#150
It is narrated on the authority of Anas that 'Itban b. Malik told him that he became blind. He sent a message to the Messenger of Allah (ﷺ) that he should come and mark a place of worship for him. Thereupon came the Messenger of Allah (ﷺ) and his people and then there was a discussion among them about a man who was known as Malik b. Dukhshum, and subsequently the narrator described the hadith of Sulaiman b. Mughira as stated above
حماد نے کہا : ہمیں ثابت نےحضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے عتبان بن مالک نے بتایا کہ وہ نابینا ہو گئے تھے ، اس وجہ سے انہوں نےرسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں اور میرے لیے مسجد کی اکی جگہ متعین کر دیں ( تاکہ میں اس میں نماز پڑھ سکوں ) تو رسو ل اللہ ﷺ تشریف لائے اور ان ( عتبان ) کی قوم کےلوگ بھی آگئے ، ان میں سے ایک آدمی ، جسے مالک بن دخیشم کہا جاتا تھا ، غائب رہا.... اس کے بعد حماد نے بھی ( ثابت کے دوسرے شاگرد ) سلیمان بن مغیرہ کی طرح روایت بیان کی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ عَمِيَ فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا . فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَاءَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ .
#151
It is narrated on the authority of 'Abbas b. 'Abdul-Muttalib that he heard the Messenger of Allah saying:He has found the taste of faith (iman) who is content with Allah as his Lord, with Islam as his religion (code of life) and with Muhammad (ﷺ) as his Prophet
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ، اسلام کو دین اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر ( دل سے ) راضی ہو گیا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، وَبِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ - الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً "
#152
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Prophet (ﷺ) said:Iman has over seventy branches, and modesty is a branch of Iman
سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن دینار سے ، انہوں ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ " .
#153
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said:Faith has over seventy branches or over sixty branches, the most excellent of which is the declaration that there is no god but Allah, and the humblest of which is the, removal of what is injurious from the path: and modesty is the branch of faith
سہیل نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایمان کے ستر سے اوپر ( یا ساٹھ سے اوپر ) شعبے ( اجزاء ) ہیں ۔ سب سے افضل جز لااله الا الله کا اقرار ہے اور سب سے چھوٹا کسی اذیت ( دینے والی چیز ) کو راستے سے ہٹانا ہے اور حیابھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ " .
#154
Salim reported on the authority of his father that the Prophet (may peace and blessings be upon him) heard a man censuring his brother regarding modesty. Upon this the Prophet remarked:Modesty is part of Iman (faith)
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی سے سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( حیا سے مت روکو ) حیا ایمان میں سے ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ " الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ " .
#155
Zuhri has narrated this hadith with the addition of these words:He (the Holy Prophet) happened to pass by a mass of Ansar who was instructing his brother (about modesty)
سفیان بن عیینہ کے بجائے معمر نے زہری سے مذکورہ بالاسند کےساتھ خبر دی اور کہا کہ آپ ایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ .
#156
It is narrated on the authority of Qatada. We were sitting with 'Imran b. Husain in a company and Bushair ibn Ka'b was also amongst us. 'Imran narrated to us that on a certain occasion the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said:Modesty is a virtue through and through, or said: Modesty is a goodness complete. Upon this Bushair ibn Ka'b said: Verily we find in certain books or books of (wisdom) that it is God-inspired peace of mind or sobriety for the sake of Allah and there is also a weakness in it. Imran was so much enraged that his eyes became red and he said: I am narrating to you the hadith of the Messenger of Allah (ﷺ) and you are contradicting it. He (the narrator) said: Imran reported the hadith, He (the narrator) said: Bushair repeated, (the same thing). Imran was enraged. He (the narrator) said: We asserted: Verily Bushair is one amongst us. Abu Nujaid! There is nothing wrong, with him (Bushair)
ابو سوار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو سنا ، وہ نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ حیا سے خیر اور بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے ۔ ‘ ‘ اس پر بشیر بن کعب نے کہا : حکمت اور ( دانائی کی کتابوں ) میں لکھا ہوا کہ اس ( حیا ) سے وقا ر ملتا ہے او رسکون حاصل ہوتا ہے ۔ اس پر عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’میں تمہیں رسول ا للہ ﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تو مجھے اپنے صحیفوں کی باتیں سنا تا ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، - وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ - أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، حَدَّثَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي رَهْطٍ مِنَّا وَفِينَا بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ، يَوْمَئِذٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " . قَالَ أَوْ قَالَ " الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ " . فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ إِنَّا لَنَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ أَوِ الْحِكْمَةِ أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا لِلَّهِ وَمِنْهُ ضَعْفٌ . قَالَ فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَّتَا عَيْنَاهُ وَقَالَ أَلاَ أُرَانِي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتُعَارِضُ فِيهِ . قَالَ فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ قَالَ فَأَعَادَ بُشَيْرٌ فَغَضِبَ عِمْرَانُ قَالَ فَمَا زِلْنَا نَقُولُ فِيهِ إِنَّهُ مِنَّا يَا أَبَا نُجَيْدٍ إِنَّهُ لاَ بَأْسَ بِهِ .
#157
Ishaq b. Ibrahim narrates this hadith of the Prophet on the authority of Imran b. Husain, like the one narrated by Hammad b. Zaid
حماد بن زید نے اسحاق بن سوید سے روایت کی کہ ابو قتادہ ( تمیم بن نذیر ) نے حدیث بیان کی ، کہا کہ ہم انپے ساتھیوں سمیت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے ، ہم میں بشیر بن کعب بھی موجود تھے ، اس روز حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک حدیث سنائی ، کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ حیا بھلائی ہے پوری کی پوری ۔ ‘ ‘ ( انہوں نے کہا : یہ الفاظ فرمائے ) : ’’حیا پوری کی پوری بھلائی ہے ۔ ‘ ‘ تو بشیر بن کعب نے کہا : ہمیں کتابون یا حکمت ( کے مجموعوں ) میں یہ بات ملتی ہے کہ حیا سے اطمینان اور اللہ کے لیے وقار ( کا اظہار ) ہوتا ہے اور اس کی ایک قسم ضعیفی ( کمزور ) ہے ۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ سخت غصے میں آ گئے حتی کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور فرمانے لگے : کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم اس میں مقابلہ کر رہے ہو ؟ ابوقتادہ نے کہا : عمران نےدوبارہ حدیث سنائی اور بشیر نے پھر وہی کہا : اس پر عمران ( سخت ) غصے میں آ گئے ۔ ( ابو قتادہ نے ) کہا : تو ہم نے بار بار یہ کہنا شروع کر دیا : اے ابو نجید! ( حضرت عمران کی کنیت ) یہ ہم میں سے ( مسلمان اور حدیث کا طالب علم ) ہے ۔ اس ( کے عقیدے ) میں کوئی عیب یا نقص نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ حُجَيْرَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيَّ، يَقُولُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
#158
It is narrated on the authority of 'Imran b. Husain that the Prophet (may peace and blessings be upon him) said:Modesty brings forth nothing but goodness. Bushair b. Ka'b said: It is recorded in the books of wisdom, there lies sobriety in it and calmness of mind in it, Imran said: I am narrating to you the tradition of the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) and you talk of your books
نضر ( بن شمیل ) نے کہا : ہمیں ابو نعامہ عدوی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نےحجیر بن ریبع عدوی سےسنا ، وہ کہتے تھے : عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ۔ ( جس طرح ) حماد بن زید کی حدیث ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " الْحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيْرٍ " . فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ أَنَّ مِنْهُ وَقَارًا وَمِنْهُ سَكِينَةً . فَقَالَ عِمْرَانُ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صُحُفِكَ .
#159
It is narrated on the authority of Sufyan b. 'Abdulla al-Thaqafi that he said:I asked the Messenger of Allah to tell me about Islam a thing which might dispense with the necessity of my asking anybody after you. In the hadith of Abu Usama the (words) are: other than you. He (the Holy Prophet) remarked: Say I affirm my faith in Allah and then remain steadfast to it
عبد اللہ بن نمیر ، جریر اور ابواسامہ نے ہشام بن عروہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انہوں نے حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی پکی بات بتائیے کہ آپ کے بعد کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے ( ابو اسامہ کی روایت میں ’’ آپ کےبعد ‘ ‘ کے بجائے ’’ آپ کے سوا ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ) آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ کہو : آمنت باللہ ( میں اللہ پر ایمان لایا ) ، پھر اس پر پکے ہو جاؤ ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي فِي الإِسْلاَمِ قَوْلاً لاَ أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ - وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ - قَالَ " قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ " .
#160
It is narrated on the authority of 'Abdullah b. 'Amr that a man asked the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) which of the merits (is superior) in Islam. He (the Holy Prophet) remarked:That you provide food and extend greetings to one whom you know or do not know
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے ابو خیر سے اور انہوں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کون سا اسلام بہتر ہے ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ تم لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور ہر کسی کو ، خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہیں جانتے ، سلام کہو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ " تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
#161
Abdullah b. Amr b. al-As is reported to have said:Verily a person asked the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) who amongst the Muslims was better. Upon this (the Holy Prophet) remarked: From whose hand and tongue the Muslims are safe
عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے ابوخیر سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرما رہے تھے : ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے پوچھا : مسلمانوں میں سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان امن میں ہوں
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ إِنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
#162
It is narrated on the authority of Jabir that he heard the (Holy Prophet) say:A Muslim is he from whose hand and tongue the Muslims are safe
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
#163
It is narrated on the authority of Abu Musa Ash'ari:I asked the Messenger of Allah which (attribute) of Islam is more excellent. Upon this he remarked: One in which the Muslims are safe, protected from the tongue and hand of (other Muslims)
یحییٰ بن سعید اموی نے کہا : ہمیں ابو بردہ ( برید ) بن عبداللہ بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ اشعری نے ابو بردہ سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے عرض کی : کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ ( اس کا اسلام ) جس کی زبان سے اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں
وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ قَالَ " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
#164
Ibrahim b. Sa'id al-Jauhari has narrated this hadith with the same words in addition to these. The Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) was asked as to who amongst the Muslims is better, and the rest of the hadith was narrated like this
ابراہیم بن سعید جوہری ‘ ابو اسامہ ‘ برید بن عبد اللہ اس روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسا مسلمان افضل ہے؟تو آپﷺ نے اس طرح ذکر فرمایا
وَحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
#165
It is reported on the authority of Anas that the Prophet of Allah (may peace and blessings be upon him ) said:There are three qualities for which anyone who is characterised by them will relish the sweetness of faith: he to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who loves a man for Allah's sake alone; and he who has as great an abhorrence of returning to unbelief after Allah has rescued him from it as he has of being cast into Hell
ابو قلابہ نےحضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ’’ جس شخص میں تین باتیں پائیں جائیں گی وہ ان کے ذریعے سے ایمان کی حلاوت پا لے گا : جسے اللہ اور اس کا رسول باقی ہر کسی سے بڑھ کر محبوب ہوں ، ( دوسری ) یہ کہ جس کسی سے بھی محبت کرے ، اللہ ہی کے لیے کرے اور ( تیسری ) یہ کہ اللہ نے جب اسے کفر سے بچا لیا ہے تو وہ دوبارہ کفر کی طرف پلٹنے سے وہ اس طرح نفرت کرے جیسی اس بات سے نفرت کرتا ہے کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ " .
#166
It is reported on the authority of Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:There are three qualities for which any one who is characterised by them will relish the savour of faith: that he loves man and he does not love him but for Allah's sake alone; he is to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who prefers to be thrown into fire than to return to unbelief after Allah has rescued him out of it
قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تین باتیں جس میں بھی ہوں گی و ہ ایمان کا ذائقہ پا لے گا ( 1 ) جوشخص کسی انسان سے محبت کرتا ہے او راللہ کے سوا کسی اور کی خاطر اس سے محبت نہیں کرتا ۔ ( 2 ) جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ باقی ہر کسی سے زیادہ پیارے ہیں ( 3 ) اور جب اللہ نے اسے کفر سے بچا لیا ہے تو آ گ میں ڈالا جانا ، اسے کفر میں دوبارہ لوٹنے سے زیادہ پسند ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ وَمَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ " .
#167
A similar hadith has been reported on the authority of Anas (with another chain of transmitters) with the exception of these words:that he again becomes a Jew or a Christian
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا...... ( پھر اسی طرح بیان کیا ) جیسے سابقہ راویوں نے بیان کیا ہے ، البتہ انہوں نے یہ ( الفاظ ) کہے : ’’اس کو پھر سے یہودی یا عیسائی ہو جانے سے ( آگ میں ڈالا جانا زیادہ پسند ہو ۔ ) ‘ ‘
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا " .
#168
It is reported on the authority of Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:No bondsman believes, and, in the hadith narrated by Abdul Warith, no person believes, till I am dearer to him than the members of his household, his wealth and the whole of mankind
اسماعیل بن علیہ اور عبد الوارث دونوں نے عبد العزیز سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی بندہ ( اور عبد الوارث کی حدیث میں ہے کوئی آدمی ) اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے اہل و عیال ، مال اورسب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ - وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ الرَّجُلُ - حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
#169
It is reported on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah said:None of you is a believer until I am dearer to him than his child, his father, and the whole of mankind
قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی شخص ( اس وقت تک ) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد ، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
#170
It is narrated on the authority of Anas b. Malik that the Prophet (may peace and blessings be upon him) observed:"None amongst you believes (truly) until he loves for his brother" - or he said "for his neighbour" - "that which he loves for himself
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے ( یا فرمایا : اپنے پڑوسی کے لیے بھی ) وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ - أَوْ قَالَ لِجَارِهِ - مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " .
#171
It is narrated on the authority of Anas that the Prophet (may peace blessings be upon him) observed:By Him in whose Hand is my life, no, bondsman (truly) believes till he likes for his neighbour, or he (the Holy Prophet) said: for his brother, whatever he likes for himself
حسن معلم نے قتادہ سے اور انہوں ن حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے پڑوسی کے لیے ( یا فرمایا : اپنے بھائی کے لیے ) وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ - أَوْ قَالَ لأَخِيهِ - مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " .
#172
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessing be upon him) observed:He will not enter Paradise whose neighbour is not secure from his wrongful conduct
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس کی ایذا رسانی سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں ، وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " .
#173
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:He who believes in Allah and the Last Day should either utter good words or better keep silence; and he who believes in Allah and the Last Day should treat his neighbour with kindness and he who believes in Allah and the Last Day should show hospitality to his guest
ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے ۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " .
#174
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:He who believes in Allah and the Last Day does not harm is neighbour, and he who believes in Allah and the Last Day shows hospitality to his guest and he who believes in Allah and the Last Day speaks good or remains silent
ابوحصین نے ابوصالح سے اور انہو ں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ پہنچائے ، اور جوشخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے ، او رجوشخص اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے ، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِي جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .