان بن عمرو بن دینار سے ، انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات بسر کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را ت کے وقت اٹھے ، پھر آپ نے لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا وضوکیا ( کریب نے ) کہا : انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے آپ کے وضو کی کیفیت بیان کی اور وضو کو ہلکا اور کم کرتے رہے ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں اٹھا اور وہی کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔ پھر آکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا ، آپ نے مجھے اپنے پیچھے کیا ( اور گھما کر ) اپنی دائیں جانب کرلیا ۔ پھر آپ نے نماز پڑھی ۔ پھر لیٹ کر سوگئے حتیٰ کہ آوا ز سے سانس لینے لگے ۔ پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی ، آپ باہر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا فرمائی اور ( نیا ) وضو نہ کیا ۔ سفیان نے کہا : یہ ( نیند کے باوجود وضو کی ضرورت نہ ہونا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کیونکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتاتھا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا - قَالَ وَصَفَ وُضُوءَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً لأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ .
#1794
Ibn `Abbas said:I spent the night in the house of my mother's sister, Maimuna, and observed how the Messenger of Allah (ﷺ) prayed (at night). He got up and relieved himself. He then washed his face and hands and then went to sleep. He again got up and went near the water-skin and loosened its straps and then poured some water in a bowl and inclined it with his hands (towards himself). He then performed a good ablution between the two extremes and then stood up to pray. I also came and stood by his left side. He took hold of me and made me stand on his right side. It was in thirteen rak`ahs that the (night) prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) was completed. He then slept till he began to snore, and we knew that he had gone to sleep by his snoring. He then went out (for the dawn prayer), and said while praying or prostrating himself: "O Allah! place light in my heart, light in my hearing, light in my sight, light on my right, light on my left, light in front of me, light behind me, light above me, light below me, make light for me," or he said: "Make me light
محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا : ہم سے شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کریب سے اور ا نھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری ، میں نے ( وہاں رہ کر ) مشاہدہ کیا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں ۔ کہا : آپ اٹھے ، پیشاب کیا ، پھر اپنا چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں ۔ پھر سوگئے ۔ آپ ( کچھ دیر بعد ) پھر اٹھے ، مشکیزے کے پاس گئے اور اس کابندھن کھولا ، پھر لگن یا پیالے میں پانی انڈیلا اور اس کو اپنے ہاتھ سے جھکایا ، پھر دو وضووں کے درمیا کاخوبصورت وضو کیا ( وضو نہ بہت ہلکا کیا اور نہ اس میں مبالغہ کیا لیکن اچھی طرح کیا ) ، پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے ، میں آپ کے پہلو میں کھٹرا ہوگیا ، آپ کی بائیں جانب کھٹرا ہوا ۔ کہا : تو آپ نے مجھے پکڑ کراپنی دائیں جانب کردیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت نماز مکمل ہوئی ، پھر آپ سوگئے حتیٰ کہ سانسوں کی آواز آنے لگی اور جب آپ سوجاتے تو ہم آپ کے سونے کوآپ کے سانس کی آواز سے پہچانتے ، پھر آپ نماز کے لئے باہر تشریف لائے اور نماز ادا کی ۔ اور آپ اپنی نماز یا اپنے سجدے میں یہ دعا مانگنے لگے : " اے اللہ!میرے دل میں نور پیدا کر اور میرے کانوں میں نور پیدا کر اور میری آنکھوں میں نور پیدا کر اور میرے دائیں نور بنا اور میرے بائیں نور پیدا فرما اور میرے آگے اور میرے پیچھے نو ر کر اور میرے اوپر نور کر اور میرے لئے نور بنا ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : " مجھے نور بنا ۔ ۔ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبَقَيْتُ كَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَقَامَ فَبَالَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ أَوِ الْقَصْعَةِ فَأَكَبَّهُ بِيَدِهِ عَلَيْهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ - قَالَ - فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَكَامَلَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلاَتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا أَوْ قَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا " .
#1795
Salama said:I met Kuraib and he reported Ibn `Abbas as saying: I was with my mother's sister Maimuna and the Messenger of Allah (ﷺ) came there, and then he narrated the rest of the hadith as was narrated by Ghundar and said these words: "Make me light," beyond any doubt
نضر بن شمیل نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، کہا : ہمیں سلمہ بن کبیل نے بکیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ سلمہ نے کہا : میں کریب کو ملا تو انھوں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں اپنی خالہ میمونہ کے ہاں تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ ۔ ۔ پھر انھوں نے غندر ( محمد بن جعفر ) کی حدیث ( 1794 ) کی طرح بیان کیا اور کہا : "" اور مجھے سراپا نور کردے "" اور انھوں نے ( کسی بات میں ) شک کا اظہار نہ کیا ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، . قَالَ سَلَمَةُ فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ . وَقَالَ " وَاجْعَلْنِي نُورًا " . وَلَمْ يَشُكَّ .
#1796
Ibn `Abbas reported:I spent a night in the house of my mother's sister, Maimuna, and then narrated (the rest of the) hadith, but he made no mention of the washing of his face and two hands but he only said: He then came to the water-skin and loosened its straps and performed ablution between the two extremes, and then came to his bed and slept. He then got up for the second time and came to the water-skin and loosened its straps and then performed ablution which was in fact an ablution (it was performed well), and implored (the Lord) thus: "Give me abundant light," and he made no mention of: "Make me light
۔ سعید بن مسروق نے سلمہ بن کہیل سے ، انھوں نے ابو رشدین ( کریب ) مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ا نھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات گزاری ، پھر حدیث بیان کی لیکن اس میں چہرے اور ہتھیلیاں دھونے کاذکر نہیں ہے ، ہاں ، یہ کہا : پھر آپ مشک کے پاس آئے ، اس کا بندھن کھولا ، اور دو وضووں کے درمیان کا وضوکیا پھر بستر پر آئے اور سو گئے پھر آپ دوبارہ اٹھے اورمشک کے پاس آئے ، اس کابندھن کھولا ، پھر دوبارہ وضو کیاجو ( صحیح معنی میں ) وضوتھا اور کہا : " میرا نور عظیم کردے " اور یہ ہدایت نہیں کیا کہ مجھے سراپا نور کردے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي رِشْدِينٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ وَقَالَ " أَعْظِمْ لِي نُورًا " . وَلَمْ يَذْكُرْ " وَاجْعَلْنِي نُورًا " .
#1797
Kuraib reported that Ibn `Abbas spent a night in the house of the Messenger of Allah (ﷺ) and he said:The Messenger of Allah (ﷺ) stood near the water-skin and poured water out of it and performed ablution in which he neither used excess of water nor too little of it, and the rest of the hadith is the same, and in this mention is also made (of the fact) that on that night the Messenger of Allah (ﷺ) made supplication before Allah in nineteen words. Kuraib reported: I remember twelve words out of these, but have forgotten the rest. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Place light in my heart, light in my tongue, light in my hearing, light in my sight, light above me, light below me, light on my right, light on my left, light in front of me, light behind me, place light in my soul, and make light abundant for me
عقیل بن خالد سے روایت ہے کہ سلمہ بن کہیل نے ان ( عقیل ) سے حدیث بیان کی کہ کریب نے ان ( سلمہ ) سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک رات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری ، انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے اور اس میں سے پانی انڈیلا اور وضو کیا اور آپ نے نہ پانی زیادہ استعمال کیا نہ وضو میں کوئی کمی کی ۔ ۔ ۔ اور پوری حدیث بیا ن کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس رات انیس کلمات پر مشتمل دعا کی ۔ ( تمام الفاظ جمع کریں تو انیس بنتے ہیں ) سلمہ نے کہا : کریب نے وہ کلمات مجھے بتائے تھے اور میں ان میں سے بارہ کلمات کو یاد رکھ سکا اور باقی بھول گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرمااور میری زبان میں نور پیدا فرما اور میرے کان میں نور پیدا فرما اور میری آنکھ میں نور پیدا فرما اور میرے اوپر نور کردے اور میرے نیچے نور کردے اور میرے دائیں نور کردے اور میرے بائیں نور کردے او ر میرے آگے نور کردے اور میرے پیچھے نور کردے اور میرے اندر نور کردے اور میرے نور کو عظیم کردے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلْمَانَ الْحَجْرِيِّ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْقِرْبَةِ فَسَكَبَ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُكْثِرْ مِنَ الْمَاءِ وَلَمْ يُقَصِّرْ فِي الْوُضُوءِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَتَئِذٍ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً . قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنِيهَا كُرَيْبٌ فَحَفِظْتُ مِنْهَا ثِنْتَىْ عَشْرَةَ وَنَسِيتُ مَا بَقِيَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ بَيْنِ يَدَىَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا " .
#1798
Ibn `Abbas reported:I slept one night in the house of Maimuna when the Messenger of Allah (ﷺ) was there, with a view to seeing the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) at night. The Apostle of Allah (ﷺ) entered into conversation with his wife for a short while, and then went to sleep, and the rest of the hadith is the same and in it mention is made of: "He then got up, performed ablution and brushed his teeth
شریک بن ابی نمر نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ایک رات حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر سویا ، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تھے تاکہ میں دیکھوں کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وقت ا پنے گھر والوں کے ساتھ گفتگو فرمائی ، پھر آپ سوگئے ۔ ۔ ۔ آگے پوری حدیث بیان کی اور میں یہ بھی تھا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، وضو کیا اور مسواک کیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ رَقَدْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا لأَنْظُرَ كَيْفَ صَلاَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ - قَالَ - فَتَحَدَّثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ .
#1799
Abdullah b. `Abbas reported:He spent (one night) in the house of the Messenger of Allah (ﷺ). He (the Holy Prophet) got up, brushed his teeth and performed ablution and said: "In the creation of the heavens and the earth, and the alternation of the night and the day, there are indeed signs for people of understanding" (al-Qur'an, iii. 190), to the end of the Surah. He then stood up and prayed two rak`ahs, standing, bowing and prostrating himself at length in them. Then he finished, went to sleep and snored. He did that three times, six rak`ahs altogether, each time cleaning his teeth, performing ablution, and reciting these verses. Then he observed three rak`ahs of Witr. The Mu'adhdhin then pronounced the Adhan and he went out for prayer and was saying: "O Allah! place light in my heart, light in my tongue, place light in my hearing, place light in my eyesight, place light behind me, and light in front of me, and place light above me, and light below me. O Allah! grant me light
حبیب بن ابی ثابت نے محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ ( ایک رات ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سوئے تو ( رات کو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے ، مسواک کی اور وضو فرمایا اور آپ ( اس وقت ) یہ آیا مبارکہ پڑھ رہے تھے : " یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور دن رات کی آمد ورفت میں خالص عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ " یہ آیات تلاوت فرمائیں حتیٰ کہ سورت ختم کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو ر کعتیں پڑھیں ، ان میں بہت طویل قیام ، رکوع اور سجدے کیے ، پھر واپس پلٹے اور سوگئے یہاں تک کہ آپ کے سانس آواز سنائی دینے لگی ، پھر آپ نے سا طرح تین دفعہ کیا ، چھ رکعتیں پڑھیں ، ہر دفعہ آپ مسواک کرتے ، وضوفرماتےاور ان آیات کو تلاوت فرماتے ، پھر آپ نے تین وتر پڑھے ، پھر موذن نے اذان دی تو آپ نماز کے لئے باہر تشریف لے گئے اور آپ یہ دعا کررہے تھے : " اے اللہ ! میرے دل میں نور کردے اور میری زبان میں نور کردے اور میری سماعت میں نور کردے اور میری آنکھ میں نور کردے اور میرے پیچھے نور کردے اور میرے آگے نور کردے اور میرے اوپر نور کردے اور میرے نیچے نورکردے ، اے اللہ! مجھے نور عنائیت فرما ۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ { إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ} فَقَرَأَ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلاَثٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ وَهُوَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا . اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا "